Ishq Geeriyan
عشق گیریاں

ناول۔۔۔۔۔۔عشق گیریاں

ازقلم۔۔۔۔۔۔ آنسہ چوہان ❤️

Season 2

Episode 26 to 30

 

نعمان گاڑی کی فل سپیڈ کیے آفس سے نکلا تھا

غصہ تھا کہ بار بار امنڈ کر آرہا تھا

اففف محبوب کی جب محبت بھری نظروں کی عادت ہو جاتی ہے تو پھر اسکی زرا سی اگںورنس بھی آپ کو تکلیف دیتی ہے 

 

بار بار اسکا عجیب بدلہ ہوا لہجہ ۔۔۔ 

رشتے کے لیے ہاں کر دیںا۔۔۔ 

اہہہہ وہ سیٹرنگ پر گرفت مضبوط کرتے اسکے گھر کے سامنے بریک لگاتے رکا۔۔۔۔ 

گاڑی کو گیٹ کے پاس دیکھ کر گاڑ نے جلدی سے دروازہ کھولا 

 

گہرا سانس لے کر اس نے گاڑی اس خوبصورت گیٹ کے اندر ڈالی سامنے عالی شان خوبصورت ولہ تھا ۔۔۔۔ گاڑی ایک خوبصورت پورچ میں آکر رکی

 

وہ رعبدار انداز سے گاڑی سے نکلا اور ایک نظر گارڈن میں کام کرتے مالی کو دیکھا 

وہ جلدی سے ڈاگ بھرتا آگے بڑھا 

 

ایک خوبصورت مین گیٹ سے اندر داخل ہوا سامنے ہر چیز اپنی قیمت کا منہ بولتا ثبوت تھی ۔۔۔ 

وہ ایک جنت تھی ۔۔۔ لگجری ولہ جس میں ہر چیز موجود تھی خوبصورت مہنگے ترین صوفے پردے کالین وہاں موجود ہر چیز بے تحاشہ خوبصورت تھی 

 

اس نے ایک بھرپور نظر اس پورے ولہ پر ڈالی

 اس کو یاد تھا وہ بہت کم عمر تھا جب آخری دفع یہاں آیا تھا ۔۔۔ 

 

وہ مزید دو قدم بھرتا آگے بڑھا کہ سامنے کمرے سے نکلتی نوکرانی کے ہاتھ میں فائل موجود تھی 

 

اسلام و علیکم سر ! 

وہ پڑھی لکھی لڑکی تھی جو ضرورت کی وجہ سے وہاں کھانا بناتی تھی ۔۔۔۔

 

یہ میم نے فائل دی ہے آپ کے لیے ۔۔۔ اس نے فائل آگے بڑھاتے بولی 

 

جب اسنے قہر بھری نظر سے اس فائل کو دیکھا ۔۔۔۔ 

آگ نے ایک دفع پھر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔۔۔۔ 

اففف وہ لڑکی کیوں اس کے سامنے نہیں انا چاہتی ۔۔۔۔ 

 

وہ بنا کچھ کہے ۔۔۔ لمبے ڈنگ بھرتا اس کے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔ اسے آج بھی یاد تھا کہ اسکا کمرہ کونسا تھا ۔۔

 

وہ دروازے کا ناب گھما کر اندر داخل ہوا۔۔۔ سامنے وہ بیڈ پر کمفرٹر میں ڈبکی پڑی تھی 

ایک جہازی سائز بیڈ پر وہ ایک طرف لیٹی ہوی تھی 

 

نعمان آگے بڑھا اور اس نے بنا لحاظ کیے اس کے اوپر سے کمفرٹر کھینچا۔۔۔ 

جب سامنے کا منظر دیکھ اسکا دماغ بھک سے اڑا تھا 

 

اسے لگا اس کا ہاتھ تندوری میں جا لگا تھا ۔۔۔۔۔۔ جب اس نے کمفرٹر کھیںچا اسکا ہاتھ نا محسوس طریقے سے اسے گرم دھکتے ہوے چہرے پر لگا ۔۔۔۔

 

اس کے بال بکھر کر ماتھے پر گرے ہوے اور کچھ گردن پر گرے تھے ۔۔۔۔ 

اسکے گلابی ہونٹ وہ تو بلکل زرد ہوے پڑے تھے ۔۔۔۔افففف وہ گلابی ہونٹوں کی جیسے سرخیاں نچڑ سی گئ تھی

 

آنکھیں بند تھیں مگر وہ سوج چکی تھیں ۔۔۔ شاید وہ کافی بلک بلک کر رونے کے باعث اس حالت میں تھی 

 

وہ اسے دیکھتے گیا ۔۔۔۔ 

کیا وہ اس حالت کی وجہ سے ہی اس کے سامنے نہیں جانا چاہتی تھی ۔۔۔ 

 

میڈ دوبارہ کمرے میں آی 

 

سر میم کو صبح سے تین دفع چکر آنے کی وجہ سے چکر آرہے تھے اور اب وہ بے ہوش ہو چکی ہیں ۔۔۔ 

 

نعمان نے غائب دماغی سے اسکی بگڑی حالت دیکھی ۔۔۔ 

وہ تو ایسی نہیں تھی کیا وہ اسے اس قدر ازیت دے رہا تھا ؟

 

اہہہ نہیں ۔۔۔۔۔

 

وہ ہلکا سا بڑبڑایا ۔۔۔۔

ڈاکٹر نہیں آی چیک کرنے ؟ وہ میڈ سے بولا

سر میم نے سختی سے منع کیا ہے نا ہی فاطمہ میم اور نا ہی سعد سر سے ان کی طبیعت کا زکر کرنے کی اجازت ہے ۔۔۔۔اور ڈاکٹر کے نام پر بھی وہ کہہ دیتی ہیں کہ میں ٹھیک ہوں 

 

نعمان نے پلٹ کر اسے بے سد پڑے دیکھا ۔۔۔۔

اس نے فون نکال کر ڈاکٹر کو کال کی ۔۔۔ 

ڈاکٹر عائشہ میں آپ کو ایک لوکیشن سینڈ کرتا ہوں آپ فوری طور پر یہاں پہنچیں ۔۔۔ کسی کو آپ کی سخت ضرورت ہے ۔۔۔ 

اسنے کہتے کال بند کی اور لوکیشن سینڈ کی ۔۔۔۔

میڈ وہاں سے جا چکی تھی ۔۔۔۔

 ایک نظر بیڈ پر لیٹی  اس لڑکی کو دیکھتے قدم اسکے پاس بڑھائے ۔۔۔

 

کیا یہ میری وجہ سے؟  اسے اس سوچ سے ہی سر میں ٹھیس سی اٹھی تھی ۔۔۔۔ 

ایک اور قدم اس کی طرف لیا جو دنیا سے بے گانی ہوی کوی دیوانی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔

 

مم میں تمہیں اسی ازیت سے بچانا  چاہتا ہوں ۔۔۔ وہ اس کے پاس بیڈ کے قریب دو زانوں ہو کر بیٹھا ۔۔۔۔

تمہیں اس تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔۔ خود کی زات سے ہمیشہ دور رکھا جس کی وجہ بہت  گہری ہے ۔۔۔۔ پر میں تمہیں اپنے قریب کرکے ازیت نہیں دے سکتا ۔۔۔۔ 

 

وہ نعمان شاہ جو مغرور سنجیدہ اور سرد لہجے کی وجہ سے مشہور تھا ۔۔۔ بگڑا ہوا نخرے باز شخص اج اس کے سوے ہوے وجود کے پاس بیٹھا بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

 

تو بس یہ تہہ ہوا ۔۔۔۔ مجھے تم سے خود کو مکمل طور پر دور کرنا ہوگا ۔۔۔۔ 

اس نے کہتے آنکھیں میچ لی باغی آنسو بہہ کر گال پر لڑھک گیا ۔۔۔۔

 

کچھ دیر بعد ڈاکٹر عائشہ نے چیک اپ کیا اور پھر اس نے بتایا کہ 

 

دیکھیں نعمان ان کی طبیعت خرابی کی وجہ کافی سٹریس لینا ہے ۔۔۔ آپ کوشش کریں کہ آپ کی کزن زیادہ پریشان نا ہو ورنہ ان کا نروس بریک ڈاؤن بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔ 

ڈاکٹر کی بات پر اس نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔ 

پھر نظر پھیر گیا ۔۔۔۔

 

ہممم۔۔۔۔ اسکو ہوش کب تک آئے گا ؟

اس نے سوال کرتے ڈاکٹر عائشہ کی جانب ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ نظریں کمرے میں گھماتے سوال کیا 

۔۔۔

 

کچھ دیر میں ہوش اجائے گا آپ ان کا خیال رکھیں۔۔۔ 

وہ کہتے کچھ دوائیاں لکھ کر دیتی اٹھ کر روم سے باہر چلی گئ ۔۔۔۔

 

وہ وہیں بیڈ کے قریب پفی پر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔

 

اسکا موبائل رنگ ہوا اس نے کال رسیو کرتے کان سے لگائ۔۔۔۔

ہممم ؟ 

بولنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا ۔۔۔ محض ہمم پر اکتفا کیا

 

سر آپ ابھی تک سائیٹ پر نہیں پہنچے کلائینٹ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔

 

میں نہیں آرہا ہے ان کو منع کردو ۔۔۔اس نے نظریں اسکے سوئے ہوے چہرے پر ڈالتے کہا 

 

پر سر ۔۔۔۔ 

سوری سر پر آپ کا اس سے کافی نقصان ہو سکتا ہے مینیجر نے کچھ جھجھکتے ہوے کہا 

 

نقصان تو ہو چکا اب بھرپائ کرنی ہے ۔۔۔ وہ بڑبڑایا ۔۔۔

۔

🍁🍁🍁

 

ماہی کی طبعیت کچھ بہتر تھی ۔۔۔ صبح سب اپنے کام سے چھٹی کیے ہوے تھے اس وجہ سے وہ سب اس وقت بھی سکندر حویلی میں موجود تھے۔۔۔۔۔۔

جویریہ شاہ بلکل چپ سادھے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔ کسی گہری سوچ میں ۔۔۔۔

 

جبکہ سکندر اپنے کمرے سے نکلتے نیچے آئے ۔۔ اور سامنے نیچھے لاونج میں ناشتے کے بعد سب بیٹھے تھے ۔۔۔ حیات اور دائم ایک ساتھ تھے جب کہ صائم  اور زکریہ شاہ بیٹھے تھے ۔۔۔ فریال اور سائشہ ماہی کے پاس تھیں ۔۔۔ پری اس کے لیے کچھ بنا رہی تھی ۔۔۔ 

حوریہ بھی  اپنے باپ کے سینے پر رکھے چپ سی بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔

 

سکندر نے نیچے آتے شعلہ بار آنکھوں سے اپنے سپوتوں کو دیکھا جو بڑے سکون سے بیٹھے تھے ۔۔۔۔

 

تم لوگ آخر کرنا کیا چاہتے ہو؟ وہ سخت لہجے میں ان تینوں کو گھورتے ہوے بولے ۔۔۔۔

کیا ہوا بڑے بابا ؟ 

صائم نے معصومیت کے سارے ریکاڈ توڑتے کہا ۔۔۔

 

وہی تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگلا قدم کیا ہے تم لوگوں کا ؟

 

جب جھانگیر سے سب کے رابطے منقطع کیے گئے تھے تو تم تینوں اس سے رابطے میں کیوں ہو ۔۔۔۔؟

 

سکندر کی بات پر تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔ جب کہ حوریہ کا دل فل سپیڈ سے دھڑکا ۔۔۔ اسکا بھائ ۔۔۔اہہہہہ

 

جویریہ شاہ بھی ہوش میں آتے منہ کھولے انہیں دیکھنے لگیں ۔۔۔۔

 

وہی تاثرات اس وقت زکریہ شاہ کے بھی تھے ۔۔۔۔۔

 

کیا مطلب بڑے بابا کون جھانگیر ۔۔۔؟ اہہہہ وہ معصوم اففف حیات نے بامشکل اسکیام ایکٹنگ پر اپنی مسکراہٹ چھپائی وہی حال دائم جا بھی تھا 

 

بکواس بند کرو ۔۔ تم لوگوں کو کیا لگتا ہے تم لوگ سکندر سلمان شاہ کے ناک کے نیچے ایسی حرکت کرو گے اور تم لوگوں کی اس حرکت کی خبر مجھے نہیں ہو گی ۔۔۔۔

 

یہ جانتے ہوے بھی کہ وہ ایک گینگسٹر بن چکا ہے ۔۔۔ لوگوں کو مارنا پھاڑنا اس کا پسندیدہ کام ہے؟

وہ غصے سے اسے دیکھتے بولے ۔۔۔

 

صائم نے ترچھی نظر سے دائم کو دیکھا ۔۔۔۔

 

بابا سائیں آپ تحمل سے ہماری بات سن لیں ۔۔۔ حیات نے کچھ وقفے کے بعد کہا 

 

کیا ؟ کیا سناؤ گے تم لوگ ہاں یہ

جانتے ہوے بھی کہ اس گاؤں سے جلا وطن کیا گیا تھا اس نے باوجود مسلسل رابطے میں تھے 

سکندر کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔ 

وہ سردار تھے وہ مجبور تھے کہ اپنے اصولوں کو انہیں اپنے بچوں پر بھی لاگو کرنا تھا ۔۔۔۔

 

مسلسل نہیں طایا سائیں ۔۔۔۔۔۔ اب کی بار دائم کھڑے ہوتے بولا 

مجھے ان سے رابطے میں نو سال ہوے ہیں ۔۔۔ 

ان کو ہم سے دور ہوے پندرہ سال ہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔

 

سکندر نے دائم کو دیکھا ۔۔۔۔۔

 

اسکی اگر سزا دینا چاہتے ہیں تو مجھے قبول ہے مگر وہ میرا بھائ ہے اس سے رابطے میں تو رہوں گا ۔۔۔ 

آپ نہیں جانتے عمر کا آدھا حصہ وہ کس ازیت میں گزار چکے ہیں اب اور نہیں 

 

وہ پہلی دفع ایسے بولا تھا سب نے اسے اچھنبے سے دیکھا تھا

 

جی بابا سائیں آپ جو سزا دیں گے ہمیں قبول ہے ۔۔۔ حیات بھی دائم کے ساتھ کھڑے ہوتے بولا 

 

نہیں بابا سائیں میری زندگی تو پہلے ہی الجھی ہوی مجھے کوی سزا نہیں چاہیے ۔۔۔ صائم نے صوفے پر بیٹھے ہانک لگائی ۔۔۔

 

جب حیات نے اسے اس سچوئیشن میں بھی شوخ ہونے پر گھورا 

 

اچھا بھئ آرہا ہوں پتہ چلے مجھے پیچھے گائے بھینسوں کو سنبھالنے کی سزا مل جائے ۔۔۔ وہ بھی جلدی سے جھرجھری لیتے ان کے پاس کھڑا ہوا

 

تم تینوں میرے جھانگیر کو لائے کیوں نہیں واپس ؟

جویریہ شاہ کی بھیگی سی آواز گونجی ۔۔۔۔

 

وہ آنے کو تیار نہیں ہیں ۔۔۔دائم نے کہا 

۔۔ اس نے اپنی الگ دینا بنا لی ہے  حیات نے کہا 

۔۔وہ محروم رشتوں کی عادت پال چکے ہیں ۔۔۔ صائم نے کہا 

 

تو تم لوگ اسے بتاؤ نا اسکی ماں تڑپ رہی ہے ارے بھاڑ میں جائے ان کے اصول ان کے رسمیں مجھے میرا بیٹا چاہیے ۔۔۔۔ وہ ماں تھی تڑپ اٹھی تھیں اپنے بیٹے کو باہوں میں لینے کے لیے اسکے ہاتھ چومنے کے لیے ۔۔۔

 

وہ بھی آپ سب کی طرح ظالم بن گئے ہوں گے ۔۔۔۔ اب کی بار سن نے گردن موڑ کر حوریہ کو دیکھا جو سنجیدہ سی بولی ۔۔۔ 

زکریہ نے تڑپ کر اپنی بیٹی کو دیکھا 

 

ہاں آپ سب کی طرح ظالم۔۔۔ وہ ظالم پر زور دیتے بولتی اٹھی ۔۔۔۔

 

بابا ۔۔۔ 

میں کتنی دفع آپ کے سامنے ایک بھائ کے لیے تڑپی ہوں کہ کاش میرا کوی بھائ ہوتا میری حسرت تھی مگر آپ نے نہیں بتایا کہ میرا بھائ ہوتے ہوے بھی مین تنہا ہوں ۔۔۔

وہ بولی تو آنکھیں برس پڑی ۔۔۔۔

 

نہی۔۔۔۔ زکریہ نے سر نفی میں ہلایا

 

بابا سائیں آپ ایک دفع بس ایک دفع میرے بھائ کو لا دیں ۔۔۔ مجھے انہیں دیکھنا ہے ۔۔۔۔

وہ تڑپ کر رو پڑی ۔۔۔ 

 

کتنی بد قسمت ۔۔۔ اہہہہ 

ہوں مم میں کہ اپنے بھائ کا چہرہ تک نہیں دیکھا میں نے ۔۔۔۔ 

اسکا پیار پانا تو دد دور کی بات ہے 

 

وہ اٹکتے ہوے بولی اور زکریہ شاہ کے سینے سے لگ گئ ۔۔۔ دونوں باپ بیٹی تو پڑے ۔۔۔۔ 

مرد کو روتے دیکھ سب کی آنکھیں اشک بار ہوی ۔۔۔

 

جج جائیں نا سائیں میرے بھائ کو لے آئیں ۔۔۔ وہ دو قدم حیات کی طرف لیتی بولی 

 

تم پریشان مت ہو وہ آئے گا ۔۔۔ ضرور آے گا اب اسے آنا ہوگا ۔۔۔ 

وہ کہتے باہر نکل گیا حور کو یون روتے دیکھ اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا 

 

جویریہ شاہ کی ازیت مزید بڑھ گئ ۔۔۔ دائم نے ان کو سینے سے لگاتے چپ کروایا ۔۔۔بیٹا میرا سلطان ۔۔۔

وہ بولتے بلک بلک کر رونے لگیں ۔۔۔

بس ۔۔

 آجائے گا وہ ۔۔۔۔

وہ انہیں چپ کرواتے بولا 

 

🍁

 

صبغہ کو جب ہوش آیا مندی مندی آنکھیں کھول کر اس نے سامنے بیٹھے نعمان شاہ کو دیکھا 

 

آپ یہاں ۔۔۔ وہ بامشکل بولی ۔۔۔

اور اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔

لیٹی رہو میں بس فائل لینے آیا تھا تمہاری طبیعت دیکھی تو بیٹھ گیا ۔۔۔

 

آنٹی اور انکل آتے ہی ہوں گے دوائ وقت پر لے لینا ۔۔۔۔ 

وہ سنجیدگی سے کہتے نظریں موبائل پر گاڑھے بولا 

 

اس کے بعد کتنی ہی دیر دوںوں خاموش بیٹھے تھے ۔۔۔۔

مگر ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں ۔۔۔۔

🥺🥺

 

آج حیات سکندر کا نکاح تھا ۔۔۔ اس نے پلین بنایا تھا جس پر سب گھر والے شامل تھے ۔۔۔۔

 

اس نے کال کی جو دوسری بیل پر اٹھائ گئ ۔۔۔ 

کیسے ہو حیات ؟ دوسری طرف سے نارمل لہجے میں سوال کیا گیا ۔۔

آج بہت خوش۔۔۔ وہ خوش پر زور دیتے بولا 

ایسا کیا ہوا ہے ؟ وہ سوالیہ ہوا 

 

بس آج میرے نکاح کے ساتھ ماہی کے فرض سے بھی سبردوش ہو رہے ہیں ۔۔۔ بیٹیوں کو اپنے گھر کا ہوتا دیکھ سکون ملتا ہے نا ۔۔۔ ا

س نے نارمل لہجے میں بات کی جب اسکا دماغ بھک سے اڑا تھا ۔۔۔ 

کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔۔ ماہی کا نکاح ؟

وہ اپنے تاثرات پر کمال ضبط رکھتا ۔۔۔

 

ہاں تم بھی آنا چاہو تو اجازت ہے ۔۔۔ حیات نے کہتے کال کاٹ دی جب دوسری طرف اس نے فون دیوار میں زور سے مارا 

یہ ٹھیک نہیں کر رہے تم لوگ ۔۔۔ وہ بھپرے شیر کی غراہٹ جیسے غرایا تھا ۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

حیات کے پلین کے مطابق پوری حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا نزدیک کے مہمانوں کو بھی بلایا گیا

ارجنٹ شاپنگ پر سب گھر کی خواتین تو پریشان ہی ہو گئ تھیں 

بھلا خواتین بھی جلدی شوپنگ کرتی ہیں ایک ایک چیز کو دیکھ بھال کر لینا ہوتا ہے مگر اس بار انہوں نے بس اونلاین ہی شاپنگ کی 

گھر کے بڑے بیٹے کا نکاح تھا اس لیے کسی چیز کی کمی نہیں رکھی گئ ۔۔۔۔ 

 

حیات بھی سفید کلر کے کرتا کے ساتھ پجامہ پہنے کندھے پر ڈال فولڈ کیے پاؤں میں مہنگے جوتے پہنے اپنے بالوں کو جیل سے سیٹ کی ہری آنکھوں میں چمک تھی اور گلابی آتشی لبوں پر مسکراہٹ ۔۔۔ وہ اس قدر حسین تھا کہ کوی بھی اس پر دل سے فدا ہو سکتا تھا مگر وہ تو اس چھوٹی سی لڑکی کے عشق میں جانے کب سے گرفتار تھا ۔۔۔۔

 

اسے پورا یقین تھا جھانگیر کسی بھی طرح ماہی کی شادی کا سن کر ہر رسم قسم توڑ کر آے گا ۔۔۔

 

حوریہ کو سفید رنگ کے خوبصورت میکسی میں تیار کیا گیا تھا گوری رنگت پر سفید رنگ بے تحاشہ جچ رہا تھا۔۔۔۔ 

میکسی پر گولڈن کلر کے تلے کا کام اسے اور بھی پرکشش بنا رہا تھا ۔۔۔ بالوں کو خوبصورت ہیر سٹائل میں قید کیا گیا تھا ۔۔۔۔ ہلکا ہلکا پھلکا میک اپ اور ہلکی پھلکی سی جیولری میں وہ نکاح کی دلہن بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

 

اس نے ایک نظر خود کو سامنے دیوار گیر شیشے میں دیکھا تو نظریں جھکا گئ ۔۔۔ 

کیا سچ میں بھائ آئیں گے ؟ اہہہ وہ اپنے بھائ کی حسرت اب تک نہیں بھولی تھی ۔۔۔۔ دل نے رب سے دعا کی کہ وہ ضرور آئے ۔۔۔۔۔

 

وہ اپنی ماں اور فریال کی ہمراہ کمرے سے باہر آئ ۔۔۔۔ 

سفید رنگ کے پھولوں سے پوری حویلی کو سجایا گیا ۔۔۔ خوبصورت لائیٹنگ ۔۔۔ اور حویلی کے بیچ و بیچ خوبصورت سٹیج جس کے دو حصے بنائے گئے تھے جہاں ایک طرف لڑکے نے بیٹھنا تھا اور دوسری طرف ہماری پیاری سی دلہن نے ۔ ۔۔ 

 

اس نے نظریں اٹھا کر داخلی دروازے کی جانب دیکھا ۔۔۔ مگر وہاں کوی نہیں تھا

 

پلین بے ساختہ جھک سی گئ ۔۔۔۔ شاید دل نے بھی مان لیا تھا کہ وہ نہیں آنے والا۔۔۔۔ 

نکاح کی رسم شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔

وہ بھیگی آنکھوں سے سب داخلی دروازے کو دیکھ اپنے بھائ کا انتظار کر رہی تھی مگر انتظار لمبا تھا ۔۔۔۔ 

 

مولوی صاحب کی پکار کر وہ ہوش میں آی ۔۔۔۔

حوریہ زکریہ شاہ ولد زکریہ شاہ آپ کو حیات سکندر ولد سکندر سلیمان حق مہر بیس کروڑ کیا آپ کو وہ اپنے نکاح میں قبول ہیں ؟

 

اس نے حق مہر پر پلکوں کی باڑ اٹھا کر سامنے بیٹھے حیات سکندر کو دیکھا جس کے پاس ایک طرف دائم اور دوسری طرف صائم بیٹھا تھا 

 

اس نے نظریں جھکائ ۔۔۔ 

جی قبول ہے ۔۔۔ 

اور پھر اس طرح تین دفع قبول و عجائب نے مراہل سے گزرتے اب مولوی کا رخ حیات سکندر کی طرف تھا

 

حیات سکندر ولد سکندر سلیمان آپ کا نکاح حوریہ زکریہ ولد زکریہ شاہ سے ہوتا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟

دل و جان سے قبول ہے ۔۔۔ 

اسکے قبول کرنے کے انداز پر وہ جھنپ سی گئ ۔۔۔۔

کیا آپ کو قبول ہے ؟

سانسوں کی روانی کے ساتھ 

قبول ہے ۔۔۔

جی قبول ہے ۔۔۔

 

ان کے نکاح کے بعد ان دونوں سے سیگنیچر کروائے گئے اور دعائے خیر کے لیے سب نے ہاتھ اٹھائے ۔۔۔۔

 

ماہی نے اس وقت پرپل کلر کی شارٹ قمیض کے ساتھ نیچھے ہم رنگ کھلا سا فلیپر پہن رکھا تھا دپٹہ سر پر سجائے ۔۔۔۔۔ وہ آج بہت خوش تھی کہ اسکے بھائ کا نکاح کے مگر آنے والے وقت سے بے خبر ۔۔۔۔

 

سب نے مبارک باد دینی شروع کی کہ اچانک حویلی کے باہر دھڑا دھڑ فائرنگ شروع ہو گی ۔۔۔۔۔

ماہی کی مسکراہٹ اچانک سے غائب ہوی ۔۔۔ 

اسکی حالت بگڑتی اس سے پہلے ہی صائم اسے آگے بڑھ کر سینے سے لگا چکا تھا 

 

حیات اور باقی تمام مرد حضرات نے باہر کی جانب قدم بڑھائے اس سے پہلے ہی بے تحاشہ لوگ بلیک وردیاں پہنے اندر آئے کسرتی جسم جیسے ابھی پھٹ پڑیں گے ۔۔۔ 

 

ماہی ان کے ہاتھ میں اصلحہ دیکھ کر کوچ کرنے والی تھی وہیں حوریہ کس رنگ بھی پھیکا پڑا

 

دائم نے آگے بڑھ کر ان میں سے ایک شخص کا گریبان پکڑنا چاہا اس سے پہلے ہی وہ اسکے سر پر بندوق تان چکے تھے ۔۔۔۔

ہمارے بوس کی طرف سے پیغام آیا ہے کہ 

 

وہ اب بچے نہیں ہیں جو آپ لوگوں کی بچکانہ حرکتوں پر یقین کریں گے ہاں مگر اب جن پر یقین تھا ان پر بھی نہیں رہا ۔۔۔۔۔

اس شخص کے کہتے ایک دفع پھر انہوں نے فائرنگ شروع کردی ۔۔۔ جو تھی تو ہوائ فائرنگ مگر ماہی بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔۔

حوریہ کی حالت بھی خراب ہو چکی تھی ۔۔۔ پری ڑر کے فریال سے چپک گئ ۔۔۔۔

 

حیات نے آگے بڑھ کر ان کے ہی آدمی سے بندوق لیتے ان پر فائرنگ کی جس پر وہ مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ ان کو آڑر نہیں تھے وہ لوگ وہاں سے نکلتے بچتے گئے ۔۔۔۔

 

ان سب کے جانے کے بعد سب لوگ ڑر کر وہاں سے نکلنے لگے ۔۔۔ 

حیات نے پلٹ کر حوریہ کو دیکھا۔  ۔ 

وہ بھاگ کر اس کے پاس آیا جو بس بے ہوش ہونے کے قریب تھی ۔۔۔ وہ گرتی اس سے پہلے اس نے تھام لیا

 

سائیں ۔۔۔ گگ گولیاں ۔۔۔ اور وہ بڑبڑاتی بے ہوش ہو گئ ۔۔۔ جب کہ صائم نے بھی اپنے ساتھ لگی ماہی کو دیکھا جو بے ہوش چکی تھی ۔۔۔۔

 

تینوں نے لب بھینچ کر جھانگیر جو جان سے مارنے تک غصہ آنکھوں میں بھرا تھا 

 

ان دونوں کو لیے سب لوگ ہاسپٹل کی جانب بڑھ گئے ۔۔۔۔۔

 

حور کو تو یہاں کے ہسپتال میں ہوش آچکا تھا مگر ماہی کا نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا وہ دائم اور شہریار اور سکندر کے ہمراہ شہر کے ہسپتال میں چلے گئے 

 

جس حویلی میں کچھ دیر پہلے رونقیں تھی خوشیاں تھی مسکراہٹیں تھیں اب اس میں دھشت سی چھا گئ تھی ۔۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

رحیم اپنی گن کی نال کو پھونک مارتا اسے صاف کر رہا تھا جب اس کا موبائل بجا 

 

آنے والے کی کال دیکھ کر اس کا دل چاہا اس کو ابھی ختم کردے ۔۔۔ 

 

کیا تکلیف ہے کہا تھا نا کام ہو جائے گا ! اس نے درخت لہجے میں کہا

 

مجھے وہ لڑکی آج ہی چاہیے تبھی تمہارا کام ہو گا۔۔۔  غفار لدھیانوی کی کمینگی بھری آواز پر اس نے اپنی بندوق کو دیکھا ۔۔۔ 

تمہیں آج کام ہے نے بے بی ۔۔ وہ اپنی بندوق جو دیکھتے سوچ میں بڑبڑایا ۔۔۔۔۔

 

ٹھیک ہے ہو جائے گا فون رکھ ۔۔۔ رحیم نے ڈاکوؤں کی طرح زبان صرف ایسے لوگوں کے لیے استعمال کرنی شروع کی تھی ورنہ بندہ وہ اچھا تھا 🙊

 

وہ اٹھا کچھ لوگوں کے ہمراہ وہ اپنے مشن پر نکل چکا تھا۔۔۔۔ 

جب اسے اپنے تین آدمی زخمی حالت میں ہاسپٹل میں موجود ہیں کہ خبر ملی ۔۔۔ 

وہ وہاں سے پہلے ہاسپٹل پہںچا۔۔۔۔

 

ماہی کا چیک اپ کافی دیر ہوتا رہا جب ڈاکٹر باہر آئ تو سکندر جلدی سے اٹھتے ان کے پاس آئے ۔۔۔

 

کیسی ہے میری بیٹی ؟ وہ پریشان سے بولے ۔۔۔۔ 

دیکھیں ان کا ڑر اور خوف سے نروس بریک ڈاؤن ہے جو بہت خطرے کی بات ہے ۔۔۔ اگلے چوبیس گھنٹے بہت اہم ہیں آپ دعا کریں ۔۔۔ کہتے ڈاکٹر وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔

سکندر وہاں لگی کرسیوں پر ڈھ گئے وہی حالت شہریار کی تھی ۔۔۔اپنی لاڈلی بیٹی کی تکلیف پر وہ بھی آدھ مرے سے ہو گئے تھے ۔۔ صائم نے دونوں کو سہارا دیا 

 

🍁🍁🍁

رحیم کی نظر جیسے ہی ماہی کو سی سی یو سے دوسرے روم میں شفٹ کرتے اسکے چہرے پر پڑی اس نے ٹھٹھک کر دیکھا۔۔۔ 

اہہہ کون ہے یہ لڑکی کہاں دیکھی تھی ؟ وہ سوچ میں پڑا پھر سوچتے ہوے اس نے اپنے کوٹ کی جیب سے تصویر نکالی جو ماہی کی ہی تھی ۔۔۔۔

 

اہہہ یہ تو وہی لڑکی ہے ۔۔۔۔ وہ بڑبڑایا

 

اس نے بڑی چالاکی سے روم سے اسکو کیڈنیپ کیا ۔۔۔ پورے ہاسپٹل کی لائٹس آف کردی گئ۔۔۔۔ کیمرہ بھی اندھیرے میں کسی کام نہیں رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔

 

اور روشنی والی جگہ پر کمرہ ڈفیوز کردیا گیا تھا۔۔۔۔۔

 

وہ ان باپ بیٹے کی ناک کے نیچے سے اسے کیڈنیپ کر چکا تھا جس کی ٹرینگ ڈیمن نے کی تھی ۔۔۔۔

 

وہ اسے لیے اپنی گاڑی میں ڈالتے وہاں سے باآسانی نکل گیا۔۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

کیا بکواس کر رہے ہو ماہی کہاں جا سکتی ہے ہاسپٹل چیک کرو پورا ہسپتال کا چپہ چپہ چھان مارو ۔۔  حیات نے ماتھے پر تیوریاں کیے کان فون سے لگائے دوسری طرف صائم کی بات پر چلاتے ہوے کہا 

 

میں چیک کر چکا ہوں کمراز بھی ڈفیوز ہیں مجھے لگتا ہے یہ کام جھانگیر بھای کا ہے ۔۔۔  

وہ دانت پیس کر بولا 

 

اگر یہ حرکت جھانگیر کی ہوی تو اسکی تو ہڈیاں اب میں خوف کتوں کو ڈالوں گا سامہ ڈیمن زندگی برباد کرنے پر تلا ہے ۔۔۔  حیات نے دانت پیس کر کہا 

 

🍁🍁🍁

 

رحیم شام کے وقت تک اس علاقے تک اسے لیے پہنچا ۔۔ بنا یہ جانے کہ اس وقت لڑکی جان خطرے میں تھی 

اس کو دوائوں کی ضرورت تھی اور وہ اسے کہاں نئ کہانی کو حصہ بنا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

 

ایک صاف شفاف چٹیلے میدان میں آتے اس نے غفار کے نمبر پر کال کی اور پلٹ کر سوئ ہوی ماہی کو دیکھا 

 

ہاں کام ہو گیا۔    اس نے کہتے کچھ مزید باتوں کے بعد کال کاٹ دی ۔۔۔۔

 

تھوڑی دیر میں ہیلی کاپٹر اس میدان میں اترا ۔۔۔ 

رحیم گاڑی سے اترا

 

ہیلی کاپٹر کے اندر سے کچھ موٹے تازے لوگ اترے 

 

🍁🍁🍁

 اب کیا موت پڑی ہے جو کال کر رہے ہو ؟ اس نے کال اٹھاتے درشت لہجے میں کہا پہلے ہی اسے جھوٹی بکواس پر غصہ تھا اور سب حیات کی کال دیکھ کر مزید غصہ کو ہوا لگی 

 

موت تو میں تجھے دوں گا اگر کچھ دیر میں ماہی حویلی  نا پہنچی تو ۔۔۔۔ حیات نے اسکی بات پر سخت لہجے میں کہا

 

اب یہ کوی نئ بکواس ہے ۔۔۔ ؟ ایک تو تم لوگوں نے اس لڑکی کو پتہ نہیں کیا سمجھ رکھا ہے جو ڈیمن کی زندگی بدل سکتی ہے ؟ 

 

حیات کا دل چاہا اسکا منہ توڑ دے ۔۔۔

جھانگیر اس وقت میرا تم سے بحث کا موڈ نہیں ہے ۔۔۔ تم نے ماہی جو ہسپتال سے اگواہ کروایا ہے کیونکہ پورے ہسپتال کے کمراز ڈفیوزہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔

 

وہ اسے معاملے کی سنگینی کے بارے میں بتاتے ہوے پریشان بھی تھا

 

تو میں اب کیا لڑکی چور ہوں ؟ اور تم سب سے ایک لڑکی کی حفاظت نہیں ہو سکی ؟ جو اسے کوی بھی اٹھا کر لے گیا ۔۔۔ 

وہ بظاہر اسے محسوس نہیں کروا رہا تھا کہ ماہی کی گمشدگی پر وہ پریشان ہوا ہے ۔۔۔ مگر اسے آگ ضرور لگا رہا تھا 

 

تو جیتنا بڑا کمینہ بن لے جھانگیر تیرا مقابلہ حیات سکندر سے اگر یہ حرکت تیری ہوی  میرے ہاتھوں تو قبر میں اترے گا ۔۔۔  وہ دانت پیس کر کال کاٹ گیا ۔۔۔ 

 

اہہہ اگر ماہی اس کے پاس نہیں۔ تو کہاں ؟ اب حیات کی سانسوں پر بنی تھی ۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

لڑکی کہاں ہے ؟ 

اس موٹے تازے آدمی نے سوال کیا 

 

گاڑی میں ۔۔۔۔ رحیم نے ان سب کا جائزہ لیتے کہا

 

اور ہمارا مال ؟ وہ اب کی بار بولا تو اس کے سامنے ایک بیگ کیا گیا جس میں بے تحاشہ پیسوں کے ساتھ ان کا وہ خاص اصلحہ موجود تھا جو رحیم کی بے وقوفی کی وجہ سے غفار لدھیانوی کے ہاتھ لگا تھا مگر اب وہ خوش تھا کہ اس نے وہ واپس حاصل کر لیا

 

مگر یہ تو کوی نہیں جانتا کہ آگے اسکی کتنی درگت بننے والی تھی ۔۔۔۔

 

ماہی کو ان کے حوالے کرتے ۔۔۔ ہیلی کاپٹر اپنی اڑان بھر گیا ۔۔۔۔۔

 

جب رحیم کے نمبر پر کال آی ۔۔۔۔

سلام بوس ۔۔۔ مبارک ہو ہمارا ہتھیار نہیں مل گیا ۔۔۔

وہ جوش میں آتے بولا

 

تم نے کس کو کیڈنیپ کیا تھا ؟ وہ سیدھا مدت کی بات پر ایا۔۔۔۔

 

لڑکی کو ۔۔۔۔اس نے کچھ ڑرتے ہوے  کہا

 

کہاں سے ؟ وہ سو کرتا ڑرا بس یہ نا کہہ دے ہاسپٹل سے ۔۔۔ مگر وہی ہوا جس کا ڑر تھا

 

بوس ہاسپٹل سے ۔۔۔ 

اہہہہہہ تیرا بیڑا تر جائے رحیم کسی کام کے نہیں ہو تم ۔۔ فورا جیٹ تیار کرو ۔۔۔۔ وہ کہتے دانت پیس کر رہ گیا۔۔۔۔ 

 

آج ضرور اس رحیم نے اللہ پاک کو پیارا ہونا تھا 

 

🍁🍁🍁

 

ہیلی کاپٹر اس وقت ترکی کی خوبصورت ہوا میں اڑتا ہوا استنبول میں اترا تھا ۔۔۔۔ 

ماہی اب بھی بے ہوش تھی ۔۔۔ 

 

یہ لڑکی کیا بھنگ پی کر آئ ہے ؟ ایک شخص نے اسے دیکھتے سوال کیا

 

ہمیں کیا ہمارا کام تھا لدھیانوی صاحب کو خوش کرنا سو وہ ہم کریں گے ۔۔۔ چلو اس کو لیے ان کے فارم ہاؤس پر ہی جانا ہے ۔۔۔۔

 

چوپر (ہیلی کاپٹر) وہاں کھلے خوبصورت علاقے میں لینڈ ہوا ۔۔۔۔

اور گاڑیاں پہلے سے موجود تھیں جہاں پر اسے لیے وہ اب گاڑی میں سوار ہوتے اپنی منزل کی جانب بڑھ گئے ۔۔۔۔

 

وہ لوگ کچھ دیر کی مسافت کے بعد جب گاڑیاں فارم ہاؤس میں لائے سامنے ہی گاڑی کی بونٹ پر بیٹھا سیگریٹ کے گہرے کش لگاتا انہی کو دیکھ رہا تھا

 

کتنے سلو موشن ہو تم لوگ اتنی دیر سے پہنچے ہو یہاں ۔۔۔۔ ڈیمن نے ان کو دیکھتے سرد لہجے میں کہا

 

ڈیمن ۔۔۔ ان میں سے ایک منہ سے نکلا جب باقی سب بھی پریشان ہوے ۔۔۔۔

 

آپ یہاں کیوں آئے ہیں ؟ آپ کو آپ کا مال تو مل گیا تھا ناں ؟

وہ جیسے پریشان ہوے انہوں نے کوی ہیرا پھیری تو نہیں کی تھی پھر یہ لوگ کیوں آے تھے 

 

انہہہہ کوی ہیرا پھیری نہیں بہت ایمانداری سے کام کیا ویلڈن ۔۔۔ وہ تاکہ بجاتے گاڑی کی بونٹ سے اترا سیگریٹ کا آخری کش لگاتے اسے پاؤں میں روند دیا ۔۔ 

 

لڑکی کہاں ہے ؟ وہ چار قدم کا فاصلہ دو قدم میں تہہ کرتا پاس آیا

 

گگ گاڑی میں ہے ڈیمن ۔۔۔ ایک آدمی نے ڑرتے ہوے کہا ۔۔۔ 

 

وہ اس گاڑی کی جانب بڑھا جب شیشے کے پار اسے گاڑی میں ماہی دکھی۔۔۔ لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔۔

 

اور پلٹتے بنا کوی موقع دیے اس نے ان سب کو اپنی بندوق سے بھون دیا۔۔۔۔۔

وہ اپنا بچاؤ بھی تب کرتے جب وہ کچھ سگنل دیتا پر وہ تو ڈیمن تھا ۔۔۔ 

 

وہ گاڑی سے ماہی کو اپنی باہوں میں لیتے باہر نکال کر اپنی گاڑی میں لیتا وہاں سے نکل گیا

 

پیچھے غفار لدھیانوی کو جب ڈیمن کے آنے کا پتہ چلا تو وہ چلانے لگا ۔۔۔ اس نے اس سے اسکا مال بھی لے لیا اور لڑکی بھی لے گیا

 

🍁🍁🍁

 

تم جیسے نا اہل لوگوں کے پاس اتنے سال میری ماہی رہی ہے جاہلوں اپنی طرح بزدل بنا دی ۔۔۔ 

 

اس نے میسج ٹائپ کرتے حیات کو سینڈ کیا

 

جس نے کلس کر میسج دیکھا اور ساتھ حوصلہ ہوا کہ وہ کسی غلط ہاتھ میں نہیں ہے 

مگر انہیں کیا پتہ وہ صحیح ہاتھ میں بھی نہیں ہے 

 

اس نے نظر ساتھ سوی ہوی ماہی پر ڈالی ۔۔۔ 

ڑرپوک ماہی مگر میرا سوہنا ماہی ۔۔۔۔

وہ اسے دیکھتے بڑبڑایا 

 

اور آج سے وہ لڑکی اس ڈیمن کے پاس اچکی تھی

 

🍁🍁🍁

37 Episode 

 

حور آج سکندر حویلی آئ تھی ڑرائیور اس کو اندر تک چھوڑ کر پھر واپس چلا گیا تھا

 

اپنی چادر کو درست کرتی وہ حویلی کے اندر جو جاتی سیڑھیوں سے اندر کی جانب بڑھی 

داخلی دروازے پر ہی کھڑے ہوتے سامنے اسے حیات بڑی مصروف سی حالت میں بنا سامنے دیکھے موبائل پر کچھ دیکھتے باہر کی جانب آتے نظر آیا 

 

حیات صبح پنچایت کے بعد ایک اہم کام کے لیے حویلی آیا تھا اب اسے وہاں سے زمینوں پہ چکر لگانا تھا 

 

حور کھڑی ہو کر فرصت سے اس مصروف شہزادے کو آنکھوں سے نگل جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی 

 

تبھی حیات کی نظر بے وجہ ہی اٹھ کر جھکی تھی کہ اچانک وہ چونک سا گیا 

 

سامنے کی جانب پھر سے نظریں اٹھائیں

حور ۔۔۔ اس کے لب ہلے تھے 

 

پھر اچانک کچھ سوچتے اس نے نظریں پھیر لیں

یہ کرنا کتنا مشکل تھا یہ تو حیات ہی جانتا تھا 

 

پر اتنا کرنا تھا کہ حور کے تو جیسے پیر جلے تھے 

کیا وہ اسے نے نظر انداز کر رہا تھا 

 

وہ بپھری ہوئی شیرنی کی طرح اسکی طرف بڑھی اور یہی تو وہ چاہتا تھا کہ وہ خود کی طرف آئے 

وہ اسے اپنی طرف آتا محسوس بھی کر چکا تھا 

 

مگر جان بوجھ کر اپنی توجہ موبائل پر ہی رکھی جو کہ بے وجہ ہی تھی اس وقت 

 

مسٹر حیات ۔۔۔ وہ اسکے پاس آتی دانت چبا کر اسکا نام لیتی اسے خود کی طرف توجہ کرواتی ہے 

 

حیات نے بڑی مصروف سی نظر اس پر ڈال کر دوبارہ توجہ موبائل پر جمائ 

 

ھمم۔۔۔۔ وہ اسے جان بوجھ کر تنگ کر رہا تھا 

 

حور تو اسکے نکھرے دیکھ کر دنگ رہ گئ تھی 

یعنی وہ شخص اس کے پیروں میں بیٹھ جانے کو تیار آج اسے اگنور کر رہا تھا 

 

حور غصے کی زیاتی سے کچھ نا بول پائ پر اسکی آنکھیں بھیگ گئ تھیں 

 

وہ  چاہتے ہوے بھی اپنی آنکھوں کو بھیگنے سے روک نہیں پائ تھی 

 

حیات نے ابھی اسکے جواب نا پا کر اسکی جانب سوالیہ دیکھا لیکن اسکی آنکھیں دیکھ کر ٹھٹکا

 

حور ۔۔۔ وہ پریشان ہوا اس نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لینا چاہا لیکن حور نے اسکے ہاتھ جھٹک دیے 

خبردار جو مجھے ہاتھ بھی لگایا تو 

 

مم میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی 

 

وہ اٹکتے ہوے بولی کیونکہ آنسوؤں کا گولہ اسکے حلق میں پھس سا گیا تھا

 

حور میری بات تو سنو ۔۔۔ حیات نے دو قدم اسکی جانب بڑھائے 

تبھی فریال سیڑھیوں سے اترتی ہوی ان دونوں کی طرف آئ 

 

ارے میری شہزادی بیٹی آئ ہے ۔۔۔ 

وہ حور کو گلے لگاتے بولیں 

جس پر حور نے اپنے آنسو بامشکل پیچھے دھکیلتے مسکرا کر جواب دیا 

 

جی آپ کیسی ہیں ۔۔۔

میں ٹھیک ہوں تمہاری آنکھوں میں آنسوؤں کیوں ہیں ؟

فریال پریشان سی ہوی 

 

نہیں وہ آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا شاید ۔۔ 

وہ اپنی آنکھوں کو مسلتے بولی 

 

چلو آؤ یہاں میرے ساتھ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر لاؤنج کی طرف بڑھی 

 

حیات وہیں مجسمہ بن کر کھڑا تھا 

 

کیا وہ اس قدر نازک تھی کہ زرا سی ناراضگی پر اسکو منانے تک آی تھی مگر اسکی جانب سے بے عتںائ پر اسکی آنکھیں بھیگ گئیں 

 

لعنت ہے تم ہر حیات کے تم اب تک اپنی محبت کو نہیں جان پائے وہ خود کو دپٹتا فریال اور حور کی جانب بڑھا تبھی ملازم کی آواز پر رکا

 

سردار جی باہر چودھرائن آئ ہیں ۔۔۔ ان کو میں نے مہمان خانے میں بیٹھا دیا ہے 

 

وہ ملازم اطلاع دے کر خاموش ہوا 

حیات کے ماتھے  پر ناگوار بل پڑے 

ٹھیک ہے آتا ہوں ۔۔۔ وہ کہہ کر ملازم کو جانے کی اجازت دے چکا تھا 

 

حور جو فریال سے لگی بس خاموش آنسو بہا رہی تھی جب کہ فریال اسکے لیے پانی لینے گئ ۔۔۔۔

 

حور نے پلٹ کر دیکھنا چاہا کہ وہ سنگدل اسکا شوہر کہاں ہے تو اسے داخلی دروازے سے باہر جاتے دیکھ اسے شدید قسم کی تکلیف محسوس ہوی 

 

میں ٹھیک کہتی تھی کوی محبت نہیں ہوتی ان مردوں کو بس اپنے نام کرنے کے بعد ان سب مردوں کی محبت جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے 

 

وہ خود کو پہل کرنے پر دپٹتی بولی 

آنسو پھر شدت آنکھوں سے نکلے

 

تبھی فریال پانی سامنے ٹیبل پر رکھتی اسکے پاس دوڑ کر آئ 

 

کیا بات ہے بیٹا کیوں اتنا تو رہی ہو 

اس نکمے نے کچھ کہا ہے ؟

فریال کا غائبانہ اشارہ حیات کی جانب ہی تھا 

 

نن نہیں مم میں جا رہی ہوں واپس 

وہ فریال کو جواب دیتی اٹھنے لگی 

 

واپس بیٹھو ۔۔۔ وہ جو صوفے سے زرا اوپر ہو کر اٹھی ہی تھی فریال کی آواز پر رکی پھر صوفے پر بیٹھی 

 

بتاؤ کیا بات ہے دیکھو میں تم دونوں کو اچھے سے جانتی ہوں 

میرا بیٹا جان دیتا ہے تم پر تم اگر اسکے کسی بھی عمل پر رو رہی ہو تو وہ ضرور تمہیں منائے گا اپنے آنسو ضائع نہیں کرو 

 

میں نے اپنے بیٹے کی تربیت میں اس بات کو بہت اچھے سے سمجھایا ہے کہ عورت کو رولانے والا مرد پھر کبھی خود کو مرد نا کہے 

 

فریال نے اس کو جس طرح سے بات سمجھائ وہ ان کی جانب دیکھے گی 

 

وہ مجھ سے ناراض تھے میں ان کو منانے آئ تھی مگر وہ مسلسل مجھے اگنور کر رہے تھے میری طرف دیکھ بھی نہیں رہے تھے اسلیے میں رو رہی تھی 

 

ر چچی جان۔ دیکھیں ان کو کوی  فرق ہی نہیں پڑتا مجھے روتے چھوڑ کر وہ اپنے کام کرنے چلے گئے ہیں ۔۔۔۔

 

وہ اب کی بار فریال کو بتا چکی تھی 

 

اس کے کان تو میں اچھی طرح کھینچوں گی 

لیکن پہلے یہ بتاؤ 

تم کیا اتنی کمزور عورت ہو ؟

ہم سب نے کیا تم سب لڑکیوں کو یہ سیکھایا ہے کہ بات بے بات تو پڑو ؟

 

فریال کی بات پر وہ پریشان چہرہ لیے ان کو دیکھنے لگی 

 

اسکی بات پر سر نفی میں ہلایا 

 

دیکھو جذبات پر اتنا کنٹرول ہونا چاہیے نا کہ آپ کو وقار قائم رہ سکے 

 

آئندہ اگر وہ نکما کوی ایسی حرکت کرے تو اسپر رونے کے بجائے اسے اچھا سبق سیکھاو تاکہ آئندہ وہ تمہیں اگنور نا کرے 

 

فریال نے مسکرا کر اسے کہا جس حیرت بھرا چہرہ لیے اسے دیکھ رہی تھی 

 

یعنی ایک ماں اپنی بہو سے اپنے بیٹے کو سبق سکھانے کا کہہ رہی تھی 

 

تمہیں پتہ ہے جب ایک دفع تمہارے چچا سائیں نے مجھے اگنور کیا تھا نا 

تو میں نے کیا کیا تھا 

 

وہ اسکی پریشانی سمجھتے مسکرا کر بولی 

 

حور کے چہرے پر تجسس ابھرا 

کیا کِیا تھا ؟ 

میں نے بڑے سکون سے ان سے دور ہوتے ہوے پوری حویلی سر پر اٹھا لی تھی اور بی جان سے ابھی خاص ڈانٹ پڑوائ تھی سکندر اعظم کو 

 

وہ مسکرا کر اسے اپنے کارنامے بتا رہی تھی جس پر حور ہسنے لگی 

 

تو تم نے بھی رونا نہیں ہے عورت رونے کے لیے نہیں بنی سمجھی 

اپنے مرد کی توجہ کی حقدار ہے عورت اور اپنے حق کے لیے رویا نہیں جاتا سمجھی 

 

فریال اسے اپنے ساتھ لگاتی سمجھاتے ہوے بولی 

 

آئندہ میں نہیں روؤں گی اور آپ ان کو ڈانٹے گی نا میری شکایت کرنے پر 

حور الگ ہوتی جلدی سے بولی 

 

ہاہاہا ضرور کان کھینچوں گی اسکے ۔۔۔ فریال ہستے ہوے بولی 

 

لیکن غلطی میری بھی تھی چچی سائیں ان کو ناراض میں نے ہی کیا تھا مجھے منانا نہیں آتا کیا کروں ؟

 

وہ اب کی بار ایک دوست کی طرح مشورہ مانگ رہی تھی 

 

فریال نے اسے مشورہ دیا جس پر حور چہک اٹھی 

 

ٹھیک ہے ڈن وہ انگوٹھا اٹھا کر دن کرتے مسکرا کر بولی 

 

چلو اب تم بی جان سے ملو تب تک میں اپنی بہو کی خاطر طوازہ کرتی ہوں ۔۔

فریال اسکا ماتھا چومتی بولی جس پر حور دل سے مسکرائی 

 

🍁🍁🍁

 

صائم اپنے کیس سے واپسی پر گاڑی اب ایک ریسٹورنٹ کے سامنے روکتے کچھ کھانے کے لیے گاڑی سے اترا تھا 

 

وہ بیٹھا اب اپنا لنچ کر رہا تھا تبھی اسکو اپنے پچھلے ٹیبل پر ایک لڑکی کی آواز کان میں گونجی 

 

ہائے یار مجھے تو پاکستان بلکل پسند نہیں آیا بہت بورنگ ہے 

مجھے امریکہ واپس جانا ہے ۔۔۔

 

دوسری لڑکی بولی ۔۔

 

کیوں اس میں برائ کیا ہے تم پر تو کوی روک ٹوک بھی نہیں پھر کیا مسلہ ہے 

 

ارے روک ٹوک۔۔۔ تمہیں پتہ ہے پاپا جب سے پاک آئے ہیں ان کو نا جانے کیا ہو گیا ہے پر وقت مجھے گاؤں لے جانے کی بات کرتے ہیں 

 

مجھے تو گاؤں جانے کا بلکل موڈ نہیں ہے لیکن کیا کروں پاپا کو انکار کرنا میرے لیے مشکل ہے 

 

وہ مسکرا کر بولی تھی 

 

صائم واپس دھیان اپنے لنچ پر کرتا جب اسکے کان میں اسکا آخری جملہ گونجا 

 

وہ وہاں کسی لڑکے سے ملوانا چاہتے ہیں مجھے شاید کوی گاؤں کا گنوار میرے لیے پسند کیے ہوے ہیں 

لیکن میں تو ایشن سے ہی شادی کروں گی 

 

گنوار لفظ پر اسکا چلتا ہوا چمچ رکا تھا 

 

اسنے گردن موڑ کر نا جانے کیوں مگر دیکھا تھا 

وہ جانتا تھا یہ بری بات تھی کہ وہ کسی کی باتیں سن رہا ہے مگر وہ لوگ باتیں ہی اتنی اونچی کر رہی تھیں 

 

اس نے جیسے ہی گردن موڑی سامنے ہی وہ کالج والی لڑکی بیٹھی دیکھ کر حیرت ہوی 

 

پھر سر جھٹکتا اپنا بل پے کرتا باہر نکلا 

 

انسان جتنا خوبصورت ہو خیالات اتنے بدصورت بھی ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔

 

وہ کہہ کر اپنی گاڑی میں بیٹھ چکا تھا 

 

چودھرائن اس وقت سکندر حویلی کے اندر بیٹھی تھی 

 

حیات نے قدم مہمان خانے کے اندر رکھے 

 

اسلام و علیکم! حیات نے اندر قدم رکھتے کہا 

 

چودھرائن اٹھ کر کھڑی ہوی  

وعلیکم السلام۔۔۔

 

کیسے آنا ہوا ؟ حیات نے بے تاثر لہجے میں کہا 

 

ہمیں نہیں معلوم تھا کہ اس گاؤں کے سردار کا دل اتنا چھوٹا ہے مہمان کو چائے پانی کا نا پوچھا 

جب کہ ہم اطلاع کرکے آئے تھے 

 

چودھرائن نے جواب دیتے کہا

 

دل چھوٹا تو نہیں تبھی آپ یہاں بیٹھی ہیں جب کہ آپ ہمارے دشمن کی صاحب شادی ہیں ۔۔۔۔

حیات نے اسے دیکھتے جواب دیا 

 

چودھرائن کے چہرے پر مسکراہٹ بھکری 

 

یعنی ہمارے بارے میں معلومات آپ بھی نکال چکے ہیں 

چودھرائن نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا 

 

حیات سکندر کوی عام انسان نہیں ہے 10 گاؤں یوں ہی ہماری سرداری سے چل رہے ہم اس میں بسنے والے ہر انسان کے بارے میں جانکاری رکھتے ہیں 

 

آپ بتانا چاہیں گی کہ آپ کو اتنی زحمت کیوں کرنی پڑی 

 

مجھے عورتوں سے زیادہ تعلقات پسند نہیں مگر آپ کے اسرار پر آپ کو حویلی میں بلایا ورنہ ملاقات کے لیے میرے پاس ڑیرہ موجود تھا

 

حیات کی بات پر چودھرائن کے چہرے کی مسکراہٹ مدھم ہوی 

 

آپ ہمیں ڑیرے پر آنے کا کہتے ؟ 

 

نہیں آپ عورت زات ہیں میرے لیے آپ کی عزت اہم تھی اور ڑیروں پر عورتوں کو بلانا ہمارا کام نہیں ۔۔۔۔

 

حیات نے تحمل سے جواب دیا

 

ہم آپ سے شادی کی خواہش رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس دشمنی کو دوستی میں بدل دیا جائے 


Episode 28 

 

پری اپنے کمرے میں بند تھی اس نے جویریہ شاہ سے  ہونے والی باتوں کے بعد خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا

ماں کے سامنے شرمندگی کے ساتھ اسکو سخت غصہ دائم پر تھا 

اسنے اسکو کیوں نہیں بتایا کہ جویریہ شاہ جانتی ہے ان کے نکاح کے بارے میں 

کم سے کم اسکی ماں کو اسکا یوں نکاح کا چھپانا برا نا لگتا 

 

اس وقت کمرے میں اندھیرا کیے وہ بیڈ کے پاس پڑے پفی کے پاس بیٹھی ہوی تھی ۔۔۔ 

اسی وقت اس کا فون بجنے لگا 

 

مخصوص رنگٹون پر اس نے جلدی سے اٹھتے بیڈ سے اپنا موبائل اٹھایا 

 

سامنے مسٹر دائم کی جانب سے آتی کال دیکھ اسکی آنکھوں میں چنگاریاں سی اٹھی 

 

کال رسیو کرتے کان سے لگایا فون مگر آنکھوں میں شدید امنڈ آیا تھا 

 

دوسری طرف دائم نے سلام دیا جس کا جواب نا پا کر وہ کچھ دیر تھما 

پھر بولا 

 

پری تم نے جب کال کی تھی اس وقت میٹنگ میں تھا تن ناراض مت ہو ویسے بھی میں نے کچھ بتانے کے لیے کال کی تھی 

 

یار میں دو سال کے لیے مزید ٹریننگ کے لیے ملک سے باہر جا رہا ہوں ۔۔۔  اس نے اسکی خاموشی کو محسوس کیا تھا مگر یہ ہی لگا کہ شاید کال رسیو نا ہونے کی وجہ سے ناراض ہے اس لیے ساری بات بتائ 

مگر دوسری جانب فرق کس کو پڑ رہا تھا 

 

پری تم سن رہی ہو؟ اس کی جانب سے صرف سانسوں کی چلتی آواز کو سنتے ہوے وہ بولا 

 

کس قدر گھٹیا شخص ہو تم ؟ وہ اب کی بار بولی مگر اففف وہ بولی کم اور چلائے زیادہ تھی جیسی اندر کا لاوا پھٹا تھا 

 

کیا کہہ رہی ہو ؟ وہ حیران سا ہوا اس نے فون کان سے دور کیا اتنا اونچا چلانے کا اسے اندازہ نہیں تھا

 

کیا کہہ رہی ہوں ؟ واہ مسٹر دائم تم جیسا دوغلا انسان میں نے ساری زندگی میں نہیں دیکھا مجھے میری ہی ماں کے سامنے شرمندہ کر دیا اور کہہ رہے ہو کیا کیا ہے ؟

 

وہ اب کی بار بھی تیز آواز میں بولا 

دائم کی پیشانی پر سروٹیں پڑی بولا کچھ نہیں 

 

تم جیسے شخص سے محبت نہیں نفرت کرنی چاہیے مجھے گھٹیا انسان تم نے اگر نکاح کا پہلے ہی ماں سائیں کو بتا دیا تھا تو مجھے کیوں نہیں بتایا

 

وہ اب بھی اس قدر اونچی آواز میں بولی جس کا اندازہ اس کو خود اس وقت نہیں تھا 

 

دوسری طرف وہ بات سمجھتے گہرا سانس لے کر رہ گیا ۔۔۔۔ مگر دل ٹوٹا تھا 

وہ گھٹیا تھا ؟ ایک دفع پھر وہ لڑکی اسے کھری کھوٹی سنا رہی تھی 

 

بولو بھی ۔۔۔۔ وہ پھر سے چلائ ۔۔۔ اپنی حالت ایسی تھی کہ چلانے کے باعث گہرے سانس لے کر وہ سانس بحال کر رہی تھی 

 

انہوں نے کہا تھا کہ وہ تم سے خود سننا چاہتی ہیں تمہاری قسم دی تھی اسلیے بتا نہیں سکا سوری۔     

وہ کہہ کر کچھ دیر چپ رہا اور پھر فون کاٹ دیا 

 

جب کہ پری اسکے جواب پر دوں دیوار میں دہ مار گئ۔ ۔۔۔ 

 

گھٹیا شخص نفرت ہے مجھے تم سے ۔۔۔۔ 

وہ بولتی بولتی بیڈ پر ڈہ گئ ۔۔۔۔۔

 

🍁🍁

 

کیا لیکن دوسال کا عرصہ بہت زیادہ ہے بیٹا ۔۔۔ سائشہ روہانسی ہوی اپنے بیٹے کی جدائی کیسے برداشت کرتی پہلے ہی بیٹی کی کچھ خاص خبر نہیں تھی 

 

ماں سائیں ضروری ہے ناں ورنہ کبھی نہیں جاتا آپ پریشان مت ہوں ایک ہفتے تک جانا ہے تب تک پیار کر لیں آپ مجھے ۔۔۔ وہ مسکرا کر ان کی گود میں سر رکھتے بولا

 

جس پر وہ نم آنکھوں سے مسکرائ 

 

کیا ہو رہا ہے۔ ۔۔ 

اندر داخل ہوتے شہریار نے ماں بیٹے کے پیار کو دیکھتے سوال کیا

 

آپ تینوں الگ نیچر کے ہیں بابا سائیں پر تینوں بیویوں کے معاملے میں اپنی اولاد پر بھی یقین نہیں کرتے ۔۔۔ 

ان کے پیچھے ہی وکیل کے مکمل حلیے میں اںدر داخل ہوتے صائم نے باپ پر تنقیدی نگاہ ڈالتے کہا

 

نالائق اولاد ہو تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ ۔۔ شہریار اپنے بیٹوں کے ساتھ ایسے بات کرتے تھے جیسے ان کے بھائ ہوں 

 

اہہہہ ہم نالائق آپ کی زوجہ سے عشق کرتے ہیں ۔۔ وہ سائشہ کے پاس صوفے پر دوسری جانب بیٹھتے ان کے کندھے پر سر رکھتے بولا 

 

پہلا عشق میرا ہیں یہ ۔۔۔ شہریار کے لفظوں میں اپنے لیے عقیدت دیکھ سائشہ شرما سی گئ ۔۔۔۔

 

اوئے ہوے۔صائم نے یہاں بھی ٹانگ کھینچی جس پر وہ دھپ رسید کر گئ اسے 

 

سوتے تم کدھر چل پڑے ۔۔۔ ارے میری شادی کی عمر ہو گئ ہے اور آپ سب کو کوی فرق نہیں ہے ۔۔۔ 

اس کی نظر اب گود میں سر رکھے دائم پر تھی 

 

جو اسکی بات پر سیدھا ہو کر بیٹھتے اسے سوالیہ دیکھںے لگا

 

مشکل سے حیات بھائ نے شادی کے لیے کچھ ہاتھ پیر مارا ہے اور اب ہمارے نمبر آتے ہی تم باہر جا رہے ہو۔    

صائم کی بات پر سب مسکرا دیے ۔۔ 

کیونکہ یہ اس کی نوٹںکی تھی ورنہ شادی میں ابھی خاص اںٹرسٹ اسے بھی نہیں تھا

 

ارے یار ہسیں مت مجھے کوی سیریس ہی نہیں لیتا ۔۔۔۔ 

وہ منہ کے زاویے بناتا بولا

 

سائشہ نے اس کے گال پر لب رکھے میرا پیارا بیٹا کوی لڑکی پسند ہے ؟

سائشہ کے سوال پر اس نے ان کو دیکھا اور پھر شہریار کو 

 

ہاں پر شادی ہے وہ تین بچے ہیں اس کے ۔۔۔ 

وہ بولا تو شہریار کی بھنویں سکڑی۔    

شادی شدہ لڑکی پر نظر ہے تمہاری بے شرم ۔۔۔۔ دائم نے اسے ٹوکا 

 

ہاں یار اسکی نرم نرم باتیں۔ ۔۔

بغیرت تیری زباں کتوں کو ڈال دوں گا میں میری نرمی کا بے جا فایدہ اٹھا رہا ہے۔ ۔۔۔

شہریار باپ تھا اسکا کیسے نا سمجھتا کہ اسکی نظریں کیا کہہ رہی تھیں اس لیے تپتے ہوے بولے 

 

ہاہاہا ۔۔۔ بابا سائیں آپ کی بیگم مجھے بہت پسند ہے ۔۔۔ 

اب کی بار اسکی بات سن کر سائشہ نے اسے مکس جڑا اور دائم باقائدہ جوتا اتار کر اس کے پیچھے بھاگا 

 

دونوں کی اودھم اداھم لڑائ کمرے سے نکلتے جاتے شروع ہوی 

 

یہ اولاد بھی کسی دن میرے ہاتھوں ہٹے گی کوی شرم نہیں میری بیوی پر نظر ہے اسکی 

شہریار کی بڑبڑاہٹ پر سائشہ مسکرای

میرا بیٹا ہے وہ ۔۔۔ مزاق کر رہا تھا ۔۔۔ 

ہاں بیٹا نا ہوتا تو کمینے نے مجھے ہٹا کر خود میری جگہ لے لینی تھی گندی اولاد ۔۔۔۔

وہ اب بھی جل کر کر بولے ۔۔۔۔

 

سائشہ سر نفی میں ہلا کر رہ گئ ۔۔۔۔

 

🍁🍁

 

حوریہ کو گھر ڑراپ کر کے وہ ڑیرے پر کچھ کام کے سلسلے میں چلا گیا 

 

اسے رات ہو گئ تھی واپس آتے آتے ۔۔۔ 

سب بیٹھے ہوے کھانے پر اس کا انتظار کر رہے تھے وہ حویلی مین داخل ہوا 

اندر آتے اونچی آواز میں سلام دیا جس کا سب نے دل میں اور کچھ نے باواز جواب دیا

 

کیسی ہیں بی جان ۔۔۔ وہ سب سے پہلے ان کو صوفے پر بیٹھے دیکھ ان سے پیار لینے آیا 

 

ٹھیک ہوں میرا بچہ ۔۔۔۔ بی جان کافی بزرگ دکھنے لگی تھیں ۔۔  بڑی محبت سے پڑ پوتے کا ماتھا چوما 

 

سب سے کچھ دیر باتوں کے بعد وہ فریش ہونے کے لیے روم میں آیا 

 

اس نے ایک نمبر پر کال ملائ جو استنبول کے چھوٹے سے گھر میں جا کر لگی تھی 

 

ٹن ٹن کی آواز پر وہ آنکھیں مسلتے ہوے اٹھا

 

ابے گدھے یہاں رات ہو چکی ہے اس وقت کیوں عاشقوں کی طرح کال کر رہا ہے ؟

جھانگیر جھنجھلاتے ہوے کال رسیو کرتے بولا

 

میری بہن کیسی ہے ؟

اسکے سوال پر اس نے آنکھیں بند جی اور پھر کھولیں سو رہی ہے وہ صبح بات کر لینا اب کال مت کرنا آدھی رات کو پتہ نہیں کہاں سے آجاتے ہیں لوگ 

 

وہ جان بوجھ کر اونچا بولا تھا 

 

اسکے تیری وہ حالت کروں گا تو مجھ سے معافی مانگے کا تو معاف نہیں کروں گا ۔۔۔ یہ جو شیر بنا پھر رہا ہے ناں میری ماہی واپس سجائے تجھے بھیگی بلی بنا دوں گا 

 

حیات نے دانت پیس کر کہا

 

ابے جا کرتا ہے ڈیمن تیری دھمکی سے ؟ اور رہی تیری بہن کی بات تو اب وہ میری بیوی ہے 

 

کیا تم نے نکاح کر لیا ؟ حیات ایک دم الجھا 

 

اس نے درخواست کی تھی نکاح کر لیجیے سو کر لیا 

اب میرے متھے مٹ لگ سوںے دے فارغ انسان 

 

جھانگیر نے کہتے کال کاٹ دی 

 

تیری تو وہاں فیکٹریاں چل رہی ہے ایک نمبر کا دو نمبر آدمی ۔۔۔۔

وہ بڑبڑایا

 

اور فون رکھ کر فریش ہونے چلا گیا

 

🍁🍁🍁

سب نے خوش ماحول میں کھانا کھایا مگر سب کو ماہی کی یاد ضرور آئ تھی جس کی ٹر ٹر کھانے کی ٹیبل پر بھی بند نہیں ہوتی تھی 

اب سب چائے پی رہے تھے اور لاونج میں بیٹھے تھے 

 

لیکن دو سال کے لیے کیوں ؟ حیات کو دائم کا کا اتنے وقت کے لیے دور جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا

جب اسے میڈیکل کی پڑھائ کے لیے باہر جانا تھا تب حیات بھی اپنی پڑھائ کی وجہ سے باہر تھا مگر اب ۔۔۔ اسے نہیں پسںد تھا حویلی میں ان پوتوں کی کمی ہو 

 

ایک نواب صاحب تو پہلے ہی حویلی کے چاند بنے ہوے ہیں اس کو بھی بھوت سوار ہو گیا ہے 

اچھا کھاسہ تم اپنے کام میں ماہر ہو مزید باہر ٹرینگ کی کیا ضرورت ہے ؟ 

صائم نے بھی پھر روہانسی ہوتے کہا اسے نہیں پسںد تھا اس کا بھائ اس سے دور ہو 

 

دائم ان دونوں کو دیکھ مسکرا دیا ۔۔۔ اسکی مسکراہٹ بلکل شہریار جیسی نرم مسکراہٹ 

 

یار آپ دونوں سمجھ کیوں نہیں رہے مجھے بھی آپ اب کے بغیر رہنے کی عادت نہیں ہے مگر مجھے سرجری کے لیے کسی ڈاکٹر کی ضرورت ہے جو فلوقت مجھے مل نہیں سکتے اور ویسے بھی مستقل کوی گاؤں میں رہنے کا روادار نہیں ہے 

 

مجھے سرجری کے لیے دو سال کی پڑھائ مزید کرنی ہوگی پھر خدا نے میرے ہاتھ میں شفا رکھی ہے تو کیوں نا کسی کا بھلا کروں ؟

 

اس نے اب کچھ مزید تفصیل سے بات کی جس پر وہ دونوں ایک پل کے لیے خاموش ہوے 

 

اور تم میری شادی پر ؟ 

حیات نے اب ایک نیا جواز دیا 

 

میرے بھائ کی شادی ہو اور میں نا آؤں ایسے کیسے ممکن  ہے ۔۔۔ دائم کی طرف سے تسلی بخش جواب پر وہ کچھ مطمئن ہوا 

 

پر میں کیسے رہوں گا تمہیں دیکھے بغیر ؟ صائم نے بچوں کے جیسے منہ بناتے کہا 

اسکی حرکتیں شایان سے کافی ملتی تھی 

 

اس وقت وہ شایان کی جوانی لگ رہا تھا

 

ارے یار ۔۔۔ شیشہ دیکھ لینا ۔۔۔ دائم کی بات وہ تینوں ہنس دیے ۔۔ کیونکہ دونوں کے نقوش ایک جیسے تھے اس لیے ان مین پہچان کرنی بھی مشکل تھی 

 

🍁🍁

 

آج وہ کافی دن بعد آفس آئ تھی خود کو بہت پرسکون ہلکا محسوس کر رہی تھی 

 

نعمان شاہ ابھی تک آفس نہیں آیا تھا آج وہ پہلی دفع لیٹ ہوا تھا ابھی وہ اسے کال کرںے والی تھی کہ اسے سامنے تمام ایمپلائز سلام کرتے نظر آئے 

 

صبغہ کی نظر پھسل کر سامنے سے براؤن کلر کی فور پیس میں ملبوس شاہانہ چال چل کر آتا ہوا نعمان شاہ نظر آیا 

سنجیدگی ہمیشہ سے چہرے پر تھی اور ماتھے پر بلوں میں کچھ اضافہ تھا 

اسنے فون کان سے لگایا ہوا شاید دوسری جانب سے ہونے والی بات ناگوار گزری تھی 

 

میری طرف ڈیل کینسل ! اس نے آخری جملہ کہتے فون کاٹ دیا 

 

وہ چلتا ہوا بلکل صبغہ کے سامنے آیا پل میں دونوں کی نظریں ملینگر اگلے ہی پل وہ نظریں پھیر کر اپنے کیبن کی جانب بڑھ گیا

 

کھڑوس دو گھڑی محبت سے دیکھتا تو کیا چلا جاتا ! وہ پیچھے سے بڑبڑای پھر اسکے پیچھے کیبن میں داخل ہوی 

 

اسلام و علیکم سر آج آپ کی میٹنگ شیرہولڑرز کے ساتھ لنچ کے بعد رکھی گئ ہے 

اس سے پہلے آپ فائلز کو دیکھیں گے جو کہ کافی ٹائم سے پینڈںگ ہیں آپ سائن کر دیں تاکہ اس پر کام کیا جا سکے 

 

اس نے اپنے پروفیشنل انداز میں آتے اسے آج کا سارا شیڈیول بتایا 

 

میں نے سیکٹری رکھ لیا ہے آج سے آپ باقی ایمپلائز کی طرح کام کریں گی ۔۔۔۔ 

اس نے وجاہت سے کرسی سنبھالتے بنا اس کی جانب دیکھے اسکی بات ختم ہونے پر جواب دیا

 

پر سر ۔۔۔ وہ چونک گئ ۔۔۔ 

 

آپ کافی دنوں سے چھٹی پر تھیں بنا انفارم کیے ۔۔۔۔

اس نے اب کی بار نظر اس پر ڈالی آنکھوں میں نا سرد پن تھا نا ہی نرمی 

 

صبغہ نے کچھ کہنے کو پگ کھولے کہ دروازے پر دستک ہوی اور کوی اندر آئ 

 

سامنے سٹائیلش سی لڑکی شرٹ اور پینٹ کے ساتھ کوٹ پہنے آستین بازوں پر چڑھائے بالوں کی ہونی کیے ہوے جو کافی لمبے تھے اور خوبصورت بھی 

 

میک اپ جو اس پر کافی ججچ رہا تھا وہ لڑکی ہاتھ میں ٹیب لیے نعمان کی جانب بڑھی اور اس نے ارے سے صبغہ کو اگنور کردیا اور اس لڑکی کی جانب متوجہ ہوتے بات سننے لگا جو اسکا شیڈیول تیار کرکے لائ تھی 

 

مگر اس نے سیج نظر بھی اسکی جانب دیکھا نہیں تھا وہ لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے ہوے تھا 

 

وہ لڑکی اپنا کام کرتے جیسے پیچھے ہوی صبغہ کو دیکھ کر نعمان کو سوالیہ دیکھا

 

سر یہ کیا نیو ورکر ہیں ؟ اس نے جیسے معلوم کرنا چاہا کیونکہ جب سے وہ آئ تھی اس نے صبغہ کو نہیں دیکھا تھا

 

میری پہلی سیکرٹری یہی تھی۔آج سے یہاں عام ایمپائر کی طرح کام کرے گی ۔۔۔ 

آپ ارینج کریں ان کی سیٹنگ ۔۔۔ 

 

اس نے ایک نظر اس لڑکی پر ڈالتے باقی کی بات صبغہ کو دیکھتے پوری کی 

 

جو غصے کی زیاتی سے سرخ ہو چکی تھی 

وہ کیسے اسے جاب سے نکال سکتا تھا اور پھر کوی اور لڑکی جو کہ خوبصورت بھی تھی اس کو سیکرٹری رکھ لیا 

 

کچھ دن پہلے جو زرا سی امید دل میں جاگی تھی جھاگ کی طرح بیٹھتی نظر آئ ۔۔۔۔

 

اس لڑکی نے سر اثبات میں ہلاتے ہاتھ بڑھا کر صبغہ سے سلام کرنا چاہا مگر رہ اسے اگنور کرتی نعمان کی سیٹ کی جانب بڑھی 

 

آپ ایسے کیسے مجھے جاب سے نکال سکتے ہیں ؟

اسکی دھڑم خیزی پر وہ بھنویں آچکا کر اسے دیکھنے لگا

 

میں آپ سے پوچھ رہی ہوں ! اس نے اب کی بار رعب سے کہا

 

تم میری ورکر تھی میری مرضی جب چاہے نکال دوں ۔۔۔۔

اس نے بھی ڈھیٹ بنتے کہا 

 

صبغہ نے کلس کر اسے دیکھا جب کہ وہ نئ سیکرٹری عجیب نظروں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی 

 

آپ جانتے تھے میں بیمار تھی ۔۔۔ اس نے جیسے جواز پیش کیا ۔۔

 

کیا مجھے کال کی ؟ مجھے آی میل کی کہ تمہیں چھٹیاں چاہیے ؟

وہ اب بھی سنجیدگی سے بولا 

 

صبغہ اسکی جانب زرا سا جھکی 

 

پھر بھی آپ مجھے ایسے نہیں نکال سکتے !

نکال سکتا ہوں ! وہ بھی ڈھیٹ بنتے بولا

 

دل سے نکال سکتے ہو؟ وہ اب کی بار سرگوشی کرتے بولی 

 

مگر وہ سکت ہو گیا۔۔۔۔ نظریں سیدھی اس پر جھکی صبغہ کی نظروں میں الجھی 

 

وہ لب کھولے کچھ کہنے کی رگوں دو کرتا رہ گیا مگر کہہ نا سکا

 

ناممکن ہے مسٹر نعمان شاہ آپ مجھے بھلے ہی جاب سے نکال دیں آفس سے نکال دیں مگر دل سے نہیں نکال پائیں گے !

وہ ایک ایسے پر عزم اور یقین بھرے لہجے میں بولی کہ وہ کچھ کہہ نا سکا

 

آخر کو تہجد میں مانگی گئ روز کی دعا یہی کہ آپ کے دل سے آپ مجھے چاہ کر بھی نکال نا سکیں ۔۔۔۔

 

وہ اب بھی سرگوشی کرتی بولی 

نعمان کے چہرے پر سایہ سا گزرا 

 

وہ لڑکی پاگل تھی یا اسے پاگل کرنے والی تھی ۔۔۔ 

صبغہ پیچھے ہوی 

 

مجھے بھیک میں صرف آپ کی محبت چاہیے نعمان شاہ ۔۔۔ نوکری نہیں ۔۔ 

میں آج ہی ریزائن کرتی ہوں اس سے پہلے کہ آپ مجھے ٹرمینیشن لیٹر دیں۔    

وہ کہتے دو قدم پیچھے ہوی ۔۔۔۔

 

اور آپ مس۔۔۔۔۔ 

ان سے دور رہنا ورنہ تُمہارے ان خوبصورت بالوں والے سر کو گنجا کر دوں گی ۔۔ سمجھیں ۔۔۔۔

وہ انگلی اٹھا کر وارن کرتی بولی پھر اس لڑکی کو ہکا بکا چھوڑے وی آفس سے نکل گئ 

 

جب کہ نعمان اب تک اسکی طلسم میں قید تھا جو اب جا کر ٹوٹا تھا 

 

گہرا سانس لے کر سامنے سوالیہ چہرے لیے کھڑی اپنی سیکرٹری کو دیکھا 

 

آپ جا سکتی ہیں! اس نے سنجیدگی سے کہا جس پر وہ جلدی سے سر ہلاتی باہر نکل گئ ۔۔۔۔

 

صبغہ شاہ میں تمہیں دل و دماغ سے نوچ پھینکوں گا ۔۔۔ 

وہ سر ہاتھوں میں لیے بڑبڑایا

 

🍁🍁🍁

 

دل و دماغ ایک عجیب سی جنگ لڑ رہا تھا کیا وہ ٹھیک ہے جو وہ کرنے جا رہی ہے ؟ مگر وہ کیا کرے بنا کسی رشتے کے بھی وہ یہاں رہ نہیں سکتی اور اپنے بھائ کی عزت کا مان بھی رکھنا تھا اور پھر یہ بات کہ بچپن سے وہ اسکی منگ ہے تو کچھ سوچ کر ہی اسکے ماں باپ نے اسکا ہاتھ اس شخص کو سونپا ہو گا 

 

وہ کافی پریشان سی ٹہل رہی تھی آگے کھائی اور پیچھے آگ ۔۔۔ 

وہ کرتی بھی تو کیا 

 

گہرا سانس لے کر وہ واشروم میں گئ ۔۔۔ 

اسوقت اسکے پاس جو کپڑے پہنے ہوے تھے اس کے علاؤہ کچھ نا تھا تو اچھے سے وضو کرتی وہ باہر نکلی 

تھوڑی سے مشقت کے بعد اسے اس کمرے میں ایک خوبصورت سرخ رنگ کی جائے نماز ملی ۔۔۔۔ 

 

وہ شکر کرتی تہجد پڑھنے لگی ۔۔۔ 

 

تجہھد ادا کرکے اسے اپنے اندر سکوں اترتا محسوس ہوا ۔۔۔۔

 

کل جھانگیر نے کہا تھا کہ وہ نکاح خواہ لائے گا مگر ماہی نے اسے کچھ وقت مانگتے انکار کیا 

 

اب اسے اپنے رب کے سوا کسی پر یقین نہیں تھا کہ اسکے لیے کوی بہترین فیصلہ کر سکتا ہے تو وہ اسکا رب ہے ۔۔۔۔

 

اس نے دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے ۔۔۔

حجاب کے حالے میں بت داغ ساف ستھرے رنگت بہت اور اوپر سے وضو کا پانی اس کے چہرے پر ٹھہرا ہوا تھا جو اس کے چہرے کو پر رونق بنا رہا تھا

 

دعا کے لیے ہاتھوں کو جوڑتے اس نے اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھا 

 

یا الرحمر راحمین! 

اس نے اپنے رب کو بڑی شدت سے پکارا 

میں نہین جانتی میری زندگی میں کیا ہونے والا اور جو ہونے والا ہے اسکا نتیجہ کیسا ہو گا 

 

مگر میں تجھ سے راہ راست کی طلبگار ہوں ۔۔۔ میں تجھ سے مدد مانگتی ہوں مجھے اس راستے کی جانب متوجہ فرما جو مجھے محبت نتائج دے 

 

میں تیری گناہگار بندی ہوں گے شک عزت دینے والا تو ہی ہے ۔۔۔ مجھے کسی کے سامنے زلیل و رسوا ہونے سر بچا لینا میرے مالک 

آج تک میری پردہ پوشی کرتا رہا ہے تو آج بھی کر دینا 

 

میں تجھ سے ایک نیک ہمسفر کی دعا کرتی ہوں مجھے نہیں معلوم جھانگیر میرے لیے کیسے یوں گے مگر میری دعا پر مجھے یقین ہے کہ اس در ست دعا رد نہیں ہوگی 

 

مجھے کامل یقین ہے اپنی دعا پر کہ اسے قبولیت عطا کرے گا 

 

وہ جیسے بھی ہیں اب ان کو میری خاطر بدل دے 

میرے کیے نرم فرما دے 

مجھے ان سے حلال رشتے میں باندھ کر انہیں ہر برائی سف محفوظ فرما دے 

ان کے گزشتہ گناہوں کو معاف کرکے ان کو اپنی ہدایت کی راہ پر لگا دے 

 

ان کو خود کو ثابت کرنے میں ان کی مدد فرما 

ان کی ماں اور بہن باپ سے ان کو ملوانے میں مجھے کامیاب کرنا 

 

یا اللہ میں اپنا ہر معملہ تجھ پر چھوڑتی ہوں بے شک تو میرے کیے بہترین کارساز ہے ۔۔۔ 

 

وہ بولتی گئ لفظوں میں کہیں ٹھہراؤ اتا تو کہیں لفظ لبوں سے نکلنے سے عاری تھی 

دعا کرتے کب اپنے رب کے سامنے وہ بے بس ہوتی رونے لگی اسے نہیں معلوم ہوا 

 

وہ سجدے میں گئ اور وہاں بھی روی اتنا کہ اپنے اندر کی ہر پریشانی کو وہ اب اپنے رب کے سپرد کر چکی تھی 

 

صبح جب وہ اٹھی تو پردے گرے ہوے تھے یعنی وہ اسے اٹھانے کے لیے نہیں آیا تھا

 

وہ اٹھی منہ دھو کر جیسے ہی باہر آئ 

وہ چھوٹا سا کیچن اس وقت بلکل صاف شفاف حالت میں موجود تھا اس نے اندر قدم رکھا ۔۔۔ مکمل بھرپور حالت میں اس نے طائرانہ نظر میں ہی بھانپ لیا تھا کہ چھوٹا سا گھر مگر بے تحاشہ خوبصورت گھر تھا 

 

وہ باہر نکلی 

 

اس نے سیڑھیوں کی جانب دیکھا شاید وہ ابھی اوپر سے نہیں آیا تھا وہ شیشے کے دروازے کو پار کرتی باہر لون میں آگئ ۔۔۔ 

صبحِ صبح ٹھنڈی تازہ ہوا اس کو بہت اچھی لگی ہر طرف ہریالی دیکھ اس کے دل کو سکون ملا 

 

وہ کافی دیر خاموشی سے جائزہ لیتی رہی ۔۔۔ اور پھر درخت کے نیچے رکھے ٹیبل اور کرسیوں میں سے ایک کرسی پر جا بیٹھی 

 

کچھ دیر کے بعد اس کچھ آہٹ محسوس ہوی 

 

وہ پلٹی تو اپنی طرف بلیک ٹراؤزر کے ساتھ بلیک کلر کی ویسٹ پہنے کسرتی بازوں سے پسینہ ٹپک رہا تھا 

وہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا 

 

وہ شاید جم کر رہا تھا مگر کہاں ؟ وہ کچھ سوچ میں پڑی مگر سوال نہیں کیا

 

اٹھ گئ تم ۔۔۔ بتاؤ ناشتے میں کیا لوگی ؟ 

وہ اس کو دیکھتے بولا 

ماہی اس کی حالت دیکھتے نظریں جھکا گئ جب کہ وہ اسکی جھکی نظریں دیکھنے کے لیے ایسی حالت میں پاس آیا تھا

وہ مبہم سا مسکرا دیا

 

کچھ بھی ۔۔۔ وہ آہستہ آواز میں بولی ۔۔۔ 

اوکے ۔۔۔ وہ  تنگ کیے بنا واپس پلٹا

 

کچھ دیر کے بعد ناشتہ تیار کرکے اسے بلانے گیا مگر اب وہ مکمل کورڈ تھا ۔۔۔ 

بلیک شرٹ اور پینٹ کے ساتھ اس نے گرے لیدر کی جیکٹ پہن رکھی تھی بالوں کو سیٹ کرکے ماتھے سے پیچھے پھینکا ہوا تھا مگر دو تین بالوں کی لٹیں ماتھے پر ر

گر رہی تھیں 

 

وہ ناشتہ کرنے کے دوران خاموش رہا ۔۔۔ ماہی کافی عجیب سا محسوس کر رہی تھی 

 

وہ باتیں سمیٹ کر اٹھا کر کیچن میں جانے لگا جب ماہی نے اسے آواز دی 

 

شاہ ۔۔۔ 

اہہہہہہ اور یہاں شاہ ہوا تباہ

فورا پلٹا

حکم سرکار ۔۔۔

وہ تعبیدار لہجے میں بولا 

ماہی جھنپ سی گئ 

 

آپ مجھ سے نکاح کریں گے ؟

اس نے کچھ جزبر ہوتے کہا 

 

میں مولوی پکڑ کر لایا ۔۔۔ وہ فورا بولا ۔۔۔ ماہی نے چونک کر اسے دیکھا جو اسے دیکھتے برتن کیچن میں رکھتے فون اٹھا کر باہر نکل گیا 

جیسے اب اسی انتظار میں تھا

 

یہ ویسے تو نہیں لگتے جیسے بھئیو اور حیات بھائ کہہ رہے تھے ۔۔ وہ کچھ سوچ میں بڑبڑای

 

پھر اللہ سے اپنے نصیب کے لیے دعا کرنے لگی 

 

🍁🍁

صائم شہریار اپنے کیبن میں بیٹھا کسی فائل پر جھکا ہوا تھا اسے آج کیس کے لیے کوٹ جانا تھا وہ آخری نظر اپنی پوری تیاری پر ڈالتے اٹھا ۔۔۔

اس کے انگ انگ میں ایسی یقین بھری چال تھی کہ وہ کچھ بھی ہو جائے کبھی ہار نہیں سکتا 

 

وہ کیس کو گھوما کر رکھ دیتا کہ آخر خود ہی مجرم اپنے منہ سے اعتراف کر لیتا تھا 

 

اور آج اسے ایک عورت کی طلاق کا قیس ملا تھا جو اسے پورا کرنا تھا 

اس نے کوشش کی تھی کہ وہ ان کی صلاح کروا دیتا مگر اس عورت نے جس طرح رو کر اپنی بے بسی اسکے سامنے ظاہر کی مزید اسے اس جھنڈ میں چھوڑنا اسے بھی ٹھیک نہیں لگا 

 

اس لیے وہ کیس لینے پر تیار ہو گیا تھا 

 

کچھ دیر میں وہ کوٹ جا چکا تھا۔۔۔۔۔ اس کے مخالف جو وکیل تھا وہ شاید نیا تھا اس لیے اس کے انداز سے جو سرشاری جھلک رہی تھی صائم اسے دیکھ کر مبہم سا مسکرا دیا 

 

اپنی کرسی سنبھالتے وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا 

جج کے آنے کا انتظار کیا 

 

کچھ دیر بعد وہ انتظار ختم ہوا اور وہ جج صاحب کے آنے کی اطلاع دی گئ 

 

کوٹ کی سنوائ شروع کی جائے ۔۔۔

جی جج صاحب آپ جانتے ہیں میاں بیوی میں بہت سے اختلاف ہوتے رہتے ہیں اب زرا زرا سی بات پر عورت طلاق کا مطالبہ کرے تو وہ بھی تو منظور نہیں کیا جا سکتا عورت تو ویسے بھی معصوم اور کم عقل ہوتی ہے 

 

دوسرے وکیل جس کا نام ابرار تھا اس نے اپنا کیس جڑ سے ہی مضبوط رکھنے کی کوشش کی تھی مگر انجان تھا کہ مقابل کون کھڑا ہے 

 

اس نے سنا تھا کہ جس کے ساتھ اس کا مقابلہ وہ مشہور وکیل ہے جس نے آج تک جس کیس میں ہاتھ ڈالا ہے اس کو جیت کر ہی رہا ہے 

 

کافی دلیلیں مزید دینے کے بعد وہ اپنی کرسی پر واپس جا بیٹھا تب اٹھا تھا صائم شہریار 

 

جج صاحب کیا آج بھی ہم فقیہ نوسی رواج کے ساتھ جی رہے ہیں کیا ہم نے جدیدیت کو سچ میں اپنایا ہے ؟

وہ سوالیہ ہوا جج صاحب خاموشی سے اسے دیکھنے لگے 

 

جج صاحب کیا عورت جو حق نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے ایک شخص کا انتخاب کر سکے 

اور اگر اس سے وہ حق چھین ہی لیا جائے تو کم سے کم اس کو اتنا تو حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنے حقوق لے سکے ۔۔۔۔۔

 

ان صاحب نے کہا ہے نا عورت کم عقل ہوتی ہے ۔۔۔ 

بلکل وہ نادان ہے اس کی تصدیق قرآن میں بھی ہوئ ہے 

مگر کیا اسکی نادانی اس کے لیے ساری زندگی کی ازیت بننی چاہیے ؟

 

جج صاحب عورت جتنی نازک کوی شہ نہیں ہے مگر وہ اس جیسی مضبوط شہ بھی موجود نہیں ہے 

 

ابرار نے اوبجیکشن کیا

 

دیکھیں ایڈوکیٹ صائم صاحب ایک ایسی شادی جس کے چلتے ہوے تقریباً بیس سال گزر چکے ہیں اب آکر طلاق مانگی جائے تو کیا عورت کی بیوقوفی کی دلیل کافی نہیں ہے ؟

صائم نے پلٹ کر اسکی جانب دیکھتے سر اثبات میں ہلایا 

 

آپ جانتے ہیں عورت کبھی طلاق کا مطالبہ یوں ہی نہیں کرتی اور پھر زندگی کے اتنے سال گزار کر ایک شخص کے ساتھ وہ طلاق مانگتی ہے تو بے وجہ ؟

 

کیا طلاق اتنا چھوٹا لفظ ہے ؟ 

آپ کے مطابق ایک عورت نے جس کے ساتھ زندگی کے بیس سال گزار دیے اس میں اس نے کیا اسکو اسکی غلطیوں پر موقع نہیں دیا ہو گا ؟

 

عورت اپنے گھر کو بچانے کے سو ہربے کرتی ہے اور جب وہ رکھ جاتی ٹوٹ جاتی ہے تب وہ علیحدگی چاہتی ہے 

 

پہلے ماں باپ کی عزت کا خوف پھر اولاد کے مستقبل کے چکر وہ خود کو کہیں کھو دیتی ہیں ۔۔۔ 

اور آپ کو لگتا ہے عورت بیوقوف ہے ۔۔۔۔۔

 

ابرار اسکی بات پر سر ہلاتا اپنی کرسی پر واپس بیٹھ گیا 

 

میری موکلہ نے طلاق کا مطالبہ جس کے لیے اس کے پیچھے کہیں وجوہات ہیں ۔۔۔

پہلی کہ ان کی زبردستی شادی ان کے ماں باپ نے اس شخص سے کروا دی 

 

ان کو مار پیٹ کر وہ ان سے ان کی جمع پونجی لے کر جوہ کھیلتا تھا 

اپنی بیوی کے ہوتے ہو وہ دوسری عورتوں کے ساتھ وقت گزارتا اپنی بیوی کا حق دوسری عورتوں پر نچھاور کرتا 

 

بیٹی کی جوہ میں کسی بڑی عمر کے شخص سے شادی کروا دی 

 

اور اب اس کو اپنے جسم تک بیچنے کے لیے کہتا 

اور اب آخری حد پار ہوتی کہ وہ اپنے لیے بول اٹھیں ۔۔ 

کیا وہ غلط ہیں ؟

 

جج صاحب اس عورت کو انصاف دلانے کے لیے پوری دنیا بھی اس کے قدموں میں رکھ دی جائے تو کوی فائدہ نہیں کیونکہ جس کی ساری زندگی اس شخص نے خراب کر رکھی تھی 

جس کے حوالے اسے کیا گیا تھا ۔۔۔ 

 

شوہر کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ بس اپنے حقوق لے اپنی بیوی سے 

اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ تین وقت کا کھانا وہ دے دیتا ہے بیوی کو

 

عورت کا سب سے بڑا حق اس شخص کی مخلصی محبت اور عقیدت ہوتی ہے جس عورت کو اپنے شوہر سے وہ نہیں مل پاتا دنیا کی باقی ساری آسائشیں اس کے قدموں میں ڈھیر کردیں کوی فایدہ نہیں 

 

اس کی باتوں میں وہ سحر تھا کہ وہاں موجود تمام لوگ قائل ہوے بنا نہیں رہ سکے ۔۔۔

اور ابرار صاحب نے مزید بہت دلیلیں دی مگر بے کار 

 

کیس کی سماعت آج کچھ دن بعد رکھی جائے گی  

اور رشیدہ بیگم کو مکمل طور پر اپنے شوہر عاصف سے طلاق کا ہے ۔۔۔ 

اگلی سنوائی میں عاصف نامی شخص رشیدہ کو طلاق دے کر ان کو آزاد کریں گے 

اور تین سال کی قید بھی باوجہ جوہ شراب اور زنا ۔۔۔ 

 

اور آج پھر کیس صائم شہریار نے جیت لیا تھا ۔۔۔۔۔وہ واپسی کے لیے پلٹا پھر سب لوگ وہاں سے اٹھتے چلے گئے وہ رکا اور چلتا ہوا

ابرار کے پاس آیا 

 

عورت کی عزت کرنا سیکھو ۔۔۔اسے بھری عدالت میں بیوقوف بتانے والے کیا تم نے ایک عورت کے پیٹ سے جنم نہیں لیا ؟

ابرار نے اسکی جانب طیش سے دیکھا 

 

عورت نازک بھی ہے اور مضبوط بھی ۔۔۔ نازک وہ اپنے من پسند شخص کے سامنے ہوتی ہے اور مضبوط وہ دنیا کے سامنے ۔۔۔۔ 

 

وہ کہتے وہاں سے پلٹا ابرار کی نظروں کی طپش وہ اپنی کمر پر اچھے سے محسوس کر رہا تھا 

 

🍁🍁🍁

Episode 29 

 

 بی جان اور فریال اس وقت لاونج میں بیٹھی ہوی تھیں تبھی صائم کی گاڑی حویلی کے پورچ میں آکر رکی 

شاہانہ چال چلتے وہ حویلی کے اندر داخل ہوا ۔۔۔ سامنے بڑی ماں اور بی جان کو دیکھ کر سلام کیا جس پر دونوں نے محبت سے جواب دیا 

 

ملازمہ پانی کا گلاس لے آی جسے تھام کر شکریہ کہتے وہ پانی پینے لگا

 

اور بتاؤ کیس کا کیا بنا ؟

فری نے پوچھا 

ارے طائ سائیں آپ جانتی ہیں کیس ایڈوکیٹ صائم شہریار کے ہاتھ آیا تھا تو کامیاب کیسے نا ہوتا 

 

وہ مسکرا کر بولا جس پر وہ دونوں مسکرا دیں 

مگر زندگی میں پہلی دفع طلاق کا کیس تھا ۔۔۔ تو کیسا ایکسپرینس رہا 

 

فری نے مزید بات بڑھائی 

 

ہمم۔۔۔۔ مجھے اچھا لگا کسی اور عورت کو اسکا حق دلوا کر پر برا بھی لگا کہ وہ اب اکیلی کیسے رہے گی ۔۔۔ اس لیے میں نے ان کو دارلامان بھیج دیا ہے ۔۔۔ان کو ہر مہینے خرچہ بھیج دوں گا 

 

اسکی بات سن کر جہاں فری پریشان ہوی وہیں اگلی بات سن کر سرشار ہو گئ 

 

مجھے فخر ہوتا ہے تم سب بچوں پر کہ تم لوگ دوسروں کی تکلیف کا احساس کرنا جانتے ہو ۔۔۔۔

 

ہاں بس آپ میری تکلیف کا احساس کر لیں میری دلہن لے آئیں کب تک کنوارہ رہوں گا !

 

وہ شوخ سا بولا جس پر اسی طرف آتی سائشہ کی ہنسی چھوٹی ۔۔۔۔

 

تمہارے لیے لڑکی پسند کر رکھی ہے بس اب بات بڑھاتے ہیں آگے ۔۔۔۔ 

بی جان پھر سے بولیں جس پر فری نے ان کو سوالیہ دیکھا

 

پری مجھے ہمیشہ کے لیے اس نکمے کے لیے پسند تھی 

 

وہ شہر کا معروف وکیل تھا مگر سچ کہتے ہیں گھر پر کسی کی عزت نہیں ہوتی پھر چاہے کوی بہت بڑا وکیل ہو یا ڈاکٹر ہو سردار ہو یا بزنس مین 

 

بی جان آپ کے زمانے کی عورت ہے وہ ؟ اس نے تڑپ کر کہا 

بدتمیز میری مرحومہ بہن کی پوتی ہے 

بہت خوبصورت تھی وہ ۔۔۔

 

تھی کا مطلب ؟ وہ پھر سے بولا 

کیونکہ اس کو اس کا باپ امریکہ لے گیا تھا اور ان کو یہاں آئے ہو بس تین ماہ ہوے ہیں ۔۔۔۔

تم اس سے بچپن میں ملتے تھے بلکہ ملتے کم کتے بلیوں کی طرح لڑتے زیادہ تھے 

 

صائم کو بی جان کی بات پر اچھنبا ہوا

پر مجھے تو کچھ یاد نہیں ۔۔۔ 

وہ بولا جس پر اسی طرف سکندر مسکرایا 

تمہیں یہ پتہ ہے کہ یہ تمہارا گھر ہے تمہارے نازک زہن پر اتنا بوجھ ہی کافی ہے ۔۔۔

اسکی بات پر سب کا قہقہہ گونجا 

 

واہ یار مطلب تھوڑی 

تھوڑی سی تو عزت کر لیں میری ۔۔۔ وہ دو  انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ بناتے ہوے بولا 

 

تم وہ ڑیزور نہیں کرتے اندر آتے حیات نے بھی حصہ ڈالا 

 

ہاں ہاں آپ سب تو بڑی توپ چیزیں ہیں ۔۔ خیر بی جان وہ لڑکی کون تھی نام کیا تھا ۔۔۔ اور سب بتائیں ہم لڑتے کیوں تھے ؟ 

وہ اب کی بار پھر بی جان کی جانب چہرہ کرتے بولا 

 

تم دونوں کی کتے بلیوں کی طرح لڑنے کی وجہ سے ہمیں پتہ نہیں چلتا تھا کہ آخر لڑ کس بات پر رہے ہو 

بی جان ہستے ہوے بولی 

 

بی جان اب تو ہ شہزادی بہت خوبصورت ہو گئ ہو گی ویسے ہی بچپن میں ہی اتنی پیاری کیوٹ سی ڈال تھی ۔۔۔ 

فری نے مسکرا کر کہا جس پر وہ بھی مسکرا دیں 

 

مگر صائم کی نظروں کے سامنے کالج میں جس لڑکی سے ٹکراؤ ہوا تھا اس کا چہرہ آنکھوں کے سامنے جھلکا

 

اور بدتمیز لڑکی کا رشتہ سوچ رکھا ہے میرے لیے میری طرف سے انکار ہے ۔۔۔۔وہ فورا بولا 

 

تمہارے تو باپ نے بھی ہاں کرنی ہے ۔۔۔ شہریار نے اسے دبتے ہوے کہا 

 

کیا ؟ سائشہ نے گھورا۔   جسپر وہ معزرت کرنے لگا 

 

نہیں میرا وہ مطلب بلکل نہیں تھا بیگم ۔۔ وہ کان پکڑ کر بولا سب مسکرا دیے ۔۔۔۔

 

صائم کی آنکھیں کسی کو مسلسل سوچ رہی تھیں ۔۔۔ 

کیا ہوا کیا سوچ رہے ہو ؟ حیات اس کے ساتھ جگہ بناتے بولا 

 

یار سر میں درد ہے لگتا ہے مجھے کسی کی نظر لگ گئ ہے یا ہو سکتا کسی نے جادو کروا دیا ہو ! 

وہ اتنی سنجیدگی سے بولا کہ پہلے تو حیات اس کو دیکھتا رہا پھر پوری بات سمجھ آنے پر اسکو مکا جڑتے قہقہ لگایا 

 

جادو تم پر کیا ہی کروائے گا کوی تم خود جنوں کے باپ ہو 

حیات ںے جوابا کہا 

باقی سب آپس میں باتیں کر رہے تھے 

 

ہاہا ابھی تو شدید کںوراہ ہوں میں باپ کیسے بن گیا میں 

وہ ہستے ہوے بولا ۔۔۔ حیات نے اسے پکڑ پر پیٹ ڈالا 

 

سب ان کو دیکھنے لگا 

زلیل شخص کی شادی کروائیں ورنہ ہم کنواروں کو یہ نوچ کھائے گا ۔۔۔حیات سب کو دیکھتے پا کر بولا 

 

سب کا مشترکہ قہقہ گونجا 

تبھی حیات کے نمبر پر ویڈیو کال آی ۔۔۔ اس نے مسکرا کر کال رسیو کی 

 

کیسے ہیں بھائ ؟ نعمان نے نرم محبت بھرے لہجے میں کہا 

میں ٹھیک ہوں میرا بچہ تم بتاو کیسا جا رہا ہے آفس ۔۔۔ 

 

وہ بھی ٹھیک ۔۔۔ میں نے سنا ہے ڈاکٹر صاحب باہر جا رہے ہیں کچھ عرصے کے لیے ۔۔۔۔

اس نے دائم کا نام لینے کے بجائے کہا 

 

ہاں اور یہاں وکیل صاحب کو اپنی شادی کی فکر ستا رہی ہے ۔۔۔ حیات نے ہستے ہو کہا جس پر وہ بھی ہلکا سا مسکرا دیا 

 

فون دیں مجھے ۔۔۔ صائم کو ساتھ بیٹھے بیٹھے کجھلی ہوی ۔۔ اس نے حیات سے فون مانگا 

جس نے فون دے دیا جانتا تھا شرافت سے دے ہی دے ورنہ اس آفت نے کونسا بڑے ہونے کا لحاظ کرنا ہے 

 

کیسا ہے جانی ۔۔۔ 

نعمان کو سخت چڑ تھی ایسے شوخ لہجے سے 

ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں ؟ اس نے مروتاً جواب دیا 

 

یار روٹھی بیوی کی طرح سڑی ہوی شکل لے کے کیوں بات کرتے ہو تم ۔۔۔۔

صائم نے اس کے انداز پر اسے ٹوکا جس پر وہ مسکرا دیا 

 

کچھ دیر مزید باتوں کے بعد فون بند کردیا ۔۔۔ 

 

🍁🍁🍁

آج چھوٹی سی گیڈرنگ تھی وہ دو سال کے لیے باہر جا رہا تھا اس لیے سب کو اکھٹے کھانے کی دعوت دی گئ تھی جس میں زیادہ لوگ نہیں بس نعمان کی ماں مقدس اور باپ شایان نے شرکت کی 

دوسری طرف سعد اور فاطمہ کے ساتھ صبغہ شاہ نے شرکت کی 

شاہ حویلی سے بھی جویریہ شاہ اور زکریہ شاہ کے ساتھ ان کی لاڈلیوں نے شرکت کی 

 

اور ایک نئ فیمیلی نے بھی شرکت کرنی تھی ۔۔۔ 

مگر کچھ کام کی وجہ سے وہاں سے بس ایک انکل اور آنٹی ہی آسکیں جو بی جان کے بھانجے اور ان کی بیگم تھیں ۔۔۔۔

 

حوریہ اور پری ماہی کو مس کر رہی تھیں مگر کچھ کہہ نہیں رہی تھیں وہ خوبصورت ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہتی تھیں 

 

پری تو کبھی آنے کا نا کہتی مگر جویریہ شاہ کی سختی پر آئ تھی اس وقت بھی وہ سب سے بیگانہ ہوی بیٹھی تھی کسی کی نظریں مسلسل اسکے چہرے پر تھیں مگر اس نے فل اگنور کیا

 

فریال اور مقدس کے ہمراہ سائشہ ملازموں کے ساتھ کھانے بنوا رہی تھیں

نعمان اور حیات کے ساتھ دائم اور صائم نے اپنی بیٹھک بنا رکھی تھی 

 

سب اپنی باتوں میں مصروف تھے ہر کسی نے ماہی کو بہت مس کیا مگر وہ لوگ خاموش رہے۔ ۔۔۔

 

سب نے خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا ۔۔۔۔

اور کھانا کھا کر سب چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے 

 

صبغہ نے ایک نظر بھی نعمان کی جانب نہیں دیکھا تھا جب کہ اس بات کو نعمان بھی زیادہ سر پر سوار کیے بنا باتوں میں مصروف تھا

 

چلو یار کچھ دیر ہم باہر چلتے ہیں ۔۔۔ صائم نے کہا جس پر دائم صائم حوریہ پریسشے 

حیات اور نعمان تیار ہو گئے جبکہ صبغہ نے جانے سے انکار کر دیا اور اوپر کمرے میں ریسٹ کا کہہ کر چلی گئ 

 

نعمان باہر آیا جہاں حور اور پری کا چہرہ اترا ہوا تھا 

کیا ہوا بھابھی؟ اس نے چھوٹی سی لڑکی کو بھابھی کہا تو دل بے ساختہ مسکرا دیا ۔۔۔

 

حور نے شرم سے نظریں جھکا لیں ۔۔

وہ صبغہ آپی نہیں آرہیں ہیں ناں ۔۔۔ 

اس کی بات پر ںعمان نے سر اثبات میں ہلایا 

 

سب گاڑیوں میں بیٹھ گئے جب نعمان اپنا فون لینے واپس اندر حویلی کے گیا

 

🍁🍁

اٹھو اوپر کیوں یہ ڑرامے کر رہی ہو ؟ 

وہ دھڑام سے دروازہ کھولے اندر آیا جہاں وہ بیڈ پر اڑھی ترچھی لیٹی ہوی تھی جلدی سے ٹھیک ہو کر بیٹھی 

 

اب آپ میرے بوس نہیں ہیں اس لیے حکم مت چلائیں 

وہ بھی درشت سی بولی 

تمہاری ایسی کی تیسی اٹھو بھابھی اداس ہو گئ ہیں تمہارے نا جانے پر 

 

وہ سختی سے بولا اور بیڈ کی جانب بڑھا 

 

واہ تو آپ کو بھی فرق پڑتا کسی کے اداس ہونے پر ۔۔۔ صبغہ طنزیہ مسکرای 

 

وہ میرے بھائ کی بیوی ہے اس بھائ کی بیوی جس میں میری جان بستی ہے 

نعمان نے اسے مزید کہا اور ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ سے اتارا

 

یہ شوہروں کی طرح کیوں حکم چلا رہے ہو ؟

وہ اسے گھورتے ہوے بولی 

جب کہ اسکی بات پر وہ اسے دیکھ ے لگا ۔۔۔ پھر چہرہ موڑ گیا 

خوبصورت مسکراہٹ نے اس کے چہرے پر بسیرا کیا 

اسکا شوہر کہنا اسے اچھا لگا تھا مگر اگلے ہی پل سایہ سا لہرایا تھا اس کے چہرے پر ایک دم چہرے قرب کی ضد میں آگیا 

 

وہ سر جھٹکتا جانے لگا 

نیچے انتظار کر رہا ہوں دو منٹ میں نیچے آو ۔۔۔ 

وہ بنا پلٹے سنجیدگی سے کہتا نکل گیا 

 

اففف سڑیل سائیں ۔۔۔ بٹ پھر بھی آی لو یو شاہ ۔۔۔

وہ کہتے مسکرائی پھر جلدی سے جوتے پہنتی ۔۔۔ اپنی حالت ٹھیک کرتی باہر نکلی

وہ تو بس اسے زچ کر رہی تھی ورنہ گھومنے پھرنے کی سب سے زیادہ شوقین وہی تھی 

 

وہ جلدی سے کمرے سے باہر نکلی ۔۔نیچے  جہاں سب بڑے بیٹھے باتیں کر رہے تھے 

جب فری نے اس کو پکارا 

 

بیٹا کہاں جا رہی ہو وہ سب تو جا چکے ہیں ۔۔۔۔ 

نہیں وہ میرا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔ وہ جواب دیتے باہر بھاگی مگر وہاں تو واقعی ہی کوی نہیں تھا 

گاڑیاں بھی نکل چکی تھیں ۔۔۔

 

تو کیا وہ اسے پھر اسکی نظروں میں شرمندہ کر گیا تھا کہ وہ اس کو اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ اسے اپنے ساتھ لے جاتا وہ خاموشی سے واپس پلٹنے لگی جب کسی کے سیںے سے

 

 ٹکرائ

چوڑے سیںے سے ٹکرانے پر وہ ڈگمگائ مگر پھر سنبھل گئ 

 

کدھر جا رہی ہو؟ وہ اسے واپس جاتے دیکھ بولا تھا 

 

مجھے لگا آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے ۔۔۔ 

وہ اس وقت آنکھوں میں جھلملاتے آنسو بامشکل پیچھے دھکیلتی بولی 

 

جب کہ نعمان شاہ نے اسکی آنکھوں میں وہ دیے کی طرح چمکتے آنسو دیکھ کر لب بھینچ لیے 

 

کوی جواب دیے بنا وہ آگے بڑھا وہ بھی اسکی تقلید میں چلنے لگی 

 

گاڑی گیٹ کے باہر کھڑی تھی اس لیے وہ لوگ گیٹ تک کا راستہ پیدل تہہ کرتے آئے تھے 

وہ آگے چل رہا تھا جب کہ وہ اس کے پیچھے بلکل اسی جگہ قدم رکھ رہی تھی جہاں وہ رکھ کر آگے بڑھتا تھا 

 

نعمان نے سائے میں اسکی حرکت دیکھی تو آنکھیں چمکیں 

 

ایسا نہیں ہے کہ مرد کی محبت سے عورت ہی بس نکھرتی ہے اگر عورت عشق کرتی ہے تو مرد کا سیروں خون اسکی محبت پر بڑھتا ہے 

 

مگر ایک سایہ جو شاید کبھی اسکا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا وہ قرب سے آنکھیں بھینچ کر کھولتا خود پر ضبط کرنے لگا 

 

گاڑی کا دروازہ کھولے اسکے لیے کھڑا ہوا صبغہ مسکرا کر  بیٹھ گئ جب وہ گھوم کر دوسری طرف آیا۔اور فرنٹ سیٹ سنھبھالتے گاڑی سٹارٹ کی اور فراٹے سے بھگا کر لے گیا 

 

🍁🍁🍁

 

نکاح اتنی خاموشی سے ہوا تھا وہ بلکل چپ سادھے اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی 

وہ پتہ نہیں کس گہری سوچ میں تھی جب اس کو پتہ ہی نہیں چلا کوی اسے بہت محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔

وہ اس وقت درخت کے نیچے رکھی کرسی پر بیٹھی تھی 

 

جھانگیر اس کے لیے کچھ شاپنگ کرنے گیا تھا ۔۔۔ تاکہ وہ اسکی ضرورت کی چیزیں لے آئے 

 

جھانگیر نے کافی دفع ماہی کو ساتھ چلنے کا کہا مگر وہ ابھی اس پر اس قدر اعتبار نہیں کر پا رہی تھی اس لیے وہ گھبرا کر انکار کر گئ 

مگر وہ بھول رہی تھی کہ وہ اس کے نکاح میں ہے اب 

اور نکاح میں جب قبول کیا ہے تو اس سے بڑھ کر کونسا یقین رہتا ہے ۔۔۔۔

 

وہ ابھی بھی سوچ میں مبتلا تھی کہ اچانک کسی کی زور دار چیخ پر چونکی 

 

اس نے جیسے ہی آواز کے تعاقب میں نظریں اٹھایں ۔۔۔ 

اس کے پیچھے کوی شخص اپنے گھر کے اس حصے میں آئے ہوے کافی دیر سے ماہی کے نازک معصوم چہرے کو نیہار رہا تھا ۔۔۔۔

 

جب کہ جھانگیر کے ہاتھ میں جو شاپنگ بیگ تھے وہ زمین پر گرے پڑے تھے وہ ایک اور زور دار گھونسا اسکے چہرے پر جڑ گیا 

 

وہ شخص اس ڈیمن کے ہاتھ سے مار کھاتا کچھ ہی پلوں میں آدھ مودہ ہو گیا تھا 

 

اس نے ترکش میں اس شخص کو ناجانے کیا چِلاتے ہوے کہا تھا 

ماہی دم سادھے سب کچھ دیکھ رہی تھی گھبرا کر اس سے کرسی سے اٹھنے بھی نہیں ہو رہا تھا 

 

اس شخص کی دھلائی کرتا اسے پیچھے پھینکتا وہ اب ماہی کی جانب بڑھا 

 

اس کے جیل سے سیٹ ہوے بال اس وقت بکھر ماتھے پر گرے ہوے تھے چہرہ بھی سرخ ہو رہا تھا اور آنکھیں سخت سرد تھیں ۔۔۔

 

وہ شاپنگ بیگز پر سے پھلانگ کر ماہی کے پاس آیا 

 

ماہی کو اس شخص سے عجیب خوف سا محسوس ہوا 

وہ جھٹ سے آنکھیں بند کر گئ ۔۔۔ 

جھانگیر اس کے بلکل سامنے آکر کھڑا ہوا اسکی آنکھیں بند کرنے والی حرکت دیکھ چکا تھا 

وہ کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا پھر جھک کر اس کے ماتھے پر لب رکھے 

 

ماہی کی سانس تک رک گئ تھی ۔۔۔ 

ماہی نے بامشکل آنکھیں کھولیں تو اسے اپنی طرف جھکا ہوا جھانگیر نظر آیا 

 

سانس لو ۔۔۔ وہ یک ٹک اسے دیکھتے بولا 

ماہی نے سانس نہیں کھینچی 

 

میں نے کہا میرا میٹھا سائیں سانس لو ۔۔۔ وہ اب کی بار اسکی گال کو نرمی سے چھوتے ہوے بولا 

 

مم میری غلطی نہیں تھی۔۔۔۔ وہ سمجھ گئ تھی ضرور وہ شخص اسے دیکھ رہا ہو گا تبھی اس جلاد نے اس کو پیٹا تھا 

 

عورت کی دو نہیں چار آنکھیں ہوتی ہیں ۔۔۔ آنکھیں کھول کر بیٹھا کرو ۔۔۔۔

اب کی بار وہ نرمی کے بجائے تھوڑا سرد ہوا

 

مجھے ہر چیز منظور ہے مگر کوی تمہیں ان نظروں سے دیکھے میں اسے اندھا کر دوں گا ۔۔۔ وہ اب کی بار بولا اسکی گرم بھاری سانسسیں

ماہی کے چہرے پر پڑ رہی تھی ماہی نے گہری سانس لی مگر بولی کچھ نہیں ۔۔۔ 

ڑری سہمی ہوئی تھی ۔۔۔۔

 

وہ  کچھ دیر اسکو یوں دیکھتا رہا اگلے ہی پل اس کو اپنی گود میں اٹھا لیا 

شاہ ۔۔ وہ چلا اٹھی تھی 

 

انہہہہ مجھے پتہ تھا کچھ دیر اور کھڑی ہوتی تو تم نے یہاں ہی گر جانا تھا وہ نارمل لہجے میں کہتے اسے اٹھائے گھر کے اندر کی جانب بڑھا 

 

مم میں چل سکتی ہوں اتاریں مجھے 

 

ارے جم  کرنے کا کیا فائدہ کے آدھا کلو کی بیوی نا اٹھا سکوں وہ مسکرا کر بولا

 

جب کہ ماہی آدھا کلو کی بیوی پر اٹکی 

کیا ؟ میں آدھا کلو کی ہوں وہ کمزور تھی مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس کی کمزور جان کو آدھا کلو کے وزن سے تول لیا جائے 

 

ہاں بلکل تبھی تو میں نے اٹھا لیا ۔۔۔وہ اسے باتوں میں لگاے اندر داخل ہو چکا تھا مگر وہ سب کچھ بھولے بس اس کی باتوں پر سرخ ہو رہی تھی

 

ہاں تو میں آدھا کلو کی ہوں تو آپ بیس من کے ہیں ۔۔ وہ اسے گھورتے جوابا بولی مگر صدمہ تھا کہ وہ اتنی پتلی بھی نہیں تھی 

 

ہاہاہا ۔۔۔ جھانگیر اسکی جوابی کاروائی پر ہسنے لگا 

 

دانت کیوں نکال رہے ہیں ؟ وہ اسے لیے کمرے میں داخل ہو چکا تھا اور اسے بیڈ پر اتارنے لگا جب وہ بولی 

 

میں نے نیو ٹوٹ پیسٹ یوز کیا ہے سوچا چیک کروں دانتوں کی چمک 

وہ اسے دیکھتے بولا اور اسے بیڈ پر اتارا 

 

آپ ۔۔۔ ابھی وہ کچھ کہتی جب وہ پلٹا 

میرا میٹھا ماہی تم یہاں بیٹھو میں بیگز کے کر آتا ہوں 

مجھ غریب شخص نے آج اپنی جمع پونجی میں سے تمہارے لیے شاپنگ کی ہے میں وہ سب ضائع نہیں کر سکتا ۔۔۔ 

وہ کہتے مسکرا کر باہر نکلا 

 

جب کہ ماہی اس کی باتوں پر ابھی تک سرخ ہو رہی تھی 

 

جلدی سے بیڈ سے اتر کر وہ سامنے دیورا گیر شیشے کی طرف بڑھی 

اور اس میں آگے پیچھے سے خود کو دیکھنے لگی 

کیا میں سچ میں آدھا کلو کی ہوں وہ بڑبڑای 

 

جب کہ باہر سے اندر داخل ہوتے جھانگیر کی مسکراہٹ گہری ہوی 

 

میری جھلی ماہی ۔۔وہ مسکرا کر بڑبڑایا 

 

🍁🍁🍁🍁

 

وہ لوگ اسوقت آئسکریم پالر کے سامنے گاڑی سے اترے 

حور اور پری اسوقت شوخی بھرے لہجے والے صائم کے ساتھ تھیں جو ان کو پورے راستے ہساتے ہوے لایا تھا

حیات اور دائم ایک گاڑی میں تھے جب کہ ںعمان اور صبغہ ابھی نہیں پہنچے تھے 

 

حور گاڑی سے اتر کر دوسری طرف جانے لگی جب حیات نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس کیا

 

یہ تم مجھ سے بھاگ کیوں رہی ہو۔؟ وہ دعوت پر آئ ہوی تھی مگر مجال ہے ایک نظر اس غریب اپنے دیوانے شوہر پر ڈالی ہو 

 

حور نے گھبرا کر آگے پیچھے دیکھا مگر حیرت تو تب ہوی جب اب  اب ان کے گرد گھیرا بنائے کھڑے تھے 

پیٹھ ان کی جانب کیے وہ لوگ گول دائرے کی شکل میں کھڑے تھے

 

وہ میرے بھائ ہیں جانتے ہیں مجھے پرائیویسی کیسے دینی ہے ۔۔۔ وہ مسکرا کر اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے بولا

 

کیا کر رہے ہیں ہاتھ چھوڑیں 

! وہ گھبرا کر بولی اور ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی 

 

انہہہہ ۔۔۔ مجھے میری بیوی نے ایک نظر تک نہیں دیکھا کیا میں اتنا برا لگ رہا ہوں؟

وہ خود پر نظر گھماتے بولا 

 

نہیں تو ۔۔۔ وہ جوابا بولی 

تو پھر ؟ 

کیوں نہیں دیکھ رہی مجھے ؟

مجھے شرم آتی ہے !

کس بات پر شرم ؟

ہمارے نکاح کے بعد سے آتی ہے !

اور کیوں آتی ہے ؟

بس آتی ہے !

وجہ بھی تو ہو کوی ؟

نہیں ہے !

پھر ؟

آپ کیا سننا چاہتے ہیں ؟ اب کی بار وہ چڑ کھاتے بولی 

 

شرم سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا

 

میں چاہتا ہوں کہ تم کہو جب آپ مجھے دیکھتے ہیں میرا دل زور سے دھڑکتا ہے 

میرے دل کی دھڑکنیں مجھے اپنے ہاتھ کی ہتھیلیوں میں بجتی محسوس ہوتی ہیں ۔۔۔ 

آپ کی نظروں سے شرم سی آتی ہے بھلے آپ کچھ کہیں نہیں مگر دل کی حالت بنا کچھ کہے سنے ہی خراب ہونے لگتی ہے 

 

وہ اسے دیکھتے بولا

 

میں یہ سب نہیں کہوں گی !

کیوں ؟

مجھے ایسا محسوس نہیں ہوتا !

واقعی میں ؟

جی !

ہممم ۔۔۔۔

کیا ہممم ۔۔۔ ؟ وہ سوالیہ ہوی 

مجھے محسوس ہوتا ہے یہ سب ۔۔۔ وہ اتنی دھیمی آواز میں بولا کہ وہ بے ساختہ اسے دیکھے گئ۔  ۔ 

 

پھر نا جانے کیا ہوا وہ نظریں چرانے لگی 

اس کے کانوں کی لوں تک سرخ ہو گئ 

گال پہلے ہی گلابی تھے اب مزید ہو رہے تھے 

 

ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں الجھاتی وہ عجیب سی کیفیت خود پر طاری ہوتے محسوس کر رہی تھی 

 

محبوب مرد کے سامنے عورت کی حیا سے ٹمٹماتی گالیں مرد کو اس عورت سے عشق کروا دیتی ہیں ۔۔۔ وہ اس کی جانب جھکے ہوے بولا 

وہ نظریں نہیں اٹھا پائ تھی 

 

👀❤️🫀🍁

وہ سب آئس کریم کھا رہے تھے دائم نے کوشش کی کہ وہ پری سے بات کرے مگر وہ اس قدر غصہ تھی کہ اسے قریب پھٹکنے بھی نہیں دے رہی تھی 

 

وہ کوشش کرتا رہا آخر میں وہ بھی پیچھے ہو گیا 

اسکی ناراضگی برداشت تھی مگر اپنے کیثے نفرت نہیں ۔۔۔ 

مزے سے آئسکریم کھا کر اب ان تینوں لڑکیوں نے انہیں کچھ دیر واک کا کہا 

شہر میں  سڑک پر اس وقت وہاں لگے اونچے نسب ہوے بلبوں کی روشنی سے جگمگا رہی تھی 

وہ لوگ گاڑیاں ایک طرف پارک کرتے ان کے ساتھ چلنے لگے 

حوریہ ابھی تک اپنی س

آئسکریم ختم نہیں کر پائ تھی اسلیے وہ ساتھ چلتے چلتے کھا رہی تھی ۔۔۔ 

حیات نے اس کے پاس سے پری اور صبغہ بڑے طریقے سے پیچھے کرتے اس کے ساتھ چلنے لگا 

 

وہ جو جوش سے وہاں پر جاتے ہوے جوکر کو دیکھ کر اپنے ساتھ چلتی پری کو دکھانے لگی تھی اپنے ساتھ حیات کو خاموشی سے چلتے دیکھ اس نے چونک کر اسے دیکھا 

موسم اس قدر سہانہ تھا 

اس کے کندھے پر ڈھلکی ہوی شال اور سر پر رکھا دپٹا اس سے نکلتے آوارہ لٹوں نے ہوا کے جوش سے اڑنے پر پرے مارے ہوے تھے 

 

وہ موٹی موٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی 

آئسکریم کھانے کی وجہ سے اس کی لبوں پر ابھی بھی آئسکریم لگی ہوی تھی 

حیات اس کے ساتھ سفید کڑک دار سوٹ پہنے پاؤں میں بھاری جوتے اڑیسے 

بالوں کو جیل سے سیٹ کیے ہوے تھا جو ہوا کی وجہ سے اس کے بال بھی کچھ ماتھے پر بکھرے ہوے تھے 

 

اس کی ہری آنکھیں اس وقت نائٹ بلب کی روشنی میں بھی چمک کر ایک خوبصورت منظر پیش کر رہی تھیں ۔۔۔۔

حوریہ نے بنا پلکیں جپکائے اسے دیکھا چند لمحے وہ اس کو دیکھتی کھو سی گئ تھی 

وہ سچ میں حسن کا مجسمہ تھا اسے تو کوی بھی لڑکی چاہ سکتی تھی پھر وہ کیوں بچپن سے اس کے پیچھے پاگل تھا 

 

تمہیں دیکھ کر لگتا ہے تم کوی معجزہ ہو ۔۔۔ وہ اسے دیکھتے دھیمی میٹھی آواز میں بولا 

حور طلسم سے باہر نکلی 

 

مم مجھے ایسا کچھ نہیں لگتا۔۔ وہ جلدی سے بولتی آگے پیچھے دیکھنے لگی 

سوچ لو ہو سکتا ہے تم سارے اظہار مجھ سے کسی ایک روز ہی کردو 

ایسا نا ہو خوشی سے میری روح ہی پرواز کر جائے ۔۔ وہ مسکراہٹ سجائے بولا 

 

وہ اسکے سامنے نرم مزاج میٹھا لہجہ لیے بولتا تھا 

 

حور نے آگے پیچھے دیکھتے اسکی بات سنی تھی مگر ان سنی کردی 

 

پیچھے صائم اپنے فون پر آی ہوی کال پر کسی سے کچھ ڈسکس کر رہا تھا 

 

صبغہ اور پری اپنی باتوں میں مشغول تھیں ۔۔ ہوا سے دونوں کے چہرے پر بال اڑ کر اڑ کر آتے تو کبھی پیچھے ہو جاتے

 

رات کے اس پہر وہ واک کرتے وہ لوگ کافی فریش ہو چکی تھیں ۔۔۔ 

پرسکون سڑک پر عاشقوں کی لائن لگی تھی

 

تبھی صبغہ کو نعمان نے آواز دی 

وہ فورا پلٹی جب وہ اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کر رہا تھا وہ بنا منٹ لگائے فورا اس کے پاس پہنچی 

 

صبغہ کی اتنی پھرتی دیکھ کر نعمان گہرا سانس لے کر رہ گیا 

اتنی تیزی سے چلنے کی کیا ضرورت تھی گر جاتی تو تمہیں چوٹ لگ جاتے ۔۔۔

 

وہ اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگی تھی جب وہ بولا تو تھم سی گی اسکے رکنے پر وہ بھی رک کر اسے دیکھنے لگا 

گوری رنگت پر گولڈن کلر کہ روشنی دمکتی اس کے چہرے کو بھی مزید روشن کر رہی تھی

 

تمہیں میری فکر ہے ؟ وہ اس کو دیکھتے بولی تھی 

نہیں تمہارے اس لنگور کی ۔۔۔ تمہاری شادی کی تیاریاں شروع کرنے کی بات کر رہی تھیں آج فاطمہ آنٹی 

وہ اس وقت بنا کوی سختی کیے سرد پن لیے نارمل لہجے میں بولا 

باقی سب کو کافی آگے جاتے دیکھ وہ پھر سے چلنے لگا 

 

صبغہ کے چہرے پر سایہ سا گزرا 

تم سچ میں مجھ سے شادی نہیں کرو گے ؟ میرے عشق کو اپنے لیے محسوس کرکے بھی ۔۔۔۔

وہ اسکے ساتھ قدم ملا کر چلتے ہوے اسے دیکھتے ہوے بولی 

 

جس نے اسکی جانب نہیں دیکھا 

تم اچھی لگو گی دلہن بن کر ۔۔۔ وہ زمین کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔ وہ چہرے پر کمال ضبط رکھتا تھا اپنے تاثرات اور جزبات چھپانا جانتا تھا 

 

صبغہ کی آنکھوں میں موتی سے چمکنے لگے 

پر میں تمہارے علاؤہ کسی کی دلہن نہیں بن سکتی ہاں ایک میت ضرور ہوں گی ایک زندہ لاش 

جس کا دل مار دیا گیا ہو اس کو کوی خوشی محسوس نہیں ہوتی 

 

وہ اس کے چہرے کو نظروں میں لیے بولی 

 

وہ سنبھال لے گا تمہیں ۔۔ وہ بنا اسے دیکھے کچھ وقت خاموش رہنے کے بعد بولا تھا 

 

تبھی اچانک پتھر سے ٹکراؤ سے صبغہ گرنے والی تھی تبھی بروقت اس کو بازو سے تھام کر اپنی جانب  کھینچتے اسے گرنے سے بچایا تھا شاہ نے 

 

انہہہہ ۔۔۔ تمہارے علاؤہ اس دیوانی کو کوی نہیں سنھبھال سکتا ۔۔ وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑواتی اپنے چہرے سے  آنسو صاف کرتے بے دردی سے آنکھیں رگڑتی وہ لمبے لمبے قدم بھرتی پری کے پاس چلی گئ جو کچھ قدموں کی دوری پر ہی آگے چل رہی تھی 

 

اہہہ ۔۔۔ اور کتنی آزمائش باقی ہے ؟

وہ آسمان کی جانب چہرہ کرتے بڑبڑایا 

 

میری آزمائش میرا عشق ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ زیر لب بڑبڑایا پھر اپنی طرف آتے دائم کو دیکھ کر خود کو کمپوز کر گیا 

 

پری ۔۔ صبغہ کو نعمان کی جانب جاتے دیکھ وہ پری کے پاس آیا ۔۔۔ 

جو اس کی آواز پر رکی نہیں تھی 

 

تم ایسے بیہو کیوں کر رہی ہو۔۔۔ 

دائم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب متوجہ کرتے کہا 

پری نے ہاتھ نہیں چھڑوایا تھا مگر تاثرات اس وقت غصیلے تھے 

 

دیکھو ڈاکٹر صاحب میری محبت میرے لیے امتحان بن گئ ہے 

جو شخص مجھے میرے اپنوں کے سامنے شرمندہ کر رہا ہے اسی سے عشق کرتی ہوں میں اور دیکھو وہ شخص مجھ پر حق بھی رکھتا ہے 

وہ اس کےہاتھ میں اپنا گورا ہاتھ دیکھتے بولی تھی 

 

دائم نے گہری سانس لی 

کیا مجھے تم کچھ کہنے کا موقع دو گی ؟

نہیں !

پاگل ہو ؟

ہاں ہوں!

میں جا رہا ہوں !

جانتی ہوں !

مس کرو گی ؟

نہیں 

میں کروں گا !

فرق نہیں پڑتا !

وہ دو بدو ایک دوسرے کو جواب دے رہے تھے 

 

کیا سچ میں فرق نہیں پڑتا میرے ہونے نا ہونے سے ؟ اب کی بار دائم کوی زہریلہ جملہ نہیں سننا چاہتا تھا 

 

ہاں تم میری زندگی میں خسارے کی طرح ہو ۔۔۔ جسے اپنے لیے میں نے خود چنا ہے اور انجام رسوائ اور تکلیف کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔ 

پری اس کو خنجر کی طرح الفاظ چوبھاتے بنا پلٹ کر اسکی آنکھوں میں آئے آنسو دیکھے آگے بڑھ گئ 

 

دائم کی آنکھوں سے ایک باغی آنسو بہہ کر اسکی گال بھگو گیا 

 

ظالم عشق ہے میرا یا ظالم معشوق ہے میرا 

پر قبول ہے مجھے دونوں کے اس پر حق ہے میرا 

 

وہ کہتے پیچھے نعمان کی جانب بڑھ گیا 

 

🍁🍁🍁

Episode 30 

 

عشق گیرِیاں 

 

‏کبھی کبھی 

محسوس ہوتا ہے

لفظ بھی 

لمــس رکھتےہیں 

کوئی بات پڑھ کر 

مُسکرادینا

اور کسی 

تحریر پر آنکھیں نم ہوجانا

کسی بات پہ دل کا دھڑکنا

اسی بات کی دلیل ہے 

ہے نا….

لفظ بھی لمس رکھتے ہیں!۔

 

سب رات گئے واپس آئے تھے اس وقت تک سب بڑے ان سب کے آنے کا انتظار کر رہے تھے 

کچھ چہروں پر عشق کا درد تھا تو کوی چہرہ عاشق کی عاشقی پر دمک اٹھا تھا 

 

سب کے سونے کا انتظام ہو چکا تھا اسلیے سب سونے کے لیے چلے گئے ۔۔۔ 

 

حوریہ کو تو نیند نے اپنے غلبے میں لے رکھا تھا لحاظہ وہ اور پری واپسی پر کافی ضد کرنے لگی کہ ان کو شاہ حویلی جانا ہے مگر پھر صبغہ کا خیال کرتی وہ لوگ سکندر حویلی واپس آگئے 

 

صبغہ اور حور ایک کمرے میں سوئی تھیں ۔۔۔ 

جب کہ پری الگ کمرے میں تھی 

 باقی تمام لڑکے اپنے اپنے کمروں میں جا کر سو گئے تھے 

 

نعمان کو نیند نہیں آرہی تھی اسے اپنے شہر والے گھر کے علاؤہ کہیں سکون نہیں آتا تھا اس لیے وہ کمرے سے نکل کر نیچے لون میں ٹہلنے لگا 

ہلکا سا میوزک اس نے اپنے موبائل پر لگایا

ہوا کافی ٹھنڈی چل رہی تھی اسے کافی سکون سا ملا باہر آکر ۔۔۔۔ 

 

وہ ٹہل رہا تھا جب غیر دماغی طور پر نظر اوپر کی جانب اٹھی 

جہاں حویلی کے دوسرے پورشن میں بالکنی میں کسی کا سایہ نظر آیا ۔۔۔ 

صرف دو منٹ لگے تھے اسے اس سائے کو پہچاننے میں جو سایہ اسے اپنی قید میں کئیں سالوں سے لیے ہوے تھا 

 

وہ لون میں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا 

ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر وہ اس سائے کو دیکھے گیا ۔۔۔ 

وہاں اندھیرا تھا وہاں کسی کی موجودگی کا احساس کافی مشکل تھا مگر وہ نعمان شاہ تھا اس کی نظر چیل کی طرح تیز تھی وہ جانتا تھا وہاں وہی کھڑی ہے 

 

صبغہ کو نیند نہیں آرہی تھی اور پھر آج کی گفتگو اس کو مزید بے چین کر گئ تھی ۔۔۔ 

اس نے تہجد ادا کی اور اب وہ حجاب کو چہرے کے گرد باندھے ہوے تھی 

وہ ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرتی آنکھیں بند کرتی بالکنی میں کھڑی ہو گئ تھی

 

کافی دیر گزرنے کے بعد اسے کسی کی نظروں کی طپش محسوس ہوی 

جب نظر نیچے لون میں بیٹھے ہوے نعمان پر گئ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

 

وہ ہلکا سا مسکرائی 

تم جانے کیوں مگر عشق کے قابل لگتے ہو ۔۔۔ صبغہ شاہ تمہیں آخری سانس تک چاہے گی

 

وہ کہتے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

صبح ہو چکی تھی موسم کافی خوبصورت خوشگوار تھا 

سب خوش ہونے کے ساتھ اداس بھی تھے آج ان کے بیٹے نے دو سال کے لیے باہر چلے جانا تھا ۔۔۔ 

💗

سائشہ کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں ۔۔۔بیٹی کی جدائی پہلے ہی دکھی کر چکی تھی اب بیٹا بھی دو سال کے لیے جا رہا تھا اسے روکنا چاہتی تھی مگر لوگوں کی مدد ہو گی اس لیے سوچ کر خاموش رہی 

 

دائم اس وقت نک سک سا تیار ہو کر ناشتے کی ٹیبل پر آیا ۔۔۔ 

اس نے کافی حد تک خود کو کمپوز کر رکھا تھا ورنہ سب کے اترے چہرے دیکھ اسکا دل بھی بجھا تھا اور پھر پری کی جانب سے مسلسل اگںورنس اسے عجیب کوفت ہو رہی تھی 

 

اس کے آتے ہی سب نے ناشتہ شروع کیا ۔۔۔ 

تمام مرد حضرات کے کھانے کے بعد عورتوں نے کھانا کھایا 

اس کے بعد سب نے مل کر چائے پی تبھی وکیل صاحب کا فون گونجا۔ ۔۔ 

اس نے ایکسکوز کرتے کال اٹھای اور اٹھ کر ان سب سے کچھ دور جا کھڑا ہوا

 

جی رحمت اللہ سب ٹھیک ہے ؟ اس نے کافی دھیمی آواز میں بات کی تھی 

 

سر مجھے خبر ہوی ہے کہ دوسرے گاؤں سے کسی نے حیات سر پر حملہ کروانے کے لیے کچھ گھنڈے جگہ جگہ چھوڑے ہیں لحاظہ آپ لوگ چوکنا رہیے گا ۔۔۔ 

 

اس نے کافی دھیمی آواز میں جواب دیا ۔۔۔  

صائم کی بھنویں سکڑی ۔۔۔ 

یہ کون ہو سکتا ہے ؟

اس نے بھی آہستہ سے کلام کیا

 

سر مجھے جس پر شک ہے اس کا کام تو حیات سر پہلے ہی تمام کر چکے ہیں ۔۔۔ مگر پھر بھی میں پتہ کروانے کی کوشش کرتا ہوں کہ سازش کے پیچھے کون ہے ۔۔۔۔

 

ھممم مجھے انتظار رہے گا تمہاری اگلی کال کا ۔۔۔۔ صائم نے کہتے کال کاٹ دی 

 

کس کی کال کا انتظار کرنا ہے تم نے ؟ حیات کی آواز اپنے عقب سے سن کر اس نے گردن ترچھی کی 

 

رحمت اللہ کی ۔۔۔ 

صائم نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔۔اور کچھ سوچ میں پڑا 

 

کیوں ؟ حیات نے بھی سوالیہ آئ برو اچکاتے کہا 

صائم کا سنجیدہ چہرہ دیکھ اسے تعجب ہوا 

 

آپ کا تو عبدل گوندل کے ساتھ فیصلہ تہہ ہو چکا تھا پھر وہ یہ کیوں کرے گا ۔۔۔ جہاں تک مجھے شک ہے وہی یہ کر سکتا ہے ۔۔۔ 

 

صائم کچھ سوچ میں بڑبڑایا 

 

کیا ہوا ؟ حیات نے پھر سے سوال کیا آدھی ادھوری بات سمجھ نہیں آئ تھی 

رحمت اللہ کی بتائ  ہوی ساری  بات اسے بتائ 

 

ھمم پریشان مت ہو میں اپنی حفاظت کرلوں گا 

اور جہاں تک شک کی بات ہے تو دشمن ہمیشہ خود کچھ نہیں کرتا یا تو اسے کسی کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے یا کسی کو ہائیر کرتا ہے 

تم فکر مت کرو میں جعفر سے کہہ کر ساری معلومات نکلواتا ہوں ۔۔۔ 

اس نے سکندر کے خاص آدمی کے بارے میں کہا جو اب اسکا خاص آدمی تھا 

 

ٹھیک ہے ۔۔۔ 

صائم نے سر اثبات میں ہلایا 

 

پھر وہ لوگ چہرے کے تاثرات نارمل کرتے واپس اپنی فیملی کے پاس جا بیٹھے 

 

نعمان اپنے موبائل پر ایک میل چیک کر رہا تھا تبھی اسے کال آی ۔۔۔ 

اپنے بزنس رائیول کی کال دیکھ کر حیران ہوا پھر کچھ سوچتے کال اٹھائ اور باہر لون میں چلا گیا 

 

السلام و علیکم مسٹر نعمان شاہ ! دوسری جانب سے کافی بھاری آواز میں سلام کیا گیا 

 

وعلیکم السلام! 

اس نے فقط سلام کا جواب دیا ۔۔۔ 

کیسے ہیں آپ مسٹر نعمان شاہ ؟ 

الحمدللہ! اسنے یک لفظی جواب دیا 

 

ارے اب تو کھل کر بات کر لیں آخر کو ہم اب رشتے دار بننے والے ہیں ۔۔۔ 

اسکی بات پر ںعمان کی بھنویں سکڑی 

 

جی جی صبغہ میرے بیٹے زاویار کی منگ ہے بس کچھ دنوں میں ہم ان کی شادی کی تاریخ لینے آئیں گے پھر ہم بزنس رائیول سے فیملی بن جائیں گے 

 

اس شخص کے لہجے میں مسکراہٹ تھی مگر ادھر نعمان شاہ نے مٹھی زور سے بھینچ لی 

 

اپنے بیٹے کو اس قابل بناؤ کہ وہ اس کے اخراجات اٹھا سکے 

پہلے تم اپنے بیٹے کے خرچے اٹھاتے ہو پھر اسکی بیوی کے

۔۔۔ بوڑھے ہو گئے تم تکلیف مت دو اپنی ہڈیوں کو ۔۔۔۔ 

 

اس نے لہجے میں چبن رکھتے ہوے بات کی

 

آپ غصہ کیوں ہو رہے ہیں ۔۔۔ اور رہی بات میرے بیٹے کی تو میرا سب کچھ اسی کا تو ہے 

 

اسے مرد بناؤ مسٹر لدھیانوی ورنہ اسکی زندگی مشکل ہو جائے گی ۔۔۔ 

اس نے پھر سے کہا جس پر وہ غصے سے کال کاٹ گئے 

 

ارے یہ کیا بات ہوی کال نہیں کاٹنی چاہیے تھی ۔۔۔ وہ ہستے ہوے پلٹتے بولا پیچھے صبغہ کو دیکھ تھما

 

آپ کو کوی حق نہیں پہنچتا آپ زاوریار کے بارے میں ایسا کچھ کہیں ۔۔۔ وہ سخت تاثرات لیے بولی 

 

تم اپنی چونچ بند رکھو۔۔۔ اس

وہ اسکے منہ سے زاوریار کی طرف داری پر جل بھن کر بولا 

 

کیوں بند رکھو وہ میرا ہونے والا شوہر ہے 

وہ اسے گھورتے ہوے بولی۔

 

شادی سے پہلے بیوہ ہونے کا شوق ہے تو پھر تمہاری مرضی 

وہ سنجیدگی سے کہتے اس کے پاس سے جانےلگا جب وہ اس کے پھر سے آگے آکر کھڑی ہوی 

 

آپ چاہتے کیا ہیں ؟ وہ سرخ ہوتے بولی 

تمہیں ۔۔۔۔ 

وہ بولا پھر اگلے ہی پل صبغہ کا دل پھر سے توڑا 

 

 تمہیں کتنی دفع کہا مجھ سے دور رہا کرو ۔۔۔۔

 

کیوں میری محبت کی باری آنکھوں کی بینائی چلی جاتی ہے ۔۔۔ 

صبغہ نے چند لمحے خاموش رہتے گزار کر کہا 

 

محبت تو بس  محسوس کی جاتی ہے ۔۔۔ 

وہ جھک کر آہستہ سا بولا 

اسکے چہرے پر آئے آنسو کو اس نے نرمی سے اپنی انگوٹھے سے صاف کیا بنا محسوس کروائے 

 

آپ کے پاس دل نہیں ہے ؟

وہ بھیگی آنکھوں سے بولی 

 

ہے مگر تمہارے لیے جگہ نہیں ہے ۔۔۔ 

وہ سنجیدگی سے بولا  دوسری گال سے آنسو صاف کیا 

 

میں بنا لوں گی۔ ۔۔ 

وہ لب دباتے بولی 

 

تم کیوں کرتی ہو ایسے ۔۔۔۔؟ وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولا 

 

آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے ؟ وہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتے بولی 

عشق کرتا ہوں میں ۔۔۔ وہ دل میں بولا 

نہیں ہوتی محبت  مجھے تم سے کیا کروں میں ؟

وہ دو پل میں اس کو پھر سے توڑا گیا ۔۔۔ وہ رونے لگ گئ 

 

یاررر ۔۔ میں اسی لیے تم سے بات نہیں کرتا آخر محبت کے علاؤہ بھی بہت کچھ ہے دنیا میں ۔۔۔۔

 

میری دنیا آپ ہیں کیوں نہیں سمجھتے آپ ۔۔۔۔ 

وہ روتے ہچکیاں لینے لی 

 

ششش ۔۔۔ بس وہ اسے اپنے کندھے سے لگا گیا ۔۔۔ اس نے اس دوران سانس بھی نہیں لیا تھا 

 

وہ سانس کیسے لے وہ اسکے اتنے قریب تھی ۔۔۔۔ 

کافی دیر رونے کے بعد وہ پیچھے ہوے ۔۔۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو چھوا نہیں تھا ہاں بس اسے اپنا کندھا دیا تھا تاکہ وہ رو لے 

 

یاد رکھنا نعمان شاہ تمہیں جب مجھ سے محبت ہوی نا اس وقت میں بھی تمہیں دھتکار دوں گی پر ۔۔۔۔

 

وہ دم سادھے اسے سن رہا تھا ۔۔۔ 

پر مجھے نہیں لگتا میں ایسا کر پاؤں گی ۔۔۔ وہ دھمکی کے ساتھ ہار بھی مان رہی تھی 

 

عورت کا عشق اسکی موت کے ساتھ ختم ہوتا ہے ۔۔۔۔ 

 

مجھے معاف کردینا ۔۔۔ وہ کہتے وہاں سے لمبے لمبے ڈاگ بھرتا چلا گیا 

 

تمہاری ہر خطا معاف تم ایک بار میری طرف آؤ تو صحیح ۔۔۔۔ میں وعدہ کرتی ہوں سب بھلا دوں گی ۔۔۔ وہ کہتے وہاں رکھی کرسی پر بیٹھ پھر سے رونے لگی 

 

🍁🍁🍁

ناجانے اس کے عشق نے موت کا سفر تہہ کرنا تھا یا اسے اسکی منزل مل سکے گی ۔۔

🍁🍁🍁

دائم کو سی آف کرنے کے بعد صائم کوٹ چلا گیا ۔۔۔ 

حیات بھی جعفر کی ضروری کال کی وجہ سے ڈیرے پر چلا گیا 

جب کہ سکندر اور شایان واپس گاؤں آگئے تھے ۔۔۔۔ 

سکندر کے کہنے پر اب کچھ دن نعمان شاہ بھی نور پر رہنے والا تھا 

 

نعمان اس وقت ہاسپٹل میں اپنے ڈاکٹر کے کیبن میں بیٹھا تھا 

 

کیوں ستاتے ہو اسے کہ اپنی حالت بھی بگاڑ لیتے ہو ۔۔۔ وہ اسکی سرخ انگارہ آنکھوں کا چیک اپ کرتے بولے 

 

کیا کروں وہ پگلی ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ مبہم سا مسکرایا

 

اگر کبھی اس نے اظہار کرنا بند کر دیا تو ۔۔۔ ڈاکٹر نے سر سری سا سوال کیا 

 

تو میری سانسوں کا تسلسل وقت سے پہلے ٹوٹ جاے گا ۔۔۔ وہ بے اختیار بولا تھا 

 

تم نے اپنی دوائیں نہیں لی رات کو ۔۔۔۔؟

نہیں ۔۔ 

کیوں ۔۔؟ 

دل نہیں چاہتا اب 

 

تمہاری دوائ ضروری ہے ورنہ چند لمحے جو زندگی کے باقی ہیں وہ بھی گواہ بیٹھو گے 

ڈاکٹر نے اپنی کرسی پر جا کر بیٹھتے کہا 

 

ڈاکٹر میں تھک گیا ہوں۔۔۔۔۔ کب تک اسے بنا بات کے تکلیف دوں گا 

اس کی آنکھیں کب نم ہوئیں وہ نہیں جانتا تھا

 

ڈاکٹر کے کیبن میں ڈاکٹر اور اسکی موجودگی کے علاؤہ اے سی کی کولنگ تھی 

اسکی آواز آہستہ آہستہ کم ہونے لگی تھی 

 

تو بتادو اسے کے نعمان شاہ صبغہ شاہ سے دیوانوں کی طرح عشق کرتا ہے ۔۔۔۔

 

ڈاکٹر صاحب نے دھیمے لہجے میں کہا

 

اہہہ اور اسکے بعد ؟ 

آپ جانتے ہیں جب میں اس دنیا سے چلا جاؤں گا تو وہ میرے بنا نہیں رہ پائے گی 

 

وہ جس قدر چاہتی ہے مجھے اسے میری عادت ہو جائے گی ۔۔۔۔

 

وہ سر جھکا کر مدھم سی آواز میں بولا

 

تو تمہیں لگتا ہے کسی اور سے نکاح اس کے لیے ٹھیک ثابت ہو گا ؟

کیا اس کو تم سے اتنے سالوں میں عشق کی عادت نہیں ہوی ۔۔۔۔

 

ہر دعا میں تمہیں مانگنے کی عادت نہیں ہوی ؟

 

ڈاکٹر نے نرم لہجے میں کہا نعمان شاہ کے گلے میں گلٹی سی ابھری

 

مم مجھے لگتا ہے وہ مو آن کر لے گی ۔۔۔۔ 

اس نے جھکے سر کے ساتھ کچھ دیر بعد بامشکل یہ الفاظ ادا کیے 

 

کیا واقعی ؟ تمہیں ایسا لگتا ہے ؟

پھر تو تم سے بھی مو آن کر لے گی جب تم اس دنیا میں نہیں رہو گے ۔۔۔۔

 

نعمان نے ڈاکٹر کی بات پر اس کی جانب دیکھا ۔

 

دیکھو شاہ میں جانتا ہوں تم جس بیماری میں مبتلا ہو اس میں کچھ وقت کا درکار ہونا بھی غنیمت ہے مگر تم کیوں اس معصوم کو اپنی زندگی میں بھی رولا رہے ہو اور اپنے بعد بھی رولاو گے 

 

ڈاکٹر کی اگلی بات پر چند لمحے وہ سانس روکے بیٹھا تھا

 

پھر ایک آنسو بے ساختہ اس کی آنکھ سے بہہ کر گال پر گرا 

لب پھڑپھڑا گئے مگر وہ کچھ بول نہیں پایا

 

میں اسے کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ میں جلد مر جاؤں ۔۔۔۔ 

کچھ دن کی مہلت اب نہیں چاہیے مجھے 

 

وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتا گہرا سانس لے کر بولا 

 

تم پاگل ہو گئے ہو شاہ ۔۔۔ 

کیا تم اس وجہ سے اپنی دوائیں نہیں لے رہو ۔۔۔۔

ڈاکٹر نے اب کی بار غصے سے کہا 

 

تو کیا کروں اس سے عشق بے پناہ ہے پر میں کتنا بے بس ہوں دنیا میری کامیابیوں کی دیوانی ہے اور میں اپنی زندگی کے اتنے بڑے امتحان میں بنا حصہ لیے ہی ہار گیا ہوں 

 

خدا مجھ سے اتنا ناراض ہے کہ مجھے لاحاصل عشق کی آگ میں جلا رہا ہے ۔۔۔۔

 

وہ اب کی بار پھوٹ پھوٹ کر رو دیا ۔۔۔اس کا صبر اب ختم ہو رہا تھا ۔۔۔

ڈاکٹر جلدی سے اپنی سیٹ سے اٹھتے اسکے پاس گئے اور اسے اپنے سیںے سے لگایا 

میری ساٹھ سال کی عمر میں ۔۔۔ میں نے پہلی دفع کسی شخص کو اس قدر ٹوٹتے دیکھا ہے ۔۔۔۔

 

میں نہیں جانتا کہ تمہارے نصیب میں کیا لکھا ہے پر شاہ میری دعا ہے کہ خدا تم پر رحمت کرے ۔۔۔۔۔

 

وہ اسکے روتے وجود کو سینے سے لگاتے مدھم سا بولے 

 

وہ کچھ نہیں سن رہا تھا آنکھوں سے آنسو بہہ کر آج آزاد ہو چکے تھے سارے بن ٹوٹ چکے تھے 

 

بار بار صبغہ کا رویا ہوا چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا ۔۔۔دل تھا کہ پھٹ رہا تھا مگر وہ کیا کرتا کچھ نہیں کر سکتا تھا اس کی قسمت شاید ایسی ہی لکھی تھی ۔۔۔

 

وہ کافی دیر روتا رہا آج سارا دکھ اسے نکالنا تھا 

وہ کوی مغرور شہزادہ نہیں تھا وہ تو بہت معصوم تھا جیسے وہ بچپن میں معصوم سا بچہ تھا اج بھی ویسے ہی تھا 

 

اس نے خود کو ہمیشہ اپنے خاندان سے الگ تھلگ رکھا ۔۔۔ 

وہ بھی سکندر خاندان سے تھا جہاں رشتوں کے لیے  اپںی جان بھی قربان کی جاتی تھی 

بھلا وہ سب سے الگ کیسے ہوتا 

 

وہ سب سے الگ تھا یہ سب جانتے مگر کیوں تھا وہ ایسے کبھی کسی نے نہیں سوچا 

 

وہ اپنے باپ سے نفرت نہیں کرتا تھا بھلا کوی بیٹا اپنے باپ سے نفرت کر سکتا ہے ؟

نہیں وہ بھی نہیں کرسکتا تھا

 

وہ جانتا تھا اگر اس نے اپنے باپ کا بازو بننے کی کوشش کی تو اسکے مرنے کے بعد اس کا باپ اکیلا ہو جائے گا 

 

وہ اپنے باپ کو تکلیف نہیں دے سکتاتھا بھلے پھر اپنی بے رخی سے دے رہا تھا تاکہ ان کو اسکی عادت نا ہو 

مگر وہ انجان تھا باپ اپنے اولاد سے بے تحاشہ محبت کرتا ہے 

 

اکثر لوگوں کا شکوہ ہوتا ہے ہمارا باپ ہم سے ویسے محبت نہیں کرتا جیسے باقیوں کے والد کرتے ہیں 

مگر نہیں 

ایسا نہیں ہے 

پر باپ اپنی اولاد کو بہت محبت کرتا ہے ہاں کچھ کو اس کو جتانا آتا ہے ہر لمحہ میٹھے الفاظ استعمال کرکے ان سے اپنی محبت کا اظہار کرکے 

اور کچھ کو جتانا نہیں آتا مگر محبت محسوس کی جاتی ہے 

 

جب کبھی ہم بیمار پڑتے ہیں تو ماں ہماری ساری رات ہمارے سرہانے بیٹھ کر گزار دیتی ہے پر باپ وہ ؟

باپ بھی اپنی اولاد کی بیماری پر اتنا ہی تڑپ جاتا ہے جتنا کہ ماں مگر ہم محسوس سے زیادہ دیکھنے کے عادی ہیں اس لیے کبھی یہ جان نہیں پائے کہ 

ماں باپ دونوں ہی اپنی اولاد سے بہت محبت کرتے ہیں 

 

وہ ہمیشہ اپنے بھائیوں سے الگ رہا نہیں چاہتا تھا کہ اسکی موت کی وجہ سے ان کی زندگیوں پر کوی اثر پڑے 

پر وہ انجان تھا کہ کسی کے دل میں محبت صرف ہمارے ساتھ رہنے سے نہیں ہوتی کبھی کبھی ہماری دوریاں بھی ان کو ہم سے مزید قریب کر دیتی ہیں ۔۔۔۔۔

 

نعمان شاہ جتنا گھمنڈی اکڑو کھڑوس لگتا تھا سب کو وہ ویسے نہیں تھا 

وہ ایک نیک رحم دل محبت کرنے والا چاہنے والا رشتوں سے عشق کرنے والا معصوم سا بچہ تھا ۔۔۔

جس کی بیماری نے اسے بدلنے پر مجبور کیا

 

ڈاکٹر صاحب سے الگ ہوتے اس نے اپنے چہرے کو صاف کیا 

گوری رنگت کی وجہ سے رونے کے باعث اسکی گال سرخ ہو چکی تھیں وہ اس وقت مقدس کی کیٹو کاپی لگ رہا تھا

 

اوور ٹائم ورک آؤٹ کی وجہ سے اسکی شانے بہت چوڑے تھے جس وجہ سے وہ اپنی عمر سے بڑا دکھتا تھا وہ سکندر حویلی کے سپوتوں میں بڑا لگتا تھا ۔۔۔ 

 

آنسو صاف کرتے خود کو بامشکل کمپوز کیا مگر اب شرمندگی ہو رہی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کے سامنے وہ بے اختیار ہو گیا تھا

 

اسکے چہرے پر شرمندگی محسوس کرتے ڈاکٹر صاحب مسکرائے ۔۔۔۔۔

 

تمہیں ایک دلچسپ کہانی سناؤں ؟ 

وہ نیچے بچھے کارپٹ کو دیکھتے بولے تھے 

 

نعمان نے زرا سی نظر ان کے چہرے پر ڈالی پھر سر اثبات میں ہلایا 

 

ایک لڑکی سیدہ تھی وہ بہت خوبصورت تھی کیونکہ اسکی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں سیاہ آنکھوں پر بھاری پلکوں کی باڑ ان میں لگا کاجل ہر کسی کو اس کو دیکھنے کی خواہش دلاتا تھا 

مگر وہ مکمل عبایا میں ہوتی تھی اس لڑکی کی آواز کوئل کی طرح تھی بڑی نوکیلی آواز بڑی سریلی سی 

وہ کافی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھنا پسند کرتی تھی اس نے   کبھی یونیورسٹی میں کسی لڑکی سے بھی زیادہ بات نہیں کی تھی 

وہ اپنی پڑھائی کے علاؤہ دوسری افسانوی کتابوں میں دل لگاتی تھی 

 

ایک لڑکا  اس کلاس کا سی آر تھا۔۔۔۔ وہ میڈیکل کے سٹوڈینٹس تھے ۔۔۔۔ 

وہ ہمیشہ خاموشی سے اس کے پیچھے جا کر بیٹھنا چاہتا تھا مگر کبھی ایسا ہو نہیں سکا سی آر کی وجہ سے وہ ہمیشہ آگے بیٹھتا جب کہ وہ آخر میں ۔۔۔۔۔

ان کی یونیورسٹی میں ان کو ایک پروجیکٹ پر کام کرنا تھا جس پر وہ بہت خوش تھا کیونکہ اس نے ٹیچر سے بات کرکے اس لڑکی کے ساتھ اپنا گروپ بنایا تھا جس میں محض وہ دونوں تھے ۔۔۔۔

 

وہ لوگ اپنی کلاس فری ہونے کے بعد کینٹین جانے لگے جب وہ سی آر اسکے پاس آیا 

 

اسلام و علیکم! اس نے نظریں زمین پر رکھے سلام کیا 

 

اس لڑکی نے اپنی قاتلانہ نظروں سے چند لمحے اس شخص کو دیکھا 

اس لڑکے کو جواب نا ملنے پر اس لڑکی کی جانب دیکھنا پڑا جب وہ دیکھ حیران ہوا کہ وہ لڑکی اسے کی دیکھ رہی تھی ۔۔۔ 

نظروں کا ملاپ چند لمحے سے زیادہ ہونے لگا 

 

وعلیکم السلام! اس سیدہ لڑکی نے سلام کا جواب دیا 

 

ہم سب پروجیکٹ پر کام کرنے والے ہیں کیا آپ تیار ہیں کوی آئیڈیا ہو تو آپ مجھ سے شیئر کریں ۔۔۔۔

سی آر نے جلدی سے بات کی ۔۔۔۔

 

وہ لڑکی سر ہلاکر اسے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھںے کا اشارہ کرتی اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ دیکھنے لگی 

سی آر بھی جلدی سے بیٹھ گیا۔ ۔۔۔۔ آج اس کی آنکھوں کو قریب سے دیکھنے کا شرف محسوس کرکے اسے لگا اس کا دل خوشی سے پھول جائے گا

 

وہ روزتھوڑا،وقت ساتھ گزارتے تھے مگر وہ لڑکی کام کے علاؤہ کوی بات نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔ 

اسی طرح ان کو پروجیکٹ فسٹ کلاس مانا گیا جس پر ان کو بہت ساری تعریف کے ساتھ سیشنل مارکس بھی زیادہ دیے گئے 

 

سی آر کو خوشی نہیں تھی کیونکہ وہ جانتا تھا اب پھر سے وہ اس کے پاس جانے اور بیٹھنے کا موقع گنوا چکا ہے ۔۔۔۔

وہ ہر رات اس کی آنکھوں کو یاد کرتے گزار دیتا تھا 

وہ اچھا ایک سیکچ بنانا جانتا  تھا اس نے اپنے کمرے میں اس کی آنکھوں کا خوبصورت سیکچ بنا رکھا تھا 

 

وہ محض اس کے پاس جانے کے لیے نئے نئے راستے اپناتا تھا۔۔۔۔۔

حتی کہ وہ ان کہی محبت جب سجدوں تک لے گئ پتہ ہی نہیں چلا

وہ شخص خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کی محبت اس کو سجدوں سے تہجد گزار بنا گئ تھی 

وہ رات اپنی نیند سے جاگ کر تہجد ادا کرتا اور صرف یہ دعا کرتا تھا کہ وہ لڑکی ہمیشہ کے لیے اس کو مل جائے 

وہ جانتا تھا وہ سیدہ لڑکی ہے مگر پھر بھی دل بضد تھا 

 

ایک دن وہ اپنی کلاس میں بیٹھا کام کر رہا تھا جب وہ سیدہ لڑکی اسکے پاس آی 

 

اسلام و علیکم! آج پہلی دفع پہل اسکی جانب سے تھی دل میں عجیب کھل بلی سی مچی 

 

وہ احتراماً کھڑا ہوا جب وہ لڑکی نظریں جھکائے ہوئے تھی 

 

آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا !

وہ ناراضگی سے بولی تھی 

پہلی دفع اس شخص کو لگا کہ اس کی دعائیں رد نہیں ہوی 

وہ اوپر بیٹھی زات آج اس پر مہربان ہو چکی تھی

 

وہ جواب میں بہت کچھ کہنا چاہتا تھا مگر خوشی اس قدر ہاوی تھی کہ آواز حلق میں دب سی گئ ۔۔۔۔

 

جی وعلیکم السلام بامشکل اس کے حلق سے اٹک کر جواب نکلا 

 

وہ اس کی جانب پل بھر دیکھنے کے بعد مسکرائی تھی ۔۔۔ وہ نقاب میں تھی مگر اسکی آنکھیں مسکراتی ہوئی دکھ رہی تھیں ۔۔۔۔

 

وہ شخص چند لمحے ان آنکھوں کو مسکراتے دیکھ رہا تھا وہ پلکیں نیچے بچھ گئی ۔۔۔۔

 

وہ بنا اس کے کہے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔

مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے ۔۔۔

وہ نظریں جھکائے بولی تھی 

وہ شخص بھی اپنی کرسی پر بیٹھ گیا 

اسکی جھکی بھاری پلکیں دیکھتے اس نے گہرا سانس لے کر خود کو بولنے کے لیے تیار کیا

 

جی کہیں ۔۔۔ 

وہ محض اتنا بولا

کیا آپ مجھے پسند کرتے ہیں ؟ وہ شخص حیرت کے مارے اس لڑکی کی طرف دیکھنے لگا

 

محبت اگر خاموش اور پاکیزہ ہو تو آپ کی دعاؤں کی گونج محبوب کے کانوں تک خدا پہنچا دیتا ہے 

 

جی ۔۔ وہ اس بار نظریں جھکا کر بولا 

پر مجھ میں کچھ کمی ہے پھر بھی اپنا لو گے ؟

وہ لڑکی دھیمی آواز میں بولی 

 

ہر کمی ہر چیز قبول ہے ۔۔۔ آپ مجھے زندگی کا ساتھی چن ہیں وعدہ کرتا ہوں کبھی دھوکہ نہیں دوں گا

وہ آج دل کے ہاتھوں مجبور بول پڑا 

 

میں بیمار ہوں۔۔۔ وہ لڑکی پھر سے بولی 

میں علاج کروا لوں گا ۔۔۔ 

وہ اسکی جانب دیکھتے بولا 

میں زیادہ حسین نہیں ۔۔۔!

مجھے حسن سے مطلب نہیں ۔۔۔۔وہ دوبدو بولا 

پر کیسے ؟

وہ لڑکی تعجب سے بولی 

 

مجھے حسین چہرے سے فرق نہیں پڑتا مجھے روح کا سکون چاہیے ۔۔۔میں زیادہ کچھ نہیں کہوں گا مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ آپ کے بعد ہر عورت مجھ پر حرام ہے ۔۔۔

 

اس شخص کی باتوں سے وہ لڑکی پھر سے مسکرائ 

تو آپ رشتہ بھیج سکتے ہیں ؟

آپ اجازت دیں بس ۔۔۔ 

ٹھیک ہے آپ میری امی سے ملنے آئیں میں نے ان سے آپ کا زکر کیا تھا ۔۔۔ 

وہ کہہ کر وہاں اپنے گھر کا پتہ رکھتی اٹھ کر چکی گئ 

 

معجزے اس دنیا میں ہوتے ہیں پر اسکے لیے  دعاؤں پر یقین ہونا چاہیے 

آپ دعا کرتے وقت اپنے رب پر کامل یقین رکھیں وہ اندھیرے کو چیرتے ہوئے روشنی کرنے میں قادر ہے 

آپ کا رب کچھ بھی کر سکتا ہے 

 

ہمیں مانگنا نہیں آتا ہے وہ دے دیتا ہے پھر سوچیں جب مانگنا آجائے گا پھر اس کی رحمتوں سے ہماری جھولیاں بھر دی جائیں گی 

 

اس شخص کی دعاؤں میں طلب اتنی تھی کہ محبت چلتی ہوی خود اس کے پاس آئ ہے ۔۔۔۔

 

نعمان شاہ نے ان کی آنکھوں میں دیکھا جہاں نمی چمک رہی تھی 

 

پھر کیا ہوا ؟

وہ اس ڈاکٹر کو دیکھتے بولا 

ان کی شادی ہوی ۔۔۔ ڈاکٹر مسکرا کر بولا !

پھر آپ کی آنکھوں نمی کیوں ہے ؟

محبت سدا آپ کے ساتھ نہیں رہتی 

کبھی ملتی نہیں کبھی مل جائے تو بچھڑ جاتی ہے 

وہ لڑکی بھی بچھڑ گئ

اس کی بیماری نے اسے اس شخص سے بہت دور کر دیا ۔۔۔ اتنا کہ وہ لڑکی آج قبر میں ہے ۔

 

ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں سے نمی اب کی بار آنسو بن کر بہہ کر گال پر گری تھی

 

نعمان شاہ چپ رہا ۔۔۔۔

بس دیکھتا رہا ۔۔۔

وہ کون تھا ؟ چند سانحہ بعد وہ بولا 

 

ڈاکٹر صاحب نے نم آنکھوں اور لبوں پر مسکراہٹ جمائے اسے دیکھا ۔۔۔ 

نعمان شاہ کو اسکا جواب مل گیا تھا ۔۔۔

 

نعمان کی آنکھیں ایک دفع پھر سے بھر آئ تھیں 

آج ازیت بڑھنے لگی تھی اس لیے وہ رو رہا تھا

 

میری بیوی تھی وہ سیدہ لڑکی ۔۔۔ 

وہ مجھ سے بچھڑ گئی پر ایک بات جو میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ 

دعا دھیان سے مانگو گے تو خدا نوازتا ضرور ہے ۔۔۔۔

 

دعا میں دھیان کیسے ملے گا ؟

وجدان سے ۔۔۔

 ڈاکٹر صاحب نے نظریں جھکائے جواب دیا

وجدان کیا ہے  ؟ 

نعمان نے نا سمجھی سے دیکھا 

سارے وجود کا ایک نقطے پر مرتکز ہو جانا !

اب کی بار ڈاکٹر صاحب نے نعمان کی جانب دیکھتے کہا

مثلاً ؟

وہ اب بھی نا سمجھی سے دیکھا رہا تھا 

کسی ماں سے اسکا بچہ اس کی آنکھوں سے اوجھل کر دو پھر اس سے کہہ دو کہ اب بس دعا کرو 

پھر دیکھنا اس ماں کا سارا دھیان صرف اپنے بچے کے گرد گھومے گا 

“حالت اضطرار میں مانگی جانی والی دعا کی قبولیت کی راہ میں کوی شے حائل نہیں ہو سکتی ” دعا بہترین عبادت ہے ۔۔۔۔

 

وہ اس کے الجھے ہوے چہرے کو دیکھتے بولے 

آپ چاہتے ہیں میں اسے مانگوں ؟

وہ اب پھر سے سوالیہ ہوا 

ڈاکٹر صاحب نے سر اثبات میں ہلایا 

میں بہت گناہ گار ہوں ہر دن ناجانے کتنے دل توڑتا ہوں جہاں ہمارے رب کا بسیرا ہے ۔۔۔

بابا کا دل پر دفع توڑ دیتا ہوں ۔۔۔ 

بی جان کی محبت تک کو فراموش کر دیتا ہوں 

وہ رب میری کیوں سنے گا ؟

وہ مجھے مہلت کیوں دے گا کہ میں اس لڑکی کے ساتھ وہ زندگی جی لوں جو میری چاہت اور خواہش ہے ؟

وہ اب جھکے سر کے ساتھ سامنے رکھی ٹیبل پر نظریں جمائے بولا تھا 

 

ڈاکٹر صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا 

 

کیونکہ وہ رحمان ہے ! 

ان کا اتنا جواب بھی نعمان کو ہمت دے گیا تھا بھلا وہ کیسے بھول سکتا ہے اللہ کی بہترین صفات میں سے سب سے اول صفت معاف کردینا عطا کر دینا ہے 

 

پر اگر میری موت کے بعد اسے تکلیف ہوی ؟

وہ خود کے زیر اثر بولا 

 

کیا باقی لوگ جانتے ہیں کب کون کہاں مر جائے گا ؟

وہ سب بھی تو زندگی جی رہے ہیں ۔۔۔۔!

 

پر میں اس سے عشق کرتا ہوں آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا 

 

پر روز اسے رولا رہے ہو ! وہ دوبدو بولے 

نعمان خاموش ہو گیا 

 

پھر چند لمحے خاموشی سے سرکتے گئے جب اس کے نمبر پر کال آئی 

جی بھائی ۔۔۔ 

ٹھیک ہے ۔۔۔ 

وہ کہتے کال کاٹ گیا ۔۔۔ خود کو کمپوز کر چکا تھا 

تھینک یو ڈاکٹر اس وقت مجھے فارن سے آئے اپنے کلائنٹ سے ملنا ہے 

وہ اٹھتے ہوے بولا 

 

ٹھیک ہے شاہ پر میری باتیں یاد رکھنا ۔۔۔

 

دماغی بیماری ہے بھول جاؤں گا وہ ہستے ہوے بولا 

 

پھر اس کا نام بھی بھول جاؤ وجود تو بھلائے بیٹھے ہو وہ بھی جوابا بولے 

ناممکن ۔۔۔ 

وہ کہتے اپنا موبائل اٹھانے لگا 

 

اس کی شادی کے بعد آوئے گے اب ؟

وہ شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولے 

اس سے شادی کے بعد !

وہ ان کو دیکھتے بولا پھر وہ ان کے کیبن سے نکلتا چلا گیا 

 

میری دعا ہے کہ تم اس کے ساتھ زندگی جیو مسٹر نعمان شاہ ۔۔۔ 

محبتیں ہر کسی کے دروازے پر دستک نہیں دیا کرتیں 

وہ گہری سانس لے کر بولے 

 

🍁🍁🍁








 



 

error: Content is protected !!