عشق گیریاں

Season 1 Part 1

ناول۔۔۔۔۔۔عشق گیریاں

ازقلم۔۔۔۔۔۔ آنسہ چوہان ❤️

Season 1

Part 1

اس وقت سب  پنچایت کے کیے جانے والے فیصلے کے انتظار میں بیٹھے تھے ایک بڑے درخت کے نیچے ایک شاہی کرسی رکھی گئ تھی جب کہ باقی لوگ زمین پر بچھائ ہوی چٹائ پر بیٹھے تھے جب کہ بزرگ لوگ اس وقت دو چارپائیوں پر بیٹھے تھے جو کہ شاید سر پنچ کے جیسے بڑے عہدے پر تھے  سب لوگ انتظار میں بیٹھے تھے  اچانک سب لوگوں میں چہما گوئیاں شروع ہوگئیں 

سردار کےآنے کی خبر سنتے سب لوگ خاموش ہوگئے 

گاڑیاں رفتار سے چلتی ایک جگہ رکی گاڑیوں کے رکنے پر وہاں سڑک کے کناروں پر دھول کا ایک غلبہ سا اٹھا 

کچھ لمحوں میں وہاں سکوت چھا گیا ایک گاڑی جو درمیان میں تھی جب کہ اس کے آگے پیچھے گاڑیاں تھیں جس سے گاڑز اترے اور ایک آدمی اس درمیان والی گاڑی سے اترا اور معدب طریقے سے پچھلے دروازے کو کھولا

جب سڑک پر ایک کالے جوتے کی َسٹک کی آواز آی پھر اس شخص کی ٹانگ پر نظر پڑی اور پھر وہ شخص باہر نکلا

اس شخص نے کالے رنگ کے چمکتے جوتے پہن رکھے تو جو دیکھنے میں ہی اپنی قیمت کا منہ بولتا ثبوت تھے جب کہ اس نے کالے رنگ کی قمیض شلوار پہن رکھی تھی جو بہت مہنگے کپڑے لگ رہے تھے اس کا اونچا لمبا قد چوڑا سینا اس شخص کے کندھے پر ایک مہرون رنگ کی چادر تھی

وہ دیکھنے میں ہی کوی وڈیرا لگ رہا تھا پھر اس کے کالے بال جو کانوں کو ڈھانپے ہوے تھے اور اس کی خوبصورت طریقے سے تراشی ہوی داڑھی اور آپس میں پیوست خوبصورت لب اسکی ہری کانچ سی آنکھیں اور اسکی بھنویں جو اس وقت سکویڑی ہوی تھیں اور اس کے سر کے چند بال اس کے ماتھے پر جھکتے سلامی کر رہے تھے 

بے تحاشہ حسین مرد اپنی مکمل وجاہت کے ساتھ لینڈ کلوزر سے اترا اب اس کے اترتے ہی اس کے سارے گاڑز بلکل سٹریٹ کھڑے ہو گئے 

وہ مرد کروفر سے چلتا ہوا اس جگہ کی طرف بڑھا جہاں پنچایت کے لیے سب منتظر تھے اس کے جاتے ہی پیچھے پیچھے سب گاڑز بھی اس کی تقلید میں چلنے لگے 

جب کہ سامنے جہاں سب لوگ چٹائی پر بیٹھے تھے وہ جلدی سے کھڑے ہوے 

اسلام وعلیکم! اس شخص نے باآواز بلند سب کو مشترکہ سلام کیا 

سب نے سلام کا جواب دیا 

وہ بنا رکے ان کے درمیان سے گزرتا سامنے پڑی شاہی کرسی پر جا بیٹھا 

جب کہ وہ سب لوگ اب بھی کھڑے تھے اس نے اپنی شاہی کرسی پر براجمان ہوتے ہی ان سب کو ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کا کہا 

جس پر وہ سب بیٹھ گئے 

پنچایت میں موجود بزرگ اس خوبصورت نوجوان کو دیکھتے ماشاءاللہ کہنے لگے 

ان کے گاؤں کا سردار انتہای خوبصورت تھا جس کا رعب اور دبدبہ تھا کہ کوی بھی ان کے گاؤں کی جانب بری نگاہ نہیں کر پاتا تھا اور اگر وکی کرتا تھا تو وہ انجانے میں ہی سردارا کے قہر کو للکارتا تھا اس کی شاہی کرسی کے آس پاس دو لوگ کھڑے ہو گئے 

جس میں سے ایک آدمی اس شخص کے اشارہ کرنے پر اونچی آواز میں بولا

پنچایت شروع کی جاے جس کا جو بھی مسلہ ہے وہ سائیں کے سامنے پیش کرے پر دھیان رہے ایک کی بات کے دوران دوسرا اسے بلکل نہیں کاٹے گا ( بات نہیں کاٹے گا)

اس کی بات پر سب لوگوں نے سر اثبات میں ہلایا اور صف میں بیٹھا پہلا شخص کھڑا ہوا

سردار سائیں میری زمینوں پر جتنی بھی فصل کی کٹائی ہوی تھی مجھے اس سے ملنے والی رقم سے اپنی بیٹی کی شادی کرنی تھی مگر شہر میں جس آدمی کو میں نے فصل بیچی تھی وہ مجھے میری رقم کا ایک آدھا حصہ دینے کے بعد مجھے پچھلے چھ مہینوں سے میرے پیسے مجھے نہیں دے رہا ۔۔۔ آپ کی مہربانی ہو گی آپ اس آدمی کو کہیں کے وہ میری رقم مجھے دے تاکہ میں اپنی بیٹی کی شادی عزت سے کر سکوں 

اس نے معدب طریقے سے اپنا مسلہ پیش کیا 

جس پر اس نے اپنے ساتھ  دائیں جانب کھڑے شخص کو کال کرنے کا اشارہ کیا 

اس نے کال ملای اور فون سردار کو پکڑایا

اسلام وعلیکم! میں نور ُپر گاؤں کا سردار بات کر رہا ہوں 

“میرے گاؤں کے آدمی نے تمہیں فصل بیچی ہے مگر تم نے اسکی رقم ابھی تک اسے لوٹائی نہیں ہے اگر کل تک اسکا مسلہ حل نا ہوا تو تمہارے گدام میں آگ میں خود لگواوں گا “اس نے دو ٹوک انداز میں بات کی بنا اسکا جواب سنے فون دائیں جانب آدمی کو تھما دیا 

جب اس کے فوراً مدد کرنے پر وہ آدمی مسکرایا 

“کل تک اگر آدمی خود پیسے دینے نا آیا تو آپ مجھے بتائیے گا”

جی سائیں بہت شکریہ اللہ آپ کی عزت و آبرو کو اپنی پناہ میں رکھے اور آپ کی ہر خواہش کو پورا کرے

وہ آدمی کہتا مسکراتا ہوا واپس بیٹھ گیا 

جب کہ سردار نے اسکی دعا پر ہولے سے لب آمین کی صورت میں ہلاے 

جب کہ دوسرا آدمی کھڑا ہوا۔۔ 

سائیں اس بار زمینوں کو پانی کی سخت ضرورت ہے جب کہ گاؤں کے کنویں میں پانی نہیں آرہا ہے جس کی وجہ سے میری ساری فصل خراب ہو رہی ہے آپ سے گزارش ہے کہ پانی کا بندوست کرنے میں میری مدد کی جاے 

اس نے بھی معدب طریقے سے کہا 

جس پر سردار نے اپنے کسی آدمی کو پکارا 

جعفر ! کل تک پانی ظفر کی زمینوں تک کسی بھی حال میں پہنچ جاے 

اس نے دو ٹوک انداز میں کہا لہجہ سپاٹ تھا  جی سائیں کام ہو جاے گا جعفر نے معدب لہجے میں کہا 

جب کہ وہ ادمی بھی بیٹھ گیا جب کہ تیسرا آدمی کھڑا ہوا

اس طرح ہر آدمی نے اپنے مسلے پیش کیے جس کا حل وہ وہاں ہی نکال رہا تھا 

جب کہ ایک آدمی جو آخر پر رہ گیا تھا وہ کھڑا ہوا 

اس کے کھڑے ہوتے ہی پنچایت کے بزرگ بھی الرٹ ہو کر بیٹھے 

سائیں اگلے گاؤں کا ایک لڑکا ہے اس نے میری بیٹی سے نا جانے کب دوستی کر لی اور پھر اسے بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا 

سائیں میری بچی کی عمر صرف تیرہ برس ہے وہ معصوم اسے دوست سمجھتی رہی اور اس زلیل نے میری بچی کو رسوا کر دیا 

سائیں میں کسی کو منہ دیکھانے کے لائق نہیں رہا سائیں آپ ہی بتائیں اب میری بچی اپنی کھیلنے کودنے کی عمر میں ہی اس بدنامی کے بوجھ کو کیسے جھیلے گی 

مجھے میری بچی کے لیے انصاف چاہیے 

اس کی بات سنتے ہی۔ سردار کا چہرہ سخت لال ہوا۔۔ ہاتھوں کی رگیں واضح نظر آرہی تھیں 

“کس کی  اتنی ہمت  ہوی کہ میرے گاؤں پر اپنی گندی نظر ڈالے “

وہ سخت برہم ہوتا کھڑا ہوا۔۔۔ سب جانتے تھے کہ وہ لڑکیوں کی عزتوں کے معاملے میں کسی بھی قسم کی کوی رعایت نہیں بخشتا

 

سائیں انور نام ہے اسکا جب میں نے اس سے باز پرس کی تو اس نے کہا جو کرنا ہے کر لو میں اسے اپنے نکاح میں نہیں لوں گا 

اس آدمی نے جواب دیا 

سردار نے اپنے خاص آدمی جعفر کو اشارہ کیا 

جی سائیں۔۔۔ وہ سر جھکاتا وہاں سے نکلا

سب لوگ پریشان تھے  کچھ ہی دیر کے بعد سب کو جعفر دور سے آتا نظر آیا 

جب کہ اس نے اس انور نامی شخص کو گھسیٹتے ہوے گریبان سے پکڑتے لا کر سردار کے پاؤں میں پھینکا 

 

سردار نے دوسرا اشارہ کیا جس کو سمجھتے دو لوگ وہاں سے گئے 

 

“اوپر اٹھو” اس نے سخت برفیلے لہجے میں کہا 

جس پر وہ انور نامی آدمی اٹھا 

دد دیکھو میں نے کچھ نہیں کیا وہ لڑکی خود میرے پاس آتی تھی ۔۔ میں بھی مرد تھا بہک گیا اور ابھی وہ مزید کچھ کہتا جب ایک تھپڑ اس کے چہرے پر لگا 

ایسا تھپڑ کہ اس کے چہرے پر انگلیوں کے نشان بن گئے گال سے خون بہنے لگا کیونکہ سردار کے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی اس کے چہرے پر لگنے کی وجہ سے اسکے چہرے پر سے ماس اتار گئ تھی

اس آدمی کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا وہ لڑکھڑاتے ہوے پیچھے گرا 

پھر اس نے اوپر دیکھا جہاں سردار 

سائیں کھڑے تھے 

 

مرد وہ نہیں جو عورت کے وجود کو دیکھ کر بہک جاے مرد ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اپنی عزت اور دوسروں کی عزت کا خیال رکھا جاے اور کسی لڑکی کی حرمت پامال نا کی جاے 

 

مرد وہ ہے جو عورت کے سر پر چادر دے نا کہ اس کا سر ننگا کرے 

 

مرد وہ ہے جو کڑوروں کی بھیڑ میں بھی اپنے ایمان کا سودا محض چند منٹوں کی حوس  سے نا کرے 

 

تم نے کیا کِیا  اس معصوم سے اسکی معصومیت چھین لی اسکی عزت حرمت کو پامال کر دیا اس کو ساری دنیا کہ سامنے بدنام کر دیا 

 

جب وہ بولا لہجہ اتنا سخت اور سپاٹ تھا کہ وہاں ایک دم سکوت چھا گیا

سانس لینے کی آواز تک نہیں آرہی تھی 

 

اٹھاؤ اسے اور اتنی عبرت ناک سزا دو کہ پھر کوی کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے کانپ جاے 

 

اس کے کہتے ہی دو آدمی آگے بڑھے اور اسے گھسیٹتے ہوئے لے گئے 

وہ آدمی روتا چیختا رہا معافی مانگ رہا تھا مگر وہاں جیسے کسی کو اس کی آواز نہیں آرہی تھی 

وہ لوگ انور کو ایک درخت سے باندھتے اس پر گرم پانی پینکھنے لگے 

اہہہہہہ۔۔۔ کھولتا ہوا گرم پانی اس کے سارے جسم کو جھلسا گیا 

“تمہارے چھونے سے اس معصوم کا جسم بھی یوں ہی جھلس گیا ہو گا “

سردار نے اپنی کرسی پر بیٹھتے کہا 

جب کہ گاؤں والوں کے سامںے اس آدمی کو سزا دی جارہی تھی 

 

پھر اس کے جسم کے جھلس جانے پر  ایک آدمی آگے بڑھا اور اس کی آنکھوں میں لال تیکھی مرچیں ڈالی

وہ پھر سے چیخا ۔۔ ہاتھ باندھے ہوے تھے جب کہ آنکھوں میں ہوتی جلن برداشت سے سواں  تھی

“تمہاری نظر اسکے وجود پر پڑی آنکھوں کو یہ سزا ملنی چاہیے تھی”

اس کے بعد سب گاؤں والوں کو اشارہ کیا گیا جس پر انہوں نے اس شخص پر پتھر برسائے 

اتنی تکلیف پر وہ شخص چیخنے لگا 

پر وہ لوگ ایک عورت کی حرمت پامال کرنے کی سزا پر تو کوڑے مارتے یہ تو بس پتھر تھے 

جب وہ شدید زخمی ہو گیا تو وہ لوگ رکے 

وہ آدمی سائیں کے سامنے آیا 

سائیں آپ نے اس کو اس کے گناہ کی سزادی بہت شکریہ میری بچی کے مجرم کو سزا مل گئ پر میری بچی کا کیا ہوگا؟

 

کیا آپ اس شخص سے اپنی بیٹی کا نکاح کروانا چاہتے ہیں جس نے آپ کی بیٹی کی زندگی خراب کر دی 

سائیں نے عمر کا لحاظ کرتے بات کی 

 

ہم اس بچی کا خیال رکھیں گے اس کی پڑھائی کا ہر چیز کا خرچہ ہم اٹھائیں گے اور رہی بات شادی کی تو ابھی وہ معصوم ہے اس وقت اس پر یہ بوجھ مت ڈالو ۔۔۔ وقت آنے پر اللہ اس کے نصیب جس کے ساتھ لکھ چکا ہے اس کے ساتھ ملوادے گا

اپنی بیٹیوں کے نصیب کے لیے دعا کرتے ہیں خوفزدہ نہیں ہوتے وہ اللہ تم سے زیادہ اپنے بندے کو چاہتا ہے وہ اپنے بندے کو خروش تک نہیں آنے دیتا ۔۔۔ آپ پریشان مت ہوں

بس اپنی بیٹی کے لیے دعا کریں 

وہ کہتا وہاں سے اٹھا

 

جب ایک آدمی بولا 

پنچایت کا وقت تمام ہوا ۔۔۔ اب یہ پنچایت اگلے دو روز کے بعد لگے گی 

وہ کہتے ساتھ راستہ بنانے لگا 

سردار سائیں نے اسکے بناے راستے پر قدم۔ بڑھاے اور وہ چلتا ہوا اپنی گاڑی کی جانب بڑھا

اور کچھ ہی دیر میں گاڑیاں واپسی کی راہ پر گامزن تھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 گاڑیاں  ایک خوبصورت حویلی کا 

دروازہ پار کرتی اس حویلی کے بڑے سے پورچ میں آکر رکیں 

سردار گاڑی سے اترا اور کروفر سا حویلی کے اندر جاتی سیڑھیوں پر چڑھا

حویلی کے داخلی دروازے سے ہوتے ہوے سامنے کا منظر یوں تھا کہ 

حویلی کے داخلی دروازے کے عین سامنےبہت بڑا صحن تھا دور سیڑھیاں تھیں جو اوپر کے پورشن کو جاتی تھیں مگر پھر وہ سیڑھیاں آدھے راستے میں ایک دائیں جانب رخ کر گئیں اور دوسری بائیں جانب ان سیڑھیوں پر لال رنگ کی کارپٹ بچھائی  گئی تھی 

جب کہ اوپر بہت سارے کمرے تھے

نیچے بھی بہت سے کمرے تھے ایک طرف لاونج بنا ہوا تھا جہاں مہنگے ترین صوفے لگاے گئے تھے 

پوری حویلی میں پردے کالین ہر چیز صاف ستھری تھی ہر چیز اپنی قیمت اپنے منہ سے بولتی محسوس ہو رہی تھی 

 

وہ چلتا ہوا لاونج کی جانب بڑھا جہاں ایک عورت جو تھی تو کافی بزرگ مگر اس کے کپڑے زیورات وہ اسے آج بھی بہت جوان دیکھا رہے تھے 

اسلام وعلیکم! کیسی طبعیت ہے بی جان آپ کی 

وہ ان کے پاس ان کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے محبت سے بولا

جسکا پوتا تم جیسا ہو گا اس بوڑھی دادی کو بھلا کیا ہی ہو سکتا ہے 

انہوں نے محبت سے بھرپور لہجے میں اسکے خوبصورت چہرے پر ہاتھ رکھتے کہا

جس پر وہ مسکرایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

یہ لاہور میں دوپہر دو بجے کا وقت تھا 

چھوٹے سے مگر خوبصورت گھر میں ایک نسوانی آواز کمرے سے آرہی تھی 

 بابا آپ وعدہ کریں آپ اپنا پورا خیال رکھیں گے اور آپ اپنی دوائیں وقت پر لیں گے اور مجھے کال پر اپنی خیریت بتاتے رہیں گے اور ۔۔۔۔ابھی وہ مزید کچھ کہتی جب اسے کسی نے ٹوک دیا

 

بس کر دو فریال بچے میں نے کہا نا تم پریشان مت ہو بس اپنی پھپھو کے ساتھ جاؤ اور ان کو کوی شکایت کا موقعہ نا ملے ۔۔۔ سمجھی ؟

ان کو اپنی بیٹی کی حرکتوں کا اندازہ پہلے ہی تھا اس پر سمجھانے کے انداز میں بولے 

ارے بابا آپ پریشان مت ہوں ۔۔۔آپ کی یہ معصوم سی بیٹی کچھ نہیں کرے گی 

وہ کہتے مسکرای

وہ تھی خدا بخش کی بیٹی فریال جو شکل سے اتنی معصوم لگتی تھی کہ دیکھنے والا واقعی ہی میں اسے معصوم سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتا ہے پر جس کا واسطہ اس سے پڑتا تھا وہ اچھے سے سمجھ جاتا تھا کہ ہاتھی کہ دانت دیکھانے کے اور کھانے کے اور کسے کہتے ہیں 

وہ گوری رنگت والی چمکتی کالی آنکھوں والی لڑکی جس کا سب سے پسندیدہ کام تھا سب کو اپنی معصوم شکل پر بہلانا پھسلنا اور پھر اس کے بعد ایک دھماکے کے ساتھ اپنی چھپی ہوی شرارتی لڑکی باہر لانا

اسے پسند تھا لوگوں کو شاکڈ کرنا 

وہ ہمیشہ انوکھے کام کرتی تھی جس کی امید نہیں کی جا سکتی تھی وہ لڑکی کر کے دیکھا دیتی تھی 

اس وقت بھی اپنے بابا خدا بخش کے ساتھ بحث کر رہی تھی کہ وہ ان کے ساتھ گاؤں چلے پر ان کو ضروری کام کی وجہ سے چھٹی نہیں ملی اب وہ اپنی پھپھو کے ساتھ ان کے گاؤں جا رہی تھی جب کہ باپ کے اکیلے ہونے پر وہ پریشان بھی تھی 

چلو بس اب دیکھو ٹرین کا وقت ہو گیا ہے اب تم پھپھو کے ساتھ خیریت سے جاؤ 

اںہوں نے اسکا ماتھا چوما اور اسے جانے کا کہا جو چادر پہںے کھڑی تھی 

اچھا ٹھیک ہے اللہ حافظ پر اپنا خیال رکھیے گا بابا ۔۔ وہ ان کے سینے سے لگتے بولی 

جی میرا بچہ اب خیال سے جانا اور ہاں نو شرارت ۔۔ وہ مسکراتے ہوے اس سے الگ ہوتے بولے 

جس پر بھی مسکرای اور پھر اپنی پھپھو کی طرف بڑھی 

جو کپڑوں سے نارمل خاندان سے لگ رہی تھی 

چلیں پھپھو وہ کہتے ان کے ساتھ باہر نکلی پھر گھر سے نکلتے وہ لوگ ٹیکسی میں بیٹھیں اور ریلوے سٹیشن پہنچیں 

اور اب ان کو وہاں بیٹھے ایک گھنٹہ ہو گیا تھا مگر ٹرین ابھی تک نہیں آی تھی 

فریال کا وہاں کھڑے ہو ہو کر برا ہال تھا 

ابھی وہ کچھ کہتی کہ ٹرین کی آواز دور سے آتی سنای دی 

اس نے نظر گھما کر دیکھا تو ٹرین آتی نظر آی ۔۔۔ پھر ٹرین کی پٹری پر چلتی ٹرین کی وجہ سے آنے والی آواز پر اس نے آنکھیں میچ لی 

اس کو اونچی اور چڑچڑاتی آوازوں سے سخت نفرت تھی 

کچھ ہی دیر میں گاڑی آکر رکی ۔۔۔ وہ لوگ ایک بیگ اٹھا کر اپنی سیٹ والے ڈبے کو ڈھونڈتی وہاں پر جا کر بیٹھیں 

دونوں ایک طرف بیٹھیں تھیں ۔۔۔ تمہیں پتہ ہے مقدس نے کتنے پیار سے کہہ کر بھیجا تھا کہ اماں اس دفع فریال کو ضرور لانا 

اس کی پھپھو بولیں 

ارے پھپھو میری بھی تو ایک ہی دوست ہے مقدس پر پھر بابا کی طبعیت کی وجہ سے ان کو اکیلے چھوڑنے کا دل ہی نہیں چاہتا 

وہ بھی ان کو دیکھتے بولی 

چلو کوی بات نہیں اب تمہیں بہت عرصہ میرے پاس رہنا ہے ۔۔۔ پھپھو محبت سے بولیں جس پر وہ بھی مسکرای

گاڑی اب اپنے راستے پر گامزن تھی وہ باہر کے منظر میں کھو سی گئ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہریار کہاں ہے ؟ اس نے بی جان سے پوچھا ۔۔۔۔ اپنے کمرے میں ہے ان کے کہںے پر سر اثبات میں ہلایا 

تم بتاؤ شایان کب اے گا ؟ وہ اب اس سے سوالیہ ہوئیں 

ابھی تو اس کا سمسٹر ختم ہوا ہے اور وہ ٹرپ پر اپنے دوستوں کے ساتھ گیا ہے کچھ وقت کے بعد آجاے گا 

اس کے جواب پر بی جان نے سر اثبات میں ہلایا 

اسلام وعلیکم بی جان! پھر ان کے پاس ایک خوبصورت قد آوار لڑکا چلتا ہوا جس نے بلو جینز کے ساتھ وائٹ  ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر کافی طرح کے رنگوں کے داغ لگے تھے 

جس سے واضح پتہ چل رہا تھا کہ اس موصوف کا مشغلہ پینٹنگ کرنا تھا

وعلیکم السلام! بی جان اور اس نے مل کر جواب دیا 

اب ہم تمہارا ہی پوچھ رہے تھے سردار نے کہا 

ارے یار سکندر تم جانتے ہو ماں بابا جی لڑای کی وجہ سے رات کس مشکل سے مین سویا ہوں اب اتنی دیر تک سونا تو بنتا تھا 

وہ کہتے ان کے سامنے والے صوفے پر براجمان ہوا

اور تم ساری رات جاگ کر پینٹگ کرتے رہے ہو؟ سرادار نے آی برو اچکای 

جس پر اس نے سر اثبات میں ہلایا 

اس لڑکے کے بال کافی لمبے تھے جو اس کی گردن تک کو ڈھانپ رہے تھے 

جو بہت خوبصورت لگتے تھے اس کے خوبصورت نقوش پر لمبے بال بہت پیارے لگتے تھے 

بیٹا تم گھر کے حالات سے واقف ہو اور تمہارے ماں باپ کا لڑنا تو جیسے روز کا معمول ہے پھر تم کیوں خود کو تکلیف دیتے ہو 

بی جان نے اس کو دیکھتے دکھی لہجے میں کہا 

شہریار اٹھ کر ان کے پاؤں کے پاس آکر بیٹھ گیا اور سر ان کی گود میں رکھ دیا 

بی جان اگر آپ سب نا ہوتے تو شاید شہریار کب کا مر چکا ہوتا 

اس کے کہنے کی دیر تھی جب سکندر نے اسے ایک ہلکی سے تھپکی منہ پر لگای 

آئیندہ ایسے بکواس پر اس منہ کو توڑ دوں گا 

اس نے انگلی اٹھا کر وارن کرتے کہا 

جس پر وہ مسکرایا وہ جانتا تھا وہ اپنے دونوں بھائیوں کو لے کر کس قدر ٹچی تھا 

وہ ان دونوں پر جان دیتا تھا وہ تھے تو کزنز پر تینوں میں اس قدر محبت تھی کہ بی  جان کو ان کو دیکھتے رشک آتا تھا 

اب زرا ان تینوں کا تعارف کرواتے ہیں 

سکندر جو کہ نور پر گاؤں کا ایک سردار تھا جس کا رعب اور دبدبہ پورے گاؤں پر تھا 

وہ ایک خوبصورت مرد تھا عورتوں کی عزت کرنے والا ایک جازب مرد 

مگر شادی کے نام سے بھاگنے والا شخص جسے شادی کے نام پر ہی عجیب وحشت ہونے لگتی تھی 

جو اپنی ماں باپ کی کی اکلوتی اولاد تھا مگر ان کا کار ایکسیڈینٹ ہونے کی وجہ سے وہ دونوں مر چکے تھے 

اس کو پالنے والی اس کی بی جان ہی تھیں ۔۔۔ جس کے لیے بی جان کی کہی ہر بات پھتر پر لکیر کی طرح تھی 

 

شہریار جو کہ بی جان کے دوسرے بیٹے ابراہیم شاہ کا بیٹا تھا جس کی زندگی کا آدھا حصہ تکلیف میں گذرتا تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کے ماں باپ نارمل زندگی گزاریں مگر ان کے لڑای جھگڑے کہ وجہ سے وہ ہمیشہ بیمار پڑ جاتا تھا پر اسے سنبھالنے والا سکندر اس کا بڑا کزن تھا جو اس سے اس طرح محبت کرتا تھا کہ اس کی محبت پراس نے ایک دفع پھر زندگی جینی شروع کی تھی 

شہریار کا پسندیدہ مشغلہ تھا پینٹنگ اس کی بنای پینٹنگ پوری دنیا میں مشہور تھیں 

اور وہ زیادہ تر پینٹنگ تب کرتا تھا جب وہ بہت زیادہ پریشان ہوتا تھا 

پر اسکی زندگی میں سکندر، بی جان اور شایان اس کے لیے بہت خاص تھے اس کی مسکراہٹ کی وجہ 

شایان احمد ۔۔۔ احمد شاہ کا بیٹا تھا جو کہ ایک بزنس مین تھے جن کو سرداری میں کوی انٹرسٹ نہیں تھا اس لیے وہ شہر میں اپنا بزنس کرتے تھے مگر ہفتے میں وہ ایک چکر ضرور حویلی میں لگاتے تھے 

جب کہ ان کی بیوی کا پسندیدہ کام تھا کٹی پارٹیاں انجوائے کرنا ۔۔۔ اور میک اپ کی دکان بنے رہنا ۔۔۔ ان کو برینڈڈ کپڑے بہت متاثر کرتے تھے کیونکہ وہ ایک بزنس مین کی بیوی تھی

جب کہ ان کا اکلوتا سپوت شایان احمد کو پسند تھا دنیا گھومنا اسے اوٹنگ بہت پسند  تھی اس وقت وہ امریکہ میں پڑھایا کے لیے گیا ہوا تھا

جس کی ڈگری مکمل ہو چکی تو اور بس وہ واپس گاؤں آنے والا تھا وہ ہمیشہ گاؤں میں رہنا پسند کرتا تھا وجہ اس کی پیاری بی جان اور اس کے جان وار دینے والے دونوں بھائیوں جیسے کزن 

 

جس کا خواب تھا کہ وہ بائیک ریس میں حصہ کے مگر سکندر اور شہریار کی کڑی نظروں اور سکیورٹی پر وہ اپنے اس خواب کو پورا نہیں کر پایا تھا مگر مستقبل میں پورا کرنے کا عزم رکھتا تھا

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لوگ اپنے سٹیشن پر اترئیں پھر وہاں سے سامان اٹھا کر وہ چکنے لگیں 

مگر پھر  انہوں نے تانگہ پر سامان رکھا اور خود بھی اس پر سوار ہو کر وہ لوگ نور پر گاؤں کی طرف بڑھیں 

ایسا نہیں تھا کہ ٹیکسی یا رکشہ میں تھا پر اس محترمہ کو تانگے پر بیٹھنا پسند تھا اس لیے وہ لوگ اس پر سوار ہوئیں 

اس وقت وہ لوگ نور پر گاؤں کے بوڈ کے پاس سے گزتی گاؤں کی حدود میں داخل ہوئیں 

کچھ دیر کے بعد وہ لوگ فریال کی پھپھو سکینہ کے گھر کے سامنے تھیں 

فریال نے دروازے پر دستک دی ۔۔۔ کچھ دیر میں دروازہ کھلا 

اہہہہہہہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتی چیخی ۔۔۔ یہ ان کے ملنے جا سٹائل تھا ۔۔۔ 

سامنے مقدس نے دروازہ کھولا اور پھر چیختی ہوی فریال کے گلے لگی 

جب کہ سکینہ بھی بس سر نفی میں ہلاتی مسکرائیں 

اللہ کا پکا وعدہ اگر اس بار تم نہیں آتی تو میں نے تم سے پھر کبھی بات نہیں کرنی تھی 

مقدس اس سے الگ ہوتی بولی 

ہاہاہا ایسے کیسے نا آتی تم نے جو اتنے پیار سے بولایا تھا 

وہ اسکے موٹے موٹے گالوں کو اپنے ہاتھوں میں چٹکیوں میں کتنی کھینچتے ہوے بولی 

اففف یار چھوڑو درد ہو رہا ہے ۔۔۔ مقدس نے روتی شکل بنا کر کہا جس پر فریال مسکرای 

اور اس کی گالوں کو آزاد کیا

اس کی عرضیاں لال ٹماٹر ہو گئ تھیں افف میری موٹو مجھے تم پر ٹوٹ کر پیار آتا ہے جب تم ہو ں لال ہو جاتی ہو

وہ اس کے ساتھ چپکتے ہوے بولی اچھا بس کرو آتے ساتھ میری پیاری پیاری گالوں کو کھانے لگ گئ ہو 

اب اندر چلو سکینہ تو نادر ج چکی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی انہوں نے دروازے پر ہی اپنے دکھ سکھ بانٹنے شروع کر دینے تھے 

مقدس ایک گول مٹول سی خوبصورت لڑکی تھی لمبے بالوں کی چوٹی کی ہوی تھی اور آگے سے مانگ نکال کر پف ڈالا ہوا تھا

جب کہ وہ چھوٹے قد کی پیاری سے سرخ ق سفید رنگت کی لڑکی تھی 

اسے لیتے وہ گھر کے اندر کی طرف بڑھی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کو وہ لوگ کھانا کھانے کے بعد بیٹھی تھیں ۔۔۔ سکینہ شوہر کی وفات کچھ عرصہ پہلے ہوی تھی اس کا بڑا بیٹا برہان ہی تھا جو شہر میں کام کرتا تھا اس کے کمانے سے گھر کا اچھا نظام چل رہا تھا 

 

اچھا کل لائبہ کی شادی ہے تم اور میں ساتھ چلیں گے دیکھنا بہت مزا آے گا

مقدس نے اسے ہمسای کی شادی کے بارے میں بتایا

ہاں ہاں چلیں گے ویسے بھی بہت وقت وہ گیا باقی سب سے ملی بھی نہیں 

فریال بھی خوش ہوتی بولی 

اچھا بس اب سو جاؤ تم لوگ باقی باتوں کا ادھار صبح پر رکھ لو

سکینہ ان کے کمرے کے دروازے پر جھانکتے ہوے بولیں 

جی اماں بس سونے لگے تھے 

وہ لوگ جلدی سے غلاف میں گھسیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہریار اور سکندر اس وقت چائے پی رہے تھے جب ان کو شایان کی ویڈیو کال آئ 

ہاے بڈی ! وہ کال ریسیو ہوتے بولا کھوتے کا پتر کبھی سلام نہیں دے گا بی جان اس کی آواز کان میں پڑتے ہی کہا  

جس پر سکندر اور شہریار کا قہقہ گونجا 

ارے یار بی جان آپ بھی نا اب میں امریکہ میں بیٹھا سلامی پیش کرتا اچھا تھوڑی لگوں گا 

وہ شوخ لہجے میں بولا 

ہاں ہاں وہاں گوریوں کو ساتھ رہ رہ کر تمہیں ساری تمیز تہذیب بھول گئ ہے 

بی جان نے پھر سے جواب دیا 

موبائل شہریار کے ہاتھ میں تھا اور بی جان ان سے دور صوفے پر بیٹھی تھیں پر بات وہ لوگ آپس میں کر رہے تھے 

اچھا بی جان سوری یار ۔۔ اسلام وعلیکم! اب وہ سیدھا لائن پر آتا بولا

جس پر سکندر نے آی برو اس انداز میں اچکای 

آیا نا لائن پر۔۔۔ 

اچھا بھای لوگ بتاؤ کیا چاہیے آپ لوگوں کو آپ کا یہ چھوٹا بھائی آپ کی منہ سے نکلنے والی ہر بات پوری کرے گا 

مانگ لو جو مانگنا ہے وہ کافی شوخ لہجےکا شرارتی لڑکا تھا 

تم بس انسان بن جاؤ باقی ان دونوں کو کچھ نہیں چاہیے ۔۔ بی جان نے پھر سے جواب دیا 

جس پر شایان نے اب کی بار منہ بنا لیا اس کی ساری ایکٹنگ پر اتنے ٹھنڈے جواب ملنے پر وہ منہ لٹکاتا سامنے سکرین پر نظر آتا شہریار کو دیکھنے لگا 

شایان دیکھ تو مجھے اس طرح محبوبہ کی طرح مت دیکھا کر قسم سے مجھے لگتا ہے میری بیوی مجھ سے ناراض ہو کر بیٹھی ہے 

شہریار نے مسکرا کر ایک اور پھل جھڑی چھوڑی جس پر اب کی بار شایان نے غصے سے کال کاٹ دی 

شہریار کی بات سن کر بی جان اور سکندر بھی مسکراے 

ارے یار ۔۔۔ سکندر کال کاٹنے پر بولا پھر اپنے فون سے اسے کال کی 

شایان نے کال اٹھای مگر سامنے اس کا سوجا ہوا چہرہ دیکھ کر ان تینوں کا پھر سے بھر پور قہقہ گونجا

حد ہے مجھے لگا مجھے منانے کے لیے کال کی ہے پر یہاں تو سب کو میں جو کر نظر آرہا ہوں نا

وہ کہتے پھر سے کال کاٹ گیا

ہاہاہا میرا جھلا پتر ۔۔۔ بی جان مسکراتے ہوے بولیں 

جب سکندر کے نمبر پر کال آی 

وہ کال ریسیو کرتا سیدھا ہوا ۔۔۔ اب وہ پہلے جیسا مسکراتا ہوا سکندر نہیں لگ رہا تھا اب وہ ایک گاؤں کا سردار سکندر تھا 

وعلیکم السلام! کال کی دوسری جانب سے سلام کے جواب میں وہ بولا 

جی بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔ اللہ آپ کی بیٹی کے نصیب بہت خوبصورت کرے 

اس نے ان سے کہا جو کہ کال کی دوسری جانب تھا 

ٹھیک ہے ہم کوشش کریں گے ۔۔۔۔خدا خافظ

اس نے کہتے کال کاٹی 

کیا ہوا بیٹا ؟ بی جان نے سوال کیا

بی جان ارشد کی بیٹی کی شادی ہے کل وہ ہمیں بلا رہا ہے آپ پلیز شادی میں چلے جائیے گا 

ہاں ٹھیک ہے ہمارے گاؤں کی بچی ہے میں ضرور جاؤں گی  وہ مسکرا کر بولیں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

😍😍😍😍😍😍😍😍❤️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️

ناول۔۔۔۔۔۔۔عشق گِیرِیاں 

ازقلم ۔۔۔۔۔۔۔آنسہ چوہان

1 کا پاٹ ٹو۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی جان ڑرائیور کے ساتھ وہاں ارشد کے گھر کےسامنے شادی کی تقریب کا ہونے والا سارا انتظام دیکھ رہیں تھیں 

پھر وہ گاڑی سے اتریں 

ارے یار فریال تمہیں کس نے کہا تھا اس قدر گہرے رنگ اک جوڑا پہنو اب کوی رشتہ آیا تو مجھے کچھ مت کہنا 

مقدس نے فریال کو گہرے مہرون رنگ کی میکسی میں دیکھ کر کہا 

ہاہاہا ارے یار کچھ نہیں ہوتا ویسے بھی عورتوں کا تو فنکشن ہے مرد حضرات تو الگ ہوں گے 

او میری پیاری شہزادی عورتیں زیادہ تر شادی بیاہ پر آتی ہی اس نیت سے ہیں کہ اپنی بہو بھی ڈھونڈ لیں 

اس کی بات پر فریال نے بامشکل اپنا قہقہ ضبط کیا 

جب کہ بی جان بھی ان لڑکیوں کی بات سن کر مسکرائیں 

پھر ان کے پاس گئیں ۔۔۔جب مقدس نے ان کو دیکھا 

آسلام و علیکم بڑی بیگم ! 

وعلیکم السلام بیٹا یہ بچی کون ہے ؟ انہوں نے مسکرا کر سلام کا جواب دیتے کہا 

یہ میرے مامو جان کی بیٹی ہے فریال یہاں میرے ساتھ کچھ عرصہ رہنے کے لیے آئ ہے 

اوو اچھا کیسی ہو بچے ؟ بی جان مسکرا کر فریال سے بولیں 

جی الحمدللہ ۔۔۔۔۔ اس نے دھیمے لہجے میں جواب دیا 

پھر بی جان آگے بڑھ گئیں 

اور وہ لوگ لڑکی کو دیکھنے چلی گئیں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

رات کے وقت سکندر گاؤں کے معمالات تہہ کرتا حویلی واپس آیا ۔۔۔ 

اور بی جان کے پاس لاونج میں بیٹھا

کیا سوچ رہی ہیں بی جان ؟ اس نے کافی دیر ان کو خاموش دیکھنے کے بعد کہا 

سکندر بیٹا ۔۔۔ دیکھو میں نہیں جانتی اب میری سانسیں کتنی باقی رہ گئ ہیں مگر میں چاہتی ہو اپنی زندگی میں تم سب بچوں کی شادیاں ہوتے دیکھ لوں 

پر تم ہو کہ مانتے ہی نہیں ۔۔۔ 

جب کہ ان کی بات سن کر سکندر نے بات سمجھ لی 

آج پھر کوی لڑکی پسند آگئ ہے اپکو ؟

اس نے منہ کے زاویے بناتے کہا 

ہاں جی بلکل ۔۔۔ بی جان کو تمہارے لیے ایک لڑکی پسند آی ہے جو کہ گاؤں میں مہمان آئ ہے ۔۔۔ 

شہریار نے پیچھے سے آتے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے  جواب دیا۔۔۔۔ بس مجھے یقین تھا کوی لڑکی پسند آگئ ہے اور  اس اسلیے بی جان کو پھر سے میری شادی کی فکر ستانے لگی ہے سکندر صوفے کی پسشت سے ٹیک لگاتے بولا

ہاں تو کیا غلط خواہش کی ہے کیا تم اپنی بی جان کی اتنی سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتے 

بی جان دکھی لہجے میں کہا

 

بی جان آپ جانتی ہیں مجھے اس ٹاپک سے کتنی چڑ ہے اور ویسے بھی مجھ سے شادی جیسی زمہ داری نہیں نبھای جاے گی 

اس نے ان کو دیکھتے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے کہا

واہ میرے شیر گاؤں کی سرداری سنبھالی جاتی ہے گاؤں کے ہر فرد کی زمہ داری سنبھالی جاتی ہے اور جب بات شادی کی آتی ہے تو زمہ داری سے بھاگ رہے ہو

بی جان نے اسے دیکھتے ناراضگی سے کہا 

بلکل ہم نے کونسا دودھ پیتی بچی لے کر آنی ہے ۔۔۔ شہریار نے بھی لکما دیا

سکندر نے اسے گھورا۔۔۔

تو تم کر کو نا شادی اور کردو بی جان کی خواہش پوری 

اس نے اسے اپنی نظروں کی گھوری سے نوازتے کہا 

انہہہ تم بڑے ہو پہلے تم ۔۔۔ پھر ہم شہریار نے ہاتھ بلند کرتے کہا

بس مجھے صبح زمینوں پر بھی جانا ہے اب میں چلتا ہوں 

سکندر بی جان کی نظروں سے پہچان رہا تھا کہ وہ اسے پھر سے فورس کرنے والی ہیں اس لیے اٹھتے ہوے بولا 

اور پھر اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا

ارے یار بی جان مان جاے گا ابھی وہ شادی نہیں کرنا چاہتا تو آپ اسے فورس مت کریں 

شہریار نے سکندر کے جانے کے بعد بی جان سے  کہا 

میں چاہتی ہوں کہ میں مرنے  سے پہلے اس کے بچے دیکھ لوں 

 

ارے واہ بی جان وہ شادی کو نہیں مان رہا اور آپ بچے بھی مانگنے لگی ہیں 

شہریار نے ان کے گرد حصار باندھتے کہا 

ہاں تو اصل سے سوت پیارا ہوتا ہے 

اور ہم آپ کے سوت ہیں تو ۔۔۔ شہریار نے مسکرا کر کہا

ہاں مگر سوت کے سوت اور بھی پیارے ہوتے ہیں 

بی جان نے مسکرا کر جواب دیا 

اچھا چلیں بس اب آپ آرام کریں وقت بھی بہت ہو گیا ہے باقی بچے کتنے چاہیے یہ ہم صبح ڈیساییڈ کریں گے 

اس نے بی جان کو کہا جس پر وہ ہسنے لگیں 

وہ ان کو سہارا دیتا کمرے تک لایا

ویسے بھی جان یہ حویلی میں اس قدر سکون کیوں ہے؟

وہ اپنے ماں باپ کی غیر موجودگی کے بارے میں پوچھ رہا ہے 

کس قدر غیر زمہ دار ہو تم اپنے ماں باپ کی کوی خبر نہیں ۔۔ بی جان بیڈ پر بیٹھتے بولیں

ارے بی جان حویلی میں سکون اتںا تھا کہ دل نہیں چاہا ان کے بارے میں سوال کرنے کو 

اس نے ان کے پاؤں اٹھا کر بیڈ پر سیدھے کرتے اس پر بلیکنکٹ ڈالتے کہا

نہیں بچے اپنے ماں باپ جیسے بھی ہوں ان کو ان لفظوں میں یاد نہیں کرتے 

بی جان نے اسے ٹوکا

سوری بی جان وہ معزرت کرتا بولا

اچھا ٹھیک ہے 

دراصل تمہارے بابا کے دوست کے بیٹے کی شادی تھی اور اتفاق سے اس کی بیوی تمہاری ماں سائیں کی دوست ہے اسلیے وہ لوگ اکھٹے شادی پر گئے ہیں

اووو اچھا چلو اللہ خیریت ہی کرے 

اس کے کہنے پر بی جان نے آمین کہا 

شہریار کمرے سے نکلا تو بی جان کو سمجھ آیا کہ وہ ان کی خیریت کا نہیں بلکہ اس لیے کہہ رہا تھا کہ خیریت ہی رہے ورنہ وہ لوگ وہاں ہر بھی نا لڑ پڑیں 

جس پر بی جان نے نفی میں سر ہلایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لوگ اس وقت گاؤں کی زمینوں میں گھوم رہی تھیں 

فریال کو ایک درخت پر امرود نظر اے

وہ مقدس کو اس طرف اشارہ کرتی بولی ۔۔۔ مقدس جانی تم یہاں رکو میں بس امرود توڑ کر لاتی ہوں

اس نے کہا جس پر مقدس نے سر ہلایا اور اس کے ساتھ جا کر اس درخت کے پاس کھڑی جب کہ فریال دو منٹ میں کسی ایکسپرٹ کی طرح درخت پر چڑھی 

واپس نیچے آی تو منہ لٹکا ہوا تھا 

مقدس نے اس کے خالی ہاتھ دیکھ کر سوالیہ دیکھا 

یار وہ سب امرود تو کچے ہیں اب میرا دل چاہ رہا ہے کھانے کا چلو گاؤں میں کہیں اور دیکھتے ہیں 

وہ اپنی چادر درست کرتی بولی 

ٹھیک ہے ۔۔۔ مقدس کہتی اسے کے ساتھ چلی 

یار میں تو تھک گئ ہوں ۔۔۔ مقدس آپنی صحت کی وجہ سے زیادہ چلنے پر تھک جاتی تھی 

وہ اس وقت ہلکی ہلکی دھوپ میں سرخ و سفید رنگت میں گلاب کی طرح کھل رہی تھی جب کہ اس کی کالی چادر جیسے اسے نظر لگنے سے بچانے کا کام دے رہی تھی مگر اس کا موٹاپا اسے بہت برا لگتا تھا مگر پھر بھی کھانے کے وقت وہ کسی بھی قسم کا کمپرومائز نہیں کر سکتی تھی 

یار بس تھوڑا سا اور چلو ۔۔ پلیز ۔۔۔ فریال سمجھ گئ تھی کہ اب اس سے مزید چلا نہیں جاے گا 

اچھا چلو تم یہاں بیٹھو میں جا کر دیکھتی ہوں ویسے بھی یہاں آگے کوی مرد د

وغیرہ نہیں ہیں ۔۔۔ اس کے کہنے پر مقدس نے سر ہلایا

اور وہ بیچ سڑک پر پڑا ہوا پتھر تھا اس پر بیٹھ گئ 

فریال چلتی ہوی ایک درخت کے پاس پہنچی ۔۔۔ مقدس کی نظر جیسے ہی فریال پر پڑی تو اسے آوازیں دینے لگی مگر ۔۔۔ دور ہونے کی وجہ سے فریال نے اسکی آواز نہیں سنی تھی 

افف یہ فری پھس جاے گی ۔۔ مقدس پریشانی سے بڑبڑای اور پھر اس کی طرف بھاگنے لگی جب کہ اس کہ سانس پھول گئ 

آگے سے آتی گاڑی اس میں آکر لگتی لگتی بچی تھی 

اس گاڑی سے لڑکا نکلا ۔۔۔ اس نے اسکی پھولی ہوی سانس دیکھ کر گاڑی سے پانی کی بوتل نکالی اور اسکی طرف بڑھای 

مقدس نے پانی ملتے ہی پانی پیا

پھر اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا 

سامنے کھڑے شخص نے اس خوبصورت کیوٹ سی لڑکی کو دیکھا 

ارے محترمہ مرنے کے لیے میری ہی گاڑی ملی تھی ؟

مقدس نے اسکی جانب دیکھا اور اسکے سوال پر اسے گھورا ۔۔۔ اور پانی کی بوتل اس کے ہاتھ میں تھمای 

مریں میرے دشمن ۔۔۔ ابھی مجھے مرنے کا کوی شوق نہیں ہے 

اس نے دو ٹوک لہجے میں کہا 

ہاں توپانی کا ٹینکر پھر کس نے گاڑی کے سامنے رکھ دیا ؟

اس لڑکے نے اس کی بات پر جل  کر کہا ہیں پانی کا ٹینکر کہاں ہے؟ مقدس نے حیران ہوتے کہا ۔۔۔ محترمہ خود کو دیکھو انداز ہو جاے گا کس قدر موٹی ہو

اوے چپ کرو تم خود چھوہارے کے منہ والے آے بڑے میری صحت کو نظر لگانے والے 

مقدس اسکی بات پر اونچی آواز میں بولی۔۔۔ اسے صحت نہیں موٹاپا کہتے ہیں میڈم۔۔۔۔ اس نے خود کے لیے  چھوہارے کا لقب سنتے مقدس سے کہا

بکو مت ابھی میں کہوں نا تو گاؤں کے سب لوگ تمہیں دھو ڈالیں گے۔۔۔ مقدس نے رعب ڈالتے کہا 

کیوں بھئ میں نہا کر آیا ہوں اس نے مقدس کے سرخ ہوتے گالوں کو نظروں میں لیتے کہا ابے اوو انگریزوں کے زمانے کے آدمی ۔۔۔ دھو ڈالیں گے یعنی ماریں گے ۔۔ اس نے اپنی بات کا مطلب واضح کیا ۔اففف کس قدر کوی لڑاکن ہو تم وہ اس کو گھورتے ہوے بولا

ہاں تمہارے منہ سے شہد ٹپک رہا ہے مقدس نے جوابی کارروائی کی

دیکھو میرا دماغ خراب مت کرو اور پلیز کم کھایا کرو تبھی تو یہ حال ہے کہ چلتے چلتے سانس اٹک گئ ہے اس کی بات سن کر مقدس کو یاد آیا کہ وہ دراصل بھاگی کیوں تھی اس نے اس طرف دیکھا جہاں فریال گئ تھی مگر وہاں لوگوں کو دیکھ کر اس نے آنکھیں میچ لی 

جب کہ اس نے اسکی اس حرکت پر ہلکی سی مسکراہٹ سے اسے دیکھا

مقدس نے اس کی نظروں کی تپش پر آنکھیں کھولیں 

تمہارے ڈیلے نکال کر میں نے کنچے کھیلنے ہیں اب اگر مجھے یوں دیکھا تو مقدس نے چادر تٹھیک کرتے کہا 

جس پر اس نے پلکیں جھپکائیں ۔۔۔ نہیں وہ میں یہ دیکھ رہا تھا کہ تم اتنی لال گلابی کیسے ہو؟

اس کی بات پر مقدس نے اس کے پاؤں پر اپنا بھاری پاؤں مارا ۔۔ اہہہہ وہ چیخا ۔۔۔ ایسے ہوں آئے بڑے گلابی کیسے ہو ۔۔۔۔۔وہ مارتی فریال کی طرف بڑھی 

سفید ہتھنی ۔۔۔ اس نے پیچھے سے ہانک لگائی 

اور تم سوکھے چھوہارے 

وہ کہتے وہاں سے چلی گی جب کہ وہ بھی بڑبڑاتا گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فریال نے آکر درخت کو دیکھا جس پر امرود لگے تھے ۔۔۔ اس نے ان کو دیکھا پھر جلدی سے درخت پر چڑھ گی 

اور ابھی وہ چڑھی تھی کہ سکندر جو اس طرف آیا تھا کہ  زمینوں کا دورہ کر لے اسں کے ساتھ آدمیوں نے کسی لڑکی کو زمینوں پر گھومتے دیکھ کر اسے بتایا ۔۔۔ پھر وہ لڑکی بندروں کی طرح درخت پر چڑھی 

سکندر نے حیرانی سے دیکھا پھر قدم اپنے لوگوں کے ساتھ اس طرف لیے 

وہ جو درخت کر چڑھی امرود توڑنے والی تھی اتنے سارے آدمیوں کو نیچے دیکھ کر حیران ہوی 

ارے نہیں نہیں بھائی بہت شکریہ میں خود اتار لوں گی ۔۔ اسے لگا وہ لوگ اس کی مدد کرنے اے ہیں 

نیچے اترو۔۔۔۔لڑکی ۔۔ سکندر کے آدمی نے کہا 

فریال نے دانت کچکچاے افف کوی سکون نہیں گاؤں میں کہتے ہیں گاؤں کی زندگی بڑی پر سکون ہوتی ہے 

وہ بڑبڑاتی ہوی نیچے اتری ۔۔۔ 

سکندر اپنے ازلی سنجیدہ لہجے میں سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑا تھا 

اس کی طرف فریال کا دھیان نہیں۔ گیا تھا تو اس کی طرف کمر کر کے کھڑی ہوی 

جی بھائیوں آپ نے مجھے کیوں نیچے بلایا؟ وہ اب اس کی طرف پشت  کیے کھڑی سامںے سکندر کے آدمیوں سے بولی 

اس زمین پر آپ پاؤں نہیں رکھ سکتیں ۔۔ کیا آپ نے بوڑ نہیں پڑھا ۔۔۔؟ اس آدمی نے فریال سے کہا 

جب اس نے ہلکا سا رخ  پلٹ کر دیکھا 

جب سکندر کی نظر اس کی کالی چمکتی آنکھوں پر پڑی ۔۔۔ 

دیکھو بھای مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس زمین پر پاؤں نہیں رکھ سکتے ورنہ میں پاؤں گھر رکھ آتی 

اس کی بات سن کر وہ لوگ حیرانی سے اسے دیکھنے لگے 

اس نے اپنی چادر درست کی جب کہ سکندر کی نظر اسکی کمر پر جھولتی چٹیا پر پڑی اس نے نظریں پھیر لیں

دیکھو لڑکی بچوں جیسی باتیں مت کرو سکندر سائیں کی زمین پر ان کی اجازت کے بغیر پرندہ بھی نہیں آسکتا 

اس شخص نے رعب ڈالتے کہا

اچھا ایسی بات ہے اس نے درخت پر بیٹھے کوے کو دیکھا 

اوے کوے میاں کیا تم سکندر سائیں سے پوچھ کر یہاں اے ہو؟ 

اس نے ایسے پوچھا جیسے وہ جواب دے گا

اس نے کوی جواب نا دیا تو اس پر فریال کا زبردست قہقہ گونجا 

ارے بھئیا۔۔۔ کوے نے اجازت نہیں لی اور آپ تڑیاں لگا رہے ہیں پرندے بھی بنا اجازت کے نہیں آسکتے 

اس نے ٹونٹ کرنے کے انداز میں کہا 

جب کہ  سردار سکندر کی اب بس ہو گئ تھی 

خاموش! ایک لفظ اور نہیں ۔۔۔ اس نے اس کے کان کے پاس سرد برفیلے کھٹور لہجے میں کہا جس پر فریال اپنے کان کے پاس سے آتی آواز پر پلٹی 

اب اس کا رخ سکندر کی طرف تھا 

اس کی نظریں سیدھا  سردار سکندر کی ہری کانچ سی آنکھوں سے ٹکرائیں 

نظریں پھسلتے ہوے اس کی کھڑی ناک پر پہنچی ۔۔۔ دوسری طرف سردار سکندر کہ نظریں اس کی ناک میں پہنی لونگ پر اٹکی

نظریں پھسلی اور اس کے آپس میں پیوست لبوں پر پڑی ۔۔۔۔ سکندر کی نظریں اس کے لبوں پر پڑی اس نے فورا نظریں ہٹا لیں

 

فریال نے چند لمحے اس حسن کے مالک کو دیکھا 

پھر بولی 

کیا آپ میں تمیز نہیں ہے کسی کے کان میں اس طرح گرج کر بات نہیں کرتے؟

 ۔۔۔ فریال اپنی ٹون میں آتی بولی بھلا وہ فری ہی کیا جو کسی کے حسن پر فدا ہو

سکندر نے اس کہ بد تمیزی پر آنکھیں چھوٹی کر کے اس پدی کو دیکھا

اےےےے۔۔۔۔ فریال نے گھنڈوں والی ٹون میں ایک انگلی سکندر کہ طرف اٹھای

کنجی آنکھوں والے سکندر اعظم 

وہ اسکے نام کو بگاڑ کر بولی 

مجھے آنکھ بھر کے دیکھا تو آنکھیں نکال دوں گی 

اس نے کہا جس پر سکندر نے اپنی طرف اس کی اٹھی انگلی کو دیکھا 

انگلی نیچے ! وہ یک لفظی جواب بولا

جس پر فریال نے حیرانی سے دیکھا 

کیوں نہیں کروں گی نیچے تم کیا یہاں کے سیٹھ لگے ہو جو یوں دھونس جماؤ گے 

ارے مجھے میری پھپھو نے بتایا ہے کہ یہاں کا سردار بہت رعبدار ہے اس کہ موجودگی میں سب تھر تھر کانپتے ہیں اس کو تمہاری شکایت لگای نا تو دو بس دو منٹ میں تمہاری ساری اکڑ نکال دیں گےارے بڑے پرانے دوست ہیں ہم 

اس نے اب خود ایسی پھل جھڑی چھوڑی تھی جس کا اندازہ اسے خود نہیں تھا 

سکندر نے اس کی بات پر پھر سے کہا 

میں نے کہا انگلی نیچے کرو ۔۔۔! 

افف کیا مسلہ ہے میرا سٹائل ہے یہ  فریال چڑتے ہوے ہاتھ نیچے کرتی بولی 

آئندہ تمہیں اس زمین کے آس پاس بھی دیکھا تو تمہارا وہ ہال کروں گا کہ تم پچھتاؤ گی 

وہ کہتے پلٹا

وہ اس طرح کبھی کسی لڑکی سے بات نہیں کرتا تھا مگر کہیں نا کہیں سکندر کی چھٹی حس کو لگا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جس کی بات رات اسکی بی جان اس سے کر رہی تھیں 

اس لیے اس نے رعب سے کہا

 

فریال خدا بخش کسی سے نہیں ڑرتی ۔۔۔ تم دیکھو ۔۔۔ اب فری کا دن رات بس اسی زمین پر چکر لگے گا 

جو کرنا ہے کر لو ۔۔۔ وہ بھی فریال تھی وہ بھی پلٹی اور پھر بنا اسکی طرف رخ کرتی بولی اور پھر اپنی طرف آتی مقدس کی طرف بڑھ گئ 

جب کہ سکندر دانت پیس کر رہ گیا 

اور غصے سے وہاں سے بنا اس کو پلٹ کر دیکھے چلا گیا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کیا تم بہری ہو کب سے آوازیں دے رہی تھی مقدس اس کے پاس آتی بولی 

پھر اس نے اس کے پیچھے دیکھا جہاں اب سکندر اور اسکے آدمی واپس جا رہے تھے 

کیا ہوا؟ فری اس کو اپنے پیچھے دیکھتے پا کر بولی 

تم یہاں کیا کرنے آی تھی ؟ مقدس نے اسکو دیکھتے غصے سے کہا 

امردو توڑنے آئ تھی ۔۔۔ اسنے دوپٹے سے ہاتھ باہر نکالا اور ایک امرود جو اس نے توڑا تھا اسے سامنے کرتی بولی 

بیوقوف لڑکی یہ زمین بڑے سردار جی کی ہے اور اس زمین پر کسی کو بھی آنے کی اجازت نہیں ہے یہ زمین بڑے سردار کے بابا سائیں کی ہے 

مقدس اس پر غصہ کرتی اس کا ہاتھ تھام کر اسے کھینچ کر لے جاتے بولی

کیا؟ لیکن وہ آدمی تو کہہ رہے تھے کسی سکندر اعظم کی ہے وہ پھر اس نے نام کو بگاڑ کر بولی

ان کا نام سکندر سلمان شاہ ہے۔۔۔ سکندر اعظم نہیں ۔۔ مقدس نے چلتے چلتے اسے جواب دیا 

اور ہاں وہی یہاں کے سردار ہیں ۔۔ اب یہ بتاؤ کہ تم نے سردار جی سے کوی بدتمیزی تو نہیں کی ؟ اس کے سوال پر فریال نے دانتوں تلے زبان دی 

جس پر مقدس نے اسے گھورا ۔۔۔ کر دیا کوی کانڈ؟

ہاں میں نے اسے دھونس دیا کہ اگر اس نے کچھ کیا تو سردار سے سزا دلواؤں گی اور یہ بھی کہا کہ میں سردار کہ دوست ہوں 

اس کی بات سن کر مقدس کا قہقہہ گونجا 

بس کر موٹی اتنا کیوں ہس رہی ہے ۔۔ وہ اسے ایک مکہ جڑتے اب اسکا ہاتھ چھوڑ کر آگے آگے چلنے لگی

جب کہ موٹی لفظ پر اسے گاڑی والا لڑکا یاد آیا ۔۔۔ 

بدتمیز چھوہارے کے منہ والا وہ بڑبڑای 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

رات کے وقت سکینہ بی کو جب انہوں نے ساری بات بتائی تو ان کو ہس ہس کر برا ہال تھا ۔۔۔ 

فری تم جس کے سامنے جس کے نام کا رعب جما رہی تھی دراصل وہ آدمی خود وہی تھا 

سکینہ ہستے ہوے بولیں 

جی پھپھو اب مجھ کیا پتہ تھا وہ سردار اتنا فارغ آدمی ہے کہ اب امرود کے درخت کی بھی رکھوالی خود کرے گا 

فری دودھ کا گلاس پیتے ہوے بولی 

اچھا جو کچھ ہوا انجانے میں ہوا تم جب اگلے دفع ملی تو معزرت کر لینا ایسے بڑے لوگوں سے پنگے نہیں لیتے 

جی اماں میں خود معزرت کروں گی فریال کچھ نا بولی تو مقدس جلدی سے بولی 

پھر دودھ کے خالی گلاس لے کر کیچن میں چلی گئ 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

وہ رات حویلی میں جیسے ہی آیا اندھیر دیکھ کر حیران ہوا ۔۔ اس نے ایک قدم آگے لیا جب شایان چھپکلی کی طرح اس سے چپک گیا اور لائیٹس ان ہو گئیں

سرپرائز

اس نے اس کو گلے لگتے کہا جس کی آواز سن کر سردار سکندر مسکرایا 

اس نے اسکے گرد اپنا حصار قائم کیا ۔۔۔ تم کب اے شایان شیطان؟

اس نے الگ ہوتے کہا 

بس شام میں ہی آیا تھا ۔۔۔ پر پھر آپ کام میں مصروف ہوں گے اس لیے آپ کو تنگ نہیں کیا 

پر تم تو اگلے ماہ تک گھومنے کا ارادہ رکھتے تھے نا ۔۔۔۔؟

سکندر نے سوال کیااور قدم لاونج میں بیٹھیں بی جان اور شہریار کی طرف لیے 

بلکل پر پھر آپ کی یاد اتنی آی کہ میں دوڑتا ہوا آپ کے پاس آگیا ۔۔۔ 

اس نے مسکراتے ہوے کہا 

اچھا امریکہ سے بھاگتے ہوے اے ہو ۔۔ سکندر نے کہا جس پر وہ ہسنے لگا 

ہاہاہا ۔۔۔ بھیا قسم سے آپ سب کو اتنا مس کیا میں نے مگر یہاں گاؤں میں آتے ہی ایک پانی کے ٹینکر سے ٹکر ہوتی ہوتی بچی ہے 

اس کی بات سن کر وہ تینوں اسے سوالیہ دیکھنے لگے 

ارے بھیا ایک سرخ و سفید ہتھنی تھی توبہ توبہ اتنا بول رہی تھی کہ جیسے میں اس کا خادم ہوں 

اس کی بات پر شہریار مسکرایا ۔۔۔ ہممم یعنی ہمارے شایان کا استقبال ہمارے گاؤں کی کسی لڑکی نے کیا ہے ۔۔۔۔ 

ارے بس بس لڑکی کہاں ٹینکر تھی وہ ۔۔۔ وہ جل کر بولا

اچھا  تم اسے اس نام سے کیوں بلا رہے ہو ۔۔۔ بی جان کھوجتی نظروں سے دیکھتے بولیں 

اس نے مجھے چھوہارے کے منہ والا بولا

اس نے شکایت کرنے کے انداز سے بی جان سے کہا جس پر سکندر سمیتھ سب کا قہقہ گونجا 

ارے یار ۔۔۔ یہ تو سیکرٹ تھا آج تک میں نے تمہیں اس سچ سے بے خبر رکھا پر چلو کوی بات نہیں ایک نا ایک دن تو سچ سامنے آنا ہی تھا 

شہریار ہستے ہوے بولا

جس کی بات کر سکندر پھر سے مسکرایا 

ارے یار ۔۔۔ تم یہ بتاؤ  کہ تمہیں آج کیا کھانا ہے ۔۔ آج میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں کوکنگ کروں ۔۔۔ 

سکندر نے کہا جس پر شایان نے لبوں پر زبان پھیری 

ارے بھیا نیکی اور پوچھ پوچھ ۔۔ وہاں سب اپنی ماں کے ہاتھ کا کھاںا مس کرتے تھے اور میں آپ کا ۔۔۔ 

اس نے سکندر کو دیکھتے کہا 

چلو پھر آجاو بوائز ۔۔۔ وہ کہتے اٹھا جس کی بات پر شہریار اور شایان بھی کیچن کی طرف بڑھے 

 

اللہ بس میرے بچوں کی مسکراہٹوں کو کسی کی حاسد نظروں سے محفوظ رکھنا یہ ہمیشہ ایک دوسرے سے یوں ہی ایک گرہ ہی طرح مضبوطی سے بندھے رہیں 

 بی جان ان تینوں کو ہنستے کھیلتے کیچن کی طرف جاتے دیکھ کر دعا گو ہویں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

error: Content is protected !!