عشق گیریاں

Season 2 Episode 6 to 10

 

ناول۔۔۔۔۔۔عشق گیریاں

ازقلم۔۔۔۔۔۔ آنسہ چوہان ❤️

Season 2

Episode 06 to 10

 

صبح فریال اٹھی تو بیڈ پر وہ اکیلی ہی تھی وہ جلدی سے اٹھی اپنے کھلے بالوں کو ڈھیلے ڈھالے جوڑے میں باندھتے بیڈ سے اترتے وہاں پر پڑے اپنے جوتے پاؤں میں اڑیستے وہ الماری کی جانب بڑھی 

 

پھر الماری سے کپڑے لے کر واشروم میں بند ہو گی ۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ تولیے سے بال سوخاتی ہوی شیشے کے سامنے کھڑی ہوی مگر شیشے میں خود کو دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئ 

 

مگر کمرہ ساوئنڈ پروف ہونے کی وجہ سے آواز محظ چار دیواری میں ہی قید رہی 

 

فریال چیخ لگاتے ہی جھٹکے سے پیچھے ہوی اور پھر حیرت سے اپنے چہرے کی طرف اپنا ہاتھ لے جاتے گال پر ہاتھ رکھا ۔۔۔

پھر کچھ لمحے بعد اسے ساری بات سمجھ آئ تو اس نے جلتے بجھتے اپنا موبائل تلاش کیا 

 

جو اسے سائیڈ ٹیبل پر پڑا نظر آیا 

وہ موبائل اٹھا کر نمبر ڈائل کرتی لال چہرے کے ساتھ کال ریسیو ہونے کا انتظار کرنے لگی 

 

مگر شاید کال اٹھانے کا سامنے والے شخص کا کوئ ارادہ نہیں تھا اس لیے کال مسلسل جانے کے باجود کال اٹھائ نہیں گئ 

 

فریال نے فون کان سے ہٹا کر اپنی آنکھوں کے سامنے کرتے ایسے دیکھا جیسے فون کے دوسری جانب کا شخص اس کے سامنے ہے اور نظروں میں سختی تھی 

 

کنجی آنکھوں والے باگڑبلے اب آپ کو میں بتاؤں گی کہ آخر فریال خدا بخش کیا چیز ہے 

 

وہ تہیہ کرتی اب پھر سے شیشے کے سامنے آئ 

اففف اب میں سب کے سامنے کیسے جاؤں ۔۔۔۔

 

 اسکی دونوں گالوں پر نیلے رنگ کے مارکر سے آئ لو یو لکھا تھا 

وہ پریشانی سے خود کو دیکھنے لگی پھر جلدی سے واشروم میں بھاگی اور منہ پر پانی کی چھینٹیں مارنے لگی ۔۔۔ مگر وہ الفاظ صاف ستھرے نظر آرہے تھے 

 

افففف ۔۔۔۔ فریال کو رہ رہ کر اس پر غصہ تھا کہ آخر کوی محبت کا اظہار ایسے کرتا ہے ۔۔۔ 

 

وہ مری حالت میں واپس کمرے میں آئ ۔۔۔ تولیے سے منہ کو صاف کرتی ۔۔۔ وہ بالوں میں کھنگا چلانے لگی 

ساتھ ہی کچھ ترکیب سوچنے لگی کہ آخر وہ کیسے اب کمرے سے باہر نکلے اور کوی اس کے منہ پر لکھے لفظوں کو نا دیکھے 

شرمندگی کے مارے وہ بالوں کو باندھتی بیڈ پر جا کر بیٹھ گئ 

 

دروازے پر ہونے والی دستک پر وہ جلدی سے دپٹہ چہرے پر گھونگھٹ کی طرح ڈالے بیٹھی 

 

کون ہے ؟ 

اس نے سوال کیا 

 

فری میں ہوں مقدس ۔۔۔ کیا میں اندر آجاؤں ؟

مقدس کی بات پر اس کو اور پریشانی ہونے لگی کیونکہ وہ جانتی تھی یہ سب دیکھ کر وہ اسکا اچھا ریکارڈ لگاے گی 

 

مگر وہ اسے منع بھی نہیں کر سکتی تھی اس لیے اسے آنے کا کہا 

 

مقدس اسکی طرف سے اجازت ملنے پر اندر آی 

 

مگر سامنے بیڈ پر اسے گھونگھٹ ڈالے  دیکھ کر اس نے اپنی موٹی موٹی آنکھوں کو مزید کھولتے ہوئے اس منظر کو حیرت سے دیکھا 

 

فری کیا ہوا ہے تمہیں یہ تم نے گھونگھٹ کیوں پہنا ہوا ہے ؟

 

مقدس کی بات پر فریال کا دل چاہا اپنے سائیں کو گنجا کر دے جس نے محض اس کو روکنے کی خاطر اس کو کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا 

 

وہ میرے منہ پر پمپلز آگئے ہیں اس لیے بس ۔۔۔۔

فری نے بات بنائ جب کہ مقدس نے حیرت سے اسے دیکھا 

 

اس میں منہ چھپانے والی کونسی بات تھی کہ تم نے منہ پر اتنا لمبا گھونگھٹ ہی ڈال لیا

ویسے بھی پمپلز تو بن ہی جاتے ہیں اس میں کونسی بڑی بات ہے 

 

مقدس کہتے ہی اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی 

 

ہاں مگر یہ زرا ایسے پمپلز ہیں کہ جو ان کو دیکھے گا اس کے چہرے پر بھی بن جائیں گے 

 

فریال کو کچھ سمجھ نا آیا تو بات بنائ مگر سامنے بھی مقدس تھی 

 

فری دال میں کچھ نیلا نیلا لگ رہا ہے 

مقدس کی بات پر فریال نے اسے ٹوکا 

ابے پاگل نیلا نہیں کالا کہتے ہیں ۔۔۔

 

اسکی درستگی پر مقدس نے سر ہلایا 

ہاں مگر یہ کونسے قسم کے پمپلز ہیں کہ کسی کے دیکھنے پر اسے بھی بن جائیں گے ؟

مقدس سوالیہ ہوی 

 

وہ وہ ۔۔۔ فریال کو پریشانی ہونے لگی ۔۔۔ 

وہ دراصل جیسے آی فلو ہوتا ہے نا اس طرح پمپلز فلو بھی ہوتا ہے 

 

ہیں ہیں یہ پہلی دفع سن رہا ہوں میں ؟

دروازے سے جھانکتے شایان نے کہا 

 

اب اصل میں فریال کی جان ہلکان ہونے لگی تھی اب اگر یہ دونوں اس کے منہ پر لکھے لفظ دیکھ لیتے تو دونوں خوب موقعے کا فایدہ اٹھاتے 

 

وہ ہوتے ہیں تمہیں نہیں پتہ ۔۔۔ فریال نے کہتے ہی اپنی پکڑ گھونگھٹ پر سخت کی 

 

جب کہ اس کی اس حرکت پر شایان نے شکی نظروں سے فری کو دیکھا پھر مقدس اور اس نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہی اتفاقاںہ سر اثبات میں ہلایا 

 

ارے بھابھی کمرے میں چھپکلی ۔۔۔ 

شایان نے اونچی آواز میں کہا جس پر فریال سے پہلے مقدس اچھل پڑی 

 

ارے موٹی تمہارے سامنے چھپکلی بھی سوری آپی کہہ کر چلی جائے ۔۔۔

وہ اس کے اچھلنے پر بولا 

جب کہ مقدس نے گھورتی آنکھوں سے اس کو دیکھا 

 

اور تمہیں سلام کرکے جائے کہ کیا حال ہے بھئ اتنے دنوں سے ہمارے ہاں چکر نہیں لگایا 

چھپکلی کے رشتے دار ۔۔۔ 

وہ بھی دو بدو ہوئی ۔۔۔۔

 

نکلو میرے کمرے سے ۔۔۔ فریال جس کو چھپکلی کے نام سے کوی فرق نہیں پڑا تھا بیڈ سے اٹھتی نا کی چھڑتی جنگ دیکھ کر بولی 

 

کیا مطلب ؟ شایان بول

کیوں جائیں ؟مقدس بولی 

ایسے کیسے نکال سکتی ہیں آپ ؟

شایان بولا 

ہاں دلہا بھائ کا کمرہ ہے میں نہیں جا رہی ۔۔۔ مقدس بولی 

ہاں بلکل ہم دونوں کہیں نہیں جا رہے ۔۔ 

شایان بولا 

 

ایک منٹ میں یہاں سے غائب ہو ورنہ تم دونوں کو ایسے پیٹوں گی کہ تم لوگ اپنے آپ کو پہچان نہیں پاؤ گے ۔۔۔۔

 

فریال نے اجز آتے اونچی آواز میں کہا 

جس پر شایان بھی اچھل پڑا ۔۔ اچھا ٹھیک ہے بھابھی ہم جا رہے ہیں ۔۔ اس نے کہتے ہی مقدس کو باہر چلنے کا اشارہ کیا 

جو اپنی جگہ سے ہلی نہیں ۔۔ 

ابے موٹی نکلو یہاں سے ایسے نا ہو تم مار کھا کر بھوتنی بن جاؤ ۔۔۔ 

اڑے ہوے بال ۔۔۔۔ آگے کے دانت ٹوٹ جائیں ۔۔۔ لنگڑا کر چلتی ہوی تم 

افف ۔۔۔ منہ سے بہتا خون ۔۔۔ 

شایان نے پورا سکیچ بناتے کہا 

 

بس کرو چل رہی ہوں ساتھ ۔۔۔ مقدس گھبرا کر جلدی سے بولی 

پھر کمرے سے نکل گئ ۔۔۔ شایان بھی کمرے سے نکل گیا

 

فریال ان کے نکتے ہی دپٹا اتار کر جلدی سے دروازے کو اندر سے لاک کرتی موبائل کی طرف بڑھی 

 

اور میسج باکس کھولا 

 

سائیں اگلے پانچ منٹ میں مجھے آپ کمرے میں چاہیے ۔۔ اگر ایسا نا کیا تو میں خود کو نقصان پہنچاوں گی یو یقیناً آپ کو اچھا نہیں لگے گا 

 

وہ میسج ٹائپ کرکے میسج سینڈ کرکے موبائل زور سے زمین پر مارتی اسے توڑ چکی تھی 

 

🍁🍁

 

04

 

سکندر اس وقت شہر میں کسی کام کی وجہ سے آیا ہوا تھا ۔۔۔۔ آفس میں بیٹھا اس وقت وہ کسی کے آنے کا انتظار کر رہا تھا 

موبائل سائلینٹ پر کرتے اس نے آفس میں داخل ہوتے آدمی کو دیکھا 

 

سرادر سکندر آپ یہاں ؟ کوی کام تھا تو آپ مجھے یاد کر لیتے میں حاضر ہو جاتا ۔۔۔۔۔

اس آدمی نے اپنے آفس میں بیٹھے سکندر کو دیکھتے کہا 

 

اس کی بات پر سکندر مسکرایا ۔۔۔

جب کام مجھے تھا تو مجھے لگتا ہے اپنے کام کے لیے میرا یہاں آنا ضروری تھا 

 

سکندر کی بات پر وہ آدمی اپنی کرسی پر بیٹھنے کے بجائے اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا جو اس آفس کی سربراہی کرسی کے سامنے پڑے ٹیبل کے پار پڑیں تھیں 

 

حکم کریں سرکار ۔۔۔۔ 

اس نے لہجے میں عزت رکھتے کہا 

 

دراصل مجھے اپنے چھوٹے بھائی کے لیے آپ سے یہاں نوکری مانگنی تھی 

سکندر کی بات سن کر سامنے بیٹھے شخص جو کہ عمر میں لگ بھگ پینتالیس سال کا تھا حیرت سے اسے دیکھنے لگا 

 

یہ کیسے ممکن ہے سردار جی آج تک ہم اپنے کاموں کے لیے آپ کے ہاں چکر کاٹتے رہے اور آج آپ ہماری معمولی سے کمپنی میں اپنے بھائ کی نوکری کی بات کرنے آئے ہیں ۔۔۔۔

 

اس شخص نے تعجب سے پوچھا 

 

ہاں کیونکہ وہ ہمارا لاڈلہ چھوٹا بھائ ہے اور ہمارے لیے وہ بہت اہم ہے ۔۔۔ ہماری زندگی کی مسکراہٹ 

سکندر نے شایان کا خیال زہن میں لاتے میٹھے نرم لہجے میں کہا 

 

جب کہ سامنے بیٹھے شخص نے حیرت سے اس کو دیکھا 

 

اگر وہ اتنا لاڈلہ ہے تو بھلا یوں آپ اسے کسی کی ملازمت میں کیوں لگانا چاہتے ہیں ؟

 

اس آدمی نے سوال کیا 

 

کیونکہ وہ مجھے عزیز ہے ۔۔۔ 

سکندر نے ایک بار پھر محبت بھرے لہجے میں کہا 

 

میں سمجھا نہیں عزیز ہے مگر اسے یوں عام ملازموں کی طرح کام کیوں کروانا چاہتے ہیں ؟

سونے کی چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا حویلی کا پوتا ۔۔۔۔اور یوں معمولی کمپنی میں کام 

 

اس آدمی نے پھر سے سوال کیا 

 

وہ مجھے عزیز ہے اس لیے ہی تو آپ سے کہا ہے کہ آپ اسے اپنی کمپنی میں ایک عام امپلائے کی طرح رکھیں 

بلکہ اس پر سختی بھی کیجئیے 

کیونکہ میں اسے زندگی کی سختیوں سے روشناس کروانا چاہتا ہوں 

میں اسے زندگی میں آنے والی اونچی نیچ سے باور کروانا چاہتا ہوں تاکہ وہ کبھی زندگی میں مشکلات آنے پر بھاگے نہیں ۔۔ان کا مقابلہ کرے 

 

سکندر کی بات پر سامنے بیٹھے شخص نے رشک سے سکندر کو دیکھا 

 

میں نے پہلے ہی سن رکھا تھا کہ آپ بہت اصول پسند ہیں مگر اپنے بھائیوں سے اتنی محبت کرتے ہیں اس کا نظارہ آج ہوا ہے 

 

مگر آپ کو نہیں لگتا اس طرح سختی پر آپ کا بھائ آپ سے بدگمان ہو سکتا ہے کہ اتنے بڑے آدمی ہونے کے باوجود اسے اس کمپنی میں ایک عام نوکری دلوائی ؟

اس آدمی کے سوال پر سکندر مسکرایا ۔۔۔۔

 

انہہہ ۔۔۔ کس نے کہا کہ اسے میں نوکری دلواؤں گا ؟ میں اسے یہاں بھیجوں گا ضرور مگر وہ یہاں آنے والے ان سب لوگوں کی طرح ہی انٹرویو دے گا جس طرح باقی سب کے ساتھ رویہ ہوتا ہے اس طرح ہی اس کے ساتھ رکھا جائے گا 

 

مجھے پسند نہیں کہ اپنے پیسے اور رتبے کی بنا پر ہم بڑے لوگ اپنے بچوں کو برگر بنا دیتے ہیں اور ان پر مشکلات آنے پر ان کو ماں کے آنچل کے نیچے چھپ جانے کی عادت ڈال دیتے ہیں 

 

ہر انسان اس دنیا میں اپنی بقا کی جنگ خود لڑتا ہے بھلا ہم کیوں کسی اپنے کے ساتھ برا چاہیں ۔۔۔ اس کو کچھ دیر تک تو ہم اپنے پہلو میں رکھ سکتے ہیں مگر کچھ تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جو خود اس شخص کو جھیلنی ہوتی ہیں اور ان تکلیفوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے اس لیے میں چاہتا ہوں وہ اپنی زندگی میں ہر آنے والے مسلے کے لیے تیار رہے ۔

 

بزدل اور کاہل لوگ اپنی زندگی میں کچھ نہیں کر پاتے ۔۔۔ 

صرف ارادے بنا لینے سے کامیابی نہیں ملتی جب تک اس پر عمل نا کیا جائے ۔۔۔۔۔

 

سکندر کی بات سن کر وہ شخص سر اثبات میں ہلاتے مسکرایا 

 

ٹھیک ہے ۔۔۔ جیسے آپ چاہتے ہیں میں بلکل ویسے ہی کروں گا ۔۔۔ 

 

آپ بتائیں چائے پیئں گے یا کافی ؟

اس آدمی نے کہا 

 

نہیں مجھے کچھ کام ہے جس کی وجہ سے مجھے نکلنا ہو گا ۔۔۔ بس میرا کام ہو جائے ۔۔۔اور ہاں وہ زرا شرارتی ہے اس لیے اس کو قابو کرنے کی کوشش خود کرنا ۔۔۔۔

 

سکندر کرسی سے اٹھتے بولا ۔۔۔ 

جس پر آدمی بھی کھڑا ہوا اور بولا 

 

آپ بے فکر رہیں میں خیال رکھوں گا ۔۔۔۔۔

 

سکندر الوداعی کلمات کہتے ہی اس کے آفس سے نکلا 

باہر آفس کے سکندر کے گاڑز کھڑے تھے 

سکندر کے نکلنے پر وہ بھی الرٹ ہوتے اس کے پیچھے چل پڑے 

 

سکندر چلتے چلتے اپنے موبائل کو نکال کر دیکھا کہ اس پر فریال کی کال آئ تھی ۔۔۔ وہ مسکرایا اسے یاد تھی اپنی کی ہوی شرارت ۔۔۔۔

 

جنگلی بلی ۔۔۔ وہ بڑبڑایا پھر موبائل جیب میں واپس رکھتے وہ اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھا ۔۔۔۔ اس کے پیچھے ہی ساری گاڑیاں تیار ہوئیں اور کچھ ہی دیر میں وہاں سے تین گاڑیاں ہواؤں سے باتیں کرتی فراٹے سے نکل گئیں 

 

وہ اس وقت گاؤں کے واپس راستے پر تھا جب اس کے موبائل پر میسج آیا 

اس نے موبائل نکال کر میسج دیکھا جہاں پر لکھی تحریر دیکھ کر اس کے رگ و جان میں خون گردش کرنے لگا ۔۔۔ 

فون پر پکڑ سخت کرتے اس کو سخت غصہ آیا 

 

جعفر گاڑی بھگاؤ ۔۔۔۔ جلدی حویلی پہنچو ۔۔۔۔ 

اس نے کہا ساتھ ہی فریال کے نمبر پر کال ملائ جب کہ نمبر مسلسل بند جانے پر اس کا دل چاہا اپنا فون بھی توڑ دے ۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

شایان اور مقدس کمرے سے باہر آئے ایک دوسرے کو دیکھا پھر ایک ساتھ بولے 

یہ کیا تھا ؟ 

 

بھابھی نے ہمیں کمرے سے کیوں نکالا شایان بولا 

 

اس نے منہ پر گھونگھٹ دے رکھا اور کہتی ہے کہ اس کو پمپلز ہیں اس وجہ سے وہ چہرہ نہیں دیکھا رہی ۔۔۔مقدس نے کہا 

 

ہممم۔۔۔۔ مطلب بات کچھ اور تھی ۔۔۔ اور بھابھی نے ہم سے چھپائ وہ کسی جاسوس کی طرح بولا

 

بلکل ۔۔۔۔ مقدس نے اسکی بات پر اکتفا کرتے کہا 

 

🍁🍁

 

شہریار آپ اپنے دوست کی وجہ سے شہر میں رہیں گے مگر آپ میرا بھی تو سوچیں آپ کے بغیر کیسے رہوں گی ؟

 

شہریار کو تیار ہوتے دیکھ کر سائشہ نے بجھے چہرے سے کہا

 

شہریار نے سائشہ کی جانب دیکھا تو برش ٹیبل پر رکھتے اسکی جانب رخ کیا 

اور اسکو کندھوں سے نرمی سے تھاما ۔۔۔۔

سائشہ نے نظریں اٹھا کر شہریار کی طرف دیکھا جو اسے محبت سے دیکھ رہا تھا 

 

آپ کے بغیر رہنا میرے لیے بھی مشکل ہے مگر مجبوری ہے جانا پڑے گا ۔۔۔۔ آپ سمجھنے کی کوشش کریں پلیز ۔۔۔۔

آپ اس طرح اداس رہیں گی تو میں بھی پر سکون نہیں وہ سکوں گا 

 

اس نے نرم لہجے میں کہا جس پر سائشہ نے بچوں کی طرح ضد میں سر نفی میں ہلایا 

اسے عادت ہو گئ تھی شہریار کے سامنے اپنے اندر کا بچہ باہر لانے کی 

 

وہ اس کے سامنے کسی روٹھے ہوے بچے کی طرح انکار کر رہی تھی 

 

سائشہ میری جان آپ سمجھنے کی کوشش کریں ورنہ میں اپنی شہزادی کو کبھی بھی انکار نہیں کرتا ۔۔۔۔۔

شہریار نے اسکو دیکھتے پھر سے نرمی سے کہا 

 

اسے کچھ دیر میں شہرکے لیے نکلنا تھا اور یہاں اس کی بیوی اس کے جانے پر تیار نہیں تھی 

 

کچھ بھی ہو مجھے آپ کے پاس رہنا ہے آپ کے بغیر میں کیا کروں گی 

آپ کو پتہ ہے نا میں سارا دن کی روداد آپ کو سنائے بغیر نہیں سو سکتی اور آپ کے بغیر یہ کمرہ آپ کی خوشبو کے بغیر میری صبح بھی نہیں ہو گی ۔۔۔۔ پلیز مت جائیں ۔۔۔

 

سائشہ نے بچوں کی طرح اس کے سینےسے  لگتے بھیگے لہجے میں کہا 

شہریار نے مسکرا کر اس کے گرد اپنا حصار قائم کیا 

آپ کو صبح کال کیا کروں گا نا آپ کو میری آواز سے ہی بیدار ہونا ہے 

اور رات بھی دیر تک بات کروں گا 

 

شہریار نے اس کی کمر تھپکتے ہوے کہا 

 

سائشہ اس سے الگ ہوی ۔۔۔ 

آپ جائیں گے تو میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گی ۔۔۔ اب مجھے نہیں پتہ آپ جو کریں گے آپ کا فیصلہ آپ پر ہے ۔۔۔ 

وہ کہتے بنا رکے اپنے آنسو صاف کرتی کمرے سے نکل گئ 

 

سائشہ ۔۔۔

شہریار نے پل جھل میں اسکی بھیگی آنکھوں کو کسی سمندر کی طرح دیکھا تھا جس میں بے تحاشہ لہریں تھیں جو جوش پکڑتی بہت تیزی سے چل رہیں تھیں 

 

وہ اس کے جانے پر اسکو پکارتا رہ گیا مگر وہ جا چکی تھی 

شہریار اسکے پیچھے قدم بڑھاتا کہ اس کا موبائل بجنے لگا

 

جیب سے موبائل نکال کر نمبر دیکھتے 

اس کے تاثرات اگلے ہی پل میں بدلے اور گہرا سانس لے کر کمرے کے اس بند دروازے کو دیکھا جہاں سے سائشہ ناراض ہو کر گئ تھی 

 

پھر اس نے موبائل پر آتی کال کو رسیو کرتے فون کان سے لگایا 

 

لہجہ سخت تھا مگر تاثرات ایسے تھے کہ سامنے بیٹھا شخص دلچسپی سے اس شخص کے بدلتے تاثرات کو دیکھتا 

 

کچھ دیر موبائل پر بات کرتے اس نے کال بند کی اور الماری سے اپنا ضروری سامان لے کر کمرے سے نکل گیا 

 

🍁🍁🍁

 

سکندر راستے میں تھا شہر سے گاؤں کا فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کو دیر ہو چکی تھی 

وہ شایان کے نمبر پر کال کرتا اس کی جانب سے فون اٹھانے کا انتظار کرنے لگا 

 

اگلے ہی لمحے کال اٹھائ گئ ۔۔۔ 

اسلام و علیکم! بڈی ۔۔۔

شایان کال رسیو کرتے بولا 

 

وعلیکم السلام! تم اس وقت حویلی ہو ؟

اس نے جلدی سے سوال کیا 

 

ظاہر ہے بڈی میں کون سا نوکری پیشہ بندہ ہوں جو کام میں مصروف ہوں گا اس حویلی کی چار دیواری میں کسی لڑکی کی طرح قید ہوں 

 

وہ ڑرامے بازی کرتے بولا 

 

شایان میری بات غور سے سنو ۔۔۔ کیا تم نے اپنی بھابھی کو کمرے سے نکلتے دیکھا یا پھر کچھ عجیب کرتے دیکھا ؟ 

اسے پریشانی تھی کہ وہ واقعی ہی خود کو کچھ نا کر لے اب ڈائیریکٹ سوال کرنے سے پرہیز کرتا بولا 

 

عجیب تو رویہ  بہت تھا آج بھابھی کا ۔۔۔ 

شایان فوراً بولا 

 

مطلب ؟ 

گاڑی نور پر گاؤں میں داخل ہو چکی تھی 

 

مطلب وہ اتنا لمبا گھونگھٹ ڈال کر بیٹھی ہیں اور وجہ یہ بتائی کے پمپلز ہیں ۔۔۔۔ 

 

شایان نے کھوج لگاتی نظروں کے ساتھ کہا 

 

اچھا ٹھیک ہے اسکا خیال رکھنا میں پہنچتا ہوں ۔۔۔۔

سکندر نے کہتے کال کاٹ دی ۔۔۔۔

 

ارے ارے ۔۔۔ شایان ارے کہتا رہ گیا جب کہ کال کاٹ دی گئ تھی 

 

یہ بھی عجیب ہیں ۔۔۔۔ وہ کہتے ہی پلٹا اور حویلی کے اندر بڑھا جہاں لاونج میں شہریار بی جان کو گلے مل رہا تھا 

 

خیر سے جاؤ بیٹا ۔۔۔ بی جان نے محبت سے ماتھا چومتے کہا 

 

یہ آپ کہاں جا رہے ہیں ؟شایان نے شہریار کے ہاتھ میں کچھ سامان دیکھتے کہا 

 

مجھے شہر جانا ہے کچھ وقت کے لیے بس اس لیے حویلی نہیں آؤں گا 

 

شہریار نے کہتے ساتھ شایان کو گلے لگایا 

آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ اور آپ جا کیوں رہے ہیں ؟ آپ کو کیا کام پڑ گیا ؟

 

شایان نے الگ ہوتے سوال پر سوال کیے 

 

بس ضروری کام ہے تم اپنا ، بی جان کا اور سائشہ کا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔

شہریار کہتے ہی اسکا ماتھا چومتا مسکرا کر الگ ہوتے نکلتا چلا گیا 

 

شایان نے سر کھجایا ۔۔۔

یہ اجکل حویلی میں کیا ہو رہا ہے مجھے سمجھ کیوں نہیں آرہا ؟

 

وہ بولا تو بی جان مسکرائیں ۔۔۔ تم ادھر آؤ میں تمہیں بالوں میں تیل لگاؤں دیکھو کرنے روکھے ہو رہے ہیں بال 

 

بی جان کی بات پر وہ تقریباً چیختے ہوے پیچھے ہوا

 

بلکل نہیں بی جان ۔۔۔ آپ مجھے تیل نہیں لگا سکتیں 

 

اسکی بات پر بی جان نے آئ برو اچکای 

 

بھلا اس میں اتنی اچھلنے والی کیا بات ہے ؟

بی جان نے سوال کیا

 

بی جان آپ کو یاد ہے ایک دفع میں نے آپ سے چمپی کروائی تھی آپ نے نا جانے کونسی دشمنی نبھائ تھی مجھ سے کہ میرے بالوں سے وہ تیل پانچ دفع نہانے پر بھی نہیں نکلا تھا 

 

اور میرے بال بلکل کسی تیلی فیملی کے لڑکوں جیسے ہو گئے تھے چپچپے ۔۔۔۔

 

وہ مزید پیچھے ہوتے بولا

 

ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ پیچھے کھڑی مقدس نے زور دار قہقہہ لگایا

 

وہ ہستے ہوے نیچے زمین پر بیٹھتی چلی گئ 

 

اے موٹی خبردار اگر تم ہسی یہ میری دکھ بھری کہانی تھی جس پر تم منہ پھاڑ کر وہ قہقہے لگا رہی ہو 

 

شایان نے اسکو اس طرح بے سرت ہستے دیکھ کر اس کے پاس گھٹنے کے بل بیٹھتے کہا

 

قسم سے شایان تم کتنے فنی لگے ہو گے نا ۔۔۔ چپچپے بال ۔۔۔ اوئل ٹپک رہا ہو ۔۔۔ ناک بہہ رہا ہو ہاہاہا 

 

وہ ہسنے کے دوران بولی جب کہ گال سرخ و سفید ہو چکے تھے 

 

موٹی میں نے یہ کب کہا کہ میری ناک بہہ رہی تھی ؟ 

وہ غصہ ہوتے بولا

 

ارے چھوہارے کے منہ والے چھپکلی کے رشتے دار سب کی بچپن میں ناک بہتی ہی تھی تم کونسا الگ مخلوق تھے کہ نہیں بہتی تھی 

 

ہاں ٹھیک ہے مگر اس وقت تم اس طرح کا نوشی کھینچ کر میری پرسنیلٹی کا بیڑا غرق مت کرو ۔۔۔ 

 

وہ اپنی طرف دیکھتے بولا 

جب کہ مقدس بھی ہسی روک کر اس کو دیکھنے لگی 

جس نے وائیٹ کلر کی شرٹ پہنی تھی جس کے بازوؤں سے اسکا کسرتی وجود کافی واضح تھا نیلی پیںٹ پہنے سفید جوگرز پہنے وہ بہت پیارا لگ رہا تھا 

پھر اسکے خوبصورت نقوش پر اسکی تراشی ہوی داڑھی اور بھوری آنکھیں اس کے حسن میں چار چاند لگاتی تھیں 

 

مقدس نے اسکا جائزہ لیا بے  ساختہ لب ماشااللہ میں بڑبڑائے 

اسکے بڑبڑاتے لبوں کو شایان دیکھ چکا تھا تو وہ بھی مسکرایا

 

ویسے موٹی ایک بات تو بتاؤ ۔۔۔ 

شایان کھڑا ہوا تو مقدس بھی اٹھنے لگی 

 

کیا ؟ وہ کھڑی ہوتی بولی 

 

یہ تم بچپن سے بھالو جیسی کیوٹ ہو یا یہ روپ جوانی کا ہے ؟

شایان کی بات پر مقدس سر جھکا کر مسکرائی

 

بی جان بھی مسکرائیں 

 

ارے بے شرم تم چھپے لفظوں میں اس کو کیا کہنا چاہتے ہو ؟

 

بی جان کی آواز پر ان کی طرف متوجہ ہوتے شایان نے مسکرا کر مقدس کو دیکھا

 

یہی کہ یہ بے تحاشہ خوبصورت لڑکی ہے جس کے سامنے دبلی پتلی لڑکیاں بھی کچھ نہیں ۔۔۔ اس کی گلابی گال اسکے خوبصورتی کی مثال قائم کرتی ہیں 

 

وہ کسی طلسم کے زیر اثر بولا جب کہ مقدس نے چونک کر اس کی جانب دیکھا 

 

ابھی وہ اسی طلسم مین گرفتار تھے کہ اس طلسم کوسکندر کی آواز نے توڑا

 

بی جان فری کہاں ہے ؟

اسکی آواز پر شایان بھی اس طرف بڑھ گیا

جب کہ مقدس کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا کچھ لمحوں تک وہ اس طلسم سے جیسے باہر نکل نہیں پا رہی تھی 

 

بڈی بھابھی اپنے روم میں ہیں آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں ؟

شایان نے سکندر کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر تسلی دیتے ہوے کہا آخر میں سوال کیا 

 

ہمم۔۔۔۔ سکندر کہتے ہی جلدی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔ سیڑھیوں پر دو تین سیڑھیاں پھلانگتے ہوے وہ اوپر چڑھ گیا 

 

کمرے تک پہنچتے اس نے زور دار دستک دی ۔۔۔۔۔

اگلے ہی لمحے دروازے کے لاک کے کھلنے کی آواز پر وہ پرسکون ہوا اور پھر مزید اگلے لمحے اسے کسی ہاتھ نے کھینچ کر اسے کمرے کے اندر لے لیا 

اور دروازہ کھڑاک کی آواز پر بند ہو گیا 

 

فری وہ میں ۔۔۔ سکندر کھیںچا چلا اندر آیا اور بولا 

 

ششششش۔۔۔۔! 

فریال نے اس کے سامنے آتے اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا 

 

بولنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے اس مصیبت کا حل چاہیے ۔۔۔ 

 

فریال نے دو ٹوک لہجہ رکھتے کہا 

 

یار دیکھو میں نے تو اظہارِ محبت کیا ہے اب تم اس کو مٹانا کیوں چاہتی ہو ۔۔۔۔۔ 

سکندر نے مسکرا کر اس کی انگلی کو لبوں سے نرمی سے  ہٹاتے کہا 

 

مسٹر سکندر اعظم اگر آپ اظہار محبت کا یہ انداز اپنا سکتے ہیں تو آپ اچھی طرح جانتے ہیں میں تو بدلہ سود سمیت لیتی ہوں 

 

فریال نے بھسم کر دیںے والی نظروں سے اسے گھورتے ہوے کہا 

 

شوق سے کیجیے بیگم آپ کو کس نے روکا ہے ۔۔۔۔ 

سکندر نے شرارتی مسکراہٹ سے کہا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے لے جا کر صوفے پر بٹھایا 

 

سکندر میں آپ کو بہت ارام سے کہہ رہی ہوں مجھے اس مصیبت سے نکالیں ۔۔۔۔۔ کسی طریقے اس کو صاف کریں ۔۔۔۔

فریال نے گہرا سانس لیتے کہا 

 

اگر میں یہ نا کرتا تو میری شرارتی بیگم اس وقت دشمن کے علاقے میں نیلی نہر کے منظر کو دیکھتے ہوے مجھے ملتیں 

 

وہ کہتے ساتھ اس کے پاس صوفے پر بیٹھا 

 

آپ نے یہ اسلیے کیا؟ 

ہاں بلکل وہ مسکرا کر بولا جیسے اعزاز کی بات تھی 

 

اتنی محنت کرنے کے بجائے اگر آپ اپنی بیوی کی خواہش پوری کر دیتے تو کیا مسلہ تھا ؟

 

وہ اس کی جانب گھورتی ہوی  بولی 

کیسی خواہش ؟

 

سکندر نے چونک کر اسکی جانب دیکھتے کہا 

 

یہی کہ مجھے وہ علاقہ خوشحال ُپر گاؤں کے بجائے ہمارے گاؤں نور ُپر میں چاہیے ۔۔۔۔

 

سکندر نے اسکی بات سن کر کچھ دیر سوچ کے گھوڑے دوڑائے  

 

جب کہ فریال اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتی رہی 

 

سکندر نے ماتھا مسلا

 

اس سب میں مجھے کیا ملے گا؟ سکندر نے کچھ لمحوں کے بعد کہا 

 

میری محبت ۔۔۔۔ 

میری توجہ ۔۔۔۔۔۔

میری چاہت ۔۔۔۔۔

میرا وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔

میرا دل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرا پیار ۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کیا یہ سب آپ کے لیے فائدے مند ہو گا ؟

فریال نے اسے جواب دیتے اس کو دیکھا جس پر وہ مسکرایا 

 

وعدہ وہ علاقہ اب ہمارے گاؤں کا حصہ ہو گا انفیکٹ وہ حصہ میری من پسند بیوی کے نام ہو گا

 

وہ مسکرایا ۔۔۔۔بنا سوچے کے اس کو یہ علاقہ ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے مگر وہ اسے کیسے انکار کرتا 

 

فریال کے چہرے پر رونق سی اٹھی اس کا چہرہ خوشی سے جگمگایا 

 

سچ سائیں وہ حصہ سچ میں ہمارا ہو گا ۔۔۔۔ میں دن رات اسے دیکھوں گی اس کو رات میں دیکھنے کا اور بھی مزہ ہے 

فریال اچھلتے ہوے بولی اور وہ بے تحاشہ خوش تھی 

 

جسے دیکھ کر سکندر مسکرایا

 

میری جنگلی بلی کے لیے میں کچھ بھی کروں گا

وہ بڑبڑایا

 

Episode 7

Season 2 

🍁🍁

 

سکندر کے کمرے میں چلے جانے کے بعد شایان بھی بنا مقدس پر نظر ڈالے حویلی سے نکل گیا

 

مقدس نے لمحوں کی قید سے ریہائ پا کر مسکراتے ہوے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھا

 

نا جانے رب نے قسمت میں کیا لکھا ہے مجھے یقین ہے وہ میرے لیے بہترین فیصلہ ساز ثابت ہو گا

 

مگر تم واجب المحبت ہو ! 

وہ شایان کا چہرہ نظروں میں لائے دل میں بولی 

🍁🍁

ﮐﭽــﮫ ﻟﻮﮒ “ﻭﺍﺟﺐ ﺍﻟﻤﺤﺒﺖ” ﮨﻮﺗﮯ ہیں،

‏ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﺡ ﻣﯿﮟ اﺗﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ان سے ھمارے دل کا رشتہ ہوتا ہے وہ ہنستے ہیں تو ان کے ہنسنے سے زندگی کا ہر رنگ حسین تر ہوتا جاتا ہے۔ 

ان کا ہونا ہماری زندگی میں ایسے ہوتا ہے جیسے کوئی دل سے نکلی ہوئی دعا۔

وہ مسکراتے ہیں تو دل کا ہر درد  ختم ہوتے ہوے محسوس ہوتا ہے۔

وہ ساتھ ہوتے ہیں تو دل ان کی محبت پر ناز کرنے لگتا ہے۔

ان کا مسکراتا ہوا چہرہ،ہمیں زندگی کی امید دیتا ہے۔

اسی لئے ہی تو وہ لوگ “واجب المحبت” ہوتے ہیں۔

 

🍁🍁🍁

 

سائشہ کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی اس وقت وہ موبائل پر مسلسل شہریار کا نمبر ڈائل کر رہی تھی جو پاور آف جا رہا تھا

انہوں نے تو کہا تھا رابطے میں رہیں گے پھر کیا ہوا کہاں چلے گئے ہیں یہ کوی رابطہ بھی نہیں 

 

وہ پریشانی سے بڑبڑای 

پھر موبائل بیڈ پر رکھے وہ کمرے سے نکل گئ 

 

وہ نیچے آئ جہاں بی جان اکیلی بیٹھی تھیں۔۔۔۔ 

کیا بات ہے بی جان آج اتنی خاموشی کیوں ہے سب کہاں ہیں ؟

 

دراصل بیٹا فری کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے وہ آرام کر رہی ہے اور شایان بھی حویلی سے باہر گیا ہے 

 

شہریار بھی تو چلا گیا ۔۔۔۔ بے رونق ہو گئ میری حویلی 

 

بی جان نے پیار سے مگر لہجے میں نمی رکھے کہا

 

بی جان آپ پریشان مت ہوں شہریار کو تو کام کی وجہ سے جانا پڑا ہے نا اور باقی سب تو رات تک اکھٹے ہو جائیں گے یہ حویلی کبھی بے رونق نہیں ہو گی آپ یوں دکھی مت ہوں 

 

سائشہ نے نرم لہجے میں کہا 

بیٹا مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ آخر میری بہویں کب اپنی زمہ داری کو سمجھیں گی ۔۔۔۔

 

دونوں اس وقت شہر گئ ہیں ۔۔۔ کوی پارٹی انجوائے کرنے 

 

ارے بی جان آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں ہم سب آپ کے پاس ہیں نا بس آپ خوش رہا کریں 

 

ہاں میں سوچ رہی تھی کہ کیوں نا آج رات کا کھانا میں بناؤں ؟

 

سائشہ کی بات سن کر بی جان مسکرائیں 

ارے نہیں بیٹا ابھی تو تمہیں رسم کے طور پر میٹھا بنانا ہے پھر ہی تم کیچن میں کام کرنا شروع کرو گی 

 

تو بی جان آپ ہی بتائیں میں کیا کروں اس وقت مجھے کافی بوریت محسوس ہو رہی ہے اور ایک جیٹھانی صاحبہ اپنے ہجرے سے نکل نہیں رہیں ۔۔۔۔

سائشہ کیوٹ سا فیس بناتی بی جان کے پاس صوفے پر بیٹھی 

تو بی جان اس کی بات پر مسکرائیں 

 

ہمم ۔۔ تو پھر بتاؤ کہ تمہاری بوریت کا حل نکالنے کے لیے تمہاری جیٹھانی کو کمرے سے باہر لایا جائے ؟

بی جان نے بھی اس کے ساتھ شرارت سے چمکتی آنکھوں سے کہا 

 

بلکل آپ کچھ کریں کے وہ باہر آئیں۔۔۔۔۔

سائشہ لاڈ سے بی جان کے گرد حصار بناتے بولی 

 

کچھ دیر کی گفتگو کے بعد بی جان کے پلین پر لائحلہ عمل کے لیے سائشہ فریال کے کمرے کے دروازے پر کھڑی تھی 

 

کیا میں ان کو ڈسٹرب کر دوں گی ؟

وہ بڑبڑای

پھر سر جھٹکا 

ہاں تو وہ میری ایک اکلوتی جیٹھانی ہیں تو مجھے ان کے وقت پر حق ہے کہ وہ مجھے اکیلے نا چھوڑیں ایک تو سائیں بھی یہاں نہیں ہیں ان کو میرا خیال رکھنا چاہیے تھا

 

وہ بڑبڑای پھر دروازے پر دستک دی 

مگر جواب ندار 

اگلے ہی پل پھر سے زور دردستک دی گئ تو سائشہ کو امید نظر نا آئ 

اففف اب کیسے اندر جاؤں ۔۔۔۔

 

ابھی وہ بڑبڑای ہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے چونک کر دروازے کو دیکھا 

جہاں دروازے کے بیچ سکندر کھڑ اٹھا 

چوڑا سینا لمبا دراز قد ہونے کی وجہ سے وہ دروازے میں کھڑا تھا کہ پیچھے کا منظر سائشہ دیکھ نہیں پائ 

 

بھائ وہ بھابھی کہاں ہیں ؟

وہ جھجھک کر بولی 

 

بیٹا وہ نہا رہی ہے خیریت ۔۔۔ سردار سکندر نے بلکل ویسے نرم لہجے میں بات کی جیسے وہ شایان سے کرتا تھا 

وہ اپنے چھوٹوں سے پیار سے پی بات کرتا تھا مگر محض گھر کی حد تک باہر کے لوگوں کے لیے وہ سخت مزاج کھٹور انسان ہی تھا 

 

سائشہ اس کی شفقت بھرے لہجے پر اپنے آنسو روک نہیں پائ 

 

وہ دراصل میں بہت اکیلی محسوس کر رہی تھی اور یہ جیٹھانی جی ہیں کہ کمرے سے نکل ہی نہیں رہیں آج تو مقدس بھی نہیں آئ ملنے بس اسی لیے ان کو لینے آئ تھی 

 

اس نے نظریں جھکا کر کہا 

 

ہممم شہریار کہاں ہے ؟ 

وہ دروازے کے درمیان میں ہی کھڑا بولا 

وہ تو شہر گئے ہیں ۔۔۔ کچھ دنوں کے لیے 

 

سائشہ کی بات پر سکندر چونکا 

کیا مطلب کچھ دنوں کے لیے مگر کیوں ؟

 

پتہ نہیں بھائ پر انہوں نے کہا کہ کچھ کام ہے اس لیے جانا پڑے گا 

 

سائشہ نے وضاحت پیش کی 

 

اور آپ نے سوال نہیں کیا کہ کیا کام تھا ؟

سکندر سوالیہ ہوا جس پر سائشہ سرنفی میں ہلایا تو سکندر نے گہرا سانس لیا

 

مجھے لگتا ہے کہ آپ کو سوال کرنا چاہیے تھا آپ کا حق ہے سوال کرنا بہرحال آپ کی دوست نہا کر نکلتی ہیں تو میں آپ کے پاس بھیجتا ہوں آپ اداس 

مت ہوں ۔۔۔۔

سکندر نے کہا جس پر سائشہ سر ہلاتی پلٹ گئ 

 

کیا واقعی ہی مجھے سوال کرنا چاہیے تھا مگر انہوں نے خود کہا تھا کہ ضروری کام ہے ہو سکتا ہے کوی واقعی ہی ضروری کام ہو ۔۔۔

 

وہ بڑبڑاتی ہوی سیڑھیوں سے نیچے اتری 

 

کیا بنا آرہی ہے ؟

بی جان نے سوال کیا تو وہ سوچوں سے نکلی 

ارے نہیں بی جان دراصل سکندر بھائ بھی گھر پر ہیں تو مجھے بہتر نہیں لگا آپ کا پلین فالو کرنا 

 

اس کے جواب پر بی جان نے سر ہلایا 

ٹھیک ہے میں نے موسم خشگوار دیکھ کر ملازم کو چائے کے ساتھ پکوڑے بنانے کا کہا کچھ دیر میں سب مل کر کھائیں گے اور تمہیں شہریار کی یاد بھی زیادہ نہیں ستائے گی 

بی جان نے مسکرا کر کہا تو سائشہ نے بجھے چہرے سے سر ہلایا اور ان کے پاس بیٹھ گئ 

 

🍁✨

 

شایان حویلی سے کچھ دور ہی تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا اس نے گاڑی روک کر کال رسیو کی ۔۔۔ 

 

اسلام و علیکم بڈی! 

وعلیکم السلام شایان بی جان حویلی بلا رہی ہیں تمہیں تم اس وقت کہاں ہو ؟

سکندر نے سلام کا جواب دیتے سوال کیا 

بڈی میں حویلی ہی آرہا ہوں بس کچھ دیر میں پہنچتا ہوں

شایان نے سوال کا جواب دیا ۔۔۔

 

ہمم تمہاری بھابھی کہہ رہی ہیں کہ آتے ہوئے مقدس کو بھی ساتھ لیتے آؤ 

 

وہ میرے ساتھ  ؟ وہ بولا جس پر سکندر نے فریال کو شیشے کے آگے تیار ہوتے دیکھ کر قدرے دھیمے لہجے میں کہا 

 

صرف ساتھ لانے کا کہا ہے ۔۔۔ اس نے جیسے بات کی وضاحت کی 

 

اففف یہ دل ہے بڈی اس کے جو کان ہیں وہ بس محبوب کا نام سن کر پھر کچھ اور نہیں سنتے 

 

ہاہاہا ۔۔۔۔ بس کر دو تم اس طرح بات کرتے کارٹون لگتے ہو۔۔۔۔

سکندر جانتا تھا کہ اس کے دل کی حالت زار مگر وہ بات کو مزاق کا رخ دیتا بات بدل گیا  

 

ہممم ۔۔۔ لیتا آؤ گا ۔۔۔۔ شایان نے کہتے ہی کال کاٹ دی ۔

 

اس نے سر سیٹ کی پشت پر آرام دہ طریقے سے رکھا اور آنکھیں موند لیں 

 

بڈی پلیز مجھے یہاں سے چلے جانے دیں میرا دل تکلیف سے پھٹ جائے گا۔۔۔۔ 

وہ ہلکا سا بڑ بڑایا 

آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے مگر اس نے آنکھیں بند ہی رکھیں 

 

اس کو کچھ دیر ملاقات یاد آئ ۔۔۔

 

اس نے اس وقت ایک کمیونٹی کے سامنے اپنی گاڑی روکی پھر وہ گاڑی کو پارک کرتے اس کمیونٹی کے گاڑ کے پاس آیا 

 

اسلام و علیکم! اس نے سلام دیا جس پر کپڑوں سے ہی امیر دیکھ جانے والا شخص دیکھ کر گاڑ نے بھی سلام کا جواب دیا 

 

وعلیکم السلام! جی آپ کون ؟

 

اس گاڑ نے سوال جھاڑا 

دراصل مجھے یہاں آپ کے یہاں جو اسد نام کا لڑکا رہتا ہے اس کی ضروری انفارمیشن لینی ہے امید ہے آپ میرے ساتھ تعاون کریں گے 

 

شایان نے لہجے میں تھوڑا رعب اور تھوڑا بڑا پن رکھتے کہا 

 

جی نہیں میں تو محض یہاں کا گاڑ ہوں مجھے کسی کے زاتی معاملات کی کوی آگاہی نہیں آپ سے معزرت میں آپ کی مدد نہیں کر سکتا ۔۔۔۔

اس گاڑ نے اگلے ہی پل صاف جواب دیا 

 

شایان نے طائرانہ نظر اس پوری بلڈنگ پر ڈالی جو کافی اونچی تھی جس میں لگ بھگ پینتالیس اپارٹمنٹس تھے جو کہ کسی کمپنی کی طرف سے ریفر کیے جانے والے ملازمین کے لیے تھے 

 

دیکھو تم بس مجھے کچھ باتیں بتاؤ تاکہ میں اس کے بارے میں جانکاری حاصل کر لوں زیادہ ذاتی سوالات نہیں پوچھوں گا ۔۔۔

 

شایان نے جیب سے نوٹوں کی ایک گھڈی نکال کر اس کے سامنے رکھتے کہا 

 

ٹھیک ہے ۔۔۔ پیسے دیکھتے ہی اس آدمی کے دل میں لالچ امنڈ آیا جو اسکی آنکھوں سے صاف واضح تھا 

 

شایان اور وہ اس وقت ایک کمرے میں موجود تھے 

ہمم تو بتاؤ یہاں اسد نام کے لڑکے کا اپارٹمنٹ نمبر کونسا ہے ؟

شایان نے شاہانہ انداز میں سوال کیا 

جی دراصل یہاں بہت سے اسد نامی لوگ رہتے ہیں کم سے کم پانچ اسد یہاں رہتے ہیں 

 

آپ بتائیں آپ کس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ؟

واچ مین نے سوال کیا 

 

دیکھو مجھے سوائے اس بارے میں کہ  اس شخص کا نام اسد ہے اس کے الاوہ کچھ معلوم نہیں ہاں مگر وہ دیکھنے میں کافی اچھی پرسنیلٹی کا لڑکا ہے 

 

شایان نے بھی بات صاف پیش کی 

 

چلیں میں یہاں تین اسد نامی لڑکوں کو جانتا ہوں آپ کو بتا دیتا ہوں باقی آپ معلومات کہیں اور سے کر لیجیے گا 

 

وہ آدمی بولا تو شایان نے سر ہلایا 

 

دو لوگ جو کہ اسد نامی ہیں وہ تو عمر میں بڑے ہیں لگ بھگ پینتالیس سال کے ۔۔۔

باقی ایک لڑکا شادی شدہ ہے اپنی بیوی اور ایک بیٹی کے ساتھ رہتا ہے 

 

شایان نے اس کی بات پر سر نفی میں ہلایا 

اور باقی ؟

 

باقی دو اکیلے رہتے ہیں ایک تو کافی الگ انداز کا آدمی ہے زیادہ کسی سے بات نہیں کرتا اور آتا بھی لیٹ ہے جب کہ دوسرا جو لڑکا اس کی عادتیں کچھ ٹھیک نہیں ہیں وہ رات دیر تک آتا ہے اور عموماً ایک لڑکی ہوتی ہے اس کے ساتھ مگر ہاں ہر بار لڑکی نئ ہوتی ہے 

اور اسکی حالت بھی نشیوں جیسی ہوتی ہے 

اب میں نہیں جانتا کہ آپ کس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ۔۔۔ 

 

شایان کے چہرے پر رنگ اڑ گیا ۔۔۔۔کیا مطلب ۔۔۔۔ وہ نہیں نہیں ایسا بے شرم آدمی اس پاکیزہ لڑکی کو ڈزرو نہیں کرتا ۔۔۔ وہ فورا بڑبڑایا 

 

ٹھیک ہے اب میں چلتا ہوں اور ہاں کسی کو ہماری ملاقات کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں ہے شایان نے اسے کہا جس پر اس آدمی نے سر اثبات میں ہلایا 

 

افففف اب میں یہ جاننے کے بعد بھلا تمہیں کسی اور کے ہاتھ میں کیسے سونپ دوں !

یا اللہ یا اسے میرا کر دے یا پھر مجھے اس دل کو محسوس کرنے والی حس کو ختم کردے ۔۔۔

 

وہ بڑبڑایا 

 

🍁🍁

 

شہریار کے موبائل پر مسلسل کال آرہی تھی اس نے تنگ آکر کال رسیو کر کے بنا کال کرنے والے کا نمبر نام دیکھے فون کان سے لگایا 

 

شہریار آپ کہاں  غائب ہیں آپ کو میری زرہ بھی پرواہ ہے آپ نے کہا تھا کہ آپ رابطے میں رہیں گے 

کال رسیو ہوتے ہی پریشانی سے نسوانی آواز کانوں میں گونجی تو شہریار کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئ 

 

آیم سوری ! میں مصروف تھا اس لیے رابطہ نہیں رکھ سکا

دوسری طرف سے معزرت پر سائشہ نے ناک منہ چڑھایا 

 

ہمم آپ کو میری فکر ہوتی تو آپ رابطے میں رہتے بلکے آپ نے تو جان چڑوائ ہے مجھ سے بھلا کیوں خیر خیریت معلوم کریں گے میری ۔۔۔۔

 

بلکل نہیں سائشہ کیسی باتیں سوچ رہی ہیں ایسا کچھ نہیں ہے بس مصروفیت تھی ۔۔۔ 

شہریار نے جلدی سے کہا

 

کیا کام ہے جس کی خاطر آپ مجھے اکیلے چھوڑ کر چلے گئے ؟

سائشہ نے سوال کیا جس پر دوسری طرف خاموشی چھا گئ 

بولیں نا ؟

سائشہ نے سوال کیا 

 

شہریار آجائیں کھانا کھا لیں ۔۔۔

سائشہ نے فون کان سے لگایا ہوا تھا جب اس کے کان میں موبائل کی دوسری طرف سے آواز آئ 

 

یہ یہ کون ہے ؟ سائشہ نے بے چینی سے پوچھا 

 

میرے دوست کی وائف ہے میں ان سے ملنے آیا ہوں تو وہ کھانے پر بلا رہی ہیں اچھا میں فری ہو کر کال کروں گا آپ اپنا خیال رکھیے گا اللہ حافظ 

شہریار نے جواب دیتے جلدی سے الوداعی کلمات کہتے بنا اس کا جواب سنے کال کاٹ دی 

 

شہریار ۔۔۔ شہریار ۔۔۔ 

سائشہ اسے پکارتی رہ گئ مگر کال بند ہو چکی تھی 

 

وہ پریشانی سے موبائل بیڈ پر رکھتی عجیب کیفیت محسوس کرتی سکندر کی بات یاد کرنے لگی 

 

🍁🍁

شایان اس وقت سکینہ بی کے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا 

اس نے دروازے پر دستک دی تو دروازے اگلے کچھ لمحوں کے بعد کھلا

 

ارے شایان بیٹا آپ ؟

سکینہ بی نے تعجب سے ساتھ ہی مسکراتے ہوے کہا

 

اسلام و علیکم! جی وہ دراصل بھابھی نے مقدس کو ساتھ لانے کا کہا ہے 

 

 وعلیکم السلام اچھا بیٹا میں اسے بتاتی ہوں مگر تم اندر آؤ 

 

نہیں میں باہر ہی انتظار کرتا ہوں مجھے ایک کال بھی کرنی ہے تب تک آپ اسے بھیج دیں ۔۔۔ 

شایان نے کہا جس پر سکینہ بی سر اثبات میں ہلاتی اندر چلی گئیں 

 

اور شایان نے کسی کو کال ملائ اور اس سے کچھ باتیں کرنا لگا

 

کچھ دیر کے بعد جب شایان گاڑی سے ٹیک لگائے ایک پاؤں زمین پر جب کہ دوسرا پاؤں گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے رکھے ہوے تھا تو اسے دروازے سے نکلتی مقدس نظر آئ 

 

جس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر اس کی طرف نہیں دیکھا تھا 

مگر اسکی اپنی آنکھیں سرخ تھیں ۔۔۔

 

وہ بنا اس کی طرف نظر ڈالے گھوم کر گاڑی کی دوسری طرف آتے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئ 

 

شایان بھی بنا کچھ کہے گاڑی میں فرنٹ سیٹ سنبھال کر گاڑی چلانے لگا

 

دونوں کے درمیان گہری خاموشی تھی مگر شاید وہ ایک دوسرے کو اگنور کرنے کی کوشش میں تھے 

 

دل جیسے چیخ چیخ کر اظہار محبت کر رہے تھے مگر زبانوں پر جیسے قفل طاری تھا

 

سارا راستہ بنا کچھ کہے سنے گزرا یہ وہ پہلا سفر تھا جس میں وہ خاموش تھے مگر دل باتیں کر رہے تھے 

 

حویلی میں داخل ہوتے ہی شایان نے گاڑی پورچ میں آکر روکی مقدس بنا وقت ضائع کیے گاڑی سے نکلتی اور بنا روکے جلدی سے حویلی کے اندر کی جانب جاتی سیڑھیوں پر چڑ گئ 

 

شایان نے سیٹ کی پشت پر نڈھال سا سر گراتے اس کی پھرتیاں دیکھیں اور تکلیف سے آنکھیں موند لیں 

 

🍁🍁فریال نے میک اپ کی مدد سے چہرے پر لکھے لفظوں کو چھپا لیا تھا اب وہ اس کے چہرے پر نظر نہیں آرہے تھے مگر وہ میک اپ لگانے کی وجہ سے کافی خوبصورت لگ رہی تھے 

بڑی بڑی آنکھوں میں بھر بھر کر کاجل لگایا لمبی سیاح پلکوں پر مسکارا لگایا

ناک میں لونگ پہنے لبوں پر مہرون لپسٹک لگائے گہرے نیلے رنگ کے سوٹ میں وہ ملبوس آج سکندر کے دل پر بجلیاں گر رہی تھی 

 

وہ آج سے پہلے اس کے سامنے اتنا تیار نہیں ہوی تھی یہ بھی مجبوری تھی مگر اس مجبوری پر بھی سکندر فدا ہو چکا تھا 

 

خود پرگہری نظریں محسوس کرکے فریال نے رخ پلٹا 

 

ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں ؟

اس کے سوال پر سکندر نے چند قدموں کا فاصلہ تہہ کیا اور اس کے پاس جا کر کھڑا ہوا

 

مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم اس قدر حسین ہو کے مجھے ایسا لگتا کے آج سے پہلے میں نے کبھی کوی خوبصورت منظر دیکھا ہی نہیں ہے 

 

اچھا یعنی میں خوبصورت لگ رہی ہوں ! فری نے مسکرا کر کہا جس پر سکندر نے جھک کر اسکے ماتھے پر عقیدت سے بوسہ دیا ۔۔۔۔

 

بلکل بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔ 

 

میری نظروں کو بھا جانے والا خوبصورت منظر ۔۔۔۔ وہ بولا تو فریال مسکرائ 


Episode 8

 

فریال اور سکندر نیچے بیٹھی بی جان کے پاس آئے جو کہ اب بھی سائشہ کی اتری ہوی شکل دیکھ کر کافی پریشان تھیں 

 

ارے سائشہ بیٹا تم خود کو یوں ہلکان مت کرو

ایک دفع اس کو آنے دو اچھی خبر لوں گی کہ نئ نویلی دلہن کو چھوڑ کر وہ کونسی جنگ فتح کرنے گیا ہے ؟

 

بی جان نے لاڈ سے اسے اپنے ساتھ لگاتے کہا 

 

کہاں گئے ہیں شہریار بھائ ؟

فریال نے سکندر سے پوچھا 

 

کسی کام سےشہرگیا ہے کچھ دنوں کے لیے ۔۔۔

سکندر نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیتے ہی موبائل پر کسی کا نمبر ڈائل کیا

 

فریال جواب سن کر سر ہلاتی ہوئی بی جان اور سائشہ کی جانب بڑھ گئ 

 

سکندر نے کال رسیو ہوتے ہی سخت لہجے میں سلام دیا 

 

وعلیکم السلام کیا ہوا سکندر تم ٹھیک ہو اتنے غصے میں کیوں ہو ؟

 

شہریار نے پریشانی سے پوچھا کہ آخر وہ اس کے ساتھ اس قدر سخت لہجے میں بات کیوں کر رہا ہے 

 

تم کل ہی حویلی آؤ گے اور ہاں اگر تم حویلی نا آئے تو سمجھ لینا کہ میں سردار سکندر تمہارے لیے مر گیا 

 

سکندر نے مزید درشت لہجے میں اپنی بات کہی اور فون کاٹ گیا

 

کیا ؟ دوسری طرف شہریار کا پارا آسمان کو چھو رہا تھا 

 

تیری ہمت کیسے ہوی خود کے لیے یہ سب بولنے کی بہرحال میں تجھے اسکے لیے معاف نہیں کروں گا ۔۔۔

 

شہریار کہتے ہی فون بیڈ پر پٹخ گیا

پھر موبائل اٹھایا اور سائشہ کے نمبر پر کال کی 

جو کہ اٹھا نہیں رہی تھی کیونکہ موبائل کمرے میں پڑا تھا 

شہریار نے موبائل زور سے دیوار سے مارا کہ اس کے ٹوٹنے کی آواز کمرے سے باہر سے گزرتے سعد کو بھی گئ 

 

کیا ہوا شہریار تم ٹھیک ہو ؟

سعدنے کمرے میں آتے موبائل کے ٹکڑے زمین پر دیکھتے حیرت سے کہا 

 

کیونکہ وہ تو ہمیشہ پرسکون رہنے والا شخص تھا بھلا وہ ایسے بیہو کیوں کر رہا ہے ؟

 

سعد اس وقت مجھے بہت غصہ آرہا ہے تم جاؤ یہاں سے ۔۔۔

شہریار نے گہرا سانس لیتے کہا

 

بلکل نہیں دوست تو ہوتے ہی اسلیے ہیں کہ اپنے دوست کے غصے کا نشانہ بن سکیں تم اپنا غصہ مجھ پر اتار لو ۔۔۔ پر بتاؤ تو ہوا کیا ہے اس طرح کیوں غصہ کر رہے ہو 

 

سعد نے مسکرا کر کہتے اسکے پاس جاتے بیڈ پر بیٹھتے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا

 

یار ۔۔۔ تم جانتے ہو میرے لیے میری فیملی کتنی امپوٹینٹ ہے اور دوسری طرف میرا ملک ہے 

 

میں نے اگر اس کی حفاظت کی زمہ داری لی ہے تو مجھے اسکو پورا بھی کرنا ہو گا

 

شہریار کی بات پر سعد نے سر اثبات میں ہلایا 

 

لیکن میں یہ مشن پورا ہونے سے پہلے کسی کو کچھ نہیں بتا سکتا کہ میں ایک سیکرٹ ایجنٹ ہوں 

 

اور کل سے ہمارے مشن پر کام شروع ہونے والا ہے اب اس طرح اگر میں ہی چلا گیا تو کیسے ہم اپنے دشمنوں سے ان معصوم بچوں کو محفوظ کر پائیں گے جو اسوقت دشمن کے یرغمال بنے ہوے ہیں ؟

 

شہریار نے اپنی پریشانی بتائ 

 

دیکھو تم بلکل ٹھیک کہہ رہے ہو ۔۔۔ اس طرح تمہاری دس منٹ کی غیر موجودگی بھی پوری ٹیم کے حوصلے کو نقصان پہنچا سکتی ہے 

 

تمہیں یہاں سے جانے کی اجازت تو سر بھی نہیں دیں گے ۔۔۔

 

اسکی بات سن کر شہریار نے سر جھکا لیا

اور پریشانی سے آنکھیں موند لیں ۔۔۔

 

میں کوی سلیوشن دوں ؟ دروازے سے جھانکتی ایک نوجوان لڑکی جو اس وقت قمیض کیپری پہنے ہوے تھی ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھامے وہ بولی 

 

بھابھی آپ آئیں پلیز ۔۔۔ وہ سعد کی بیوی تھی اس لیے شہریار جلدی سے اس کی آواز پر کمپوز ہوتے ہوے بولا

 

شہریار تم ملک اور فیملی میں سے کسی ایک چیز کو چن لو تو تمہیں آسانی ہو گی 

فاطمہ نے شہریار سے کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا 

 

جان سے پیاری دونوں چیزوں میں سے کسی ایک کو چننا تو ایسے ہی ہے جیسے یا سانس کو چنو یا دل کے دھڑکنے کو 

 

دونوں ہی چیزیں جیںے کے لیے ضروری ہیں ۔۔۔

 

فاطمہ شہریار کی بات پر مسکرائی 

تو پھر سانس کو چنو اور سمجھو دل پتھر کر لو ۔۔۔ دھڑکے گا ضرور مگر محسوس مت کرو 

 

فاطمہ کی بات پر شہریار پریشان ہو گیا 

 

🍁🍁

فریال بی جان کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی جب اسے حویلی کے داخلی دروازے سے مقدس آتی ہوی نظر آئ 

 

بدتمیز لڑکی جب میں صبح آی تھی تو تم نے اتنا لمبا گھونگھٹ لیا ہوا تھا اور اب سب کے ساتھ گپئیں مار رہی ہو ۔۔۔۔

 

مقدس نے لہجہ شوخ رکھتے اس کے پاس آتے کہا 

بی جان بھی مسکرائیں 

 

ہاں دراصل مجھے آج صبح ہی یاد آیا کہ دلہنیں گھونگھٹ ڈال کر رکھتی ہیں اور ان کے میاں آکر ان کے گھونگھٹ اٹھاتے ہیں بس وہ میں یہ بات پہلے بھول گئ تھی اس لیے سوچا آج کروں 

 

اس نے بھی شوخ لہجے میں جواب دیا جس پر وہاں موجود سب لوگ ہسنے لگے 

جب کہ سکندر بھی مسکراتا ہوا سر نفی میں ہلاتا باہر چلا گیا

 

جہاں باہر گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھے شایان کو اداس دیکھ کر وہ پریشان ہوا

 

اس نے گاڑی کی دوسری جانب جاتے آگے کی سیٹ پر بیٹھتے اس کو چونکا دیا

 

بڈی آپ ۔۔ وہ جو کسی سوچ میں محو تھا اسے دیکھ کر بولا

 

ہمم میں چلو کچھ دیر باہر چلتے ہیں ۔۔۔ 

سکندر نے کہا جس پر شایان نا نہیں کہہ سکا اس لیے گاڑی سٹارٹ کی اور حویلی سے گاڑی باہر لے گئے 

 

🍁🍁🍁

 

شہریار پریشان سی حالت میں ادھر ادھر ٹہل رہا تھا جب کہ اس کا موبائل بری طرح ٹوٹ چکا تھا جس کی وجہ سے اب اسے موبائل کو دیکھ کر دکھ ہو رہا تھا کہ اس نے جلد بازی میں توڑ دیا اب وہ کسی بھی قسم کا رابطہ کیسے کرے گا 

 

یہ اسکا مشن کا پہلا دن تھا اس کو بری طرح سے دل و دماغ میں سکندر کے لفظ گونجتے سنائ دے رہے تھے 

 

مگر وہ یہاں سے جاکر بہت سے بچوں کا مستقبل برباد نہیں کر سکتا تھا 

اسے یقین تھا کہ سکندر اس قدر بے وقوفانہ حرکت نہیں کرے گا 

 

وہ جانتا ہے کہ خود کشی حرام ہے اور وہ زرہ سی بات پر اپنی آخرت برباد نہیں کرے گا 

مگر اس کو فرق پڑتا تھا سکندر کی ناراضگی سے 

 

وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا جب اس کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوی 

 

جی آجائیں ۔۔۔ 

شہریار نے دستک دینے والے کو اجازت دی تو 

فاطمہ اندر آئ جس نے بلیک کلر کی شرٹ کے ساتھ بلیک کلر کی ہی فلیکسیبل  پینٹ پہن رکھی تھی جس پر اس نے لمبا کالے رنگ کا کوٹ بھی پہن رکھا تھا جس سے اسکا سارا جسم بھی ڈھانپا ہوا تھا 

 

سر پر کالے رنگ کا حجاب پہنے وہ لڑکی بہت خوبصورت تھی گوری رنگت اس کے چہرے کے گرد لپیٹے ہوے کالے سکارف سے مزید چمک رہی تھی 

 

بھابھی آپ ؟ 

اس نے اسکی موجودگی پر سوال کیا 

 

ہاں اگر اب تم اپنی بیوی کی یادوں سے باہر نکل آئے ہو تو ہم چلیں پوری ٹیم وہاں پہنچ چکی ہے ۔۔۔ 

فاطمہ کے اور شہریار کے دوستانہ تعلقات تھےاس لیے وہ مسکراتے ہوے بولی 

 

نہیں میں انہیں تو نہیں سوچ رہا تھا وہ خجل ہوتا سر جھکاتے ہوے بولا 

 

اہہہ دیکھو مجھے اس بار ہیر ٹپ دے کر جانا کہ آخر کیا لگاتے ہو ہم لڑکیوں سے زیادہ خوبصورت بال تو تمہارے ہیں ۔۔۔ 

وہ مسکراتے ہوے بولی 

تو شہریار بھی سر جھکائے ہی مسکرا دیا اسے فورا سائشہ کا خیال آیا جسے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانا پسند تھا 

 

وہ مسکراہٹ مزید خوبصورت ہوی تو فاطمہ نے نظریں ہٹائیں اب اس طرح مت مسکراؤ شادی شدہ لڑکی ہوں میں بہک گئ تو۔۔۔۔ فاطمہ نے کہا جس پر شہریار نے فوراً کھانسی کی 

 

استغفرُللہ بھابھی میں تو بس ۔۔۔ وہ کچھ کہنے لگا جب اسکی بات کو فاطمہ نے ٹوکا 

 

ہاں ہاں استغفرُللہ بھابھی میں تو سائشہ کو یاد کرتے مسکرایا تھا ۔۔ اس نے ٹوکتے ہوے اس کا بقیہ جملہ اسکی ٹون میں کہا جس پر اس کمرے کے کھلے ہوے دروازے سے داخل ہوتے اسعد نے قہقہ لگایا 

 

یار مطلب کچھ بھی ۔۔۔ شہریار نے شرمیلے انداز میں اسعد کو دیکھتے کہا 

 

ہاہاہا یار ابھی تو تمہاری بچت ہو گئ ہے یہ میری جو مسسز ہیں بہت کام کی چیز ہیں اب تو مجھے لگتا ہے یہ لڑکا ہیں اور میں لڑکی 

اسعد نے مسکرا فاطمہ کے پاس آکر کھڑے ہوتے کہا 

 

شہریار مسکرایا ۔۔۔ آپ لوگ انتظار کریں میں بس ریڈی ہو کر آتا ہوں ۔۔۔ 

وہ کہتے ہی الماری سے کپڑے لیے واشروم میں بند ہو گیا 

 

اس معصوم کو تو بخش دو بیگم ۔۔ اسعد نے فاطمہ کو دیکھتے اس کے سکارف پر ہاتھ نرمی سے چلاتے کہا 

 

کیوں بھئ میرا اکلوتا دیور ہے اب آپ اکیلے بھائ تھے تو کیا ہوا آپ کا دوست بھی تو میرا دیور ہے اور بھابھیاں تو اپنے دیوروں کی اچھی واٹ لگاتی ہیں ۔۔۔ 

فاطمہ مسکرا کر شرارت سے بولی 

 

تم نہیں سدھرنے والی ۔۔۔؟ دیکھو تو وہ تمہارے جملوں پر شرم سے  لال پیلا ہو جاتا ہے

 

ہاہاہا ویسے سچ میں مجھے اس لڑکی پر رشک آتا ہے جس کو اس قدر نیک شخص ملا ہے 

دیکھو تو ٹیم میں اتنی لڑکیوں کے باوجود اس نے نظر اٹھا کر کبھی کسی کو نہیں دیکھا 

 

وہ اچھے سے لڑکیوں کی عزت کرنا جانتا ہے ۔۔۔۔

فاطمہ نے مسکرا کر کہا 

 

ہاں بھی ہمارے پیچھے تو دو ملکوں کی فوج لگی ہوی ہے نا ۔۔۔ وہ جلتے ہوے بولا 

 

ہاہاہا ۔۔۔ سعد آپ جیلس ہو رہے ہیں ۔۔ فاطمہ ہستے ہوے بولی 

 

ہاں تو مجھے نہیں پسند تم میرے علاؤہ کسی کو اتنا سوچو کہ اس بندے کا ایکسرے ہی کر لو ۔۔

سعد نے بچوں کی طرح منہ بناتے کہا 

 

اچھا ایم سوری آئندہ نہیں کروں گی مگر وہ نیک انسان ہے تو تعریف کے قابل تو ہے نا۔۔۔۔

 

فاطمہ کہتے ہی جلدی سے وہاں سے نکلی 

 

سعد بھی اسکے پیچھے نکلا 

ہاں میں کہہ تو رہا ہوں میں تو چور ہوں نا اور بڑے بنگلے لوٹ کر تمہاری مہنگی مہنگی چیزیں خریدتا ہوں ۔۔۔ 

اب ان دونوں کی چھوٹی موٹی لڑائ شروع ہو چکی تھی جو کہ ان کے لیے معمولی چیز تھی 

 

شہریار تیار ہو کر باہر نکلا ۔۔۔ ڑریسنگ کے سامنے کھڑے ہوتے اس نے خود پر طائرانہ نظر ڈالی 

 

اس وقت وہ بلیک کلر کی شرٹ کے ساتھ بلیک کلر کی پینٹ پہنے بلیک ہی جوتے پہنے وہ اپنے لمبے بالوں کو سیٹ کرتے اس پر ہڈی کی کیپ دے گیا ۔۔ 

چہرے پر ماسک لگائے ۔۔۔ اس نے پرفیوم چھڑکا ۔۔۔۔ اپنی واچ دائیں ہاتھ میں باندھتے اس نے بلو تھتھ اپنے کان میں لگائے جو اس کے موبائل کے ساتھ اٹیچ ہو چکے تھے (وائیر لیس اٹیچمنٹ)

 

وہ جلدی سے تیار ہوتا ۔۔۔ آخر میں وائلٹ میں پڑی سائشہ کی تصویر کو دیکھ کر مسکرایا

 

مجھے یقین ہے کہ آپ مجھے مس کر رہی ہوں گی مگر میں جلد اپنا کام ختم کرکے آپ کے پاس آجاؤں گا 

دعاؤں کی ضرورت ہے دعا کیجیے گا ۔۔۔ 

وہ کہتے اس کی تصویر کو دل کے مقام پر رکھ کر آنکھیں سکون سے موند گیا 

🍁❤️🍁

 

شایان اور سکندر حویلی داخل ہوے تو رات کافی ہو چکی تھی 

وہ دونوں ایک دوسرے کو بنا مزید کچھ کہے اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھے 

بی جان بھی سو چکی تھیں ۔۔۔

 

سائشہ کو شہریار کی یاد بری طرح سے ستا رہی تھی اس لیے وہ سو نہیں پائ تھی 

اب اسے پیاس کا احساس ہوا تو اس کے بیڈ کے پاس سائیڈ ٹیبل پر جگ تو تھا مگر خالی 

 

اس نے خالی جگ دیکھ کر منہ بنایا پھر بیڈ سے اتری پاؤں میں جوتے اڑیسے اور دپٹہ ٹھیک کرتی وہ جگ اٹھائے کمرے سے باہر نکلی 

 

وہ سیڑھیوں سے نیچے آی اور کیچن کی جانب بڑھی 

 

مگر کیچن میں پہلے سے سلمہ بیگم کو دیکھ کر گلا مزید خشک ہو گیا 

 

اب وہ بے دھیانی میں اندر تو اچکی تھی اب وہ سلمہ بیگم سے بچنے کے لیے نظریں چرانے لگی 

 

جب کہ سلمہ بیگم جو لیٹ نائیٹ کافی پینے کے لیے کیچن میں آئ تھیں اسے وہاں دیکھ کر ان کا غصہ ساتویں آسمان کو پہنچ گیا 

 

اسلام و علیکم آنٹی کیسی رہی آپ کی پارٹی ؟

سائشہ سلمہ بیگم کی نظریں خود پر محسوس کرتے مرتے کیا نا کرتے آخر میں خود ہی بات کا آغاز کر گئ جب کہ جواب کیا ہوگا اسے اچھے سے معلوم تھا 

 

اچھی تھی تم بتاؤ شہریار کہاں ہے ؟ کیا وہ سو گیا ؟

 

حسبِ توقع جواب نا پا کر سائشہ نے چونک کر سلمہ بیگم کو دیکھا 

 

جج وہ دراصل وہ شہر گئے ہوے ہیں ۔۔۔ 

اس نے گلا تر کرتے جواب دیا ۔۔ اسے حویلی کے کسی شخص سے خوف نہیں آتا تھا ہاں مگر اپنی ساس سے وہ کافی حد تک خوفزدہ رہتی تھی

 

ہمم ۔۔ تم نے کیچن میں میٹھے کی  رسم کر لی ؟

 

اس بار پھر سائشہ نے ان کے نارمل رویے پر حیرت سے سلمہ بیگم کو دیکھا 

 

جواب نا پا کر سلمہ بیگم اپنی کافی کپ میں ڈالتی اس کے پاس آئیں ۔۔۔

تاثرات سے عاری چہرہ 

 

بتایا نہیں تم نے ؟

وہ پھر سے سوالیہ ہوئیں 

نہیں ابھی نہیں ۔۔۔ سائشہ نے خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوے لمبی سانس لیتے کہا 

 

ٹھیک ہے کل تیار رہنا کل تم میٹھے کی رسم کرو گی ۔۔ اور ہاں اپنے گھر والوں میں سے کسی کو بلانا چاہتی ہو تو تم بلا سکتی ہو ۔۔۔۔

 

سلمہ بیگم نے نارمل لہجے میں کہ

 

مم میرے پاس سوائے شہریار کے اور اس حویلی کے لوگوں اور کوی اپنا نہیں ہے ۔۔۔

سائشہ نے تکلیف سے کہا 

 

ماں باپ بہن بھائ نانا نانی دادا دادی چچا چچی مامو 

اتنے سارے رشتے ہوتے ہیں ایک انسان کے کیا کوی بھی نہیں ہے ؟

 

سلمہ بیگم نے حیرت سے سوال کیا 

 

جی دراصل ماما کا کوی بھائی نہیں تھا اور بابا کی دیتھ  کے کچھ عرصہ بعد ہی ماما کی دیتھ ہو گئ 

اس کے بعد میں چچا چچی کے پاس ہی رہتی تھی مگر اب میرا ان سے کوی تعلق نہیں کیونکہ شہریار کو میرا ان سے ملنا پسند نہیں ہے ۔۔۔

 

سائشہ نے ساری بات بتائ 

 

سلمہ بیگم کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ بکھری مگر وہ جلد خود کو کمپوز کرتی سر ہلاتی کیچن سے چلی گئیں 

 

سائشہ گہرا سانس بہال کرتے دھڑام سے کرسی پر بیٹھی ٹیبل پر پڑے پانی کے جگ سے گلاس بھر کر پانی پیا ۔۔۔ مگر گلا تھا کہ خوف سے اب بھی تر نہیں ہو پایا 

ایک اور گلاس پیتے اس نے سر ٹیبل پر رکھا 

 

کیا یہ اماں سائیں تھیں جنہوں نے مجھے اتنے نرم لہجے میں بات کی ۔۔؟

 

وہ خود سے سوالیہ ہوی ۔۔۔جیسے یقین کرنا بہت مشکل تھا مگر کچھ لمحوں بعد وہ مسکرائی 

 

شکر ہے اماں سائیں مجھے آہستہ آہستہ قبول کرنے لگی ہیں اب میں زیادہ وقت ان کے ساتھ رہوں گی تو شہریار کے آنے سے پہلے اماں سائیں میری دوست بن گئ ہوں گی 

 

وہ بچوں کی طرح خوش ہوتی یہ بھول گئ تھی کہ گرگٹ رنگ بدلتا ہے مگر اسکی فطرت کبھی نہیں بدلتی ۔۔۔۔

 

عقل مند وہی ہے جو دشمن کے بدلتے تاثرات کو بھانپ لے نا کہ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر سمجھ لے کے اس کے دل میں آپ کو لے کر کوی بال نہیں ہے 

 

وہ کہتے ہیں نا چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نا جائے ۔۔۔

 

ہم انسان ایسے ہی کسی پر یقین کر لیتے ہیں اور کبھی کبھار ہمارا یقین ٹوٹتا ہے تو ہمارا وجود اور ہمارا اعتماد بھی ٹوٹ جاتا ہے 

جس کو بہال کرنے کے لیے ہمیں صدیاں درکار ہوتی ہیں 

Episode 9 &10

Season 2 

🍁🍁🍁

 

سائیں ۔۔۔۔۔ 

سکندر کمرے میں داخل ہوا تو وہ  اپنے نام کی پکار پر مسکرایا 

جی جانِ سائیں 

وہ محبت سے گویا ہوا ۔۔۔

 

ارے ارے بڑا پیار آرہا ہے آج تو ۔۔۔ فریال اس کے پاس آتے بولی 

 

بیوی سے پیار کرنا تو سنت ہے نا ۔۔۔ سکندر نے جیسے جتایا  فریال مسکرای 

 

ہمممم ۔۔۔ اور جب مجھ سے لڑتے جھگڑتے ہیں تب ؟

وہ سوالیہ ہوی 

 

میں کب جھگڑتا ہوں تم ہی ہر وقت لڑاکا طیارہ بنی بیٹھی ہوتی ہو اور بنا بات کے مجھے سے جھگڑتی ہو

 

سکندر نے اپنے کندھے جھاڑتے سارا الزام اس پر لگا دیا 

 

ایک منٹ ایک منٹ! 

کیا کبھی تالی ایک ہاتھ سے بجتی دیکھی ہے ؟

فریال نے کہاجس پر سکندر نے نا سمجھی سے سر نفی میں ہلایا 

 

وہی تو ۔۔ جب تالی ایک ہاتھ سے نہیں بج سکتی تو بتائیں لڑائ ایک طرف سے کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔

 

جب ایک جھگڑا شروع ہوتا ہے تو غلطی دونوں طرف سے کی جاتی ہے نا کہ ایک طرف سے سمجھے ۔۔۔

فریال اسے انگلی اٹھا کر وارن کرتی بولی 

اوکے جی آپ کی بات کو اپنے پلو سے باندھ لیتے ہیں 

سکندر نے مسکرا کر کہا 

 

آپ دپٹہ تو نہیں کرتے پھر پلو سے 

کیسے باندھیں گے ؟

فریال نے ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھتے سوچنے کے انداز میں کہا 

 

ہاہاہا ۔۔۔ یار اب میں لڑکیوں کی طرح دپٹے تو کرنے سے رہا ۔۔۔

سردار سکندر کی بجائے خواجہ سراؤں کا سردار لگنے لگوں گا 

 

ہاہاہاہاہاہاہا سائیں آپ دپٹے میں کیسے لگئیں گے ۔۔۔ فریال کو ایک اور مستی سوجی 

نو نو ۔۔۔ بلکل نہیں ۔۔۔ سکندر نے دو قدم پیچھے لیے 

 

پلیز سائیں پلیز ۔۔۔ 

فریال نے بچوں کی طرح منہ بناتے کہا 

نہیں بلکل نہیں ۔۔۔ 

سکندر نے صاف انکار کر دیا 

 

اور وہ جا کر بیڈ پر بیٹھ گیا جب کہ فریال بھی اس کے پیچھے گئ اور اپنے گلے سے دپٹہ نکال کر اس کے پاس رکھا ۔۔۔ 

سائیں ایک دفع پلیز ۔۔ آپ میرے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتے ۔۔۔۔

 

فری کیا تم پاگل ہو گئ ہو مجھے دپٹہ پہنانا چاہتی ہو ۔۔۔

تم جانتی ہو دپٹہ پہننے والے مرد کیا کہلاتے ہیں ؟

 

سکندر نے سنجیدگی سے فریال سے کہا جس پر فری نے چند لمحے اسے دیکھا پھر گہرا سانس لیا

 

میں نے سنا تھا مرد محبت میں اپنی عورت کے لیے مجرہ کر سکتا ہے آپ کو تو بس دپٹہ پہننے کو بولا تھا

 

سکندر نے فری کی بات پر گہرا سانس لیا 

تاریخ میں یہ بات لکھی جائے گی کہ سردار سکندر جو کبھی کسی کے آگے نہیں جھکتا تھا محض اپنی بیوی کی خاطر خود کو بدل رہا ہے 

 

تم مجھے میں نہیں رہنے دو گی ۔۔ سکندر نے کہتے ہی دپٹہ اٹھا کر ہاتھ میں لیا

 

فریال نے جلدی سے دپٹہ اس کے ہاتھ سے پکڑ لیا

عورت کو اتنا نا سمجھ مت سمجھیں مسٹر سردار سکندر عورت محض ایسی خواہشات اپنے پسندیدہ مرد سے ہی کرتی ہے اور اپنے محرم رشتے سے ہی کرتی ہے 

 

وہ کہتے ہی اس کے پاس سے اٹھی جب کہ سکندر چند پل کے لیے سن ہو گیا

ہوش تب آیا جب کھڑاک سے دروازہ بند ہوا 

 

پسندیدہ مرد ۔۔۔۔ سکندر نے شاک سی کیفیت میں لفظ دہرائے 

پھر ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر ابھری آنکھوں میں حیرت واضح تھی مگر چند پلوں بعد وہ کھل کر مسکرایا 

اتنا مسکرایا کہ شاید ہی اس نے اتنی خوبصورت مسکراہٹ کسی بات پر بکھیری ہو گی 

 

خود کا خاص بن جانے کا احساس نے اسے مسکرانے پر مجبور کر دیا

اپنی پسندیدہ عورت کے منہ سے خود کے لیے پسندیدہ مرد سن کر دل کو تہہ گہرائیوں سے خوشی محسوس ہوی 

 

دیکھو نا مرد بھی کتںا معصوم ہوتا ہے وہ باہر سے جتنا سخت دل اور بد مزاج نظر آتا ہے اندر سے اتنا ہی نرم ہوتا ہے ہر جاندار شے کے اندر ایک سافٹ کارنر ہوتا ہے جو اس کے پسندیدہ شخص کی موجودگی میں ہی بس محسوس ہوتا ہے 

 

ہم تیری موجوگی میں جو مسکرائے 

تجھے لگا یہ مسکراہٹ ہر کسی کے لیے ہے 

 

🍁🍁

 

صبح کے وقت سب ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے تھے مگر بی جان کمرے سے ابھی تک باہر نہیں آئیں تھیں جب کہ دوسری طرف شایان بھی غائب تھا

 

فریال اپنی کرسی سے اٹھی اور بی جان کے کمرے کی طرف بڑھی تاکہ ان کو ناشتے پر لا سکے 

 

تبھی نوکرانی نے آکر کہا

سردار جی چھوٹے سائیں تو کمرے میں نہیں ہیں ۔۔ 

اس نے آکر سردار سکندر سے کہا جس نے اسے شایان کو بلا کر لانے کو کہا تھا 

سکندر نے سر اثبات میں ہلایا اور فون اپنے کرتے کی جیب سے نکالا اور کسی نمبر پر کال ملائ 

 

فریال بی جان کے کمرے کے دروازے پر دستک دیتی اندر داخل ہوی 

 

سامنے بی جان صوفے پر سر صوفے کی پشت پر گرائے آنکھیں موندیں بیٹھی تھیں 

 

ارے بی جان سب باہر آپ کا ناشتے پر انتظار کر رہے ہیں اور آپ یہاں بیٹھی ہیں 

بی جان نے فریال کی موجودگی محسوس کر کے بھی آنکھیں نہیں کھولیں 

 

بیٹا مجھے اس وقت اکیلے رہنے دو تم سب ناشتہ کرو 

انہوں نے آنکھیں بنا کھولے ہی کہا

 

بی جان ۔۔۔ فریال نے ان کے پاس بیٹھتے ان کے ہاتھ تھامیں 

آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ؟ آپ اس طرح کیوں کہہ رہی ہیں کیا میری موجودگی آپ کو تنگ کر رہی ہے ؟

فریال کی بات پر بی جان نے آنکھیں کھولیں 

آنکھیں لال تھیں 

 

نہیں بیٹا تم سب تو میری زندگی کی وجہ ہو ورنہ کب کی اس دنیا سے جا چکی ہوتی 

تم سب بچوں کی وجہ سے ہی تو مجھے اللہ سےتھوڑی اور زندگی مانگنے کو جی چاہتا ہے 

 

وہ ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ بولیں 

بی جان آپ مجھے بیٹی کہتی ہیں نا تو پھر مجھے یہ جھوٹی مسکراہٹ سے دھوکہ مت دیں 

میں جانتی ہوں تھوڑی احمق ہوں تھوڑی زبان بھی چلاتی ہوں مگر آپ جانتی ہیں نا آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں 

بابا کے بعد مجھے آپ سے پیار ہے اس طرح آپ مجھ سے باتیں چھپائیں گی تو مجھے اچھا نہیں لگے گا

 

فریال نے محبت سے کہا جس پر بی جان سیدھی ہو کر بیٹھیں 

دراصل شایان حویلی چھوڑ کر چلا گیا ہے 

بی جان نے بات بتائ جس پر فریال بھی شدڑ رہ گئ 

 

مگر کیوں کیا اسے کسی نے کچھ کہا تھا کسی سے لڑائ ؟

فریال نے سوال کیے 

 

نہیں معلوم بیٹا بس رات وہ مجھ سے ملنے کمرے میں آیا تھا اور اسنے اپنی قسم دی تھی کہ میں اسے نا روکوں 

پر میں جانتی ہوں کچھ تو بات تھی جو اسے بری طرح سے اندر سے کاٹ رہی تھی کہ اس نے بنا کسی کو خبر دیے اپنے آپ کو حویلی سے دور کر لیا

 

بی جان نے ساری بات بتائی جس پر فری پریشان ہوگئ 

 

🍁🍁

 

کیا مطلب ہے کہ کچھ معلوم نہیں ؟

وہ حویلی سے غائب ہے اور تم سب کو کچھ نہیں معلوم رات بھر یہاں پہرے داری پر کیا چرس پی کر کھڑے ہوتے ہوکہ تمہیں معلوم نہیں کہ شایان کب گیا ؟

 

سکندر اس وقت آپے سے باہر ہوتا اپنے گاڑزپرچلا رہا تھا 

جب کہ دس آدمی جو کہ گاڑز کی بلیک یونیفارم پہنے ہوے تھے نظریں جھکائے کھڑے تھے 

 

سائیں دراصل رات کو افضل ڈیوٹی پر تھا تو ہوسکتا ہے اسے کچھ معلوم ہو 

سکندر کے خاص آدمی جعفر  نے دھیمی آواز میں اس کے دائیں جانب کھڑے ہوتے کہا

 

افضل کہاں ہے ؟ سکندر نے بنا کسی نرم لہجے کے ہنوز سخت برہم لہجے میں سوال کیا

 

جی سائیں ۔۔۔ دوسری طرف سے افضل چوکیدار نے جی حضوری کی 

شایان کب گیا حویلی سے ؟

 

جی سائیں رات دو بجے ۔۔ اس نے نظریں جھکا کر کہا کیونکہ سردار کو جھکے سر نہیں پسند تھے کیونکہ سرہمشہ رب کی بارگاہ میں جھکتا ہے 

 

تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ؟

سکندر نے لال بھبھوتے چہرے کے ساتھ کہا

 

سائیں چھوٹے سائیں نے منع کیا تھا کہ کسی کو معلوم نا ہو ۔۔۔ 

 

کیا وہ سامان لے کر گئے  تھے ؟جعفر نے سکندر کے سخت لہجے پر جلدی سے افضل سےپوچھا 

 

جی ہاں کچھ سامان بھی تھا ۔۔۔ افضل نے جعفر کو جواب دیا

 

جعفر گاڑی نکالو سکندر نے سخت لہجے میں کہا 

جعفر نے اس کے حکم پر سر اثبات میں ہلایا اور جلدی سے قدم پیچھے لیے 

 

شایان ۔۔۔۔ سکندر نے آنکھیں زور سے میچ کر اس کا نام پکارا ۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁🍁

 

مقدس بیٹا تم صبح سے کمرے سے نہیں نکلی کیا بات ہے آخر ؟

سکینہ بی مقدس کے کمرے میں جھانکتے ہوے بولیں جو فجر پڑھ کر پھر سے بستر میں دبکی پڑی تھی 

 

اماں میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لیے باہر نہیں آئ ۔۔۔ 

سکینہ بی کی آواز پر وہ لحاف سے گول مٹول سا سرخ و سفید چہرہ باہر نکالتے بولی 

 

سکینہ بی کمرے میں آئ اور اس کے بستر پر بیٹھ کر اس کے ماتھے کو چھوا 

 

تمہیں تو بہت تیز بخار ہے میرا بچہ تم نے بتایا ہی نہیں ۔۔۔ 

سکینہ بی نے محبت سے نرم لہجے میں کہا 

 

مقدس مسکرای اور اٹھ کر بیٹھی 

اماں آپ پریشان مت ہوں بس زرا سا بخار ہی تو ہے بس آرام کروں گی تو ٹھیک ہوں جاؤں گی 

 

مقدس نے کہا 

 

بلکل نہیں ایسے کب کسی کی طبعیت ٹھیک ہوی ہے بھلا یہ ڈاکٹر لوگ کیا جھک مارنے کے لیے بنے ہیں اگر بنا دوا کے انسان ٹھیک ہو جاتا تو 

 

ہاہاہا اماں آپ بھی نا ۔۔۔ 

اچھا یہاں گاؤں میں جو ڈاکٹر ہیں آپ ان سے لے آئیں دوا میں کھا لوں گی 

 

مقدس نے کہا ۔۔۔ جس پر سکینہ بی نے فوراً سر نفی میں ہلایا 

جب تک مریض نہیں جائے گا بھلا وہ ڈاکٹر صاحب کیسے دوا دے سکتے ہیں ؟

 

سکینہ بی کی بات پر مقدس نے گہرا سانس لیا 

اماں مجھ میں ہمت نہیں ہے اٹھنے کی پلیز ۔۔۔

وہ اب کی بار تھک کر بولی 

 

سکینہ بی نے چند پل اسے دیکھتی رہیں پھر اٹھیں بنا کچھ کہے کمرے سے نکل گئیں 

 

🍁🍁🍁

 

اسلام و علیکم پھپھو کیسی ہیں ؟ فریال نے کال رسیو کرتے کہا 

وہ اس وقت اپنے کمرے میں تھی سکندر تو حویلی تھا نہیں اس لیے وہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھی تھی جب اس کے موبائل پر پھپھو کی کال آئ 

 

وعلیکم السلام میری بچی میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو ؟

میرا داماد کیسا ہے ۔۔۔ حویلی میں سب کیسے ہیں ؟ 

 

سکینہ بی نے کہا جس پر فریال نے مسکرا کر سب کی خیریت بتائ 

 

بیٹا دراصل تمہاری اس بے وقوف کزن کی طبعیت خراب ہے اور اسکی ضد ہے کہ وہ ڈاکٹر کے پاس نہیں جائے گی 

اب تم ہی بتاؤ میں کیا کروں ؟

 

سکینہ بی نے مسلہ پیش کیا جس پر فریال بھی پریشان ہوی 

ہممم ۔۔ اچھا میں ڑرائیور کو بھیج دیتی ہوں آپ اسے لے جائیں ۔۔۔

 

کیا تم خود نہیں آسکتی ؟

سکینہ بی نے چونک کر کہا جہاں تک ان کو امید تھی وہ ضرور خود آنے کا کہتی مگر اس کی بات پر سوالیہ ہوئیں 

 

بی جان کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے ان کو میری ضرورت ہے اور آپ نے ہی تو کہا تھا شادی کے بعد لڑکی کی پہلی زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کا خیال رکھے ۔۔۔

 

فریال نے کہا جس پر سکینہ بی مسکرائیں 

 

ماشاءاللہ بہت سمجھدار ہو گئ ہو ۔۔۔ سکینہ بی مسکرا کر بولیں 

 

جی وہ تو ہے ۔۔۔۔فری ہستے ہوے بولی پھر کچھ باتوں کے بعد وہ ڑراییور کو بھیجنے کا کہتی کال بند کرتی کمرے سے نکلی 

 

ڈرائیور کو سکینہ بی کے گھر بھیج کر وہ لون میں چہل قدمی کرنے لگی 

 

اس نے سکینہ بی کو شایان کا اچانک حویلی سے چلے جانے کا نہیں بتایا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اسے اپنے گھر کی عزت کو بچانا ہے وہاں ہونے والے مسائل کا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا

 

عزت بچانی ہی ؟ مگر وہ تو لڑکیوں کی ہوتی ہے نا ۔۔۔ان کی غمشیدگی پر خاموشی سادھی جاتی ہے کہ کہیں دیواروں کو بھی معلوم نا ہو کہ گھر کی بیٹی غائب ہے 

 

مگر ہاں عزت عورت اور مرد دونوں کی برابر اہم ہے ۔۔۔

 

اگر ایک بد کردار عورت نا قابلِ قبول ہے تو اسی طرح جگہ جگہ منہ مارتا مرد بھی کسی طور پر قبول نہیں کیا جاتا 

 

🍁🍁🍁

 

سعد اور فاطمہ ابھی ٹیم کے ساتھ کھڑے تھے جب ایک لڑکی ان کے پاس آئ 

میم مجھے آپ سے ایک سوال کرنا ہے 

وہاں پاس ہی شہریار بھی کھڑا تھا جو اس پوری ٹیم کو لیڈ کر رہا تھا

 

لڑکی کے سوال پر فاطمہ نے اپنی خوبصورت آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا

 

دھوپ میں اس کے  سرخ و سفید چہرے کے گرد کالے رنگ کا دپٹہ لپٹے ہوے اس کی خوبصورتی کو اور بڑھا رہا تھا

 

جی بولو ۔۔۔ ؟ فاطمہ جو کسی اہم کام پر بحث کر رہی تھی اس لڑکی کی آواز پر اسکی جانب پلٹی 

 

میم میرا رشتہ آیا ہے۔۔۔۔ اور لڑکا مجھ سے عمر میں بڑا ہے ۔۔۔ 

پر میں جسے پسند کرتی ہوں وہ عمر میں چھوٹا ہے ۔۔۔

میں بہت پریشان ہوں کہ کیا کروں!

 

وہ لڑکی بولی تو صدا کی اس ٹاپک پر اچھلنے والی فاطمہ مسکرائ 

 

دیکھو گولی مارو پسند کو تم بس بڑے والے سے شادی کرنا۔ ۔۔۔

 

سعد نے چونک کر فاطمہ کے چہرے کی جانب دیکھا 

 

جب کہ وہ لڑکی بھی سوالیہ دیکھنے لگی 

جب کہ وہاں کھڑا شہریار سر جھکا کر مسکرایا 

 

میم وہ کیوں ؟

اس لڑکی نے سوال کیا

 

ارے یار دیکھو میری مانو تو بڑی عمر کا لڑکا بہتر رہے گا نا ۔۔۔ جب تم اپنی بیوٹی کھونے لگو گی اسکی  پہلے ہی نظر کمزور ہو چکی ہو گی ۔۔۔۔

 

فاطمہ نے چٹکی بجا کر کہا جس پر وہاں موجود سب نے زور دار قہقہہ لگایا

 

پر میم سعد سر تو آپ سے چھوٹے ہیں نا ۔۔۔ 

اس لڑکی نے سوال کیا

 

ہاں یار ۔۔۔ پتہ ہے مجھے ٹینشن رہتی ہے کہ جب میں بوڑھی ہو جاؤں گی تو یہ تو جوان ہو گا نا یہ دوسری شادی ہی نا کر لے ۔۔۔۔

فاطمہ کی اگلی بات پر سعد کا قہقہ گونجا

 

اووو تو مسسز آپ کو مجھے لے کے کر ان سیکیورٹی ہو رہی ہے ؟

سعد تو ہواؤں میں اڑنے لگا

 

فاطمہ نے اس کی جانب دیکھا تو مسکرائ 

 

پر میں نے تو اس کا انتظام کر رکھا ہے ۔۔۔ 

فاطمہ نے مسکرا کر کہا

 

کیا مطلب ؟ سعد سوالیہ ہوا

 

وہ اس دن جو پیپر سائن کروایا تھا نا اس پر دراصل میں نے صاف صاف لکھوایا ہے کہ اگر آپ نے دوسری شادی کی تو آپ کی ساری پراپرٹی میرے نام ہو جائے کی آٹومیٹکلی ۔۔۔ اور جب آپ کنگلے ہوں گے تو کون بے وقوف آپ سے  دوسری شادی کرے گی۔۔۔۔

 

اس نے زبان چڑھاتے ہوے کہا

 

استغفرُللہ کیسی بیوی ہو کھلم کھلا لوٹنے بیٹھ گئ ہو ۔۔۔۔

سعد نے کانوں کو ہاتھ لگائے 

 

تو اور کیا ۔۔۔ محبت کی شادی میں اتنے چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے پڑتے ہیں ۔۔۔ فاطمہ نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوے کہا

 

محبت کی شادی میں انسان آدھا پاگل ہو جاتا ہے جب محبوب عورت آپ کو لے کر دنیا کی ہر چیز ٹھکرا دے ۔۔۔ اس کے لیے آپ سے بڑھ کر کوی اہم نا ہو ۔۔۔

 

سعد نے مسکرا کر کہا ۔۔۔ جب کہ شہریار کو شدت سے سائشہ کی یاد ستائ۔۔۔۔۔

 

وہ اس سے رابطہ کرنا چاہتا تھا مگر وہ جانتا تھا اگر ایک دفع اس کی روتی آواز سن لی یا اس نے اسے واپس آنے کا کہا تو وہ مزید اسے تکلیف دے کر یہاں نہیں رک پائے گا 

 

وہ آہستہ سے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ اسے جاتے دیکھ کر فاطمہ اور سعد دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا 

یاد آرہی ہے محترم کو فاطمہ نے دھیمی آواز میں کہا جس پر سعد نے بھی سر اثبات میں ہلایا 

 

ایک بار مشن پورا ہو جائے ۔۔۔ پھر ملنے چلیں گے ان سے جس کے لیے ہمارے بوس کی یہ حالت ہو چکی ہے 

سعد نے کہا 

مجھے بہت شوق ہے اس سے ملنے کا جس کے نصیب کو اللہ نے بڑی فرست سے سونے کے قلم سے لکھا ہے ۔۔۔ایسے لوگ بہت کم ہی ہوتے ہیں ۔۔۔۔

 

فاطمہ نے کہا جس پر سعد نے اسے گھورا ۔۔۔ 

 

ہاہاہا ۔۔۔ جل ککڑے ۔۔۔ فاطمہ اس کی جلن پر ہسنے لگی ۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

سکندر اس وقت جی ٹی روڈ پر تھا کہ اس کی گاڑی کے آگے اس کے گاڑز کی گاڑی تھی اور پیچھے بھی اس کے گاڑز کی گاڑی تھی 

 

گاڑیاں تیزی سے اپنے راستے پر گامزن تھی جب کہ سکندر کھڑی سے باہر کے منظر کو دیکھتے ان میں کسی یاد میں کھویا ہوا تھا 

 

جب وہ شایان کے ساتھ باہر گیا تھا تو وہ لوگ شہر کے خوبصورت ریسٹورنٹ میں کونے والے ٹیبل پر بیٹھے تھے 

شایان کی سوالیہ نظروں کو خود کے چہرے پر محسوس کرتا سکندر گہرا سانس لے کر اس کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔

 

کیوں اتنے اداس ہو ؟ 

پہلا سوال کیا جب کہ سامنے ٹیبل کے پار رکھی کرسی پر بیٹھا وہ ڈیشنگ سا لڑکا ۔۔۔ مسکرایا ۔۔۔ 

اسکی مسکراہٹ میں درد واضح تھا 

تکلیف آنکھوں سے بہنے کو بے تاب ۔۔۔ دل کی حالت تو اس سے بھی بری تھی 

 

سکندر کو اس کی تکلیف دہ مسکراہٹ سے مزید تکلیف ہوی ۔۔۔دل جیسے اس کی مسکراہٹ سے چھلنی ہو گیا 

کوی درد کے ساتھ کیسے مسکراتا ہے اسے شایان کی مسکراہٹ دیکھ کر اندازہ ہوا تھا 

 

آپ جانتے ہیں ۔۔۔۔ 

شایان نے چند لمحوں کے بعد نظریں پورے ریسٹورنٹ میں گھماتے ہوے کہا 

 

تو کیا ساری زندگی ایسے ہی رہنے کا سوچا ہے ؟

سکندر نے غصے سے کہا ۔۔ وہ اسے مرجھایا ہوا دیکھ کر غصہ ہوا تھا 

 

نہیں اگر وہ مل جائے تو جینے لگوں گا ۔۔۔ 

شایان نے سر جھکا کر کہا 

 

مجھے یقین نہیں آتا کہ تمہیں اس قدر محبت ہو گئ ہے اس سے ۔۔۔ سکندر نے نظریں شایان سے ہٹا کر ٹیبل پر پڑے گلاس پر گاڑھتے کہا 

 

آپ کو پتہ ہے بڈی محبت بڑی ظالم ہے اس کو پتہ ہے تکلیف ملے گی مگر پھر بھی ہو جاتی ہے 

اور آپ کو لگتا ہے کہ مجھے اس سے محبت ہے ۔۔۔ نہیں بڈی مجھے اس لڑکی سے عشق ہو گیا ہے ۔۔۔

ایسے لگتا ہے کہ کوی اس جیسا اس دنیا میں ہے ہی نہیں ۔۔۔

 

شایان نے کہا ۔۔۔ سر جھکائے اس قدر سنجیدہ لہجے میں بات کرتا وہ شایان نہیں لگ رہا تھا جو حویلی کی رونق ہوا کرتا تھا ۔۔۔

 

شایان تم جانتے وہ کسی کی منگ ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔۔۔

سکندر نے جیسے سمجھانا چاہا ۔۔۔

 

کوشش بھی نہیں ؟؟؟؟

شایان نے اگلے ہی لمحے کہا تھا اس کے انداز میں ایسے انصر تھے 

کہ مانو اگے سے جواب کی امید وہ ہاں میں رکھتا ہے 

 

نہیں ۔۔۔۔ 

تم جانتے ہو میں گاؤں کا سردار ہوں اگر ایسا کچھ ہوا کہ میں نے کسی کی منگنی تڑوای تو ہو سکتا ہے گاؤں کے لوگ بغاوت پر اتار آئیں ۔۔۔

 

سکندر کی بات پر شایان مسکرایا ۔۔۔ یعنی میرے لیے کچھ نہیں کر سکتے آپ ۔۔۔ 

خیر مجھے مدد نہیں چاہیے اب کسی کی میں ٹھیک ہوں ایسے ہی ۔۔۔

پر ہاں میں ایک دفع کوشش ضرور کروں گا بڈی ایک دفع کوشش کیے بنا نہیں رہوں گا ۔۔۔۔

وہ کہتے کرسی سے اٹھا بنا سکندر کی پیچھے سے آتی پکار پر رکے وہ ریسٹورنٹ سے نکلتا چلا گیا 

 

اففف یہ لڑکا پاگل ہو گیا ہے ۔۔۔ سکندر نے اسکی پشت کو دیکھتے کہا پھر ٹیبل پربند پیسے رکھتے وہ بھی اسکے پیچھے باہر نکل گیا 

 

گاڑی ابھی بھی راستے میں تھی جب سکندر کے نمبر پر کال آئ ۔۔

جسے دیکھتے ہی سکندر کی آنکھیں چمک اٹھیں جیسے اسی کے انتظار میں۔ بیٹھا تھا 

 

فوراً کال رسیو کرتے فون کان سے لگایا 

یہ کیا بیوقوفی کی ہے تم نے ؟ 

فون رسیو کرتے ہی اس نے انداز سخت رکھتے کہا 

 

بڈی ۔۔۔ دوسری جانب سے بڈی سن کر دل کو ایک بار پھر سکون ملا 

 

شانی کہاں ہو تم ۔۔۔ جانتے ہو نا پوری حویلی بت رونق ہے تمہارے بغیر ۔۔۔۔ 

سکندر نے تھکے ہوے لہجے میں کہا 

 

آپ ہیں نا سنبھال لیجئے گا ۔۔۔ دوسری طرف سے بھی الگ ہی انداز میں جواب آیا ۔۔۔

 

تمہاری کمی کیسے پوری کروں گا ؟

سکندر نے سوال کیا 

 

اسکی کمی بھی کوی پوری نہیں کرسکتا بڈی ۔۔ 

شایان نے دھیمے لہجے میں کہا 

 

میں وعدہ کرتا ہوں میں کوشش کروں گا ۔۔۔ وہ دلہن بنے گی تو بس تمہاری ۔۔۔ سکندر نے جلدی سے کہا 

 

اسکی ضرورت نہیں میں کوشش کر چکا ہوں ۔۔۔ 

اور بڈی ضروری تو نہیں ہے کہ ہم امیر لوگ ہر شہر انسان کے حقدار ہوتے ہیں ۔۔۔

اس نے رندھے لہجے میں کہا 

 

کیا تم نے اس سے بات کی ؟ سکندر نے سوال کیا 

 

چھوڑیں بڈی ۔۔۔ بس میں نے یہ بتانے کے لیے کال کی ہے کہ میں امریکہ واپس جا رہا ہوں ۔۔۔ 

 

شایان کی بات پر سکندر چونکا ۔۔۔

شایان بی جان کا سوچو وہ کیا کریں گی تمہارے بغیر ۔۔۔ 

 

بڈی اموشنل مت ہوں ۔۔۔ اگر میں یہاں رہا تو میں میں نہیں رہوں گا ۔۔۔ 

کیونکہ ماما میرے شادی مائرہ سے کروانا چاہتی ہیں ۔۔۔

اورعشق میں شرک نہیں کر سکتا میں پھر چاہے کچھ بھی ہو ۔۔۔۔

 

شایان کی بات پر سکندر نے گاڑی رکوائی ۔۔۔

 

دیکھو شایان ۔۔۔ جب وہ تمہیں ملے گی نہیں تو اس سے محبت کا کیا فائدہ ۔۔۔ ہو سکتا ہے تمہاری محبت اس کے لیے مسائل نا پیدا کرے ۔۔۔

 

گاڑی اب ایئرپورٹ کی جانب دوڑ رہی تھی 

 

وہ عشق ہی کیا جس کو منزل مل جائے بڈی ۔۔۔ 

کسی عاشق کو اس کی معشوق کہاں ملتی ہے 

میرے حصے میں یہ درد لکھا ہے سوملے گا مجھے 

اور ہاں ۔۔۔ میں اس درد کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں ۔۔۔

 

وہ کہتے آنکھیں موند گیا 

 

شایان بچے تم اس وقت بس تکلیف میں ہو ۔۔۔ میری بات سنو میں وعدہ کرتا ہوں اسے تمہاری دلہن بناؤں گا ۔۔۔

 

سکندر نے ایک بار پھر کہا 

اور اسکی روح ؟ 

کیا وہ کبھی میری ہو سکے گی ؟

 

بڈی میں چاہتا تو اسے گن پوائنٹ پر اپنا بنا لیتا 

پر بڈی میرا عشق مجھے اجازت نہیں دیتا کہ اسے تکلیف دوں بھلے خود گھٹ گھٹ کر مر جاؤں 

شایان نے کہتے بھیگی آنکھوں کے کنارے صاف کیے 

 

سکندر نے شایان کی بات پر سر جھکا لیا

 

بڈی آپ کو پتہ ہے دنیا میں بہت سے لوگ شادی شدہ ہیں ۔۔۔ مگر شادی کا مطلب نہیں جانتے

 

شادی کو محض دو لوگوں کے یا دو خاندانوں کے جڑنے سے تہہ پایا جاتا ہے 

پر نہیں بڈی 

 

شادی میں عورت کی روح کا مرد کی روح سے محبت کرنا ضروری ہے ۔۔۔ 

جہاں زبردستی یا اپنے رشتوں کو بچانے کے لیے اپنے ہی بچوں کی خوشیوں کو گروی رکھا جاتا ہے وہاں بس شادی ہوتی ہے ۔۔۔ 

وہاں محبت کبھی نہیں بن باتی

 

شایان کی بات پر سکندر نے گہرا سانس لیا 

 

تو کیا تم یہ کہتے ہو کہ میری اور تمہاری بھابھی کی محض شادی نام کی شادی ہے ؟

وہ جیسے کنفیوز ہو گیا تھا 

 

ہاہاہا بڈی بہت میسنے ہیں آپ ۔۔۔ فورا اپنی پڑ گئ آپ کو ۔۔۔ 

شایان نے ہستے ہوے کہا 

 

بتاؤ نا ۔۔۔ سکندر نے سوال کیا ۔۔۔ 

ساتھ ہی ہاتھ میں بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھا جس سے اس نے انداز لگایا کہ وہ گلے دس منٹ میں ائیرپورٹ پہنچ جائے گا 

 

بڈی آپ کی اور بھابھی کی شادی ہوی تھی محبت کی شادی ۔۔۔

آپ کیا آنکھوں میں ان کو لے کر ایک جزبہ تھا جو میں نے دیکھا تھا اوروہ۔۔بھی آپ سے محبت کرنے لگیں تھیں تبھی تو شادی کی 

 

ورنہ وہ جیسے پھل جھڑی ہیں نا آپ سے شادی نا کرنا چاہتی تو رات کے اندھیرے میں آپ کے منہ پر تکیا رکھ کر آپ کو ماردیا ہوتا ۔۔۔

 

شایان نے کہتے ساتھ قہقہ لگایا 

 

بکو مت ۔۔۔ وہ میری بیوی کوی جنگلی بلی نہیں ۔۔۔

سکندر نے اسےڈپٹہ 

 

ہاہاہا ۔۔۔ بڈی میرے خیال سے تو ان کو مافیا گرل ہونا چاہیے تھا ۔۔۔ یہ ڈھشم ڈھشم کرتی  وہ ۔۔۔

 

شایان کی بات پر سکندر نے جگر کھری لی 

تو اب کونسا کم ہے ۔۔۔۔ 

سکندر بڑبڑایا جس سے دوسری جانب شایان نے قہقہہ لگایا 

ساتھ ہی شایان کے نام کی Announcement ہوی تو وہ جلدی سے اٹھا 

اچھا بڈی حویلی کا اور سب کا خیال رکھیے گا ۔۔۔ 

اللہ حافظ 

 

کہتے ہی کال کٹ گئ ۔۔۔ جب کہ سکندر کی گاڑی میں ٹریفک میں پس گئ

 

شایان شایان میری بات سن ۔۔۔ 

سکندر نے کہا مگر کال کٹ چکی تھی

جب کہ دوسری بار کال ٹرائے کرنے پر فون بند ہوچکا تھا 

 

🍁🍁🍁

 

مقدس کمرے میں تھی جب اسکی اماں اس کے پاس آئیں دیکھ مقدس تجھےتیزبخار ہے تو میرے ساتھ ایک دفع ڈاکٹر صاحب کے پاس چل وہ دوا دیں گے تو بلکل ٹھیک ہو جائے گی 

 

اماں میں نے کہا نا میں ٹھیک ہوں مجھے نہیں جانا ڈاکٹر کے پاس ۔۔۔ 

 

مقدس کی بات پرسکینہ بی نے اسے دیکھا

 

بوڑھی ماں کو تنگ کرنے میں مزا آتا ہے تجھے ۔۔۔ نا کچھ کھایا نا پیا اور یوں ہی صحتیاب ہو جائے گی ؟

 

فری نے گاڑی بھجوائ تم نے وہ بھی واپس بھیج دی ۔۔۔

سکینہ بی نے کہا 

 

اچھا اماں وہ سوپ بنا لائیں میں پی لوں گی ۔۔۔۔ نہیں کرتی تنگ ۔۔۔ مقدس نے ماں کے ہاتھ لبوں سے لگاتے کہا 

جس پر سکینہ بی نے جلدی سے اٹھتے اسکے ماتھے کو چومتے قدم باہر کی طرف لیے 

 

ان کے جانے کے بعد مقدس نے آنکھیں بند کرتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائ

 

اور اسے یاد آیا جب صبح صبح فجر کی نماز پڑھ کر وہ فارغ ہوی تھی تو وہ باہر پودوں کو پانی دے رہی تھی 

 

کہ اچانک دروازے پر دستک ہوی ۔۔۔

اس وقت کون آیا ؟ 

مقدس نے خود سے سوال کیا پھرھا کر دروازے کو کھولا 

 

سامنے شایان کھڑا تھا ۔۔۔ 

مقدس نے محلے کا خیال کرتے اسے اندر بلایا ۔۔۔

 

جب کہ وہ اندر آکر بھی مسلسل خاموش ہی تھا نظریں جھکی ہوی تھیں 

مقدس نے اس کی جانب دیکھا 

آنکھوں میں واضح سوال تھا کہ آخر وہ صبح صبح یہاں کیوں آیا تھا 

مجھے کچھ کہنا ہے ۔۔۔۔ 

شایان نے پہلی دفع نظریں جھکا کر دھیمے لہجے میں کہا 

 

مقدس چند لمحے اسے دیکھتی رہی ۔۔۔

دماغ میں چلتی باتوں پروہ آنکھیں میچ گئ ۔۔

بے وقوف ہو تم مقدس ۔۔۔ وہ خود کو دل ہی دل میں دپٹتی بولی 

پھر آنکھیں کھول کر اس کی جانب دیکھا ۔۔۔۔

ہاں بولو۔۔۔میں سن رہی ہوں 

 

مقدس کی بات پر شایان نے نظریں اٹھا کر اسکی جانب دیکھا 

 

تم شادی کر رہی ہو؟ 

وہ جیسے خود کو یقین دلانے کے لیے پوچھ رہا تھا 

 

مقدس نے بنا پلکیں جھپکائے مسلسل اسے دیکھتے سر اثبات میں ہلایا 

 

تو کیا تم مجھے اپنی شادی میں  ایک اہم کردار ادا کرنے کی اجازت دو گی ؟

 

شایان کی بات پر مقدس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا 

 

مطلب ؟ وہ بولی نظریں اس کے چہرے کے گرد طواف کر رہی تھیں 

 

یعنی دولہے کا کردار ۔۔۔ 

شایان نے زومعنی الفاظ کا استعمال کرتے کہا جس پر مقدس اگلے ہی پل کھانسنے لگی 

 

کک کیا کہہ رہے ہو تم۔۔۔ پاگل ہو گئے ہو ؟

مقدس نے کھانسی کرتے کہا 

 

کیوں اس میں پاگل ہونے والی کیا بات ہے ۔۔۔ کیا میں تمہارے دولہے کے طور پر تمہاری شادی میں نہیں آسکتا ۔۔۔

 

شایان تم پاگل ہو ایسے مزاق نہیں کرتے ۔۔

مقدس نے نظریں پھیرتے کہا جب کہ دل کی دھڑکنیں ایسے گونجی کہ پسلیاں توڑ کر بہار اجائے گا 

 

میں مزاق نہیں کر رہا ۔۔۔ شایان نے سنجیدگی سے کہا 

 

مقدس نے اسکی جامب دیکھا 

 

“میری شادی ہونے والی ہے اور میرا رشتہ میرے بابا نے اپنی زندگی میں خود تہہ کیا تھا “

وہ جیسے اسے بتا رہی تھی ۔۔ 

 

“تو کیا ہوا ہمارے بڑوں سے کچھ غلط فیصلے بھی ہو جاتے ہیں اس میں کوی بڑی بات نہیں وہ بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں نا “

 

شایان نے اسے سمجھایا 

 

شایان میرے والدین میرے لیے بہتر سوچ سکتے ہیں اور وہ سوچ چکے ہیں ۔۔۔ 

میری منگنی کو کافی عرصہ ہو چکا ہے

اب انکار کیا تو میری بد نامی ہو گی 

اور تم تو جانتے ہو نا اس معاشرے میں غلطی چاہے جس کی بھی ہو 

قصور وارہمیشہ عورت ہی ہوتی ہے 

 

مقدس نے کہا جس پر شایان اس کی جانب جھکا 

 

بھاڑ میں جائے دنیا اور یہ معاشرہ 

تم بس اتنا بتاؤ کہ کیا تم مجھے اپنے دلہے کے طور پر قبول کروگی ؟

مجھ سے شادی کرو گی ؟

مجھے میری زندگی کو حسین بان دوگی ؟

 

اس کے اعتراف پر مقدس نےدوقدم پیچھے لیے 

 

نہیں ۔۔۔۔ کبھی نہیں 

میں محبت کرتی ہوں اسد سے اور اسی سے شادی کروں گی ۔۔۔ 

معزرت تم اور تمہاری حویلی تمہیں ہی مبارک ہوں 

 

نجھےا میر لوگوں سے دور رہنا پسند ہے کیونکہ یہ لوگ غریبوں کو چکی میں پیس دیتے ہیں مجھے تمہارے خاندان میں کسی کے پاؤں کی جوتی نہیں بننا ۔۔۔

مقدس نے کہتے اسکی جانب کمر کیا سر آنکھیں زور سے بند کی 

اگر آج وہ یہ نا کرتی تو بہت سے مسائل پید ا ہوتے 

اس کے باپ کی آخری خواہش وہ پوری کرے گی چاہے اسکی زندگی تباہ کیوں نا ہو جائے 

 

مقدس تم میری بات تو  سنو ۔۔۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں میں وعدہ کرتا ہوں تمہاری حفاظت کروں گا ہر لمحہ ہر سانس تم سے محبت کی گواہ ہے 

مجھے یوں مت روندو کہ کبھی اٹھ نا سکوں ۔۔۔۔

 

شایان نے گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھتے کہا 

 

تم سمجھ کیوں نہیں رہے ۔۔۔ کیا تم ایسی لڑکی کے ساتھ رہنا چاہو گے جس کے دل میں کوی اور ہو اور وہ باہوں میں کسی اور کے ہو ؟

 

مقدس کی بات شایان پر بجلی سی گر گئ 

مقدس ۔۔۔ اس نے اس کو پکارا 

 

تم سہی سن رہے ہو میں اسد سے محبت کرتی ہوں اور تم ہم دونوں کے درمیان آرہے ہو جو مجھےقبول نہیں 

 

چلے جاؤ یہاں سے ۔۔۔ مقدس نے کہتے بھاگتے ہوے قدم کمرے کی جانب لیے ۔۔۔ جب کہ کئیں لمحوں تک شایان کے کان میں اس کےجملے گونجتے رہے 

 

میں اسد سے محبت کرتی ہوں اور تم ہم دونوں کے درمیان آرہے ہو

 

میں اسد سے محبت کرتی ہوں اور تم ہم دونوں کے درمیان آرہے ہو

 

میں اسد سے محبت کرتی ہوں اور تم ہم دونوں کے درمیان آرہے ہو

 

وہ کانوں میں گونجتے جملوں پر تکلیف سے کانوں پر ہاتھ رکھتےگھٹ گھٹ کر رونے لگا 

 

تم جھوٹ بول رہی ہو تم اس سے محبت نہیں کرتی 

۔۔تم مجھ سے محبت کرتی ہو تمہاری آنکھوں پڑھ سکتا ہوں میں ۔۔۔

تم جھوٹ بول رہی ہو ۔۔۔ 

وہ روتے ہوے بولتا رہ گیا جب کہ

قدس اپنے کمرے میں آتی دروازے کے ساتھ لگ کر رونے لگی 

 

ایم سوری شایان ۔۔۔ تمہارے دل کو توڑنے کے لیے ایم سوری ۔۔۔

مگر تم نہیں جانتے کانچ کا دل لے کر چلو گے تو ٹوٹ جائے گا ۔۔۔ 

 

ایم سوری مجھے معاف کر دو میں اپنے بابا کی بات رد نہیں کر سکتی ۔۔۔

وہ روتے ہوے زمین پر بیٹھتی چلی گئ 

 

۔۔۔۔۔۔۔

 

مقدس نے آنکھیں کھولیں گہرا سانس لیا 

تو آج یہ ان کہی محبت نے اظہارِ محبت کا لبادہ اوڑھ لیا 

مگر افسوس کے یہ ان کہی محبت جب اظہار بنی تو وہ دونوں دلوں کو توڑ گئ 

 

🍁🍁🍁

🔜🔜🔜نیکسٹ ایپی سوڈ کے لیے انتظار کیجیئے 

 

🍁🍁🍁🍁

 

 

 

 

 

error: Content is protected !!