Ishq Geeriyan
عشق گیریاں
Season 2 Episode 30 to 36
کبھی کبھی
محسوس ہوتا ہے
لفظ بھی
لمــس رکھتےہیں
کوئی بات پڑھ کر
مُسکرادینا
اور کسی
تحریر پر آنکھیں نم ہوجانا
کسی بات پہ دل کا دھڑکنا
اسی بات کی دلیل ہے
ہے نا….
لفظ بھی لمس رکھتے ہیں!۔
سب رات گئے واپس آئے تھے اس وقت تک سب بڑے ان سب کے آنے کا انتظار کر رہے تھے
کچھ چہروں پر عشق کا درد تھا تو کوی چہرہ عاشق کی عاشقی پر دمک اٹھا تھا
سب کے سونے کا انتظام ہو چکا تھا اسلیے سب سونے کے لیے چلے گئے ۔۔۔
حوریہ کو تو نیند نے اپنے غلبے میں لے رکھا تھا لحاظہ وہ اور پری واپسی پر کافی ضد کرنے لگی کہ ان کو شاہ حویلی جانا ہے مگر پھر صبغہ کا خیال کرتی وہ لوگ سکندر حویلی واپس آگئے
صبغہ اور حور ایک کمرے میں سوئی تھیں ۔۔۔
جب کہ پری الگ کمرے میں تھی
باقی تمام لڑکے اپنے اپنے کمروں میں جا کر سو گئے تھے
نعمان کو نیند نہیں آرہی تھی اسے اپنے شہر والے گھر کے علاؤہ کہیں سکون نہیں آتا تھا اس لیے وہ کمرے سے نکل کر نیچے لون میں ٹہلنے لگا
ہلکا سا میوزک اس نے اپنے موبائل پر لگایا
ہوا کافی ٹھنڈی چل رہی تھی اسے کافی سکون سا ملا باہر آکر ۔۔۔۔
وہ ٹہل رہا تھا جب غیر دماغی طور پر نظر اوپر کی جانب اٹھی
جہاں حویلی کے دوسرے پورشن میں بالکنی میں کسی کا سایہ نظر آیا ۔۔۔
صرف دو منٹ لگے تھے اسے اس سائے کو پہچاننے میں جو سایہ اسے اپنی قید میں کئیں سالوں سے لیے ہوے تھا
وہ لون میں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا
ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر وہ اس سائے کو دیکھے گیا ۔۔۔
وہاں اندھیرا تھا وہاں کسی کی موجودگی کا احساس کافی مشکل تھا مگر وہ نعمان شاہ تھا اس کی نظر چیل کی طرح تیز تھی وہ جانتا تھا وہاں وہی کھڑی ہے
صبغہ کو نیند نہیں آرہی تھی اور پھر آج کی گفتگو اس کو مزید بے چین کر گئ تھی ۔۔۔
اس نے تہجد ادا کی اور اب وہ حجاب کو چہرے کے گرد باندھے ہوے تھی
وہ ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرتی آنکھیں بند کرتی بالکنی میں کھڑی ہو گئ تھی
کافی دیر گزرنے کے بعد اسے کسی کی نظروں کی طپش محسوس ہوی
جب نظر نیچے لون میں بیٹھے ہوے نعمان پر گئ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرائی
تم جانے کیوں مگر عشق کے قابل لگتے ہو ۔۔۔ صبغہ شاہ تمہیں آخری سانس تک چاہے گی
وہ کہتے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔
🍁🍁🍁
صبح ہو چکی تھی موسم کافی خوبصورت خوشگوار تھا
سب خوش ہونے کے ساتھ اداس بھی تھے آج ان کے بیٹے نے دو سال کے لیے باہر چلے جانا تھا ۔۔۔
💗
سائشہ کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں ۔۔۔بیٹی کی جدائی پہلے ہی دکھی کر چکی تھی اب بیٹا بھی دو سال کے لیے جا رہا تھا اسے روکنا چاہتی تھی مگر لوگوں کی مدد ہو گی اس لیے سوچ کر خاموش رہی
دائم اس وقت نک سک سا تیار ہو کر ناشتے کی ٹیبل پر آیا ۔۔۔
اس نے کافی حد تک خود کو کمپوز کر رکھا تھا ورنہ سب کے اترے چہرے دیکھ اسکا دل بھی بجھا تھا اور پھر پری کی جانب سے مسلسل اگںورنس اسے عجیب کوفت ہو رہی تھی
اس کے آتے ہی سب نے ناشتہ شروع کیا ۔۔۔
تمام مرد حضرات کے کھانے کے بعد عورتوں نے کھانا کھایا
اس کے بعد سب نے مل کر چائے پی تبھی وکیل صاحب کا فون گونجا۔ ۔۔
اس نے ایکسکوز کرتے کال اٹھای اور اٹھ کر ان سب سے کچھ دور جا کھڑا ہوا
جی رحمت اللہ سب ٹھیک ہے ؟ اس نے کافی دھیمی آواز میں بات کی تھی
سر مجھے خبر ہوی ہے کہ دوسرے گاؤں سے کسی نے حیات سر پر حملہ کروانے کے لیے کچھ گھنڈے جگہ جگہ چھوڑے ہیں لحاظہ آپ لوگ چوکنا رہیے گا ۔۔۔
اس نے کافی دھیمی آواز میں جواب دیا ۔۔۔
صائم کی بھنویں سکڑی ۔۔۔
یہ کون ہو سکتا ہے ؟
اس نے بھی آہستہ سے کلام کیا
سر مجھے جس پر شک ہے اس کا کام تو حیات سر پہلے ہی تمام کر چکے ہیں ۔۔۔ مگر پھر بھی میں پتہ کروانے کی کوشش کرتا ہوں کہ سازش کے پیچھے کون ہے ۔۔۔۔
ھممم مجھے انتظار رہے گا تمہاری اگلی کال کا ۔۔۔۔ صائم نے کہتے کال کاٹ دی
کس کی کال کا انتظار کرنا ہے تم نے ؟ حیات کی آواز اپنے عقب سے سن کر اس نے گردن ترچھی کی
رحمت اللہ کی ۔۔۔
صائم نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔اور کچھ سوچ میں پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید پڑھنے کے لئے اوپر دیئے گئے پی ڈی ایف کو اوپن کریں