عشق گیریاں
Season 2 Episode 1 to 5
ناول۔۔۔۔۔۔عشق گیریاں
ازقلم۔۔۔۔۔۔ آنسہ چوہان ❤️
Season 2
Episode 01 to 05
سائیں ۔۔ وہ اندر آی تو اسے پکارا
جی ؟ وہ جو آنکھیں بند کیے صوفے پر بیٹھا تو آنکھیں کھولتا بولا
آپ چائے پی لیں میں نے خود بنائ ہے ۔۔۔ فریال کو اسکے الفاظ نے سر شار کیا تھا کہ اس نے اس کے لیے سٹینڈ لیا تھا
ہمم شکریہ ۔۔۔ سکندر نے اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر ٹیبل پر رکھتے کہا
تم پہلے جیسی نہیں رہی ؟
فریال سکندر کی بات پر مسکرائی
زندگی بھی تو پہلے جیسی نہیں رہی ۔۔۔۔ اب تو میں شادی شدہ ہوں اور مجھے اس گھر کو جوڑ کر رکھنا ہے
وہ اسے کہتی ڑریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی بالوں کو کھولے اس میں کنگھی چلانے لگی
پھر تو تمہیں اپنے شوہر سے محبت بھی کر لینی چاہیے ! سکندر نے اسکا پورا جائزہ لیتے کہا
وہ تو مجھے کبھی نہیں ہوگی سردار سکندر اعظم! وہ کہتے ہسنے لگی
سکندر اعظم ؟ سکندر نے اپنے نام کے بگاڑنے پر اسے گھورا
کیا سائیں اب میں بدل گئ ہوں نو اعظم ۔۔۔ اونلی سائیں ۔۔۔ وہ کہتے پھر سے شیشے میں دیکھنے لگی
سکندر گہرا سانس لے کہ رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار اپنے کمرے میں پینٹنگ کر رہا تھا جب اس کا فون بجنے لگا
شہریار نے برش رکھا اور فون رسیو کیا
ہاں بولو کبیر ؟
چھوٹے سائیں آپ جلدی سے گاؤں والے گھر آجائیں
شہریار دوسری جانب سے آواز پر چونکا
کیا مطلب ہے ؟ سب ٹھیک تو ہے نا ۔۔۔۔ وہ پریشانی سے بولا
چھوٹے سائیں آپ خود آکر دیکھ لیں بس تھوڑا جلدی آئیں
کبیر کی آواز پر شہریار جلدی سے باہر بھاگا
اور نیچے آیا۔۔۔۔ حویلی کے لاونج میں بیٹھی بی جان اور سائرہ بیگم نے اسے بھاگتے ہوے جاتے دیکھا
یا اللہ خیر کیا ہو گیا شہریار کو اس طرح کیوں بھاگا ہے
بی جان پریشانی سے بولیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی کی فل سپیڈ لگائے گھر کے سامنے بریک لگاتا گاڑی سے جلدی سے اترا
کیاہوا کبیر ؟
گھر کے سامنے کھڑے کبیر کو دیکھ کر شہریار نے پوچھا
چھوٹے سائیں ۔۔۔۔ سلمہ بیگم صاحبہ کو ناجانے کیسے پتہ چل گیا کہ آپ کے گھر پر سائشہ بی بی رہتی ہیں
وہ آج آئیں اور ہمارے لاکھ روکنے پر بھی وہ نہیں رکیں
اندر جا کر بی بی جی کو بہت برا بھلا کہا
اور پھر گھر سے نکال دیا
کیا؟ تو تم لوگ یہاں کیا کر رہے تھے ؟ تم لوگوں کو سائشہ کی حفاظت کے لیے رکھا تھا میں نے ۔۔۔۔۔
آج پہلی دفع شہریار اپنے ملازمین پر بڑھکا تھا
جس پر کبیر سر جھکا گیا
چھوٹے سائیں ہم کیا کرتے جب سلمہ بیگم خود آئیں تھیں
بس مجھے اتنا بتاؤ اس وقت سائشہ کہاں ہے ؟
شہریار کے اعصاب سخت تنے ہوے تھے اسے سائشہ کی فکر ہو رہی تھی
جی وہ سکینہ بی کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں
کبیر کی بات سنتے ہی شہریار گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی اس راستے پر ڈال دی
کچھ ہی دیر میں گاڑی ان کے گھر کے سامنے روکتے وہ دروازے پر دستک دیتا ہے
سکینہ بی نے دروازہ کھولا
بی کیا سائشہ آپ کے گھر آئ ہیں ؟
وہ پریشانی سے بولا
ہاں بیٹا آجاؤ اندر ہی ہے ۔۔۔ سکینہ بھی کافی پریشان تھیں وہ بھی بولیں
جس پر شہریار اندر بڑھا
مقدس اسوقت سائشہ کے ساتھ کمرے میں تھی شہریار کو آتے دیکھ کر وہ خاموشی سے کمرے سے نکل گئ
شہریار نے کمرے میں داخل ہوتے ہی مقدس کے نکلنے پر دروازے کو بند کیا
سائشہ بیڈ پر سر گھٹنوں میں دیے رو رہی تھی
سائشہ ! شہریار اس کے پاس بیٹھا
وہ شہریار کی آواز سن کر چونکی
اور سر اٹھا کر اس کو دیکھا جو اس کے پاس بیٹھا تھا
شہریار آپ ۔۔۔ وہ کہتے ہی آگے ہوتے اس کے سینے سے لگ گئ
بس کر دیں سائشہ مت روئیں ۔۔۔ مجھے بے تحاشہ تکلیف ہو رہی کہ میں آپ کی حفاظت نہیں کر پایا میرے ہی گھر سے آپ کو نکالا گیا
شہریار اس کے گرد حصار بناتے بولا
نہیں شہریار آپ کی کوی غلطی نہیں ہے ۔۔۔۔سائشہ بولی
آپ خود کو قصور وار مت سمجھیں
جو کچھ ہوا اس میں آپ کی غلطی نہیں تھی
بس میری جگہ آپ کی زندگی میں نہیں تھی اور جو سب ہوا وہ سب غلط تھا
شہریار نے سائشہ کی بات پر اس کی جانب دیکھا
تو ٹھیک ہے آپ کو لگتا ہے میری زندگی میں آپ کی جگہ نہیں ہے تو پھر میری زندگی کا کوی فائدہ نہیں
کیوں ناختم کر لو میں خود کو ؟
شہریار کی بات پر سائشہ نے اس کی جانب دیکھا
شہریار ۔۔۔ پتھرائی آنکھوں سے اسکو دیکھا
اتنی ہی تکلیف مجھے ہوی ہے جس کو میں اپنا کہتا ہوں اسے لگتا ہے اس کی جگہ ہی نہیں ہے جہاں پر وہ ہے !
سائشہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں آپ کو کیوں سمجھ نہیں آتی ؟
شہریار کی بات پر سائشہ کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔۔
مگر آپ کی اماں سائیں ۔۔۔۔ سائشہ ہلکا سا منمنائ
چلو میرے ساتھ آج اس بات کا فیصلہ بھی کر لیتے
شہریار نے سنجیدگی سے کہا اور پھر اسے لیے کمرے سے باہر نکلا
سکینہ بی نے ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر کچھ نا کہا
وہ سمجھدار خاتون تھیں کہ وہ دونوں میاں بیوی ہیں ان کے درمیان کچھ بولنا بے فضول ہے
اس لیے سائشہ بھی خاموشی سے وہاں سے چلی گئ ۔۔۔
وہ سائشہ کو لے کر حویلی چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شایان رات دیر تک کی شرارتوں کے بعد تھکن کے باعث نیںد پوری نہیں کر پایا تھا اپنے کمرے میں آکر پھر سے سونے کی تیاری کرنے لگا
وہ آرام دہ کپڑے لے کر واشروم سے باہر نکلا
اور سامنے بیڈ پر اپنی ماں کو بیٹھے دیکھ کر حیران ہوا
کیا ہوا ماما ؟ خیریت آپ یہاں اس وقت ؟
وہ ٹاول رکھتے ان کے پاس آتے بولا
ہاں بیٹھو مجھے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔
شایان نے سائرہ بیگم کی سنجیدگی پر سر اثبات میں ہلایا اور ان کے پاس آکر بیٹھا
دیکھو شایان اس سب سے پہلے کے تم کوی احمقانہ فیصلہ کرو اور اپنی کسی بھی قسم کی سوچ کو ُبنتے پھرو ۔۔۔۔
میں چاہتی ہوں کہ تمہیں سمجھا لوں
سائرہ بیگم کی بات پر شایان نے سوالیہ ان کی طرف دیکھا
جس طرح کا فیصلہ سکندر نے کیا ہے مجھے اس سے اس قدر بیوقوفاںہ فیصلے کی امید نہیں تھی
سائرہ بیگم کی بات پر شایان کو ان کی باتوں کی وجہ سمجھ آگئ
مگر وہ خاموشی سے سنتا رہا
میں چاہتی ہوں کہ تم اپنے دماغ میں کسی اور کا عکس بنانے کے بجائے ۔۔۔۔ مائرہ کے لیے وہ تمام احساسات رکھو جو کہ ممکنات میں سے ہیں
سائرہ بیگم کی بات پر شایان نے آنکھیں چھوٹی کئیں
کیا مطلب ہے آپکا ؟ آخر چاہتی کیا ہیں آپ ؟
مطلب یہ کہ میں چاہتی ہوں کہ میں تمہارے لیے مائرہ کو بیاہ کر اس حویلی میں لاؤں وہ میری بھتیجی ہے بلکل مجھ پر گئ ہے ۔۔۔۔
اس لیے کسی اور کو سوچنا بھی مت ۔۔۔۔
سائرہ بیگم نے یک طرفہ فیصلہ سنایا
اور آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کی بات پر آمین کہہ دوں گا ؟
اور کیا کہا آپ نے آپ پر گئ ہے اس کا مطلب وہ بھی مجھے آپ کی طرح حویلی سے الگ کرے گی جیسے آپ نے بابا سائیں کو کیا !
شایان اٹھتے ہوے بولا
شایان تمیز سے بات کرو ۔۔۔ سائرہ بیگم اس کی بات پر سختی سے بولیں
کیا ؟ آخر کیا چاہتی ہیں آپ ؟ آپ کی اس بدتمیز بھتیجی سے شادی کروں جس کو نا بڑے چھوٹے کا لحاظ ہے نا رشتوں کی قدر ۔۔۔۔
معاف کیجئے گا ماما پر میں اس کو بلکل پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔
آپ برائے مہربانی اپنی سوچ کے دوڑتے گھوڑوں کو لگام ڈال لیں
کیونکہ میں شایان ہوں اپنی مرضی کا مالک ۔۔۔۔
شایان اگر تم نے ایسا ویسا کچھ کیا یا مائرہ سے شادی سے انکار کیا تو میں اور تمہارے بابا جائیداد میں سے ایک پھوٹی کوڑی بھی تمہیں نہیں دیں گے ۔۔۔ یاد رکھنا
سائرہ بیگم تپے ہوے لہجے میں اٹھتے ہوے بولیں
آپ کی جائیداد پر کس کمینے کی نظر ہے ؟
شایان نے جیسے جتایا کہ اس کو اس جائیداد کی ضرورت نہیں ہے
شایان ۔۔۔ سائرہ بیگم اس کے لہجے سے باغاوت محسوس کرتی اس کی طرف نرم لہجے سے بڑھتے بولیں
انہہہ ۔۔۔ آپ جا سکتی ہیں مجھے نیند آرہی ہے ۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔
شایان نے رخ موڑتے ہوے کہا
اففف بی جان اور سکندر نے اسکو اس حد تک میرے خلاف کر دیا ہے ماں کی بات تک سننے کا روا دار نہیں ۔۔۔۔۔
سائرہ بیگم منہ میں بڑبڑاتی باہر نکل گئیں ۔۔۔۔۔
شایان نے آنکھیں میچ لی ۔۔۔
آنکھوں میں مقدس کا چمکتا دودھیا گول مٹول گالوں والا چہرہ لہرایاتو وہ بند آنکھوں سے مسکرایا
وہ بہت قیمتی ہے مجھے وہ مل جائے تو دنیا کی دولت کی کوی ضرورت نہیں مجھے ۔۔۔ وہ بند آنکھوں سے مسکرایا
$$$$$$
سائشہ اور وہ اس وقت حویلی کے اندر داخل ہوے ۔۔۔۔
اماں سائیں ۔۔۔۔۔ شہریار کے تنے ہوے چہرے پر غصہ دمک رہا تھا
سائشہ اس کے سخت لہجے پر ڑری سہمی کھڑی تھی ۔۔۔۔
حویلی کے لاونج میں آتے ہی شہریار نے اونچی آواز میں گرج برس لگائ ۔۔۔
اماں سائیں باہر آئیں ۔۔۔۔ وہ پھر سے اونچی آواز میں بولا
سائشہ نے اس کا ہاتھ تھاما ۔۔۔
شہریار پلیز ۔۔۔ آپ اس وقت غصے میں ہیں اور سخت الفاظ استعمال کریں گے پلیز چلیں یہاں سے ۔۔۔۔
وہ ڑرے ہوے لہجے میں بولی
شہریار آپ پر جان وار سکتا ہے آپ کو کسی کے ہاتھوں زلیل ہوتے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔
آپ جانتی ہیں مجھے کس قدر تکلیف ہے آپ کو یوں زلیل کیا گیا میرے ہوتے ہوئے
شہریار اس کی ہاتھوں پر پکڑ محسوس کرتا اسکی بات سن کر بولا
جب کہ سب اپنے کمرے سے اس کی آواز سن کر باہر نکلے ۔۔۔۔۔
بی جان پریشانی سے ان کی طرف آئیں۔۔۔ کیا بات ہے شہریار بیٹا تم اتنے غصے میں کیوں ہو؟
اور بہو ساتھ کیوں ہے ؟
وہ سائشہ کو ڑرے سہمے دیکھ کر اسکو اپنے حصار میں لیتے بولیں ۔
بی جان اماں سائیں نے اتنی بری طرح سے سائشہ کو گھر سے زلیل کرکے نکالا ہے آخر کیوں ؟
وہ بولا لہجہ سخت تھا
سکندر اور فریال بھی پریشان سے باہر آئے ۔۔۔۔
جب کہ شایان اور باقی سب گھر والے بھی ان کے پاس آئے ۔۔۔
سکندر ۔۔۔۔۔ فریال نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا ۔۔۔۔۔
ہاں ؟ سکندر نے اسکی جانب دیکھا
اگر اس سب میں مجھے کہیں بولنا پڑا تو میں بول سکتی ہوں ؟
وہ اجازت لے رہی تھی ۔۔۔
ہاں مگر دھیان رہے کہ کسی بڑے کی عزت پر بات نا آئے اور بات حق سچ کی ہو ۔۔۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ کھڑا رہوں گا
وہ کہتے اسکا ہاتھ پکڑ کر سب کی جانب بڑھا
کیا شور مچا رکھا ہے تم نے شہریار ؟
آخر کیا آفت آگئ ہے بھئ ؟
سلمہ بیگم اپنے کمرے سے نکلتے بولیں
مگر سامنے شہریار کا ہاتھ اس سانولی لڑکی کے ہاتھوں میں دیکھ کر آنکھیں ابل کر باہر آنے کو تھیں
تم ؟ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ ہمت کیسے ہوی اس کے قریب آنے کی ؟
سلمہ بیگم بڑے بڑے قدم لیتیں سارا لحاظ چولہے میں جھونکتی بولیں
اور سائشہ کو کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑا
شہریار نے لب بھینچ لیے ۔۔۔۔
بولتی کیوں نہیں ہو بے شرم آوارہ لڑکی ۔۔۔۔۔
سلمہ بیگم کے لفظوں نے نشتر کا کام کیا تھا
اب کی بار شہریار کی بس ہو گئ تھی
اماں سائیں ۔۔۔۔۔ خبردار اگر سائشہ کو ایسے غلیظ الفاظوں سے پکارا
وہ گرجتے انداز میں بولا
شایان نے حیرت سے شہریار کے سخت لہجے کو دیکھا
بی جان اور سکندر بھی خاموش رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔۔۔ ارے تم اس جیسی لڑکی کے لیے ماں سے اس لہجے میں بات کرو گے ؟
سلمہ بیگم نے حیرت سے شہریار کو دیکھتے کہا
وہ ایسی ویسی لڑکی نہیں ہے ۔۔۔۔ شہریار نے سائشہ کا ہاتھ پھر سے تھامتے کہا
اچھا کسی غیر مرد کے ہاتھوں میں ہاتھ دیے کیا شریف لڑکیوں کے کام ہیں ؟
سلمہ بیگم بولیں
قہر بھری نظر سائشہ کے وجود پر ڈالی
سلمہ ۔۔۔ وہ اس گھر کی بہو ہے ہمارے شہریار کی بیوی ۔۔۔ اس کی عزت اسکی محبت اسکی چاہت اس کی خواہش اسکی خوشی ۔۔۔۔
بی جان نے سلمہ بیگم کو سخت لہجے میں سچائی سے باور کروایا
جب کہ سلمہ بیگم شل وجود سے سائشہ کو دیکھنے لگیں
سائرہ بیگم نے عجیب ناگواریت لیے سائشہ کے سانولے اور بجھے چہرے کو دیکھا
اس کا حلیہ بھی کافی گدلہ تھا
آوو مائ گاڈ ۔۔۔ اس حویلی میں کیا غربت مفلسی میں ڈوبی ہوی بہو لانے کا رواج ہے
اففف ان دونوں کا ٹیسٹ کتنا بکواس ہے ۔۔۔
مائرہ نے سائرہ بیگم کے کانوں کے پاس جھکتے ہوے کہا
جس پر سائرہ بیگم ہلکا سا مسکرائیں ۔۔۔۔
ہاہاہا ۔۔۔۔۔بی جان مزاق ہے نا یہ ۔۔۔ بھلا میرےاتںےخوبصورت ہینڈصم دکھنے والے بیٹے کے ساتھ یہ لڑکی کہاں ججچتی ہے ۔۔۔۔
اور بیوی ؟ کیسے ہو سکتا ہے یہ ۔۔۔؟
وہ حیرت سے دیکھتے پھر اچانک قہقہ لگاتے بولیں
محبت میں رنگ نسل زبان فرقے نہیں دیکھے جاتے ۔۔۔ روحوں کا میل ہوتے ہی محبت ہو ہی جاتی
شہریار نے سائشہ کو بے تحاشہ محبت بھری نظروں سے دیکھتے کہا
جس نے نظریں جھکا لیں
شہریار کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔۔ ایسے کیسے تم نے شادی کر لی ؟ اور ہمیں بتایا تک نہیں
ابراہیم شاہ بھی بات میں دخل دیتے بولے
کیوں بابا ؟ آپ کو بھی میری محبت سے کی شادی سے مسلہ ہے ؟
شہریار نے اپنے بڑھے ہوے لمبے بالوں میں ہاتھ پھرتے کہا
نہیں ۔۔۔۔ بلکل نہیں آج تک بھلا میں نے کس کام میں تمہاری بات سے انکار کیا ہے
ہاں مگر تم نے ہمیشہ مجھے اپنا دشمن ہی سمجھا ہے ۔۔۔۔۔
ابراہیم شاہ نے شہریار کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا
یعنی میری بیوی ۔۔۔ میری محبت ۔۔۔ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی کو آپ اپنی بہو کی صورت میں قبول کرتے ہیں ؟
شہریار نے پہلی دفع ابراہیم شاہ سے مسکرا کر بات کی جس پر وہ مسکرائے
ہاں بلکل ۔۔۔ وہ کہتے سائشہ کے سر پر ہاتھ رکھتے اس کو دعا دینے لگے
میں اس کلموہی کو اپنی بہو کبھی قبول نہیں کروں گی ۔۔۔ ارے نا شکل اچھی نا کوی بیک گراؤنڈ ۔۔۔۔
سلمہ بیگم تپے ہوے لہجے میں بولیں
آپ نے میری بیوی کو زلیل کیا ہے اس کو میرے گھر سے نکالا ؟ وجہ ؟
شہریار نے سخت لہجے میں سلمہ بیگم سے کہا
تم نے مجھے اپنی اس شادی سے بے خبر رکھا ۔۔۔ اور تم نے اس کالی کلوٹی میں دیکھا بھی کیا تھا
کہ اس سے شادی کی رچا لی؟
سلمہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سائشہ کو کہیں غائب کر دیتیں ۔
میری زندگی میں کسی بھی معاملے میں بات کرنے کا آپ کو وقت کیسے مل گیا ۔۔؟ آپ کی پارٹیز ۔۔ آپ کی سوشل لائف سے آپ کہاں اتنا وقت نکال کر اس سب باتوں سے اختلاف کر رہی ہیں
جو ہوا۔۔۔۔۔ وہ بلکل اچھا نہیں ہوا مگر اب جب کہ سب کو پتہ چل گیا ہے کہ سائشہ اس گھر کی چھوٹی بہو کے تو اسلیے اب یہ یہیں رہے گی اپنے شوہر کے ساتھ ۔۔۔۔۔
کل سکندر کے ولیمے کے ساتھ ہی شہریار کا ولیمہ کیا جائے گا ۔۔۔۔
بی جان نے دو ٹوک لہجے میں کہا ۔۔۔
جس پر سلمہ بیگم آگ بگولہ ہوتے کچھ کہنے لگیں جب ابراہیم شاہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کچھ کہنے سے بعض رکھا
اماں سائیں کا فیصلہ ہے اس پر کوی احتراز نہیں ۔۔۔۔ وہ دبے دبے غصے میں سلمہ بیگم سے بولے ۔۔۔۔
جو اپنا ہاتھ ان سے چھڑواتیں ۔۔۔ سائشہ کو بھسم کر دیںے والی نظروں سے دیکھتے وہ وہاں سے چلیں گئیں ۔۔۔۔
فریال مسکرا کر سائشہ کی طرف بڑھی ۔۔۔۔۔
ارے تم کیوں ڑری سہمی کھڑی ہو ؟ تمہارا شوہر ہے نا وہ سب سنبھال لے گا ۔۔۔ وہ سائشہ کو اپنے حصار میں لیتے بولی ۔۔۔
شہریار نے مسکرا کر دیکھا ۔۔۔
ارے بی جان آپ نے بڈی کے ساتھ بھائ کا ولیمہ رکھ دیا ہے ۔۔۔
کچھ سوچیں میں بھی جوان ہوں میرا بھی رکھ دیں ۔۔۔۔۔
شایان آنکھیں پٹپٹاتے ہوے بی جان کے سامنے آتے بولا
جس پر وہاں کھڑے سب لوگوں کا قہقہہ گونجا ۔۔۔۔
مائرہ شرمانے کی بھونڈی ایکٹنگ کرتے وہاں سے چلی گئ جب کہ سائرہ بیگم مسکرائیں ۔۔۔
$$$$$
سائشہ تم پریشان کیوں ہو ؟
فریال نے اس کو اس کے کمرے میں اداس بیٹھے دیکھ کر سوال کیا
مجھے شرمندگی ہو رہی ہے میری وجہ سے آج شہریار اپنے والدین کےسامنے کھڑے ہو گئے ہیں ۔۔۔۔
وہ کہتے سر جھکا گئ ۔۔۔۔
ارے تم میری بات سنو ۔۔۔ فریال اس کو کہتے اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی ۔۔۔۔
پگلی تمہیں تو اس کا شکر گزار ہونا چاہیے جو تمہاری خاطر آواز اٹھا رہا ہے جس نے آج تک اپنے حق کے لیے بھی آواز نہیں اٹھائی ۔۔۔
جو اپںےساتھ ہوتی نا انصافیوں کو برداشت کرتا رہا مگر تم اس کے لیے بے تحاشہ خاص ہو جس کے لیے آج اس نے آواز اٹھائی ۔۔۔۔۔
فریال نے دھیمے لہجے میں کہا جس پر وہ مسکرائی ۔۔۔۔
ہاں میں جب ان کی محبت دیکھتی ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے اس دنیا میں کچھ ناممکن نہیں ہے
میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا اس قدر حسین ہونے کے باوجود وہ شخص مجھ سے بے پناہ محبت کرے گا ۔۔۔۔
Episode 2
season 2
✨👀🤭❤️🍁
عشق گِیرِیاں 🍁🍁
ازقلم رمی چودھری 👀✨🍁
وہ جتنی عزت اور محبت مجھے دیتے ہیں میری دعا ہے ہر لڑکی کی زندگی میں اتنی محبت دینے والا شخص ہو ۔۔۔۔ جو اس کی عزت میں کبھی کمی نا آنے دے
سائشہ مسکرا بولی
اہمم۔۔ اہمم۔۔۔۔ اب آپ دونوں بس اپنے شوہروں کے لیے ہی ایسی میٹھی میٹھی باتیں کرتی رہیں گی یا میری بیوی کو بھی لے کر آئیں گی تا کہ وہ بھی اس شاندار گفتگو میں حصہ لے ۔۔۔۔۔۔
دروازے سے جھانکتے شایان نے شوخی بھرے لہجے میں کہا
نا بھئ تمہاری بیوی ہمیں منہ نہیں لگائے گی۔ ۔۔ فریال نے آنکھیں گھما کر کہا
ہیں ہیں کیوں بھئ کیوں ؟ وہ دھڑام سے اندر آتے بولا ۔۔۔۔
اس کی پھرتیاں دیکھ کر سائشہ مسکرای
وہ اس لیے دیور جی کہ آپ کی بیوی ضرور مائرہ بنے گی ۔۔۔ فریال نے مسکرا کر کہا
استغفرُاللہ ۔۔۔ بھابھی آپ تو بہنوں جیسی ہیں میری اور بہنیں بھائیوں کو بد دعائیں تو نہیں دیتیں ۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا۔۔۔۔
کیا مطلب ؟ سائشہ سوالیہ ہوی ۔۔۔۔
مطلب لڑکی آپ لوگ خود ڈھونڈیں گے میرے لیے ۔۔۔۔۔
شایان صوفے پر بیٹھتے بولا
اچھا ۔۔۔۔ میری نظر میں ایک لڑکی ہے ویسے ۔۔۔ فریال نے شرارت سے چمکتی آنکھوں سے کہا
شایان کی آنکھیں چمکیں ۔۔۔
اچھا کون ہے وہ ؟
ہاں وہ میری پھپھو کی بیٹی کی چچی کی بیٹی کی دوست کی بڑی بہن ہے ۔۔۔
ارے بھابھی اتنی دور نہیں جائیں یار ۔۔۔۔
شایان منہ پھلائے بولا
اچھا تھوڑا قریب آتے ہیں ۔۔۔۔
فریال پھر سوچ میں پڑی ۔۔۔۔۔
ہاں سوچیں ۔۔۔ شایان بھی بولا ۔۔۔
سائشہ شایان کی چمکتی آنکھوں میں نظر آنے والے عکس کو پہچان گئ تھی مگر وہ ہلکا سا مسکرای
میری پھپھو کی بیٹی کی دوست کی چھوٹی بہن بہت خوبصورت ہے ۔۔۔۔
فریال پھر سے بولی ۔۔۔۔
اففف بھابھی آپ کی اتنی دور کی سوچ کیوں ہے آپ کی پھپھو کی بیٹی کیوں نہیں ؟
وہ جلدی جلدی میں بول گیا مگر پھر زبان دانتوں تلے دی ۔۔۔۔
انہہہ وہ تو منگنی شدہ ہے ڈفر ۔۔۔ فریال اسے مسکرا کر ٹوکتے بولی
جب کہ دوسری طرف مسکراتے چہرے پر کسی نے مکسراہٹ جیسے کسی نے بے دردی سے چھینی تھی ۔۔۔
ایک لمبی خاموشی کا راج ہو گیا ۔۔ کان جیسے سن ہو گئے تھے مزید کچھ سننے کی صلاحیت کھو بیٹھے تھے
جب کہ مسکراہٹ تو ایسے غائب ہوی تھی جیسے وہاں کبھی اس کا تعلق تھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔
ارے کہاں کھو گئے ۔۔۔ فریال اسکی خاموشی پر پریشان ہوی ۔۔۔۔
کک کیا مطلب ؟
شایان نے بامشکل گلا کھنگالا کر کہا
کس کی منگنی ؟
شایان نے بامشکل کہا ۔۔۔
وہ جو سمجھ رہا تھا وہ نام وہ نہیں سننا چاہتا تھا
مقدس۔۔۔۔ فریال نے بتایا ۔۔۔ جبکہ دوسری طرف شایان نے آنکھیں زور سے میچ لیں
مقدس کی منگنی کس سے ہوی سائشہ بھی چونک کر بولی
ہاں اسکی منگنی بچپن میں ہی اس کے بابا کے دوست کے بیٹے ساتھ ہوی تھی
اسد نام ہے اسکا ۔۔۔۔۔۔
فریال کی بات پر شایان نے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔۔۔
سائشہ اور فریال باتوں میں مصروف ہو گئ جب کہ شایان کمرے سے نکل گیا
$$$$
رات کے وقت سکینہ بی سو چکی تھیں جب کہ مقدس کو گھبراہٹ ہو رہی تھی اس لیے وہ صحن کے چکر لگا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اب بھی وہ ٹہل ہی رہی تھی کہ اس کسی چیز کی سرسراہٹ محسوس ہوی ۔۔۔۔
یہ آواز کیسی تھی ؟
وہ بڑبڑای ۔۔۔۔۔۔
مگر پھر کچھ نظر نہیں آیا تو واپس سے ٹہلنے لگی ۔۔۔
کچھ دیر بعد ایک دفع سے کچھ عجیب محسوس ہوا ۔۔۔ وہ چلتی ہوی اس طرف آی جہاں سے آواز آی تھی
پھر رکی ۔۔۔۔ اگر کوی چور ہوا تو ؟
ہاں ایک کام کرتی ہوں وہ کہتے واپس پلٹی ۔۔۔
کچھ دیر بعد ہاتھ میں اچھا خاصا موٹا ڈنڈا لے کر وہ اس طرف آئ
اچانک ہی اس کے سامنے ماسک پہنے ایک وجود دھڑام سے کودا ۔۔۔
مقدس نے بنا سوچے سمجھے اس پر ڈنڈوں کی برسات کر دی ۔۔۔۔
اہہہہہہہ ۔۔۔۔ موٹی رکو مار کیوں رہی ہو ؟
شایان نے تڑپ کر کہا
جب کہ مقدس بنا کوی آواز پہچانے بس اپنے ہاتھ صاف کر رہی تھی ۔۔۔
دو دن سے اس نے کسی کو پیٹا نہیں تھا وہ اس کو بنا رکے مارے جا رہی تھی
شایان اپنے بچاؤ کے لیے سر پر ہاتھ رکھے بازوؤں پراس کے ڈنڈے کھا رہا تھا
موٹی ہتھنی رک جاؤ پلیز ۔۔۔۔
شایان اب کہنی پر ڈنڈے لگنے پر اس کو پکڑ کر دیوار سے لگاتے بولا ۔۔۔۔
مقدس نے اپنی موٹی موٹی آنکھیں پٹپٹاتے ہوے اس کو دیکھا ۔۔۔ جو اس کو دیورا سے لگا کر اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر اس پر جھکا تھا
تمہیں میری آواز کی پہچان نہیں ہے کیا؟ وہ اسکی آنکھیں پٹپٹانے پر بولا
اور نظریں اس کی موٹی موٹی گالوں پر پڑیں ۔۔ جو مارنے کے دروان سانس چڑ جانے پر لال ہو رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔
مقدس نے گہری گہری سانسیں لیں ۔۔۔ جو سیدھی شایان کے سینے پر پڑیں ۔۔۔
وہ اسکی موٹی موٹی گالوں کو دیکھ کر مسکرایا ۔۔۔۔
تم کون ہو؟ مقدس کچھ دیر سانس لینے کے بعد بولی ۔۔۔۔
تمہارا عاشق ۔۔۔ شایان اس پر ہنوز جھکے بولا ۔۔۔۔
کیا ؟ مقدس نے اونچی آواز میں کہا
افف موٹی گلے میں سپیکر فٹ کر رکھا ہے ؟ یا گاؤں کی مسجد میں آزان دینے کا کام کرتی ہو ؟
وہ اس کی اونچی آواز پر دبے لہجے میں بولا
تت تم کون ہو ۔۔۔چھوڑو مجھے ۔۔ مقدس اسکے جھکے وجود پر نظریں گھماتے بولی
شایان پیچھے ہوا اور ماسک چہرے سے اتارا ۔۔۔
شایان تم ؟ مقدس نے حیرانگی سے آنکھیں بڑی کرتے کہا ۔۔۔
افف آرام سے دیکھو یوں آنکھیں پھاڑنے کی کیا ضرورت ہے
وہ کہتے جیب سے ٹشو نکال کر اس کے چہرے پر آئے پسینے پر رکھنے لگا پھر رکا ۔۔۔۔
لو پسینہ صاف کر لو
وہ اس کی طرف ٹشو بڑھا کر بولا
مقدس نے ٹشو لے کر پسینہ صاف کیا پھر اس سے بولی
تمہیں اس وقت یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی اور یوں چوروں کی طرح کیوں آئے ہو؟
وہ اس سے سوالیہ ہوی ۔۔۔
ہاں تم نے بتایا نہیں کہ تمہاری منگنی ہوی وی ہے ؟
شایان نے اسکو دیکھتے کہا
جس کے چہرے پر اس بات کو سن کر کوی تاثرات نہیں آئے تھے
ہاں ہوی تھی بچپن میں ہی مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو
تم نے شادی کرنی تھی مجھ سے ؟
وہ مسکرا کر بولی جس پر شایان کا دل چاہا دل وجان سے ہاں کہہ دے مگر پھر کچھ سوچ کر سر نفی میں ہلایا
ارے وہ میں تو اسلیے پوچھ رہا تھا کہ آخر مجھے بھی پتہ چلے کون ہے وہ بدنصیب جس کے متھے تم لگی ہو ۔۔۔۔۔
شایان بولا جب کہ دل میں اس کو اس لڑکے کی قسمت پر رشک آیا جس کے لیے مقدس لکھی گئ تھی مگر ۔۔۔۔۔۔
چھوہارے کے منہ والے مجھے تواس سوکھی لکڑی پر ترس آتا ہے جس کی شادی تم سے ہونی ہے
وہ بھڑک کر بولی ۔۔۔۔
شایان نے سمجھ لیا تھا وہ سوکھی لکڑی مائرہ ہے ۔۔۔
ہاہاہا ۔۔۔ تم بتاؤ کون ہے وہ لڑکا ؟
وہ پھر سے سوالیہ ہوا
مجھے تو حیرت ہے تم رات کے اس وقت مجھ سے میرے منگیتر کا پوچھنے آئے ہو ؟
مقدس نے ہاتھ کمر پر رکھ کر کہا ۔۔
میرے منگیتر مت کہو ۔۔ بس منگیتر تھا وہ ۔۔۔۔
شایان نے جلتے ہوے کہا
تھا کیا مطلب ہے وہ ۔۔۔
مقدس نے اسکی درستگی کی ۔۔۔
اب بتاو بھی وہ رہتا کہاں ہے ؟
شایان بات بدلتے بولا
وہ تو پاکستان میں نہیں رہتا امریکہ ہوتا ہے مگر اب ان دنوں وہ لاہور آیا ہوا ہے ۔۔۔
مقدس نے رخ بدلتے منہ کے زاویے بناتے کہا
جب کہ شایان نے سر ہلایا ۔۔۔۔
ایڈریس ؟
وہ پھر سے بولا
تم کیوں پوچھ رہے ہو ۔۔۔۔ ؟مقدس پلٹ کر بولی ۔۔۔۔
نالج کے لیے بس ۔۔۔ وہ سر کجھاتے بولا
شایان آدھی رات ہو گئ ہے اور تم یہاں اپنا جرنل نالج بڑھانے چل پڑے ہو ۔۔۔
صبح آئے گا تو مل لینا اب جاو ۔۔۔
وہ کہتے جانے لگی ۔۔۔
کیا مطلب وہ صبح ولیمہ پر آئے گا ۔۔۔ شایان نے مٹھیاں بھینچ لیں
ہاں ۔۔۔ مقدس کہتے وہاں سے چلی گئ
اب تم بھی جاؤ۔۔۔ وہ واپس آتے پھر سے بولی ۔۔
ہممم جا رہا ہوں ۔۔شایان کہتے وہاں سے دیورا پھلانگ کر نکل گیا
عجیب سٹکا ہوا انسان ہے یہ ۔۔۔ مقدس بڑبڑای
$$$$$
سائشہ کمرے میں آج شہریار کے آنے پر عجیب دل میں جلنگتر بجتے محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
اففف یہ تو پہلے بھی آتے ہیں پھر مجھے کیا ہو رہا ہے ؟
سائشہ دل ہی دل میں بولی ۔۔۔ جب شہریار اندر آیا ۔۔۔
وہ چلتے ہوے بیڈ پر سائشہ کے پاس بیٹھا ۔۔۔۔
کیا بات ہے آپ کی رنگت کیوں اڑی ہوی ہے ۔۔۔۔
وہ سائشہ کا ہاتھ تھام کر بولا
کیا آپ آج بیڈ پر سوئیں گے ؟ سائشہ نے دھڑلے سے سوال کیا
جس کو سنتے ہی شہریار کا قہقہہ کمرے میں گونجا
ہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ سائشہ آپ تب سے یہ سوچ رہی ہیں ؟
وہ ہستے ہوے بولا
جی ۔۔۔ سائشہ کھسیائ انداز میں بولی
ہاں تو کیا آپ چاہتی ہیں اب بھی میں صوفے پر سوؤں ؟
وہ مسکراہٹ دباتے بولا
نہیں
ہاں ۔۔ ممم میرا مطلب ہے کہ نہیں آپ سو سکتے ہیں بیڈ پر ۔۔۔۔۔
سائشہ کہتے سر جھکا کر بولی ۔۔۔
سائشہ ۔۔۔ شہریار نے اس کا چہرہ انگلی تھوڑی پر رکھتے اوپر کیا
آپ کہیں تو یہ غلام زمین پے سو جائے ۔۔۔ وہ بولا جس پر سائشہ نے سر نفی میں ہلایا نہیں نہیں ۔۔۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا
شہریار اسکی بات سن کر مسکرایا اور اسکے ماتھے کو عقیدت سے چوما
آی لو یو ۔۔۔۔ میری زندگی کی اکلوتی چاہت ۔۔
$$$$$$$
سائیں ۔۔۔ وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا اس اپنی پکار سنتے فریال کو ڈھونڈا
جو بیڈ پر بیٹھی نیل کلر لگا رہی تھی
سکندر اسکے پاس آیا ۔۔۔ ہمم کیا ہوا ؟
وہ اسکے پاس آتے بولا
میرے بال باندھ دیں پلیز ۔۔۔ اسکی نیل کلر ابھی گیلا تھا اس لیے بولی
انہہہ میں تو سکندر اعظم ہوں نا ؟
وہ جان بوجھ کر بیڈ پر لیٹتے بولا
نہیں بلکل نہیں ۔۔ وہ سر گھماتے بولی تاکہ بال چہرے پر سے ہٹ کر پیچھے ہو جائیں ۔۔۔
اچھا کیا ہوں میں ؟ وہ کہنی بیڈ پر ٹکائے سر ہتھیلی پر رکھے بولا
آپ میرے پیارے سے شوہر ہیں پلیز بال باندھ دیں !
وہ مسکے لگاتے بولی ۔۔۔
اہہہہ ۔۔۔۔ کھڑوس دیو ۔۔۔ کنجی آنکھوں والا ۔۔۔ آج پیارا شوہر کیسے بن گیا
وہ کہتے سیدھا ہو کر بیٹھا اور اس کے لمبے بالوں کو سمیٹنے لگا ۔۔۔
وہ دراصل میں نے سوچا کہ اب نصیب میں جو بھی ہے اس پر صبر شکر کر لینا چاہیے نا ۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی ۔۔۔
جس پر سکندر اس کے بالوں کو ڈھیلے ڈھالے جوڑے میں باندھتے اس کے سامنے آتے آی برو چاکا کر دیکھنے لگا
صبر شکر ؟
ہاں آپ کے ساتھ رہنا صبر کا امتحان ہے اب گزرا کرنا پڑے گا شکر کرنا پڑے گا ۔۔ وہ کہتے اسے زبان چڑھانے لگی ۔۔۔۔
تمہارے صبر کی ایسی کی تیسی ۔۔۔
یہ تم اس وقت تیار کیوں ہو رہی ہو؟
دراصل بی جان نے کہا کہ میں نئ نویلی دلہن ہوں اسلیے تیار رہا کروں
تم میرے لیے تیار نہیں ہو رہی ؟
وہ چونک کر سیدھا ہوتا بولا
بلکل نہیں آپ کے لیے کیوں ؟
شوہر ہوں میں تمہارا۔۔۔۔
ہاں جانتی ہوں یاد تو ایسے کروا رہے ہیں جیسے کہیں وزیراعظم ہوں!
اب فریال کا کام نکل چکا تھا تو اب وہ اپنی ٹون میں آتے بولی
جب کہ اس کے لہجے کے بدلنے پر سکندر گھور کر رہ گیا اسے
سردار ہوں میں یہ کافی نہیں ہے کیا؟
ارے آپ کو کیا لگتا ہے آپ سردار ہیں تو میرے لیے کوئ فایدہ مند بات ہے؟
وہ پالش لگے ہاتھوں پر پھونکیں مارتے بولی
ہاں تو ؟ وہ جواباً بولا
کیسا فایدہ ؟
ارے قسمت تو آپ کی اچھی ہے کہ آپ کو میں مل گئ !
وہ اس کی جناب دیکھتے بولی
اور تم خوش قسمت نہیں کہ مجھ سے شادی ہوی ؟
وہ تو مارے حیرت کے اس لڑکی کے بدلتے رنگ دیکھ رہا تھا
بلکل نہیں ۔۔۔ آپ جیسے کھڑوس اکڑو گھمنڈی سے شادی کرنے کا کوی ارادہ نہیں تھا میرا
یہ تو مجھے میرے کرتوتوں کی سز ملی ہے
کرتوتوں کی سزا ؟ وہ ایک دم سے پورا ہل کر رہ گیا تھا اس لڑکی کے زہن میں واقعی ہی سردار سکندر کا یہ امیج تھا !
ہاں میں مقدس کو نا مکے مارتی تھی اس کی موٹی موٹی گالوں کو کھینچتی تھی اور اسکی چڑھاتی تھی
اب اتنے بڑے کام کرنے پر یہی کنجی آنکھوں والا ملنا تھا نا مجھے !
وہ ایک بار پھر اسے حیرت میں ڈالے بیڈ سے اتری اور پاؤں میں جوتے اڑیسے
تم اپنے شوہر کے بارے میں یہ رائے رکھتی ہو؟
وہ بھی جلدی سے بیڈ سے اٹھتا اس کے سامنے کھڑے ہوتے بولا
توبہ کریں سائیں یہ تو میں نے کنجی آنکھوں والے اس باگڑبلے کی خصوصیات بیان کی ہیں جو مجھے جب ملتا تھا اپنا رعب جھاڑتا تھا
وہ معصوم چہرہ بنائے بولی اور سردار نے دانت کچکچاے
لڑکی تم اس طرح کی حرکتیں کر کے مجھے مجبور کر رہی ہو کہ میں تمہارے ساتھ سخت رویہ رکھوں !
وہ جلال میں آتے بولا
جب کہ سامنے کھڑی فریال نے بات ہوا میں جھونکی اور ایک قدم اسکی جانب لے کے ایڑھیوں کے بل اوپر ہوتے اس کے سامنے اپنا چہرہ لاتی بولی
اور کیا سردار سکندر اپنی بیوی کے ساتھ سخت رویہ رکھ پائے گا ؟
وہ آنکھوں میں ان دیکھا غرور لیے بولی جب کہ لہجے میں بھی غرور چھلکتا تھا جیسے اسے یقین ہو کہ وہ اس سے سخت رویہ نہیں رکھ پائے گا ۔۔۔۔۔
اب یہ تم زیاتی کر رہی ہو۔۔۔۔ سردار اسکا چہرہ اپنے قریب پا کر نظریں پھیرتا بولا
جب کہ اسکی ادا پر فریال مسکرای ۔۔
اور پھر پیچھے ہوتی کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔
اس کے نکلتے ہی سردار سکندر نے گہرا سانس خارج کیا
افففف ۔۔۔۔ یہ لڑکی مجھے اپنا دیوانہ کرنے پر تلی ہے ۔۔۔۔۔ اب اتنے مان سے کہے گی تو کیسے سردار سکندر اپنی محبوب بیوی پر غصہ کرے گا ۔۔۔۔
وہ کہتا ہوا کہیں سے وہ جلالی سردار سکندر نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔
🍁🍁🍁🍁🍁🍁
سائشہ اور فریال بیٹا تم دونوں تیار ہو گئ ہو؟
بی جان نے کمرے میں داخل ہوتے کہا
جب کہ سامنے ولیمے کی دلہنیں بنی سائشہ اور فریال اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ تیار تھیں
فریال نے سکائے بلو کلر کی کامدرا
میکسی پہنی تھی جو اسکی گوری رنگت پر کافی جچ رہی تھی
لمبے بال جو کمر سے نیچے کو جاتے تھے ان کو آگے سے مانگ نکال کر بالوں کی لٹیں چہرے پر جھولتی بہت خوبصورت لگ رہی تھیں ۔۔۔۔۔
ہلکا میک اپ اس کے خوبصورت نقوش کو ابھارنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈال رہا تھا
دپٹے کو ایک سیلقے سے سر پر ڈالے کچھ حصہ آگے کو پھیلائے وہ آج بے تحاشہ حسین لگ رہی تھی
کچھ اس کے چہرے پر رونق تھی کہ وہ سب کی نظروں کا مرکز بن رہی تھی
دوسری جانب ساتھ کی کرسی پر سائشہ بیٹھی تھی آج اس کو پارلر والی نے بہت خوبصورت بنا ڈال تھا نقوش تو اس کے پہلے ہی پرکشش تھے باقی کام پارلر والی نے اس کو مزید ابھار کر بہت خوبصورت تیار کیا تھا
وہ اس وقت ہلکے گلابی رنگ کی کامدرا میکسی پہنے کھڑی تھی اس کے لمبے بال بھی یوں ہی چہرے پر اٹکلیاں کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
وہ آج پہلی دفع اس طرح تیار ہوی تھی اس نے خود کو شیشے میں دیکھا تو مسکرای۔۔۔۔
کیا واقعی یہ میں ہوں ؟ وہ خود کو دیکھتے بولی ۔۔
جی محترمہ آپ ہی ہیں ۔۔۔ بس اب آپ خود کو تیار رکھا کریں کیونکہ آپ شادی شدہ ہیں ۔۔۔!
سائشہ کو جواب دیتی فریال خود کو دیکھ کر اپنی نظر خود اتارنے لگی ۔۔۔
اچھا مگر آپ یہ کیا کر رہی ہیں؟ سائشہ اس کو اپنی نظر اتارتے ہاتھ گھما کر ان کو سر پر لے جاتے دیکھ کر بولی
ارے آپ کو نہیں پتہ ۔۔۔۔ سائیں کو ویسے ہی میں بہت پیاری لگتی ہوں اور آج مجھے ایسے دیکھ کر تو وہ ہوش ہی گنوا بیٹھیں گے ۔۔۔ وہ دانت نکالتے ہوے بولی جس پر سائشہ مسکرا کر رہ گئ ۔۔۔۔۔
بی جان جب اندر داخل ہوئیں تو ان کو دیکھ کر بے ساختہ ماشاءاللہ بولیں ۔۔۔
آج تو میری بہویں آسمان کے چمکتے ستاروں کی طرح زور و شور سے دمک رہی ہیں ۔۔۔ وہ کہتے فریال اور سائشہ کو گلے لگاتی ان کے ماتھے کو چومتی
الگ ہوئیں ۔۔۔۔
بی جان چاند سے کیوں نہیں ملایا؟ فریال مسکرا کر شرارت سے بولی ۔۔۔
چاند میں داغ ہوتا ہے اور تم دونوں کے چہرے اور کردار بے داغ ہیں میری بچیوں ۔۔۔ وہ کہتے مسکرایں ۔۔۔۔
بی جان کی بات پر فریال اورسائشہ خوبصورتی سے مسکرایں ۔۔۔
اللہ کا پکا وعدہ فری آج تو حور لگ رہی ہو !
دروازے سے اندر جھانکتی مقدس جوش سے بولتی اندر آئ اور فریال سے لپٹ گئ
اچھا اچھا بس کرو میرا میک اپ خراب کر دو گی ۔۔۔ فریال نے مسکرا کر کہا
فری کی بچی تم اتنی بدل گئ ہو ۔۔۔ مقدس نا دیدہ آنسو صاف کرتی سائشہ سے مسکرا کر گلے لگی
ہاں تو اب مجھ پر میرے شوہر کا بھی تو کوی اثر ہو گا ۔۔۔جیسے وہ کھڑوس ویسی میں بھی ۔۔۔فریال نے شرارت سے کہا جس پر وہاں سب ہسنے لگے
🍁🍁🍁🍁🍁
یہ میری چھنو کو کیا ہوا ہے ؟ شایان سٹیج پر سردار سکندر کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔ جب کہ وہاں پر سائیڈ پر رکھی کرسی پر سفید کرتا شلوار پہنے بے تحاشہ ہینڈصم لگتے شایان کے چہرے پر کافی عجیب تاثرات تھے ۔۔۔۔۔۔
شایان نے چہرے پر مسلسل سختی دیکھ کر شہریار شرارت سے گویا ہوا
جس پر شایان نے ناراضگی سے اسے دیکھا
بھائ پلیز میرا موڈ خراب ہے !
وہ کہتے آئے ہوے مہمانوں کو دیکھنے لگا
کیا ہوا میرے بچے کو ؟ اب کی بار سکندر نے سوال کیا
وہ کہاں دیکھ سکتا تھا شایان یا شہریار کو پریشان!
بڈی آپ سے کچھ مانگوں تو آپ مجھے دیں گے ؟
وہ سکںدر سے متوجہ ہوتے بولا
پہلے کب منع کیا؟
سکندر نے محبت سے کہا جب کہ شہریار بھی سوالیہ دیکھ رہا تھا
آخر پہلے کب اسے اجازت مانگنی پڑی تھی
میں آج بائیک ریس میں جانا چاہتا ہوں !
اسکا جملہ منہ سے نکلا
کہ شہریار اور سکندر کے چہرے پر سخت تاثرات ایک دم سے ابھرے تھے
چچی سائیں نے کچھ کہا ہے ؟ سکندر نے سختی سے کہا کیونکہ وہ جانتا تھا بائیک ریس میں جانے کی ضد وہ صرف ڈپریشن میں ہونے کی وجہ سے کرتا تھا
نہیں مجھے کچھ اور مسلہ ہے خیر آپ لوگ موڈ خراب مت کریں میں ٹھیک ہوں !
وہ کہتے بنا ان دونوں کی سنے وہاں سے اٹھتا چلا گیا
وہ جیسے ہی آیا سامنے اسے برہان آتا نظر آیا۔۔۔۔
کیسے ہو بے غیرت آدمی ! شایان نے مسکرا کر کہا جب کہ اسکی بات پر برہان سمجھ گیا کہ وہ اسکی حرکت سے واقف ہو چکا تھا
زبان سنبھال کر بات کرو ! وہ شایان سے جواباً دانت پیس کر بولا
ارے تمہیں شرم آنی چاہیے اپنی کزن کو تماشہ لگوانا چاہتے تھے ! ایسے آدمیوں کو بے غیرت کہتے ہیں جو اپنی عورتوں کا تماشہ بنا کر دشمنی نبھاتے ہیں ۔۔۔ مرد ہوتے تو ایسے حرکت نہیں کرتے نامردوں والی
شایان نے اگلے ہی پل اس کی نامی گرامی عزت کی واٹ لگا دی جب کہ وہ محض آگے پیچھے دیکھنے لگا
ابھی بڈی زرا شادی میں مصروف ہیں تمہیں تمہاری حرکت پر سزا ضرور دیں گے
جانتے ہو نا وہ کتنے انصاف پسند ہیں !
اور پھر تم نے تو ہاتھ بھی ان کی عزت پر ڈالا ہے بیٹا تمہاری اوپر کی ٹکٹ پکی ۔۔۔۔
شایان اسکی نظریں آگے پیچھے دیکھنے پر بولا
اور جانے لگا جب برہان کے پاس کوی لڑکا آیا۔۔۔ لمبا قد آور چوڑا سینا خوبصورت نقوش اس لڑکے نے بلو کلر کا تھری پیس پہنا ہوا تھا
برہان بھائ مقدس کہاں ہے؟
شایان جو اس آتے ہوے آدمی کو اگنور کرکے جانے لگا تھا اسکے منہ سے نکلنے والے جملے پر ٹھٹک کر رکا
اسد وہ اس وقت اماں کے ساتھ ہو گی اور تم کیوں بار بار پوچھ رہے ہو ہمارے ہاں لڑکیاں منگیتروں سے نہیں ملتیں ۔۔۔۔
برہان نے سختی سے کہا
شاید وہ اپنی حرکت بھول گیا تھاکہ خود اسکی نظر ایک منگنی شدہ لڑکی پر تھی ۔۔۔۔ نکاح والے دن سے غائب کرنا کہاں کی غیرت تھی ؟
مگر ہاں سچ ہے ہمارے ہاں صرف غیرت دوسروں پر پابندی لگانے تک کی رہ گئ ہے ۔۔۔۔
جو دوسروں کے بیٹیوں کی عزت کرنا نہیں جانتا وہ خاک اپنی بہن کی عزت کرے گا
شایان نے اسد نامی لڑکے کو دیکھا
۔۔۔۔مٹھیاں بھینچ لیں !
او کمان یہ وہ دور نہیں ہے اور اپ جانتے ہیں مجھے اس سے ضروری بات کرنی ہے اس لیے ٹیل می وہ کہاں ہے اس وقت ۔۔۔اسد کے لہجے میں کافی اکتاہٹ تھی جو شایان نے واضح محسوس کی تھی ۔۔۔
🍁🍁🍁🍁
دلہنوں کو سٹیج کی جانب لایا گیا مگر وہاں پر دونوں دلہے موجود نہیں تھے !
جب کہ سائشہ کو دیکھ کر سلمہ بیگم کا دل چاہا اسکے بال نوچ لیں جو آج ان کے بیٹے کی بیوی کی حیثیت سے سب سے ملوای جانی تھی
جب کہ وہاں ایک کے بجائے دو دلہنیں دیکھ کر سب نے سوال کرنے شروع کر دیے ۔۔۔۔
اور وہاں نا ہی سکندر تھا نا ہی شہریار ۔۔۔۔شایان تو پہلے ہی غائب تھا
افف یہ لڑکے کہاں چلے گئے ؟ بی جان نے پریشانی سے کہا
فریال نے بھی منہ بنا کر اپنا دلہا ڈھونڈا مگر وہ راج کمار نا جانے کونسی راج کماری کے پاس لے گئے تھے ۔۔۔۔
وہاں کھڑے رکھنا تو مناسب نہیں تھا اس لیے دلہنوں کو سٹیج پر بٹھا دیا گیا
🍁🍁🍁
شایان !
سکندر اور شہریار کی اکھٹی آواز پر وہ حیرت سے پلٹا تھا وہ اس وقت بائیں ریس کے لیے شہر آیا تھا
اس بات سے انجان کے اسے پریشان دیکھ کر بھلا کیسے اس کے دونوں بھائ اپنا ولیمہ کرتے ۔۔۔
آپ لوگ یہاں ؟
وہ شرمندگی سے سر جھکا کر بولا
چلو ہمارے ساتھ ! سکندر نے سخت کٹھور لہجہ رکھے کہا
اور کچھ ہی دیر کے بعد وہ لوگ ایک ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے تھے
اب بتاؤ شانی کیا مسلہ ہے کیوں پریشان ہو؟
شہریار نے پیار سے کہا
انہہہ اس کے ساتھ نرمی کی ضرورت نہیں ہے یہ تو ہمارا باپ ہے اپنے مسلے خود حل کرلے گا موت کے منہ میں جا کر یہ مسائل کا حل ڈھونڈے گا!
سکندر نے سخت برفیلے لہجے میں کہا جس پر شایان نے سر جھکا دیا
دراصل بات آپ لوگوں کو بتانے سے مسلئہ بگڑ سکتا ہے اس لیے نہیں بتائ ۔۔۔
ایسی کیا بات ہے؟ شہریار کے سوال پر اس نے مقدس کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اس کی منگنی کا بتایا
شایان یہ کیا بدتمیزی ہے ! تم کسی کی منگ کو کیسے پسند کر سکتے ہو ؟
سکندر نے سختی سے کہا
بڈی مجھے نہیں پتہ تھا کہ مقدس کی منگنی ہو چکی ہے پر بڈی میں اس کو بہت چاہتا ہوں وہ کسی اور کی ہو جائے گی یہ بہت تکلیف دہ احساس ہے ۔۔۔۔اگلے ہی لمحے شایان نے بھیگے لہجے سے کہا
تم رو رہے ہو؟ شہریار نے اسکی آنکھوں کے کنارے بھیگنے پر کہا
بھائ ۔۔۔۔بڈی ۔۔۔۔آپ دونوں یہ بات اپنے تک ایک راز بنا کر رکھیں
کیا بکواس کے راز رکھیں ۔۔۔اببی چلتے ہیں اور جا کر سکینہ بی سے بات کرتے ہیں اور مقدس کو تمہاری پسند کا بھی بتاتے ہیں ۔۔۔ شہریار نے کہا
بلکل نہیں ! سکندر نے دو ٹوک کہا
غلطی اسکی ہے کہ کسی کی منگ کو پسند کیا ۔۔۔ میری جان بی شایان پر وار دینے کو تیار ہوں مگر اسبات کے لیے تیار نہیں کہ مقدس کا تماشہ پورے گاؤں میں لگے
سکندر کی بات پر شہریار بھی خاموشی اختیار کر گیا
میں اسکی عزت پر کوی آنچ نہیں آنے دوں گا
۔۔میں جانتا ہوں اپنی پاور کا استعمال کر سکتا ہوں مگر اس کو قید نہیں کر سکتا
نا ہی اس کا تماشہ بناؤں گا
شایان بھی کہتے وہاں سے اٹھتا چلا گیا
شہریار بھی اٹھ کراس کے پیچھے گیا
جبکہ سکندر نے گہرا سانس لیا
یا اللہ مجھے انصاف کرنے کی استطاعت عطا فرما اپنے بھای کی خوشی کےلیےکسی کی بیٹی کو رسوا نا کروں !
وہ آنکھیں بند کرتا بولا
وہ بھی تکلیف میں تھا کہ آج پہلی دفع اسنے شایان کو روتے دیکھا تھا مگر وہ کسی اور کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا
🍁🍁🍁
سائشہ !
فریال نے پاس بیٹھی سائشہ کو پکارا
جی؟ وہ جھجھک کر بولی کیونکہ سب کی نظریں سٹیج پر بیٹھی دلہنوں پر تھیں
یار کہیں سائیں نے کوی اور شادی تو نہیں کر رکھی ؟
کیا بول رہی ہیں آپ ؟ سائشہ نے حیرت سے آنکھیں پھاڑتے ہوے اسے دیکھا
ارے یار اب تم خود سوچو اپنی ولیمے کی دلہن کو چھوڑ کر وہ کونسے نیک کام میں مصروف ہوں گے ؟
فریال کو تو مانو سچ میں پریشانی ہونے لگی کہ کہیں اس کے شوہر کی کوی اور بیوی تو نہیں ہے !
آپ بھی نا اتنا فضول مت سوچیں اور وہ آپ سے پیار کرتے ہیں دوسری شادی کیوں کریں گے ؟
سائشہ جوابا بولی
ارے لڑکی تمہارا شوہر بھی غائب ہے ! اب کی بار فریال بولی جس پر سائشہ نے سر پکڑ لیا
آپ اپنے شوہر کے بارے میں سوچیں مجھے مت پریشان کریں ۔۔۔ وہ کہتے اب ایںٹرنس کو دیکھنے لگی جہاں سے کوی بھی آتا نظر نہیں آیا ۔۔۔۔
مقدس ۔۔۔۔وہ فریال اور سائشہ کو دیکھتے ان کی طرف بڑھنے لگی جب اپنے نام کی پکار پر پلٹی ۔۔۔۔
پیچھے اسد کو کھڑے دیکھ کر اس نے آنکھیں بند کی پھر کھولتے گہر سانس لے کر اس کوسوالیہ دیکھنے لگی
مجھے تم سے بات کرنی ہے چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔ وہ کہتے بنا رکے اور بنا دوسری نظر مقدس پر ڈالےوہ پلٹ کر باہر کی طرف بڑھا
مقدس کا دل چاہا اس کو مار مار کر کچومر بنا دے جو اس کو ایسے نکھرے دکھاتا تھا جیسے وہ اسکی ملازمہ ہو
وہ اسکے پیچھے جانا نہیں چاہتی تھی مگر پھر یہاں کو تماشہ نا بنے اس خوف سے وہ اسکے پیچھے گئ
مقدس جیسے ہی باہر آئ ۔۔۔اسے درخت کے پاس اسد کھڑا نظر آیا ۔۔۔
وہ اسکے پاس آئ ۔۔۔ مقدس نے اس وقت ہلکے سبز رنگ کی کرتی کے ساتھ گہرے سبز رنگ کا شرارا پہن رکھا تھا
جو اسکی گوری رنگت پر کافی جچ رہا تھا بالوں کو خوبصورت ہیر سٹائل میں ڈھالے ہوے وہ اپنی موٹی موٹی سرخ و سفید گالوں کے ساتھ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
جب کہ اس نے اسکو آتے دیکھ کر طائرانہ نظر اس کے پورے وجود پر ڈالی
مقدس اس کے پاس آئ ۔۔۔
ہمم۔ کہو !
وہ لیے دئیے انداز میں بولی اگر وہ اسے پسند نہیں کرتا تو وہ کونسا اس پر مرتی تھی ۔۔۔ وہ تو خود اس کو زہر سے بدتر سمجھتی تھی
انداز بدلو مجھے اس انداز میں بات کرںےوالے لوگ ںا پسند ہیں ! وہ اس پر سے نظر ہٹاتا بولا
تو میں کونسا پسند ہوں ! مقدس نے نظریں گھما کر کہا اور دور درخت پر نظریں جما لیں ۔۔۔۔
جیسے وہ اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتی
تم خوبصورت تو ہو مگر تمہارا یہ موٹاپا مجھے قبول نہیں ہے کہا بھی تھا واک کرنا شروع کر دو تاکہ کچھ بہتر فیگر ہو سکیں تمہارے
اسد نے فورا اسکی ذاتیات پر وار کیا مقدس زلت سے تکلیف محسوس کرتی دانت پیس گئ !
اسد اسکی طرف سے خاموشی پر کچھ ڈھیلے اعصاب کرتا پھر سے بولا
دیکھو مقدس تم بہت پیاری ہو مگر تم خود کو کچھ بہتر کرنے کی کوشش کرو ورنہ یہ گزرا مشکل ہے
اب کی بار لہجہ قدرے بہتر تھا مگر سامنے کھڑی مقدس کو اس کے اب کے لفظوں سے کوی فرق نہیں پڑا تھا
تم انکار کر دو شادی سے !
مقدس نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کہا
کیا بکواس ہے تم میری منگ ہو ! وہ اسکی بات پر چلاتے ہوے بولا تھا
منگ ہوں ! تو جیسی ہوں قبول کرو اور نہیں قبول تو رشتہ توڑ سکتے ہو میری طرف سے کھلی اجازت ہے
آج وہ اپنی زات پر ہر دفع کی ہونے والی توہین پر سختی سے بولی تھی
اسد خاموش ہو گیا ۔۔۔۔۔
کچھ لمحے وہاں بس ہوا کی آواز سرکتے پتوں پر محسوس کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
جب گاڑی حویلی کے اندر داخل ہوی
مقدس نے پلٹ کر دیکھا جہاں گاڑی سے اترتے شایان کی نظر اس پر پڑی تو وہ اسے ہی دیکھتا رہ گیا
آنکھیں جیسے برسوں سے اس منظر کے لیے تڑپ رہی تھیں ۔۔۔۔
مگر وہ اسکے پیچھے کھڑے اسد کو دیکھ کر نظریں پھیر گیا
جب کہ مقدس جو خود بھی اس کو دیکھ رہی تھی اس نے اسکی نظریں پھیرنے پر بھیگی آنکھیں بند کیں
وہ جلدی سے وہاں سے چلتی ہوی اندر بڑھ گئ
شایان نے جاتے ہوے وجود کو دیکھا جو اسے اب آپنی چلتی ہوی سانسوں کی وجہ معلوم ہورہی تھی
ان کہی محبت تھی ناجانے کیا ہونا تھا !🍁
وہ شہریار اور سکندر کو اپنی طرف دیکھتا پا کر ان کی طرف بڑھا اور ان کی ہمراہی میں وہ اندر کی جانب بڑھا
دو نظروں نے دور تک شایان کی پشت کو دیکھا 👀
وہ لوگ جیسے ہی اندر بڑھے سامنے سٹیج پر آپنی بیویوں کو دیکھ کر مسکرائے
جواباً فریال اور سائشہ نے ہلکی سی مسکراہٹ بھی ان کی طرف نا اچھالی
جس پر ساتھ چلتے شایان نے کھسیانی ہنسی روکتے بڈی اور بھائ کو دیکھا
یہاں تو معملات خراب ہوتے نظر آتے ہیں آپ لوگ جا کر حاضری لگائیں میں بی جان کے پاس جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔
شایان ہاتھ سلنڈر کرتا کہتا جانے لگا جب اس کو کالر سے شہریار نے پکڑ لیا
چل بیٹا تو صفائ دے گا ہماری غیر موجودگی کی ۔۔۔ تمہاری وجہ سے ہماری زوجائیں ناراض ہیں ۔۔۔
شہریار کی بات پر شایان نے فورا سر نفی میں ہلایا
مجھے ان کے ارادے نیک نہیں لگ رہے ۔۔۔ کیوں مجھے ان کے ہاتھوں زبح کروانا ہے کہ ہمارے دلہوں کو لے کر میں کہاں گیا تھا ۔۔۔
نا نا بابا نا ۔۔۔۔ میں تو کہیں نہیں جانے والا ۔۔ آپ لوگوں کی جنگ ہے خود لڑیں ۔۔۔میری پشت پناہی سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ۔۔۔۔
شایان کی بات پر سکندر نے بھی اس کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔
اسکی تو خیر ہے میری شیرنی زیادہ غصے میں ہے میری صفائ سے کوی کام نہیں چلنے والا تم ساتھ چلو ۔۔۔۔
سکندر کی بات پر شہریار نے بھی سر اثبات میں ہلایا جب کہ شایان نے زور دار قہقہہ لگایا
بڈی آپ بھابھی سے ڑرتے ہیں ؟ وہ ہستے ہوے بولا
نہیں اسکی ناراضگی سے ڑر لگتا ہے ۔۔۔۔ سکندر نے محبت پاش نظروں سے سامنے سٹیج پر بیٹھی اپنی محبوب بیوی کو دیکھتے کہا
اووے ہوے اتنی محبت سے مجھے تو نا دیکھا آپ نے کبھی !
شایان نے نادیدہ آنسو صاف کرتے کہا
جس پر سکندر نے اسکی جانب رخ کرتے اسے گھورا ۔۔۔۔
ارے چھوڑو اس کو میری چھنو تم بس چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔
شہریار نے اسکا ہاتھ کھینچ کر سٹیج کی جانب لے جاتے کہا جس کے ساتھ ہی سکندر بھی اس طرف بڑھا
تم تینوں کہاں تھے ؟ ابھی وہ اپنی منزل کو پہنچتے کہ سامنے بی جان کھڑی کسی تھانے دارنی کی طرح سوالیہ ہوئیں
وہ بی جان ۔۔۔ شہریار کچھ کہتا پھر رک گیا اور شایان کو دیکھا ۔۔۔۔
بی جان دراصل ۔۔۔ سکندر بھی بول کر چپ ہوتا شایان کی طرف پلٹا ۔۔
بی جان میں بس ان کو لینے گیا تھا زرا خیال نہیں کہ ولیمے کی دلہنیں انتظار کر رہی ہیں تو میں بس ان کو لینے چلا گیا ۔۔۔
شایان نے جلدی سے کہتے وہاں سے دوڑ لگائ
جب کہ شہریار اور سکندر کا منہ کھلا رہ گیا
تم دونوں کو بعد میں پوچھتی ہوں میں ۔۔۔بی جان کہتے ہی وہاں سے ہٹ گئ جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے ۔۔۔
پھر سر جھٹک کر سٹیج کی سیڑھیاں چڑھتے وہ لوگ اوپر آئے ۔۔۔
جہاں آتے ہی ان کو اپنی بیویوں کو خود سے انجان بنتے دیکھ کر حیرانگی ہوی
سائشہ آپ میری طرف کیوں نہیں دیکھ رہیں ۔۔۔ شہریار مہمانوں کا خیال کرتا ساتھ بیٹھتے بولا
جس کا جواب سائشہ نے اپنے ناخنوں پر لگی پالش کو دیکھتے اگنور کر دیا
سائشہ ! شہریار نے چونک کر اس کا یہ انداز دیکھا ۔۔
جی ؟ وہ اسے دیکھتے آئ برو آچکا کر بولی کہ سامنےبیٹھے شہریار کے منہ سے کچھ نکل ہی نا سکا
کک کچھ نہیں وہ کہتے سر جھکا کر بیٹھ گیا ۔۔۔
سائشہ نے کچھ کہنا چاہا جب اسی طرف دیکھتی فریال نے آنکھیں نکل کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا
جس پر وہ خاموش ہوگئ
🍁🍁
سکندر سٹیج پر چڑھتا فریال کی طرف بڑھا
فریال وہ ۔۔۔
اس نے کچھ کہنا چاہا جب وہ اسے مکمل اگنور کرتی مہمانوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی
سکندر ساتھ بیٹھا ۔۔۔ وہ دراصل مجھے کچھ کام تھا اسلیے میں ا نہیں سکا دیر کرنے کے لیے ۔۔۔
ابھی وہ مزید کچھ کہتا جب اسنے فریال کے چہرے کے تاثرات کو عجیب نظروں سے دیکھا
جو ایسے محسوس کروا رہی تھی کہ جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں ہو
سکندر نے فریال کا ہاتھ پکڑا اور اپنی طرف متوجہ کیا
جس نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر کان سے بلو تھتھ اتاری
کیا ہوا کچھ کہا آپ نے ؟ وہ انجان بنتے بولی اور چہرے پر معصومیت سجائے بولی
جس کو دیکھ کر سکندر نے مشکوک آنکھوں سے اسے دیکھا
میں جب سے بول رہا ہوں تم نے سنا ہی نہیں ۔۔۔ وہ اس کو دیکھتے بولا
اور میں کب سے یہاں اکیلی بیٹھی ہوں آپ کو احساس تھا؟
وہ بھی جواباً آی برو آچکا کر بولی
ہاں تو مصروف تھا ۔۔۔اس نے جیسے بار ختم کرنی چاہی
جواباً فریال نے کچھ نہیں کہا تو سکندر کو مزید حیرت ہوی جو خاموش ہو کر بیٹھ گئ
یہ چپ کیسے ہو گئ ؟ وہ بڑبڑایا ۔۔۔
🍁🍁
شایان وہاں سے پلٹتا ہوا مسکراتا ہوا بھاگتا پیچھے آیا
ساڑھی میں الجھتی مائرہ کا زور دار ٹکراؤ شایان سے ہوا۔۔۔۔
شایان نے جلدی سے اسے تھام لیا
جب کہ وہاں دور کھڑی مقدس کی نظر اس منظر پر پڑی تو اس نے آنکھیں جھپکائیں اور پھر آنکھیں کھول کر حیرت سے دیکھا
یار آرام سے چلو نا ۔۔۔چوٹ تو نہیں لگی ؟
شایان اسے سیدھا کرتا بولا
جب کہ مائرہ بھی شرمندگی سے سر ہلاتی اپنی ساڑھی ٹھیک کرنے لگی
اس نے بلو کلر کی خوبصورت بہت نایاب ساڑھی پہن ہوی تھی
اس طرف مقدس آئ ۔۔۔
اگر بہن چلنے نہیں ہو رہا تو پہنی کیوں تھی ؟
وہ مائرہ سے بولی
جبکہ مائرہ کا چہرہ شرمندگی سے لال ہوا
مقدس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی
شایان نے مقدس کو قریب سے دیکھا جو بہت خوبصورت لگ رہی تھی
اور یوں مسکراتی بہت خوبصورت لگ رہی تھی
تم کون ہوتی ہو مجھے کچھ کہنے والی ؟ مائرہ شایان کے سامنے بے عزتی ہونے پر بھڑک کر بولی
وہی جس کو تھوڑی دیر پہلے مہمانوں میں موٹاپے پر طنز کر کے آئ ہو ۔۔۔۔۔
جس حق سے تم نے مجھے بے عزت کیا ۔۔۔۔ اسی حق حقوق سے میں نے بھی !
مقدس نے جلانے والی مسکراہٹ اچھالتے کہا
اور پھر آخری نظر شایان کو دیکھتی وہ وہاں سے چلی گئ
اہہہ ۔۔ ۔۔۔ جاہل لڑکی ۔۔۔ مائرہ بڑبڑاتی جلتی کڑھتی وہاں سے سائرہ بیگم کی طرف بڑھ گئ
جب کہ مقدس کو جاتے دیکھ کر شایان نے گہرا سانس لیا
🍁🍁🍁🍁🍁
رات کو سب ہی کافی تھک چکے تھے سب کی تھکاوٹ کو دیکھتے بی جان نے سب کو کمروں میں جانے کا کہا اور ملازم چائے بنا کر سب کے کمروں میں دے رہے ۔۔۔
بہت سے مہمان اپنے گھر چلے گئے چند ایک نزدیک رشتے کے لوگ وہاں حویلی کے کمروں میں آرام کر رہے تھے
چلیں بی جان آپ بھی آرام کر لیں ۔۔۔فریال جو کہ بی جان کے پاس بیٹھی تھی ان کے لاکھ دفع کہنے پر بھی وہ کمرے میں آرام کرنے نہیں گئ تھی اب ان سے بولی
بیٹا تم بھی آرام کرو سارا دن کی تھکی ہوی ہو جاؤ میرا بچہ
آرام کرو ۔۔۔۔ بی جان نے شفقت بھرا ہاتھ اس کے سر پر رکھتے کہا جس پر فریال مسکرای
وہ ان کو سہارا دیتی ان کے کمرے میں لائ اور ان کو بیڈ پر بٹھاتی پلٹی جب بی جان نے روکا
روکو بیٹا بیٹھو مجھے کچھ بات کرنی ہے
بی جان کی بات پر وہ ان کے پاس بیڈ پر بیٹھی
فریال کے ہاتھوں کو تھام کر بی جان بولیں
بیٹا تم جانتی ہو تم اس حویلی کی بڑی بہو ہو ۔۔۔ اور تمہیں بہت سے گھریلو مسائل میں سمجھدار سے کام لینا ہے
ہر طرح سے بس اس گھر کو جوڑ کر رکھنا ہے ۔۔۔
گھر کی بڑی بہو پر ہوتا ہے کہ وہ گھر کو جوڑ کر رکھتی ہے یا انہیں تنکا تنکا کرتی ہے
بی جان کی بات پر فریال نے سر اثبات میں ہلایا
بلکل بی جان میں پوری کوشش کروں گی ۔۔۔
بی جان فریال کی بات پر مسکرائیں
ہاں پر میں سائشہ کو بھی سمجھاؤں گی کیونکہ گھر کو جوڑنا صرف ایک انسان کی زمہ داری نہیں ہے اس کے کندھے پر ساری زمہ داریاں نہیں ڈالتے
بس ہر فرد کو کوشش کرنی چاہیے
بی جان کی بات پر فریال نے سر اثبات میں ہلایا
دیکھو بیٹا ۔۔۔ میں نے کتنی کوشش کی کہ میری بہویں الگ نا ہوں!
میری بڑی بہو بہت صابر تھی اس نے اپنی زندگی میں سب کو بہت مشکل سے جوڑ کر رکھا تھا مگر اس کے جاتے ہی دونوں بہویں الگ ہو گئیں ۔۔۔
پر میرے پوتے ۔۔۔میرا فخر ہیں !
ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنے والے ایک دوسرے کی تکلیف کو محسوس کر ت والے ۔۔
۔
بی جان اپنے پوتوں کو خوشی سے یاد کرتے بھیگی آنکھوں کے کنارے صاف کرنے لگیں
میرا وعدہ ہے بی جان میں کبھی ان تینوں بھائیوں کو الگ نہیں ہونے دوں گی !
ان کو ہمشہ ایک گرہ میں باندھ کر رکھوں گی !
فریال نے مسکرا کر کہا جس پر بی جان مسکرائیں ۔۔۔۔
مجھے یقین ہے کہ تم اور سائشہ ایسا ہی کرو گی !
بی جان نے کہا اور پھر دروازے کو دیکھتے مسکرائیں ۔۔۔
فریال نے پلٹ کر دروازے کو دیکھا
جہان سکندر مسکین شکل بنائے کھڑا تھا ۔۔۔
آپ لوگ نصحیتیں کل کے لیے رکھ لیں رات کافی ہو گئ ہے بی جان آپ سو جائیں ۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا
جس پر بی جان نے فریال کو مسکرا کر جانے کا کہا
فریال بھی اٹھتی بنا سکندر پر نظر ڈالتے وہاں سے نکلتی چلی گئ
سکندر مسکرا کر بی جان کے پاس آیا
میں وعدہ کرتا ہوں بی جان میں آخری سانس تک اپنے رشتوں کو جوڑ کر رکھوں گا چاہے سختی سے چاہے نرمی سے
وہ عزم سے بولا
شاباش میرے شیر
اور ہاں میری بہو کا بھی خیال رکھنا اور اگر کبھی وہ ناراضگی کا اظہار کرے تو ہر وہ کوشش کرنا جس سے اسکی ناراضگی دور ہو
کیونکہ اگر بیوی نیک تو یہ اللہ کی طرف سے آپ کا اس دنیا میں انعام ہوتی ہے
بیوی جب ناراض ہوتی ہے تو شوہر کا اسے محبت سے منانا سنت ہے ۔۔۔۔
بی جان کی بات پر وہ مسکرایا
جی بی جان ۔۔۔۔عہ کہتے پلٹتا لائٹ افف کرتا کمرے سے نکل گیا
اللہ تم سب کو ہدایت کے راستے پر چلنے کی توفیق دے
🍁🍁
سائشہ ۔۔۔۔۔
شہریار کب سے اس کو خود کے وجود سے لا تعلقی محسوس کرتے آخر اسے پکار بیٹھا
جی ؟ جس نے ڑریسنگ کے سامنے کھڑے ہوتے اپنے بالوں میں کنگھا چلاتے جواب دیا
شہریار اسکے پاس آیا
آپ نے میری ایک دفع بات بھی نہیں سنی اور مجھ سے خفا ہوگئیں
وہ اسے دیکھتے بولا
سائشہ نے شہریار کی طرف رخ کرتے آی برو اچکانے کہا
تو کیا میں آپ سے خفا نہیں ہو سکتی ؟
اس کے اس انداز پر شہریار نے سر جھکا لیا
بلکل ہو سکتی ہیں آپ کا حق ہے
وہ جھکے سر کے ساتھ بولا
تو ؟ سائشہ کچھ نرم لہجے سے سوالیہ ہوی
تو یہ کہ آپ کا یہ بھی حق ہے کہ میں آپ کو اپنی غلطی کی صفائ دوں اور اگر گناہگار میں ہوں تو آپ کو حق ہے کہ مجھے سزا دیں
اور یہاں سائشہ کا دل پگھل گیا ۔۔
کہاں تھے آپ ؟ وہ سوالیہ ہوی تو شہریار نے سر اٹھا کر اس کو دیکھا
وہ دراصل شایان کو لینے گیا تھا اسی میں دیر ہو گئ ۔۔۔۔
ہممم ۔۔۔ سائشہ نے سر اثبات میں ہلایا
آپ ناراض تو نہیں ہیں نا؟
وہ پھر سے بولا
نہیں۔ ۔۔۔سائشہ مسکرا کر بولی
آپ واقعی مجھ سے ناراض نہیں ہیں نا؟
جی نہیں ہوں ۔۔۔۔ وہ پھر سے بولی
کیا آپ سچ میں مجھ سے خفا نہیں ہیں ؟
وہ جیسے کنفرم کرتے پھر سے بولا
شہریار آپ سے خفا نہیں ہوں آپ بار بار کیوں پوچھ رہے ہیں ؟
وہ سوالیہ ہوی
شہریار نے گہرا سانس لیا پھر اسکا ہاتھ پکڑ اسے بیڈ کی طرف لاتے بیڈ پر بٹھایا اور اس کے ساتھ بیٹھتے بولا
بیوی کا حق ہے کہ وہ ناراض ہو سکتی ہے اور اسکا حق ہے کہ اسکو منایا جائے ۔۔۔
میں نہیں چاہتا آپ کے کسی حق میں میں کوی کوتاہی کروں!
شہریار کی بات پر سائشہ مسکرای
مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ اللہ کبھی رنگ نسل فرقے اس سب کو دیکھ کر نصیب نہیں لکھتا
وہ بس آپ کا نیک دل صاف نیت اور پرخلوص لہجا اور
آپ کی دعاؤں کی شدت کو دیکھ کر آپ کے نصیب میں وہ کچھ لکھ دیتا ہے جس کی ہمیں کبھی خبر ہی نہیں ہوتی
سائشہ کی بات پر شہریار مسکرایا
بلکل وہ رب قادر ہے دلوں میں بسنے والا
آپ کو پتہ ہے شہریار مجھے یقین نہیں آتا کہ مجھے اتنا بڑے صرف والا نیک اللہ سے ڑرنے والا اور محبت کرنے والا شوہر دیا ہے میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر لڑکی کے نصیب کو سنہری قلم سے بے تحاشہ خوبصورت لکھے۔ ۔۔
سائشہ
مسکراتے ہوے بولی
🍁🍁
سکندر نے جیسے ہی قدم کمرے
میں لیا اچانک ایک تکیا ا
اڑتا ہوا اس کو لگا۔۔۔۔
ارے یہ کیا ؟ وہ حیرت سے بیڈ پر کھڑی فریال سے بولا جو اب بلینکٹ اٹھا کر اس کے منہ پر مارتی نیچے اتری
آپ کے سونے کی تیاری کردی ہے چلیں آپ جا کر آج باہر لاونج میں سوئیں گے ۔۔۔۔
وہ کہتے ہاتھ کمر پر دائیں بائیں رکھے کھڑی ہوی
اور یہ کیوں ؟ سکندر نے تعجب سے کہا
کیونکہ یہ سردار کی اکلوتی بیوی کا حکم ہے ! وہ کہتے چہرے پر آئے بالوں کو پھونک سے اڑاتی بولی
نہیں یار دیکھو میری غلطی تھی مان رہا ہوں کہ ولیمے پر دیر ہو گئ اب اتنا غصہ تو مت کرو ۔۔۔۔سکندر فورا منت کرتے بولا
جی نہیں ۔۔۔۔ آپ کی غلطی نہیں تھی ارے غلطی تو میری تھی ۔۔۔۔ جس نے آپ سے شادی کے لیے ہاں کہہ دی کہ چلو اب یہ بندہ اتنا کہہ رہا ہے تو شادی کر لی لیتی ہوں
پر نہیں جناب یہاں میری اتنیییییییییی بڑی قربانی کی کسی کو کوی قدر ہی نہیں ہے
ارے میں فریال خدا بخش سے فریال سکندر بن گئ ۔۔۔۔
آپ کی ساتھ نسلوں پر احسان ہے میرا ۔۔۔۔
فریال کی بات پر سکندر نے اسے گھورا
کیا مجھ سے شادی کرکے احسان کیا ہے ؟
وہ سوالیہ ہوا اور آئ برو اچکای
فریال اڑیوں کے بل اوپر ہوتے اس کے سامنے چہرہ لاتے بولی
ہاں کیا ہے احسان! ورنہ آپ سے شادی کون لڑکی کرتی ۔۔۔۔ارے کوی نارمل لڑکی آپ سے شادی نہیں کر سکتی ۔۔۔
آپ جیسے سڑے ہوے کنجی آنکھوں والے باگڑبلے سے۔۔۔۔۔۔ فریال اپنی ٹون میں آتے بولی
دیکھو یہ کنجی آنکھوں والا مت کہا کرو ۔۔۔۔ سکندر نے ساری باتوں میں سے ایک بات کو لیتے کہا
کہوں گی کہوں گی کہوں گی ۔۔۔ کیا ؟کیا کر کیا لو گے آپ ؟
وہ بنا ڑرے بولی
تم تو بدل گئ تھی نا؟ اور ابھی بی جان سے کیسے اچھی بہو بننے کے وعدے کر رہی تھی !
وہ اسے کچھ دیر پہلے والی فریال یاد کرواتے بولا
ہممم دیکھیں سکندر یہ بات آپ ہمیشہ یاد رکھنا ۔۔
کہ 🍁
جب ایک لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے تو اسے خود کو بدلنا پڑتا ہے
مگر اب عادتیں کہاں چھوٹتی ہیں تو اب میں نے تہہ کر لیا ہے کہ سب گھر والوں کے ساتھ میں خود کو بدلوں گی کیونکہ وہ میرے سسرال والے ہیں
مگر آپ ! آپ کے ساتھ میں اپنا وہی رویہ رکھوں گی آخر مجھے کھلی ہوا میں سانس بھی تو لینا ہے
فریال کی بات پر سکندر چکراتے سر کے ساتھ اسے دیکھ کر رہ گیا
کیا مطلب وہ اچھی بہو بننا وہ سب کیا تھا ؟
وہ پھر سے سوالیہ ہوا ۔۔۔۔
ہاں تو میں نےکب انکار کیا اس سب سے ۔۔۔۔آپ نے سنا نہیں اچھی بہو کہا تھا اچھی بیوی نہیں ۔۔۔۔
ہر فرد کو معافی کی گنجائش دی جائے گی فریال سکندر کی عدالت میں
مگر مسٹر سکندر اعظم عرف کنجی آنکھوں والے باگڑبلے کو میری عدالت میں اس سے کی گئی ہر غلطی کی سزا دی جائے گی
وہ اس سے کہتی آنکھیں پٹپٹاتے ہوے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے نکال چکی تھی
گڈ نائیٹ بےبی ۔۔۔۔وہ کہتے دھڑام سے دروازہ بند کر چکی تھی
اہہہ ۔۔۔تو اس کی خاموشی اتنی بیہانک ہوتی ہے اس بات کا اندازہ سردار سکندر کو آج ہوا تھا
مگر اب وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا اس لیے منہ کے زاویے بناتا تکیا اور بلینکٹ سنبھالتا شایان کے کمرے میں چلا گیا
کیونکہ وہ لاونج میں نہیں سو سکتا تھا گھر میں مہمان تھے کوی دیکھ لیتا تو اسکی بے عزتی ہوتی
🍁🍁
کیا ہوا بڈی آپ اس وقت یہاں ؟ شایان نے دستک ہونے پر دروازے کھولتے سامنے سکندر کو کھڑے دیکھ کر چونک کر کہا
ہٹو سامنے سے یار ۔۔۔وہ کہتا ا۔در آیا جب کہ سکندر کے ہاتھ میں تکیا اور بلینکٹ دیکھ کر شایان اس کے سامنے آیا
ایک منٹ ایک منٹ کیا آپ کو بھابھی نے کمرے سے ۔۔۔۔۔فررررررر ۔۔۔۔
وہ آنکھیں بڑی بڑی کیے بولتے مسکراہٹ چھپانے لگا
نا تم اتنی دور جاتے نا ہم ہمیں اتنی دیر غائب رہنا پڑتا ۔۔۔۔اب یہ تو ہونا ہی تھا
وہ کہتا اس کے بیڈ پر لیٹ گیا
واہ سردار سکندر ۔۔۔ گاؤں کا سردار لوگوں کے دلوں میں بسنے والا حویلی اور جائید کا مالک اپنے ہی کمرے سے اپنی بیوی کے ہاتھوں زلیل ہو کر نکالا گیا ۔۔۔۔ائے ہاے مزے ۔۔۔۔۔۔۔
شایان نے مزے سے اسکی حالت کو انجوائے کرتے کہا
بکو مت ورنہ دو لگاؤں گا۔۔۔۔سکندرنے کہا
اچھا آپ کو کیا لگتا ہے بڈی ؟
شایان اب کی بار سیریس ہوتا بیڈ پر بیٹھتے بولا
کس بارے میں ؟ سکندر نے اسکی طرف کروٹ لیتے کہا
کہ کیا شہریار بھائ بھی کمرے سے نکالے جائیں گے ؟ شایان کی بات پر سکندر نے فوراً سر نفی میں ہلایا
بلکل نہیں۔۔۔۔
اچھا وہ کیوں ؟ شایان سوالیہ ہوا
وہ اس لیے کہ اس کی بیوی اس سے ناراض نہیں تھی یہ تو میری بیگم نے اسے تپایا تھا ورنہ وہ تو شہریار سے بہت پیار کرتی ہے
تو کیا بھابھی آپ سے پیار نہیں کرتیں ؟
شایان کے سوال پر سکندر کچھ دیر خاموش رہا
شاید وہ ہر کسی پر حق نہیں جتاتی اور اگر جتاتی ہے تو اسے پیار کا اظہار یوں ہی آتا ہے ۔۔۔۔اور اگر ایسا ہی ہے تو مجھے قبول ہے ۔۔۔سردرا کہتے ہی آنکھیں موند گیا
جب کہ سکںدر کو باہر لاونج میں نا پر کر شایان کے دروازے پر کھڑی فریال نے اسکی بات سن کے بھیگی آنکھوں سے اس کے عکس کو آنکھوں میں سمایا
اتنی جلدی مجھے سمجھنے لگے ہو ۔۔۔۔ وہ بڑبڑائ
Epi 2
Season 2
🍁✨
مقدس بیٹا تم ابھی تک سوئ نہیں ؟
سکینہ بی نے اس کے کمرے کے دروازے پر جھانکتے ہوے کہا جو بستر پر بیٹھی کسی گہری سوچ میں مبتلا تھی
جی اماں بس سونے ہی لگی تھی مقدس اپنی اماں کی آواز پر چونکتے ہوے بولی
ہمم مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی ! سکینہ بی کہتے ہی اس کے کمرے میں آئیں ۔۔۔۔
جی جی اماں بولیں ۔۔۔۔ وہ ان کو بیٹھنے کی جگہ دیتے بولی
سکینہ بی بیٹھ گئ پھر کچھ دیر تک وہ زمین کو گھورتی رہی مگر کچھ کہا نہیں
مقدس ان کی لمبی خاموشی پر حیران ہوی
پھر ان کو کندھے سے پکڑتے اپنی طرف متوجہ کیا
اماں آپ کب سے مجھ سے بات کرنے سے پہلے سوچنے لگی ہیں ؟
مقدس کی بات پر سکینہ بی نے ہلکا سا سر نفی میں ہلایا
نہیں بیٹا دراصل بات کچھ ایسی ہے کہ میں خود تیار نہیں ہوں اس کے لیے
سکینہ بی نے کچھ تمہید باندھی
اماں آپ بولیں میں سن رہی ہوں !
وہ کہتے ہوے پوری توجہ بی کی بات پر دینے لگی
تمہارے بھائ برہان نے مجھے تمہاری شادی کا کہا ہے ۔۔۔۔اسد نے اس سے شادی کی بات کی ہے اس دفع وہ امریکہ تمہیں ساتھ لے کے جانا چاہتا ہے
سکینہ بی کی بات پر مقدس کی چلتی ساںس جیسے تھمنے لگی
پر اماں اتنی جلدی !
وہ کچھ اور تو کہہ نا پائ مگر اعتراض کیسے کرتی
ہاں بیٹا لیکن اسد کی طرف سے جلدی کرنے کی کوشش ہے اس لیے میں سوچ رہی ہوں اپنا زیور بیچ کر تمہارے لیے جہیز بنا دوں ۔۔۔
اماں آپ ایسا کچھ نہیں کریں گی ۔۔۔ اور اسد کو جہیز نہیں چاہیے بھلا جب وہ امریکہ ہو گا تو یہاں پڑے سامان کا کیا کریں گے ؟
وہ جلدی سے بولی
ارے پگلی پیسے دے دوں گی اسے ۔۔۔سکینہ بی کی بات پر مقدس پریشان ہو گئ ۔۔۔
اچھا بس تمہیں یہ بتانا تھا کہ اب تم دماغی طور پر شادی کے لیے تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔ چلو سو جاؤ ۔۔۔
سکینہ بی کہتے ہی کمرے سے نکل گئیں ۔۔۔
جب کہ اب مقدس کہ نیںد حرام ہو گئ تھی ۔۔۔۔
یا اللہ میں کیا کروں ۔۔۔۔اسے میں پسند نہیں ہوں ۔۔۔۔ وہ کہتے سر گھٹنوں میں دیے رونے لگی
🍁🍁
فریال صبح کے سات بجے اٹھی ۔۔۔ وہ کمفرٹر سے نکلتی اپنے کھلے بالوں کو ڈھیلے ڈھالے جوڑے میں باندھتی بیڈ سے نیچے اتری اور پاؤں میں جوتے اڑیسے دپٹہ بیڈ سے اٹھاتی وہ واشروم میں چلی گئ
واشروم سے منہ دھو کر نکلی تو نظر کھڑی پر ڈالی ۔۔۔
سائیں اٹھ گئے ہوں گے ۔۔۔ وہ کہتے ہی دروازے کی جانب بڑھی اور دروازے کھول کر کمرے سے باہر نکل گئ
وہ چلتی ہوی شایان کے کمرے کے دروازے پر کھڑی ہوی اور آگے پیچھے دیکھ کر بہت احتیاط سے دستک دی
دروازہ نا کھلنے پر اس نے پھر سے آرام سے دستک دی مگر اندر سے کوی آواز نا آنے پر اس نے غصے سے دروازے کو دیکھا
حالات ہی ایسے ہو جاتے ہیں کہ مجھے مجبوراً پہلے والی پھوئڑ فریال بننا پڑتا ہے
وہ کہتے ہی زور سے دروازے پر دستک دینے لگی ۔۔۔۔ اندر مست سوئے ہوے دونوں وجود جھٹ سے اٹھے تھے
ساتھ کے کمرے سے بھی ایک لڑکی نکلی ۔۔بھابھی خیریت ہے اتنی زور سے کیوں دوزاہ پیٹ رہی ہیں ؟ مہمان لڑکی نے فریال کو دیکھتے کہا
ارے کچھ نہیں کچھ نہیں تم جاؤ ارام کرو ۔۔۔۔ وہ کہتے ایک دفع پھر سے پیٹنے لگے جب دروازے کھلا اور فریال نے سامنے کھڑے وجود کے سینے پر ہاتھ مارنے شروع کر دیے ۔۔۔۔
سامنے کھڑے سکندر نے اسے کھینچ کر اندر لاتے دروازے بند کیا
کیا ہو گیا ہے اس طرح کیوں دستک دے رہی ہو آرام سے بھی تو کر سکتی ہو۔۔۔۔۔
وہ اس کو دروازے سے لگاتے بولا
بیڈ پر اٹھ کر بیٹھے شایان نے منظر دیکھتے ہی منہ کمفرٹر میں دے دیا
تو اور کیا باہر ہی سارا دن کھڑی رہتی آپ تو ایسے سوئے تھے جیسے ساری رات چرس پیتے رہے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ اسے جوابا بولی
ششششش ۔۔۔۔ سکندر نے اسے کو چپ رہنے کا اشارہ کیا
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ شایان شیطان سب سن رہا ہے جو بعد میں اسے اس بات کو لے کر تنگ کرتا ۔۔۔
وہ جلدی سے فریال کا ہاتھ پکڑ کر اسے لیتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
کمرے میں لاتے ہی اس نے فریال کو پلٹ کر دیکھا جو منہ پھلائے کھڑی تھی
اب کیا ہوا؟ سکندر نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے کہا
آپ نے مجھے چپ رہنے کا کہا مطلب میری آواز اچھی نہیں ہے ؟
صبح صبح اپنی بیگم کے ڑامے دیکھ کر سکندر نے گہرا سانس لیا
تم کیا چیز ہو ؟ وہ اسے سوالیہ ہوا
ہاں تو آپ نے ہی شادی کی خواہش کی تھی بلکہ ضد کی تھی ورنہ میرا تو کوی ارادہ نہیں تھا
فریال نے ہمیشہ کی طرح اس پر اپنا کیا احسان جتایا
استغفرُللہ لڑکی کتنا گھمنڈ ہے تم میں سکندر سر پکڑ کر رہ گیا
ہاہاہا ۔۔۔۔ چاہے جانے کا احساس انسان کو مغرور بنا دیتا ہے ۔۔۔۔
وہ ہستے ہوے بولی جب کہ سامنے کھڑے سکندر کو صبح کا حسین ترین منظر اپنی نظروں کے سامنے چلتا نظر آیا تھا
وہ مسکرایا۔۔۔۔ جس کو دیکھ کر فریال کی ہنسی تھمی ۔۔۔ اور زہن پر زور دیے کر اپنی کہی بات یاد کرتی وہ زبان دانتوں میں دبا گئ
جس کو دیکھ کر سکندر نے قہقہ لگایا۔۔۔۔
ٹر ٹر کرتی زبان سے کبھی یوں میٹھے لفظ بھی بول لیا کرو میری شیرںی وہ کہتے جھکتا اس کے ماتھے کو عقیدت سے چومتا مسکرایا
آپ نے مجھے کس کیوں کیا ؟ فریال میں ہمت نہیں تھی کہ کچھ کہتی بس اتنا بول کر سر جھکا لیا
جب بیوی پر پیار آتا ہے تو شوہر عموماً عقیدت سے ماتھے کو چومتے ہیں ۔۔۔ وہ مسکرا کر بولا
وہ کیوں ؟
فریال کے مزید بے تکے سوال پر سکندر نے اسے گھورا
ہاں وہ اس لیے کہ شکر ہے اس کھوپڑی میں اللہ نے بیوی کو ایک دماغ دیا ہے جو کبھی کبھی اپنی جھلک دکھلاتا ہے ۔۔۔ سکندر کہتے ہسنے لگا
سائیں میں آپ کو چھوڑوں گی نہیں
وہ کہتے اس کے سینے پر تھپڑ مارنے لگی جس پر سکندر مسکراتے ہوے اس کو دیکھنے لگا
🍁🍁
سائشہ اٹھ جائیں ۔۔۔۔ شہریار اس کو مزے سے بیڈ پر سوتے دیکھ کر بولا
نہیں ابھی نہیں مجھے سونا ہے ۔۔۔ وہ کمفرٹر زور سے پکڑتے بولی کہ کہیں وہ اس سے کمفرٹر نا اتار دے
سائشہ یار نیچے سب جاگ چکے ہیں اور بی جان بھی تو انتظار کر رہی ہوں گی !
شہریار نے اسے پھر سے اٹھاتے اس کے چہرے پر آئے کالے بالوں کو انگلیوں کے پوروں سے ہٹاتے
کہا
اب کی بار سائشہ نے مندی مندی آنکھیں کھولیں ۔۔۔ جی وہ اٹھ کر بیٹھی
شاباش اب جلدی سے بیڈ سے نیچے اتریں میں نے کپڑے نکال دیے ہیں آپ کے آپ جلدی سے فریش ہو جائیں پھر سات ہی نیچے جائیں گے ۔۔۔
شہریار کی بات پر سائشہ مسکرای
یہ کام تو بیویوں کے ہوتے ہیں نا ؟
وہ بیڈ سے اتری اور سلیپرز پاؤں میں اڑیستے بولی
ضروری تو نہیں ہے شوہر بھی تو خیال رکھ سکتے ہیں !
شہریار نے مسکرا کر کہا
اوکے بوس سائشہ مسکرای اور اس کے نکالے ہلکے جامنی رنگ کے کپڑے اٹھا کر واشروم میں بند ہو گئ
کچھ دیر بعد جب وہ باہر نکلی تو شہریار کمرے میں نظر نہیں آیا وہ گیلے بالوں کو ڑرائیر سوخانے کے لیے وہ ڑریسنگ کی طرف بڑھی
اپنے لمبے بالوں کو اچھے سے سوخانے کے بعد وہ اسے چٹیا میں باندھتی سر پر دپٹا ڈالے خود کو شیشے میں دیکھنے لگی
ان کی اماں سائیں کو تو میں پسند نہیں ہوں اور اگر ان سے کچھ کہوں گی تو یہ الگ ہونے کی بات کریں گے جو میں بلکل نہیں چاہتی
یہی رشتے ہوتے ہیں جو ہمارے دکھ سکھ میں ہمارے ساتھی ہوتے ہیں ۔۔۔۔
وہ سوچ میں بڑبڑای ۔۔۔ پھر گہرا سانس لیا
آج سے سائشہ شہریار تمہارا مشن ہے کہ تم نے اپنی ساس کے دل میں جگہ بنانی ہے
وہ کہتے مسکرای
مشکل ہے بہت مشکل پر ناممکن نہیں ۔۔۔۔ وہ پھر سے بڑبڑای
کیا مشکل ہے ؟
پیچھے سے آتے شہریار نے سوالیہ دیکھتے کہا جس نے اسکی بڑبڑاہٹ سنی تھی
اممم کچھ نہیں وہ بس میں پینٹنگ کا سوچ رہی تھی ۔۔ وہ بات گھماتے ہوے بولی
جھوٹ بول رہی ہیں ؟ وہ ہلکی مسکراہٹ سے اس کا جھوٹ پکڑتے بولا
آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے ؟ وہ منہ بناتے بولی
بتایا تو تھا میرے پاس جن ہے سب بتا دیتا ہے مجھے ۔۔۔ دل کی آواز سنائ دیتی ہے مجھے وہ مسکراتے ہوے بولا
لیکن میں نے تو دل میں کچھ کہا نہیں! وہ اس سے سوالیہ ہوئ
ہاں تو مجھے پھر بھی سنائی دیتا ہے ۔۔۔ شہریار کندھے اچکاتے بولا
یہ غلط بات ہے کچھ پرسنل بھی ہوتا ہے ۔۔۔ سائشہ منہ کے زاویے بناتی ناراض ہوی
ہاہاہا ۔۔۔ اچھی بات ہے نا آپ مجھ سے کچھ چھپا نہیں سکیں گی
وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے لیے کمرے سے نکل گیا
جو اس کو دیکھتے مسکرانے لگی
🍁✨
شایان بابا اٹھ جائیں بڑی سردارنی جی نے آپ کو ناشتے پر بلایا ہے ۔۔۔ملازمہ نے دروازے پر کھڑے کمرے میں جھانکتے کہا
اچھا آپ جائیں میں دس منٹ میں آتا ہوں ! وہ کہتے کروٹ لیتے پھر سے سونے لگا
یہ میرا پانچواں چکر تھا چھوٹے سائیں اب اگلی دفع سردار سائیں خود آئیں گے ۔۔۔
یہ ان کا پیغام تھا ۔۔۔۔
ملازمہ کہتے ہی وہاں سے چلی گئ
ارے ڑرتا نہیں ہوں میں سردار سکندر سے ۔۔۔۔جا کر بتا دینا وہ اونچی آواز میں ہانک لگاتے بولا
مگر پھر سویا نہیں اور بیڈ سے اترا
ڑرتے نہیں ہو تو سوئے کیوں نہیں ؟ سکندر کی آواز اپنے کمرے سے سنتے وہ اچھلا
آپ یہاں کیسے آئے تھے ؟ وہ اسے دیکھتے بولا
دروازے سے ۔۔۔ سکندر نے کہتے قدم اسکی بڑھائے
ہاں تو اس طرح کسی کے کمرے میں آنا بنا دستک کے بہت غیر اخلاقی بات ہے ۔۔۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں بولا
اور قدم آہستہ آہستہ پیچھے کو لیے ۔۔۔
او جی اوئے میرا پتر مینوں دسے گا اخلاق کی اے؟
نن نہیں بڈی میں تو بس ایسے ہی ۔۔۔
ہاں ہاں بتاؤ نا اخلاقیات وہ بھی مجھے سردار سکندر کو ؟
وہ کہتے قدم اسکی طرف مزید لینے لگا
اچھا ٹھ ٹھیک ہے زرا فاصلہ رکھیں مجھے مردوں کا میرے قریب آنا پسند نہیں ہے ۔۔۔۔۔
وہ بیڈ پر دھڑام سے گرتا بولا
بیٹا آج کے بعد لڑکے کیا لڑکیاں بھی تمہاری طرف نہیں دیکھیں گی کیونکہ میں تمہارا خوبصورت چہرہ دیکھنے کے لائق نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔
سکندر بیڈ کے پاس آتے بولا
نہیں پلیز میری عزت پر ہاتھ مت ڈالنا میں کٹ جاؤں گا برباد ہو جاؤں گا ۔۔۔
شایان کی مزید نوٹنکی پر سکندر نے اس پر جھکتے اس کے منہ پر زور دار مکا مارا
ارے ظالم سائیں ۔۔۔۔۔۔۔عمر سے پہلے ہی دانت توڑ دو گے تو کوی اپنی لڑکی بھی نہیں دے گا کہ یہ تو بوڑھا ہے دانت بھی ٹوٹے ہوے ہیں ۔۔۔
ہاں بلکل ہڈیاں بھی ٹوٹی ہوی ہیں ۔۔۔ وہ کہتے اس پر مکے برسانے لگا جس پر کچھ دیر میں شایان کی ایک آنکھ لال اور چھوٹی لگ رہی تھی جب کہ شرٹ کا گریبان کھلا ہوا
ہونٹ پھٹا ہوا تھا
یہ ظلم کس بات پر کیا ؟
وہ روتی شکل سے بولا اور پاس بیٹھے سکندر کو دیکھا
جو اسے مارنے کے بعد سکون سے اس کے زخموں پر مرہم لگا رہا تھا
یاد کرو اپنے کرتوتوں کو ۔۔۔ وہ کہتے دھیان سے اس کے پھٹنے ہونٹ پر دوا لگانے لگا
کیا کر دیا مجھ معصوم نے ؟
اگر تم جیسے دو معصوم اس حویلی میں آگئے تو ہمیں۔ نکال باہر پھینکیں گے۔۔۔۔۔ سکندر اسکو دوا لگاتے بولا
ہاہا ۔۔۔ میرے ہونے والے معصوم بچے بلکل مجھ پر جائیں گے ۔۔۔
وہ ہستے ہوے بولا
بکو مت ۔۔۔ سکںدر نے اسے گھورا
اچھا بتائیں نے کیوں مارا ۔۔۔
وہ پھر سے سوالیہ ہوا
تم نے اسد کو کچھ لوگوں سے مروایا ہے وجہ بتاؤ ؟
سکندر نے اسے گھورتے ہوے کہا
وہ وہ میں نے تو نہیں کیا سچ میں ۔۔۔
وہ نظریں چراتے ہوے بولا
لگتا ہے ایک دفع پھر سے ٹوینگ کرنی پڑے گی ابھی تمہارا وائرس گیا نہیں ؟
سکندر کی بات پر شایان نے سر نفی میں ہلایا ۔۔۔
وہ جب مقدس اسکے پاس کھڑی تھی تو وہ اسے بہت عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا تو بس اس لیے اس کو اچھی طرح پٹوایا تھا
اچھا کس حق سے ؟ اور وہ اسکی منگ ہے تم کیوں درمیان میں آرہے ہو ؟
سکندر کے سوال پر شایان نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا
بڈی میں قسم کھا کر کہتا ہوں جو گھر کا لاڈلہ ہوتا ہے نا اس کو عشق نکما کر دیتا ہے میرا بھی وہی حال ہے ۔۔۔۔
ان کہی محبت میرا روگ بن جائے گی
اس کو بہت چاہتا ہوں بے تحاشہ چاہتا ہوں ۔۔۔۔مگر اس کو کسی کے ساتھ دیکھنا بہت مشکل ہے
دل میں درد ہے بڈی ۔۔۔۔
وہ بول رہا تھا کہ سامنے بیٹھا سکندر اس کی بھیگی آنکھوں سے ٹپکتے آنسو نہیں بلکہ ٹپکتی محبت دیکھ رہا تھا جو پل پل اسے ازیت دے رہی تھی
سکندر نے شایان کو اپنے سینے سے لگایا
ششش ۔۔۔ اللہ پر یقین رکھو وہ ان کہی باتوں کو سن لیتا ہے تمہاری ان کہی محبت تمہارے حق میں لکھ دے گا
وہ اسے تسلی دی ے لگا جب کہ شایان کندھا ملتے ہی رونے لگا ۔۔۔۔
وہ جھوٹی مسکراہٹ سجائے سب کو دھوکہ دے سکتا تھا مگر سکندر کو نہیں۔۔۔۔۔۔۔
🍁🍁🍁
ناشتے کی ٹیبل پر آتی سائشہ نے سب کو مشترکہ سلام دیا ۔۔۔ ٹیبل کے گرد بیٹھے لوگ مسکرائے ۔۔۔ بی جان اور فریال نے جواب دیا جب کہ ابراہیم شاہ اور احمد شاہ نے بھی جواب دیا
مگر سائرہ بیگم اور سلمہ بیگم نے حقارت سے اس کے وجود کو دیکھا
بیٹھیں سائشہ! شہریار نے اسے بیٹھنے کا کہا اسے بٹھا کر اپنی کرسی پر بیٹھا
پھر اسی طرف آتے سکندر اور شایان نے سلام دیا
یہ کھوتے کا پتر بہت دیر سے اٹھتا ہے ۔۔۔ بی جان نے شایان کا کان کھینچتے کہا جو ان کے ماتھے کو چومتے مسکرا رہا تھا
اس کھوتے نے نے اس عمر میں مجھے کھوتا بنا دیا ہے ۔۔۔ احمد شاہ نے ہستے ہوے کہا جس پر سب ہسنے لگے ۔۔۔۔
سب نے آرام سے ناشتہ کیا اور پھر احمد شاہ نے بی جان سے جانے کی اجازت طلب کی تو وہ چلے گئے جب کہ سائرہ بیگم حویلی ہی رکی تھیں
سلمہ بیگم بھی اپنے کمرے میں چلی گئیں جب کہ ابراہیم شاہ کو بھی کچھ کام سے باہر جانا تھا
شہریار کو کسی سے ملنے جانا تھا اس لیے وہ بھی اٹھا اور سردار سکندر کو آج پنچایت جانا تھا اس لیے وہ بھی نکلنے لگا
جب شایان نے سب کو آپ ی طرف متوجہ کیا
مجھے امریکہ واپس جانا ہے ۔۔۔ اس کی بات پر سب حیران ہوے
پر پتر تم تو پڑھائ ختم کر چکے ہو پھر کیوں جانا ہے ؟
بی جان وہ میرا دوست ہے اسے میری ضرورت ہے بس کچھ عرصہ وہاں اس کے ساتھ کام کروں گا پھر واپس آجاؤ گا ۔۔۔
شایان نے بجھی آنکھوں سے کہا
بلکل نہیں تم کہیں نہیں جاؤ گے ۔۔۔ایک تو میں تمہارے کہنے پر لڑکی تلاش کر رہی ہوں اور تم ہو کہ جانے کی بات کر رہے ہو ۔۔۔۔
فریال نے مسکراتے ہوئے کہا
ارے نہیں بھابھی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی ۔۔۔۔
تم کہیں نہیں جاؤ گے ۔۔۔ باقی بات ہم شام میں کریں گے مجھے اس وقت پنچایت جانا ہے سکندر نے کہتے ہی شال کندھے پر درست کی اور اٹھ گیا
فریال بھی اسکے ساتھ اٹھی اور دروازے تک اسے چھوڑنے گئ
سائشہ مجھے کسی کام سے جانا ہے میں تین گھنٹے تک واپس آووں گا کوی کام ہوا تو مجھے کال کر لینا ۔۔۔۔
شہریار بھی اٹھا ۔۔۔۔
جب کہ شایان کو اپنے کمرے میں آنے کا کہتی بی جان اپنے کمرے میں چلی گئ
بہت بڑی فلم سٹار بن سکتی ہو تم نیک پروین بیویوں کی طرح یہاں تک چھوڑنے آی ہو ۔۔۔ سکںدر نے فریال کو دیکھتے کہا
آپ بھی محلے کی پھوپھیوں کی طرح پچھلی باتوں کے تعنے دیے بنا نہیں رہ سکتے ۔۔۔۔
فریال کی جوابی کارروائی پر وہ مسکرایا
تم میری ایک بھی نہیں سنتی ۔۔۔ وہ اس کی جانب جھکتا بولا
ہاں تو پورا گاؤں آپ کی سنتا ہے اور آپ میری ۔۔۔ یہ حکومت زیادہ اچھی ہے ۔۔۔ فریال آی برو نچاتے بولی
سکندر مسکرایا اور اس کے ماتھے کو چوما۔۔۔
خیال رکھنا۔۔۔
وہ کہتے جانے لگا
کس کا خیال ؟ فریال نے پیچھے سے سوال کیا
حویلی کا خیال رکھںا ۔۔۔ وہ کہتے ہسنے لگا جب کہ فریال نے زبان چڑھائ ۔۔۔
اللہ حافظ وہ کہتے وہاں سے چلی گئ
سکندر مسکرایا۔۔۔ مگر وہ جیسے ہی پلٹا گاڑز کو دیکھتے اسنے تاثرات سخت کر لیے اور سنجیدہ لہجے کے ساتھ وہ چلتا ہوا گاڑی کے پاس ایا۔۔۔ گاڑز نے دروازے کو کھولتے نظریں ہنوزجھکا کر رکھی تھیں ۔۔۔۔
اس کے بیٹھنے پر سب گاڑز اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ہوے اور سب گاڑیاں حویلی کی دہلیز پار کرتی نکلتی چلی گئیں
🍁
سردار جی آپ پر جان لیوا حملہ ہوا تھا آپ نے اس بات کی چھان بین کروانے سے کیوں روکا ؟
ایک آدمی پنچائیت کے دوران بولا
کیونکہ مجرم کو میں جانتا ہوں اسلیے سردار کی بات پر سب حیران ہوئے ۔۔۔۔
کیا مطلب آپ جانتے ہیں کہ حملہ کس نے کروایا تھا ؟
وہ آدمی چونکتے ہوے بولا
ہاں سکندر نے اپنی کرسی پر بیٹھے ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے کہا
تو سزا کیوں نہیں دلوائ؟ اب کی بار دوسرا شخص بولا
جیسے کے سب جانتے ہیں اس گاؤں کے سردار کافی ایمانداری کے ساتھ اور انصاف سے کام کرنے کی وجہ سے بہت مقبول ہیں تو آپ سب کا سوال نہیں ہے کہ آخر اپنے مجرم کو کیوں چھوڑ دیا جس نے جان لیوا حملہ کیا
یا پھر ان کے اپنے کوی رواسم تھے کہ انہوں نے مجرم کو اس کی سزا نہیں دی
اس آدمی نے اپنی جگہ سے اٹھتے سب کے درمیان کھڑے ہوتے سب گاؤں کے لوگوں کو جو پنچایت میں اپنے مسائل کے کر آئے تھے ان کو اپنی طرف متوجہ کرتے کہا
سردار سکندر خاموشی سے اس شخص کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ ظفر نے بندوق کی نوق اس آدمی کی جانب کی مگر سردار کے اشارے پر اس نے بندوق نیچے کر لی
وہاں بیٹھے سب لوگوں نے بجائے اس آدمی کا ساتھ دے کر سوال کرنے کے اس آدمی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا
تم کون ہوتے ہو سردار سے سوال کرنے والے ۔۔۔۔ اور کیا تم نہیں جانتے پچھلے کئیں سالوں سے ساتھ کے گاؤں والے ہمارے اسکول کے بچوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ ان کو کسی طرح سرداری مل سکے ۔۔۔۔
ایک بزرگ نے اس آدمی کو اسکی غلطی بتائ
تو ایک اور آدمی بھی بولا
ہاں بلکل بابا جی ٹھیک کہہ رہے ہیں تم اس انسان سے سوال کر رہے ہو جس نے ہمارے بچوں کو بچانے کی خاطر خود گولی کھا لی ؟
اس آدمی کے چہرے کے رنگ اڑنے لگے
ابھی مزید گاؤں کے لوگ طیش میں کچھ کرتے سردار سکندر اپنی شاہی کرسی سے اٹھا اور اس کے کھڑے ہوتے ہی ہر طرف خاموشی چھا گئی
تم نے مجھ سے سوال کیا ۔۔۔۔ میں نے ہمیشہ اپنے گاؤں کے لوگوں کو اتنی چھوٹ ضرور دی ہے کہ وہ اپنے دل میں اٹھتے سوال کو مجھ سے کر سکتے ہیں
مگر اس سوال کو کرنے سے پہلے وہ لوگ اچھی طرح سوچتے ہیں
مگر شاید کہ تم نئے آدمی ہو اور یہاں کے طور طریقے نہیں جانتے
میں نے اس آدمی کو چھوڑ دی ۔۔۔ اساں کے بارے میں تمہیں کیسے پتہ ؟ میں نے سردار سکندر نے اس ادمی کے خلاف کوی کارروائی نہیں کی اس سب کا علم تمہیں کیسے ہوا ؟
تمہیں کس نے بتایا کہ وہ حملہ گاؤں کے اسکول پر نہیں مجھ پر ہی کیا گیا تھا ؟
سردار سکندر کے سوالوں پر اس آدمی کا چہرہ سفید پڑھ گیا ہاتھوں میں جنبش واضح نظر آرہی تھی جب کہ اس شخص سے مزید کھڑا رہنا مشکل تھا
کیونکہ سردار سکندر کا لہجہ آگ برسا رہا تھا اور اس کے سوالوں کی طپش سے وہ آدمی اپنا وجود جھلستا محسوس کر رہا تھا
اب بولو جواب دو ۔۔۔۔ وہ بزرگ بولے جو خود بھی پنچایت میں بڑے بزرگوں کی وجہ سے عزت دار تھے
وہ میں نے تو بس ایسے ہی پوچھا ۔۔۔
آدمی نے اپنی جان رسائی کی خاطر بات بنانی چاہیے مگر سامنے قد آوا چوڑے سیںے والے سردار کو کھڑے دیکھ کر اسکا دل باہر نکلنے کو تھا
جعفر ۔۔۔۔ اس نے اپنے خاص آدمی کو آواز دی ۔۔۔۔
جی سائیں ۔۔۔ وہ فورا الرٹ ہوا ۔۔۔
اس آدمی سے سوال جواب کی زمہ داری ظفر کی اور تمہاری ہے اگلی پنچایت میں مجھے یہ آدمی طوطے کی طرح سچ اگلتا نظر آئے ۔۔۔اس نے بنا جعفر پر نظر ڈالے حکم دیا جس پراس نے فورا سر اثبات میں ہلایا اور اس آدمی کو لوگوں کے درمیان سے گزرتے گریبان سے پکڑتے وہ کھیںچ کر لے گیا ۔۔۔ جس کے ساتھ ہی ظفر بھی اجازت لیتا چلا گیا
پنچائیت کا اصول تھا کہ مسائل کا حل فورآ نکالا جاتا اور مالی امداد بھی کی جاتی تھی
سردار سکندر واپس اپنی کرسی پر بیٹھا
اور لوگ اپنے مسائل پھر سے بتانے لگے اور وہ سب مسائل کو حل کرتا گیا مگر لہجہ سخت تھا اور تاثرات ایسے کہ کوی اسے دیکھ کر منہ سے کچھ نکالنا بھی مشکل محسوس کرے مگر گاؤں کے لوگ جانتے تھے کہ وہ سخت مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے گاؤں کے لوگوں کا خیر خواہ بھی ہے
🍁🍁
سائشہ اس وقت بی جان اور فریال کے ساتھ لاونج میں بیٹھی تھی ۔۔۔ھب سائرہ بیگم بھی لاونج میں آکر بیٹھیں
بی جان مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی ۔۔۔ سائرہ بیگم نے بی جان کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے کہا
ہاں بہو کہو ۔۔۔ بی جان نے اجازت دی ۔۔۔
یہاں نہیں ہم کمرے میں چل کر بات کر سکتے ہیں ؟ سائرہ بیگم نے سائشہ اور فریال کی موجودگی میں بات کرنا مناسب نا سمجھا
بلکل نہیں ۔۔۔ ہم ایک خاندان ہیں اورگھر کے لوگوں سے باتیں چھپائی نہیں جاتیں بلکہ ان سے دل کی بات کرکے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں
بی جان نے فورا ٹوک دیا ۔۔۔ جس پر سائرہ بیگم غصے سے لال ہوگئ
سائشہ وہاں سے اٹھی ۔۔۔ میں بی جان زرا آرام کرنے جا رہی ہوں ۔۔۔وہ اٹھی تو فریال نے اسے گھورا کہ وہ ان کی وجہ سے جا رہی ہے
مگر پھر بھی سائشہ وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔
اب سائرہ بیگم کی نظریں فریال پر تھیں جو مزے سے چائے پی رہی تھی اور اس کا جانے کا دور دور تک کوی ارادہ نہیں تھا
کافی دیر کے بعد بھی سائرہ بیگم اسے وہیں بیٹھے دیکھ کر جلتی کڑھتی بات کرنے لگیں
دیکھیں بی جان بات دراصل شایان کے مستقبل کی ہے ۔۔۔
جیسے کہ آپ سب سے اس نے امریکہ جانے کی خواہش تو کی تھی مگر آپ نے کوی جواب نہیں دیا اس لیے میں چاہتی ہوں کہ آپ اس سے بات کریں گے آپنے بابا سائیں کا بزنس جوائن کرے ۔۔۔۔ میری بات تو وہ سنتا نہیں ہے آپ کہیں
سائرہ بیگم کی بات پر بی جان نے سر اثبات میں ہلایا
میری بات ہو چکی ہے شایان سے اس موضوع پر ۔۔۔۔ بی جان نے جواب دیا
04 Episode
Season 2
جب کہ فریال نے بھی بی جان کی طرف دیکھا ۔۔۔ کہ واقعی صبح بی جان نے شایان کو کمرے میں بلایا تھا مگر اسے پوچھنا یاد نہیں رہا کہ کیا بات ہوی
تو کیا کہا اس نے ؟ سائرہ بیگم نے بی جان سے کہا۔۔۔۔۔
شایان بی جان کے کمرے میں داخل ہوا ۔۔ جی بی جان آپ نے بلایا مجھے وہ ان کو صوفے پر بیٹھے دیکھ ان کے پاس بیٹھتے بولا
ہاں آخر تم نے جو بات باہر کی اس کی کیا وجہ تھی ؟ بی جان نے دو ٹوک سوال کیا
بی جان میں سچ میں امریکہ جانا چاہتا ہوں اور وہاں کام کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔شایان نے سر جھکا کر جواب دیا
کام تو یہاں بھی ہو سکتا ہے ! بی جان نے جواز پیش کیا
نہیں بی جان اگر یہاں کام کیا تو مجھے بابا سائیں کے ساتھ کام کرنا پڑے گا اور میں اس طرح کچھ سیکھ نہیں پاؤں گا۔۔۔۔
اس نے بہانہ گڑھا ورنہ اس کا دور دور تک کام کرنے کا ارادہ نہیں تھا
ہممم ۔۔۔تو شہر میں کسی بھی کمپنی میں تم جوائن کر سکتے ہو ۔۔۔۔
نہیں بی جان وہ سب بابا کے ریفرنس سے رکھیں گے اس سب میں خود کو کبھی ٹیسٹ نہیں کر پاؤں گا
شایان آخر وجہ کیا ہے ؟ تم کیوں یہاں نہیں رہنا چاہتے ؟ کیوں بھاگ رہے ہو یہاں سے ؟
بی جان نے اکتا کر کہا ۔۔۔
بس مجھے یہاں کام نہیں کرنا اس لیے بس جانا چاہتا ہوں آپ بڈی کو سمجھائیں مجھے واپس جانا ہے میرا یہاں دل نہیں لگتا ۔۔۔۔ وہ کہتے ہی اٹھ کھڑا ہوا
آپ پلیز بڈی کو سمجھائیں! وہ کہتے وہاں سے نکل گیا
🍁🍁🍁
بی جان نے ساری بات بتائی جس پر سائرہ بیگم پریشان ہو گئیں ۔۔ اور وہیں فریال کے دماغ میں کچھ بہت تیزی سے چلنے لگا
آپ لوگ اسے روکنا چاہتے ہیں ؟ وہ سب کے دوران اب بولی ۔۔۔۔ جس پر سائرہ بیگم نے اسے دیکھا
ظاہر ہے ہم نہیں چاہتے کہ اب وہ یہاں سے ہم سے دور جائے ۔۔۔
سائرہ بیگم کی بات پر فریال مسکرای
تو آپ لوگ اس کی شادی کروا دیں ۔۔۔۔
فریال کی بات پر بی جان نے سر ہلایا
ہاں بات تو ٹھیک ہے اس طرح وہ جانے کی ضد چھوڑ دے گا
جبکہ سائرہ بیگم اس کی شادی سے بھی ڑری ہوی تھیں کیونکہ وہ صاف انکار کر چکا تھا کہ وہ مائرہ سے شادی نہیں کرے گا
نہیں تم کچھ اور سوچو جس سے ہم واقعی ہی اسے جانے سے روکیں اور پھر اس کی شادی تو بعد میں ہو گی پہلے روکیں کیسے ؟
سائرہ بیگم نے فریال سے کہا۔۔۔
ہاں تو آپ سیڑھیوں سے گر جائیں ۔۔۔
اسکی بات پر سائرہ بیگم کا منہ کھل گیا
کیا بول رہی ہو لڑکی دماغ ٹھیک ہے ؟
ارے میرا مطلب ہے ناٹک کریں گے آپ سیڑھیوں سے گر گئ ہیں اور آپ کو اس کی ضرورت ہے اس طرح کچھ وقت کے لیے وہ رک جائے گا اسی دوران لڑکی ڈھونڈیں اور شادی کروادیں ۔۔۔۔
فریال نے بات کو وضاحت سے پیش کیا تو سائرہ بیگم کو بات پسند آی ۔۔۔
ہمم۔ ٹھیک ہے اب جب وہ گھر واپس آئے تو تب اسے کہنا کہ میں گر گئ ہوں ! سائرہ بیگم نے کہا
ارے چچی سائیں دیکھیں اگر وہ گھر آئے گا تو بتائیں گے تو وہ سمجھ جائے گا کہ اسے روکنے کی پلینگ ہے مگر اب اسے کال کر کے اسے بلانے سے وہ سچ میں آپ کو گرا ہوا سمجھ لے گا میرا مطلب کہ سمجھ لے گا کہ آپ گر گئ ہیں ۔۔۔
فریال بات کرتے کرتے آخر میں چول مارتے مارتے رکی تھی
چلیں بی جان آپ کال کریں ۔۔۔ میں دس منٹ میں آتی ہوں وہ کہتے ہی اپنے کمرے میں چلی گئ
🍁🤭
وہ کمرے میں آئ موبائل ہاتھ میں لیے کبھی اِدھر سے اُدھر کبھی ُادھر سے اِدھر چکر کاٹ رہی تھی
پنچائیت میں مصروف ہوں گے کیا کروں ؟
کچھ دیر کی سوچ بچار کے بعد شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس نے نمبر ڈائل کرتے کال ملائ
دوسری طرف سے کال رسیو نہیں کی گئی ۔۔۔۔ جس پر فریال نے موبائل کو گھورا ۔۔۔۔
پھر سے کال کی ۔۔۔۔
مگر اس بار بھی ندارد ۔۔۔۔
اہہہ میں آج کمرے سے کیا حویلی سے بھی باہر پھینک دوں گی کال اٹھاؤ ۔۔۔۔
وہ کہتے پھر سے کال کرنے لگی
🙌🍁
سردار جی ۔۔۔آپ کا فون مسلسل بج رہا ہے آپ دیکھ لیں ۔۔۔ اس کی کرسی کے پاس کھڑا شخص کافی ادب سے پیش ہوتے بولا
سکندر نے فون اس سے پکڑا اور موبائل کی سکرین پر جند جان کی طرف سے آتی کال کو دیکھا
وہ اپنی کرسی سے اٹھا اور کچھ سناٹے میں آتے کال اٹھائ
کیا ہوا بیگم آپ کو میری یاد آرہی ہے ؟ اس نے مسکرا کر کہا
جب کہ دوسری طرف سے چیخ کی آواز سن کر وہ ساری مستی سے نکلتا پریشان ہوا
فری تم ٹھیک ہو ۔۔۔ فری آر یو اوکے ؟ فری ۔۔۔ہیلو۔ ہیلو ۔۔۔۔
اہہہہ ۔۔۔ اس نے موبائل کان سے ہٹایا اور بی جان کے نمبر پر کال کی اور باقی سب اس کو تیز تیز قدم گاڑی کی طرف لیتے دیکھ کر گاڑز الرٹ ہوے
بی جان کا فون مصروف تھا اس کو پریشانی ہوی وہ پنچایت چھوڑ کر جلدی سے گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی حویلی کے راستے پر ڈالی
وہ بیس منٹ کا سفر پانچ منٹ میں تہہ کرتا حویلی میں دوڑتا ہوا آیا تھا اور بنا کسی کو دیکھے وہ بھاگتے ہوے کمرے میں داخل ہوا
جہاں سامنے اسے کارٹون دیکھتے پا کر اس نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
فریال نے پلٹ کر دروازے کی جانب دیکھتے آنکھیں پٹپٹائیں پھر ٹی وی بند کرتی اٹھ کر اس کی جانب بڑھی
جب کہ سامنے کھڑے سکندر کو جیسے اسے ٹھیک دیکھ کر سکون ملا تھا
کیا ہوا ؟ بھاگتے ہوے آئے ہیں ؟ وہ شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ بولی اور جیسے ہی ہاتھ اس کے سینے پر رکھا اس کے تیز رفتاری سے دوڑتے دل کی سپیڈ پر وہ ڑر گئ ۔۔۔
اپپ آپ ٹھیک ہیں کیا ہوا آپ کو ؟ وہ جو اسے ستانے کے موڈ میں تھی اب خود ڑر گئ تھی
سکندر نے بنا جواب دیے اسے سینے سے لگایا
کچھ دیر تک فریال بس اس کی دھڑکنوں کا رکس سنتی رہی پھر اس سے الگ ہوی ۔۔۔۔
تم چیخی کیوں تھی ؟ اب کی بار وہ اسے لیے صوفے پر بیٹھتے بولا
وہ ۔۔۔ فریال کہتے سر شرمندگی سے جھکا گئ
انہہہہ ۔۔۔ مجھے تمہارا جھکا سر نہیں پسںد تم سردار سکندر کی بیوی ہو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتی اچھی لگتی ہو
وہ اس کے گرد حصار باندھتا بولا
وہ میں نے اتنی کالز کی کال ریسیو نہیں کی تھی تو مجھے غصہ آگیا اور میں نے جان بوجھ کر چیخ لگای تاکہ آپ پریشان ہو جائیں ۔۔۔
وہ اسے دیکھتے مگر شرمندہ لہجے میں بولی
جب کہ سامنے بیٹھا سکندر بس اتنا بولا
تمہیں یقین تھا کہ تمہاری چیخ پر میں تڑپ جاؤں گا ؟
وہ جیسے خود کو یقین دلانے کے لیے سوالیہ ہوا
جس پر فریال نے سر اثبات میں ہلایا
تو سکندر مسکرایا ۔۔۔
پنچائیت چھوڑ کر آیا ہوں ۔۔۔ ڑر گیا تھا ایسی ہی چیخ نے مجھ سے میرے اپنے چھین لیے تھے اب مزید کچھ چھن جانے کے خوف سے لرز جاتا ہوں ۔۔۔وہ صوفے کی پشت پر سر رکھتے بولا
جب کہ فریال سوالیہ ہوی ۔۔۔ کیا مطلب ایسی چیخ ؟
ہاں بابا سائیں اور اماں سائیں کا جب ایکسیڈینٹ ہوا تھا اس وقت میں اماں سائیں سے کال پر بات کر رہا تھا ۔۔۔ مگر پھر ایک بلند چیخ ایسی چیخ کانوں نے سنی کہ پھر کان اس آواز کو سننے کو ترس گئے ۔۔۔ اماں سائیں کی بابا سائیں کی بہت یاد آتی ہے ۔۔۔۔
وہ آنکھوں کے کنارے بھیگںے پر سیدھا ہو کر بیٹھا اور انہیں صاف کرنے لگا
سوری ۔۔۔۔ فریال کی معصوم آواز پر اس کو دیکھا جو بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
تم پھر سوری کیوں کہہ رہی ہو ؟ وہ سوالیہ ہوا اور اس کی آنکھیں اپنی انگلیوں کے پوروں سے صاف کرنے لگا
کیونکہ میری چیخ نے ہرٹ کیا ۔۔۔۔ میں تو بس شرارت کر رہی تھی ۔۔۔۔ وہ اس کے سینے سے لگتے بولی
سکندر مسکرایا ۔۔۔
تم تو رونق ہو میرے دل کی بہار ہو تم ۔۔۔ وہ مسکرا کر بولا
🍁🍁🍁
شہریار اس وقت شہر کی تنگ گلی میں کھڑا تھا ۔۔۔۔ اب وہ موبائل سے کچھ دیکھتا پھر چند قدم آگے لینے لگا
گلی میں کچھ عورتیں اسے دیکھ کر آپس میں باتیں کرنے لگیں جبکہ وہ سب سے بے نیاز اپنے کام میں مصروف تھا
جب اچانک اس کا موبائل بجنے لگا
اس نے احتیاط سے موبائل جیب سے نکالا ۔۔۔۔
ہیلو سر ۔۔۔۔
اس نے کان سے فون لگاتے کہا
دوسری طرف سے کچھ کہا گیا جس پر وہ گلی میں موجود گھروں کو غور سے دیکھنے لگا
پھر کال ابھی جاری تھی کہ وہ ان عورتوں کے پاس گیا
کیا یہاں کوی کرایے جا گھر مل سکتا ہے کچھ عرصے کے لیے ؟
اس کے سوال پر ان عورتوں میں سے ایک عورت نے اس خوبصورت مرد کو دیکھا پھر کہا
یہاں تو ساری آبادی خود رہتی ہے یہاں کوی کرایے کا مکان نہیں مل سکتا تمہیں ہاں مگر تم بتا دو کرنے لوگوں کے لیے چاہیے تو میں کچھ بندوبست کر دوں گی ۔۔۔۔
اس عورت کی بات پر کان سے لگے موبائل سے اس نے آتی آواز پر سر ہلایا اور کہا
جی مجھے دو لوگوں کے لیے گھر چاہیے ۔۔۔
اسکی بات پر عورت نے اسے پھر سے اوپر سے نیچے تک دیکھا
اچھا ۔۔۔ کیا کوی لڑکی رہے گی ؟ اس عورت کے سوال پر شہریار نے سر اثبات میں ہلایا
لگتی کیا ہے وہ تمہاری ؟
جی میری بیوی اور میں ہی رہنے والے ہیں اگر آپ کو کوی مسلہ نا ہو تو ۔۔۔ شہریار کی بات سن کر عورت نے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
دیکھو لڑکے میں تمہیں گھر تو دیکھا دیتی ہوں مگر مجھے کچھ رقم ایڈوانس چاہیے میرے شوہر کی طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے مجھے گھر میں کروائے دار رکھنے پڑ رہے ہیں ورنہ میرا ایسا کبھی کوی ارادہ نہیں تھا
اس عورت نے چلتے ہوے کہا جب کہ اس کے پیچھے ہی شہریار نے چلتے ہوے سر ہلایا
آپ بے فکر رہیں آپ کو ایڈوانس کرایہ مل جائے گا ۔۔۔۔
اسکی بات پر عورت نے سر اثبات میں ہلایا
جب کہ پیچھے کھڑی عورتوں نے بھی رشک سے اس خوبصورت لمبے چوڑے وجود کو دیکھا تھا جو کہیں سے بھی کروائے کے گھروں میں رہنے والا تو نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔
🍁🍁🍁
جی بی جان !
شایان جو گاؤں کی زمینوں پر آیا تھا تاکہ کچھ وقت گزار سکے بی جان کی کال آتے دیکھ کر اس نے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگاتے کہا
بیٹا تم کہاں ہو اس وقت تمہاری اماں سائیں سیڑھیوں سے گر گئ ہیں ۔۔۔۔
بی جان نے فریال کی بتائ ترکیب بتائ
جس پر شایان پریشان ہو گیا ۔۔۔
بی جان میں بس گاؤں میں ہی ہوں آپ پلیز اماں سائیں کے پاس رکین میں ڈاکٹر کو لے کر آتا ہوں ۔۔۔۔
کیا ان کو زیادہ چوٹیں آئی ہیں
وہ جلدی سے بڑے بڑے قدم لیتا دور کھڑی اپنی گاڑی کی طرف بڑھا اور ساتھ موبائل پر دوسری جانب بی جان سے سوالیہ ہوا
بس بیٹا تم جلدی گھر پہنچو ۔۔۔
بی جان نے بس اتنا کہتے فون بند کر دیا
شایان جلدی سے گاڑی کی طرف بھاگا
اسے اس طرح بھاگتے دیکھ کر واک پر آئ مقدس جو پھولتی سانسوں کی وجہ سے کچھ دیر آرام کے لیے بیٹھ گئ تھی
پریشانی سے اٹھتی اس کی جانب بڑھی
ارے کیا ہوا تم اتنے پریشان کیوں ہو ؟
شایان جو کہ گاڑی تک پہنچ چکا تھا اس کو پیچھے سے مقدس کی آواز آئ تو پلٹا
وہ گلابی رنگ کی لمبی قمیض پہنے سر پر بھوری چادر پہنے پاؤں میں سلور جوتی ڈالے کھڑی تھی جب کہ سانس پھول جانے کی وجہ سے اسکی عاضیں لال ہو چکی تھیں
جب کہ وہ اپنی موٹی آنکھوں کو مزید موٹا کیے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
مقدس نے آئ برو اچکای تو وہ سنبھلا
ہاں وہ اماں سائیں سیڑھیوں سے گر گئ ہیں اس لیے پریشان تھا ۔۔۔
وہ کہتا گاڑی میں بیٹھنے لگا ۔۔۔
رکو رکو مجھے ساتھ لیتے جاؤ مجھے فری سے ملنے جانا تھا ۔۔۔
مقدس بھی جلدی سے پیچھے کی سیٹ پر بیٹھتے بولی
جبکہ شایان نے پلٹ کر اسے دیکھا ۔۔۔تم اس طرح کسی کی گاڑی میں کیسے بیٹھ سکتی ہو ؟ کیا تمہیں پریشانی نہیں ہو گی کہ میں تمہیں اگوا کر سکتا ہوں ؟
وہ کہہ کر سیدھا ہوتا سٹیرنگ سنبھالتے گاڑی چلانے لگا
ہاہاہا ۔۔۔ تم مجھے اگواہ کرو گے ۔۔۔ ارے چوزے تم نے میرے ایک پنچ سے زمین بوس ہو جانا ہے ۔۔۔
مقدس اپنے موٹے موٹے سرخ و سفید ہاتھوں کی مٹھی بنا کر اپنی آنکھوں کے سامنے کرتے بولی
شایان نے شیشے سے اسکی حرکت کو دیکھا
اگر میں سچ میں ہمیشہ کے لیے قید کر لوں تو ؟ وہ نارمل لہجے میں بولا
مگر اس بار مقدس نے شیشے میں نظر آتی اسکی بھوری آنکھوں کو دیکھا
کاش ۔۔۔ وہ کہہ کر گاڑی کے شیشے سے باہر کے منظر کو دیکھنے لگی
اسکے کاش کی آواز شایان کے کانوں تک نہیں پہنچ سکی تھی
🍁🍁🍁
تو کیسا لگا تمہیں گھر ؟
وہ عورت شہریار سے بولی ۔۔۔
جی بہتر ہے مگر یہ تو ایک کمرہ ہے مجھے دو چاہیے ۔۔۔
ارے لڑکے ابھی تم نے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی رہو گے پھر دو کمرے کیوں چاہیے ۔۔۔
وہ عورت بولی جب کہ شہریار سوچ میں پڑ گیا ۔۔
جی بہتر ۔۔۔
اچھا آپ یہ ایڈوانس رقم رکھیں میں کل ہی یہاں شفٹ ہونا چاہتا ہوں ۔۔۔
وہ اس عورت کو پیسے پکڑاتے بولا
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ۔۔ وہ عورت پیسے لے کر بولی
اوکے اب میں چلتا ہوں ۔۔ شہریار کہتے ہی گھرسے نکل گیا ۔۔ گھر چھوٹے پیمانے پر بنایا گیا تھا جہاں سے مین دروازے
کے پاس ایک چھوٹا سا لون تھا
جبکہ اندر کی جانب دو کمرے تھے اور اوپر کی منزل پر ایک کمرہ کیچن اور واشروم تھا ۔۔۔۔
جس کا راستہ الگ سے باہر کو جاتا تھا مگر اسکی سیڑھیوں کا منظر نیچے کے پورشن سے بھی نظر آتا تھا
وہ گھر سے باہر نکلا پھر فون کان سے لگایا
اور بات کرتے کرتے وہ اپنی گاڑی تک پہنچا اور پھر گاڑی میں سوار ہوتے وہ گاڑی بھگا کر لے گیا
🍁🍁🍁
فریال جو اس کے سینے سے لگی سو گئ تھی سکندر نے اسے نرمی سے پیچھے کرتے اسے اٹھایا اور بیڈ پر لا کر لٹا دیا ۔۔۔
پھر اس پر کمفرٹر اچھی طرح اوڑھتے وہ کمرے کی لائٹ افف کرتا کمرے سے نکل گیا
شایان اور مقدس حویلی کے داخلی دروازے سے مل کر اندر داخل ہوے
لاونج میں بی جان کے ساتھ سائرہ بیگم بیٹھی تھیں جن کے پاؤں پر پٹی لگی تھی
کیا ہوا اماں سائیں کیسے گر گئیں آپ ؟
وہ جلدی سے سائرہ بیگم کی طرف بڑھا
بس بیٹا دھیان نہیں رہا کہ گر گئ ۔۔۔
شایان ان کے پاس بیٹھ کر ان کو سینے سے لگائے ان کا سر چومنے لگا
جبکہ مقدس بی جان کی طرف بڑھی
اسلام وعلیکم بی جان ! کیسی ہیں آپ ؟
وعلیکم السلام کیسی ہو بیٹا ؟
بی جان نے شفقت سے اس کو مسکرا کر کہا
بی جان میں بلکل ٹھیک ہوں ! وہ بھی مسکرا کر جواب دیتی بیٹھی
آپ کو کیا ہوا آنٹی ؟
اس نے صوفے پر بیٹھتے انجان بنتے ہوے سائرہ بیگم سے پوچھا
وہ اماں سائیں سیڑھیوں سے گر گئ ہیں ۔۔۔ شایان نے سائرہ بیگم کو سینے سے لگائے جواب دیا
اوہو ۔۔۔ بی جان میں فری سے ملنے آئ تھی ۔۔۔ کیا میں مل لوں وہ اجازت طلب کرتی کھڑی ہوی
سکندر جو سیڑھیوں سے اتر رہا تھا اس طرف بڑھا ۔۔۔ مقدس کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے بولا
چھوٹی دراصل وہ سو رہی ہے ۔۔۔ تم برا نا مانو تو کچھ دیر انتظار کرلو پھر جانا ۔۔۔ ہممم ۔۔
سکندر کے لفظوں میں فریال کے آرام کو لے کر اتنی احتیاط دیکھ کر مقدس مسکرای ۔۔۔
ٹھیک ہے سردار جی ۔۔۔ وہ کہتے واپس بیٹھ گئ
سکندر سائرہ بیگم کے پاؤں پر چوٹ دیکھ کر چونکا ۔۔۔
آپ کو کیا ہوا چچی سائیں ؟
بس بیٹا گر گئ تھی میں تو چوٹ لگ گئ ۔۔۔ سائرہ بیگم ناٹک کرتے بولیں ۔۔۔
آپ نے ڈاکٹر کو چیک کروایا ؟
وہ سوالیہ ہوا
نہیں بیٹا اتنی بھی چوٹ نہیں تھی پروین نے گرم پٹی کر دی ہے ۔۔
سائرہ بیگم نے جواب دیا
شایان تم گھر پر ہی رہو ۔۔۔ اور اگر کوی مسلہ ہوا تو مجھے بلا لینا اوکے ؟
جی بڈی ۔۔۔ شایان نے بھی کہا جس پر وہ سر ہلاتا ہنوز سیریس انداز میں بڑے بڑے قدم لیتا حویلی سے باہر نکلتا چلا گیا
سکندر کتنا بدل گیا ہے ۔۔۔ سائرہ بیگم نے اسکی پشت دیکھتے کہا ۔۔
تو بی جان اور شایان مسکرائے ۔۔۔
وہ پہلے بھی سب کا خیال رکھتے تھے فرق صرف اتنا ہے پہلے جتاتے نہیں تھے اب ان کے انداز سے پریشانی نظر آتی ہے ۔۔۔۔
شایان نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
مائرہ اپنے کمرے سے نکلی اور لاونج میں آئ جہاں سب بیٹھے تھے ۔۔
ارے ۔۔۔۔۔ یہ تم کہاں جا رہی ہو؟ اس کے ہاتھ میں اپنا بیگ اور ساتھ اپنا سوٹ کیس دیکھ کر سائرہ بیگم سوالیہ ہوئیں
پھپھو آپ کو بتایا تھا نا میری دوست کی برتھ ڈے پارٹی ہے اس لیے میں واپس جا رہی ہوں ۔۔۔ اس نے کہا جس پر سائرہ بیگم اب سب کے سامنے اسے کیسے روکتی کہ وہ ان کی خدمت کا ناٹک کرے ۔۔ سائرہ بیگم نے شرمندہ سا سر جھکا لیا
ماما سے اتنا پیار کرنے کے جو دعوے کرتی ہو ۔۔۔ اب تمہارا ٹیسٹ ہے ماما کی چوٹ کی وجہ سے تم پارٹی میں نے جاو۔۔۔
شایان جو پہلے ہی اپنی ماں کی آنکھوں سے پٹی اتارنے کی کوشش میں لگا تھا اب ہاتھ آیا موقع نہیں گوا سکتا تھا اس لیے وہ جانتا تھا کہ جواب کیا ہو گا اس لیے اپنی ماں کے سامنے ہی بات کی
سوری پھپھو ۔۔۔ یہاں آپ کے ساتھ بہت لوگ ہیں آپ کا خیال رکھنے کے لیے اور ویسے بھی ملازموں کی فوج ہے یہاں ۔۔۔
آپ کو کوی پریشانی نہیں ہو گی ۔۔۔۔ مجھے پارٹی میں جانا ہے کیونکہ میرے بہت سے دوست لندن سے بس ملنے کے لیے آرہے ہیں میرا جانا ضروری ہے ۔۔۔
مائرہ نے سائرہ بیگم کے پاس جاتے کہا
ہاں ہاں ٹھیک ہے تم جاؤ ۔۔۔ سائرہ بیگم کو اس پر غصہ تو بہت آیا مگر پھر خاموشی سے بات کو بنا تول دیے رفع دفع کیا
مائرہ جلدی سے سامان لیتی سائرہ بیگم سے ملتی اور شایان کی طرف بڑھی ۔۔۔ تاکہ جاتے ہوے اس سے ملے مگر وہ جلدی سے پیچھے ہوا ۔۔۔
اپنا خیال رکھنا ۔۔ وہ کہتا وہاں سے چلا گیا
اولڈ سکول ۔۔۔ مائرہ اسکی حرکت پر بڑبڑای
انہہہ وہ اولڈ سکول نہیں ہے بیٹا ۔۔۔ بی جان اس کی بڑبڑاہٹ سن چکی تھیں اسلیے بولیں
یہ اسکی تربیت ہے کہ اسے اچھے سے پتہ ہے کن عورتوں کے قریب رہنا ہے اور کن سے کنارہ کرنا ہے ۔۔۔
دوستیاں اپنی جگہ ہوتی ہیں مگر کچھ دائرے ایسے ہوتے ہیں جس میں نا صرف عورت کو رہنا چاہیے بلکہ وہ دائرے مرد کی زات کے لیے بھی مقرر ہیں
کہ وہ کسی بھی عورت کے قریب بنا رشتے کے نا جائے ۔۔۔
اوہوو ۔۔۔ بی جان وہ میرا کزن ہے ۔۔۔ مائرہ منہ کے زاویے بناتی بولی
بیٹا ۔۔۔رشتوں کو بڑی احتیاط سے کسی کانچ کے برتن کی طرح رکھنا ہوتا ہے ۔۔۔۔ ایک دفع کانچ ٹوٹ جائے تو آپ چاہے کچھ بھی کر لیں اب نا تو کانچ جوڑ سکتے ہیں نا پہلے جیسے رشتے نا ہی اپنی کھوئ ہوی عزت واپس پا سکتے ہیں
بی جان کی باتوں پر مقدس مسکرای
اوکے پھپھو میں چلتی ہوں ۔۔۔ سائرہ بیگم کو دیکھتی مائرہ وہاں سے کہتے چلی گئ ۔۔۔۔
میرے خیال سے اب تو فری اٹھ گئ ہوگی ۔۔۔۔ مقدس کہتے وہاں سے اٹھ کر فریال کے کمرے کی طرف بڑھ گئ
سوچ لو اچھی طرح ۔۔۔۔
بی جان کی بات پر سائرہ بیگم چونکیں
کیا مطلب ؟
مطلب یہ کہ تم اپنی خواہش تو پوری کرنا چاہتی ہو مگر یہ ضرور دیکھنا کہ کیا جس کو لے کر تم اتنی خواہش مند ہو وہ بھی ویسی خواہش رکھتی ہے
آپ کھل کر بات کریں بی جان ۔۔ سائرہ بیگم نے کہا
ہمم۔۔۔ تم مائرہ کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہو۔۔۔ مگر مجھے اس بچی کے انداز سے کہیں سے بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ وہ بھی ایسا کچھ چاہتی ہے ۔۔۔ اور نا ہی شایان ایسا کچھ چاہتا ہے ۔۔۔
اپنی خواہش بیٹے پر مسلت کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا کہ کیا وہ تمہاری امید پر پوری اترے گی ؟
بی جان کہتے ہی اٹھ کر کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔
جب کہ سائرہ بیگم کافی دیر وہاں بیٹھیں بی جان کی باتوں پر سوچ میں پڑی رہیں
Episode 05
Season 2
🍁🍁🍁
فریال ۔۔۔۔ مقدس کمرے میں آی اسے سوتے دیکھ کر اسے پکارا جو بیڈ پر کمفرٹر میں ڈبکی پرسکون سو رہی تھی
مگر مقدس نے پھر سے اونچی آواز میں اس کے کان کے پاس جاتے اسے آواز لگای ۔۔۔
اہہہہ ۔۔۔ مقدس آہستہ بولو ۔۔۔ کان پھاڑنے ہیں میرے ؟
فریال اچھل کر سیدھی ہوتی بولی اور کانوں پر ہاتھ رکھا
ہاں تو اتنے پیارے موسم میں تم کیا بستر مرگ پر پڑی آخری نیںد پوری کر رہی ہو ۔۔۔
ہاں پتہ نہیں کب میری آنکھ لگ گئ ۔۔۔
خیر تم بتاؤ تم کب آی ۔۔
فریال اس کے موٹے موٹے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے اس کے ہاتھوں کو اپنے چہرے سے لگاتے محبت سے بولی
بس میں تو چکر لگانے نکلی تھی پھر راستے میں تمہارا دیور ملا تو لفٹ لے کر یہاں پہنچ گئ ۔۔۔
اب تم ساتھ چلو میرے ۔۔۔۔ ہم بہار چلتے ہیں
مقدس نے بھی پیار سے کہا
ارے نہیں اب میں شادی شدہ ہوں پہلے سائیں سے اجازت لینی پرے گی ۔۔۔ پھر ہی جا سکتی ہوں نا ۔۔۔
فریال نے مسلہ پیش کیا
ارے یار ایک کام کرو تم ان کو سر پرائیز دیںا ان کے ڈیرے پر چلتے ہیں
ارے نہیں بھئ ابھی تو وہ گھر آئے ہوے تھے پھر کیا ۔۔۔ نہیں کچھ اور سوچو ۔۔۔۔ فریال نے انکار کیا
اچھا ۔۔۔
مقدس کہتے ہی سوچ میں پڑی ۔۔۔ تم اٹھو اور تیار ہو جاؤ ۔۔ چلو تمہیں بہت پیاری جگہ پر لے کر چلتی ہوں
مقدس کی بات پرفریال سر ہلاتی اٹھی اور پاؤں میں جوتے اڑیستے الماری سے کپڑے لیے وہ واشروم میں بند ہوئ
پھر کچھ دیر بعد وہ لوگ بی جان سے اجازت لے کر حویلی سے باہر کھڑی تھیں ۔۔
فریال نے لمبی پنک کلر کی قمیض کے ساتھ کھلا ٹراؤزر پہنا تھا جب کہ کالی چادر کیے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی
تمہیں پتہ ہے یہاں گاؤں میں ایک خوبصورت منظر ہے آج تمہیں وہ دیکھاؤں گی ۔۔۔ مقدس کہتے اسے لیے وہاں سے آگے بڑھ گئ
🍁🍁🍁
سکندر رات کو جب گھر آیا ۔۔ توکافی تھکا ہوا تھا سارا دن کام کی وجہ سے وہ آرام نا کر سکا اس لیے اب وہ تھکا ہارا گھر کے اندر داخل ہوا کہ
اسے سامںے پریشان سی بی جان کھڑی نظر آئیں
بی جان کیا ہوا آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں ؟
ارے بیٹا ابھی تک شہریار گھر پر نہیں آیا اور نا ہی شام سے گئ فریال واپس آئ ہے ۔۔۔
مجھے پریشانی ہو رہی ہے ۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔ شہریار صبح کا گیا ابھی تک واپس نہیں آیا ؟
سکندر پریشان ہوا
اور فریال کہاں گئ تھی ؟
ہاں بیٹا صبح سے گیا ہے شام سے نمبر بند جا رہا ہے اسکا ۔۔۔۔
اور فریال بھی مقدس کے ساتھ چہل قدمی کے لیے گئ تھی ابھی تک نہیں آئ ۔۔
بی جان پریشانی سے بولیں ۔۔۔ جبکہ پریشان سائشہ بھی بی جان کی بات پر سیڑھیوں پر ہی کھڑی ہو گی۔۔۔ وہ تو دوپہر سے کال کر رہی تھی مگر نمبر بند جا رہا تھا
اب اسے پریشانی ہونے لگی ۔۔۔
یا اللہ وہ جہاں بھی ہوں ان کو اپنی حفاظت میں رکھنا ۔۔۔۔
وہ دعا گو ہوی ۔۔۔
اچھا بی جان آپ پریشان مت ہوں میں دیکھتا ہوں اور فریال شاید مقدس کے ساتھ ہی چلی گئ ہوگی ۔۔۔۔
سکندر خود بھی پریشان ہو گیا کیونکہ کچھ دنوں سے وہ محسوس کر رہا تھا کہ شہریار کچھ چھپا رہا ہے اس سے ۔۔۔۔
وہ بی جان کو صوفے پر بیٹھاتا جانے لگ ۔۔۔ سائشہ بی جان کے پاس آکر بیٹھی ۔۔۔
بی جان آپ خود کی طبعیت مت خراب کریں ۔۔ سائیں آجائیں گے ۔۔۔
وہ ان کو حوصلہ دینے لگی مگر دل خود کا بھی پریشان تھا ۔۔۔
سکندر حویلی کے داخلی دروازے سے باہر نکلا ۔۔ اور فریال کو کال کی ۔۔۔ مگر کال ریسیو نہیں ہوی ۔۔۔
وہ جلدی سے باہر نکلا ۔۔۔ گاڑز نے جلدی سے گاڑی تیار کی اور دو گاڑیاں دو منٹ کے اندر ہی فراٹے سے حویلی کا دروازا پار کرتی نکل گئیں
🍁🍁
دروازے پر دستک دی ۔۔۔
سکینہ نے کچھ دیر میں دروازہ کھولا
ارے سردار جی آپ ؟ وہ چونکتے ہوے بولیں
فریال ۔۔۔۔ کہاں ہے ؟
اس نے دو ٹوک لہجے میں سوال کیا
کیا مطلب فری تو حویلی تھی نا؟
سکینہ بی پریشان ہوتے بولی
مقدس کہاں ہے ؟ سکندر کو کچھ غلط محسوس ہوا
وہ تو اندر سو رہی ہے ۔۔۔
اس نے کہا تھا فریال کو حویلی کے دروازے پر چھوڑ کر وہ واپس گھر آی ہے ۔۔۔
سکینہ بی کی بات پر سکندر نے ماتھا مسلا
ارے نہیں وہ مجھے لگا شاید آپ کی طرف ہو گی آپ پریشان مت ہوں حویلی ہی ہو گی ۔۔۔
وہ کہتے جلدی سے چلا گیا ۔۔۔
سکینہ بی بھی پریشان ہوئیں
🍁🍁
سکندر نے واپس کے لیے پیدل قدم بڑھائے ۔۔۔ جب اسے پیچھے سے مقدس کی آواز آئ
کیا ہوا اماں ۔۔۔کون آیا ہے اس وقت ؟
سکینہ بی نے پلٹ کر مقدس کو دیکھا ۔۔۔
تم کہہ رہی تھی کہ تم حویلی چھوڑ کر آئ تھی فری کو ۔۔۔ سردار جی تو اسے تلاش کر رہے تھے ۔۔۔اب ناجانے میری معصوم گڑیا کہاں ہے ۔۔۔
کیا ؟ کیا وہ ابھی تک گھر نہیں گئ ؟
مقدس نے حیرت زدہ ہوتے کہا
ہاں وہ شاید ابھی تک نہیں گئ ۔۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کہاں ہو گی ؟ کیا تم اسے کہیں لے کر گئ تھی ؟
سکندر نے الٹے قدم لیتے جلدی سے سوال کیا
جی وی سردار جی ۔۔۔ مقدس ڑرتے ہوے بولی
دیکھو چھوٹی بتاؤ میری فری کہاں ہے مجھے پریشانی ہو رہی ہے رات کے اس وقت تک وہ گھر نہیں ہے پتہ نہیں کیسی ہو گی ۔۔۔
سکندر نے جلدی سے کہا ۔۔۔ تاکہ وہ اس سےڑرے نہیں ۔۔ ساتھ اپنی پریشانی بھی واضح کی
وہ دراصل پاس کے گاؤں کی نیلی جھیل کے پاس لے کر گئ تھی اسے میں ۔۔۔ اسے وہاں بہت اچھا لگ رہا تھا اس لیے اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ خود واپس چلی جائے گی ۔۔۔
مجھے معاف کر دیں میں دھیان نہیں رکھ پائ اسکا ۔۔
مقدس بھیگی آنکھوں سے بولی ۔۔۔ پریشانی سے گال بھی لال ہو چکے تھے ۔۔۔
سکندر نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔۔
کیا تم پاگل ہو ۔۔۔تم جانتی ہو وہ علاقہ ہمارے دشمنوں سے ملتا ہے اس جگہ کے لوگ اس گاؤں کے دشمن ہیں ۔۔۔ تم اسے لے کر وہاں چلی گئ ؟
وہ تو انجان تھی مگر تم تو جانتی تھی ۔۔۔ دیکھو ۔۔ اگر اسے خروش بھی آئ تو میں خود پر کنٹرول نہیں رکھ پاؤں گا ۔۔۔۔
سکندر یکدم آگ بگولہ ہوتا سخت بھرم لہجے میں بولا۔۔۔
اسکی آواز پر مقدس کانپ اٹھی اور ہچکیوں سے رونے لگی ۔۔۔۔
جس پر سکندر کو اپنے لہجے پر شرمندگی ہوی
چھوٹی ایم سوری ۔۔ مجھے فری کی ٹینشن ہو رہی ہے بس اس لیے سخت الفاظ استعمال کر گیا ۔۔۔ معزرت خواہ ہوں ۔۔۔
وہ خود کو کنٹرول کرتا معزرت کرتا وہاں سے چلا گیا
اماں یہ میری وجہ سے ہو رہا ہے میری فری کسی پریشانی میں نا ہو میں کتنی پاگل ہوں اسے وہاں چھوڑ دیا کہ وہ چلی جائے گی واپس۔۔۔
اماں میری فری ۔۔۔
مقدس سکینہ بی کے سینے سے لگتی ہچکیوں سے رونے لگی
جب کہ سکینہ بی پریشانی سے بس اسے تھپکیاں دینے لگیں
🍁🍁
اسلام و علیکم بڈی ۔۔۔ بھائ حویلی واپس آگئے ہیں آپ بتائیں بھابھی کہاں ہیں ؟
شایان نے کال رسیو ہوتے کہا۔۔۔ جب کہ بلو تھتھ کان میں لگائے خود ڑراییور کرتا گاڑی فراٹے سے بھگاتا سکںدر دانت بھینچ کر گاڑی چلا رہا تھا جب کہ ہاتھوں کی نسیں باہر آنے کو تھیں
وہ خوشحال پر میں ہے ۔۔۔۔ وہ بولا دل چاہا کہ ہر چیز کو آگ لگادے
اگر اسکی فریال کو کچھ ہوا تو وہ اس گاؤں جو آگ لگادے گا
کیا ؟ بڈی بھابھی وہاں کیسے پہنچیں ؟
شایان بھی جانتا تھاکہ وہ سکںدر کے جانی دشمن تھے ان کے علاقے میں نور پر گاؤں کا کوی بھی آدمی سلامت واپس نہیں آتا تھا
شایان ۔۔۔۔ابھی گاڑزکو الرٹ کرو کہ وہ لوگ چپے چپے پر کھڑے ہوں کسی بھی قسم کی کوی غیر معمولی حرکت ہو تو مجھے انفارم کریں ۔۔۔
اور شہریار سے بات ہو چکی ہے میری ۔۔۔۔
وہ کہتے فون۔ کاٹتا اس وقت خوشحال پر گاؤں کے بوڈ کے پاس سے گزرا۔۔۔۔۔
نور پر گاؤں کے سردار کی اور خوشحال پر گاؤں کے سردار زکریہ کی دشمنی کافی پرانی تھی ۔۔۔۔۔۔ اسی گاؤں کے لوگوں نے نور پر گاؤں میں اسکول پر حملہ کیا تھا
اور ان کی دشمنی کی وجہ سے سردار سکندر کے دل کی دھڑکن تیز تھی ۔۔۔
گاؤں کے ویسے تو راستے الگ تھے مگر گاؤں پیچھے کے راستے سے ملتے تھے ۔۔۔ جہاں پر نیلی نہر تھی جس میں نیلا پانی بہتا تھا۔۔۔وہ منظر بے تحاشہ خوبصورت تھا اور وہ خوشحال پر گاؤں کے سردار زکریہ کی ملکیت تھی
سکندر نے گاڑی ایک طرف روکی کیونکہ اسے اندر جانا تھا مگر خفیہ طریقے سے کیونکہ اگر کسی کو علم ہو جاتا تو وہ لوگ ضرور فریال کو نقصان پہنچاتے ۔۔۔
گاؤں کے چبارے پر پیلی روشنی آویزاں تھی سکںدر بے آواز بڑے بڑے قدم لیتا وہاں سے چلتا ہوا
نیلی نہر تک پہنچا۔۔۔
جہاں گہرا اندھیرا تھا ۔۔۔۔ تتلیاں اڑتی اس خوبصورت منظر کو مزید چار چاند لگا رہی تھیں
سکندر نے فون کی لائٹ آن کرتے وہاں جا کر فریال کو تلاشہ اسے وہاں نا پا کر دل مزید تیز رفتار سے دوڑنے لگا ۔۔۔۔
آنکھوں کے کنارے پریشانی میں بھیگ گئے ۔۔۔ ہر طرف تلاش پر بھی اسے وہ کہیں نا ملی
سکندر دل میں اٹھتی تکلیف پر زمیں پر بیٹھ گیا
یا اللہ میں نے ہمیشہ انصاف کے ساتھ کام لیا ہے کیونکہ یہ تیری خوبصورت صفت ہے یا اللہ یہ زمین تیری ہے میں تجھ سے التجا کرتا ہوں وہ اس زمین پر جہاں بھی ہے اسے مجھ تک پہنچا دے۔۔۔
وہ کہتے سر سجدے میں جھکا گیا
تیز ہوا سر نہر کے قریب سوکھے پتوں میں سرسراہٹ سی ہونے لگی ۔۔۔
اچانک بارش برسنے لگی ۔۔۔ وہ جو آنکھیں بند کیے اپنے رب کی بارگاہ میں دعا گو تھا ۔۔۔اسے بارش محسوس نہیں ہوی
پھر وہ اٹھا تو اس کا سارا وجود بھیگ چکا تھا
وہ سوکھے پتے جو کہ اب گیلے ہو چکے تھے ان پر پاؤں رکھتا وہ جانے لگا
سائیں ۔۔۔ کی پکار پر رکا ۔۔ پلٹ کر دیکھا تو وہ اسکی فریال تھی ۔۔۔سکندر نے کسی معجزے کی طرح اسے عقیدت سے دیکھا ۔۔۔ گیلے بال ماتھے پر گر گئے ۔۔
سوری سائیں مجھے پتہ ہی نہیں چلا اور میں یہیں سو گئ تھی ۔۔۔نجھے بیمار سمجھ کر ۔۔ ابھی وہ مزید کچھ کہتی جب سکندر نے اسے کھینچ کر اپنے حصار میں لیا
دل کی تیز دھڑکنوں نے ایک بار پھر رفتار پکڑلی ۔۔۔
سائیں آپ کا دل کیوں اتنا دھڑک رہا ہے ؟ کیا آپ پریشان تھے ؟ وہ الگ ہوتے بولی اور گیلے چہرے پر گرا پانی کی وجہ سے آنکھیں بند ہو رہی تھیں
سکندر نے خاموشی سے اسے دیکھا ۔۔۔
جیسے برسوں سے اسے دیکھا ںاہو۔۔۔ اسے کچھ ہو نا جائے اس خوف سے اسکا دل کتنا بے چین تھا وہ اسے کیسے بتاتا۔۔۔۔۔
وہ پگلی تو جانتی بھی نہیں تھی کہ سامنے کھڑے شخص پر قیامت تھی اس کا کچھ پل بھی نظر نا آنا
فریال نے اس کے ماتھے پر گرے گیلے بالوں کو انگلیوں سے پیچھے کیا
آپ ناراض ہیں مجھ سے ؟ وہ اسے خود کی طرف دیکھتے پا کر پریشانی سے بولی
سکندر اب بھی خاموشی سے اسے دیکھتا رہا
سائیں ۔۔۔ میں بس واپس جانے والی تھی کہ پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئ ۔۔۔
مجھے بیمار سمجھ کر ایک خاتون مجھے اپنے گھر لے گئ ۔۔۔مگر میری آنکھ کھلی تو میں نے اسے واپس جانے کا کہا۔۔۔
اس نے مجھے بتایا کہ یہ آپ کی دشمن کا گاؤں ہے اس لیے خاموشی سے یہاں سے جاؤں پر مجھے تو واپسی کا راستہ ہی بھول گیا تھا اس لیے تب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی آپ مجھے لینے آئیں گے
فریال نے اسے خاموش پا کر بات بتائی ۔۔۔
تمہیں کچھ ہو جاتا تو ؟ تم نے سوچا ہے میری زندگی میں تمہاری جو جگہ اسکی خلا کبھی پوری ہو پاتی ؟
تم اتنی لاپرواہ کیسے ہو سکتی ہو؟ میرا بھی نہیں سوچا ؟
وہ جب بولا تو لہجے میں درد تھا جیسے صدیوں سے وہ اس سے دور تھی ۔۔
سائیں مجھ معاف کریں آئیندہ کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔
وہ شرمندہ ہوتی بولی ۔۔۔۔
مگر اس بار سکندر نے لب بھینچ لیے اور اسے تھامتا واپس ہو گیا
حویلی کے دروازے پر گاڑی روکتا وہ گاڑی سے نکلا بنا اس کا انتظار کیے وہ اندر بڑھا
فریال شرمندہ تھی کہ اس کی لاپرواہی کی وجہ سے وہ پریشان تھا
وہ اس کے پیچھے ہی گاڑی سے نکلی اور حویلی کے داخلی دروازے کی طرف بڑھی
بی جان نے اندر آتے سکندر کو آگے ہوتے تھاما ۔۔
فری کہاں ہے بیٹا ؟ تم اسے ساتھ نہیں لائے ؟
لے آیا ہوں ۔۔۔ اس کو نا ہی میری فکر اور ںا ہی اپکی طبیعت کی ۔۔
وہ کہتے بنا شایان شہریار اور سائشہ پر نظر ڈالے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا
جبکہ پیچھے شرمندہ سی آتی فریال نے اسکی ناراضگی کو بھانپ لیا تھا
بی جان مجھے معاف کریں میری لا پرواہی کی وجہ سے آپ سب پریشان تھے۔۔۔ وہ بی جان کے پاس آتے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے بولی
ارے نہیں بیٹا ہمیں بس تمہاری فکر تھی کہ تم خیریت سے ہو ۔۔ اللہ کا شکر ہے کہ تم ٹھیک ہو ۔۔ پریشان مت ہو وہ ناراض ہے تم سے بس اس لیے ایسے بول کر گیا ہے ۔۔۔
بی جان نے اسے سکندر کے لہجے پر کہا
سائشہ نے آگے بڑھتے فری کو گلے لگایا
شکر ہے آپ مل گئیں ۔۔ بھای کی حالت بہت خراب ہو گئ تھی آپ کو لے کر ۔۔۔۔
سائشہ کی بات پر اس نے خاموشی سادھ لی
🍁🍁🍁
سائشہ کی کال ہے ۔۔۔۔۔ ٹن ٹن کرتے فون کو بجتے دیکھ کر مقدس نے سکینہ بی جو بتایا پھر کال اٹھائ
فری ملی ؟
وہ جلدی بولی
ہاں وہ سکندر بھای کے ساتھ حویلی واپس آگئی ہے تم پریشان مت ہو ۔۔۔۔ اب رونا مت ۔۔۔ سائشہ جانتی تھی کہ وہ رو رہی ہے اسلیے کہا
فریال ٹھیک تو ہے نا؟ مقدس نے اپنی موٹی گالوں پر ہاتھ رگڑتے کہا
ہاں وہ ٹھیک ہے اب آرام کرںے گئ ہے ۔۔۔تم صبح ملنے اجانا۔۔۔ اب سو جاؤ ۔۔۔ پریشان مت ہو ۔۔۔
سائشہ کی بات پر مقدس نے ہمم کہتے کال بند کی
🍁🍁
آپ کہاں تھے سارا دن آپ نے کال نہیں کی نا میری کال رسیو کی پھر آپ کا نمبر بھی بند جا رہا تھا ایک طرف فریال کی گمشدگی اور دوسری طرف سے اپکی طرف سے لاعلمی ۔۔۔۔
سائشہ نے شہریار سے سوال کیا جو بیڈ پر لیٹا ہوا تھا
جس نے سائشہ کی بات پر آنکھیں بند کی اور پھر کھول کر سیدھا ہو کر بیٹھا
دراصل مجھے کچھ کام تھا اس لیے نمبر بند تھا اور مجھے اپکو بتانا تھا کہ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی ساری بات سن کر سامنے بیٹھی سائشہ شاکڈ ہو گئ ۔۔۔۔
🍁🍁🍁
فریال کمرے میں آی ۔۔۔ تو کمرے میں گہرا اندھیرا تھا ۔۔۔ رات کے دو بج رہے تھے ۔۔۔۔ کھڑکیوں پر بھی پردے گرے ہوے تھے بس ایک کھڑکی سے زراسی چاند کی روشنی کمرے میں آرہی تھی
فریال نے دروازہ بند کیا اور لائٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر لائٹ آن نہیں ہوی ۔۔۔
پوری حویلی میں تو لائٹ ہے ہمارے روم کی لائٹ کو کیا ہو گیا۔ ۔۔
فریال بڑبڑای پھر آگے بڑھی اور کمرے میں گہرے سناٹے پر اس کا دل ہولںے لگا۔۔۔۔
سس سائیں ۔۔۔۔ اس نے پکارا مگر جواب نا پا کر وہ اندھیرے میں ُتکے پر قدم بیڈ کی جانب بڑھاتی اس طرف بڑھی ۔۔۔
مگر وہ بیڈ کی بجائے اندھیرے میں صوفے کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔
فریال کو سکندر کی خاموشی پر عجیب بے چینی ہو رہی تھی ۔۔۔ پھر کچھ سوچتے اس نے چیخ لگای
جس پر پورے کمرے میں روشنی ہو گئ
کیا ہوا تم ٹھیک ہو ؟ وہ پریشان سا اس کے پاس بھاگتا ہوا آیا
میں ٹھیک ہوں آپ اس طرح کیوں کر رہے ہیں ؟
جبکہ اسکی بات پر سکندر نے اسے دیکھا ۔۔۔ یعںی وہ ناٹک کر رہی تھی
تمہیں مزہ آتا ہے مجھے تکلیف دے کر ؟ اتنی سنگدل ہو تم ؟ تمہیں بتایا تھا کہ یہ چیخ میری جان نکال دیتی ہے مگر تم جان بوجھ کر مجھے ازیت دیتی ہو اس لیے کہ تم جانتی ہو تم میرے لیے بہت خاص ہو ۔۔۔
سکندر نے لال انگارہ آنکھوں سے فریال کو دیکھا جس پر فریال کو لگا کہ اس کا وجود اس کی آنکھوں کی تپش سے بھسم ہو جائے گا
نن نہیں میرا وہ مطلب ۔۔۔۔ وہ ڑرتے ہوے ایک قدم پیچھے کو لیتے لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں بولی
سکندر اسکے قدم پیچھے لینے پر مزید آگ بگولہ ہوا
اور خود ہی اس سے دور ہوتا راکنگ چیئر پر بیٹھ گیا
فریال کچھ لمحے بس اس کے جملوں کی قید میں ہی رہی ۔۔۔۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی مگر دل ۔۔۔۔ دونوں کے دل ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے تھے بے آواز گفتگو
کچھ لمحوں کے سرکنے کے بعد فریال ہمت کرتی اس کے پاس گئ
رک جاؤ وہیں ۔۔۔۔ میرے پاس مت آؤ ۔۔۔ سکںدر نے ہاتھ کے اشارے کے ساتھ اونچی آواز میں کہا لہجہ بے تحاشہ سخت تھا
اسے فریال کے پیچھے ہونے والی حرکت بہت چھبی تھی
مگر فریال نے ایک لمحہ رکنے کے بعد اگلے ہی لمحے بے خوفی سے اسکی طرف قدم لیے
پھر اس کی راکنگ چیئر کے دونوں جانب ہاتھ رکھتی اس پر جھکی
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ سکںدر کو حیران کر گئ ۔۔۔۔
ناراض ہیں مجھ سے ؟ سوال تو معمولی تھا مگر لہجہ حاکموں والا تھا سکندر نے اس کے سوال اور لہجے پر اسے گھورا۔۔۔ جس کا اثر لیے بنا وہ اسے دیکھ رہی تھی
پہلے میری بات سنیں ۔۔۔ پھر کچھ چائے پانی لے کر معاف کر دیں ۔۔۔
فریال کی بات پر سکندر نے اس کے ہاتھ راکنگ چیئر سے ہٹائے اور اسے اپنی گود میں بٹھایا
فریال اچانک کی افتاد پر ڑری مگر پھر سنبھل گئ
کیا مطلب ہے تمہارا ؟ سکندر نے فریال کو گھورتے ہوے کہا ۔۔۔
مطلب یہ کہ مانتی ہوں غلطی میری تھی لاپرواہی نہیں کرنی چاہیے تھی آپ بھی پریشان ہوے اس کے لیے میں شرمندہ ہوں ۔۔۔ مگر میں اپنی غلطی مان بھی تو رہی ہوں ۔۔۔۔
فریال نے اس کو دیکھتے کہا ۔۔۔۔۔
تو میں نے کچھ کہا تمہیں ؟
سکندر نے کہتے نظریں اس کے چہرے سے پھیر لیں ۔۔۔
یہ ۔۔۔ یہ اس حرکت کے باوجود آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے کچھ کہا ہے ؟
میرے وجود کو اگنور کریں گے ۔۔۔ مجھ سے بات نہیں کریں گے میری طرف دیکھیں گے نہیں تو کیا میں سکون سے رہوں گی ؟
فریال کی بات پر سکندر نے اس کے چہرے پر نظریں ڈالیں
فرق پڑتا ہے میری بے رخی سے ؟
سوال کے ساتھ نظریں اس کے پورے چہرے پر گھوم رہی تھیں
فریال اس کی نظروں کی تپش پر لال ہوتی جلدی سے اسکی گرفت سے نکلتی کھڑی ہوی
افکورس مجھے برا لگتا ہے جس کے نام پر اس گھر میں ہوں اگر وہی مجھ سے بے رخی اختیار کرے گا تو کیسے رہوں گی ۔۔۔۔
بنا کچھ محسوس کرواتے وہ بولی
سکندر اس کے لال چہرے کو دیکھ کر مسکرایا
ہممم ۔۔۔ وہ کھڑا ہوا ۔۔۔
تو بتاؤ ۔۔۔ جس کو دیکھ کر میں نے مسکرانا سیکھا ہے ۔۔۔ جس کو دیکھ کر مجھے سکون ملتا ہے جب وہ خود کی زات کا خیال نا رکھے تو میری ناراضگی نہیں بنتی ؟
سکندر کے جوش بھرے لہجے پر فریال نے اسکی جانب دیکھا
معاف کردیں ۔۔۔ آئیندہ کبھی کچھ نہیں کروں گی ۔۔۔ جس سے آپ کو پریشانی ہو ۔۔۔۔
ویسے یہ آپ کا سکون کب سے بن گئ میں ؟ میں تو برباد کرتی ہوں نا سکون ؟
فریال پہلے تو شرمندگی سے بولی مگر پھر اگلے ہی لمحے ٹون بدلتے بولی
سکندر نے مسکرا کر اس کی کمر پر ہاتھ رکھے اس کو خود سے لگایا
شوہر کا سکون اس کی بیوی میں ہی رکھا ہوتا ہے میرا تم میں سکون ہے تمہیں دیکھ کر سارے دن کی تھکن اتر جاتی ہے ۔۔۔۔
اتنی لاپرواہی پر تمہیں خود سے ایک منٹ بھی اب دور نہیں رکھوں گا ۔۔۔ اس لیے آج سے جہاں بھی تم جاؤ گی ۔۔۔ میری اجازت کے بغیر نہیں جاؤ گی ۔۔۔
گاڑز کے ساتھ جاؤ گی ۔۔۔۔
سکندر کی بات پرفریال نے مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھا
انہہہ ۔۔۔جہاں جاؤں گی ساتھ چلو گے نا میرے ؟
وہ مسکرا کر بولی تو سکندر بھی مسکرایا ۔۔۔
جہاں کہو گی ۔۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے کل مجھے پھر سے اس نیلی نہر پر جانا ہے اور آپ اب منع نہیں کریں گے کیونکہ سردار سکندر اپنی بات سے نہیں پھرتا ۔۔۔۔
فریال نے جلدی سے اپنا منصوبہ پیش کیا
ہر گز نہیں وہ ہمارے دشمنوں کی زمین ہے تمہیں وہاں پر بلکل نہیں لے کر جاؤں گا جہاں کسی کہ نظر تم پر پڑے ۔۔۔۔
سکندر نے صاف انکار کیا
اچھا کسی نے دیکھ بھی لیا تو کیا ہو جائے گا ؟ فریال منہ بناتی بولی
تمہیں خود میں چھپا لوں گا کسی کی نظر تم پر پڑی تو اس کی آنکھوں کو نوچ لوں گا تم میری ہو صرف میری ۔۔۔۔ وہ اچانک اسکی کمر پر گرفت سخت کرتے اس کو خود میں بھینچتے سخت لہجے میں بولا
جب کہ فریال اس کی سختی پر آنکھیں بند کر گئ ۔۔۔۔
وہ سمجھ گئ تھی کہ اس کا شوہر اسکو لے کر کس قدر جنونی تھا ۔۔۔۔
وہ خاموشی سے اس کے گرد حصار بناتی آنکھیں موند گئ ۔۔۔۔
آپ لے کر جائیں گے نا سائیں ؟ کچھ لمحوں کے بعد وہ اپنے منصوبے پر مہر لگانے کی خاطر بولی
انہہہ ۔۔۔ بلکل نہیں ۔۔۔
سردار نے بند آنکھوں سے ہی جواب دیا
تو ٹھیک ہے میں خود چلی جاؤں گی ۔۔۔ فریال منہ بناتی اس سے الگ ہوتی بولی
کہا نا جاناں تم وہاں اب نہیں جاؤ گی ۔۔۔
اگر گئ تو مجھ سے اچھے کی امید مت رکھنا
وہ بند آنکھوں سے وارنگ دے رہا تھا
اور اسے پھر سے اپنے ساتھ لگایا
ٹھیک ہے میں بھی دیکھتی ہوں کون مجھے جانے سے روکتا ہے آپ نے کون سا مجھ پر پہرا لگاتے رہنا ہے
وہ بھی بڑبڑای جس کی بڑبڑاہٹ کو واضح طور پر سکندر کے پتلے کانوں نے سن لیا تھا