Ishq Geeriyan
عشق گیریاں

ناول۔۔۔۔۔۔عشق گیریاں
ازقلم۔۔۔۔۔۔ آنسہ چوہان ❤️
Season 2
Episode 37 to 40

قسط نمبر 37

اس وقت فریال اپنے کمرے سے منسلک کشادہ سی بالکنی میں بیٹھی چائے پی رہی تھی

بی جان آج اپنی بہن کے گھر گئیں تھیں جو خود تو حیات نا تھیں مگر ان کی اولاد ان سے اج بھی بہت عقیدت رکھتی تھی

سائشہ اور شہریار نیچے باغیچے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے

فریال پُرسکون ماحول میں بیٹھی اپنی چائے پی رہی تھی جب اسے اپنے کمرے کے دروازے کے کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز آئ

اس نے بیٹھتے بیٹھے گردن ترچھی کی
بالکنی کا دروازہ شیشے کا تھا اس لیے اسے دیکھنے میں پریشانی نا ہوی

تبھی سامنے حیات کو آتے دیکھا جو اندر آتے ہوے فریال کو دیکھ چکا تھا

حیات نے جیسے ہی قدم بالکنی میں رکھا
فریال نے اسے سر تا پیر اسے دیکھا

کیا ہوں اماں سائیں ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں ۔۔۔ وہ ااس کے پاس والی کرسی پر بیٹھتے بولا

تم نے میری بہو کو رولایا ہے ۔۔۔
فریال ناراض سا چہرہ بناتی بولی

اماں سائیں میں اس سے ناراض ہوں اسے مجھے منانا چاہیے الٹا رونے لگ جاتی ہے ۔۔۔
وہ بھی شکایت کرتے بولا

خبردار ۔۔۔ لڑکیاں کبھی غلط نہیں ہوتیں ۔۔۔ فریال نے اپنے عورت ہونے کا ثبوت دیتے کہا

حیات نے منہ پھلاتے اپنی ماں کو دیکھا

آپ اسے سمجھایا کریں میری عزت کیا کرے ۔۔۔ وہ کچھ منٹ کے بعد بولا

اسے سمجھایا ہے میں نے اسے تمہیں کیسے عزت دینی ہے اور خود کیسے لینی ہے

آج تو زکریہ شاہ نے اسے بلوا لیا ورنہ میں اسے آج جانے نہیں دیتی ۔۔۔۔
اور خوب تمہارے کان کھینچواتی

فریال نے اسے دیکھتے کہا

اماں سائیں آپ جانتی ہیں مجھے وہ بہت اچھی لگتی ہے پر وہ مجھے ہمیشہ دھتکار دیتی ہے جو میری عزت نفس کو مجروح کر دیتی ہے

میں اسے بہت چاہتا ہوں پر مجھے اس سے اپنے لیے وہی چاہت چاہیے ۔۔۔

حیات اب سنجیدہ ہوتے بولا

وہ تمہیں چاہتی ہے ۔۔۔ نکاح میں بڑی طاقت ہے
لیکن عورت اظہار کے معاملے میں زرا کچی ہوتی ہے
پر اظہار کرتی ضرور ہے

اب دیکھو وہ تمہیں منانے کے لیے آئ تھی ناں ؟
اسے چاہت نا ہوتی تو بھلا فرق پڑتا تمہاری ناراضگی کا ؟

فریال کی بات پر حیات کے سر نفی میں ہلایا
دل میں خوشی محسوس ہوی یعنی وہ بھی اسے چاہتی تھی برابر

وہ معصوم ہے اسے تمہاری ناراضگی رولا دیتی ہے اسے تم نے اپنی توجہ کا عادی بنا دیا ہے اب تم اسے توجہ نا دو تو تکلیف سے آنسو ہی نکلیں گے نا

میرے بیٹے میں نے تمہاری تربیت یوں کی ہے کہ تم اپنے سے منسلک عورت کی آنکھ میں جگنوؤں جیسی خوشی چمکتی ہوئی نظر آئے نا کہ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ جائیں ۔۔۔
فریال بول رہی تھی حیات توجہ سے سن رہا تھا
تمہارے بابا سائیں نے مجھے بہت لاڈ پیار سے رکھا ہے

اسی لیے میرے اندر کا بچپنہ ابھی تک نہیں گیا
کیونکہ انہوں نے پیار اور عزت اتنی دی ہے کہ مجھے اچھا لگتا ہے اس عمر میں بھی ان سے اپنے لاڈ اور ناز نخرے اٹھوانا
فریال کی بات پر وہ مسکرا دیا

اماں سائیں آج کے لیے معزرت آئندہ ایسی کوتاہی نہیں ہوگی

وہ کہہ کر ان سے مزید باتوں میں مصروف ہو گیا

🍁🍁

جھانگیر اور ماہی آج شاپنگ کے لیے نکلے تھے
اتنے دن سے ماہی نے خود کو قاتل کہہ کر جھانگیر کا بھی سر کھایا ہوا تھا

آج وہ اسے لیے باہر نکلا تھا تاکہ وہ بھی فریش محسوس کرے

ابھی وہ لوگ ایک مال کے نادر پہنچے تھے

جھانگیر اسے لیے اس پلازہ پر آیا جہاں صرف کپڑوں کی ہی شاپس بنی تھیں

وہ ایک خوبصورت اور بہت بڑی شاپ کے اندر داخل ہوے

جھانگیر نے اسے اپنے ساتھ لگائے ایک خوبصورت کیجول سے ڑریس کی طرف متوجہ کروایا

ماہی نے اس خوبصورت نفیس سے جوڑے کو دیکھ کر مسکرا کر لینے کی ہامی بھری

پر پھر اچانک جھانگیر کا ہاتھ چھوڑ کر اس ڑریس پر لگے ٹیگ کو ٹٹولنے لگی

استغفرُللہ اتنا مہنگا جوڑا ماہی کی آواز پر وہاں کپڑے دیکھاتی لڑکی چونک کر اسکی جانب پلٹی جب کہ جھانگیر بھی ماہی کی طرف پلٹا

جھانگیر یہ دیکھی دس ہزار لگتے ہیں پاکستانی تو یہ جوڑا بنتا ہے
ہم یہ نہیں خریدیں گے

ماہی جھانگیر کو دیکھتے ہوے بولی

ماہی میری جان کوی بات نہیں ہم پھر بھی خریدیں گے ۔۔۔
جھانگیر اسکا ہاتھ تھامتے بولا

ارے اتنا فضول کا پیسہ ہے آپ کے پاس ؟
نوکری آپ کے پاس ہے نہیں اور بلاوجہ اتنا مہنگا ڑریس خریدیں گے

ماہی بھی اڑھے ہاتھوں اسے لے چکی تھی

جھانگیر تو اسکی نوکری والی بات پر اٹک گیا

کیا مطلب ؟ وہ پھر سے بولا

مطلب وطلب بعد میں بتاؤں گی اس وقت یہاں سے نکلیں غضب خدا کا یہاں تو سارے جوڑے ہی بڑے مہنگے ہیں ۔۔۔۔
وہ باقی ڑریس پر لگے پرائس ٹیگ دیکھتے بولی

جھانگیر نے مسکین شکل بنائی

یعنی وہ اسے اتنا غریب سمجھتی تھی

یار میرے پاس پیسے ہیں تم لے لو یہ ۔۔۔
وہ پھر سے باضد ہوا

کہا نا ابھی گھر کی گراسری بھی خریدنی ہے سارے پیسے اگر کپڑوں پر لگا دیے تو بھوکے رہنا ہے کیا ؟

وہ اسے گھورتے بولی

جھانگیر نے سر نفی میں ہلایا
ماہی اسکا ہاتھ پکڑے اسے لیے شاپ سے باہر آگی

اسے لگتا ہے میں کنگلا ہوں ؟
وہ بس اسی سوچ کے ساتھ اسکے ساتھ قدم رکھ رکھے جا رہا تھا

کچھ دیر بعد وہ لوگ گراسری کرتے سامان لیے باہر آئے جس کا سارا سامان جھانگیر نے ہی اٹھایا ہوا تھا

اسکا ایک ملازم اسکی طرف بڑھنے لگا تاکہ سامان پکڑ لے مگر جھانگیر نے آنکھ کے اشارے سے اسے اپنے سر دور رہنے کا کہا

وہ نہیں چاہتا تھا ماہی اس پر سوال جواب شروع کرے

سامان لیے وہ لوگ مال سے باہر آئے ۔۔۔
گاڑی منگواتا ہوں ۔۔۔
وہ سامان اٹھائے بولا تھا

بلکل نہیں ہم پیدل ہی جائیں گے ۔۔۔ ماہی نے ایک اور حکم صادر کیا

جھانگیر کو اسے دیکھتے حیرت ہوی

تم کچھ ضرورت سے زیادہ ہی کنجوس نہیں ہو

وہ اسکے ساتھ چلتے ہوے بولا

آپ کچھ ضرورت سے زیادہ فضول خرچ ہیں
پانچ منٹ کی دوری پر ہمارا گھر ہے اور اسپر بھی ٹیکسی منگوا کر جائیں گے

ماہی کی بات پر جھانگیر کے ہاتھوں میں اگر شاپر نا ہوتے ضرور اپنا ماتھا پیٹ لیتا

یعنی وہ اس کو مکمل غریب سمجھ چکی تھی

یا اللہ اس کنجوس بیوی سے میری حفاظت فرما
۔۔۔۔ وہ دھائیاں دیتا آخر کار گھر کے اندر داخل ہوا

تمہیں میں اپنے کپڑے جوتے دلانے لے کر گیا تھا تمہیں وہاں گھر کے سامان کی ٹینشن ہونے لگی تھی

کیچن میں سامان سنبھالتی ماہی کی مدد کرتا جھانگیر بولا تھا

تو آپ کچھ دن پہلے ہی میرے لیے ضرورت کی سب چیزیں لے آئے تو کیا ضرورت ہے بلاوجہ پیسہ ضائع کرنے کی

وہ بھی مصروف سے بولی

کیا حویلی والے اسے اتنی کنجوسی سے پیسے دیتے تھے ۔۔ وہ سوچ کر رہ گیا

پھر اسے کام میں لگے دیکھ وہ باہر نکلا ۔۔ اور کال ملائ

دوسری طرف سے کال کچھ منٹ کے بعد ہی اٹھا لی گئی تھی

اسلام و علیکم ۔۔۔ حیات کی آواز گونجی

وعلیکم السلام سالہ صاحب ۔۔ جھانگیر بھی بولا

کیسے ہو اور ماہی کیسی ہے ؟
ٹھیک ہیں ہم ۔۔۔

چچا جان مجھ سے ماہی سے بات کروانے کا کہہ رہے تھے ۔۔۔۔
حیات نے بات کی تو جھانگیر خاموش ہوا

میں اسے موبائل دلوا دیتا ہوں تم کروا لینا بات مجھے کوی مسلہ نہیں ۔۔۔۔
جھانگیر کا مطمئن جواب سن کے حیات بھی مطمئن ہوا

یہ تم لوگوں نے میری بیوی کو اس قدر کنجوس بنا دیا ہے ۔۔۔
کچھ بھی کہو تو کہہ دیتی ہے فضول خرچی مت کریں

جھانگیر بولا تو دوسری طرف حیات کا قہہقہ گونجا

یار ہماری غلطی نہیں ہے وہ خودی ایسی کنجوسی کرتی رہتی ہے

اسے پتہ چلے نا کہ تم نے اسے جو کپڑے دلوائے ہیں وہ بہت مہنگے ہیں تو وہ کبھی وہ کپڑے گھر میں پہن کر نا گھومے

چائے کی چسکیاں لیتے حیات نے ہستے ہوے کہا

کہہ رہی ہے آپ کے پاس نوکری نہیں ہے ۔۔۔ جھانگیر نے اپنا ایک اور غم سنایا

ہاہاہا بتاؤ نا اسے ڈیمن کے تمہارا کاروبار بندے مارنا ہے
حیات ہستے ہوے بولا

بکواس نا کر ۔۔۔ جھانگیر اب جلتے ہوے بولا

اچھا کب تک پاکستان چکر لگا رہے ہو ؟
کمانڈر نے اپنا اڑر جاری کر دیا ہے

حیات سیریس ہوتے بولا

ہاں جانتا ہوں پر ماہی کو اکیلے چھوڑنا مشکل ہے میرے لیے ۔۔۔۔

تو اسے حویلی چھوڑ دینا ۔۔۔۔۔۔۔ حیات نے مشورہ دیا

ہر گز نہیں ۔۔۔ وہ میری زمہ داری ہے اور اب وہ حویلی کبھی نہیں آئے گی وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی

جھانگیر نے سخت لہجے میں جواب دیا
حیات نے کہنے کو منہ کھولا مگر کال کٹ چکی تھی
اب مجھے ماہی سے بات کرنی ہو گی ۔۔۔۔
حیات غیر مرئ نقطے کو دیکھتے بولا

🍁🍁🍁
شیمن تم کب آؤ گے پاکستان ؟
وہ اپنے کمرے سے منسلک بالکنی میں آتے ہوے بولی

افکورس آی مس یو ۔۔۔۔
وہ پھر سے بولی

نہیں یار یہاں آکر بلکل اچھا نہیں لگ رہا
تم جانتے ہو ماما پاپا سے میری خاص بنتی نہیں ہے اور یہاں روحا کہ علاؤہ کوی دوست بھی نہیں اب وہ بھی کچھ دن سے مل نہیں رہی

وہ لڑکی اداسی سے بولی

ہے گریٹ میں تمہیں ائیرپورٹ پر لینے آوں گی

دروازے پر دستک ہوی

وہ جو بات کرنے میں مصروف تھی دروازے پر دستک ہونے پر پلٹی

آجاؤ ۔۔۔
اسکے کہنے پر ملازمہ اندر داخل ہوی

میڈم جی وہ نیچے بڑے صاحب آپ کو بلا رہے ہیں

ملازمہ نے اس ماڑرن سی لڑکی کو دیکھتے کہا

کیوں ؟
وہ کال بند کیے بنا بولی
چہرے پر تاثرات ایسے تھے جیسے اسے مداخلت پسند نہیں آئی

دراصل وہ ان کی مہمان آئ ہیں ۔۔۔
بی جان کہہ رہے تھے ان کو وہ ۔۔۔

زیادہ کچھ معلوم نہیں مجھے

ملازمہ نے اپنی بات کہہ کر اسکے چہرے کر اکتاہٹ واضح دیکھی

اووو گوڈ اب ان کے مہمانوں کو کیا میں نے انٹرٹین کرنا ہے
ٹھیک ہے تم جاؤ آتی ہوں ۔۔۔
وہ اکتا کر بولی پھر فون پر مصروف ہو گئ

کچھ دیر کے بعد وہ نیچے جاتی سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی

ایک خوبصورت سی مگر بزرگ خاتون کو دیکھ کر وہ چونکی

وہ وہاں ان سب کے پاس یہ جہاں اسکی سوتیلی ماں اور باپ بیٹھے اس خاتون سے بات کر رہے تھے

ماشاءاللہ ہماری پری تو بہت پیاری ہو گی ہے ۔۔۔
بی جان اٹھتے ہوے مسکرا کر بولیں

ان کے شفیق سے انداز پر پری بھی مروتاً مسکرا دی

پری میری جان یہ آپ کی بی جان ہیں ۔۔۔ اور میری خالہ ۔۔۔۔
عدنان صاحب نے اپنی بیٹی سے کہا جس کی آنکھوں میں سوال تھا کہ یہ کون ہیں

پری کو اپنے ساتھ بٹھاتے اپنے نرم شفیق ہاتھوں میں ہاتھ لیے بی جان بیٹھ گئیں

پری نے اٹھنا چاہا مگر نا جانے کیوں اس سے یہ ہو نہیں پایا

کافی دیر گزرنے کے بعد بی جان کو عدنان صاحب نے آرام کرنے کے لیے کمرے میں بھیجا

پریزے ابھی تک اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی

تبھی عدنان صاحب اسکے پاس آکر بیٹھے

یہ میری خالہ ہیں ۔۔۔ نور پر گاؤں سے آئ ہیں
وہاں کی سردارنی رہ چکی ہیں
پھر ان کے پوتے نے سرداری سنبھالی ہے اور اب سرداری ان کے پڑ پوتے نے سنبھال رکھی ہے

یہ وہی ہیں جن کا زکر میں پہلے تم سے کر چکا ہوں

عدنان صاحب کی بات پر پری ان کو دیکھنے لگی

پاپا میں ان کے گوار پڑ پوتے سے شادی نہیں کروں گی ۔۔۔
وہ کہہ کر اٹھ گئ

وہ ایسی ہی تھی خود سر سی
شٹ اپ ۔۔
میں تمہاری ہر بدتمیزی برداشت کرتا ہوں اسکا مطلب یہ نہیں کہ تم اس قدر خود سر ہو جاؤ

وہ بھی برہم ہوتے بولے

تو آپ کیا چاہتے ہیں میں اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ آپ کو کرنے دوں ؟
جس نے میری ماں کے مرنے کے کچھ دن بعد ہی دوسری شادی کر لی ؟

آپ چاہتے ہیں آپ میری شادی اپنے جیسے خود غرض انسان سے شادی کروا دیں تاکہ کل کو کچھ ہو جائے مجھے تو کچرے کے ڈبے میں پھینک دے ؟

نو پاپا نو ۔۔۔ یہ نہیں کروں گی میں ۔۔۔
میں شیمن سے شادی کروں گی اور یہ بات میں آپ کو بتا چکی ہوں

وہ کہتی وہاں رکی نہیں تھی اور ولا سے باہر نکلتی چلی گئ

عدنان صاحب ہر بار کی طرح بے بس ہوتے صوفے پر بیٹھ گئے

بی جان کو کمرے میں چھوڑ کر واپس آتی لیلا بیگم نے عدنان صاحب کو ایسے بیٹھے دیکھ ان کی جانب قدم لیے

کیا بات ہے دانی؟
وہ ان کے پاس بیٹھتی بولی

وہ اس شادی کے لیے انکار کر چکی ہے
بی جان کتنی محبت سے بچپن کے اس تہہ کیے ہوے رشتے پر مان رکھتی ہوی آئ ہیں

میں کیسے انکار کروں گا ان کو ؟
عدنان صاحب پریشان ہوتے بولے

آپ کی بیٹی بہت ہی خود سر ہوتی جا رہی ہے
اس شیمن سے شادی کرے گی جس کا نا آگے کوی نا پیچھے کوی

اسکو ایک دفع جیل تک ہو چکی ہے اور یہ اسکے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے

لیلا بیگم نے بھی اکھڑے لہجے میں کہا

میری تو سمجھ سے باہر ہے اسے کیسے سمجھاؤں ۔۔۔عدنان صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے

🍁🍁🍁

صائم اس وقت واپس اپنے اپارٹمنٹ کی جانب بڑھ رہا تھا جہاں وہ شہر میں رکنے پر رہتا تھا

وہ گاڑی چلاتے جا ہی رہا تھا کہ سامنے سے کوی گاڑی بری طرح ریش ڑرائیونگ کرتی اسے آتی نظر آئ

ایک تو یہ لڑکیاں گاڑی چلانی نہیں آتی تو مرنے مرانے کے لیے سڑکوں پر نکل پڑتی ہیں

وہ نخوت سے کہتا ہے

تبھی گاڑی زور سے اسے کے پاس فراٹے کرتی گزری

صائم نے گاڑی کا نمبر نوٹ کیا

جاہل ۔۔۔ وہ بڑبڑایا ۔۔۔

🍁🍁🍁

حوریہ کھانا کھا کر کمرے میں آی اور اسکے فون پر کال آرہی تھی

اس نے جلدی سے فون اٹھایا سامنے ڑریگن کالنگ لکھا آرہا تھا

وہ مسکرائ
پھر کال اٹھاتی فون کان سے لگا کر بیڈ پر بیٹھ گئ

اسلام و علیکم بیگم صاحبہ ۔۔۔حیات نے پیار سے کہا

وعلیکم السلام ! کال کیوں کی ہے میں مصروف ہوں ۔۔۔
وہ ناراضگی جتاتے بولی

کوی بات نہیں میرے لیے وقت نکال لو
حیات کاجو کھاتے بیڈ سے ٹیک لگاتے بولا

زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے
کیا کام ہے وہ بتائیں
وہ بھی الگ ہی ٹون میں بولی

اپنی ساسو ماں سے کچھ زیادہ ہی نہیں بننے لگی آپ محترمہ کی ؟
وہ اسکی ٹون پر ٹونٹ کرتا بولا

اگر کچھ الٹا سیدھا بولا تو یاد رکھیے گا مجھے اپنی ساس کو بتانے میں دیر نہیں لگے گی

وہ بھی بیڈ پر التی پالتی مار کر بیٹھتی مزے سے بولی

روتلی صورت اور دھمکیاں مجھے دی جا رہی ہیں ۔۔۔۔
وہ بھی چھیڑتے ہوے بولا

حیات ۔۔۔ وہ اسکی روتلی والی بات پر چڑگئ
ہاہاہا ۔۔۔ اچھا میری جان کل کالج سے میں اپنی جان کو لینے خود آؤں گا اوکے ۔۔۔

وہ ہستے ہوے بولا

جی نہیں آپ اپنے زمینوں کے کام دیکھیں بیوی جائے بھاڑ میں ۔۔۔
وہ بھی ناراض سی بولی

ارے میری بیوی کو اگر روز یہ خادم اپنی پک اینڈ ڈراپ کی سروس میں حاضر چاہیے تو حکم کریں

وہ مسکرا بولا

ٹھیک ہے پھر اب سے روز آپ مجھے لینے جائیں گے ۔۔ وہ بھی بول تو گی لیکن اب سوچ تھی کہ وہ اگر سچ میں روز آنے لگا تو ۔۔۔۔
وہ گھبرائ

جو حکم میری زوجہ ۔۔ وہ شوخ لہجے میں بولا

ننن نہیں آپ تو سچ مچ سمجھ بیٹھے میں تو مزاق کر رہی تھی
وہ بھی بات سنبھالتے بولی

کوی بات نہیں میں سچ سمجھ چکا ہوں
لحاظہ اپنی بیوی کو لینے اب میں آوں گا

وہ بھی باضد ہوا

لیکن آپ کو تو اتنے سارے کام ہوتے ہیں ۔۔ وہ اسے روکنے کے لیے بولی

آپ بھی تو میری زمہ داری ہیں زوجہ محترمہ ۔۔۔وہ بھی اب پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا

آپ کو پتہ ہے آج کیا ہوا گاؤں میں ۔۔۔
وہ اسے بتانے لگی جس پر حیات کو انجانی سی خوشی تھی کہ اب بلاآخر وہ اس کے ساتھ کمفرٹیبل ہونے لگی

وہ یہ کیسے بھول رہا تھا کہ اس کے نکاح میں تھی وہ اب کیسے وہ کمفرٹیبل نا ہوتی

🍁🍁🍁

نعمان شاہ اس وقت اپنے آفس میں بیٹھا کسی ضروری فائل کو پڑھ رہا تھا تبھی اسکے فون پر کال آئی

درانی صاحب کی کال دیکھ کر اس نے کچھ سوچا پھر کال اٹھائ

نعمان شاہ تم نے اس دن اچھا نہیں کیا میرے بیٹے پر ہاتھ اٹھا کر اس کا بدلہ میں تم سے لے کر رہوں گا ۔۔۔
وہ اپنے اس دن سے ہسپتال میں ایڈمٹ بیٹے کے چہرے پر آئے زخموں کے نشان کو دیکھتے گرجتے ہوے بولے تھے

پہلے اپنے بیٹے کا علاج کرواو ۔۔ اور ہاں مجھے بلی کی میاؤں میاؤں سے خوف نہیں ہے
تم کرکے دیکھ لو جو کرنا چاہتے ہو

وہ بھی اب مکمل طور پر میدان میں اتر چکا تھا

تم بہت پچھتاؤ گے نعمان شاہ
اپنی بے خبری پر بہت پچتاو گے
وہ آخری دفع پھر دھمکی دیتا فون رکھ چکا تھا

نعمان نے سر نفی میں ہلاتے فون رکھ دیا

🍁🍁🍁

قسط نمبر 38
ازقلم آنسہ چوہان

اسوقت صائم اپنے اپارٹمنٹ میں موجود اپنے لیے کھانا بنا رہا تھا کیونکہ اس نے یہاں کوی ملازم نہیں رکھا ہوا تھا اسے خود اپنے کام کرنے کی عادت تھی

وہ نیپکن باندھے بڑی مہارت سے کھانا بنا رہا تھا
ہلکا سا میوزک لگائے وہ اپنے کام میں مصروف سا تھا

تبھی اس کے نمبر پر کال آنے لگی ۔۔۔
کال آنے پر ہاتھ میں پکڑی چھری رکھتے وہ موبائل کی جانب بڑھا

وہاں ڈاکٹر روحان کالنگ لکھا آرہا تھا

سلیب پر پڑے موبائل کو اس نے وہیں پر رکھے ہیں کال اٹھائ اور کال سپیکر پر ڈال دی

اسلام و علیکم کیا حال ہیں وکیل صاحب
کال کی دوسری جانب سے خوشگوار آواز گونجی

وعلیکم السلام!
الحمدللہ آپ بتائیں وہ پھر سے اپنے بقیہ کام کو ساتھ کرنے لگا

جی ہم بھی ٹھیک ہیں مگر کیا بات ہے کیا کوئی پریشانی ہے ؟
ڈاکٹر روحان کی سپیکر پر گونجتی آواز پر صائم کے ہاتھ تھمے

میں سمجھا نہیں ۔۔۔ وہ واپس موبائل کی جانب بڑھا

دراصل ۔۔۔ ڈاکٹر روحان کچھ سوچ میں پڑا

کیا ہوا ؟ صائم کو کچھ الگ سا لگا

کیا نعمان کو کوی ایشو ہے ؟
وہ اس بات زراجھجک کر بولے
کیونکہ جانتے تھے کہ نعمان سے اسکے بھائیوں کو کس قدر انسیت تھی

کہیں وہیں اس کی چٹنی نا بنا دیں

کیا مطلب ؟ کھل کر بات کریں ڈاکٹر روحان ۔۔
اب کی بار بار کرتے صائم کا لہجہ سنجیدہ ہوا تھا

وہ دراصل میری وائف کا ٹیومر کا ایشو ہے تو ہم چیک اپ کو گئے تھے

وہاں ڈاکٹر کے ساتھ نعمان کی اپائنٹمنٹ تھی

ڈاکٹر روحان کے انکشاف پر صائم کے چہرے پر زردی سے پھیلی

کک کیا آپ کو یقین ہے؟ بامشکل اپنا لہجہ سنبھالتے وہ اپنی بات مکمل کرکے ان کے جواب کا منتظر ہوا

جی جی کیونکہ ہم سے پہلے ان کا ہی چیک اپ ہوا تھا
آپ چاہیں تو ڈاکٹر سے خود پرسنلی مل کر انویسٹیگیٹ بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔
ڈاکٹر روحان نے کہا

جس پر صائم اپنی جگہ شل ہوا

جی آپ مجھے ڈاکٹر کا نمبر وٹس ایپ کر دیں ۔۔۔

صائم نے ڈاکٹر روحان سے کہا جس پر کال بند ہونے کے بعد

اس کی سکرین پر ڈاکٹر ہارون کا نمبر جگمگایا جس سے نعمان اپنا ٹریمینٹ لے رہا تھا

یا اللہ خیر بھلا مانی کو کیا ضرورت ہے اس ڈاکٹر سے ملنے کی ۔۔۔
وہ کسی پریشانی سے خوفزدہ سا بولا

پریشانی اب اسکے چہرے پر بھی واضح تھی

جیسا میں سوچ رہا ہوں یا اللہ ویسا کچھ نا ہو
وہ کہہ کر خود کی پریشانی اللہ کے سپرد کر رہا تھا

🍁🍁🍁

پریزے شام گئے گھر واپس آئ تھی ۔۔۔ بی جان جو کل واپس جانے والی تھیں تو آج عدنان صاحب اور لیلا بیگم بی جان کے ساتھ لاونج میں ہی بیٹھے تھے

بی جان اس قدر ضعیف ہو چکی تھیں کہ ان کی آواز بہت دھیمی ہو چکی تھی جب کہ ان کی نظر بھی کافی کمزور ہو چکی تھی
مگر پھر بھی اپنوں کی محبت اور توجہ نے ان کو کبھی بستر سے لگنے نہیں دیا

پریزے سب کو اگنور کرتی اپنے کمرے میں جانے لگی جب عدنان صاحب نے ٹوکا

پری یہاں آو ۔۔۔
عدنان صاحب نے بیٹھے بیٹھے آواز لگائی تھی

ڈیڈ میں بہت تھک گئ ہوں ۔۔۔مجھے ریسٹ کرنا ہے ۔۔ وہ کہہ کر بنا ان کا ریکیشن دیکھے کمرے کو جاتی اوپر کی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئ

بی جان نے بھی یہ منظر دیکھا پھر عدنان صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا

تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے معصوم بچی خود سر ہو گی ۔۔۔ وہ ان سے ناراض ہوئیں

عدنان صاحب نے شرمندگی سے سر جھکا لیا جب کہ لیلا بیگم کو بی جان کی بات کچھ خاص پسند نہیں آی

پریزے اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر سیدھی لیٹ گئی

اففف میرا سر ۔۔ وہ اپنے سر میں اٹھتے درد سے تکلیف دہ انداز میں بولی

پھر کچھ دیر یوں ہی پڑے رہنے کے بعد ہمت کرتی چینج کرنے کے بعد وہ اپنے بیڈ کے دائیں جانب سائیڈ ٹیبل کے درازسے میڈیسن نکال کر اپنے ہاتھ پر رکھتی

ایک گلاس میں پانی ڈالتی منہ میں دوائ رکھتے پانی کا گلاس پی گئ ۔۔

پھر بیڈ پر لیتی اور لحاف اوڑھ لیا

نیند کی گولی نے چند منٹوں میں اس پر اپنا اثر چھوڑ دیا تھا اور وہ سو چکی تھی

بی جان آپ سے یہ بات زکیہ کرکے گئ تھی بھلا آپ کو انکار کیسے کروں وہ خود پری کو جن ہاتھوں میں تھما کر گی تھی
میں پہلے ہی بہت شرمندہ ہوں اس کی روح سے

مزید اسکی بات کی نفی نہیں کروں گا

آپ لوگ پر سوں ا جائیں پری کا رشتہ لے مجھے جلد ازجلد واپس امریکہ جانا ہے میرا وہاں بزنس ہے

جہاں میری غیر موجودگی کی وجہ سے کافی نقصان ہو رہا ہے ۔۔عدنان صاحب بی جان کے ساتھ اس کمرے میں بیٹھے تھے

پر مجھے نہیں لگتا بچی ایسا چاہتی ہے
تم اس پر دباؤ مت ڈالو

بی جان نے نقاہت سے کہا آج انہیں اپنے اندر کافی کمزوری محسوس ہو رہی تھی

نہیں اسے کوی اعتراض نہیں ۔۔۔ عدنان صاحب نے ان کو یقین دلایا

ٹھیک ہے ہم ابھی ان کا نکاح کر دیں گے بعد میں دائم کے آنے پر رخصتی ہو گی

بی جان نے عدنان صاحب کی بات کے جواب میں کہا جس پر وہ سر ہلا گئے

🍁🍁🍁

نعمان اپنے کمرے میں بیٹھا کسی فائل کا مطالعہ کر رہا تھا جب دروازے پر دستک ہوی

آجائیں ۔۔۔ وہ دروازے کی جانب دیکھ کر اجازت دیتے بولا

تبھی مقدس اپنی نرم گرم مسکراہٹ لیے ہاتھوں میں کافی کا کپ لیے کمرے میں داخل ہوی

میں نے تمہیں ڈسٹرب تو نہیں کیا ؟ وہ کھڑے کھڑے دروازے میں ہی بولی

ماما پلیز آئیں کوی ڈسٹرب نہیں کیا ۔۔۔
نعمان محبت سے بولا

مقدس مسکرای

تمہارے لیے کافی وہ اسکی جانب کافی بڑھاتی اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئیں

فریال کی کال آئ تھی ۔۔۔۔ پرسوں وہ لوگ صائم کے رشتے کے لیے جائیں گے

تو میں سوچ رہی ہوں اس کے اگلے دن صبغہ کی طرف چکر لگا لیں ۔۔؟
مقدس اسے دیکھتے بولی

صائم بھائ کا رشتہ ؟
وہ اس پر اٹکا

بی جان کی بہن کی پوتی ہے ماشاءاللہ بہت خوبصورت اور پیاری ہے

بچپن میں حویلی آتی تھی پھر اسکی ماں کی موت کے بعد اس کے والد امریکہ چلے گئے

اور اب وہ لوگ آئے ہیں تو اس کے والد اپنی بیوی کی خواہش کے مطابق اپنی بیٹی کی شادی صائم سے کرنے کو تیار ہیں

بس رسم ادا کرنے سب بڑے جائیں گے ۔۔ میں اور تمہارے پاپا بھی جائیں گے

مقدس نے وضاحت سے کہا

اوو اچھا ۔۔ ڈیٹس گریٹ وہ مسکرا کر بولا

اور بتاؤ میری بہو کیسی ہے ؟ مقدس نے مسکرا کر پوچھا
مارے ماما مجھے کیا پتہ میری بات نہیں ہوی

نعمان نے مقدس کی شرارتی نظروں کو پہنچانتے ہوے کہا

ہاں ہاں تمہیں کیا پتہ ۔۔۔ وہ پھر بھی شرارت سے بولی

پھر چند باتوں کے بعد وہ اٹھ کر چلی گئی تو
نعمان کو صبغہ کا خیال آیا

اس نے کال ملائ جو دوسری طرف سے اٹھائ نہیں گئی ۔۔ اور یہاں بیٹھے نعمان کے ماتھے پر بل پڑے
پھر اگلے ہی سیکنڈ میسج موصول ہوا

ڈئیر کسٹمر آپ کا بیلنس اس کال کے لیے نا کافی ہے پلیز دوبارہ کال نا کیجیے ۔۔۔
صبغہ کے نمبر سے آیا میسج دیکھ کر

میسج پڑھتے اسکے لب مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔

پیاری لڑکی کسی کی مجبوری کو سمجھو تھوڑی گنجائش نکال دو ۔۔

وہ بھی مسکرا کر میسج کر چکا تھا

ڈئیر کسٹمر آپ جس انسان سے بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ آپ سے سخت ناراض ہے
بلاوجہ اپنا اور اسکا وقت برباد نا کریں
شکریہ

اب پھر سے ملنے والے میسج پر وہ آواز کے ساتھ ہنسا تھا

آی لو یو ۔۔۔ نا جانے کیسے اس نے میسج کر دیا

دوسری طرف سے کوی جواب نہیں آیا

ایک دفع پھر سے کال کی تو کال اٹھا لی گئی مگر وہ بولی کچھ نہیں

آئی سیڈ آئ لو یو ۔۔ وہ آنکھیں بند کیے پرسکون سا فون کان سے لگائے بولا

بٹ آئ ہیٹ یو ۔۔ یو ہرٹ می
دوسری طرف سے آواز ابھری

آی اپالوجائیز ۔۔۔
نعمان نے نرمی سے کہا

اتنی آسانی سے معاف نہیں کروں گی ۔۔ وہ اپنی خوشی سے بھر آنے والی آنکھوں کو صاف کرتی بولی

کر دو گی ۔۔۔ محبت میں بڑی طاقت ہے پھر نکاح جیسا پاک رشتہ اس کے بعد تو ناراضگی قائم نہیں رہے گی

وہ بولا تو صبغہ کی جیسے سانس اٹکی

نکاح ۔۔۔۔ وہ چونک کر بولی

ہاں ۔۔۔ ہمارا نکاح اگلے ہفتے ۔۔
وہ پُرسکون سا بولا جب کہ صبغہ نے تشکر بھری نگاہ سے آسمان پر دیکھا

اور پھر آپ کی مانگی ہوی دعائیں جب قبولیت کا درجہ اختیار کر جائیں اس وقت اپنے رب پر بڑا لاڈ آتا ہے
اور پھر ہمارا رب ہماری دعائیں سن رہا ہوتا ہے

وہ عطا ضرور کرتا ہے پر مقررہ وقت پر

اور جن دعاؤں کی قبولیت میں وقت درکار ہو اس میں رب تمہاری اس سے مانگنے کی شدت اور تمہارا ایمان دیکھتا ہے
کہ کیا یہ اس قابل ہے اسکو وہ عطا کر دیا جائے

اور کیا یہ مجھ پر آخری حد تک ایمان رکھتا ہے کہ میں ہی اسے عطا کرنے والا ہوں

بے شک ہمارا رب بڑا رحیم ہے ۔۔۔۔💝🥹🥹

🍁🍁🍁

حوریہ کو آج کالج سے لینے حیات آیا تھا
وہ اپنی دوست کے ساتھ باہر آئ
سامنے ہی گاڑی سے ٹیک لگا کر براؤن کلر کی گلاسسز لگائے

بھورے رنگ کی قمیض شلوار پہنے اپنی گوری رنگت کے ساتھ وہ دمکتا چمکتا کھڑا تھا

حور کو آتے دیکھ وہ سیدھا کھڑا ہوا

نا کرو یار یہ ینڈسم تمہارا شوہر ہے ؟
اس
سجی دوست نے حیرت سے دیکھتے کہا

کیوں کل تک تو تمہیں میں حور لگتی تھی اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو ان کو کہ وہ میرا شوہر ہے کہ نہیں کی تصدیق کرو

وہ اصل میں اپنی دوست کی ندیدی نظروں کو سمجھتے سختی سے بولی

افف بہت ہیںڈصم بندہ ہے ۔۔۔ وہ پھر بھی ٹھرک سے باز نا آئ

اچھا ٹھیک ہے کل ملتے ہیں اللہ حافظ ۔۔
حور خود پر کنٹرول کرتی بولی

اور حیات کے پاس جاکر ابھی پہنچی ہی تھی کہ
اسکی دوست بھی اس کے پیچھے آگی

آب حیات کی نظروں میں سوال تھا

جب کہ دوست کی نظریں حیات پر دیکھ کر حور کو جلن ہو رہی تھی

یہ میری دوست ہے وانیہ اور وانیہ یہ میرے شوہر ہیں حیات سکندر ۔۔۔۔

وہ دونوں کا تعارف کرواتی حیات کو دیکھنے لگی

جس نے سر ہلایا
جبکہ وانیہ تو بس حیات کو دیکھے جا رہی تھی
وہ ۔۔ حیات نے جیسے ہی
حور کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا اور حور بیٹھنے لگی کہ وانیہ بولی

میری گاڑی نہیں آئ کیا تم پلیز مجھے ڑراپ کرتی جاؤ گی ؟
وہ کہہ کر اپنی انگلیاں مسلنے لگی

جب کہ حیات نے حور کی جانب دیکھا جیسے پوچھا ہو اب کیا کرنا ہے ؟

ھمم کیوں نہیں بیٹھ جاؤ چھوڑ دیں گے ہم ۔۔۔
حور نے مسکرا کر اسے اجازت دی ۔۔۔۔
حیات نے کندھے آچکا دیے

آرہی بیگم نے ہاں کر دی تھی تو اسکی کیا مجال ہے کہ کوی دوسرا سوال کرے

حور کے بیٹھنے کے بعد وانیہ کو کھڑے دیکھ کر حیات نے مروتاً اس کے کیے بھی پیچھے کی سیٹ کا دروازہ کھول دیا

جو کہ حور کی آنکھوں نے منظر بخوبی دیکھا تھا

حیات گھوم کر ڑرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی کالج کے پاس سے نکالی

کہاں ہے اپکا گھر ؟
حیات نے بنا نظر ڈالے سامنے سڑک پر دیکھتے سوال کیا

وانیہ نے آگے بڑھ کر اڑریس دیا جب کہ حور بلکل خاموش بیٹھی تھی اور اسکی نظریں کھڑکی کہ باہر ہی تھیں

تھوڑی دیر بعد وانیہ کو اس کے گھر کے باہر اتارنے کے بعد اب وہ دونوں گاڑی میں تھے

کیا ہوا ہے اتنی خاموش کیوں ہو ؟
حیات نے مسلسل خاموش ہونے پر سوال کیا

آپ کو کیا فرق پڑتا ہے ہر دوسرے بندے کے لیے دروازے کھولیں

وہ غصے سے بولی چہرہ اب بھی اسنے حیات کی جانب نہیں کیا تھا

یار تمہاری دوست تھی میں کیا کرتا وہ اسکی بات پر بس اتنا ہی بول سکا

آپ کہہ بھی تو سکتے تھے کہ مجھے ضروری کام ہے ۔۔۔
وہ اب بھی منہ دوسری جانب کیے ہی بولی

تم نے ہامی بھری تھی تمہاری بات کی نفی کیسے کرتا ۔۔۔ اماں سائیں نے کہا کہ ان کی بہو کو شکایت نہیں ہونی چاہیے ۔۔ ورنہ حویلی میں گھسنے نہیں دیں گی ۔۔۔

وہ اسکی جانب دیکھتے بولا جس کا آدھا چہرہ ہی وہ دیکھ پا رہا تھا

حور خاموش رہی ۔۔۔ حور ۔۔ حیات نے اسے آواز دی پر وہ کچھ نا بولی

سنسان جگہ دیکھ کر حیات نے گاڑی روکی

اور اپنا سیٹ بیلٹ کھول کر حور کی جانب تھوڑا جھکا

ایم سوری ۔۔ آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا اماں سائیں اور تمہارے علاؤہ کسی کے لیے دروازہ نہیں کھولوں گا

وہ اسکو چہرہ نرمی سے اپنے ہاتھوں میں لیتے بولا

مجھے شراکت برداشت نہیں ہے آپ میرے شوہر ہیں وہ آپ کو ایسے ندیدوں کی طرح دیکھ رہی تھی

وہ اپنی بھری ہوی آنکھوں کے ساتھ بامشکل بولی

اففف میری جان آئندہ میں گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کر لوں گا ۔۔۔
وہ اسے اپنے سینے سے لگاتے بولا

ششش ۔۔۔ بس ایسے آنسو ضائع مت کرو ۔۔۔
حیات سکندر پر صرف اسکی حوریہ کا حق ہے
آج سے نہیں بچپن سے ہی ۔۔۔
وہ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے پھر سے بولا

حوریہ اسکی بات پر اپنی آنسو صاف کرتی اپنی پوزیشن کا خیال کرتی پیچھے ہوی

آئندہ روںہ نہیں ۔۔ حیات نے اس کے گال کو چھوتے کہا

مجھے ائس کریم کھانی ہے ۔۔۔وہ اپنی خفت مٹانے کو بولی

اوکے ۔۔ وہ کہہ کر گاڑی دوبارہ سٹارٹ کرتا اسے لیے ائس کریم پارلر کے باہر رکا

حور جو ائس کریم کھاتے دیکھ حیات کو اپنی ماہی کی یاد آی

کیا ہوا آپ کا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے ۔۔۔ ائس کریم انجوائے کرتی حور نے کہا

ماہی کی یاد آرہی ہے ۔۔۔ اتنے مہینے ہو گئے اسے گئے ہوے ۔۔۔

وہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا بولا

وہ لوگ کب آئیں گے ؟ کیا وہ بھائ کو منا چکی ہے ؟

حور نے بھی جلدی سے کہا

بہت جلد ۔۔۔ حیات نے کہتے گاڑی سٹارٹ کی ۔۔۔
جبکہ حور بھی ائس کریم کھاتی پُر سوچ ہوی

🍁🍁🍁

ماہی کو ترقی آئے اب کافی عرصہ گزر چکا تھا وہ اب جھانگیر سلطان کے ساتھ ایک نارمل زندگی گزارنے لگی

جھانگیر بھی اب اپنی مصروفیات کی وجہ سے سارا دن گھر نہیں آتا تھا ان کی ملاقات رات میں کھانے پر ہی ہوتی تھی

جس میں ماہی اسے اپنی سارے دن کی روٹین بتاتی جو کہ کچھ خاص تو نہیں تھی مگر پھر بھی جھانگیر مکمل دھیان کے ساتھ سنتا تھا

اب بھی وہ رات کے دس بجے آیا تھا باہر کے دروازے کا لاک کھول کر اندر آیا مگر گھر کے شیشے کے دروازے کو وہ اندر سے لاک کرکے رکھتی تھی

اسکے مطابق وہ اپنی حفاظت کرتی تھی جبکہ جھانگیر کی سکیورٹی کی لمبی فورس اس چھوٹے سے گھر کے آس پاس ہوتی تھی

جو مخصوص اس نے ماہی کی حفاظت کے لیے رکھی تھی

دروازے پر ناک کرتے وہ دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگا

کون ؟ اندر سے آواز آئی

میں ہوں میرا میٹھا سائیں دروازہ کھولیں ۔۔۔
وہ محبت سے گویا ہوا

اگلے ہی پل دروازہ کھلا چکا تھا

وہ سامنے براؤن کلر کی کیپری شرٹ پہنے بالوں کو ڈھیلی سے جوڑے میں باندھے دوپٹہ گلے میں ڈالے کھڑی تھی

آی مس یو سو مچ وہ اندر قدم رکھتے اس کے ماتھے کو عقیدت سے چومتے بولا

آی مس یو ٹو ۔۔۔ وہ بھی محبت سے گویا ہوی

اس سارے وقت میں اس نے بہت وقت جھانگیر کے ساتھ گزارا تھا اب وہ مکمل طور پر اس کے ساتھ ایک اچھی زندگی گزار رہی تھی

جھانگیر بدلے میں مسکرایا

وہ دروازے کے پاس ہی جوتے اتار کر وہاں گھر کے اندر پہن کر جانے والے جوتے پہنتے ہوے اسکے ساتھ اندر بڑھا

آپ فریش ہو جائیں تب تک میں کھانا لگاتی ہوں

ماہی نرمی سے گویا ہوی
جھانگیر مسکرایا

پھر اوپر جاتی سیڑھیوں کی جانب بڑھا جہاں اوپر اسکا کمرہ تھا

ماہی بھی کیچن میں چلی گئ

تھوڑی دیر وہ فریش ہو کر نیچے آیا
ماہی کو ٹیبل پر اپنا منتظر پایا

وہ خاموشی سے کھانا کھانے کے بعد اب کافی پی رہے تھے

جھانگیر مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے ۔۔۔۔
ماہی جھجھک کر بولی

کیونکہ اب اسے وہ کام کرنا تھا جس کے لیے اسے یہاں بھیجا گیا تھا

جی میٹھے سائیں بولیں ۔۔ وہ اسکا گال کھینچتے نرمی سے گویا ہوا

وہ دراصل ۔۔۔ وہ کچھ پریشان ہوی

کہیں وہ اس سے خفا نا ہو جائے ۔۔۔

کیا بات ہے ؟ جھانگیر اسکے گھبرانے کو نوٹس کرتے بولا

وہ ہم پاکستان کب جائیں گے ؟
وہ بامشکل اپنی بات کرکے اب سلطان کے چہرے پر پھیلی سنجیدگی دیکھنے لگی

ہم پاکستان کبھی نہیں جائیں گے ۔۔۔ وہ کچھ دیر بعد سنجیدگی سے بولا

لیکن ۔۔۔ ابھی ماہی کچھ کہتی جب اس نے اپنے سنجیدہ چہرے سے اس کی جانب دیکھتے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنی بات وہیں ختم کرنے کا کہا

ماہی بھی اسکے اشارے پر وہیں خاموش ہو گی

🍁🍁
صبح بھی جھانگیر نے نوٹس کیا تھا کہ ماہی بجھی بجھی سی تھی

پر وہ اس کو پاکستان جانے والے بات پر بس ضد ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا

وہ اس وقت دوپہر میں گھر آیا تھا ۔۔۔۔

کیا ہوا ہے مجھ سے میرا بچہ ناراض ہے ؟ وہ اسکی اتنی خاموشی پر بولا

کچھ نہیں ۔۔۔ وہ کہہ کر کھانا کھانے لگی

ماہی میرا بچہ کیا بات ہے اس قدر خاموش کیوں ہو گی ہو ۔۔۔۔

وہ پھر سے بولا

آپ کو کیا فرق پڑتا ہے میں جس حال میں بھی ہوں ۔۔۔
وہ اب کی بار نظریں اٹھا کر جیسے ہی بولی جھانگیر نے اسکی آنکھوں میں امنڈ آنے والے آنسو پر پریشانی سے اسے دیکھا

ماہی میں ۔۔۔ وہ ابھی کچھ کہتا کہ اس بار ماہی نے ہاتھ کھڑا کرکے اسے بولنے سے بعض رکھا

آپ کا جو دل کرے آپ کو کریں ۔۔۔ وہ کہہ کر اٹھ کر کمرے میں جا کر بند ہو گی

جھانگیر ںے اپنا سر پکڑ لیا ۔۔۔

🍁🍁🍁🍁

عشق گیریاں
قسط نمبر 39
ازقلم آنسہ چوہان

بی جان آج سکندر حویلی واپس آچکی تھیں ۔۔۔ سکندر اور فریال ان کے پاس بیٹھے تھے

جب کہ سائشہ اور شہریار بھی اب ان کے پاس آکر بیٹھے

بی جان آپ اپنی دوا تو کھاتہ رہی ہیں ناں ؟ سائشہ نے آکر کہا

ہاں بچے ۔۔۔ وہ کچھ نقاہت سے بولیں

سکندر نے نوٹس کیا تھا کہ بی جان اب تھوڑا مشکل سے بولتی تھیں

ڈاکٹر سے بات کرنے پر انہوں نے عمر کا تقاضہ بتایا تھا

شام کے وقت جیسے ہی صائم آیا بی جان کی طرف سے رشتے کی بات وہ شل ہو کر رہ گیا

آنکھوں کے سامنے ایک خوبصورت عکس لہرایا

سب گھر والوں کی رضامندی پر وہ بھی انکار نہیں کر پایا ۔۔۔
پتہ نہیں کیوں دل کہتا تھا کچھ تو ہے جو اس سے مخفی ہے۔۔۔۔

اور آج فریال، سکندر ،سائشہ، شہریار، شایان اور مقدس پریزے کے گھر پر رشتے کے لیے آئے تھے

پریزے کو جیسے ہی ان کے آنے کی خبر ہوی خود کو کمرے میں بند کر چکی تھی

نہیں بلکل نہیں میں یہاں شادی نہیں کروں گی ۔۔ وہ ایک ضد لگا کر بیٹھی تھی

لیلا بیگم نے اب کی بار دروازے کی چابی منگوا کر لاک کھولتے اندر قدم رکھا

اٹھو ۔۔۔ اور چلو نیچے تمہارے ڈیڈ مہمانوں کے پاس بیٹھے تمہارا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔
لیلا بیگم نے نخوت سے اسے دیکھتے کہا

تو کس نے کہا ہے میرا انتظار کریں ؟
جا کر کہہ دیں ان سے کہ میں نہیں آؤں گی ۔۔۔

پریزے نے ان کی جانب دیکھتے درشت لہجے میں کہا

تم کیا پاگل ہو گی ہو ۔۔۔ اپنی نہیں تو اپنے باپ کی عزت کا خیال کر لو

تمہاری مری ہوی ماں کی وجہ سے اپنے باپ سے خفا ہو نا ؟۔تو پھر جب تمہاری اس مری ہوی ماں نے ہی اپنی زندگی میں تمہارے لیے فیصلہ کر لیا تھا

تو اب کیا مسلہ ہے تمہیں سب اپنی ماں سے محبت کہانی گئ تمہاری

لیلا بیگم ایک ایک لفظ چبا کر بولیں

آپ اپنے کام سے کام رکھیں اور نکلیں میرے کمرے سے ۔۔۔۔

پریزے کا بس نہیں چلا اس عورت کو دھکے دے کر نکال دیتی

ٹھیک ہے میں تو جا رہی ہوں پر یہ یاد رکھنا اپنے باپ کی عزت تمہارے ہاتھ میں ہے

اور ہاں وہ جو لوگ وہاں نیچے بیٹھے ہیں نا تمہاری ماں کے بہت عزیز تھے وہ

وہ جاتے جاتے اپنے لفظوں میں اسے جکڑ چکی تھی

لیلا بیگم کمرے سے نکلتی دروازہ بند کر کے جا چکی تھیں

پر پریزے صوفے پر بیٹھ گئ

اففف شیمن پک اپ دا کال ۔۔۔
وہ بار بار شیمن کو کال ملا رہی تھی جو وہ دو دن سے اٹھا نہیں رہا تھا

پریزے کے کان میں لیلا بیگم کی آخری الفاظ گونجے

میں یہاں شادی نہیں کروں گی ۔۔۔ پر فلحال مجھے یہ ڑرامہ کرنا پڑے گا

وہ کہہ کر اٹھی اور لیلا بیگم کے دئیے ہوئے کپڑے کے کر واشروم میں بند ہو گی

🍁🍁🍁
وہ تیار ہو جیسے ہی نیچے کو جاتی سیڑھیوں سے نیچے آئ

فریال کی بے ساختہ نظر سیڑھیوں سے اترتی اس خوبصورت لڑکی پر گئ

جس کے بھورے بال اس کے کندھوں تک آتے تھے
خوبصورت سرخ و سفید رنگت
لمبا قد اور خوبصورت جسامت
وہ لڑکی اس وقت پیچ کلر کی قمیض اور کیپری پہنے دوپٹہ گلے میں ڈالے بال کھولے نیچے آرہی تھی

پر اسکے چہرے کے تاثرات سے ہی لگ رہا تھا وہ اس طرح کتنی انکمفرٹیبل تھی

وہ چلتی ہوی مہمانوں کے پاس آئ

پر بولی کچھ نہیں اسکا چہرہ سپاٹ تھا ۔۔
جب فریال نے اسے کھوجتی نظروں سے دیکھا

سائشہ بھی مسکرا اسکا خوبصورت چہرہ دیکھ رہی تھی

ہماری پری تو واقعی میں پری لگتی ہے ۔۔۔ مقدس نے مسکرا کہا

تو پریزے کی نظر مقدس کے گول مٹول سے وجیہہ چہرے پر پھیلی خالص مسکراہٹ پر پڑی

پھر عدنان صاحب نے پریزے کو بیٹھنے کا کہا

سائشہ اٹھ کر پریزے کے پاس آئ
جب پریزے نے اس سانولی رنگت والی عورت کو دیکھا جو اپنے چہرے پر الواہی چمک لیے اس کے پاس بیٹھی تھی

پریزے ان سب کو دیکھ کر اب بس اس دیر میں تھی کہ کب اس کو اٹھنے کی اجازت ملے

رسم کے طور پر سائشہ نے پریزے کے ہاتھ میں ہیرے کی انگوٹھی پہنائ

جس دیکھنے میں بیت خوبصورت تھی

پھر عدنان صاحب اپنی بیٹی کے چہرے پر پھیلی بیزارئیت دیکھتے اسے جانے کا اشارہ کر چکے تھے

جس کے بعد پریزے وہاں بوتل کے جن کی طرف غائب ہوی

🍁🍁🍁
مبارک ہو میرے شیر تم بھی اس لائن میں شامل ہو گئے
حیات نے مسکرا کر صائم کو گلے لگاتے کہا جس پر وہ مروتاً مسکرا دیا

پھر سب باری باری صائم کو مبارک باد دینے لگے

جب وہ سب لوگ واپس آئے تھے سب اسے تنگ ہی کرنے لگے ہوے تھے

کیا بات ہے ؟ حیات اسکے چہرے پر پھیلی سنجیدگی دیکھتے بولا

یار ۔۔۔ میری ماہی ۔۔۔ وہ اداس ہوتے بولا
میری زندگی کے اتنے بڑے فیصلے میں وہ ہی نہیں ہے میرے ساتھ

وہ اداس ہوتے بولا

وہ آ جائے گی اسے بہت خوشی ہوگی اپنی بھابھی کے آنے کا سن کر ۔۔۔ حیات نے اسکے کندھوں پر ہاتھ پھیلاتے کہا

جس پر صائم نے بس سر ہلا دیا

🍁🍁🍁

ماہی پلیز یار ۔۔۔ وہ آج اسے منانے کے لیے باہر لے کر آیا تھا جو پہلے تو آنے کو ہی تیار نہیں تھی اور اب جب آگی تھی تو محترمہ کا غصہ ناک پر بیٹھا تھا

کب سے جھانگیر سلطان اس کے آگے پیچھے گھوم رہا تھا

ہم پاکستان جائیں گے یا نہیں ؟ وہ اسکی جانب دیکھتے ہی دنوں بعد آج پھر اسی بات کی ضد میں بولی جس وجہ سے ان کے درمیان کھچاؤ بن چکا تھا

یار ماہی ہم نہیں جا سکتے ۔۔ وہاں میرا کوی نہیں ہے ۔۔۔
وہ تھک ہار کر بولا تھا

کوی نہیں ہے ؟
ماہی نے اسکی جانب دیکھا

وہ اس وقت ایک جھیل کے کنارے کھڑے تھے لوگوں کی آمدو رفت بھی اچھی خاصی تھی

سب اپنی اپنی زندگیوں کے مسلے مسائل میں الجھے ہوے اپنی ہی دھن میں رواں تھے

جھانگیر نے اسکو ایسے دیکھا جیسے اسے اس بارے میں بات نہیں کرنی

نہیں جھانگیر اب بہت ہوا

مجھے کیسی سزا دے رہے ہیں آپ ؟
میری کیا غلطی ہے ؟

ماہی کی آنکھیں بھر آئیں تھیں

جھانگیر نے اسکو نرمی سے کندھوں سے تھاما
اور وہاں رکھے ایک بینچ پر جا کر بیٹھایا

کون سی سزا دی ہے میں نے تمہیں ؟ وہ اسکی جانب دیکھتے بولا

اس نے تو آج تک اسے افف بھی نہیں کہا اس کو کہہ رہی تھی کہ سزا دی ہے ؟
وہ حیران تھا

جھانگیر میں نے پچھلے 9 مہینے سے اپنی ماں کا چہرہ نہیں دیکھا

اپنے باپ کی آواز نہیں سنی ۔۔۔
وہ اسے دیکھتے بھری ہوی آنکھوں سے بولی

صرف اسلیے کہ آپ پاکستان نہیں جانا چاہتے اور میں اکیلے نہیں جانا چاہتی

وہ کہہ رہے ہیں کونسی سزا ؟
میرے بھائیوں کی شش شادی ہے اور آپ پاکستان نہیں جانا چاہتے

وہ رونے کے باعث اپنے لڑکھڑاتے لہجے پر قابو نہیں کر پا رہی تھی

تکلیف سے آنسوؤں کا گولہ حلق میں پھس گیا

آپ کو پتہ ہے جھانگیر میں اپنی اماں سائیں اور بابا سائیں کے بغیر ایک دن نہیں رہی اور یہاں آپ کی خاطر 9 مہینے میں نے اپنی فیملی کو چھوڑا

ان سے بات نہیں کر سکتی کیونکہ ان کو یہی لگتا ہے کہ میں پڑھائ کے لیے آئ ہوں ۔۔۔ اور ان سے بات کرنے کے لیے مجھے ایک مہینے کا انتظار کرنا پڑتا ہے

میں بس بھائ سے اور بابا سے بات کر سکتی ہوں
وہ بھی ایک مہینے بعد ۔۔۔

جھانگیر مجھے میرے گھر والے بہت یاد آتے ہیں

وہ روتے ہوے بولی

تمہیں لگتا ہے میں نے تمہیں قید کر لیا ہے ؟
وہ اسے دیکھتا بولا

نا جانے کب مگر جھانگیر سلطان کی آنکھیں بھی نم ہو چکی تھیں

نا جانے کس احساس کی تہت وہ اپنے آنسوؤں پر بن نہیں لگا سکا

ماہی اسے دیکھے گی اس کی پاس کوی جواب نہیں تھا

سزا لگتی ہے نا یہ ؟
وہ تمہیں مجھ سے چھین لیں گے وہ سب مجھے اچھا نہیں سمجھتے وہ مجھ سے تمہیں چھین لیں گے

میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر ۔۔۔
تمہارے گھر میں کسی کو کہیں معلوم کہ تم کہاں ہو

پر اگر پتہ چل گیا تو جانتی ہو کیا ہوگا ؟

وہ آخر میں سوالیہ ہوا
ماہی نے اسے ہاتھ تھامے

کچھ نہیں ہوگا میں سب کو منا لوں گی ۔۔ آپ سے جب بچپن سے اب تک منسوب کر کے رکھا تھا تو کیسے وہ ہمارے نکاح کو قبول نہیں کریں گے

پھر حیات لالہ تو ہمارے ساتھ ہیں نا ؟
وہ اسے تسلی دیتی بولی

نہیں میری جان ۔۔۔۔ میں ایک ایسا انسان ہوں جس پر اسکے اپنے ماں باپ کی یقین نہیں کیا تو تمہاری فیمیلی کیوں کرے گی یقین ؟

وہ اپنی نم آنکھوں کو صاف کرتے بولا

میں تم ہر زیادہ ہی ظلم کر گیا تمہیں کل ہی پاکستان بھیج دیتا ہوں ۔۔
وہ کہہ کر اب اٹھ کر کھڑا ہوا
جب کہ ماہی اسکے الفاظ پر خاموش رہ گی

اسکے چہرے پر پھیلی سنجیدگی اور سرد تاثرات کسی کو بھی اپنی زبان بند رکھنے پر مجبور کر سکتے تھے

ماہی اسکے ساتھ اب خاموشی سے چل رہی تھی اور اب تہہ تھا کہ جھانگیر سلطان اس پر مزید ظلم کرکے اسے اپنے پاس قید نہیں کرے گا

وہ اسے اپنے گھر والوں سے دور رہنے کی سزا نہیں دے گا
🍁🍁🍁
فریال بی جان کو ان کی دوائ دینے آئ تھی مگر جب ان وہ یوں ہی بنا حرکت کیے لیٹے دیکھ کر وہ گھبرائ
بی جان ۔۔۔ اس نے آواز لگائی پر بی جان ہل بھی نا سکئیں

فریال باہر بھاگی ۔۔ سس سکندر شہریار بھائ ۔۔وہ باہر جاتے چلائ

اور کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے ان کو چیک کرکے بتایا کہ بی جان تین گھنٹے پہلے ہی دم توڑ چکی ہین

پوری حویلی میں سوگ کا ماحول تھا

🍁🍁🍁
فلائیٹ کا وقت ہونے والا تھا وہ لوگ اس وقت ائیرپورٹ پر کھڑے تھے

اتنے عرصے میں کبھی بھی جھانگیر نے رات کے وقت ماہی کو اکیلے نہیں چھوڑا تھا پر کل رات وہ اسے گھر چھوڑ کر غائب ہو گیا تھا

اور ابھی بھی آدھا گھنٹا پہلے وہ گھر آیا اور اسے لیے ائیرپورٹ پر پیںچ گیا تھا

اس کے اس قدر برفیلے تاثرات تھے کہ ماہی کو اسے سے بے تحاشہ خوف محسوس ہوا

ماہی بار بار اسکے چہرے کی جانب دیکھ رہی تھی جو سخت پتھر دل بنا بیٹھا تھا

اسے کہیں سے بھی وہ جھانگیر سلطان نہیں لگا تھا

وہ تو ماہی سے کبھی نظریں ہی نہیں ہٹاتا تھا وہ تو کبھی اسے خود سے دور نہیں کرتا تھا

پھر وہ کیسے اسے اکیلے بھیج رہا تھا ۔۔۔

جھانگیر نے پاکستان والے ارڑز پر ہیڈ کو منع کر کے معذرت کر لی تھی اب وہ کبھی پاکستان نہیں جانا چاہتا تھا

جج جھانگیر ۔۔۔ وہ بامشکل بولی فورا اپنے خشک لبوں پر زبان پھیر کر ان کو تر کیا اور خود کو مزید بولنے کے لیے تیار کیا

مگر وہ جیسے اسے سن ہی نہیں سکا ۔۔ ایک ہی پوزیشن میں وہ بیٹھا تھا

جھانگیر آپ ۔۔ وہ پھر سے بولی کہ ہائیرنگ شروع ہو چکی تھی

جھانگیر کھڑا ہوا ۔۔۔
پاسپورٹ اسکی جانب بڑھایا

اللہ حافظ ۔۔۔ وہ کہہ کر اسکے سامنے اسکے سامان کا سوٹ کیس اسکی جانب دھکیل چکا تھا

وہ اب اسے کھڑے دیکھ رہی تھی

گلے بھی نہیں لگائیں گے ؟
وہ روتے ہوے بولی

پر جھانگیر پتھر ہوا کھڑا تھا

اور پھر وقت دیکھتے ماہی نے ایک قدم اسکی جانب بڑھایا مگر دو قدم کا فاصلہ بناتے جھانگیر دور ہوا تھا

جائیں ۔۔۔ وہ کہہ کر ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا بول رہا تھا

اگر بی جان کا آخری دیدار نا کرنا ہوتا تو ماہی کبھی اسے اکیلے چھوڑ کر نہیں جاتی
ماہی روتے ہوے فلائیٹ کی جانب بڑھ گئ

اور کچھ ہی دیر میں ترقی سے پاکستان جانے والا جہاز پرواز بھر چکا تھا

اور پیچھے جھانگیر سلطان آج بھی خالی ہاتھ رہ گیا تھا

🍁🍁🍁
پوری حویلی میں فریال اور سائشہ مقدس کی رونے کی آواز تھی

اچانک یوں بی جان کا چلے جانا ان سب کو ہلا کر رکھ گیا

حیات نے ماہی کو لینے ملازمین کو بھیجا تھا

کیونکہ حویلی میں فلحال اسکا ہونا ضروری تھا

دائم بھی پاکستان کے لیے پرواز بھر چکا تھا

🍁🍁🍁
بی جان کو گئے تین دن ہو گئے تھے پر ان کے ساتھ گزارے پر لمحے کو آج بھی سب یاد کرکے رو رہے تھے

فریال کی طبیعت خراب ہو چکی تھی اسنے اپنی ماں کا پیار تو نہیں پایا پر بی جان سے اس نے ماں کا پیار پایا تھا

جب کہ سائشہ کو بھی اپنی ماں کی کمی کبھی بی جان کی موجودگی میں محسوس نہیں ہوی

اور مقدس اس وقت بیمار سی سکینہ بی کے ساتھ بیٹھی بی جان کو یاد کر رہی تھی

سکندر شہریار اس وقت لاؤنچ میں بیٹھے اپنے سامنے احمد صاحب اور ابرہیم صاحب کے ساتھ بیٹھے تھے اور ساتھ ہی سائرہ بیگم اور سلمہ بیگم بھی موجود تھیں

آپ لوگوں کو آج بھی اپنے کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔۔

شہریار نے اپنے ماں باپ کو دیکھتے کہا جو عمر کے اس لمحے میں بھی اپنی ہی زندگیوں میں مگن تھے

تم جانتے ہو ہمارا بزنس ہے وہاں ہونا ضروری ہے

تم نے یا تمہاری اولاد نے کبھی ہم سے ملنے کی زحمت تک نہیں کی

سلمہ بیگم کے اندر آج بھی اپنی پسند کی بہو نا لانے کی کسک باقی تھی

جب کہا احمد صاحب شرمندہ سے بیٹھے تھے

اور سائرہ بیگم بھی ندامت سے سر جھکا گئیں

🍁🍁🍁

سلمہ بیگم اپنے پوتے نعمان کو دیکھتے اسکی جانب آئیں جس کی ان کی جانب پشت تھی

وہ اسکے پاس آئیں اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا

وہ پلٹا پر سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ کر اس کے چہرے پر سختی در آئ

آج بھی مجھ سے نفرت کرتے ہو میرے بچے ۔۔ وہ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لینے لگائیں جب نعمان نے انکا ہاتھ جھٹک دیا

میری ماں پر سوتن لانے والی آپ ہیں ۔۔۔ میرے باپ کو اموشںل بلیک میل کرکے ان کی زندگی تباہ کرنے والی آپ ہیں ۔۔۔
میرے بچپن کے خوبصورت سالوں کو تباہ کرنے والی آپ ہیں

لیکن آپ سے نفرت نہیں کر سکتا میں
۔ وہ ہاتھ جھٹک کر بولا

کیونکہ میرے باپ کی جنت آپ کے قدموں میں ہے اور میرے ماں باپ کو معاف کر چکے ہیں ہر میں کبھی آپ کو معاف نہیں کرسکتا

لیکن میں آپ سے نفرت بھی نہیں کرتا

وہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ سائرہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے

🍁🍁🍁🍁
بی جان کی موت کے بعد کتنے ہی دن حویلی میں سناٹا چھایا رہا

ماہی اپنی ماں کی گود میں سر رکھے ہوے تھے

تمہاری پڑھائ کیسی چل رہی ہے اور تم نے ایک دفع بھی مجھ سے بات نہیں کی

سائشہ اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتے بولا

اماں سائیں آپ سے ایک بات پوچھوں وہ آنکھیں موندے بولی

ہاں پوچھو۔۔۔۔
کیا جب انسان کو ایسے لگے کہ کسی انسان کے بغیر سانس لینا مشکل لگ رہا ہے تو کیا اسے عادت کہتے ہیں یا محبت ؟

وہ اب کی بار آنکھیں کھولے بولی

محبت کبھی بھی دیکھ کر نہیں ہوتی کہ فلاں کی حیثیت کیا ہے اسکے چہرے سے نہیں ہوتی

یہ تو خود با خود ہو جاتی ہے
ایسا احساس ہے جو میٹھا سا ہے

پر اس میں جدائی تکلیف دیتی ہے بہت زیادہ تکلیف

سائشہ نے نرمی سے جواب دیا

ماہی نے آنکھیں موند لیں مجھے آپ کی بہت یاد آرہی ہے جھانگیر ۔۔ وہ دل ہی دل میں بولی

حوریہ اس وقت ماہی کے آپس آکر بیٹھی تو سائشہ ان کو بات کرنے کا موقع دیتی اٹھ کر چلی گئ

میرے بھائ کیسے ہیں ؟
وہ تڑپ کر بولی

تم سات کیوں نہیں لای؟
اسکی آنکھیں نم ہو رہی تھیں

وہ ہمیں یاد تو کرتے ہیں نا؟
ایک امید کے تحت بولی

تم بول کیوں نہیں رہی ؟
وہ اسے خاموش دیکھ کر پھر سے بولی

تمہارے بھائی ٹھیک نہیں ہیں مجھے معاف کر دو میں اپنا وعدہ نہیں نبھا پائ
وہ تم سب سے بہت دور جا چکے ہیں

وہ سر جھکا کر کافی دیر کے بعد بولی تھی

حوریہ کو لگا اسکی امیدیں سب ٹوٹ گئ ہیں

آپ نے تو کہا تھا آپ کے آئیں گی ان کو ؟
وہ اب کی بار باقاعدہ رو رہی تھی

تکلیف تھی اپنے بھائی کی جدای جو آنسوؤں سے زریعے بہہ رہی تھی

وہ پتھر دل ہے ان پر میری محبت میرے آنسوؤں کا بھی اثر نہیں ہوا

ماہی نے چہرہ اسکی جانب کرتے کہا

انہیں ایک پل نہیں لگا مجھے چھوڑنے میں ۔۔۔۔
وہ جو میرے بغیر رہتے نہیں تھے اب اتنے دنوں سے مجھ سے بات نہیں کی میری کالز تک نہیں اٹھا رہے وہ

ماہی کہہ کر احساس کمتری کا شکار ہوتی تو دی

🍁🍁🍁
قسط نمبر 40
ازقلم آنسہ چوہان

حیات اس وقت اکیلا لون میں بیٹھا تھا
اس وقت بہت خوبصورت ٹھندی ہوا چل رہی تھی
جب سکندر بھی باہر لون میں آئے

سامنے حیات کو دیکھ کر وہ بھی اسکے پاس ہی چلے آئے

خاموشی سے واک کرتے حیات نے گردن ترچھی کرتے اپنے ساتھ چلتے باپ کو دیکھ کر مسکرا کر ان کو دیکھا

سکندر اپنے قد سے بھی بڑے اپنے بیٹے کو دیکھ کر دل سے مسکرایا

تمہیں پتہ ہے مجھے بی جان بہت یاد آرہی ہیں ۔۔۔ سکندر نے بات کا آغاز کیا

حیات نے ان کی جانب دیکھا

آپ ان کے لیے دعا کریں بابا ۔۔۔ وہ ان کو دیکھتے بولا

دعا ۔۔۔ ہاں کرتا ہوں دعا پر ان کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے

میرا سارا بچپن ان کی گود میں گزرا ہے
میری بی جان نے مجھے ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی

وہ اب اپنی اشک بار آنکھوں کو صاف کرتے بولے

وہ جب جب بی جان کو یاد کرتا تھا اسکی آنکھیں بھیگ جایا کرتی تھیں ۔۔۔۔

بابا ۔۔۔ حیات نے ان کی بھیگی آنکھیں دیکھیں تو ان کو رونے سے بعض رہنے کا کہا

اچھا چلو نہیں روتا ۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولے

پھر وہ لوگ واک کرنے لگے

تبھی اوپر کے پورشن میں کھڑے شایان نے آواز لگائی

یہ آپ باپ بیٹا کونسی باتین کر رہے ہیں ؟ وہ اوپر کھڑے ہی آواز لگاتے بولے

ہاہا ۔۔۔ تم بھی آجاؤ ۔۔۔ سکندر نے خوش دلی سے کہا

🍁🍁🍁🍁

صائم آج اپنے کیبن میں بیٹھا کافی دنوں سے کیسسز دیکھنے والے تھے تو وہ بیٹھا بس ان کو دیکھ رہا تھا جب اسکے نمبر پر کال آنے لگی

ان ناون نمبر دیکھ کر وہ اگنور کر گیا ۔۔۔۔۔
پھر دوسری تیسری بار کال آنے پر وہ سمجھ گیا کال کرنے والا کوی ڈھیٹ تھا

اس نے فون کان سے لگایا پر نظریں اس اہم فائل پر ہی تھیں

کہ آنکھیں حیرت زدہ ہوئیں جب دوسری جانب سے کال پر جملہ بولا گیا

میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔
دوسری طرف پریزے تھی جس کی مغرور آواز گونجی

بنا سلام دعا کے وہ دھڑلے سے بولی

کون ؟ حیرت سے باہر آتے وہ فون کان سے ہٹا کر ایک دفع پھر دیکھنے لگا کہ کال کرنے والا کون ہے ۔۔۔۔

پریزے عدنان ۔۔۔ وہ مغرور سا بولی

اوو کی شیپ میں صائم کے لب گول ہوے

تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی ؟
وہ ایک دفع پھر کنفرم کر رہا تھا کہ اس نے غلط تو نہیں سنا

ہاں ۔۔۔ کیوں کروں میں تم جیسے گوار سے شادی ؟

وہ بھی تڑخ کر بولی

وٹ ؟ گوار ؟ اب کی بار صائم اچھل کر سیدھا ہو کر بیٹھا

بلکل جاہل گوار گاؤں کے
ان پڑھ سے شادی کرنے کی کوی خاص وجہ جو نہیں ہے
وہ جل بھن کر بولی تھی

اب کی بار صائم کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ ہوا تھا

تم جیسی امریکن سونڈھی کا علاج اس گورا کو کرنا آتا ہے

جانِ من اب تم ریڈی ہو جاؤ کیوں کہ دلہے میاں اب اپنی دلہنیا کے دماغ کا علاج کرنے کو بے تاب ہیں

وہ بھی ایسے لفظ چن چن کر بولا تھا فون کان سے لگائے بیٹھی پریزے کا سیرو خون جلا تھا

تم مجھے جانتے نہیں ہو مسٹر ۔۔۔ وہ غرائ تھی

نہیں تمہاری گری ہوی سوچ سے اندازہ لگا سکتا ہوں تم کتنی تیس مار خان ہو

ویسے اگر شادی سے انکار کرنا تو اپنے پاپا کو کیوں نہیں کہا

اس نے بات کرنے بعد آخر پر سوال کیا

جس کا جواب نا ملنے پر وہ قہقہ لگا کر اسے جلا رہا تھا

یعنی تمہاری چلتی اپنے گھر میں نہیں ہے اور زبان ایسے چلاتی ہو جیسے باپ کا راج ہے ۔۔۔

وہ ایک دفع پھر اسکو آگ لگا چکا تھا

اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا کوی صائم شہریار سے سیکھے

یو ۔۔۔ وہ کچھ کہتی جب صائم پھر سے بولا

شادی تو اب یہ فورا کرے گا تو تم سے ہی ۔۔۔
وہ کہہ کر کال اسکے منہ پر کاٹ چکا تھا جب کہ پریزے نے اتنی ہتق آمیز بے عزتی پر موبائل زمین پر زور سے دے مارا

اسکی تو میں جان عذاب کر دوں گی ۔۔۔ وہ شدید غصے میں آ چکی تھی

🍁🍁🍁
جب کہ دوسری طرف صائم شہریار نے فون کاٹ کر موبائل ٹیبل پر رکھا

اس امریکن کبوتری کو تو اب میں سیدھا کروں گا

ساری اکڑ نا نکال دی تو میرا نام بھی صائم شہریار نہیں ۔۔۔

وہ بھی تہیہ کرتا فائل پر واپس جھکا

🍁🍁🍁
ماہی ۔۔ ماہی کو سیڑھیوں سے اوپر جا رہی تھی حیات کی پکار پر رکی
پھر پلٹی

جی بھئیو ۔۔ وہ نیچے کھڑے حیات کی طرف بڑھی

بیٹھو مجھے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔۔
اسے آج ہی پتہ چلا تھا کہ ماہی کافی بیمار تھی اور چار دن سے اسکا بخار بھی نہیں اترا تھا

ماہی اس کے کہنے پر صوفے پر جا کر بیٹھ گئ

دیکھو میری بہنہ ۔۔۔ میں جانتا ہوں جھانگیر کے نا آنے پر تم افسردہ ہو کہ تم نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا

پر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم نے اپنی پوری کوشش کی ہوگی مجھے اور حور کو کوی گلہ نہیں ہے تم سے

وہ اسکا زرد چہرہ دیکھ کر بولا

بھئیو میں نے واقعتاً بہت کوشش کی ہے مگر وہ اس قدر اپنے خاندان سے بدزن ہیں کہ ان کو انکا زکر بھی نہیں پسند

ماہی سر جھکا کر مدھم سا بولی نقاہت سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا

حیات نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے ان کو اپنی
بہنوں کا بھی خیال نہیں آتا

وہ حور کی تڑپ سے ابھی طرح واقف تھی

تبھی بولی

حیات مسکرایا

تمہیں غلط لگتا ہے بچے ۔۔ وہ اس کے زرد ہوتے چہرے کو دیکھتے بولا

کیا مطلب ؟
وہ سوالیہ ہوی ۔۔

وہ ان دونوں کی پل پل کی رپورٹ رکھتا ہے انفیکٹ وہ زکریہ چچا اور جویریہ چچی کے بارے میں روز کی خبر رکھتا ہے

اسکے انکشاف پر وہ شل ہوی

وہ تو سمجھتی تھی اسے اپنے خاندان کے بارے میں ذکر تک نہیں پسند ۔۔۔
یعنی وہ سب کے بارے میں جانکاری رکھتا تھا مگر بظاہر وہ لاتعلق تھا

اپنا خیال رکھو اور دوائ وقت پر کھائ کرو ۔۔۔ حیات کہہ کر اٹھ گیا

جب کہ کئیں لمحے وہ وہیں بیٹھی رہی

آپ کو میری بلکل کوی پروا نہیں ہے نا ۔۔۔ وہ اسے تصور میں شکوہ کناں ہوی

🍁🍁🍁

آج زکریہ شاہ اور جویریہ بیگم سکندر حویلی آئے تھے

شادی کے انتظامات کے لیے ۔۔۔۔
جب کہ سب لوگ اس وقت ان کے پاس لاونج میں بیٹھے تھے

آج انہیں شادی کی تاریخیں تہہ کرنی تھیں

🍁🍁🍁
پریشے اپنے بابا سائیں کے کمرے کی صفائی کروا کے ابھی کمرے سے باہر نکلی تھی ملازمہ اسکے پیچھے ہی تھی کہ ایک دوسری ملازمہ اسکی جانب بڑھی

بیگم صاحبہ آپ کے مہمان آئے ہیں ۔۔۔
پریشے حیران ہوی ۔۔
میرے مہمان ؟
وہ کچھ چونک کر بولی

جی آپ کے مہمان میں نے ان کو گیسٹ روم میں بٹھایا ہے آپ جا کر ان سے مل لیں ۔۔۔۔

میں کھانے پینے کا انتظام دیکھتی ہوں

ملازمہ کہہ کر کیچن کی طرف بڑھ گئ

پریشے ماتھے پر بل لیے گیسٹ روم میں داخل ہوی

پر وہاں کوی نہیں تھا وہ واپس جانے کے لیے پلٹی
کہ دروازے کے پاس دیوار سے ٹیک لگا کر دائم کو دیکھ اسکی چیخ نکلتے نکلتے بچی

یا خدا ۔۔۔ پتہ تم ٹھیک ہو نا ؟
وہ اسے دیکھتے بولا

پریشے اپنی سانس بحال کرنے لگی

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟
وہ اسے دیکھتے پریشانی سے بولی

تم سے ملنے آیا ہوں ۔۔۔ جب سے آیا ہوں ہاسپٹل میں مصروف ہو گیا تھا وقت ہی نہیں ملا تم سے ملنے کا

وہ کہتے مسکرایا

جب کہ پری مسکرا بھی نا سکی

آپ کو ایسے نہیں آنا چاہیے تھا ۔۔ وہ باہر دیکھتی بولی

کیوں نہیں آنا چاہیے ۔۔۔ ؟
کیا اب تک ناراضگی قائم ہے ؟

وہ اسے دیکھتے بولا

نہیں۔۔۔ میں آپ سے ناراض نہیں ہوں آج ہماری شادی کی ڈیٹس فکس ہو جائیں گی تو

آپ کا یہاں آنا مناسب نہیں ہے

وہ پھر سے بولی

تم نے ایک دفع بھی نہیں کہا کہ آپ کیسے ہیں ۔۔
اس نے شکوہ کیا۔۔

آپ کی چمکتی آنکھیں ہونٹوں پر مسکراہٹ دیکھ کر بھی پوچھنا بنتا ہے ؟

وہ اسے دیکھتے بولی

دائم سر جھکا کر مسکرا دیا۔۔۔۔
یہ تو آپ کی بدولت ہے وائفی

وہ خوش تھا کہ اس نے ناراضگی ختم کر لی تھی ورنہ نا جانے اور کرنا حلقان ہونا ابھی باقی تھا

🍁🍁🍁

عدنان صاحب اور لیلا بیگم جیسے ہی سکندر حویلی آئے

لیلا بیگم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔۔۔
گاڑی سے اترتے انہوں نے اس خوبصورت حویلی کی نفاست کو دیکھا تو آنکھیں دنگ رہ گئیں

عدنان صاحب کی پکار پر وہ ان کی جانب متوجہ ہو کر اندر کی جانب بڑھیں ۔

سامنے ہی اپنی تمام تر وجاہتیں بکھیرے صائم اپنی ہی دھن میں باہر آرہا تھا

سامنے دو نئے چہرے دیکھ کر روکا

ان کو سوالیہ دیکھا
لیلا بیگم کی نظریں اس پر تھم سی گئیں

بیٹا ہم سکندر صاحب کے مہمان ہیں ۔۔۔ آپ کون ہیں ؟

وہ۔ عجیب انسان تھا جس کو بیٹی دی تھی اسی سے پوچھ رہا تھا کہ وہ کون ہے

جی میں صائم ہوں۔۔۔ آپ پلیز اندر آئیں بڑے پاپا اندر ہی ہیں ۔۔
وہ سکندر کے مہمان سمجھ کر ان کو پروٹوکول دے رہا تھا

اسے کہیں نا کہیں ایسے لگ رہا تھا جیسے بی جان کی ڈیتھ پر اس نے اس آدمی کو دیکھا تھا

عدنان صاحب سر ہلاتے اس کی بتائے ہوے راستے کی جانب بڑھے

لیلا بیگم حیرت زدہ تھیں
کیا وہ جس سے زبردستی پریزے کی شادی کروانا چاہ رہی تھیں جس کو وہ ان پڑھ گورا سمجھ کر اپنا بوجھ( پریزے) ان کے حوالے کرنے کو تلی ہوئی تھی وہ اس قدر جازب دکھنے والا مرد تھا

آنٹی جی منگنی شدہ ہوں معزرت اپنی نظروں پر زرا کنٹرول کریں

وہ یہ جانے بغیر کہ وہ رشتے میں اسکی ساس لگتی ہے
لیلا بیگم کے کان کے پاس جھک کر زرافاصکہ قائم کیے مدھم آواز میں بول کر سیٹی بجا کر وہاں سے نکل گیا

لیلا بیگم اسکے جانے کے بعد سکتے سے باہر آئیں

بدتمیز۔۔۔ وہ کہہ کر عدنان صاحب کو ڈھونڈنے لگی جو ان کو ساتھ لیے بنا ہی اندر جو چکے تھے

🍁🍁🍁
صائم بادام کھاتے ہوے سب مہمانوں کے بیچ آکر بیٹھ گیا

حیات کے پاس بیٹھتے اس نے بادام والی مٹھی اسکے سامنے کی

نہیں تم کھاؤ اس کی اشد ضرورت تمہیں ہے ۔۔۔
وہ اسے دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا

کیوں اب کیا کر دیا اس نے ؟
دائم حیات کے بائیں جانب جگہ سنبھالتے بولا

اپنے ساس سسر سے انسان مروتاً سلام دعا ہی کر لیتا ہے
حیات نے صائم کو دیکھتے کہا

کونسے ساس سسر ؟ وہ سب موجود لوگوں کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا

پھر نیچے زمین پر دیکھنے لگا

وہ چوہا بلی نہیں ہیں جو زمین پر ملیں گے ۔۔۔۔
حیات نے اسکی کمر پر تھپڑ مارتے کہا

تو صائم سیدھا ہوا

کہاں ہیں ؟ ساس سسر ؟
وہ سوالیہ ہوا

سامنے وہ ۔۔۔ حیات نے اشارے سے بتایا

وہ میری ساس ہیں ؟ لیلا بیگم کو دیکھتے اس نے حیرت سے کہا

ہاں کیوں ۔ دائم نے اسکے انداز پر سوال کیا

اس عورت کی نیت مجھ پر ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔
صائم نے دھائ سی دی جبکہ دائم سر جھکا کر پا رہا

حیات نے اپنی اچانک آنند آنے والی ہنسی کا گلا گھونٹ کر بامشکل خود کو سنجیدہ رکھا

کیا بکواس کر رہا ہے ۔۔ وہ اسے گھورتے ہوے بولا

ارے قسم سے یہ دروازے پر مجھ پر فدا ہونے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی

وہ یقین دلانے والے انداز میں بولا

وہ فدا ہونے والی نظریں نہیں تھیں وہ حیران تھی کس بن مانس کو اپنی بیٹی دے دی

حیات نے جوابا کہا

جب کہ صائم نے منہ پھیر لیا

ویسے دیکھو تو کیسے عجیب ساس سسر ہیں بنا لڑکا دیکھے ہی رشتہ کر دیا ۔۔۔۔
وہ کچھ دیر بعد ان دونوں کا آنکھوں سے ایکسرے کرنے کے بعد حیات کی جانب پلٹتے بولا

ہاں اس پر حیرت تو مجھے بھی ہے ۔۔۔ دائم نے ہامی بھری

لڑکی کی ماں سوتیلی ہے
حیات نے جوازپش کِیا

پر باپ تو اصلی ہے نا۔۔۔ صائم دو بدو بولا

🍁🍁🍁

آج وہ لوگ صبغہ کے گھر رشتہ لے کر آئے تھے

سب بہت خوش تھے مبارکباد پر طرف سے دی جانے لگی
کیونکہ اس دن کے بعد سعد نے فاطمہ سے بات کر لی تھی

کہ نعمان صبغہ کو پسند کرتا ہے
جس پر وہ لوگ زہنی طور پر تیار تھے

منگنی کی انگوٹھی رسم کے طور پر پہنا دی گئی تھی

صبغہ بے تحاشہ خوش تھی اور وہ دن با دن نکھرتی جا رہی تھی

محبت مل جانے کی خوشی اسے مزید خوبصورت بنا رہی تھی

🍁🍁🍁

ماہی اسوقت اپنے کمرے میں بیٹھی تھی
جب بھی جھانگیر کو کال ملاتی تھی نمبر بند جاتا تھا

اب اس نے بھی ایک ہفتے سے کوشش کرنی چھوڑ دی تھی

حویلی میں شادی کی تیاریاں شروع تھیں جس میں وہ بھی بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا رہی تھی

وہ بے تحاشہ خوش تھی اپنے بھائیوں کی شادی کے لیے

حیات نے دروازے پر دستک دی تو کھلے دروازے کی وجہ سے اسے دیکھ چکی تھی

اپنی سوچوں میں گم بیٹھی اسے پتہ نا چکا کہ حیات کب سے وہاں کھڑا اسے سوچوں میں گم دیکھ رہا تھا

بھئیو آئیں نا ۔۔۔ وہ خود پر قابو پاتی بولی
🍁🍁
کیا ؟ وہ حیرت کے ساتھ چلائ ۔۔۔

ششش آہستہ ۔۔۔ میں جانتا ہوں یہ مشکل ہے تمہارے لیے ہر دیکھو یہ آخری چانس ہے

حیات نے اسے دیکھتے کہا

میں چاہوں تو ابھی جہاں پر بھی ہے اسے اٹھوا لوں پر وہ سلطان بات کا پکا اور ڈھیٹ ہے

تم سے بہت پیار کرتا ہے وہ ضرور آئے گا ۔۔۔ یہ خبر سن کر

حیات نے اسے کہا

اور اگر وہ پھر بھی نا آئے تو ؟ ماہی نے کسی خوف کے تہت کہا

آئے گا ۔۔۔ حیات نے پورے یقین سے کہا

🍁🍁🍁

شادی کی تقریبات کچھ اس طرح سے تہہ کرتے ہیں کہ جس میں زیادہ بھگ دڑ نا مچے

فریال نے بات کا آغاز کیا
جس پر لیلا بیگم اور فاطمہ نے بھی سر ہلا کر اکتفا کیا

کیونکہ ہماری حویلی میں سب بچوں کی شادیاں ایک ساتھ کی جا رہی ہیں اس لیے تھوڑا دیکھ بھال کر شادی کی تیاریاں بھی کرنی ہیں

سائشہ نے بھی حصہ ڈالا

دراصل میرے خیال سے پہلے بارات حیات کی جانی چاہیے چونکہ وہ بڑا بھائ ہے اور ساتھ ہی دائم کی بھی کیونکہ ان دونوں کی بارات ایک ہی گھر میں جانی ہے تو اس طرح آسانی بھی ہو جائے گی

مقدس نے اپنا موقف ظاہر کیا جس پر سب نے اکتفا بھی کیا

پھر ولیمہ اور پھر ایک ہفتے کے بعد ہم صائم کی شادی کے ساتھ نعمان کا نکاح بھی کر دیں گے

اور جیسے ہی رشتہ کچھ مناسب ملا ہم ماہی کا بھی رشتہ کرکے ان دونوں بہن بھائیوں کی شادی ایک ساتھ کر دیں گے

اگلی بات پر بھی سب نے اکتفا کیا
لیکن حیات کے چہرے پر سایہ سا گزرا

جی نہیں ایسے کیسے یہ زیاتی کر سکتے ہیں آپ سب ؟
صائم اٹھ کھڑا ہوا
اسکی آواز پر سب نے چونک کر اسے دیکھا

دیکھیں ہم دونوں ایک ساتھ اس دنیا میں آئے ہیں تو شادی بھی ایک ساتھ ہی ہونی چاہیے نا ۔۔۔
اس نے دائم کی شادی ایک ہفتہ پہلے ہونے پر سرا سر اعتراض کرتے کہا

سب کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ تھی جب کہ لیلا بیگم کو تو اپنے کم عقلی پر طیش آرہا تھا

ان کا بنایا ہوا کھیل تو کھیلنے سے پہلے ہی تباہ ہو چکا تھا

کیا کیا سوچا تھا انہوں نے کہ کیسے پریزے گاؤں کی جن ایڈجسٹ کرے گی

پر یہاں کا رکھ رکھاؤ ۔۔۔ بات چیت رہن سہن ماحول وہ ان کی توقع کے برعکس تھا جب کہ عدنان صاحب مکمل پر سکون نظر آرہے تھے
جیسے اپنے سے ایک ٹینشن ختم ہوی کہ کہیں اپنی بیٹی کے ساتھ زبردستی کر کے

زیاتی نا کر رہے ہوں ۔۔۔ اب وہ خوش تھے اور پُر امید بھی کہ ان کی بیٹی یہاں بہت خوش رہنے والی تھی

🍁🍁🍁

حیات نے صائم کا ہاتھ کھینچ کر اسے حویلی کیم وکالت سے روکا

چپ کرکے بیٹھ کدو کہیں کہ ہر جگہ ٹانگ گھسانا اچھی بات نہیں ہوتی

وہ اسے دپٹتے بولا

آپ اتنے شریف اس لیے بن رہے ہیں کیونکہ آپ کی شادی پہلے ہونے والی ہے

صائم پھر بھی بعض نہیں آیا تھا

جب کہ دائم کی ہسی نہیں رک رہی تھی اپنے جڑوا بھائ کی حرکتیں دیکھ کر

یوں جیسے تیسے ڈیٹس فکس ہو چکی تھیں

🍁🍁🍁

سر پلیز ۔۔۔ بس کر دیں
اسکے ملازم نے اسے اندھیر کمرے میں بیٹھے زرا سی ملگیجی روشنی میں دیکھتے کہا

وہ چھوڑ کر چلی گئ یار ۔۔ کیا میں اتنا برا ہوں ؟
وہ نشے میں دھت ہوتے بولا

وہ اس وقت اپنے ہوش و ہواس میں نہیں تھا اسکا خاص آدمی اسکے پاس بیٹھا اس کی حالت سنبھلنے تک کا انتظار کر رہا تھا

یہ پچھلے ایک مہینے سے ہر رات وہ اس کی یہی حالت دیکھ رہا تھا

کسی کو میری ضرورت ہی نہیں ۔۔۔
ماں باپ ۔۔۔ ان کو میری ضرورت نہیں

بیوی نے بھی اپنے ملائیکے کے لیے چھوڑ دیا

وہ اب کی بات صوفے پر گرتے ہوے گردن صوفے کی پشت پر گرائے بولا

انسان کتنا بےبس ہے نا رافع ۔۔۔ وہ آنکھیں موندے بولا

جی سر ایسے ہی ہے ۔۔ وہ بس اتنا ہی کہہ سکا

سر آپ پاکستان چلیں میم آپ کے ساتھ آجائیں گی ۔۔۔
وہ اسے مشورہ دیتے بولا

وہ اس کے خاندان والے اسے مجھ سے چھین لیں گے

میں ایک اچھا انسان نہیں ہوں نا اس لیے وہ چھین لیں گے اسے مجھ سے

وہ اب غنودگی میں جا رہا تھا

وہ میری ماہی ہے اسے میں نے جانے دیا کیونکہ وہ جانا چاہتی تھی

وہ آخری الفاظ ادا کرتے مکمل طور غنودگی میں جا چکا تھا

رافع نے باہر سے دو لڑکوں کی مدد سے اسے بیڈ پر ڈالا کیونکہ وہ چوڑا لمبا مرد ایک انسان کی ہمت سے باہر تھا اسکے وجود کو اٹھانا

وہ ایک پرفیکٹ باڈی بلڈر تھا جس کی وجہ اس کے خانے اور سینہ کافی چست اور چوڑا تھا

وہ اسے لحاف میں دیتے باہر نکلا

مجھے لگتا ہے ہمیں حیات سر کو اطلاع کر دینی چاہیے ۔۔۔۔

وہ آدمی آکر رافع سے جھانگیر کی حالت کو دیکھتے بولا

وہ جو آدمی اندر اس وقت پڑا ہے نا وہ ڈیمن ہے ۔۔۔ اور ان کی اجازت کے بغیر ہم نے اگر کوی قدم لیا

تو وہ کو حشر ہمارا کریں گے اس سے بہتر ہے کہ ہم حیات سر سے اس بات کو مخفی ہی رکھیں

رافع نے انہیں مستقبل کا بھیانک نقشہ کھینچ کر دیکھاتے کسی بھی عمل سے بعض رہنے کا کہا

🍁🍁🍁🍁🍁
آج حویلی میں صبح ہی صبح بھاگ دوڑ لگی تھی اگلے ہفتے شادی تھی ہر کوی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھا

خواتین کے تو بازاروں کے چکر ہی ختم نہیں ہو رہے تھے جب کہ مرد حضرات اپنے کاموں کے بعد شادی کی تیاریوں میں پوری پوری مدد کر رہے تھے

حیات آج بھی روز کی طرح حوریہ کو کالج سے لینے آیا تھا کیونکہ اس کا آج آخری پیپر تھا

وہ باہر گاڑی کے اندر بیٹھا ہی انتظار کر رہا تھا کیونکہ یہاں سے سیدھا انہوں نے مال جانا تھا جہاں فریال اور چند حویلی کی اور خواتین ان کا وہاں شاپنگ کے لیے انتظار کر رہی تھیں

کیونکہ فریال چاہتی تھی حوریہ اپنا جوڑا اپنی مرضی سے ہی لے

حوریہ کالج سے نکلی آج بھی اس کی دوست وانیہ اس کے ساتھ ہی
سامنے گاڑی کھڑی دیکھ حوریہ وانیہ کو اللہ حافظ کہتی

حیات کی گاڑی کی جانب بڑھ گئ

گاڑی کا فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے وہ بیٹھ گئ تھی

پانی پی لو ۔۔۔ اس کا لاک چہرہ دیکھ کر اس نے پانی کی بوتل اس کی جانب بڑھائ

جسے حوریہ تھام کر پانی پی کر واپس رکھ چکی تھی

کیسا رہا پیپر ۔۔۔ وہ گاڑی سٹارٹ کرتے بولا

اچھا تھا ۔۔ وہ اس کی جانب دیکھے بنا بولی

کیا ہوا ہے ایسے اداس کیوں ہو ؟
وہ اسے دیکھتے اور پھر سڑک پر آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتے نرمی سے بولا

نہیں کچھ نہیں ۔۔۔۔
وہ سر نفی میں ہلا گئ

حور ۔۔۔ حیات نے تنبیہہ لہجے میں کہا

مجھے اپنے بھائی سے ملنے کا بہت دل کرتا ہے جب جب ماہی آپی اپنے بھائیوں کے ساتھ ہوتی ہیں نا

تب تب میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ ہوں ۔۔۔۔

وہ سر جھکا کر اپنی بات کہہ چکی تھی

تمہارا بھائ پرلے درجے کا ڈھیٹ ہے
حیات نے بھی دانت پیس کر کہا

حیات ۔۔۔۔ اب کی بار گاڑی میں حور کی تنبیہہ آواز گونجی

بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں میں جانتا ہوں وہ اسے بہت مس کر رہا ہوگا اس کے باوجود وہ اپنی ضد پر قائم ہے

حیات نے الجھ کر کہا

تو آپ کچھ کرتے کیوں نہیں ہیں ۔۔۔ حور اداس ہوتے بولی

ایک طرف وہ ڈھیٹ ہے اور دوسری طرف سب ماہی کی شادی کی بھی تیاری کر رہے ہیں اور لڑکا بھی ڈھونڈ رہے ہیں

اب کی بار حیات نے اپنی پریشانی ظاہر کی

کیا ؟ لیکن اسکا تو نکاح ہو چکا ہے نا بھائ سے ۔۔۔

حور اچھل کر سیٹ پر اس کی جانے دیکھتے بولی

ہاں یہی تو مسلہ ہے ۔۔۔ حیات نے ایک ساتھ اسٹیرنگ سنبھالتے دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے سے اپنا ماتھا مسلا

حور بھی پریشان ہوی نا جانے آگے کیا ہونے والا تھا

🍁🍁🍁
پرومو ۔۔۔۔
🍁🍁🍁

1 ۔۔۔۔۔ سلطان ماہی کو طلاق دے دو کیونکہ ہم اسکی یہاں شادی کرنا چاہتے ۔۔۔۔۔

2۔۔۔۔۔ تم سب اتنے بڑے ہو گئے ہو ؟ کہ اپنے باپ سے بنا اجازت لیے تم نے ماہی کو وہاں بھیج دیا ؟
سکندر کی غصیلی آواز پر سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا

3۔۔۔۔۔ سائشہ پلیز آپ سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔ شہریار نے سمجھانے کی کوشش کی

میں سمجھنے کی کوشش کروں ؟ آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنی بیٹی کو اس انسان کے ساتھ رخصت کر دوں جس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ۔۔
بھلے وہ بے قصور تھا اسوقت مگر ایسے ہی میں اپنی بیٹی رخصت نہیں کروں گی

4۔۔۔۔۔ تم نے مجھ سے زبردستی شادی کرکے اچھا نہیں کیا
وہ کال ریسیو ہوئے ہوے غصے سے بولی

تم سے شادی کا شوق تو مجھے بھی نہیں تھا
پر کیا کروں ضد کا پکا ہوں
صائم نے جلانے والے انداز میں جواب دیا

5۔۔۔۔۔۔ صبغہ دلہن کے جوڑے میں تیار کھڑی تھی
اور دوسری طرف نعمان کو اس کے بھائ ہاسپٹل لے کر گئے تھے اچانک سر میں ٹھیسیں اٹھنے پر

اور وہاں انکشاف ہوا کہ اسے برین ٹیومر تھا اور وہ بھی لاسٹ سٹیج کا

🍁🍁🍁
ناول کے ساتھ جڑے رہیے اپنا سپورٹ دیتے رہیں
اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہا کریں
🍁🍁🍁🍁
عشق گیریاں کی داستان میں اب یہ تو وقت نے تہہ کرنا تھا کہ کیا ہونے والا تھا آگے
🍁🍁🍁

error: Content is protected !!