Ishq Geeriyan
عشق گیریاں

ناول۔۔۔۔۔۔عشق گیریاں

ازقلم۔۔۔۔۔۔ آنسہ چوہان ❤️

Season 2

Season 21 to 25

 

ماہی یار چلو کچھ شاپنگ کر لیتے ہیں ۔۔۔۔ 

کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچ کر کہا 

 

افف زویا تم اتنی فضول خرچ ہو قسم سے جتنا تم پیسہ اڑاتی ہو اتنے میں تو کسی غریب کی مدد کرکے اسکے گھر کا راشن پانی ڈلوا سکتے ہیں ۔۔۔

 

ماہی نے اسکی جانب دیکھتےخفگی سے کہا 

افف کنجوس لڑکی مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ تم اتنی کنجوس کیوں ہو 

سکندر حویلی کی لاڈلی اکلوتی اور سات پشتوں میں ہونے والی اکلوتی لڑکی ۔۔۔ 

جس کے آگے باپ بھائ دولت لوٹا دیں چچا اور تایا بھی تم پر جان چھڑکتے ہیں 

اور حیات سکندر تو اپنی بہن کی کوی بات نہیں ٹالتا 

 

اور ایک تم ہو کنجوس کہیں کی ۔۔۔ ہر وقت پیسے بچانے کی پڑی رہتی ہے ۔۔۔

زویا نے لمبا لیکچر دیا جس کا زیادہ ہی ماہی پرکچھ اثر ہوا تھا 

 

وہ اب بھی با ضد تھی کہ اسے شاپنگ نہیں کرنی ۔۔۔

زویا اسے کھینچ کر مال کے اندر بنی مختلف چمکتی روشن دکان کے اندر لائ ۔۔۔۔

 

جہاں کافی ورائٹی کے بیگ پڑے تھے ۔۔۔ 

زویا فضول خرچ نہیں تھی بس اسے ایک نیا بیگ خریدنا تھا جس کے لیے وہ اسے ساتھ چلنے کو کہہ رہی تھ جس پر ماہی کی جان نکل رہی تھی 

 

ماہی ناچار سی اس کے ساتھ بیگ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

 

ہرے رنگ کا خوبصورت گوچی کا بیگ دیکھ کر زویا کو وہ بہت پسند آیا ۔۔۔ 

اس نے وہاں کھڑے ایک ریسیلر کو مخاطب کیا 

 

ایکسکیوزمی ۔۔۔ 

زویا نے مخاطب کیا تو ایک دبلا  سا لڑکا ان کی طرف بڑھا 

 

یس میم آپ کو کیا چاہیے ۔۔۔ 

اس نے تمیز سے مخاطب کیا 

 

اس شاپ میں بہت سی اور  لڑکیاں بھی شاپنگ کر رہی تھیں جو کافی امیر نظر آنے کے لیے دپٹے کی جگہ مفلر گلے میں ڈالے بال کھولے چست کپڑے پہنے ہوے تھیں ۔۔۔

 

جی ایکچلی مجھے اس بیگ کی پرائس پوچھنی تھی ۔۔۔ 

زویا نے اس شخص سے کہا 

 

میم یہ سترہ ہزار کا بیگ ہے ۔۔۔ 

یہاں اس شخص نے رقم بتائ اور دوسری طرف ماہی جو پوری شاپ کو ہر کونے کھدڑے تک دیکھ رہی تھی اچانک چونک کر ان کی جانب پلٹی 

 

کیا کہا ؟ 

اس نے جیسے تصدیق کرنی چاہی ۔۔۔

میم سترہ ہزار ۔۔۔ 

اسکی بات پر ماہی نے کھلے منہ پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ 

توبہ توبہ اتنا مہنگا پرس ۔۔۔ 

نا اس میں ایسی کونسی خوبی ہے ؟ 

جو اتنا مہنگا ہے یہ ؟

وہ سوالیہ ہوی ۔۔۔ 

شاپ میں موجود بافی کسٹمرز بھی اسکی بات پر اس کی جانب دیکھنے لگی جو  سب سے بے نیاز بس اس شخص سے خاصیت جاننا چاہتی تھی 

 

میم یہ گوچی کا بیگ ہے ۔۔۔ 

اس شخص نے برینڈ کا نام بتایا ہو سکتا ہے لڑکی سمجھ جائے ۔۔۔ کیونکہ اس کے کپڑے اس کے خود کے ہاتھ میں پکڑا پرس اور دوسرے  ہاتھ میں آی فون دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ لڑکی امیر خاندان سے ہے ۔۔۔۔

 

یہ اسکی خاصیت ہے ؟

حد ہے نا اس میں پیسے رکھنے سے ڈبل ہو جاتے ہیں ؟

 

وہ پھر تلملائ ۔۔۔ آپ کی بار شاپ کا اونر بھی ان کی طرف بڑھا

 

زویا نے شرمندہ سا سر جھکا لیا ۔۔۔ وہ تو جانتی تھی کہ پرس مہنگا ہے مگر یہاں اسکی سہیلی نے سب کے سامنے غریبی کی اخیر کر دی تھی ۔۔۔

 

میم آپ بتائیں آپ کتنے میں یہ خریدنا چاہتی ہیں ۔۔۔ 

اونر نے بات سنبھالتے کہا ۔۔۔

 

اب کی بار زویا نے ماہی کا ہاتھ پکڑا۔۔۔

نو ۔۔۔ 

وہ سمجھ گئ تھی کہ اب اس محترمہ کا کیا جواب ہوگا ۔۔ 

سب کو اپنی طرف دیکھتے پا کر اس نے اسے اپنی طرف متوجہ کرتے سر نفی میں ہلایا ۔۔۔ 

یعنی اسے کچھ بھی کہنے سے روک دیا 

 

ماہی کی آنکھیں چمکی ۔۔۔

مجھے یہ بیگ پانچ سو روپے میں چاہیے ۔۔۔ بولو منظور ہے تو دو ورنہ ہم چلتے ہیں ۔۔۔۔

 

سترہ ہزار کا بیگ پانچ سو میں خریدنے کی بات بس ماہ نور عرف ماہی کی ہر سکتی تھی ۔۔۔۔

شاپ کیپر کی آنکھیں کھل گئ ۔۔۔ 

 

میم آپ مزاق کر رہی ہیں ۔۔۔ اتنا سستے میں اتنا مہنگا بیگ کیسے مل سکتا ہے ۔۔۔ 

آپ کے پاس جو بیگ ہے وہ بھی یا ہزار کا ہے ۔۔۔۔

 

شاپ کیپر کی بات پر ماہی نے اپنا پرس دیکھا ۔۔۔۔

نہیں صائم بھائ نے کہا تھا یہ بس دو ہزار کا ہے ۔۔۔۔

اس نے زویا کی طرف دیکھتے کہا 

 

کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تمہیں ہارٹ اٹیک آجانا کے اتنا مہنگا پرس لیتے ہوے ۔۔۔

 

چلو اب یہاں سے سب ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ 

زویا نے شرمندگی سے سر جھکائے اسکا ہاتھ پکڑ کے کھینچتے ہوے اسے باہر شاپ سے لاتے گھورا

 

ماہی اتنا مہنگا بیگ تم نے اتنے سستے دام میں خریدنے کی بات کی ۔۔۔ تم نے دیکھا تھا سب وہاں ہم پر مسکرا رہے تھے۔۔۔۔

 

اسنے ماہی کو جھڑکا 

مجھے یقین نہیں آرہا ہے میرے پاس بیس ہزار کا بیگ ہے جس کے اندر سوائے کریڈٹ کارڈ کے اور دو لپسٹک اور پونی کے کچھ نہیں ہے ۔۔۔

اتنا مہنگا پرس لے کر میں نے کیا کرنا تھا ۔۔۔۔

 

اسے تو اپنے ہی رونے تھے کہ وہ اتنا مہنگا بیگ لیے کیسے سانس لے رہی ہے ۔۔۔۔

 

🍁🍁

 

صائم اس وقت اپنے پیشے کے مطابق کوٹ میں تھا ۔۔۔۔ 

کوٹ سے ایک دفع پھر کیس جیتںے کے بعد آج اسے کسی کو دی ہیو اپائنٹمنٹ کے مطابق ملنا تھا 

 

وہ چلتا ہوا اپنے کیبن میں آیا ۔۔۔ جو کافی بڑا اور خوبصورت نفیس تھا ۔۔۔

وہ وہاں بیٹھا ہی تھا کہ اسکے نمبر پر کال آی ۔۔۔

کنجوس عورت سے نمبر سیو دیکھ کر اسکی مسکراہٹ بکھری 

 

اسلام و علیکم فقیرنی ۔۔۔ 

اس نے ہمیشہ کی طرح ایک نیا لقب دیتے اس کو پکارا 

 

فقیرنی کی تو جان ہی حلق میں آگئ ہے بھائ آپ نے مجھے اتنا مہنگا پرس لے کر دیا تھا ۔۔۔؟

دوسری طرف سے بات سن کر اسکا قہقہہ گونجا 

 

ارے تم انوکھی ہو قسم سے ۔۔ لڑکیاں تو مہنگی چیزیں لینے کے لیے بے تاب ہوتی ہیں اور ایک تم ہو جس کو مہنگی چیز دیکھ کر دل کے دورے پر جاتے ہیں ۔۔۔۔

 

صائم کی بات پر وہ گہرا سانس لیتے بولی 

 

دعا کریں آپ کی فقیرنی گھر پر سہی سلامت پہنچ جائے ۔۔۔وہ کہتے کال کاٹ گئ ۔۔۔

 

وہ تھی شہریار اور سائشہ کی  بیٹی ۔۔۔  اپنے سب بھائیوں کی جان ۔۔۔۔ 

سب بھائ اس پر جان چھڑکتے تھے ۔۔۔

وہ صاف ستھرے رنگت کی مالک تھی مگر وہ حوریہ اور پریشے کی طرح زیادہ خوبصورت نہیں تھی ۔۔۔

اسکی رنگت میں کشش تھی اور آسکے نقوش بلکل اپنی ماں جیسے تھے 

وہ سائشہ کی طرح سانولی نہیں تھی مگر صاف ستھری رنگت میں بھی وہ بہت پیاری لگتی تھی 

 

اسکو گرتی چونکہ فریال کی تھی اسلیے وہ بنا سوچے سمجھے بولنے کی عادی تھی 

مگر کنجوس کیوں تھی یہ بات سمجھ سے باہر تھی ۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

نعمان شاہ اس وقت اپنے کیبن میں بیٹھا کسی فائل کو لیپ ٹاپ پر سیو کر رہا تھا جب صبغہ شاہ ہمیشہ کی طرح لانگ ٹخنوں تک آتا فراق پہنے ساتھ پینٹ پہنے بالوں کی اونچی پونی بنائے پاؤنث میں جوگرز پہنے ہلکا سا میک اپ کیے اندر داخل ہوی 

 

سر آپ لنچ میں کیا لیں گے ؟

اس نے معدب انداز میں کہا مگر آج اسکے لہجے میں کچھ کمی تھی 

جو فوراً نعمان شاہ نے پہچان لی تھی 

 

اس نے نظریں لیپ ٹاپ سے ہٹا کر سامنے نظریں آفس میں آگے پیچھے گھوماتی صبغہ کو دیکھا 

 

وہ تو ہمیشہ اس کو دیکھتی تھی آج کچھ عجیب تھی مگر کیا ۔۔۔ نعمان شاہ کے لیے عجیب تھا یہ ۔۔۔

 

وہ سر جھٹک کر اسے کھانے کا بتا کر دوبارہ کام میں مصروف ہو گیا ۔۔۔

صبغہ نے ایک نظر اسے دیکھتے قدم آفس سے باہر کو لیے ۔۔۔

نعمان نے اسکے جاتے ہی نظریں دروازے پر لگائ ۔۔۔۔

 

وہ سوچ میں پڑا پھر گہرا سانس لیتے کام کرنے لگا ۔۔۔۔

 

تھوڑی دیر میں اسکا فون بجنے لگا ۔۔۔

کال رسیو کرتے فون کان سے لگایا ۔۔۔

اسلام و علیکم بی جان !

وعلیکم السلام! کیسا ہے میرا شہزادہ ۔۔۔۔

وہ محبت سے بولیں 

 

جی الحمدللہ خیریت آپ نے کال کی ؟

اس کے لہجے میں زرا سی بھی لچک نہیں تھی وہ سب سے الگ مزاج کا بندہ تھا ۔۔۔۔

 

آج ماہی کی برتھ ڈے ہے ۔۔۔ تم حویلی آوے گے نا ۔۔۔ ؟

انہوں نے بڑی امید سے کہا 

 

اسکا گفٹ پہنچ جائے گا ۔۔۔ مجھے کسی پارٹی میں جانا ہے میں نہیں  آسکوں گا ۔۔۔۔اس نے صاف انکار کیا 

 

تم آسکتے ہو وہ یہاں نہیں ہو گی ۔۔۔

بی جان نے ڈھکے چھپے لفظوں میں مائرہ کے بارے میں بات کی 

 

جس پر اسکے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے ۔۔۔۔

میں کوشش کروں گا ۔۔ وہ کہتے فون کاٹ گیا ۔۔۔

بی جان نے گہرا سانس لیا ۔۔ وہ سمجھ گئ تھیں اب وہ ضرور آئے گا ۔۔۔

کیونکہ ماہی ان سب کی بہت لاڈلی تھی ۔۔۔ 

نعمان کبھی اس پر پیار نہیں جتاتا تھا مگر اسکے پر عمل سے پیار جھلکتا تھا ۔۔۔ 

جو محسوس کرنے سے پتہ چلتا تھا ۔۔۔۔

🍁🍁

 

اس وقت حویلی میں شام کا وقت ہو چکا تھا ۔۔۔ باہرسورج سب کو جاتے ہوے الوداع کہتے ساتھ صبح آنے کا وعدہ کرتا پردوں میں چھپ رہا تھا ۔۔۔ 

ہلکی سی روشنی جو اورنج اور یلو کا کانبنیشن تھی ۔۔۔ ڈھلتا سورج بلکل ان رنگوں میں ڈھلا ہوا تھا ۔۔۔

 

حویلی کے باہر کے منظر پر ہمیشہ کی طرح روشنیاں ہی روشنیاں ہی تھیں ۔۔۔ 

اندر کی جانب بڑھیں تو فریال  اور سائشہ ملازموں کے ساتھ دوڑ کر کام میں مصروف تھیں ۔۔۔ 

آج گھر کے تمام مرد حضرات لیٹ آنے والے تھے ۔۔۔ کیونکہ کیس کی وجہ سے صائم نے لیٹ آنا تھا ۔۔۔ ایک پیشنٹ کا آپریشن تھا جس وجہ سے دائم نے بھی لیٹ آنا تھا ۔۔۔ 

حیات سکندر ابھی ابھی حویلی میں داخل ہوا تھا ۔۔۔ 

اس نے سامنے سب کو بھاگتے دیکھ کر سمجھ گئے تھے کہ وجہ کیا ہے 

 

لاونج کے صوفے جو اب بلیک کلر کے رکھے ہوے تھے ۔۔۔ ویلوٹ کے بلیک کلر کے صوفے پر فوری رنگت کی بوڑھی عورت بیٹھی تو جو کہ ان کی پیاری بی جان تھیں ۔۔۔

بی جان کے پاس جا کر ان کے پیار سے ہاتھ تھامتے چومتے ہوے وہ تھکاوٹ کی وجہ سے وہیں بڑے صوفے پر لیٹ کر ان کی گود میں سر رکھ کر آرام کرنے لگا

 

آپ ی چادر کو وہ اتار کر ایک طرف رکھ چکا تھا

 

کیا بات ہے میرے حیاتی  ؟

وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوے بولیں ۔۔۔ لہجے میں شفقت تھی بے پناہ محبت لیے اس کو دیکھ رہی تھیں ۔۔۔۔

 

وہ اس کو ہمیشہ پیار سے حیاتی ہی پکارتی تھیں یہ ہنر بس بی جان ہی کر سکتی تھیں ۔۔ بگڑےہوے شیر نے آنکھیں کھول کر کسی اور کی موجودگی محسوس کرکے سامنے دیکھا ۔۔۔ 

جہاں سے زکریہ شاہ اور جویریہ شاہ نفیس کپڑوں میں ساتھ چلتے ارہے تھے ۔۔۔ 

ان کے پیچھےملازم آرہے تھے جن کے ہاتھوں میں کافی قسم کے فروٹ اور مٹھائ کے ساتھ گفٹس تھے ۔۔۔ 

 

حیات جلدی سے سیدھا ہو کر بیٹھا اور ۔۔ سنجیدگی جس نے ایک پل کے لیے بھی اسکے چہرے کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا اس میں مزید اضافہ ہوا

 

زکریہ شاہ سے بغلگیر ہوتے جویریہ شاہ سے کندھے پر پیار لیا ۔۔۔اور پھر نظریں حویلی کے داخلی دروازے پر تھیں ۔۔۔ 

اسکی نظروں سے ڑرتی حوریہ شاہ پریشے کا ہاتھ تھام کر وہیں کھڑی ہو گئ ۔۔۔ 

وہ بے تحاشہ شرارتی تھی مگر اسے اب بھی اسکی ہری آنکھوں سے بہت خوف آتا تھا ۔۔۔ 

 

افف او حوری پھر تمہیں حویلی میں آتے ہی خوف کے دورے پر گئے ہیں ؟پریشے اس کی اس حرکت سے ہمیشہ پریشان ہو جاتی تھی کہ وہ سکندر حویلی میں آکر اتنی ڑری سہمی کیوں ہوتی ہے 

 

مگر جب بھی حیات گھر پر نہیں ہوتا تو وہ بلکل ٹھیک آتی جاتی تھی ۔۔۔

پری یار کیا ضرورت تھی ہمیں یہاں آنے کی ؟

وہ اسکا ہاتھ پکڑتے بولی 

 

چھوٹے قد کی معصوم نقوش کی لڑکی جس کے اوپر ڑراک گرین کلر کا برینڈڈ سوٹ بے تحاشہ خوبصورت لگ رہا تھا 

اسکی خوبصورت پر اضافہ اسکی معصوم آنکھیں کرتی تھیں بڑی بڑی آنکھیں موٹی موٹی تھیں اور اوپراس کی بھاری پلکیں اسکی آنکھوں کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتی تھیں ۔۔۔

 

اسکے خوبصورت چھوٹے چھوٹے لب جو زرا زرا سی بات پر گلابی ہو جاتے تھے ۔۔۔ جیسے کہ ڑر کے وقت یا کچھ سپائیسی کھانے کے بعد اسکے لب سرخ کو جاتے تھے ۔۔۔ 

 

پریشے کا حسن کے اسکے مقابل دو ہاتھ آگے تھا اسکی آنکھیں جویریہ شاہ کی طرح تھیں نیلی  آنکھوں والی سمجھدار لڑکی ۔۔۔ 

پتلے پتلے لب اور ناک میں پہنی لونگ ۔۔۔ قد میں وہ حوریہ سے اونچی تھی ۔۔۔ لمبی پتلی اور خوبصورت ۔۔۔ 

 

اس نے حور کا ہاتھ پکڑ کراسے کھینچ کر اندر کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔ 

حور نے پھر ایک نظر بھی اس شخص کی جانب نہیں دیکھا جو بنا ڑرے مسلسل اسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ اس پر پورا حق رکھتا ہو اور کوی اسے روک نہیں سکتا 

 

حیات کی آنکھیں چمکی اس کے خوف سے لال پڑتے چہرے اور لبوں کو دیکھ کر 

 

پریشے اور حور بی جان سے ملیں مہمانوں کی آواز پر باقی سب خواتین بھی اپنے کمرے اور کیچن سے نکل کر لاونج میں آتی سب سے ملنے لگیں ۔۔۔ 

 

میرا یار کہاں ہے ؟ زکریہ شاہ کو خواتین کے ساتھ بیٹھنا آج بھی مناسب نہیں لگتا تھا 

جہاں بھی عورتوں کی محفل ہوتی وہ طریقے سے وہاں سے اٹھ جاتا تھا اس بار اس نے سکندر کے بارے میں دریافت کیا 

بی جان نے انہیں بتایا کہ وہ ابھی ابراہیم صاحب کے ساتھ سڈی میں ہے 

 

حیات ویسے کسی کو اتنا بولاتا نہیں تھا مگر وہ جانتا تھا اس عمر میں بھی ان کے بڑے خواتین سے کچھ حد علیحدگی ہی پسند کرتے ہیں 

 

وہ انہیں لے کر سڈی کی طرف بڑھا

 

حور نے اٹکی سانس بہال کی ۔۔۔ پریشے اسے دیکھ کر رہ گئ ۔۔۔ 

 

🍁🍁🍁

 

نعمان اور مقدس کی گاڑی حویلی کے داخلی دروازے کو پار کرتی پورچ میں آکر رکی ۔۔۔ 

کہنے کو یہ سرپرائز پارٹی ہوتی تھی مگر ماہی میڈم کو پہلے ہی سب خبریں ہوتی تھیں ۔۔۔ 

 

نعمان نے یہاں آنے کے لیے تب ہی ہامی بھری تھی جب اسے اس بات پر یقین ہوا تھا کہ مائرہ بیگم حویلی میں نہیں ہے ۔۔۔ 

مقدس بیگم گاڑی سے اتر کر اندر کی جانب بڑھ گئ ۔۔۔ شایان کچھ دیر میں پہنچنے والا تھا اس کی کوی میٹنگ تھی جس وجہ سےوہ لیٹ آنے والا تھا

 

نعمان کو کال رسیو کرنی تھی اس لیے اس نے مقدس کو اندر جانے کا کہتے کال ریسیو کی ۔۔۔۔

 

وہ کسی بزنس رائیول کی کال تھی جو اسے مسلسل اس بات کی دھمکی دے رہے تھے کہ اگر اسنے یہ ڈیل کینسل نا کی تو اس کی جان کو خطرہ ہے۔۔۔

 

اور یہاں تھے نعمان شاہ جس کے اندر غصہ اور قہر کوٹ کوٹ کر بھرا تھا ۔۔۔اپںے بڑھے ہوے قدم پیچھے لینے والا نعمان شاہ نہیں تھا

 

اسے اس ڈیل سے زیادہ فائدہ نہیں تھا مگر اب وہ اس ڈیل کو ختم نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اسے دوسروں کو تڑپانا بہت پسند تھا

دوسرے شخص کے لب و لہجے سے واضح پتہ چلتا تھا کہ اسے اس ڈیل سے کوی ذاتی غرض ہے 

 

تم اور تمہارے کتے ایک شیر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اس لیے ایسی پھیکی دھمکیاں دینے سے بہتر کچھ ٹریلر دیکھاؤ ۔۔۔ تو ہی میں مانوں گا کہ تم ایک باپ کی اولاد ہو ۔۔۔ اور مرد ہونے کا ثبوت دو ۔۔۔۔ 

وہ جب بولا تو اگلے بندے کو آگ لگا چکا تھا 

مسٹر نعمان شاہ تم بھول رہے ہو تمہاری کمزوریوں کے بارے میں جانتا ہوں ۔۔۔ وہ اسے پھر دھمکی دے رہا تھا

 

مرد بن اور کر وار میں ا تیار کروں گا ۔۔۔ 

اس نے اسکی دھمکی ہوا کی ۔۔۔ دوسری طرف سے موبائل دیوار میں مار کر اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کی گئ ۔۔۔ 

نہیں نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں نعمان شاہ ۔۔۔ تمہیں اپنے اٹیٹوڈ کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی ۔۔۔۔

 

وہ شخص تملاتے ہوے بولا 

 

نعمان شاہ کے چہرے پر تسمخر بکھر گیا ۔۔۔ 

پھر فون جیب میں ڈال کر پلٹا پیچھے کھڑے حیات سکندر کو دیکھ کر چونکا 

 

ویرے آپ ۔۔۔۔

وہ اسے پیار سے ویر جی ویرے کہتا تھا ۔۔۔ 

یہ اسکی بچپن کی واحد عادت تھی جو وہ چاہ کر بھی نہیں بدل سکا تھا 

 

حیات سکندر سے اسکی محبت اسکی آنکھوں کی چمک سے پی واضح ہو جاتی تھی ۔۔۔ 

حیات نے بنا کچھ کہے اسے آگے بڑھ کر گلے لگایا

 

ایسا لگا صدیوں بعد یہ وقت اسے دوبارہ نصیب ہوا ہے ۔۔۔۔ 

حیات ایک ہی حویلی میں رہنے کے باوجود صائم اور دائم سے اس قدر قریب نہیں تھا جس قدر وہ نعمان شاہ کے قریب تھا ۔۔۔ 

 

نعمان شاہ نے اپنے ہاتھ اس کی کمر پر باندھ کر مضبوطی سے اس کو گلے لگایا

 

ویرے کیسے ہیں آپ ؟ آپ شہر آئے مجھ سے ملے بنا ہی آگئے ؟

وہ اب الگ ہوتے بولا ۔۔۔ 

اسوقت نعمان شاہ کا مزاج لہجہ محبت چھلکا رہا تھا

 

تمہیں اندازہ ہے تم حویلی تین مہینے بعد قدم رکھ رہے ہو ۔۔۔۔

اب تمہیں تڑپانے کے لیے اتنا تو بنتا تھا ۔۔۔۔ 

میں جانتا تھا ماہی کی سالگرہ اور میرے نا ملنے پر تم ضرور حویلی آؤ گے ۔۔۔ 

حیات نے شرارتی انداز میں کہا

 

کوی ان دونوں کو اتنے نارمل لہجے میں بات اور نارمل مسکراتے تاثرات سے بات کرتے دیکھتا تو ضرور حیراں ہوتا کیونکہ یہ دو شہزادے سخت مزاج ہونے کی وجہ سے مشہور تھے ۔۔۔۔

 

ویرے آپ جانتے ہیں حویلی سے دوری کی وجہ وہ عورت ہے ۔۔۔ 

ایک دم سے نعمان کے تاثرات سختی میں بدلے تھے ۔۔۔۔

 

بسسس ۔۔۔۔اب مجھے میرا نعمان چاہیے کچھ دیر کے لیے اس خول سے باہر نکلو ۔۔۔ 

حیات نے کہتے اس کے ساتھ قدم حویلی کی سیڑھیوں کی جانب بڑھائے جو اندر کی جانب جاتی تھیں 

 

🍁🍁🍁

 

ماہی کی ٹرپ کی واپسی پر سب کالج واپس آئے تھے وہاں پر دائم کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھاشام کی وجہ سے وہ خود اسے لینے آیا تھا 

ماہی بھاگ کر اپنے بھائ سے گلے لگی ۔۔۔ 

اسلام و علیکم بھئیو۔۔۔ 

وہ محبت سے سلام دیتے بولی 

وعلیکم السلام بھئیو کی جان ! کیسا رہا میرے لاڈو کا ٹرپ ؟

وہ اسے ساتھ لگاتے گاڑی کی جانب بڑھا ۔۔۔

اسے گاڑی میں بٹھا کر اسکی ساری راستے سنانے والی کہانیوں کو سنتے ہوے لطف اندوز ہوتے وہ اسے لیے حویلی پہنچ چکا تھا 

 

ماہی کی تو ابھی بہت سی باتیں رہتی تھیں مگر حویلی پہنچ کر وہ مزید چہک اٹھی تھی ۔۔۔۔

وہ  اپنے بھئیو کے ساتھ اندر بڑھی 

 

سامنے نوکروں کو اپنے روز کے مطابق کام کرتے دیکھ کر اس نے مطلوبہ نظریں لاونج کی جانب بڑھائیں 

جہاں ویلوٹ کے کالے رنگ کے خالی صوفے اسے منہ چڑھاتے محسوس ہوے 

 

بھئیو سب کہاں ہیں ؟ لہجے میں اداسی سے گھل گئ ۔۔۔ 

زندگی میں پہلی دفع اس کے گھر والے اسکی برتھ ڈے بھول گئے تھے شاید وہ پر دفع شور مچا دیتی تھی برتھ ڈے کا اس لیے اسکی برتھ ڈے منایا جاتی تھی مگر اس دفع وہ گھر پر نہیں تھی تو کسی کو یاد ہی نہیں تھی ۔۔۔۔

 

بی جان اپنی بہن کی طرف گئ ہیں ۔۔۔

باقی لوگ دوسرے گاؤں ایک شادی تھی وہاں ۔۔۔ 

اور صائم کا کوی کیس تھا ۔۔۔ 

دائم نے بامشکل اسکی آنکھوں سے بہہ جانے والے آنسوؤں سے نظریں ہٹاتے کہا 

 

ایک تو وہ بہت حساس تھا دوسری طرف اسکی جان سے پیاری بہن ۔۔۔

اور ایک اسکا کمینہ بھائ تھا جس نے اسے یہ سب کرنے کے لیے بولا تھا

 

ماہی نے فوراً اپنی بھیگی آنکھوں کو زور سے میچ لیا 

رہ اپنے گھر والوں کے لاڈ کی اتنی عادی تھی کہ زرا سی لاپرواہی پر وہ رو دی ۔۔۔ 

یہ منظر دیکھتے ہی دائم نے اسے کھینچ کر سینے سے لگایا 

 

شششش میرا بچہ آپ کی برتھ ڈے کوی کیسے بھول سکتا ہے ۔۔ تمہیں پتہ ہے نا ہم نے تمہیں بتایا جب تم پیدا ہوی تھی تو حویلی میں کتنا جشن منایا گیا تھا

اور کیا تمہیں اپنے گھر والوں کی محبت پر شک ہے ؟

وہ اسکے روتے وجود کو سیںے سے لگاتے بولا

تو ماہی نے اور شدت سے رونا شروع کر دیا

 

پر بھئیو آج تو سب بھول گئے نا ؟ اور میری برتھ ڈے کل رات سے شروع ہو چکی تھی کسی نے مجھے وش تک نہیں کیا ۔۔۔۔

اور اب گھر میں بھی کوی نہیں ہے ۔۔۔

وہ روتے ہوے بولی تو اس نے اسے الگ کیا

 

سب حویلی میں موجود ہیں بس تمہیں تنگ کر رہے ہیں ۔۔۔ 

صائم کے بچے باہر آ ۔۔۔۔

دائم نے آج خلاف معمول تھوڑا دعبدار لہجہ استعمال کرتے صائم کو بلایا 

جو زکوٹا جن کی طرح سامنے آیا

 

اففف یار دائم کچھ دیر صبر کر لیتے دیکھو کتنی ابھی ویڈیو آئ ہے اس کے رونے کی ۔۔۔ 

وہ اس کو روتے دیکھ کر مزاق کرتے بولا

 

بھئیو ۔۔۔  ماہی نے چیخ کر اس کے ہاتھ سے موبائل جھٹپنا چاہا جس پر اس نے اسکے روتے ہوے کی ویڈیو بنائی تھی جو بہت ہی بری آئ تھی 

 

ان دونوں کی جھٹ پٹ پر باقی افراد بھی باہر آئے

 

ہیپی برتگ ڈے ماہی ۔۔۔ 

سب  نے یک آواز کہا توماہی کے حرکت کرتے ہاتھ تھمے اور وہ سب کو دیکھ کر مسکرائ

 

اسکی صاف ستھری رنگت تھی اس وقت نیلے رنگ کی قمیض کے ساتھ وائٹ کیپری پہنے دپٹے کو سلیقے سے سر پر ٹکائے کندھوں پر بھاتی چادر ڈالے وہ کچھ باک چہرے پرجھول رہے تھے ۔۔۔

وہ زیادہ حسین نہیں تھی مگر قیامت تھی اسکی آنکھیں ۔۔۔ 

وہ اپنی معصومیت سے ہر کسی کو اٹریکٹ کر لیتی تھی ۔۔۔

سب کی جان بستی تھی اس میں ۔۔۔۔

 

وہ سب کو دیکھ کر باری باری سب سے ملتی سب سے پیار لیتی آخر میں نعمان شاہ کے پاس آئ ۔۔۔ 

اس کے سنجیدہ تاثرات دیکھ کر ڑر کر قدم پیچھے لیے ۔۔۔ جس نے اس کو دیکھ کر خود اسکی جانب قدم لیے ۔۔۔

ہیپی برتھ ڈے مانو ۔۔۔ 

وہ پیار بھرے لہجے میں بولا ۔۔۔

ماہی کو سب پیار سے ماہی کہتے تھے مگر نعمان اسے مانو کہتا تھا اور یہ بھی صرف اسکی برتھ ڈے والے دن ہی ہوتا ورنہ نا تو وہ یہاں آتا نا ہی اس کو اسکے نام سے پکارتا ۔۔۔۔

کبھی چھوٹی کبھی چٹکو کہہ کرہی بلاتا تھا 

 

ماہی نے مسکرا کر اس کے سینے سے لگتے اس سے بھی پیار لیا 

 

🍁🍁

 

سب کیک کھاتے ہوے اور ساتھ باتوں میں مصروف تھے ۔۔۔ اس وقت سب لاونج میں موجود تھے نوکروں سے کہہ کر مزید وہاں صوفے رکھوویے گئے تھے ۔۔ تمام مہمانوں کو ایک ہی جگہ بٹھایا گیا تھا جو کہ زکریہ شاہ کی فیملی اور سکندر حویلی کے لوگ ہی تھے۔    

 

نعمان اور حیات ایک صوفے پر بیٹھے تھے دونوں نے بلیک کلر کے کپڑے پہنے ہوے تھے ۔۔۔اج نعمان نے بھی قمیض شلوار اور پشاوری چپل پہنی تھی ۔۔۔

 

صائم نے بلو شرٹ کے ساتھ وائٹ پیںٹ پہنی ہوی تھی۔ ۔۔ بالوں کو جیل سے سیٹ کیے شرارتی آنکھیں مسکرا رہی تھیں ۔۔۔

 

دائم نے آف وائٹ کلر کی پینٹ کے ساتھ ریڈ شرٹ پہنی تھی جو اسکی گوری رنگت کو مزید بڑھا رہی تھی ۔۔۔ 

بالوں کو جیل سے سیٹ کیے نفاست سے وہ سب کے بیچ بیٹھا تھا خاموش

کسی کی نظریں خود پر محسوس کرتا اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا

 

ان کے بلکل سامنے والے صوفے پر پریشے اور حور کے ساتھ ماہی بیٹھی ہوی تھیں ۔۔۔ حور اور ماہی کی تو باتیں نہیں ختم ہو رہی تھیں مگر پری کی نظر دائم پر تھیں۔    

 

مسلہ نظروں کا نہیں تھا مسلہ اگلتی نظروں کا تھا ۔۔۔ دائم آج تک سمجھ نہیں پایا تھا کہ آخر وہ اسے اتنے غصے سے کیوں دیکھتی ہے ۔۔۔ 

وہ بیچارہ سر جھکا کر بیٹھ گیا

 

آوو بھائ مائیوں کی دلہن کی طرح سر جھکا کر کیوں بیٹھے ہو ؟صائم نے اسکو دیکھتے کہا

 

دائم نے اسکی جانب دیکھا کم گھورا زیادہ ۔۔۔ 

سامنے بیٹھی پری صاحبہ نے بھی نظروں کا زاویہ بدلا

 

زکریہ شاہ نے چائے کا کپ لیتے بات کا آغاز کیا

 

کل آپ سب بڑے ہمارے گھر دعوت پر آئیں گے ۔۔۔۔ ان کی بات پر صائم نا بولے ایسے کیسے ممکن تھا 

 

کیوں ہم بچوں کا کیا قصور ہے ؟وہ نو سال کابچہ بنتا بولا 

 

تم بچے نہیں ہو ماشاءاللہ سے 27 سال کے ہو ۔۔۔ انہوں نے ہستے ہوے اڈے احساس دلایا 

 

ہاں لیکن پھر بھی انکل آپ نے بس بڑوں کو ہی کیوں بلایا ؟

صائم کی چونچ پھر سے ہلی 

 

سب ان کی طرف متوجہ تھے ۔۔۔ پری اور حور بھی حیران تھیں مگر جویریہ شاہ مطمئن تھیں 

 

جی دراصل اس کام میں بڑوں کی موجودگی اہم ہے ۔۔۔ اب کی بار جویریہ شاہ نے بات کی ۔۔۔

کیا مطلب ؟ 

فریال نے سوال کیا

 

دراصل پری کو دیکھنے کچھ لوگ آرہے ہیں میں چاہتی ہوں آپ لوگ بھرکے افراد کی طرح وہاں میرے ساتھ ہوں ۔۔۔۔

ان کی بات پر سب نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا ۔۔ 

پری نے نظریں اٹھا کر دائم کی جانب دیکھا جو آرام دہ انداز سے بات سن رہا تھا 

 

پری کی آنکھوں میں نمی سی اتری ۔۔ 

وہ اٹھ کر وہاں سے کیچن میں چلی گئ۔۔۔۔

اسکی غیر موجودگی کو کسی نے نوٹ نہیں کیا تھا ۔۔۔ سب باتوں میں مصروف تھے کہ کون لوگ ہیں ؟ کیا کرتا ہے لڑکا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

 

دائم کو کال آئ تو وہ ایکسکیوزمی کہتے وہاں سے کال سنتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا

 

کال کافی لمبی تھی کسی مریض کے بارے میں بات کرتے کرتے وقت کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔۔۔ 

وہ نیچے واپس آیا تو مہمان جا چکے تھے ۔۔۔ 

 

کچھ دیر گھر والوں کے پاس بیٹھ کر اس نے باتیں محض سنی پھر موبائل استعمال کرنے لگا 

اس کو کسی نمبر سے میسج آیا ہوا تھا اس نے کھول کر دیکھا 

 

دائم یہ آخری موقع ہے بات کرنے کا اس کے بعد سب ختم ہو جائے گا پھر چاہ کر بھی کچھ ٹھیک نہیں کر پاؤ گے ۔۔۔۔

وہ حیران ہوا۔۔۔ اس نے اس نمبرپر کال کی کال رسیو ہوچکی تھی مگر خاموشی تھی دوسری طرف 

 

ہیلو ۔۔۔ کون ہیں آپ ؟ کیسا موقع ؟ کیا ختم ہو جائے گا ؟

وہ کال کے لیے باہر لون میں آگیا تھا ۔۔۔ 

 

دائم میرا دل چاہ رہا ہے تمہارا گلا دبا دوں ۔۔۔ 

دوسری طرف سے پری کی غداری آواز پر اس نے فون کان سے دور کیا 

 

اففپری آہستہ بولو کان پھٹ جائیں گے میرے ۔۔۔ 

وہ اسکی آواز پہچان کر بولا 

 

اللہ کرے تمہیں کچھ سنائ ہی  نا دے جیسے ابھی تمہیں میری محبت کی گونج سنائی نہیں دے رہی ۔۔۔۔

پری نے تھک ہار کر کہا 

 

تم نے خود مجھے انکار کیا تھا ! دائم نے الگ ہی لہجے میں جواب دیا ۔۔۔

لڑکیاں انکار کرتی ہیں اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ تم اس پر قدم پیچھے لے لو ۔۔۔۔

وہ پھر سے بولی لہجے اور آواز میں نمی گھلی ہوی تھی ۔۔۔

 

انہہہہ ۔۔۔۔پری رو مت ۔۔ 

میں نے تم سے شادی کرنے کی خواہش کی تھی پر تمہیں شاید بھول گیا مجھے تمہارا  انکار نہیں بھولا 

 

سب کے سامنے تم نے مجھے انکار کیا تھا کہ تم مجھ سے دوستی بھی نا کرو شادی تو بہت دور کی بات ہے ۔۔۔۔

اس نے اسکے لفظ واپس لوٹائے ۔۔۔۔

 

وہ ایک غلط فہمی تھی ۔۔۔ پری نے روتے ہوے کہا ۔۔۔

ہمممم

Epi 21 part 2

 

اور جہاں غلط فہمیاں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں وہاں کسی اور چیز کی جگہ نہیں رہتی ۔۔۔۔

 

میں آج بھی تم سے اتنا ہی پیار کرتا ہوں مگر افسوس مجھے اس پیار کو دفنانا پڑے گا ۔۔۔۔

خیر تم اپنی نئ زندگی کے بارے میں سوچو اور سب کچھ بھول جاؤ ۔۔۔ 

جیسے گھر کے سب مکین بھول گئے ویسے ہی تم بھی ۔۔۔

 

وہ کہتے کال کاٹ گیا

 

کتنے ظالم ہو تم ۔۔۔ سب کے سامنے شریف بننے کا ناٹک کرتے ہو بے مروت انسان درحقیقت تم جیسے شخص گھنے میسنے ہوتے ہیں ۔۔۔ 

پہلے مجھ  سے محبت کی ۔۔۔ اففف میں ترس گئ ہوں تمہاری محبت بھری ایک نظر کے لیے ۔۔۔

مگر تم تو میری طرف دیکھتے بھی نہیں ۔۔۔۔

وہ روتے ہوے بولی ۔۔۔

 

دائم نے پری کو سب کے سامنے شادی کے لیے کہا تھا ۔۔۔ یہ سب کے ساتھ دائم کے لیے بھی جھٹکا تھا کہ وہ اتنی ہمت کرکے بولا تھا مگر پری نے غلط فہمی کی وجہ سے اسے بری طرح دھتکار دیا تھا ۔۔۔

 

اس نے اسکے کیریکٹر پر سوال اٹھایا تھا ۔۔۔ اس نے اسے بری طرح شرمندہ کر دیا تھا ۔۔۔ 

بڑوں نے بچوں کی غلطی سمجھ کر بات کو بامشکل رفع دفع کیا 

 

مگر دائم نے کچھ دنوں میں سب کے سامنے پروف رکھ دیا تھا کہ یہ الزام بے بنیاد ہیں ۔۔۔

اس کے بعد اسنے کبھی پری کیا جانب نہیں دیکھا تھا 

اب وہ ہمیشہ اسکی نظروں کی تپش محسوس کرتا تھا مگر اسے انجان نظروں سے دیکھ کر تکلیف دیتا تھا ۔۔۔

 

🍁🍁

 

آج پری کے گھر رشتے والے لوگ آنے والے تھے ہر طرف شکریہ شاہ کی حویلی میں شور ہی شور تھا 

بی جان تو نہیں آسکیں مگر فریال اور مقدس جویریہ شاہ کی مدد کے لیے آئ تھیں ۔۔۔۔

حور کی خوشی کا کوی ٹھکانہ نہیں تھا ۔۔۔ جبکہ پری بلکل خاموش تھی ۔۔۔۔

جیسے اسکو اپنے اٹھائے ایک قدم نے اسکی محبت کو انجان بننے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔۔

 

صائم اور دائم اپنے کام پر جا چکے تھے جب کہ نعمان شاہ حیات سکندر کے ساتھ ڈیرے پر تھا ۔۔۔ 

شایان اور سکندر بھی زکریہ شاہ کے گھر پر تھے ۔۔۔ 

شہریار کو کچھ کام کی وجہ سے شہر جانا پڑا تھا ۔۔۔۔

 

رات کے وقت دائم نے گھر میں قدم رکھا تو ایک جملہ اسکے کان میں پڑا ۔۔۔

ہاں ہماری پری ان کو بہت پسند آئ ۔۔۔اور آج ہی وہ لوگ منگنی کی رسم کرکے چکے گئے ۔۔۔۔

دائم نے اشتعال سے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔۔

بنا کسی کو اپنی موجودگی کا احساس دلائے وہ واپس باہر بکل گیا

 

زکریہ شاہ کی حویلی کے خفیہ راستے وہ معصوم اور کم گو دکھنے والا شخص اچھے سے جانتا تھا

 

پری کے کمرے میں پہنچ کر وہ پورے کمرے میں اسے نا پا کر صوفے پر جا بیٹھا 

 

پری نہا کر نکھری نکھری سی واش روم سے باہر نکلی سامنے اسے بیٹھے دیکھ کر بنا کوی رسپانس دئیے ۔۔۔ جا کر اپنے بال سوکھانے لگی ۔۔۔۔

تمہاری اتنی ہمت کہ تم کسی اور کے نام کی انگوٹھی پہنو۔۔۔۔وہ اسے پیچھے سے دبوچتے ہوے غرایا تھا ۔۔۔ 

کمرہ ساؤنڈ پروف تھا ۔۔۔

پری نے اسکی جانب دیکھا۔ ۔۔۔ 

اب کیوں آگ بگولہ ہو رہے ہو۔۔۔۔ تمہیں اس وقت یہ غیرت کہاں تھی جب کوی مجھے دیکھنے آرہا تھا ؟

 

اب اگر کسی کے نام لگ گئ ہوں تو مسلہ ہو رہا ہے ؟ وہ بھی اتنا ہی چلاتے ہوے بولی 

 

شٹ اپ ۔۔۔۔ دائم ہمیشہ اپنا آپ صرف پری پر ہی ظاہر کرتا تھا ۔۔۔ 

یہ اسکی عادت تھی ورنہ ہمیشہ اس کو سب صوبر ہی سمجھتے تھے ۔۔۔

 

پری ڑر کر آنکھیں میچ گئ ۔۔۔

 

محبت ۔۔۔؟ کیا کہا تھا محبت کرتی ہو مجھ سے ؟

یہ تھی محبت تم زرا سی زبان ہلا کر انکار بھی تو کر سکتی تھی ۔۔۔۔!

 

اس نےلال آنکھوں سے گھورتے ہوے کہا 

 

تت تم نے کب کک کہا تھا کہ تم مجھے معاف کر دو گے ۔۔۔ 

وہ ہکلاتے ہوے بولی 

معافی مانگی جاتی ہے ۔۔۔ کوی دے یا نہیں ۔۔۔ 

تم نے کسی اور کے نام کی انگوٹھی پہنی ۔۔ دل کر رہا ہے تمہیں آگ لگا دوں ۔۔۔۔

 

پر نہیں پری میں تمہیں ایسی آگ میں ڈالوں گا کہ تمہیں انداز ہو جائے گا کہ اٹھائ گزکی زبان صرف الزام لگانے کے لیے نہیں بلکہ انکار کرنے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے ۔۔۔۔

 

وہ غصے سے اسے کو چھوڑتے بولا 

 

تم جب چاہو محبت کا اظہار کرو جب چاہے دستبردار ہو جاؤ ۔۔۔ تمہارا کیا بھروسہ مجھے ساری زندگی اپنے نام پر بٹھا کر رکھو اور شادی تک نا کرو ۔۔۔

پری پھر سے بولی 

 

بہت شوق ہے شادی کا ؟

دائم نے اسے گھورتے ہوے کہا ۔۔۔

 

چلو کرتے ہیں شادی ۔۔۔ 

وہ کہہ کر اسکا ہاتھ تھام چکا تھا ۔۔

اسکا نازک سا ہاتھ اس کے فولادی ہاتھ میں چھپ سا گیا

 

نن نہیں میرا مطلب وہ نہیں ہے ۔۔۔

پری ڑرتے ہوے بولی 

پری تم جانتی ہو نا میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے ؟پھر میری ناراضگی کو کھوتے کھو میں ڈال کر منگنی کرلی ۔۔۔۔

 

تم مجھ پر ہمیشہ غصہ کرتے ہو دوغلے انسان جب تم چپ رہتے ہو نا تو مجھے دیکھ کر شدید غصہ آتا ہے کہ تم کس قدر دو نمبر آدمی کو سب کو کیسے بے وقوف بنایا ہوا ہے

نیک پروین بن کر سب کے سامنے بیٹھے ہوتے ہو اور میرے سامنے آتے ہی سلطان راہی بن جاتے ہو ۔۔۔

وہ منہ بناتے بولی 

 

دائم نے اسکی بات پر ہیں پھیریں ۔۔ 

دپٹہ کہاں ہے تمہارا ؟ 

وہ دپٹہ دیکھنے کے لیے آگے پیچھے دیکھنے لگا 

 

ہاں تو جن کی طرح حاظر ہو گے تو دپٹہ کس کو یادرہے گا ۔۔۔۔

وہ جلدی سے جا کر دپٹہ خود پر پھیلاتے بولی ۔۔۔۔

 

تم میرے نکاح میں ہو ۔۔۔۔ حق ہے میرا تم پر ۔۔۔ 

پر ابھی وہ جتاتا نہیں الگ بات ہے ۔۔۔

وہ بولا تو پری نے اسے گھورا ۔۔۔ 

 

پھر بھی مجھے کسی کے سامنے پیش ہونے دیا ۔۔۔؟

 

دھتکارا تھا تم نے ۔۔۔۔ وہ اسے یاد دلاتے بولا 

 

اس کے بعد تم نے مجھ سے زبردستی نکاح کیا اور اب انجان بنتے ہو ۔۔۔

وہ اسے دیکھتے غصے سے بولی 

 

انگوٹھی اتارو۔۔۔ 

اس نے اسکی انگلی سے انگوٹھی اتارتے کہا ۔۔۔ 

 

دائم معاف کردو پلیز ۔۔۔ میں مانتی ہوں ہو گئ غلطی مجھ سے 

مگر تم اس طرح تو مت کرو ۔۔۔۔ 

 

اگر آج وہ لوگ نکاح کا کہہ دیتے ۔۔۔ وہ اسے سمجھاتے ہوے بولی 

 

جب تک حیات بھائ کی شادی نہیں ہو جاتی ہمارے نکاح کو خفیہ رکھو ۔اور ہاں اب اگر کوی رشتہ آیا تو میں تمہاری جان نکال دوں گا ۔۔۔۔ 

سمجھی ۔۔۔ وہ اسے کھینچ کر اپنے پاس کرتے بولا 

 

میسنے کہیں کے ۔۔ وہ اس کے سینے سےلگنے لگی ۔۔۔ 

اس نے فورا اسے الگ کیا ۔۔۔ 

 

جا رہا ہوں میں ۔۔۔ بہکاو مت ۔۔۔ اس رشتے کو تو میں ختم کردوں گا آگے کی کوی غلطی نا ہو 

 

ٹھیک ہے مگر مجھے اگنور نہیں کرو گے ۔۔۔ 

وہ اسے تھامتے بولی ۔۔۔ اور اسکے بٹن پر انگلی چلای ۔۔۔

چاہتی کیا ہو ؟ ارادے ٹھیک نہیں ہیں تمہارے 

 

وہ مسکرا کر بولا 

 

اففف کتنے وقت کے بعد وہ مسکرا کر آنکھوں میں محبت لیے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

آج رات میرے پاس ۔۔۔ پری کچھ کہتی جب اس نے سر نفی میں ہلایا 

 

انہہہہ ۔۔ تم جزبات میں بہک کر کہہ رہی ہو ۔۔۔ پر میں سمجھدار انسان ہوں میرے لیے تمہاری عزت سب سے اہم ہے ۔۔۔ 

میں کال پر ساری رات بات کروں گا مگر ابھی ہمارا تنہای میں ملنا مناسب نہیں ہے ۔۔۔۔

میں کوی داغ تمہارے کردار پر نہیں لگا سکتا ۔۔۔ تمہیں کسی کے سامنے جھکے سر کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا 

 

وہ کہتے الگ ہوا۔۔۔ اسکے ماتھے کو چوم کر واپسی کے لیے نکل گیا ۔۔۔

پری نے اسکی پشت کو دیکھ کر مسکرا کر ہاتھ چہرے پر رکھ لیے ۔۔۔۔

 

🍁🍁

 

دائم نے دیر واپسی جب حویلی میں قدم رکھا تو سامنے لڑاکا عورتوں کی طرح اس کی سن گن رکھنے والا صائم کھڑا تھا ۔۔۔۔

کہاں تھے تم ؟

وہ اس سے بڑے بھائیوں والے رعب سے بولا 

تمہیں کیا مسلہ ہے ؟ 

دائم نے سوال کیا ساتھ اسکے پاس سے جانے لگا 

 

آئے بھائ ۔۔۔ 

تم میرے پورے دو منٹ چھوٹے بھائ ہو اس لیے یہ ایکٹنگ مت کرو کہ تم اپنی ان چمکتی آنکھوں کو چھپا لو گے 

 

تمہاری آنکھوں کی چمک کچھ بتا رہی ہے ۔۔۔ بتاؤ ۔۔۔ میں خود گیس کروں ؟

وہ بھی وکیل تھا ۔۔۔ اسکی بات پر دائم نے اسے گھورا 

 

کام سے گیا تھا ۔۔۔ وہ گہرا سانس لے کر بولا 

اچھا لیکن خوشحال پر کونسا کام پڑ گیا ؟

وہ پھر سے سوالیہ ہوا 

 

تت تمہیں کس نے بتایا ؟ وہ جو پری کے سامنے ہیرو بن کر آیا تھا اب اپنے جاسوس بھائ کی مشکوک آنکھوں سے گھبرا کر لڑکھڑاتے لہجے میں بولا 

 

تم پر ہر پل نظر ہوتی ہے میری جانِ من ۔۔۔ اب بتاؤ ادھر کیا کرنے گئے تھے ورنہ اتنا پتہ چل گیا ہے کہ کہاں گئے تھے ۔۔ یہ بھی پتہ لگا لوں گا کہ کس سے ملنے رات کے وقت گئے تھے ۔۔۔۔

 

دائم نے مقابل کو گھورا ۔۔۔ 

 

مجھے کچھ کام تھا پری سے ۔۔۔ 

وہ کہہ کر جانے لگا ۔۔۔ 

پیار کرتے ہو اس سے ؟

دائم کے گھبرائے چہرے کو نظروں میں لیے صائم نے سنجیدہ سے لہجے میں کہا 

 

دائم نے اسے دیکھا پھر ایک نظر پوری حویلی میں ۔۔۔ جہاں شاید سب سونے کے لیے جا چکے تھے ۔۔۔

 

نہیں ۔۔۔ وہ میں ۔۔۔ وہ کچھ کہتا کہ صائم نے اسے گھورا

ہم دونوں ایک جیسے دکھتے ہی نہیں ہیں ایک جیسے دل بھی ہمارے ۔۔۔۔ 

تمہاری نظروں کو پہچانتا ہوں میں ۔۔۔ 

چلو بتاؤ نا یار بھائیوں میں کیسی بے اعتباری ۔۔۔ 

صائم اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے لون میں لاتے بولا 

 

ہوا سے دونوں کے خوبصورت بال بکھر کر ماتھے پر بکھر گئے ۔۔۔ ایک نے نائٹ سوٹ پہن رکھا تھا جب کہ دوسرا بلو پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے ہوے تھا ۔۔۔ 

دونوں کو دیکھ کر پہچان کرنا مشکل تھا ۔۔۔۔ 

کہ صائم کون ہے اور دائم کون ۔۔۔ 

 ان کے گھر کے افراد بھی اکثر دھوکہ کھا جاتے تھے مگر حیات سکندر واحد تھا جو ان دونوں کو پہچان لیتا تھا ۔۔۔ 

 

میں اس سے محبت کرتا ہوں ! 

اس نے بلآخر اپنا راز اپنی جڑوا بھای سے کر دیا ۔۔۔۔

دائم کی بات ہے صائم نے حیران نظروں سے اسے دیکھا 

 

مگر تمہارا یوں رات کے اندھیرے میں جانا غلط بات ہے ۔۔۔ جو بھی بات کرنی تھی دن میں کر لیتے ۔۔۔ 

 

اس نے سمجھایا ۔۔۔۔

دائم نے مسکرا کر اسے دیکھا یعنی جتنا وہ شخص شرارتی تھا عورت کی عزت کو لے کر سنجیدہ بھی اتنا ہی تھا اور یہ بات ان کی پرورش میں ان کے بڑوں کی طرف سے وراثت میں ملی تھی 

 

وہ میرے نکاح میں ہے ! اب کی بار دائم کی بات پر صائم اچھل کر رہ گیا 

ابے نشہ کرکے آیا ہے ؟ تم جانتے ہو کیا بول رہے ہو ؟

وہ حیران پریشان سا بولا

 

دائم نے اسکی اڑی رنگت دیکھ کر اسے اپنے نکاح کے بارے میں بتایا ۔۔۔۔

 

ماضی ۔۔۔۔

 

آج دائم کی برتھ ڈے تھی ہمیشہ کی طرح حویلی کے تمام بچوں کی سالگرہ بہت بڑے پیمانے سے منائی جاتی تھی مگر جب بات گھر کی بیٹی کی آتی تو وہ ہمیشہ اپنے لوگوں پر ہی بھروسہ کرکے چھوٹا سا مگر شاندار انتظام کرتے کیونکہ سکندر کو پسند نہیں تھا کہ ان کی حویلی کی بیٹی کی کسی بھی رسم یا خوشی میں باہر لے لوگ آئیں اور انہیں دیکھیں ۔۔۔۔

 

دائم نک سک سا تیار باہر نکلا ۔۔ اس کی ڈاکٹری کو شروع ہوے ایک ڈیڈھ سال ہو چکا تھا ۔۔ اسکی آج 25 برتھ ڈے تھی جس پر وہ ہمیشہ منع کرتا تھا مگر فری کے اسرار پر مان جاتا گھر کے بچے اپنے بڑوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا بہت احترام کرتے تھے 

 

وہ اس وقت وائٹ کڑاہی والا خوبصورت کرتا پہنے ساتھ وائٹ پجامہ پہنے بالوں کو نفاست سے سیٹ کیے اپنی خوبصورتی سے سب کے دل کی تاریں ہلا رہا تھا۔۔۔ 

اسکی خوبصورتی اور اسکی آنکھوں کی چمک ہر کسی کو اس کی جانب متوجہ ہونے پر مجبور کر دیا کرتی تھی ۔۔۔ 

وہ تیار سا کمرے سے باہر نکلا ۔۔۔ 

نکل کر جیسے ہی اس نے قدم ساتھ والے کمرے میں رکھا ۔۔ وہاں بھی ہو بہو ویسے ہی کپڑے پہنے ایک اور شہزادہ بھی بلکل اس جیسا لمبا قد چوڑا سینا وجاہت سے بھرپور نقوش ۔۔۔ 

وہ نظر لگ جانے کی حد تک ڈیشنگ لگ رہے تھے 

 

اور جب وہ دونوں ساتھ ہوتے تو کوی کسی کو اور کو دیکھ ہی نہیں پاتا تھا ۔۔۔

صائم نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔۔ 

 

واہ جانِ من اتنا صندر لگنے کی کیا ضرورت تھی میری نیت خراب ہو رہی ہے ۔۔۔ 

وہ ہستے ہوے اسے گلے لگاتے بولا 

 

بے شرم بے غیرت ۔۔ چلو نکلو باہر ۔۔ حیات کی آواز پر وہ اس سے الگ ہوا 

حیات ان دونوں کو لینے آیا تھا مہمان باہر انتظار کرے رہے تھے مگر یہ لیلا مجنو کی جوڑی ایک دوسرے کی خوبصورتی پر کتابیں لکھنے بیٹھ گئے تھے ۔۔۔۔

 

یار برتھ ڈے ہماری ہے آپ کیوں لشکارے مار رہے ہیں ؟

وہ حیات کی نک سک سی تیاری دیکھتے بولا 

 

وہ گرے کلر کے قمیض شلوار کے ساتھ بھوری چادر کندھوں پر ڈالے ہری آنکھوں والا شہزادہ اپنی خوبصورتی میں سب سے آگے تھا ۔۔۔۔

حیات نے مسکرانا تک ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔ 

چلو ۔۔ وہ کہتے کمرے سے نکلنے لگا 

 

یار آج آپ سے ایک چیز مانگو تو دو گے ؟ 

صائم کی بات پر وہ پلٹ کر سر اثبات میں ہلاتے اسے دیکھنے لگا 

 

آپ سے دوستی کرنی ہے !

آپ بس نعمان سے ہی باتیں کرتے ہیں ہم بھی آپ کی بھائ ہیں ۔۔۔ 

وہ بولا تو حیات نے اسکی جانب دیکھا 

 

یا آپ ہمیں اپنا بھائ نہیں سمجھتے ؟

اس بار اگلا جملہ دائم نے پورا کیا ۔۔

شٹ اپ ۔۔ کیا اول فول بک رہے ہو ۔۔۔جان ہو تم دونوں میری ۔۔۔ تم جانتے ہو مجھے بار بار اظہار کرنا پسند نہیں ۔۔۔ محبت جتائ یا بتائی نہیں جاتی محسوس کی جاتی ہے کیونکہ یہ احساس ہے لفظوں کی محتاج نہیں ۔۔۔ 

 

حیات نے آگے بڑھتے ان کو گلے لگایا ۔۔۔۔

وہ تینوں مل کر باہر آئے ۔۔۔ 

نعمان بھی اپنی پڑھائی پوری کرکے واپس آچکا تھا ۔۔۔ 23 سال کا نعمان شاہ سنجیدہ سا تھا ۔۔۔

 

دونوں کی برتھ ڈے پر ہنسی مذاق بھی ہوتا رہا ۔۔۔ 

حوریہ نے دونوں کو گفٹس دیے تو دونوں نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا ۔۔۔

جب کہ پری نے صائم کو گفٹ دیا تو صائم نے گفٹ لینے سے انکار کر دیا 

 

سب نے حیران ہو کر دیکھا ۔۔۔

 

مجھے پریشے سے کچھ اور چاہیے ۔۔۔ 

دائم نے پری کو نظروں کے دائرہ میں رکھتے کہا 

 

کیا چاہیے ؟ وہ کافی رفلی سے انداز سے بولی 

 

آپ کا ساتھ ساری زندگی کے لیے ! آپ مجھ۔ سے شادی کریں گی ؟ای پرامس بہت خوش رکھوں گا ۔۔۔ 

اس کی بات پر سب لوگ جتنے حیران تھے اتنے ہی چہرے مسکرائے بھی تھے ۔۔۔۔

 

کیا کہا ؟ پری نے درشتگی سے کہا 

 

شادی ؟ ہاہاہاہا ۔۔۔ 

کیوں باقی لڑکیوں سے دل بھر گیا ہے جو اب مجھ سے شادی کرنی ہے ؟

 

پری کی بات پر جوریہ نے اسے پکڑ کر جھنجھوڑا ۔۔۔ 

پری تمیز سے بات کرو ۔۔۔ وہ بچہ ایسا نہیں ہے ۔۔۔ 

 

انہہہہ ۔۔۔صوبر دکھنے والا یہ معصوم چہرہ کے کر پھرنے والا آپ کا یہ انوکھا بچہ کس قدر بے شرم بے حیا ہے اس کا آپ سب کو اندازہ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔

وہ زہر اگل رہی تھی دائم شرم سے تہہ گہرائیوں میں گر رہا تھا کیونکہ سب مہمان اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

 

کیا بکواس کر رہی ہو ؟ سکندر کو غصہ تو بہت آیا مگر اس نے خود پر قابو رکھا ۔۔۔ حیات سے کنٹرول نہیں ہوا تو وہ بیچ میں پڑا

 

بکواس نہیں کر رہی ہوں حیات بھائ ۔۔۔ اس شخص کو میں بھی معصوم شریف اور نیک سمجھتی تھی مگر اس کے رابطے بہت سی لڑکیوں سے ہیں ۔۔۔۔

انفیکٹ میری دوستوں سے بھی اس نے ہاتھ صاف کیا ہے ۔۔۔۔

ان سب کو لائن مارتا ہے ۔۔۔ 

ان کو روز کالز اور میسج کرتا ہے یہ راتوں کو ملنے کے لیے کہتا ہے ۔۔۔

 

بس۔۔۔۔۔۔ دائم نے مزید کچھ سننے سے پہلے اسے دو ٹوک روک دیا ۔۔۔ 

خدا کی قسم آج تک نا تو میں نے کسی غیر لڑکی سے رواسم نہیں قائم کیے اور نا ہی کسی کو ملنے کے لیے کہا ہے ۔۔۔۔

مگر پری ۔۔۔ آج تم نے میرے کردار کو اتنا گندا اور غلیظ بنا کر پیش کیا ہے میں خود پر لگا الزام بہت جلد دور کروں گا ۔۔۔ مگر مجھ سے معافی کی کوشش بھی نے کرنا ۔۔۔۔

 

وہ کہتے اپنی بھیگی اور سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔

پری کو کچھ غلط ہونے کا خدشہ ہوا

 

🍁🍁

 

صبح کے وقت سب لوگ جو رات کی وجہ سے سہی سے سو بھی نہیں پائے تھے ۔۔۔ 

دائم کی گرجدار آواز پر چونک کر بستروں سے نکلتے بھاگ کر کمروں سے باہر نکلے ۔۔۔۔

 

کہاں ہو پری ؟ اس نے چلا کر کہا ۔۔۔ کیونکہ اس نے رات زکریہ شاہ سے کہا تھا کہ وہ لوگ صبح تک یہی رکیں 

 

پری اور حوریہ باہر نکلی سامنے اسے غصے سے لال ہوتے دیکھ کر پری کی جان نکل رہی تھی ۔۔۔۔ 

 

یہ تھی نا وہ دوست جس نے میرے خلاف اتنا زہر بھرا ہے تمہارے دل میں!

وہ اسکی تین دوستوں کو لیے اسکے سامنے آیا ۔۔۔۔

پری نے حیران نظروں سے جھکے سر لیے اپنی دوستوں کو دیکھا ۔۔۔۔

 

بتاو۔۔۔ سچ کیا ہے ؟

کیا میں کرتا تھا تم لوگوں کو کالز ۔۔ رات کے اندھیرے میں ملنے کا کہتا تھا ؟

 

دائم کی آواز پر لڑکیاں ڑر کر پری کی طرف ہوئیں 

 

نن نہیں وہ ہم نے جھوٹ بولا تھا ۔۔۔ 

دراصل یہ اتنی تعریفیں کرتی تھی اپنے سب کزنز کی تو ہم نے بس مذاق کیا تھا ۔۔۔۔

ہمیں لگا کہ یہ مذاق ہی رہے گا ہمیں نہیں پتہ تھا پری اس بات کو آپ کے کردار کی دھچئیاں اڑانے کے لیے استعمال کرے گی ۔۔۔۔

 

ان لوگوں کی بات سن کر پری نے چکراتے سر کو تھاما ۔۔۔ 

یعنی ۔۔۔وہ بے بنیاد الزامات لگا چکی تھی ۔۔۔۔

 

🍁🍁

 

 پری کے پیپرز ہو رہے تھے وہ ہمیشہ اپنی دوستوں سے اب الگ رہتی تھی شرمندگی سے وہ کبھی پہلے کی طرح سکندر حویلی نہیں جا سکی تھی مگر بڑوں نے سمجھداری سے بات کو سنھبال لیا تھا ورنہ وہ اپنے باپ کے سامنے کبھی سر نا اٹھا پاتی کہ اسکی غلط فہمی کی وجہ سے اپنے باپ کے جگرے یار سے جدا کر دیا ۔۔۔۔

 

وہ پیپر دے کر باہر نکلی باہر موسم کافی حد خراب ہو چکا تھا ۔۔۔ 

بہت حد تک بارش کے امکانات تھے ۔۔۔وہ جلدی جلدی قدم لیتی گیٹ پر آکر اپنے ڑراییور کو دیکھنا چاہتی تھی مگر وہاں گاڑی نا پا کر لب کچلے ۔۔۔ 

فون پر موسم کی وجہ سے سگنلز بھی نہیں تھے ۔۔۔ 

وہ بہت پریشان تھی مگر پھر بھی اپنی دوستوں کے ساتھ نہیں گئ جنہوں نے اسے کافی بار کہا کہ وہ ان کے ساتھ چلے مگر وہ اپنی بات پر قائم رہی ۔۔۔۔

اسکی ضد کے آگے ہارتی سب لڑکیاں آہستہ آہستہ جانے لگی ۔۔۔۔

کالج کی چھٹی کے دو گھنٹے گزر چکے تھے ۔۔۔۔

 

وہ اب بیٹھ کر باقاعدہ رونے لگ چکی تھی ۔۔۔۔

 

اسکی دوستوں کی ایک ہی گاڑی تھی وہ لوگ جا رہی تھیں مگر پھر کچھ سوچ کر انہوں نے ڈاکٹر فرقان کے ہاسپٹل میں قدم رکھا ۔۔۔۔

وہ بڑی مشکل سے دیر انتظار کرنے کے بعد دائم سے ملی ۔۔۔ 

دائم نے حیران نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔

 

دیکھیں میں جانتی ہوں ہمارے مذاق نے آپ کو بہت شرمندہ کروایا ہے

مگر اس وقت بات پری کی ہے ۔۔۔ اور ہم سچ کہیں گے ۔۔۔ پلیز اسے کالج سے پک کر لیں ۔۔۔۔

 

دائم نے آی برو اچکای۔۔۔۔

 

دراصل بارش اور چمکتی بجلی سے پری کو بہت خوف آتا ہے اور اس وقت وہ کالج میں اکیلی ہے ۔۔۔ کیونکہ وہ ہمارے ساتھ بھی نہیں آئ اور نا ہی ڑراییور اسے لینے گیا ہے ۔۔۔۔

آپ پلیز جا کر اسے پک کر لیں ۔۔۔۔

 

وہ لڑکی روانی سے بولی ۔۔۔

دائم نے چونک کر ساری بات سنی ۔۔۔

 

انکل آپ پلیز اس پیشنٹ کو دیکھیں مجھے ابھی جانا ہو گا ۔۔۔۔ 

وہ اسی طرف آتے ڈاکٹر فرقان کو کہتے وہاں سے اپنے کیبن میں گیا اپنی ضرورت کی چیزیں لیے وہ وہاں سے نکل گیا 

 

کالج پہنچ کر وہ بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا ۔۔۔ پورا کالج چھان مارا مگر اسے کہیں بھی پری نظر نہیں آئ ۔۔۔ پریشان وہ دل کو سمجھا رہا تھا کہ پری ٹھیک ہو گی ۔۔۔۔

وہ پوری طرح سے بھیگ چکا تھا 

 

واچمین آپ نے یہاں سے ایک لڑکی کو جاتے دیکھا ہے اس نے پری کی تصویر دکھاتے کہا 

 

نہیں ۔۔۔ 

اس نے صاف انکار کیا ۔۔۔۔

دائم نے ایک دفع پھر قدم اندر کی جانب بڑھائے جب اسے وہاں درختوں کے پیچھےسے کسی کی سسکیاں سنائ دیں 

 

وہ بھگا کر اس طرف آیا جہاں پری پوری طرح رونے کے شغل میں مصروف تھی ۔۔۔ 

پری تم ٹھیک ہو؟ وہ گھٹنے کے بل اس کے پاس بیٹھتے پریشانی سے بولا

 

تت تم یہاں کیوں آئے ہو ؟ وہ پھر سے بولی ۔۔۔ جس پر دائم نے اسے گھورا ۔۔۔۔

 

چاول چنے کی ریڑھی لگتی ہے نا کالج میں وہی کھانے آیا تھا حد ہے لڑکی تمہیں لینے ہے آیا ہوں نا !

وہ اسے کہتے خود بھی اٹھا اور اسکی جانب ہاتھ بڑھایا ۔۔۔

 

نو ۔۔۔ تم مجھے کہیں پھینک دو گے تم نے کہا تھا میں نے تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔

وہ پھر سے روتے ہوے بولی ۔

 

پری ۔۔۔ آؤ ورنہ اٹھا کے لے جاؤں گا اسکی دھمکی پر وہ جلدی سے اٹھی ۔۔۔ 

رونا بند کرو ۔۔۔ کیڈنیپ نہیں کیا جو اس طرح رو رہی ہو۔۔۔ 

وہ اسے لیے ہنوز ناراضگی برقرار رکھے گاڑی میں بیٹھا ۔۔۔ 

 

راستے میں ان کی گاڑی کے عین سامنے ایک درخت گر گیا ۔۔۔ پری کی چیخیں پوری گاڑی میں گونج رہی تھیں ۔۔۔۔

 

پری میں تمہارے ساتھ ہوں نا ۔۔۔ کیوں ڑر رہی ہو۔۔۔۔

وہ گاڑی ریورس کرتے ہوے اسے لیے دوسرے راستے سے گاؤں جانے لگا تھا جو کافی لمبا ہونا تھا مگر اب وہ اس کو ڑرے ہوے دیکھ کر جلدی سے اسے تسلی دیتے لے جا رہا تھا 

 

پری نے ایک منٹ بھی رونا بند نہیں کیا تھا کسی چھوٹی سی بچی کی طرح وہ ڑر کر دبک کر دروازے سے لگی ہوی تھی 

 

پری کو اس انداز میں ڑرتے دیکھ کر دائم کو بہت برا لگ رہا تھا مگر پھر گاڑی کی سپیڈ بھی وہ بڑھا نہیں سکتا تھا ایک تو بارش طوفانی تھی اور پھر وہ تیز سپیڈ سے چلتی گاڑی سے بھی تو ڑرتی تھی ۔۔۔۔

 

پری خاموش! اب مجھے تمہارے رونے کی آواز آی تو گاڑی سے اتاردوں گا ۔۔۔ 

وہ اب کی بار سخت لہجے میں بولا ۔۔۔ 

پری نےروی روی آنکھوں سے اسکی جانب دیکھا 

 

آپ مجھے گاڑی سے اتار دیں گے ؟باہر اتنی سخت بارش ہو رہی ہے ۔۔۔ 

وہ روتے ہوے بولی ۔۔۔

اسکی معصوم سی آواز پر دائم نے مسکراہٹ چھپائی ۔۔۔۔

 

ہاں بلکل باہر چمکتی بجلی تم پر گرے گی تو تم راکھ ہو جاؤ گی ۔۔۔ اور میرا بدلہ بھی پورا ہو جائے گا ۔۔۔ 

وہ اب مسکراتی آنکھوں سے مگر بظاہر سخت سرد تاثرات لہجے میں سموئے ۔۔۔ وہ بولا 

 

پری اپنا ڑر خوف بھولے اسے حیرانی سے دیکھنے لگی ۔۔۔ 

 

کونسا بدلہ ؟ 

 

میری بے عزتی کا ۔۔۔ مجھے انکار کرنے کا ۔۔۔ مجھے ریجیکٹ کرنے کا ۔۔۔ مجھ پر بے بنیاد الزام لگانے کا 

وہ بولا تو وہ شرمندگی سے سر جھکا گئ ۔۔۔۔۔

 

اسکے جھکے سر کو دیکھتے اسے کچھ تسلی ہوی کہ وہ اب رو نہیں رہی ۔۔

۔

وہ ابھی راستے میں تھے جب سگنلز آنے لگے تھے تبھی پری کے نمبر پر کال آی ۔۔۔۔

اس نے کال رسیو کرتے فون کان سے لگایا ۔۔۔ 

پری میری جان کہاں ہو تم ؟ تم جانتی ہو سپیشل تمہارے لیے میں پاکستان آیا ہوں اور تم ہو کہ ابھی تک حویلی نہیں پہنچی ۔۔۔ 

 

دوسری طرف سے آتی آواز پر دائم بھی چونکا ۔۔۔ 

وہ آواز کسی لڑکے کی تھی ۔۔۔

 

ثاقب میں آرہی ہوں ۔۔۔ بس گاڑی نہیں آئ تھی مجھے لینے اس لیے لیٹ ہو گئ ۔۔۔۔ 

وہ اسی بتاتے ساتھ بیٹھے دائم کے تاثرات سے انجان تھی ۔۔۔

 

اوکے آج تمہارے لیے سرپرائز پلین کیا ہے میں نے ۔۔۔ 

 

وہ چہک کربولا

کیسا سرپرائز ۔۔۔ وہ اب ڑر خوف سے بالاتر جلدی سے بولی 

 

ہمارے رشتے کا ۔۔۔ سرپرائز ۔۔ وہ بولا تبھی سگنلز پھر سے خراب ہونے لگے ۔۔۔۔

پری کی اکھ کوشش کے باوجود وہ پوری بات نہیں سن پائ مگر دائم نے بات سنتے ہی لال آنکھوں سے ساتھ بیٹھی اس ماسی مکاراں کو دیکھا جو خود کو بہت عقلمند سمجھتی تھی ۔۔۔۔

 

دائم کی پکڑ سیٹرنگ پر اس قدر سخت ہوی کہ اسکے ہاتھ کی رگیں ابھر کر اوپر آگئ ۔۔۔ 

پری جو اپنے فون کو آگے پیچھے کرکے سگنلز لینے کی بے جہ کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔

 

اسکی نظر سیٹرنگ کو سختی سے دبوچے ۔۔۔ لب بھینچے لال چہرے کے ساتھ سامنے سڑک کو گھورتے دائم پر پڑی تو وہ ڑر سی گئ ۔۔۔ 

 

دائم کو ہمیشہ نرم لہجے میں اور نارمل تاثرات میں دیکھنے کی اتنی عادت تھی کہ وہ مارے حیرت کے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

 

کک کیا ہوا آپ کو 

۔۔؟

سونے پہ سہاگا وہ اس بھوکے شیر کو چھیڑ چکی تھی ۔۔۔ 

دائم نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔ پری نے خوف سے نظریں جھکا لیں ۔۔۔

 

کچھ دیر میں گاڑی کے ٹائیرز سڑک پر چڑچڑاہٹ کرتے رکے ۔۔۔ 

گاڑی کے رکنے پر پری نے نظریں اٹھا کر باہر دیکھا تو وہ ابھی گاؤں کی حدود سے دور تھے ۔۔۔

 

اس کی ہمت نہیں تھی سوال کرتی اسی لیے چپ ہی رہی ۔۔۔ 

مگر دائم گاڑی سے اترا اور دوسری طرف گھوم کر آتے اسے بنا سمجھنے کا موقع دیے کھینچ کر گاڑی سے باہر نکالا ۔۔۔

بارش تھم چکی تھی ۔۔۔ گیلی مٹی پر 

بارش کے قطروں کی وجہ سے جو خوشبو اٹھی تھی وہ ماحول کو اس قدر مہکا رہی تھی  اور درختوں کے پتوں پر اٹکے بارش کے قطرے ٹھہرے خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے ۔۔۔۔

 

پری کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی ۔۔۔ 

کیا کر رہے ہیں آپ ؟ چھوڑیں مجھے ۔۔۔ وہ گھبرا کر اس سے ہاتھ چھڑواتے ہوے بولی ۔۔۔ 

شٹ اپ ۔۔۔ 

ایک لفظ بھی بولا تو تمہاری آواز ہمیشہ کے لیے بند کر دوں گا 

 

وہ گرج کر بولا تو وہ سہم گئ ۔۔۔۔

 

🍁🍁

وہ اسے حیرت زدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی جو اسے ایسی خبر سنا رہا تھا کہ آنکھوں کے سامنے جیسے اندھیرا سا چھانے لگا تھا ۔۔۔

 

دماغ خراب ہو گیا ہے آپ کا؟

وہ اسے گھورتے ہوے بولی ۔۔۔ 

 

میں نے کہا ۔۔۔ تھوڑی دیر میں ہمارا نکاح ہے ۔۔۔ 

مولوی کے سامنے کچھ الٹا بولنے سے پہلے یہ یاد رکھنا کہ اس کے بعد تمہاری جان نکال دوں گا ۔۔۔۔

اور ہاں ۔۔۔ 

تمہارے گھر والے تمہارے قاتل کو ڈھونڈ بھی نہیں پائیں گے۔۔۔۔ 

 

اسکی دھمکی پر پری جس کو موت سے بے تحاشہ خوف تھا وہ رونے کی تیاری کرنے لگی جب اس نےاس اسکی آنکھوں کے سامنے تیز دھار والا چاقو کیا 

 

انکار نہیں کرو گی ۔۔ اور خبردار جو رونے بیٹھی ۔۔۔ 

چول شاباش دپٹہ سر پر رکھو ۔۔۔ مولوی آنے والا ہے ۔۔۔ 

 

وہ آج دائم نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔جو صوبر سا نفاست پسند اپنے کام سے کام رکھنے والا کم گو انسان تھا ۔۔۔ بلکہ یہ تو کوی اور ہی دائم تھا ۔۔۔۔

 

وہ ڑر کر اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ 

 

مجھ آپ سے اس طرح چھپ کر نکاح نہیں کرنا ۔۔۔۔ بابا کو پتہ چلے گا تو وہ ناراض ہو گے ۔۔۔ 

وہ اسے دیکھتے سہم کر بولی 

 

کسی کو پتہ نہیں چلے گا ۔۔۔ بس تم خود کو میرے نام پر سنبھال کر رکھو گی ۔۔۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔۔۔

 

چلو ۔۔۔ شاباش ۔۔۔۔

 

🍁🍁

 

صائم کی پھٹی آنکھوں کو خود پر دیکھ کر وہ نظریں پھیر گیا ۔۔۔ 

 

واہ یار کتنا بڑا راز دل میں چھپا کر رکھا ہے تم نے ۔۔۔ وہ بولا تو دائم نے گہرا سانس لیا ۔۔۔ 

 

چلو ۔۔۔ اب پری تو بھابھی ہے اپنی ۔۔۔ 

لیکن تمہیں نہیں لگتا یہ سب جان کر سب لوگ تم سے خفا ہوں گے ۔۔۔ 

وہ کچھ پریشان سا بولا 

 

تم ہو نا میرے ساتھ دینے کے لیے ۔۔۔ دائم کی چمکتی نظریں صائم کے چہرے پر تھیں ۔۔۔ 

 

ویسے بہت بڑے کمینے کو تم ۔۔۔ خیر اب چہرہ مجھ جیسا خوبصورت ہے تو حرکتیں تو ایسی ہی ہوں گی ۔۔۔ ویسے مجھے لگتا ہے ہم جیسے باقی پانچ لوگ بھی ایسے ہی ہوں گے ۔۔۔ 

وہ اس بات کو یاد کرتے بولا کہ۔ ایک شکل کہ ساتھ آدمی اس دنیا میں ہوتے ہیں ۔۔۔۔ 

 

ہاہاہا ۔۔۔ چیز فلحال تو اپنا ہی سوچیں گے ۔۔۔ 

خیر ۔۔۔ ویسے تمہیں اپنی بھابھی کیسی لگی ؟ دائم نے شرارت سے پوچھا 

 

ماشاءاللہ بہت اچھی ہے اللہ تم دونوں کی جوڑی سلامت رکھے ۔۔۔ 

بس اب حیات بھائ شادی کے لیے تیار ہو تو میں اپنی بھابھی بھی لے آؤں یہاں 

وہ مسکرا کر جواب دیتا بولا 

 

پھر دونوں حویلی کے اندر کی جانب جاتے سیڑھیوں کہ طرف بڑھ گئے ۔۔۔

 

🍁🍁🍁

Episode 22

 

اگلی صبح کافی پرسکون تھی۔۔۔۔ درختوں پر بیٹھی چڑیاں چہچہا رہی تھیں سورج کی ننھی سی کرنیں زمین پر بکھر رہی تھیں ۔۔۔ 

 

حویلی کے اندر خاموشی تھی ۔۔۔ کیونکہ آج اتوار کا دن تھا اور پر اتوار کو سب لوگوں کو اپنے کام سے چھٹی ہوتی تھی۔۔۔۔ 

دائم بھی سنڈے کا ریسٹ لیتا تھا ۔۔۔۔

 

فریال اور سکندر کے کمرے میں دیکھا جائے تو پردے کھڑکیوں پر گرے ہوے تھے مکمل سکون سے نیند پوری کرتی فریال سکندر کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی ۔۔۔۔اسکی گھنی زلفیں آج بھی ویسے ہی خوبصورت تھیں ۔۔۔ کچھ عمر کا تقاضہ تھا کہ چہرہ کچھ بھرا بھرا سا ہوگیا تھا ۔۔۔ 

سکندر اپنی پوتی وجاہت سے سویا ہوا بھی پہلے کی طرح جازب ہی لگتا تھا ۔۔۔۔

 

دونوں کمفرٹر میں دبکے پڑے تھے۔۔۔۔ ہر تکلیف پریشانی اور دکھ کو بھلائے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے 

 

جب کہ اب نظر سائشہ اور شہریار کے کمرے میں ڈالیں تو سائشہ کی ابھی ابھی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ 

وہ کروٹ لے کر جیسے لیٹی دوسری طرف لیٹے شہریار شاہ کو دیکھا جو اب کافی عمر سے بڑا لگنے لگا تھا ۔۔۔ بالوں کو اب کچھ حد تک چھوٹا کروایا گیا تھا مگر مکمل نہیں ۔۔۔ اور وہ آج بھی اپنے بیٹوں کے ساتھ بیٹھا ان کا باپ کم بھای زیادہ لگتا تھا 

 

سائشہ نے ہمیشہ کی طرح عقیدت اس کے چہرے کو دیکھ کر مسکراہٹ چہرے پر ڈالی پھر اس کے خوبصورت چہرے پر لب رکھے اور اٹھ کر فریش ہونے چلی گئ ۔۔۔۔

عورت کا محبت بھری نظر سے اپنے شوہر کو دیکھنا اس بات کا گواہ ہے کہ ہے کہ اس کے شوہر نے کس حد تک اسے خوش رکھا ہے اور سائشہ کی زندگی میں شہریار کا آنا کوی بہار سے کم نہیں تھا ۔۔۔۔۔

 

مقدس اپنے کمرے میں الٹی پلٹی سو رہی تھی کیوٹ سی سمائل چہرے پر تھی ۔۔۔ 

جب کہ شایان جو کچھ دیر پہلے ہی اٹھا تھا مسکرا کر اس کو دیکھ رہا تھا۔ ۔۔۔

وہ ہر لمحہ شکر گزار تھا اپنے رب کا جس نے اسکو مقدس جیسی ہمسفر دی ۔۔۔۔ 

بھلے ہی مائرہ کا آنا ان کی زندگی کو ہلا چکا تھا مگر دونوں کی کوشش نے دوبارہ زندگی کو پٹری پر لا چھوڑا تھا 

ہاں مگر اس دوران کب نعمان کا ہاتھ ان سے چھوٹ گیا یہ اندازہ انہیں بہت لیٹ ہوا ۔۔۔۔

 

وہ اسے بچہ سمجھ رہے تھے مگر وہ جانتا تھا کہ مائرہ نے اسکی ماں کی جگہ لینے کی کوشش کی تھی ۔۔۔

اگر مقدس شایان سے علیحدگی اختیار کرتی تو ضرور مائرہ اپنی جگہ بنا لیتی ۔۔۔۔

مگر ایسا نا ہونا بھی قدرت کی مرضی تھی ۔۔۔۔

 

حیات سکندر کے دروازے پر دستک ہوی ۔۔۔ وہ جو آج کے دن ہی دیر تک سوتا تھا آنکھیں کھول کر دروازے کی جانب دیکھا ۔۔۔ 

ہری آنکھوں سے دروازے کو دیکھتے وہ سیدھا ہو کر بیٹھا کمفرٹر اتار کر پاؤں زمین پر پڑی اپنی چپل کی طرف بڑھائے ۔۔۔ 

پاؤں میں چپل ڈال کر وہ چلتا ہوا دروازے تک آیا ۔۔۔۔

 

دروازے کے لاک کو کھول کر اس نے باہر دیکھا جہاں امید کے برعکس حوریہ کو دیکھ کر وہ چونک گیا ۔۔۔۔

حوریہ اس کے کمرے میں آج سے پہلے کبھی نہیں آئ تھی مگر آج اسے اپنے کمرے کے سامنے دیکھ کر وہ حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

 

حوریہ جس نے سر جھکایا ہوا تھا نظریں اٹھا کر اس کی حیران آنکھوں کو دیکھا ۔۔۔ نظریں فوراً جھکا لیں ۔۔۔۔

 

وہ وہ مجھے آپ سے بات کرنی تھی ۔۔۔ 

وہ کہتے لڑکھڑائ تھی ۔۔۔ وہ ہمیشہ اس سے گھبراتی تھی ۔۔۔ 

شاید اسکی ہری آنکھوں کا خوف ہی اتنا تھا ۔۔۔۔

 

حیات اسکی گھبراہٹ محسوس کرتا ہلکا سا مسکرایا وہ بھی چند لمحوں کے لیے ۔۔۔ 

جس کی مسکراہٹ کی جھلک وہ گھبراہٹ میں دیکھ نہیں پائ تھی ۔۔۔۔

 

وہ دروازہ کھولے پیچھے اپنے کمرے کے اندر جا کر کھڑا ہوا تاکہ وہ آسانی سے اندر آکر بات کر سکے ۔۔۔

 

وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی اندر داخل ہوی ۔۔۔ دیکھنے سے وہ چھوٹی سی چھوی موئ سے گڑیا تھی مگر سامنے کھڑا شخص جانتا تھا وہ چھوٹی سی لڑکی بس اسکے سامنے ہی دبکی ہوی ہے ورنہ شیطان کی ماں تھی وہ ۔۔

 

وہ اسے نظروں کے زاویے میں لیے کھڑا تھا نیند ٹوٹنے کا غصہ بھی اب دور دور تک نہیں تھا ۔۔۔۔۔

 

کچھ بولو گی یا اپنا دیدار کروانے آی ہو ۔۔۔ ؟

اب کی بار حیات نے آغاز کیا حوریہ نے چونک کر اسے دیکھا 

 

میں بھلا آپ کو دیدار کروانے کیوں آؤں گی ؟

وہ چھوٹی سی ناک سوکیڑ کر بولی 

 

کیونکہ تم جانتی ہو کہ مجھے تمہیں دیکھنا پسند ہے ۔۔۔۔ 

حیات نے بنا لگی لپٹی کے بات کی وہ جانتا تھا کہ یہ لڑکی اسکے جزبات سے پہلے سے واقف ہے ۔۔۔ وہ جانتی ہے کہ سامنے کھڑا شخص اسے بنا کہے بنا جتائے اپنی محبت کا اظہار آنکھوں سے کر چکا ہے جس کا اعتراف سامنے چھوٹی سے لڑکی حوریہ کی بار بار جھکتی پلکیں کر رہی تھیں 

 

وہ دراصل مجھے آپ کی مدد چاہیے ۔۔۔ 

وہ بات پر چند لمحے نظریں جھکا رہی پھر ہمت کرتی اپنی بات بولی 

 

حیات نے اسے گھورا ۔۔۔ 

 

ہممم کیسی مدد ؟

کیا تم نے کسی کو مارا ہے؟ کیا تم نے کسی کا قتل کر دیا ہے ؟ کیا تم نے کسی لاش ٹھکانے لگانے کے لیے حیات سکندر کی مدد لینی ہے ؟

 

کھلے دروازے سے اندر داخل ہوتے صائم کی آواز پر سر نفی میں ہلا گئ ۔۔۔۔

 

نہیں نہیں میں نے کسی کو نہیں مارا ۔۔۔۔ 

وہ جلدی سے اگے ہوتی آڑی رنگت کے  چہرے کے ساتھ حیات کی طرف پلٹی ۔۔۔ کہیں یہ سچ میں اسے قاتل نا سمجھ لے ۔۔۔

 

ششش ۔۔۔۔ گھبراؤ نہیں ۔۔۔ اسے نارمل کرتے وہ صائم کو گھورنے لگا جو حلیے سے ہی ابھی ابھی اٹھ کر منہ اٹھا کر اسکے کمرے میں گھس آیا تھا ۔۔۔۔۔

 

ارے صاحب معزرت ہم شمع کجیئے گا ہم غریب سے جو بھی گناہ ہوا اس کے لیے کریپیا ہم کو معاف کر دیں ۔۔۔۔۔

صائم نے اپنی نوٹنکی  شروع کر دی 

 

یہاں کیا کر رہے ہو؟ حیات نے سخت لہجے میں کہا ۔۔۔۔

 

یہ آپ کے کمرے میں کیا کر رہی ہے ؟

صائم کے سوال پر حوریہ نے گھبرا کر حیات کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔ 

مجھے ان سے مدد چاہیے تھی ۔۔۔ 

وہ صائم کو صفائ دیتے بولی 

 

حیات نے اسے دیکھا ۔۔۔ 

تم سے کس نے کہا اس نکمے کو صفائ دو ۔۔۔ اور تمہیں لگتا ہے کہ وہ تمہارے یہاں ہونے کی وجہ جاننا چاہتا ہے ؟ وہ جاننا نہیں چاہتا بس تمہاری گھبراہٹ کا فایدہ اٹھا رہا ہے 

 

وہ اسے دیکھتے نرمی سے بولا تو صائم کو گھورتی نظروں سے دیکھا جو ہونکوں کی طرح منہ کھولے کھڑا تھا 

 

کیا مسلہ ہے ؟ صبح صبح بنا منہ دھوئے یہاں کیوں ٹپکے ہو؟

وہ سوالیہ ہوا

 

یار میں ماہی کے روم میں گیا تھا اب آپ کے کمرے کے کھلے دروازے سے اندر جھانکا تو حور اندر آئ تھی اس لیے اس کو دیکھتے اندر آگیا 

 

وہ بولا پھر سر کھجاتے وہ کال آنے پر باہر نکل گیا 

 

اب وہ پھر سے سر جھکائے کھڑی حور کی جانب پلٹا ۔۔۔ 

اس شیطان کی موجودگی میں کسی کی پرسنل لائیف کبھی پرسنل نہیں رہتی ۔۔۔۔

 

وہ بڑبڑاتا ہوا جا کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔ 

تمہاری گردن میں کوی مسلہ ہے ؟ جو ہر وقت جھکا کر رکھتی ہو ۔۔۔ 

سر اٹھاؤ میری طرف دیکھو ۔۔۔۔ 

وہ اسے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھتے بولا 

 

حور نے کلس کر اس مغرور شخص کو دیکھا ۔۔۔ 

وہ چلتی ہوی وہاں سنگل صوفے پر جا بیٹھی ۔۔۔۔ 

 

وہ ۔۔۔۔ گاؤں میں قتل ہوا ہے ۔۔۔۔  اس کی بات پر ریلیکس سا بیٹھا حیات بلکل سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔

 

کک کیا ؟ وہ پریشانی سے بولا 

 

جی وہ میں اور میری دوست صبح واک پر گئے تھے ۔۔۔ اور واپسی پر ۔۔۔۔ 

صبح کا منظر ۔۔۔۔

 

اریشہ یار ایک تو تم بھی عجیب ہو آدھی رات کو تم حویلی آگئ ۔۔۔۔اور اب صبح تمہیں واک پر جانا ہے ۔۔۔ حور آنکھیں مسلتی کمفرٹر سے باہر چہرہ نکالتے بولی 

 

سامنے اریشہ ٹراؤزر شرٹ پہنے اونچی پونی کیے کھڑی تھی 

حور یار اٹھ جاؤ ۔۔۔ 

میں روز صبح واک پر جاتی ہوں اور گاؤں میں صبح چڑھتا سورج دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔

پلیز۔۔۔۔ 

وہ بولی تو حور نے منہ بنایا 

 

اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔ وہ اٹھ کر بیٹھی بیڈ کروان سے ٹیک لگا کر اس نے بغور اسکا جائزہ لیا 

 

یہ تم اس طرح جاؤ گی ؟ وہ اسے دیکھتے فورا آنکھیں پھاڑے بولی 

 

ہاں تو کیا خرابی ہے ؟ اب چلو اٹھو ۔۔۔

وہ کہتے اپنے جوگرز پہننے لگی ۔۔۔

 

حور نے مزید کچھ کہے بنا پاؤں بیڈ سے نیچے لٹکائے ۔۔۔ ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے وہ نماز پڑھ کر سوئ تھی اس وقت اس محترمہ کی آنکھ نہیں کھل رہی تھی ۔۔۔ اور اب 

وہ اہہہہ کرتی واشروم میں بند ہو گئ 

 

کچھ دیر کے بعد وہ لوگ صبح کے وقت جہاں اس وقت بہت کم لوگ ہی گاؤں میں اٹھے تھے ۔۔۔۔ وہ چلتی ہوی ندی کی جانب آئ ۔۔۔ 

 

اریشہ کو کال آئ تو وہ رسیو کرتی دوسری جانب بڑھی ۔۔۔

 

حور کو اب بھی نیند آرہی تھی وہ ٹہلتی ہوی درختوں کے پاس آئ ۔۔۔ 

اچانک نظر ایک درخت کے پاس نیچے کی جانب پڑی ۔۔۔۔

وہاں پر سوخے پتوں پر خون گرا ہوا تھا ۔۔۔۔

 

حور ڑر سی گئ ۔۔ اسے لگا کوی زخمی ہو گا ۔۔۔ 

وہ اس طرف بڑھی مگر کچھ اور پتے بھی خون سے لت پت تھے جو ابھی خون تازہ تھا 

یعنی قتل کچھ وقت قبل ہی ہوا تھا 

 

وہ ڑر کر پیچھے ہوی نیچے سے ایک پتہ اٹھا کر اس کوچیک کیا ۔۔۔ اس کے انگوٹھے پر خون کا قطرہ لگا تو وہ سہم گئ ۔۔۔ 

پتے کو گراتی وہ بھاگتی ہوی اریشہ کی طرف آی جو اسے دیکھتے حواس باختہ سی اسی کی جانب آرہی تھی ۔۔۔۔

 

اریشہ خخ خون ۔۔۔ ہے وہاں ۔۔۔ وہ اسے بتا رہی تھی 

اریشہ نے بھی سر ہلاتے اسے دیکھا اور اس طرف کسی کی لاش پڑی ہے ۔۔۔۔

وہ بھی گھبرائ ہوی تھی 

 

دونوں نے لاش کو دیکھا ۔۔۔ پھر وہ لوگ بھاگتی ہوی واپس آئ ۔۔۔۔

سڑک پر آتے ہی حور نے ڑراییور کو آنے کے لیے کال کی اور اریشہ کو گھر بھجوا کر وہ خود سکندر حویلی چلی گئ ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

حیات سکندر نے ساری بات سن کر سر اثبات میں ہلایا پھر اس کے چہرے کے آڑے رنگ دیکھ کر اس کو پریشانی ہوی 

 

اچھا میری بات سنو حور ۔۔۔ 

وہ نرم لہجے میں بولا 

 

جی ؟ 

وہ آنکھوں میں پریشانی لیے بولی 

 

تمہیں مجھ پر یقین ہے ؟ وہ بے جہ سوال کر رہا تھا آنکھیں اس کے چہرے کو دیکھتے تھک نہیں رہی تھی 

کتنی معصوم سی لڑکی تھی ۔۔۔ اسے دیکھ کے ہی حیات سکندر کو سکون آ جاتا تھا ۔۔۔۔ 

 

جی تھوڑا تھوڑا ۔۔۔ وہ دو انگلیوں کو تھوڑا سا فاصلہ دیتے بولی 

 

حیات نے اسکی حرکت پر مسکراہٹ چہرے پر سجائ تو وہ اسے مسکراتے دیکھ کر گھبرا کر نظریں نیچے کر گئ ۔۔۔۔ 

 

اچھا تم رکو میں چینج کر کے آتا ہوں پھر مل کر وہیں جائیں گے ۔۔۔ 

وہ کہتے ہی جا کر واشروم کی جانب گیا ۔۔۔ 

 

حور خاموشی سے بیٹھ گئ ۔۔۔۔ 

اچھا سنو ۔۔۔ 

وہ الماری سے کپڑے لیتے پلٹا ۔۔۔ 

جی ؟ 

کہیں قتل تم نے ہی تو نہیں کیا ؟ مجھے تم پر شک ہو رہا ہے !

وہ شرارت سے بولا 

 

آپ کو میں ایسی لگتی ہوں ؟

وہ ناراض سی بولی 

 

مجھے تو تم ویسی لگتی ہو۔۔۔ وہ کہتے پلٹ کر الماری سے کپڑے لینے لگا 

 

کیسی ؟ وہ اٹھ کر اسکے پاس پہنچ گئ ۔۔۔۔

بیوی جیسی ! وہ اسے دیکھتے نرمی سے بولا

 

کیا ؟ وہ چیختے ہوے بولی

 

شششش۔۔۔۔ چلا کیوں رہی ہو خود ہی تو کہا ہے کیسی ؟

وہ ہستے ہوے بولا 

 

آپ ہستے بھی ہیں ؟ وہ اسے دیکھتے بولی 

میں بندے بھی کھاتا ہوں ! وہ اسے گھورتے ہوے بولا 

 

ویسے مجھے بھی آپ ویسے لگتے ہیں ۔۔۔ وہ جا کر صوفے پر بیٹھتے بولی 

 

وہ جو واشروم جا رہا تھا ۔۔۔ رکا

 

کیسا؟ 

پلٹ کر دیکھا ۔۔۔ 

میری مرضی جیسے بھی لگتے ہیں ۔۔۔ وہ ناک سوکیڑ کر بولی ۔۔۔۔

 

وہ سر جھٹکتا واشروم میں بند ہو گیا 

 

🍁🍁

گاڑی میں اس کے ساتھ بیٹھی وہ بہت پریشان تھی ۔۔۔ 

حیات نے اسکی گھبراہٹ اور پریشانی محسوس کرتے بات کی 

 

سنو تم نے کیا کہا تھا کیسا لگتا ہوں میں تمہیں ؟ 

حیات کی بات پر وہ لب کچلنے لگی ۔۔۔۔

 

حیات نے اسکی سوچ بدل کر اب چہرے پر ڑر نا دیکھ کر گہرا سانس لیا 

 

جائے وقوع پر پہنچ کر وہ اس سے بولا 

دیکھو ۔۔۔ تمہیں یاد ہے کہ تم نے کونسا پتہ اٹھا کر کہاں پھینکا تھا ؟

وہ سامنے نیچے سوخے پتوں کو دیکھ کر بولا جن پر خون اب خشک ہو چکا تھا 

 

کیوں ؟ وہ ڑر گئ ۔۔۔ 

حور میری بات سنو ۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر میں پولیس آئے گی اور وہ یہاں پر کلو ڈھونڈنے کے لیے ہو سکتا ہے ان پتوں پر فنگر پرنٹ دیکھے ۔۔۔ 

اس لیے میں نہیں چاہتا کسی بھی طرح تمہارا نام آئے اور تمہیں پریشان ہو ۔۔۔ 

تم نے کہا تھا تم نے پتہ اٹھایا اور پھر جلدی سے پھینک دیا 

 

اب ان میں سے کوی پتہ تو ہو گا ۔۔۔۔ ہم پتے ہٹا تو دیں پر پھر بھی پولیس کو قاتل تک بھی تو پہنچنا ہے 

 

حور ڑر گئ ۔۔۔ 

حیات نے اسکا نرم چھوٹا سا ہاتھ پکڑا۔۔۔ وہ قد میں اتنی چھوٹی تھی کہ لمبے چوڑے حیات سکندر کو اس کی طرف مکمل جھک کر بات کرنی پڑتی تھی ۔۔۔۔۔

وہ اسکی جانب جھکے جھکے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پاس کیا 

 

ڑرو مت ۔۔۔ میں اپنی حورکو کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔ 

تم جانتی ہوں نا تم حیات سکندر کا سکون ہو۔۔۔۔ یوں گھبراؤ مت ۔۔۔ بس جیسے تم نے پتہ اٹھایا اور پھینکا وہ مجھے دوبارہ کر کے دیکھاو

 

حور نے تھونک نگل کے سر اثبات میں ہلایا 

اس نے صاف پتے کو بلکل اس طرح جلدی سے پھینکا ۔۔۔ جیسے اس نے پہلے پھینکا تھا 

 

ایک دفع پھر ۔۔۔ 

حیات کے کہنے پر پھر سے اس نے وہی عمل دہرایا ۔۔۔۔

پتہ بلکل اسی پتے کے اوپر جا کر گرا ۔۔۔ جہاں اس نے پلے ٹرائے کرتےپھینکا ۔۔۔۔

حیات نے جلدی سے وہاں پر پڑا پتہ اٹھایا ۔۔۔ جس پر خون خشک ہو چکا تھا ۔۔۔ 

اس نے بڑے غور سے دیکھا ۔۔۔ 

پھر مسکرایا ۔۔۔۔

شاباش شیرنی ۔۔۔ تم نے کر دیکھایا ۔۔۔ 

دیکھو اس پر تمہاری چھوٹے سے انگوٹھے کا نشان ہے ۔۔۔۔ 

چلو اب تم ڑراییور کے ساتھ گھر جاؤ ۔۔۔ اور ڑرو مت ہم قاتل تک پہنچ جائیں گے اوکے ۔۔۔ وہ اس کا بال ٹھیک کرتے بولا 

 

حور نے بچوں کی طرح سر ہلایا ۔۔۔۔

 

🍁🍁

کیا؟ خوشحال پر میں قتل ؟ سکندر کی جھنجھلاتی آواز پر فریال بھی جاگ گئ ۔۔۔۔ 

کس کا قتل ہوا ہے ؟ 

تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ؟ وہ تو باہر تھا ۔۔۔ 

حیات کہاں ہے اس وقت ؟

اس نے سخت رعب سے سارے سوالوں کے جواب لیتے فون کاٹ دیا ۔۔۔

 

اگر یہ حیات نے کیا ہے تو بے وقوفی کی ہے اس نے ۔۔۔۔۔ سکندر نے پریشانی سے کہتے پاؤں میں جوتے اڑیسے ۔۔۔ 

 

کیا ہوا ہے آپ اتنے پریشان کیوں ہیں ؟ فریال نے جلدی سے اٹھ کر بیٹھتے سوال کیا

 

پچھلے مہینے جس دشمن نے شکریہ شاہ پر حملہ کروایا تھا اور جس سے حیات کا بھی جھگڑا چل رہا تھا اس کا بیٹا مارا گیا ہے۔ ۔۔۔

اسکی لاش ندی کے پاس سےملی ہے ۔۔۔۔ 

 

سکندر کی بات پر فریال بھی پریشان ہو گئ ۔۔۔ 

معملہ بہت سنگین تھا

 

🍁🍁

 

پنچائیت کے سبھی لوگ وہاں موجود تھے اور آج پنچائیت میں نور پر اور خوشحال پر گاؤں کے تمام لوگ شامل تھے ۔۔۔ 

ہر طرف چہمگوئیاں ہو رہی تھیں 

 

کیا یہ سردار جی نے بدلہ لیا ہے ؟

کیا انہوں نے عبدل گوندل  کے بیٹے کو مار دیا ؟

مگر ان کی صلح تو ہو چکی تھی ؟

 

ہر طرف سے سوال اٹھ رہے تھے تبھی ایک شاندار ڈی گاڑی میں عبدل نامی آدمی جو عمر میں لگ بھگ سکندر کے برابر تھا وہ تیش کے عالم میں وہاں پر بیٹھے کروفر سے زکریہ شاہ کے گلے میں ہاتھ ڈال گیا

 

اگر یہ تو نے کروایا ہے شاہ تو تیرا انجام برا ہو گا۔۔۔۔ 

تو نہیں جانتا تو نے میرے بیٹے کو مروا کر اپنی موت کو دعوت دی ہے ۔۔۔۔

 

زکریہ شاہ کو اس کے آدمیوں نے اس سے الگ کیا

تبھی ایک شاندار گاڑی فراٹے سے وہاں رکی ۔۔۔ 

ہر کسی کی نظر اس گاڑی پر تھی ۔۔۔ 

سکندر اور حیات سکندر مل کر گاڑی سے نکلے ۔۔۔

 

شورشرابا دو گاوں کے لوگ اس وقت نور پر میں اکھٹے تھے ہر طرف شور شرابا تھا ۔۔۔۔

مگر جیسے ہی حیات سکندر نے کٹیلی نظر اٹھائ وہاں جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا

 

سب جانتے تھے کہ اسے اپنی ماں کی طرح شور اور بھیڑ ستسخت نفرت ہے اور اس نفرت میں وہ جس طرح سخت ہوتا تھا یہ محض وہاں کے لوگ ہی جانتے تھے ۔۔۔۔

 

حیات نے جا کر اپنی شاہی کرسی سنبھالی ۔۔۔ تمام لوگوں کو جہاں جگہ ملی وہیں وہ بیٹھ گئے ۔۔۔۔

 

خبردار اگر جھوٹی افواہیں پھیلائی تو ۔۔۔۔ 

نا تو یہ زکریہ شاہ نے قتل کروایا ہے اور نا ہی حیات سکندر کسی کے گندے خون سے اپنے ہاتھ ناپاک کرے گا 

 

وہ بولا تو تمام لوگ خاموشی سے سن رہے تھے ۔۔۔۔

بزرگ چارپائیوں پر بیٹھے تھے

 

یہ عبدل گوندل کے بیٹے اسفند کا قتل جس نے کروایا ہے وہ اسکا دوست تھا ۔۔۔ 

 

حیات کی اگلی بات پر پولیس کے کچھ لوگ وہاں آگے بڑھے اور انہوں نے اگلی بات شروع کی 

 

ہمیں قتل کے کچھ وقت بعد خبر ملی کہ گاؤں میں قتل ہوا ہے جب ہم جائے وقوع پر پہنچے تو لاش کو کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا 

 

اس کے پاس سے برآمد ہونے والے فون سے سچائ سامنے اچکی ہے ۔۔۔ 

اس کے فون میں کالزرکاڈ کے ساتھ کچھ میسجز بھی تھے جس میں صاف صاف دھمکی دی گئ تھی کہ وہ اسے قتل کر دیں گے کیونکہ یہ ان کی بیٹی کی عزت پامال کرکے لوٹا تھا ۔۔۔۔

 

عبدل پولیس والے کی بات پر تلما گیا ۔۔۔ 

جھوٹ ہے یہ سب میرا بیٹا ایسا نہیں تھا ۔۔ 

عبدل کی بات پر تمام لوگ کھسیانی ہنسی ہسںے کیوں کہ سب اچھے سے جانتے تھے اسفند کس کردار کا مالک تھا ۔۔۔۔

اسکی وجہ سے تو زکریہ شاہ نے اسے گاؤں سے نکال دیا تھا ۔۔۔۔ اس کو گاؤں میں رہنے کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔۔

اور عبدل کی دشمنی کی وجہ بھی یہی تھی ۔۔۔ وہ کہتا تھا کہ وہ بھی زمیندار ہے تو اس کی سردار کے ساتھ اتنی تو دوستی ہے کہ وہ ان پر حقہ پانی بند نہیں کرے گا۔    مگر زکریہ شاہ نے امیروں اور غریبوں کے لیے ایک جیسے ہی اصول کو اپناتے ہوے اسے گاؤں سے نکال دیا ۔۔۔ 

عبدل نے ان پر جان لیوا حملہ بھی کروایا مگر اس کے بعد اسے ایک موقع دے کر چھوڑ دیا گیا ۔۔۔۔

 

عبدل کے لاکھ جھٹکنے پر بھی اسفند کو دفنا کر سب نے اس بات پر مٹی ڈال دی ۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

وہ سرد آنکھوں سے سکرین پر منظر دیکھتا لبوں سے تنزیہ مسکرایا ۔۔۔  ساتھ کھڑا لڑکا حیران ہوا کہ آخر وہ مسکرا کیوں رہا ہے

 

بوس آپ نے اس شخص کو کیوں قتل کیا ؟ اور سارے ثبوت اس کے دوست کے خلاف اکھٹے کر دیے تاکہ پولیس کا شک آپ پر غلطی سے بھی نا جائے۔ ۔۔۔۔

 

لڑکے کے سوال پر اس شخص نے جس کی عمر 33 سال تھی سرد نظروں سے اس نے ساتھ کھڑے لڑکے کو دیکھا 

 

کیونکہ اس نے میرے باپ پر حملہ کروایا تھا ۔۔۔ سب کی نظر میں حملہ کروانے والا عبدل تھا مگر حقیقت سے میں انجان نہیں تھا

 

اس کی سرد آواز پر لڑکا خاموش ہو گیا اور سر اثبات میں ہلایا 

 

سر ؟ ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی ۔۔۔

ہممم ۔۔۔ اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے اندر آنے کی اجازت دی ۔۔۔ 

 

سر پاشا کو نیا مال ہمارے آدمیوں نے لوٹ لیا اب اس کا کیا کرنا ہے؟

 

آگ لگا دو ۔۔  اور اسکی ویڈیو پاشہ تک پہنچ جانی چاہیے ۔۔۔ مجھے سکون ملے گا اسے تڑپا کر ۔۔۔۔

 

اس آدمی سے سر ہلاتے باہر کی جانب قدم لیے۔ ۔۔۔

پھر ایک اور شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی ۔۔۔

ہممم ۔۔ اسی انداز سے اجازت دی نظر اب زکریہ شاہ کی حویلی کے اندر کے منظر پر تھی ۔۔۔ جہاں حوریہ لپٹ کر اپنے باپ سے لگی تھی اور پریشے نے جویریہ شاہ کو گلے لگایا ہوا تھا ۔۔  

 

سر ہمارا مال ہم تک پہنچ گیا ہے اب اس مال کو انڈر ورلڈ کا یوجین ہم سے خریدنا چاہتا ہے وہ کہتا دگنا مال دے گا۔ ۔۔ 

 اس شخص نے ایک برو آچکا کر اس آدمی کو دیکھا 

 

جج جی سر میں انکار کر دیتا ہوں وہ کہتے فون کانپتے ہاتھوں سے نکالنے لگا۔ ۔۔ 

انہہہہ یہ بات مجھے تمہاری پسںد نہیں آی ۔۔۔ اس نے کہتے ہی ایک چھوٹی سے ڈبی پر لگے بٹن کو دبایا اور وہ گولی سیدھا اس کھڑے ہوے شخص کے سر پر جا لگی۔ ۔۔۔

 

پہلے سے موجود لڑکا کانپ سا گیا۔    

وہ ڈبہ سپیشل ویپن تھی بس اس طرف اشارہ کرتے ہی وہ بٹن دباتے بدنے کے دماغ کو جا لگتی تھی ۔۔۔

 

آپ نے اسے کیوں مارا ؟ وہ لڑکا ڑر کر بولا

 

کیونکہ اسوقت مجھے اسکی بات پسند نہیں آئ ۔۔۔ 

اس شخص نے بے رحمی سے کہتے لیپٹاپ کی سکرین کو دیکھا 

 

اگر اگلے دو سیکنڈ میں تم یہاں سے غائب نا ہوے تو اگلا نمبر تمہارا ہے ۔۔۔ اس کی سرد سپاٹ آواز پر وہ لڑکا وہاں سے بھاگا۔    

اس لڑکے دروازے سے نکلتے ہی اندر سے گولی چلی جو دروازے کو پار کر گئ ۔۔ اور سامنے فریم پر جا لگی ۔۔۔۔

 

وہ لڑکا گھبرا کر دوسری جانب بھاگا 

 

اس شخص نے لیپ ٹاپ پر پھر سے نظریں ڈالیں ۔۔۔۔

ظالم لوگ۔۔۔۔۔ وہ کہتے لیپ ٹاپ کو بند کرتا  سیگرٹ پینے لگا 

 

منظر کمرے کا کچھ اس طرح سےتھا ۔۔۔۔ کالے رنگ کے کمرے کے اندر اسوقت پیلے رنگ کی روشنی تھی۔    دیواروں پر کال رنگ تھا کالے رنگ کی فریم زمیں اسلحہ موجود تھا جب کہ وہاں پر موجود بیڈ صوفہ حتی کہ وہاں پر رکھی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز کالے سیاہ رنگ میں ڈھکی ہوی تھی 

 

وہ تیز لہجے والا سخت برہم ہونے والا شخص گرم طبعیت کا مالک تھا جس کا تعلق مافیا سے تھا اس نے اپنے باپ پر ہونے والے حملے کا بدلہ لیا تھا ۔۔۔۔ 

مگر یہ راز تھا اور راز تو ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔

 

🍁🍁

 

اس وقت فریال حیات کے سینے سے لگی ہوی تھی اس نے اپنے ہاتھ اپنی ماں کے گرد پھیلائے ہوے تھے انہیں مسلسل چپ کروا رہا تھا 

 

اماں سائیں بس کردیں آپ اس طرح رو کر خود کو ہلکان کیوں ہر رہی ہیں ؟ 

پہلے بھی تو اتنے مسلے حل کیے ہیں آپ یوں رونے کی وجہ تو بتائیں ؟

 

وہ ان کو اب الگ کرتے محبت بھری نظریں ان کے چہرے پر ڈالے بول رہا تھا 

 

ٹھیک ہے ۔۔۔ پھر تم میری بات مان لو ۔۔۔۔

وہ بولی تو سب حیران ہوئے سوائے سکندر کے ۔۔۔ وہ اپنی بیوی کی حرکتوں سے واقف تھا 

۔۔

بات کچھ ہوتی تھی اور وہ کوی اور بات منوانے بیٹھ جاتی تھی ۔۔۔۔

 

حیات نے سوالیہ دیکھا ۔۔۔ 

تم شادی کر لو نا ۔۔۔ 

اماں اس مین شادی کی بات کہاں سے آگئی ؟ 

وہ حیرت سے بولا 

 

صائم مسکرا کر دیکھ رہا تھا اسے اپنی فریال طائ سائیں بہت کیوٹ لگتی تھیں ۔۔۔۔

 

ہاں تو تم کونسا اس بات پر بات کرتے ہو کہ میں بات کر سکوں 

 

پلیز نا بیٹا اب مجھے اپنی بہو چاہیے ۔۔۔ 

وہ لاڈ سے بولی 

 

سوچ لیں آپ کی بہو ابھی چھوٹی ہے ۔۔۔ 

وہ مسکرا کر بولا 

 

کیا مطلب ؟ تم نے ہمیشہ پہلیاں بھجوانی ہوتی ہیں ؟

وہ ناراض سی بولی 

 

انہہہہ ۔۔۔۔ آج بتا دیتا ہوں 

 

وہ صوفے سے  اٹھ کر کھڑا ہوتا بولا 

 

مجھے حوریہ شاہ سے نکاح کرنا ہے ۔۔۔۔ آپ زکریہ چچا سائیں سے بات کریں ۔۔۔ بس نکاح ہو جائے شادی اسکی پڑھائ کے بعد ہی ۔۔۔۔ 

 

وہ بولا تو حویلی کے سب لوگ منہ کھولے کھڑے تھے ۔۔۔ سوائے سکندر کے ۔۔۔۔

 

وہ تو بہت چھوٹی ہے ۔۔۔۔ بی جان نے منمناہٹ کی ۔۔۔ 

لیکن بیٹا وہ تو عمر میں کم ہے تم سے اور ابھی تو وہ اتنی چھوٹی ہے شادی نکاح بہت بڑی بات ہے اس کے لیے ۔۔۔۔ سائشہ کی بات پر سب نے سر اثبات میں ہلایا 

 

تو کیا ہوا ؟

آپ لوگوں کو پی میری شادی کی فکر ستارہی ہے ۔۔۔ اور ویسے بھی میں نے نکاح کا کہا ہے ۔۔۔ 

 

اسکی بات سکندر اور بی جان آپس میں باتیں کرنے لگے جب کہ سائشہ ماہی کے کمرے میں گئ ۔۔۔۔

 

ماہی تم کمرے سے باہر کیوں نکل رہی ہو جب سے ٹرپ سے آی ہو اندر ہی بیٹھی ہو ۔۔۔ 

جی اماں سائیں میری اسائنمنٹ رہتی بس وہی لکھ رہی تھی آپ کو کوی کام تھا ؟

 

اس نے جواب دیتے ساتھ سوال کیا 

 

ہاں ۔۔۔ سائشہ کچھ سوچتے ہوے وہیں بیٹھ گئ ۔۔۔

 

کی بات ہے اماں سائیں ؟ وہ ان کی طرف ہوتی اپنے لیپ ٹاپ کو دوسری طرف رکھتے بولی 

 

سائشہ نے نرمی سے اس کے نازک چہرے کو ہاتھوں میں تھاما ۔۔۔۔

ماہی میرا بچہ میری بڑی خواہش تھی کہ میں تمہیں خود سے دور نا کروں ۔۔۔ مگر شاید یہ ممکن نہیں ہے ۔۔۔ وہ اداسی سے کہتے سر جھکا گئ ۔۔۔

 

کیا بات ہے اماں سائیں کھل کر بات کریں نا ؟ 

وہ پریشانی سے بولی 

 

حیات نے حوریہ سے شادی کی خواہش کی ہے ! 

ان کی بات پر وہ سکتے میں چلی گئ ۔۔۔ 

 

دیکھو بیٹا تم جانتی ہو مرد کی خواہش کے بغیر گھر نہیں بسا کرتے اگر ہم اس کو فورس کریں بھی تو تم کبھی اس کے ساتھ خوش نہیں رہ پاؤ گی ۔۔۔ 

سائشہ نے اس کے ہاتھ تھامتے سمجھانے ہوے کہا 

 

وہ اب بھی سکتے سے نہیں نکل پائ تھی ۔۔۔۔

 

میں یہی چاہتی تھی کہ تم سے حیات کی شادی ہو مگر ۔۔۔ 

سائشہ اپنی ہی دھن میں بول رہی تھی جب وہ سکتے سے نکلی 

 

استغفرُللہ اماں سائیں وہ میرے بھائ ہیں ۔۔۔۔ آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں ۔۔۔ وہ جھٹ سے بولی 

 

سائشہ نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔۔ ابھی تو وہ سکتے میں چلی گئ تھی 

 

تو تم نے اتنا اووریکٹ کیوں کیا ؟ اب کی بار سائشہ نے سوال کیا 

 

ارے اماں سائیں بات ہی ایسی کی ہے آپ نے حیات بھائ نے حوریہ کے ساتھ شادی کا کہا ہے ۔۔۔۔ وہ تو بہت چھوٹی ہے ۔۔ اور دیکھو تو ذرا نا کانوں کان مجھے حیات بھائ کی پسند کا پتہ چلا اور نا ہی حور میسنی نے کچھ بتایا ۔۔۔۔ 

وہ بولی تو لہجے میں دونوں کے کے لیے اتنا بڑا راز چھپانے پر ناراضگی تھی 

 

سائشہ نے پر سکون سانس لی ۔۔۔ یعنی یہ خواہش بس اسکی ہی تھی کہ حیات اس کا داماد بنے ۔۔۔ 

وہ شکر گزار تھی کہ یہ خواہش اسکی بیٹی کی نہیں تھی ورنہ وہ بہت روتی پریشان ہوتی ۔۔۔۔ 

 

اماں سائیں ۔۔۔ میری اسائنمنٹ آپ تیار کریں ۔۔ میں زرا بھائ کی خبر لے کر آووں 

 

وہ کہتے پاؤں میں جوتے اڑریستی 200 کہ سپیڈ سے کمرے سے نکلی 

Epi 22 part 2

آرام سے ماہی ۔۔۔ سائشہ اسکی سپیڈ سے ہمیشہ ڑر جاتی تھی کہ ضرور وہ چوٹ لگوائے گی ۔۔۔۔

 

ماہی نیچے آئ ۔۔۔ بی جان کی طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے فری ان کو کمرے میں لے جا چکی تھی اور سکندر بھی کمرے میں تھا ۔۔۔ 

صائم اپنے موبائل پر کچھ دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ملازم اپنے کاموں میں مصروف تھے 

 

وہ حیات سکندر کے کمرے کی طرف بڑھی ۔۔۔ ناک کرکے جیسے احسان کیا تھا ۔۔۔ اجازت دینے کے لیے ابھی حیات نے منہ کھولا ہی تھا کہ وہ دھڑام سے اندر اچکی تھی 

 

یہ تھی آپ کی محبت اپنی بہن کے ساتھ کہ اتنا۔ را راز مجھ سے چھپایا اور دیکھو تو اس گھنی میسنی کو اس نے بھی مجھے خبر نہیں ہونے دی ۔۔۔۔ یقیناً آپ نے ہی منع کیا ہو گا !

 

وہ اندر آی بنا اس کی سنے بس بولتی چلی گئ ۔۔۔ 

حیات کے خوبرو چہرے پر اسکی ناراضگی پر مسکراہٹ پھیل گئ ۔۔۔۔۔

 

اچھا بس ماہی میرا بچہ میری بات سنو ۔۔۔۔  وہ اپنی راکنگ چیئر سے اٹھ کر اسکی طرف بڑھا اسکا ہاتھ پکڑ کر صوفے پر لے جاتے اسے بٹھایا جو منہ سجا کر بیٹھ گئ تھی 

 

دیکھو اس گھنی میسنی سے میں نے ابھی کچھ نہیں کہا تو وہ تمہیں کیسے بتائے گی ؟

وہ پہلے حور والی بات کا جواب دیتے بولا 

 

ماہی نے منہ بنایا جیسے اسے جھوٹ لگا ہو ۔۔۔ 

اپنے بھائ پر یقین نہیں ہے ؟

اب کی بار اتنے مان سے سوال کیا گیا کہ وہ اسکی جانب دیکھنے لگی 

اور آپ نے کیوں نہیں بتایا ؟

 

میں چاہتی تھی کہ آپ کسی کو پسند کریں پھر آپ مجھے راز دار بنائیں میں آپ کی چھوٹی سے رازدار بن کر آپ کی محبت کا پیغام اس لڑکی تک پہنچاؤں۔۔۔  چھپ کر آپ لوگوں کی ملاقاتیں کرواؤں پر سب چوپٹ ہو گیا ۔۔۔ 

 

ماہی کی بات سن کر حیات کا قہقہہ گونجا ۔۔۔۔ ماہی بچے اتنے بچکانہ کام آپ صائم کی دفعہ کر لینا ۔۔۔ 

 

وہ اسے دیکھتے بولا تو ماہی نے ناراض سا دیکھا ۔۔۔ 

اچھا چلو ۔۔۔ موڈ ٹھیک کرو ۔۔۔ چلو بتاؤ کیسے مانو گی ؟

 

مجھے اس بات کی ٹریٹ چاہیے مگر ایک اور بات بھی ہے ۔۔۔ وہ بولی تو حیات نے سوالیہ دیکھا ۔۔۔ 

 

میں دائم بھئیو اور صائم بھئیو کے  ساتھ پری اور حور بھی ہوں گی ۔۔۔۔ 

اور ان کو اس ٹریٹ کی وجہ نہیں بتائیں گے ۔۔۔ 

 

ماہی کی بات پر وہ سوچ میں پڑا ۔۔۔ 

اوکے جیسے میری چھوٹی سے بہنا کہے گی ویسے ہی ہوگا ۔۔۔۔ 

 

وہ مسکرا کر اس کے گلے لگتی الگ ہوی اوکے میں جا کر کال کرتی ہوں رات ڈنر ہم سب باہر کرنے والے ہیں ۔۔۔

 

وہ کہتے بھاگ کر کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

Season 2 epi 23

 

کیا لیکن کیوں کیا کوی خاص بات ہے ؟ پری نے فون کان سے لگائے حور کے کمرے میں قدم رکھتے کہا 

حور جو اپنے کپڑے تہہ کرکے الماری میں رکھ رہی تھی پلٹ کر سوالیہ اسے دیکھنے لگی جو دوسری طرف فون پر بیٹھی ماہی سے بات کر رہی تھی 

 

ہاں بس تم لوگ تیار ہو جانا شام میں یہاں پہنچ جانا پھر ہم نے شہر جانا ہے ۔۔۔۔ 

ماہی نے اسے بتایا نہیں کہ وہ کسی ٹریٹ کی وجہ سے ان کو ساتھ آنے کا بول رہی ہے ۔۔۔۔

 

اچھا پر کون کون جائے گا ؟ پری نے حور کی سوالیہ نظروں کو دیکھتے اسے تسلی دیتی آنکھوں سے دیکھ کر بیڈ پر جا کر بیٹھتے کہا 

اففف او پتہ چل جائے گا نا ! اب رکھو مجھے کچھ کام ہے اس کے بعد شام میں ملاقات ہو گی ۔۔۔ 

 

پری ارے ارے کرتی رہ گئ مگر ماہی میڈم فون بند کر چکی تھیں 

 

کیا ہوا ؟ کس کی کال تھی ؟

حور الماری کے پٹ بند کرتی اس کے پاس جاتی بولی 

 

ماہی کی ۔۔۔۔ اس نے بولا آج رات ہم سب ڈنر کرنے باہر جائیں گے ۔۔۔۔ 

مگر کون کون یہ نہیں بتایا ۔۔۔۔۔

حور نے پری کی بات پر سر اثبات میں ہلایا 

 

مگر کیوں ؟ وہ پھر سوالیہ ہوی 

نہیں معلوم ۔۔۔۔ وہ بہت خوش تھی شاید کچھ ہوا ہو ۔۔۔ خیر تم تیار ہو جانا ۔۔۔ 

میں زرا بابا سائیں کو دیکھوں آج کے واقعے کے بعد وہ کمرے سے باہر نہیں نکلے ۔۔۔

 

پری کہہ کر اٹھی ۔۔۔  

میں بھی آتی ہوں ۔۔۔۔ حور بھی اسکے ساتھ ہو لیا ۔۔۔۔

وہ لوگ کمرے سے مل کر نکلیں پھر حور کیچن میں چائے بنانے کے لیے چلی گئ اور پری زکریہ شاہ کے سڈی میں چلی گئ ۔۔۔۔۔

 

🍁🍁

 زکریہ شاہ اپنی سڈی میں نیلی مدھم روشنی جلائے راکنگ چیئر پر جھول رہے تھے 

ان کی حالت سے ایسے لگتا تھا جیسے وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہوں 

پری نے افسوس سے اپنے باپ کو دیکھا ۔۔۔۔ 

اس کی آنکھوں میں کسی کا خوبصورت چہرہ گھوما 

کاش آپ یہاں ہوتے تو بابا کا یہ حال نا ہوتا ! وہ دل میں آہ بھرتی بولی 

 

قدم اندر لیے دروازے کے کھلنے کی آواز پر زکریہ شاہ نے اپنی بندھ آنکھوں کو کھول کر دروازے کی جانب دیکھا 

 

کیسے ہیں بابا ؟ 

وہ ان کے پاس جا کر بولی 

میں ٹھیک ہوں میرا بچہ تم بتاؤ میری بچی کیسی ہے ؟ حور کہاں ہے ؟

تم لوگوں کو کچھ چاہیے تو نہیں ؟ کسی چیز کی ضرورت ہوی تو بتانا ۔۔۔ 

وہ جیسے اپنی زمہ داریوں کو نبھاتے بولے 

بابا کیا آپ کسی کی زمہ داریاں نبھا کر تھک نہیں جاتے ؟

وہ سامنے رکھے صوفے پر جا کر بیٹھی 

مدھم نیلی روشنی کمرے کے اندر گہری خاموشی اندر اٹھتے دونوں کی جانب سے توفان وہ عجیب سی کیفیت تھی 

 

زکریہ شاہ نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔۔۔ 

وہ اپنی زمہ داریاں مجھ پر چھوڑ کر چلا گیا ہے ۔۔۔ وہ آنکھوں کے کنارے بھیگتے محسوس کرتے بولے 

 

آپ نے انہیں نکالا تھا بابا ۔۔۔ وہ آنسوؤں کا گولہ گلے میں اٹکتا محسوس کرتے وہ بھیگی آنکھوں سے باپ کو دیکھتے کہا 

 

زکریہ شاہ نے گہرا سانس لیا 

 

کیا باپ کو اپنے بیٹے پر غصے کی اجازت نہیں ؟

وہ جب بولے تو ٹوٹے ہوے لہجے کی چبن کو سامنے بیٹھی پری نے بری طرح محسوس کیا 

 

بابا وہ جلدی سے اٹھ کر ان کے پاس راکنگ چیئر کے قریب نیچے بیٹھی ان کے گھٹنوں پر سر رکھ گئ 

 

بابا آپ سے محبت بہت ہے پر بھائ کی کمی صرف ان کہ جگہ ہماری زمہ داریاں پوری کرکے آپ نہیں پوری کر سکتے ۔۔۔ 

بابا ایک بار بولیں نا بھائ سے واپس آجائیں ۔۔۔ 

وہ روتے ہوے بولی ۔۔۔ 

زکریہ شاہ کا دل بھر آیا اپنی بیٹی کی فریاد پر ۔۔۔ 

 

یہ میں نہیں کر سکتا ۔۔۔ وہ دل پر پتھر رکھ کر بولے 

 

پری نے سرخ انگارہ آنکھوں سے اپنے باپ کے مومی چہرے کو دیکھا ۔۔۔ 

مگر بولی کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

 

زکریہ شاہ نے آگے جھک کر اسکے ماتھے پر لب رکھے ۔۔۔ 

 

کاش اس نے ایسا نا کیا ہوتا ۔۔۔ وہ ماضی کی بات یاد کرتے بولے 

 

بابا خدا کی قسم دل آج بھی بھائ کی بے گناہی کی گواہی دیتا ہے ۔۔۔۔ 

وہ بولی اپنے باپ کے ہاتھوں پر کانپتے ہاتگ رکھ کر یقین دلاتے لہجے میں کہا 

 

دل تو میرا بھی نہیں مانتا مگر کیا کروں اس نے خود قبول کیا تھا ۔۔۔ 

وہ کہہ کر نظریں جھکا گئے 

 

پری کو تکلیف ہوی اپنے باپ کے جھکے کندھے دیکھ کر۔  ۔ 

کیا آپ کو لگتا ہے یہ اسفند کا قتل واقعی ہی اس کے دوست نے کیا ہے ؟

 

وہ بولی تو زکریہ شاہ نے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔ 

ثبوت تو یہی کہتے ہیں ۔۔۔ 

 

کیا ہوا آپ لوگ رو کیوں رہے ہیں ؟ معصوم سی حوریہ کی بات سن کر دونوں نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں وہ چائے کی ٹرے لے کر کھڑی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی 

 

کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ پری جلدی سے خود کو کمپوز کرتی بولی ۔۔۔۔

حور نے پریشان سی شکل لیے اندر رکھے ٹیبل پر چاہیے رکھی اور پھر ہاتھ بڑھا کر لائیٹس ان کی 

 

ادھر آؤ میرا بچہ ۔۔۔ حور کے پریشان چہرے کو دیکھ کر زکریہ شاہ نے اپنی باہیں پھیلائیں ۔۔۔۔ 

زکریہ شاہ نے محبت سے اسے اپنی طرف بلایا 

 

وہ مسکرا کر ان کے سینے سے جا لگی ۔۔۔ 

چائے میرے بچے نے بنائ ہے ؟انہوں نے پیار کرتے ہوے کہا 

جی بابا ۔۔۔ وہ شوخ سی بولی 

 

بابا میں یہ چائے نہیں پی رہی بہت ہی بکواس چائے بناتی ہے حور کی بچی ۔۔۔ پری نے ماحول کو ہلکا کرنے کے لیے کہا 

 

ہاااااا ۔۔۔ پری آپی یہ بہت غلط بات ہے اتنے پیار سے چائے بنائی ہے آپ پی کر تو دیکھیں ۔۔۔ حور کو چائے کی توہین بلکل پسند نا آئ ۔۔۔۔

 

اہہہ ٹھیک ہے کوشش کرکے دیکھتی ہوں ۔۔۔۔ وہ ہستے ہوے بولی 

 

تھوڑا تھوڑا ہنسی مزاق کرتے وہ لوگ ماحول کو بدل چکے تھے ۔۔۔

 

پری نے اپنے بھائ کو بری طرح نس کیا تھا۔ ۔۔۔ 

حور تو اپنے بھائ کے بارے میں جانتی تک نہیں تھی کہ اس کا ایک بھائ بھی ہے ۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

صائم اس وقت اپنے کیبن میں بیٹھا کافی انجوائے کر رہا تھا جب اس کے دروازے پر دستک ہوی ۔۔۔ یس!

اسنے اندر آنے کی اجازت دیتے ساتھ دروازے کی جانب دیکھا

جہاں اجازت ملتے ہی ایک لڑکی نقاب پہنے اندر آئ اسکے ساتھ ایک عمر رسیدہ عورت بھی تھی جسنے اس لڑکی کے سہارے  اندر قدم رکھا 

 

اسلام و علیکم! 

اس لڑکی نے سلام دیا جس پر صائم نے جواب دیتے انہیں سامنے ٹیبل کے پار رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا 

 

وہ دونوں کرسیوں پر بیٹھ گئیں ۔۔۔ 

کافی ختم کرکے اس نے ان کی جانب دیکھا ۔۔۔ 

جی بولیے کیسے آنا ہوا ؟

کس طرح کا کیس ہے اپکا ۔۔۔؟

 صائم نے زرا سا سنجیدہ رہتے کہا 

 

جی دراصل مجھے طلاق چاہیے ۔۔۔ 

عمر رسیدہ عورت کی طرف سے مطالبہ سن کر وہ چونک گیا

 

معذرت بی مگر اس عمر میں اس غریب نے آپ کو کیا کہہ دیا ہے کہ طلاق لینی ہے ؟

 صائم نے مشکل سے مسکراہٹ پر قابو رکھتے کہا 

 

جی دراصل انہوں نے دوسری شادی کر لی ہے ! اب کی بار وہ لڑکی بولی 

صائم نے اس لڑکی جانب دیکھا ۔۔۔ 

 

اس عمر میں بڈھے کو دوسری شادی کی کیا سوجھی تھی ؟ وہ سوال کیے بنا نہیں رہ سکا ۔۔۔ 

 

وہ اسکی پرانی معشوقہ تھی۔۔۔۔ عمر رسیدہ عورت نے چہرے پر غصہ لیے کہا 

 

صائم نے گہرا سانس لیا ۔۔۔ 

عورت عمر کے کسی بھی حصے میں اپنے شوہر کو کسی دوسری عورت کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتی یہ بات اس نے اپنی پرسنل ڈائیری پر یہ الفاظ لکھ لیے تھے 

 

🍁🍁🍁

 

سر ۔۔۔۔۔ آپ کی ایک میٹنگ ہے جو لنچ کے بعد ہے اور اس سے پہلے آپ سے ملنے ایک انویسٹر آئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ آپ کی کمپنی کے پروڈکٹس کو خریدنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی آپ کے ساتھ پاٹنر شپ کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔

 

اس نے انتہای پرفیشنل انداز میں اپنی بات کی ۔۔۔۔ 

اس نے ایک نظر بھی نعمان شاہ کے چہرے پر نہیں ڈالی تھی ۔۔۔ 

نعمان شاہ جو اسے دیکھ کر اپنی روٹن سن رہا تھا تعجب سے اسکے بدلاؤ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

 

ہممم ۔۔۔۔۔ اسکے علاؤہ ۔۔۔؟ وہ جو ٹیب سے دیکھ کر  اسکی روٹین بتا رہی تھی اس نے نظریں اٹھا کر نعمان شاہ کی جانب سرسری سا دیکھا 

 

سراسکے علاوہ کچھ نہیں ہے ڈیٹیلز جو نئے پروڈکٹس کی تھیں وہ کل ہی آپ کو چیک کروائ گئ تھیں ۔۔۔ سب اپنے کام پر دھیان دئیے آپ کے بتائے ہوے ٹائم پریڈ میں اپنا کام ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔۔ 

 

اگر آپ کو کچھ اور پوچھنا ہے تو پوچھئیے ۔۔۔۔ 

 

ہمم ٹھیک ہے تم جاؤ ۔۔۔ وہ روکھا سا جواب دیتے اپنے سامنے ٹیبل پر رکھے لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گیا ۔۔۔ 

صبغہ نے بھی سر ہلاتے بنا اسکی جانب دیکھے قدم آفس سے باہر کی جانب لیے ۔۔۔ 

اسکی پشت کو ترچھی نظروں سے دیکھتے اسکی بھنویں سکڑی 

 

کیا کہ صبغہ شاہ ہی تھی ؟وہ جو اس کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہا تھا  اسکو بنا خود کی طرف دیکھے واپس جاتے دیکھ ماتھے پر بل پڑے 

 

خیر بھاڑ میں جائے ۔۔۔ وہ کہتے گہری سانس لیتا دوبارہ کام پر جٹ گیا ۔۔۔ مگر بار بار اسکا بدلا رویہ اسے کھٹک رہا تھا 

ناچار اس نے موبائل نکال کر کچھ دیر پرسوچ نظروں سے موبائل کو دیکھ پھر اس پر نمبر ڈائل کرتے فون کان سے لگایا 

 

اسلام و علیکم! آنٹی کیسی ہیں آپ ؟اس نے نرم لہجے میں کہا 

وعلیکم السلام! میں الحمدللہ بلکل ٹھیک تم بتاؤ کیسے ہو کام کیسا جا رہا ہے ؟دوسری طرف فاطمہ کی آواز گونجی ۔۔۔۔ 

 

جی میں بھی ٹھیک ہوں ایکچلی مجھے پوچھتے ہو عجیب لگ رہا ہے مگر پھر بھی کیا گھر میں کچھ مسلہ ہوا ہے ؟

اس نے جھجھک کر سوال کیا ۔۔۔ ہاتھ میں پکڑا واز مسلسل گھما رہا تھا ۔۔۔۔ 

 

ہاں بلکل سب ٹھیک ہے تم کیوں پوچھ رہےہو ؟

فاطمہ نے جواب کے ساتھ سوال کیا 

 

نعمان نے اپنے لب کاٹے ۔۔۔ پھر سر اثبات میں ہلایا 

 

وہ دراصل صبغہ کچھ عجیب بیہو کر رہی تھی تو ۔۔۔ وہ یہ نہیں کہہ سکا کہ آج وہ مجھے ان محبت بھری آنکھوں سے نہیں دیکھ رہی جس سے پہلے دیکھتی تھی جن کی عادت نا چاہتے ہوے بھی نعمان شاہ کو ہوچکی تھی 

 

فاطمہ اسکی بات پر مسکرائی ۔

ارے نہیں بیٹا دراصل تمہارے انکل کے دوست کے بیٹے کا رشتہ ایا ہے اور وہ کچھ پریشان ہو گئ ہے گھر چھوڑنا بیٹیوں کے لیے آسان تھوڑی ہوتا ہے ۔۔۔۔ فاطمہ نے نمی لائے لہجے میں کہا 

 

بیٹیوں کی رخصتی کا سوچ کر ہی ماں باپ کا دل مٹھی میں جاتا ہے ۔۔۔ 

جب کہ دوسری طرف بلکل وہ شاک ہو گیا۔منہ سے لفظ نکل نہیں رہے تھے ۔۔۔  عجیب سی کیفیت تھی وہ نا غصہ میں تھا نا نارمل لہجے میں وہ عجیب ایک سکتے کی کیفیت میں تھا 

 

ہیلو ۔۔۔۔۔ فاطمہ اسکی خاموشی پر بولیں ۔۔۔۔

جج جی ۔۔۔ وہ بس اتنا ہی کہہ سکا۔ ۔۔ 

پھر ہمت کرتے بولا 

آنٹی اگر وہ نہیں چاہتی تو آپ اس پر زبردستی مت کریں ۔۔۔ وہ پتہ نہیں یہ کیوں کہہ رہا تھا اس نےاپنے دل کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ وہ اس کے ساتھ زبردستی ہوتے نہیں دیکھ  سکتا تھا ۔۔۔۔ 

 

ارے نہیں بیٹا آپ تو جاںتے ہو پڑھے لکھے لوگ ہیں یوں اپنی بیٹیوں کو زبردستی تو نہیں رخصت کریں گے ۔۔۔ 

صبغہ نے خود ہی ہاں کردی ہے رشتے کے لیے ۔۔۔ 

 

اب کی بار نعمان کے حلق سے آواز چھین گئ تھی ۔۔۔ وہ بنا کوی جواب دیے فون بند کر گیا 

 

کرسی کی پشت پر سر رکھے خود لمبے سانس لیتے آنکھیں بند کیے خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اچانک ہی اس نے واز اٹھا کر سامنے شیشے کی دیوار پر دے مارا ۔۔۔۔ 

 

گہرے گہرے سانس لیتا وہ عجیب سا بیہو کر رہا تھا مگر کیوں ؟ 

وہ تو خود اسے اسکی محبت سمیتھ روںدھ دیتا تھا ۔۔۔۔ 

 

وہ قہر بھری نظروں سے اندر ڑرتی ہوی صبغہ کو دیکھنے لگا جس نے وازکے ٹوٹنے پر آفس میں آی تھی 

 

یہ یہ کیا کر رہے ہیں آپ سر ۔۔۔ 

وہ ڑرتے ہوے سامنے ٹوٹے ہوے شیشے کی کرچیوں کو دیکھتے بولی 

 

وہ خود کو کمپوز کرتا گہرا سانس لے کر اس کو دیکھنے لگا جو اسکی سرخ مترنم آنکھوں کو دیکھ کر ڑر گئ 

 

اس نے بے ساختہ ایک قدم پیچھے لیا 

وہ اسکی حرکت پر لب بھینچے اسے دیکھے گیا 

اس نے اپنے ٹیبل پر پڑی اپنی گاڑی کی چابی اٹھائ اور اور موبائل جیب میں رکھتے اس نے ایک آخری نگاہ اس کے ٹرے چہرے پر ڈال کر آفس سے باہر کی طرف قدم لیت باہر چلا گیا 

 

صبغہ نے اٹکی سانس بہال کی 

اففف کیا ہو گیا ہے اب اس جن کو ؟ وہ کہہ کر افسوس سے واز کی کرچیوں کو زمین پر پڑے دیکھ رہی تھی 

 

پھر وہ بھی آفس سے نکل گئ 

 

🍁🍁

Thanku readers for your love for my novel 

 

ماہی کی کال آتے دیکھ وہ جو سخت غصے سے ریش ڑرائیونگ کر رہا تھا ایک قدم بریک پر پاؤں رکھا 

اچانک بریک لگنے پر گاڑی پھسلتے ہوے کافی دور تک جا کر رکی تھی۔۔۔۔ 

ایک برے ایکسیڈنٹ سے با مشکل بچتے اس نے گہرا سانس لے کر کال رسیو کی 

 

اسلام و علیکم بھائ ! اس کی جانب سے نرم آواز میں سلام پر نعمان کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے 

 

وعلیکم السلام! خیریت تم نے کال کیوں کی ؟

وہ اپنے ازلی سنجیدہ لہجے میں مخاطب ہوا 

 

دوسری طرف ماہی کو اسکا اتنا سنجیدہ جواب دینا برا لگا 

کم سے کم حال احوال ہی پوچھ لیتا 

اسے تو عادت تھی اپنے بھائیوں کے پیار کی اس بھائ کی سنجیدگی اسے ہمیشہ بری لگتی تھی 

 

ماہی کی طرف جواب نا پا کر اس نے پھر سے اسے مخاطب کیا 

 

ماہ نور تم کال پر ہو ؟ 

وہ اس کو اسکے نک نیم کے بجائے اس کے مکمل نام سے بولاتا ہوش کی دنیا میں لایا 

 

جج جی بھائ وہ دراصل مجھے کہنا تھا کہ کیا آپ فری ہیں آج ہم سب شہر ڈنر پر جا رہے تھے اگر آپ بھی آجاتے ۔۔۔ 

ابھی اسکی بات مکمل ہوتی 

 

نعمان نے درشتگی سے انکار کر دیا 

نہیں میں نہیں آسکتا  اللہ حافظ ۔۔۔ کہتے کال کاٹ دی ۔۔۔۔

 

ماہی کی آنکھوں میں نمکین پانی سا بھر گیا ۔۔۔ اس نے غصے سے موبائل کو دیکھا جیسے اسکی غلطی تھی 

 

اففف جلاد بھائ ۔۔۔ وہ کہتے فون پٹخ کر رکھتی باہر نکل گئ 

 

🍁🍁

 

وہ حیات سکندر کے ساتھ آگے بیٹھی تھی چہرہ کافی حد تک سنجیدہ تھا جیسے وہ بہت غصے میں ہے 

یہ تمہاری ننھی سی ناک پر غصہ کیوں بیٹھا ہے دیکھو نام ٹوٹ گئ تو بہت بری لگو گی ۔۔۔ وہ اس کو تنگ کرتے بولا 

 

جب ماہی نے اسے گھورا ۔۔۔ اور پھر منہ شیشے سے باہر آتے نظارے پر ٹکا دیا 

 

اچھا نا بتاؤ میرا بچہ کیا ہوا ہے آپ اپنے بھائ کے ہوتے ہوے پریشان ہو ؟ اب کی بار بھائیوں والا مان دیتے پوچھا 

 

وہ بھی اسکی جانب چھلکتی آنکھوں سے دیکھنے لگی 

 

کیا ہوا ؟ وہ پریشان ہوتا بریک لگاتا بولا 

 

مم میں ۔۔۔۔۔ نے نعمان بھائ کو ۔۔۔ کال کی تھی کہ وہ بھی 

ہمارے ۔۔۔۔۔ ساتھ ۔۔۔۔ چلتے ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔

 

وہ روتے ہوے بولتی لفظ توڑنے لگی 

 

اور اس نے انکار کر دیا ؟ باقی کا جملہ پورا کرتے سوالیہ دیکھا 

جس پر اس نے زور شور سے سر اثبات میں ہلایا 

 

ہممم تو میری بہنا چاہتی ہے کہ اسکے چاروں بھائ ایک ساتھ ہوں ؟

اسکے اگلے سوال پر اس نے پھر سے سرزور و شور سے ہلایا 

 

تو اس میں اپنی معصوم آنکھوں کو کیوں تکلیف دے رہی ہو ۔۔۔ بس نعمان شاہ آئے گا ۔۔۔

میری بہن نے کہہ دیا تو بس کہہ دیا ۔۔۔ وہ کہتے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے گاڑی سٹارٹ کر گیا 

 

جب کہ اب وہ جلدی سے آنسو صاف کرتی خوش ہو گئ تھی کیونکہ حیات کی بات کوی نہیں ٹال سکتا تھا اور وہ محترم اپنی چھوٹی بہن کی بات نہیں ٹال سکتا تھا ۔۔۔۔

 

وہ لوگ کچھ دیر میں اپنے ساتھ پری اور حورکو لیے اپنے راستے پر چل دیے ۔۔۔۔

دائم بھی اپنی گاڑی میں اسی جگہ جا رہا تھا جب کہ صائم تو تھا ہی شہر اس نے کہا تھا آپ لوگ پہنچ کر مجھےانفارم کر دیںا 

 

وہ لوگ اپنی جگہ پر پہنچ چکے تھے یہ لاہور کے خوبصورت علاقے میں بنے اپنے فارم ہاؤس پر آیے تھے ۔۔۔ ماہی نے اسے سوالیہ دیکھا 

اس نے تو ریسٹورنٹ کا سوچا تھا 

 

وہ لوگ گاڑی سے اتر کر اس فارم ہاؤس کو دیکھنے لگیں جو بہت خوبصورت تھا یقیناً بنانے والے نے بہت محبت سے بنوایا تھا 

 

پری نے نارنجی رنگ کا کرتا اور کیپری پہن رکھا تھا سر پر دپٹا لیے وہ اس خوبصورت فارم ہاؤس کو دیکھ رہی تھی جس کو دیکھ کر سب کی آنکھوں میں وہ منظر بہت بھایا تھا 

فارم ہاؤس کے باہر کا منظر سارا سفید رنگ کا تھا 

 

سفید رنگ کی وہ عالی شان عمارت ایک خوبصورت علاقے کو مزید خوبصورت بنا رہی تھی 

رات کے سائے میں وہ عالی شان عمارت پورے وقار سے کھڑی تھی 

 

روشنیوں سے نہای ہوی ہر کسی کو اپنی جانب متوجہ کر رہی تھی 

 

اب اسے دیکھنے کے بعد ماہی کو کہیں اور جانے کی خواہش نہیں تھی 

 

حوریہ نے چور نگاہوں سے اس حویلی کے میں دروازے کے پاس کھڑے ہوتے موبائل پر کسی سے بات کرتے حیات کو دیکھا 

جس کے لب ہوکے سے مسکراہٹ میں ڈھلے تھے ۔۔۔ 

وہ کتنا خوبصورت مسکراتا تھا شاید اسی لیے وہ بہت کم مسکراتا تھا 

 

پینک کلر کی لانگ فراق جو بلکل سمپل تھی پیروں میں پہنے گلابی کھسے اور سر پر رکھے دپٹے میں وہ معصوم ڈی گڑیا قیامت ڈھا رہی تھی 

پھر اسکی کالی آنکھیں لمبی پلکیں وہ کسی کو بھی اپنے سحر میں مبتلا کر سکتی تھی ۔۔۔۔

 

ان کے مقابل ماہی کھڑی تھی جس نے خوبصورت آف وائٹ کلر کے شارٹ کرتے کے ساتھ کھلا فلیپر پہن رکھا تھا صاف ستھری رنگت پر ہلکا سا میک اپ وہ بلاشبہ اپنے تیکھے نین نقوش سے گوری چمکتی  لڑکیوں کو مات دیتی تھی ۔۔۔۔

بالوں کو ڈھیلے سے جوڑے میں قید کیے ہوے دو لٹیں چہرے پر گر رہی تھیں اور رونے کے باعث اسکی آنکھیں اب بھی ہلکی ہلکی سرخ تھیں ۔۔۔ 

وہ جب بھی روتی تھی تو اسکی آنکھیں کافی دیر تک سرخ ہو کر اسکے رونے کی چغلی کھاتی تھیں 

 

اس نے دپٹہ سر پر ٹھیک کرتے پری اور حور کے ہمراہ فارم ہاؤس کے اندر کی جانب قدم بڑھائے 

 

حیات نے نعمان کے نمبر پر کال کی جو پہلی ہی رنگ پر اٹھا لی گئی 

 

پانچ منٹ میں فارم ہاؤس پہنچو ۔۔۔ اس نے سیدھا حکم صادر کیا

 

پر بھائ میں اسلام آباد میں ہوں تو اتنی جلدی لاہور کیسے آووں ؟ اس نے حتی الامکان اپنا لہجہ سنجیدہ رکھتے کہا

 

ماہی نے تمہیں انفارم کیا تھا اس لیے مجھے تم ڈنر سے پہلے یہاں چاہیے ہو ۔۔۔ گاٹ اٹ 

 

حیات نے سخت برفیلے لہجے میں بات کی جس پر وہ جی کہتے کال کاٹ گیا

 

اب جو بھی تھا اس جلد از جلد وہاں پہنچنا تھا 

اگر کوی اور ہوتا تو بلکل ماہی کے دل توڑنے کی طرح انکار کر دیتا مگر اب سامنے کھڑی شخصیت اسکے دل کے اونچے مقام پر براجمان تھی وہ جلدی اپنے روم سے نکلا تاکہ جلدی لاہور پہنچ جائے ۔۔۔۔

 

صائم اور دائم ایک ساتھ فارم ہاؤس پہنچے دونوں کی گاڑیاں بھی سیم تھیں ۔۔۔ ہیول ۔۔۔ 

وہ دونوں اپنی گاڑیوں سے نیچے اترے ۔۔۔ 

صائم اس وقت وائٹ شرٹ اور وائٹ پینٹ کے ساتھ لیمن کلر کا کوٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے پاؤں میں وائٹ جعفر پہنے وہ آج بھی کوی کالج بوائے لگتا تھا اس کی شاندار پرسنیلٹی اور چہرے پر رہنے والے ہر وقت کی مسکراہٹ ہر کسی کو اپنی جانب کھینچتی تھی ۔۔۔ 

دوسری طرف بلکل اس جیسے نقوش والا خوبصورت بلا اور سنجیدہ چہرہ لیے ۔۔۔ 

وہ گاڑی سے اترا ۔۔۔ 

اس نے اس وقت نیلے رنگ کی شرٹ کے ساتھ نیلے رنگ کی پینٹ پہنی ہوی تھی  کفوں کو فولڈ کیے اسکے سفید ہاتھوں پر نیلی رگیں صاف واضح دکھتی تھی ۔۔۔ 

دونوں ایک جیسے تھے ہو بہو ۔۔۔ کسی کے لیے بھی ان کی پہچان ایک ٹریکی سوال کی طرح تھی۔  ۔

 

صائم مسکرا سیٹی کی دھن بجاتا اس کے ساتھ اندر فارم ہاؤس کی جانب بڑھ گیا

 

سامنے کا منظر کچھ اس طرح تھا اس سفید حویلی کی اندر بے تحاشہ خوبصورت لاونج تھا ایک اوپن کیچن کے ساتھ سامنے سیڑھیاں جس میں لائٹس بھی لگی ہوی تھیں 

 

وائٹ پردے سفید رنگ کی صوفے اففف وہ شخص سفید رنگ کا شدائ تھا

 

وہ لوگ سامنے صوفے پر براجمان اپنی ننھی سی بہن کو بیٹھے دیکھ اس کے پاس آئے 

 

یہ تمہیں کس کیڑے نے کاٹ لیا تھا جو تم نے آدھی رات کو یہاں آنے کا سوچا ؟ صائم ماہی کے ساتھ نڑ کے بیٹھتا بولا 

 

نا سلام نا دعا سر جھاڑ منہ پھاڑ بس شروع ہو جاتے ہو ۔۔۔ 

دائم نے اسے گھورتے ہوے کہا اور پھر اونچی آواز میں سلام دیا جس پر حور اور پری نے جواب دیا پری نے آنکھیں نیچے کر رکھی تھی جب کہ حور مزے سے بیٹھی ان سب سے باتیں کرنے لگی کیونکہ وہ ہری آنکھیں اس وقت کہیں پاس نہیں تھی۔ ۔۔۔۔

 

اب ماہی کی بھوک کا رونا شروع کو چکا تھا ۔۔۔۔ کیچن میں ملازم اس وقت ٹو ایکس کی سپیڈ سے کھانے بنا رہے تھے 

 

دراصل اس محترمہ کی طبعیت باہر کے کھانے کھانے سےبگڑ جاتی تھی جس کا رسک نہیں لیا جا سکتا تھا

حیات نے سیون سٹار کے ککس کی ٹیم کو یہاں بلوایا تھا جو ان کے کیچن میں کھڑے ماہروں کی طرح کھانا بنا رہے تھے 

 

حیات جو اپنے کمرے میں گیا تھا نیچے اسے بھوک کا شور کرتے دیکھ ایک نظر داخلی دروازے کی جانب اٹھائ نگر بے سود ۔۔۔ 

اس نے گہری سانس لیتے ان سب کو کھانا لگانے کا کہتے سب کو ٹیبل پر جاںے کا کہا ۔۔۔ 

ماہی حور ماہی اپنی باتوں میں مگن تھیں ۔۔۔ جب کہ حیات اور صائم کسی کیس کی بات کر رہے تھے جب کہ دائم  چور نگاہوں سے سامنے بیٹھی پری جو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

 

انہوں نے جیسے ہی کھانا شروع کیا کسی کے ہانپنے کی آواز پر سب نے چونک کر داخلی دروازے پر دیکھا 

جہاں وہ سنجیدہ شہزادہ اس وقت گہرے سانس لے رہا تھا ۔۔۔ یقینا وہ فل سپیڈ میں یہاں آیا تھا اور گاڑی پارک کرتے بھاگ کر حویلی کے اندر آیا تھا ۔۔۔۔

 

حیات نے مسکراہٹ چھپانے کے لیے لب دانتوں تلے دبائے ۔۔۔ 

وہ چلتا ہوا ان سب کے پاس آیا ۔۔۔۔ 

اس وقت تک کچھ سانسیس بحال ہو چکی تھیں ۔۔۔۔

 

آپ نے گیٹ سے گاڑی اینٹر کرنے سے کیوں روکا ۔۔۔ وہ وہاں صائم اور دائم سے مصافحہ کرتے حیات کے پاس آتے بولا

 

جس نے اسے دیکھا 

دروازے بند کردینے کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ دیر کر چکے ہیں ۔۔۔ اسکی بات پر وہ جل کڑھ کر رہ گیا ۔۔۔ 

حور پری اور ماہی کے سر پر پیار دیتے وہ کرسی کھینچ کر صائم کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔ تبھی ان کو دروازے سے صبغہ شاہ آتی نظر آئ ۔۔۔ اسے دیکھ ماہی نے چیخ لگائ اور دوڑ کر اسکے گلے لگی ۔۔۔ پری اور حور بھی چہک اٹھی تھیں ۔۔۔۔ وہ تینوں اب فل ہلاگلا کرنے والی تھیں کیونکہ ان کی کرائم پاٹنر جو آگئ تھی 

نعمان شاہ نے اسے دیکھا اور پھر پہلو بدل کر رہ گیا ۔۔۔۔

خاموشی سے کھانا کھایا گیا ۔۔۔ 

 

اب ماہی ان سب کو صوفے پر بیٹھنے کا کہتی ناجانے کہاں کھل رہی تھی ۔۔۔ 

تب ہی سب لوگوں کو ماہی اپنی طرف آتی نظر آئ ۔۔۔ 

 

کیا آج گھر نہیں جانا ؟ حور نے سوال کیا ۔۔۔۔

حد ہے ہم کیا بس کھانا کھانے آئے تھے ؟ اب اگر فارم ہاؤس پر آئیں میں تو تھوڑا انجواے بھی تو کریں اور ہاں ہم صبح واپس جائیں گے ۔۔۔ 

اسکے کہنے پر حور نے اسے دیکھا 

نہیں پر مجھے کل یونی جانا ہے اس نے منہ بناتے کہا 

حیات نے اسے دیکھا ۔۔۔۔ 

جب کہ صبغہ شاہ جو چائے لیے کیچن سے آی تھی وہ بھی اپنی جگہ سنبھال کر بیٹھی 

 

ویسے یہ ٹریٹ کس خوشی میں تھی ؟ صبغہ کے سوال پر سب نے ماہی کو سوالیہ دیکھا 

جس نے گھبرا کر حیات کو دیکھا ۔۔۔

وہ میرا رشتہ ہو گیا ۔۔۔ وہ ہڑبڑی میں بولی ۔۔۔ پھر بات سمجھتے سر پر چت لگائ 

 

سوری میرا مطلب حیات بھائ کا ۔۔۔ وہ بولی جس پر سب نے اسے ایسے دیکھا جیسے انہیں کرنٹ سا لگا تھا ۔۔۔ 

نعمان نے گھور کر حیات کو دیکھا 

 

اور کس کی قسمت پھوٹی ہے ؟ وہ سنجیدہ سا بولا جس پر سب کی ہنسی چھوٹی ۔۔۔ 

ویسے یہ بات گھر کی فتنہ کو پتہ ہے اور مجھے نہیں ۔۔۔۔ جس کو سب سے زیادہ شدت سے اس دن کا انتظار تھا ۔۔۔۔ 

 

صائم نے نوٹنکی کی جس پر حیات نے اسے گھورا ۔۔۔۔ 

 

حیات بھائ کون ہے وہ ؟ پری نے تجسس سے پوچھا ۔۔۔ 

تمہیں بڑی ٹینشن ہو رہی ہے اسی وقت موبائل کی بپ پر اس نے موبائل اٹھا کر تھوڑے فاصلے پر بیٹھے بظاہر سنجیدہ چہرے والے اس گھنے میسنے کو دیکھا 

 

حور نے بھی سوالیہ دیکھا ۔۔۔ 

میری بچپن کی محبت سے ۔۔۔ اسکے لہجے میں ایک دم چاشنی سی گھلی ۔۔۔۔

 

سب کے لاکھ پوچھنے پر اس نے سب کو سرپرائز کہہ کر ٹال دیا ۔۔۔۔

صائم اور دائم تو جانتے تھے مگر نعمان کو عجیب سی الجھن ہوی مطلب نام بتا دیتے تو ٹینشن ختم ہو جاتی 

 

چلو چلو گیم کھیلتے ہیں ماہی نے چہک کر کہا اور پھر وہ سب جی میڈم کہتے اس کے کہنے پر ایک خوبصورت میٹرس پر بیٹھ گئے ۔۔۔ 

 سب ایک گول دائرے میں بیٹھے تھے 

 

یہ بوتل جس کے جانب منہ کرے گی وہ سوال کا جواب دے گا اور جس کی جانب اسکی بیک اے گی وہ سوال کرے گا ۔۔۔۔ اسکی بات پر سب اسے دیکھ کر رہ گئے خیر سب نے اوکے کہتے گیم سٹارٹ کی 

 

سب لڑکیاں ایک طرف اور لڑکے ایک طرف تھے ۔۔۔۔

بوتل گھمای اور اس کے گھومنے کے بعد وہ گول دو چکر کے بعد رکی 

اس کا رخ صائم کی جانب تھا اور اسکی بیک سائیڈ صبغہ شاہ کی طرف 

 

ہرےےےےے ۔۔۔ لڑکیاں چہک کر بولی 

سب ان کی چہک پر مسکرائے سوائے نعمان شاہ کے وہ خاموش سا بیٹھا بے زار تھا ۔۔۔۔

اسے فیملی کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا اور اس قدر بچکانہ حرکتوں کی عادت نہیں تھی 

 

ہمم۔ تو مسٹر ایڈوکیٹ آپ سے تین سوال کروں گی ۔۔۔ آپ تیار ہیں ۔۔۔ 

صبغہ شاہ نے مسکرا کر کہا جس پر اس نے دانت نکالتے ہاں مین سر ہلایا

 

جواب میں دس سوالوں کے بھی دوں گا بس سوال میری مرضی کے ہوں ۔صائم بول۔۔ اس کی بات پر سوالیہ دیکھا 

 

مطلب میری تعلیم کیا ہے آج تک کتنے کیس لڑچکا ہوں میری ہائٹ میرا پسندیدہ کھانا وغیرہ ۔۔۔ 

 

اسکی بات پر صبغہ نے اسے گھورا 

چپ ۔۔۔ وہ اسے ڈانٹتے اب سوال کرنے لگی 

 

کبھی محبت ہوی ہے ؟ اس کے سوال پر صائم کی چہرے کے رنگ کچھ بدلے ۔۔۔ کچھ یاد آیا پھر قہقہ لگا اٹھا 

یہ واحد کام ہے جس میں بری طرح فیل ہوں کیونکہ مجھ سے لولی پوپی نہیں ہوتی ۔۔۔ لڑکیوں کے تو ہزار نکھرے ہوتے ہیں اور مجھ سے کسی کے نکھرے نہیں اٹھائے جاتے ۔۔۔ 

 

اس کی بات پر ماہی نے اسے مکس جڑ دیا۔۔۔ جب میری بھابھی آئے گی اسے بھی بتاؤں گی آپ کی خوبصورت رائے ۔۔۔۔۔

 

وہ نچوڑ کر رہ گئ ۔۔۔ 

دوسرا سوال۔۔۔۔۔

زندگی میں کیا چاہتے ہو ؟

اسکے سوال پر وہ مسکرایا ۔۔۔ میں چاہتا ہوں میرا یہ چھوٹا سا ٹیڈی بیئر بلکل نارمل بیہو کرے ہستا ہوا مسکراتا ہوا وہ نعمان کو دیکھتے بولا 

 

جو ایک دم سانس روک کر اسے دیکھنے لگا اس نے ان دونوں سے زیادہ کبھی بات نہیں کہ تھی مگر وہ جانتا تھا وہ اسے بہت چاہتے ہیں ۔۔۔ وہ سر جھٹک کر رہ گیا

صبغہ شاہ نے گردن موڑ کر اس کو دیکھا 

 

پھر کمپوز کرتی تیسرے سوال کی جانب بڑھی ۔۔۔۔

آپ کو سب سے زیادہ کس بات سے چڑھ ہوتی ہے ؟

 

یہ ماہی کی بچی سے ۔۔۔ جب تک یہ نہیں تھی اماں سائیں کی آنکھ کا تارا لاڈ دلارا میں تھا پھر یہ چڑیل سی ڈائن ۔۔۔ وہ گندے گندے منہ بناتا ماہی کو تنگ کرنے لگا جس نے کشن اٹھا کر اسے دے مارا ۔۔۔

 

یہ چڑیل ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی آپ کو جلانے کے لیے ۔۔۔ وہ منہ موڑ کر بولی 

 

صائم نے مسکرا کر اسے گلے لگا لیا 

چھوٹی آفت وہ اب بھی بعض نہیں آیا تھا 

 

دوبارہ بوتل گھمای اب کی بار رخ نعمان کی طرف تھا۔۔۔ 

اور پشت پری کی طرف ۔۔۔ 

 

وہ گھبرائ اس جن سے کیا پوچھے جس کے چہرے کی سنجیدگی بندے کو ہکلانے پر مجبور کر دیتی تھی ۔۔۔

 

وہ کیا میں سوال کر لوں ؟ وہ پہلے یہ بولی ۔۔۔ 

نعمان نے اسے دیکھا۔۔۔ ہاں ۔۔۔ 

یہ تمہارا ایک سؤال ختم ہوا پیچھے دو رہ گئے ۔۔۔ 

 

اسکی بات وہ ہونقوں کی طرح دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے آئ برو اچکای ۔۔۔

 

آپ ایسے کیسے یہ سوال میں کاؤنٹ کر گئے ۔۔۔؟

 

تم نے سوال کیا اور میں نے جواب دیا ۔۔۔ خیر ایک سوال رہ گیا ۔۔۔ 

 

اہہہہہہ اسکا دل چاہا سر پھوڑ دے اپنا پھر اس نے کنڑول کرتے سوال کیا

 

کیا آپ کی زندگی میں کوی ایسا شخص ہے جس کو پانےکی خواہش ہو آپ کو ؟

 

وہ جانتا تھا اس سے ایسے سوال ہوں گے اس لیے چالاکی سے سوال کھا گیا تھا 

 

صبغہ کا دل بے ساختہ دھڑکا ۔۔۔۔ جب اسکے جواب پر دھڑکن یکدم ساکت ہوی ۔۔۔

 

‘نہیں مجھے کسی کے  ساتھ کی خواہش نہیں ۔۔۔۔ “

آنکھیں بے ساختہ بھر آئ ۔۔۔۔ وہ سر جھکا گئ ۔۔۔۔

جب کہ نعمان نے اس کو دیکھتے تنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجائ

جانتا تھا اسے جواب کچھ اور سننا تھا




Episode 24 and 25

 

نعمان شاہ کے الفاظ نے اس معصوم لڑکی کے دل کو توڑا تھا مگر وہ خود پر کمال ضبط رکھتی دوبارہ گیم میں مصروف ہونے کی کوشش کرنے لگی مگر نا چاہتے ہوے بھی اس کی آنکھ سے آنسو بہہ کر گال پر گر گیا وہ جلدی سے اسے کسی کی نظر میں لائے بغیر وہاں سے سر درد کا بہانہ کرتی اٹھ گئ 

 

مگر دو آنکھوں نے اس کی ازیت کو دیکھا تھا مگر لب بھینچ کر ناجانے اسے جاتے دیکھ اسے برا لگا تھا

 

رات کافی دیر تک کھیلنے کے بعد وہ لوگ فارم ہاؤس کے اندر بنے کمروں میں آرام کے لیے چلے گئے ۔۔۔۔ 

سب بے فکر تھے کیونکہ ان کے ساتھ حیات سکندر تھا پھر کس بات کی فکر ۔۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

فون مسلسل بج رہا تھا وہ باتھ روم سے باتھ روب پہنے باہر نکلا اور ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا

 

ہمم بولو ۔۔۔۔ اس نے مختصر سرد لہجے میں اپنے مخصوص انداز میں کہا

 

مقابل کو اس کی دوبدو بات کی عادت تھی اسلیے کچھ کہا نہیں ۔۔۔۔

 

مجھے ایک لڑکی کی سپاری دینی تھی تمہیں اس کے لیے تم چاہے جتنے پیسے لے لینا۔۔۔۔۔

مقابل نے اپنی بات مکمل کرکے اس کے جواب کا انتظار کیا

 

تم جانتے ہو میرے کام میں ہر غیر قانونی کام ہے مگر لڑکی وڑکی کے چکر میں نہیں پڑتا 

دوبارہ میرا وقت ضائع مت کرنا اس نے دوٹوک کہتے کال کھٹاک سے بند کی اور الماری کی جانب بڑھ گیا اپنے لیے کالے رنگ کی شرٹ کے ساتھ کالے رنگ کی پینٹ لیے وہ چینجنگ روم میں چلا گیا

 

کچھ دیر بعد اس کے بکھرے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے چوڑے سیںے پر ابھرتے اس کے سیکس پیک بہت ورزش کا نتیجہ تھے وہ لمبا چوڑا مغرور اور سخت جان انسان بکھرے بالوں میں بھی جازب لگتا تھا

 

اس نے ڑرائیر سے بال خشک کرتے اپنے بال جیل سے سیٹ کرنے کی محنت نہیں کیونکہ اس کے بالوں کو کسی آرٹیفیشل حسن کی ضرورت نہیں تھی 

بلاشبہ اس شخص کو خدا نے مکمل حسن کے ساتھ اس دنیا میں اتارا تھا ۔۔۔۔

 

جیکٹ پہنتے اس نے اپنا ریوالور اٹھا کر جیب میں اڑیستے اپنی کچھ ضروری چیزوں کو اٹھاتے قدم باہر کی جانب بڑھائے ۔۔۔۔۔

 

باہر آتے اس کے تمام گاڑز جن کو اس نے خود ٹرین کر رکھا تھا  وہ چلتا ہوا ناشتے کی ٹیبل پر آیا جب اس کا خاص آدمی اس کے پاس آیا

 

بوس آپ نے اسے گولی ماردی تھی تو کیا وہ پیغام جو اسے دینے کو کہا تھا میں پہنچا دوں ؟

اس نے جلدی سے بات ختم کی اسے پتہ تھا اس کے بوس کو لمبی لمبی باتوں سے کوفت ہے 

 

ہممم۔۔۔ اس نے ناشتے پر جھکے بس ہمم کہہ کر اسے ساتگبیٹھ کر ناشتہ کرنے کا اشارہ کیا جس پر وہ شخص جو اسکا خاص آدمی تھا وہ بھی بیٹھ گیا

 

غفار لدھیانوی کی درخواست ہے کہ اس کا کام کر دیا جائے بدلے میں جو کہیں گے اسے وہ دینے کو تیار ہے ۔۔۔۔۔

اس نے ناشتے کے بعد ہاتھ منہ نیپکن سے صاف کرتے کہا 

 

وہ جو چائے پی رہا تھا اس کی جانب دیکھا

تم جانتے ہو اس نے کام کیا بولا ہے ؟

 

جی جانتا ہوں مگر آپ کے ساتھ رہنے کے بعد اتنا تو جانتا ہوں کہ اپنی بات کیسے منواتے ہیں ۔۔۔۔۔

اس نے سر جھکا کر کہا 

 

جس پر سلطان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری ۔۔۔۔

 

لڑکی کی عزت بہت نازک ہوتی ہے رحیم ۔۔۔۔ اس نے جیسے باور کروایا 

 

خدا کی قسم اپنی جان پر کھیل کر اس لڑکی کی حفاظت کروں گا بس مجھے آپ کا وہ خاص ہتھیار وہاں سے لانا ہے ۔۔۔۔ اس نے معدب انداز میں بات کی

 

بہت بگڑ گئے ہو تم ۔۔۔۔ سلطان نے بلآخر اسے ڈانٹتے ہوے کہا مگر اس کا مطلب تھا اس کی اجازت ہے 

 

اب رحیم نے مسکرا کر اپنے بوس کو دیکھا ۔۔۔۔ 

آپ نے پیار دے کر بگاڑا ہے ہم جان دے کر اس کا احسان اتاریں گے ۔۔۔۔۔

رحیم کی بات پر وہ سر جھٹک کر رہ گیا ۔۔۔۔

 

رحیم نے غفار لدھیانوی سے بات تہہ کی جس پر وہ جزبر ہوا وہ اس کو اس کا خود کا سلطان کا خاص ہتھیار نہیں دے سکتا تھا مگر اسے لڑکی چاہیے تھی اس پر وہ ہار مانتا اسے اس لڑکی کی تصویر سینڈ کر چکا تھا جسے کیڈنیپ کروانا تھا 

 

رحیم نے ایک نظر اس معصوم سی لڑکی کو دیکھا پھر گہرا سانس لے کر رہ گیا ۔۔۔۔ 

کتے کی دم ٹیڑھی کی ٹیڑھی رہنی ہے سلطان سے کئیں دفع پٹنے کے بعد بھی اس شخص کی عیاش عادت نہیں گئ پر اب اسکو میں سبق سکھاؤں گا ۔۔۔۔ وہ بڑبڑاتا ہوافون جیب میں رکھتا باہر ںکلا 

 

🍁🍁🍁

 

حوریہ یونیورسٹی کے لیے تیار ہوتی ساتھ ماہی کو کال کر رہی تھی جس نے تین کالز کے بعد فون اٹھایا ۔۔۔۔ 

ہممم بولو۔۔۔ اسکی نیند سے بھری آواز پر حوریہ نے گھور کر فون کو دیکھا 

 

تم اب تک سو رہی ہو ؟ اس نے جیسے ہی پوچھا دوسری طرف ماہی نے کڑوا منہ بنایا ۔۔۔ 

 

تم صبح پانچ بجے واپس لے کر آئ تھی اب کیا نیند بھی نا پوری کروں اور ویسے بھی ابھی دس بجے ہیں ہماری کلاس آج 11 بجے کی ہے مجھے سونے دو پھر جائیں گے ۔۔۔

 

وہ بھی نیند سے بھری آواز سے بولی 

 

اففف ماہی میں نے بولا تھا میں نے اسائنمنٹ بھی مکمل کرنی ہے اور آج لاسٹ ڈیٹ ہے مجھے لائیبریری بھی جانا ہے اٹھ جاؤ ۔۔۔ وہ اسے ساری بات بتایا آخر میں منت کی 

 

اچھا اچھا اٹھ گئ ہوں اففف تم کسی دن پڑھ پڑھ کر پاگل ہو جاؤ گی  وہ ابھی بھی اسے سوٹ میں تھی کھلے بالوں کو جوڑے میں باندھتی جمائیاں لیتی اٹھی اور کمفرٹر سائیڈ کیا 

 

ہاں تمہیں تو پڑھانے کے لیے تمہارے بھائ ہیں میرے پاس نہیں ہیں جو مجھے سمجھا سکیں اور ارے دیر تک میرے ساتھ جاگ کر میری اسائنمنٹ لکھوائیں ۔۔۔۔ 

حوریہ نے بھیگی آواز میں کہا 

 

ماہی نے کچھ نہیں کہا وہ جانتی تھی اسے بھائ کی کتنی خواہش تھی کہ کاش اسکا بھی کوی بھای ہوتا جو اسکے لاڈ اٹھاتا ۔۔۔۔ 

 

میں تیار ہو کر پہنچتی ہوں ۔۔۔ ماہی نے کہتے کان سے فون ہٹایا ۔۔۔۔ 

کاش اسکا بھی کوی بھای ہوتا تو یہ احساس کمتری نا ہوتی ۔۔۔ 

سب کچھ ہونے کے باوجود اسکے دل میں خود کے بھائ کی چاہت تھی جو اس کی ناممکنات میں سے تھی 

 

🍁🍁

 

وہ لوگ یونیورسٹی پہنچیں۔۔۔۔ الگ سبجیکٹ کی وجہ سے ماہی کی کوی اسائنمنٹ نہیں تھی اس لیے وہ بس اس کے ساتھ لائیبریری آی تھی تاکہ اسکو کمپنی دے سکے ۔۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

سکندر حویلی میں اس وقت منظر کچھ یوں تھا نوکر سب اپنے کام پر دھیان دے رہے تھے بی جان کی آج طبعیت کچھ بہتر تھی اس لیے وہ بھی کمرے سے نکل باہر بیٹھیں تھیں 

ان کے پاس صوفے پر سلمہ بیگم بیٹھی ہوی تھیں ۔۔۔۔ سائرہ بیگم آج کسی سے ملنے گئ ہوی تھیں 

جبکہ مائرہ اترا ہوا چہرہ لیے ان کے پاس بیٹھی ہوی تھی 

مقدس اپنے شہر والے گھر واپس جا چکی تھی جبکہ سکندر اور حیات مل کر پنچائیت کے لیے جاچکے تھے صائم بھی اپنے کیس کی سنوائ کے لیے عدالت میں تھا اور دائم اپںے مریضوں کی خاطر ہاسپٹل میں موجود تھا 

شہریار اپنے کمرے میں تھا اسے امریکہ سے واپس آئے کچھ دن ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔

وہ اپنے کمرے میں بیٹھا کسی کام میں مہو تھا

سائشہ کپڑے تہہ کرکے الماری میں رکھنے میں مصروف تھی 

اور حویلی کی رونق جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں ہماری پیاری فریال اس وقت اپنے سائیں کو کسی چیز کی دھمکیاں دیتی کمرے سے نکلی تھی 

فون کے دوسری جانب پنچائیت میں بیٹھا وہ بس اپنی محبوب بیوی سے ڈانٹ کھا رہا تھا جس نے ابھی تک زکریہ شاہ سے حوریہ کے رشتے کے لیے بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔ 

 

اچھا ناں جنگلی بلی کرلوں گا بات اس وقت میں مصروف ہوں آج جاؤں گا تمہارے بیٹے کے رشتے کی بات کرنے ۔۔۔۔۔

وہ جیسے ہار مانتے اب منت پر اترے تھے 

 

سائیں آج اگر آپ پھر مصروف ہونے کی وجہ سے بات نا کرکے آئے تو آپ کو کمرے میں کیا حویلی میں بھی نہیں گھسنے دوں گی ۔۔۔ وہ سیڑھیوں سے اترتی فون کان سے لگائے سخت لہجے میں بولی 

 

جی جی جو حکم سرکار اب اگر آپ کی اجازت ہو تو یہ ناچیز اپنا کام کرلے ؟ وہ مسکراتے ہوے بولا 

 

ہاں ٹھیک ہے کریں کام اپنے بیٹے کے بچے دیکھنے کے لیے میری آنکھیں ترس رہی ہیں ۔۔۔۔۔

وہ اب نیچے آتے بولی اور پھر الوداعی کلمات کے ساتھ فون کاٹ دیا

 

کیا کردیا میرے معصوم بچے نے ؟ سلمہ بیگم نے اسے دیکھتے کہا

 

آپ کی طرح ہی معصوم ہے آپ کا بچہ ۔۔۔۔ وہ آج بھی بعض نہیں آتی تھی اپنے زبان کے جوہر دکھانے سے 

بی جان دیکھیں زرا یہ میری بہو کم ساس زیادہ لگتی ہے ۔۔۔ 

وہ ناراض ہوتی بی جان سے مخاطب ہوئیں جو ناراض نظروں سے فریال کو دیکھ رہی تھیں 

 

جس پر وہ جلدی سے سلمہ بیگم کے پاس بیٹھتی ان کے گرد اپنے ہاتھ باندھ کر گھیرا تنگ کرتی اپنے ساتھ لگا گئ 

 

اب میں کیا کروں میرے پاس کوی بی نہیں ہے جس سے لڑائ کر سکوں ۔۔۔  سائشہ بھی اتنی معصوم کہ بلاوجہ اسے کہتے ہوے بھی برا لگتا ہے ایسے میں آپ کام نہیں آئیں گی تو کون آئے گا ؟

 

اس کی بات پر سلمہ بیگم نے اسے گھورا۔۔۔ 

یہ بتاؤ کس بات پر سکندر کی کلاس لگا رہی تھی ؟

وہ بھی نارمل ہوتے بولیں ۔۔۔ 

فریال نے ان سے الگ ہوتے گہرا سانس لیا

 

اففف انہوں نے ابھی تک بھائ صاحب سے بات نہیں کی کہ ہم ان کی بیٹی کو اپنی بہو بنانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔

فریال کی بات پر بی جان کچھ سوچنے لگیں ۔۔۔۔ 

ان کو اس طرح گہری سوچ میں جاتے دیکھ وہ ان کی جانب متوجہ ہوی 

 

کیا بات ہے بی جان ؟ کیا سوچ رہی ہیں ؟

فری کے سوال پر رہ گہرا سانس لے کر اسے دیکھنے لگیں ۔۔۔

 

ہم آج اس سے اس کی بیٹی مانگ رہے ہیں جس نے ہم سے ہماری شہزادی کا ہاتھ تبھی مانگ لیا تھا جب ماہی اس دنیا میں آی بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔

بی جان نے کچھ یاد کرتے دھیمے لہجے میں کہا

 

فریال کو بے ساختہ وہ وقت یاد آیا آنکھیں تو اس کی بھیگ گئی۔

ناجانے وہ کہاں ہو گا ؟عمر تو اسکی بھی شادی کی ہو چکی ہو گی ۔۔۔۔ میرے سکندر کا ہم عمر تھا ۔۔۔ اس نے بھی بھیگی آواز میں کہا

 

اہہہ وقت بہت ظالم ہے ہم سے ہمارے پیارے دور کر دیتا ہے ۔۔۔ سلمہ بیگم بھی دکھی ہوتے بولیں ۔۔۔۔

 

🍁🍁

 

سکندر شاہ حویلی میں بیٹھا ہوا تھا سامنے زکریہ شاہ اور جویریہ شاہ بیٹھے ہوے تھے ۔۔۔۔ پری کیچن میں ملازم سے لوازمات بنوا رہی تھی 

 

وہ جب سے یہاں آئے تھے گاؤں کے مسائل پر ہی بات کر رہے تھے 

تبھی سکندر نے گہری سانس لیتے اپنی بات کی شروعات کی 

 

شاہ آج میں تجھ سے کچھ لینے آیا ہوں۔۔۔ ۔ان کے لہجے میں بے پناہ چاہت کے ساتھ غرور تھا کہ ان کا دوست ان کو انکار نہیں کرے گا

 

بول تیرے لیے جان بھی حاضر کے ۔۔۔۔ وہ بھی مسکرا کر بولے 

 

ہاں تیری جان کا ٹکڑا ہی تو مانگنا ہے ۔۔۔ سکندر نے مسکرا کر کہا

 

کیا مطلب بھائ صاحب ؟ جویریہ شاہ نے سوالیہ دیکھتے ہوے کہا

 

دراصل میں اپنے حیات کے لیے تم سے حوریہ کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں جانتا ہوں تم انکار نہیں کرو گے مگر پھر بھی اپنی بیٹی سے اس کا حق مت چھیننا اس کی رضامندی کے بعد مجھے جواب دینا ۔۔۔۔ 

یہ میری اور سکندر حویلی کے سب افراد کی خواہش ہے کہ حور ہماری بہو بنے ۔۔۔۔ 

 

اس نے بات کے آخر میں ان دونوں کی جانب دیکھا جو خاموش تھے 

 

کافی دیر خاموشی کے بعد زکریہ شاہ نے گلا صاف کرتے کچھ بولنا شروع کیا

 

بے شک تو میرا یار ہے اور میں تمہیں انکار نہیں کروں گا۔ ۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ میری بیٹیاں میرا مان نہیں توڑیں گی۔۔۔۔۔ میں حور سے بات کرکے تمہیں بتاؤں گا۔     

 

سکندر نے اسکی بات پر سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔۔

مگر میری حور بہت چھوٹی ہے حیات سے ۔۔۔۔ وہ کیسے اس کو سنبھالے گی ۔۔۔ جس کے کمرے کی چیزوں کو آج بھی میں خود سنبھالتی ہوں ۔۔۔ 

جوریہ شاہ نے کچھ سوچنے کے بعد ڑرتے ہوے جواز پیش کیا

 

چھوٹی تو میری ماہی بھی ہے آپ نے بھی تو جھانگیر کے لیے اسے مانگا تھا ۔۔۔۔ سکندر نے جواب دیا جس پر جویریہ چپ سی ہو گئیں ۔۔۔ آنکھیں بے ساختہ بھیگی تھیں 

 

کس نے کہا ہے کہ عورت ہی مرد کو سنھبالتی ہے کبھی کبھار مرد کو اپنی عورت کو سنبھالنا ہوتا ہے آپ پریشان مت ہوں حور کا ابھی صرف نکاح کیا جائے گا رخصتی اسکی پڑھائ کے بعد ۔۔   

 

اپنی بات پر ان دونوں کو دکھی ہوتے دیکھ سکندر نے مزید بات کی جس پر بامشکل چہرے پر مسکراہٹ لاتے شکریہ شاہ نے سر اثبات میں ہلایا

 

جوریہ شاہ وہاں سے خاموشی سے اٹھتی اپنے کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔

 

معزرت شاید میری وجہ سے بھابھی پریشان ہو گئیں۔    سکندر کو واقعی ہے اپنی بات بری لگی اسے اس طرح جھانگیر کا زکر نہیں کرنا چاہیے تھا

 

اہہہہ ۔۔۔ وہ تو روز اسے یاد کرتی ہے تم دل پر مت لو ۔۔۔۔ شاہ نے سر جھکاتے کہا

 

اور تم ؟ سکندر کے سوال پر وہ سر نہیں اٹھا سکے ۔۔۔۔ 

کون باپ اپنے بیٹے کو یاد نہیں کرتا ۔۔۔۔ 

 

یونیورسٹی سے واپس آتی حوریہ نے اپنے باپ کی بات سن کر قدم وہیں روک لیے 

وہ کس کی بات کر رہے ہیں ؟

وہ حیران ہوی 

 

تو اڈے بلالو واپس ! سکندر نے اگلی بات کی 

وہ ظالم ہے بہت اپنے باپ کو چھوڑ کر چلا گیا ایک دفع پلٹ کر نہیں دیکھا اسکا باپ کتنا اکیلا ہے اس کے بغیر ۔۔۔۔ 

وہ دکھی ہوتے بولے 

 

حوریہ کی بھنویں سکڑی ۔۔۔ 

کون ہے جس کی بات کرتے اسکا باپ دکھی ہو رہا تھا۔ ۔۔۔ 

دل بے ساختہ دھڑکا تھا

 

تم نے اسے نکالا بھی تو اس طرح تھا کہ وہ چاہ کر بھی واپسی کے قدم نا لیتا 

 

سکندر نے دکھی ہوتے کہا

 

وہ کہتی ہے میرے اصول اسکا بیٹا چھین گئے اس سے کوی نہیں کہتا میرا بیٹا میرا غرور تھا ۔۔۔۔ آج شکریہ شاہ اکیلا ہے اسکا بازو اس روز ٹوٹ گیا تھا یار ۔۔۔ وہ اب باقاعدہ آواز میں رونے لگے تھے ۔۔۔ 

سامنے بیٹھے جگری یار کو دیکھ دکھ اور تکلیف مزید ابھری تھی ۔۔۔

 

حوریہ نے پلر پر ہاتھ رکھ کر خود کو گرنے سے بچایا 

 

بابا کا بیٹا ۔۔۔ اہہہ مطلب میرا بھائ ؟

وہ خود سے بڑبڑای

کیا ایسا ممکن ہے کیا میرا بھی بھائ ہے ؟ 

حور کی آنکھیں پل میں بھیگی تھیں ۔۔۔

 

وہ جس رشتے کے لیے ترس رہی تھی آج اسے پتہ چلا کہ اس کے پاس یہ رشتہ ہے مگر کہاں ہے وہ ؟

یہ سوال سر اٹھانے لگا۔۔۔

اپنے باپ کو سکندر کے سینے سے لگ کر روتے دیکھ وہ بھی بے آواز رونے لگی 

 

بھائ ۔۔۔ کہاں ہے آپ ؟ بابا کتنی تکلیف میں ہیں ۔۔۔۔ 

وہ روتے ہوے بڑبڑای پھر واپس باہر لون میں چلی گئ ۔۔۔ وہ اپنے باپ کو روتے نہیں دیکھ پائ تھی 

 

🍁🍁

 

یہ کیا کہہ رہی ہو تم ؟ ماہھ نے حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھا جو زارو قطار رو رہی تھی 

وہ سیدھا سکندر حویلی پہنچی بنا کسی کو ملے وہ ماہی کے کمرے میں آی تھی 

 

میں سچ کہہ ۔۔۔۔ رہی ہوں ۔۔۔ وہ اٹکتے ہوے بولی ۔۔۔۔

تو کہاں ہے تمہارا بھائ ؟ ماہی نے اس کو روتے دیکھ آنسو صاف کرتے پوچھا

 

پپ پتہ نہیں ۔۔۔۔ ماہی میں کتنی بد نصیب ہوں بھائ کے ہوتے ہوے بھی میں اس رشتے  کے لیے بچپن سے ترس رہی ہوں ۔۔۔۔

وہ اپنی ازیت اسے لفظوں میں بتانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔

 

رو رو کر آنکھیں سرخ کر چکی تھی۔۔۔۔۔ جہاں یہ سن کر خوشی ہوی تھی کہ اسکا کوی بھائ بھی ہے وہاں یہ بات تکلیف دہ تھی کہ ناجانے وہ کہاں ہے ۔ ۔۔۔

 

نہیں میری جان ایسے مت بولو تم خود کو تکلیف مت دو ۔۔۔ ہم تمہارے بھائی کو ڈھونڈیں گے ۔۔۔ بس تم چپ ہو جاؤ ۔۔۔۔ وہ اسکو تڑپ کر عورت دیکھ اسے گلے لگا گئ ۔۔۔۔۔

کتنی ہی دیر وہ اسکے سینے سے لگتی روتی رہی مگر تکلیف بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

 

🍁🍁

 

حیات اپنے کمرے کی جانب لمبے لمبے ڈاگ بھرتے جا رہا تھا جب وہ دشمن جان روی آنکھوں کے ساتھ سامنے والے کمرے سے نکلتی نظر آی 

 

وہ حیران سا اسے دیکھ رہا تھا جو ناجانے کس سوچ میں غرق اسے خود کی طرف دیکھتے پا کر محسوس بھی نہیں کر سکی تھی ۔۔۔۔

 

تم یہاں ؟ وہ اسکے سامنے جاتا بولا جب ثور نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اسے لگا وہ ان سرخ آنکھوں کو دیکھ تکلیف محسوس کر رہا ہے ۔۔۔۔

 

تم ٹھیک ہو ؟ کیا ہوا ؟

وہ پریشان ہوتا بولا

 

جج جی ٹھ ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ وہ بولتے ہوے اب بھی اٹک رہی تھی اور سبکیاں اب بھی کے رہی تھی ۔۔۔۔

 

حیات نے بنا کچھ دیکھے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر اپنے کمرے میں لے جاتے دروازہ بند کیا 

 

یہ یہ کیا کر رہے ہیں آپ ؟وہ ہوش میں آتے بولی ۔۔۔۔

 

شششش۔۔۔ بس یہ بتاو کہ ان آنکھوں کو تکلیف دینے کی وجہ ؟ وہ سنجیدہ سا بولا 

 

حور نے نظریں جھکا لیں ۔۔۔

میں کچھ پوچھ رہا ہوں ۔۔۔۔ تم روی کیوں ہو ؟ اور اس قدر کے چہرہ سرخ پڑ رہا ہے اور دیکھو تم اب بھی سبکیاں لے رہی ہو ۔۔۔۔۔

 

وہ اسے دیکھتے بولا 

 

کک کچھ نہیں بسسر میں درد ہے ۔۔۔سہ بہانہ بناتی بولی 

 

جب وہ اسے دیوار سے پن کرتا اس کے پاس اسکی جانب جھکا ۔۔۔ گردن رو پہلے ہی اسکی جانب جھکائ ہوی تھی اب مزید جھکاتے اس کو چہرے کے قریب ہوا

 

مجھے میرا جواب دو ورنہ حیات سکندر اس کو حیات نہیں رہنے دے گا جس کی وجہ سے تم رو رہی ہو ۔۔ وہ ارد لہجے میں بولا

 

اسکی گرم سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے وہ آنکھیں بند کر گئ تھی مگر اسکی بات پر تڑپ کر ہاتھ اسکے لبوں پر رکھا

 

اللہ نا کرے ان کو کچھ ہو ۔۔۔۔ وہ تڑپ کر بولی جب کہ سکندر نے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھا 

 

حور نے ہاتھ جلدی سے پیچھے کھیںچا ۔۔۔۔ 

 

کس لیے رو رہی ہو؟اس نے اب کی بار گھورتے ہوے پوچھا

 

🍁🍁🍁

 

نعمان شاہ نے اپنی خاص فائل نا ملنے پر آفس سے باہر جاتے علی کو دیکھا 

مس صبغہ کو میرے روم میں بھیجھیں اس نے مصروف سے انداز میں کہا

 

پر سر مس صبغہ تو آج آفس نہیں آئیں ۔۔۔۔۔علی نے جواب دیا

کیا مطلب ؟ وہ چھٹی پر ہے بنا لیو لیے ؟

وہ اسے دیکھتے بولا 

 

سوری سر میں نے کال کی تھی تو پتہ چلا کہ ان کو بہت تیز بخار ہے اس وجہ سے انہوں نے ان گھر پر ہی رہ کر اپ کا سارا شیڈیول بنایا تھا

 

وہ معدب سا بولا

جب نعمان نے اسے جانے کا کہہ کر موبائل اٹھایا ۔۔۔ 

سوچ میں پڑ گیا ۔۔۔ کال کرے یا نہیں مگر فائل ضروری تھی اس لیے سائیٹ پر جانے سے پہلے فائل چاہیے تھی ۔۔۔۔ 

 

اس نے گہرا سانس لیتے اس کے نمبر پر کال کی ۔۔۔۔

تیسی بیل پر کال رسیو ہوی ۔۔۔

 

جی سر آپ کا شیڈیول آپ کے ساتھ شیئر کر دیا گیا ہے اور آپ تمام کلائینٹس کو آج کی میٹنگ کا نوٹیفکیشن بھی بھیج دیا ہے ۔۔۔۔ وہ اپنے پروفیشنل انداز میں بولی مگر آواز دھیمی تھی ۔۔۔ بخار کی وجہ سے گلا بھی کچھ حد تک اثرانداز تھا

 

تم نے چھٹی کیوں کی ؟ بنا پوچھے ؟

وہ سوالیہ ہوا 

کچھ دیر کے لیے وہ چپ ہوی پھر بولی 

 

آپ نے ہی لاسٹ ٹائم کہا تھا کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے آپ کو تنگ نا کروں آپ کے مینجر اکرام صاحب سے چھٹی مانگی تھی ان سے ہی لیو لی تھی میں نے ۔۔۔

 

اسکی اگلی بات پر اس نے گھور کر موبائل کو دیکھا 

 

میری آج کی وفا انڈسٹری کے ساتھ کانٹریک والی فائل مجھے نہیں مل رہی ۔۔۔۔وہ اسکی بات اگنور کرتا بولا کیونکہ اسے یاد آگیا تھا کہ اسی نے ایسا کرنے کے لیے کہا تھا

 

سر سی میرے پاس ہے آپ نے کچھ ڈیٹیلز ڈالنے کے لیے کہا تھا ۔۔۔۔

وہ بھی بولی ۔۔۔ مگر لہجے میں کچھ عجیب تھا ۔۔۔ 

اداسی ہی اداسی 

 

ہممم ٹھیک ہے میں آکر فایل پک کر لیتا ہوں ۔۔ وہ فون ہنوز کان سے لگائے بولا اور گاڑی کی چابی اٹھائ 

 

نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے میں ڑراییور کے ہاتھ ہی بھیج دیتی ہوں اس نے فورا سے کہا

 

جب کہ وہ جو آفس سے نکل کر باہر آچکا تھا اسکی بات پر لب بھینچ گیا

 

میں راستے میں ہوں اس لیے خودی لینے آجاؤں گا ۔۔۔۔

کہتے کال کاٹ دی ۔۔۔۔

 

غصہ ؟ 

بلکل جناب کو اس بات پر شدید غصہ آیا تھا جو اسے آنے سے منع کر رہی تھی ۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

حیات حور کو ڑراپ کرنے خود ایا تھا ۔۔۔ پریشان مت ہو مجھ پر یقین رکھو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ اس نے دھیمے لہجے میں کہا

 

وہ کچھ نہیں بولی بس سر ہلاتی باہر نکل گئ ۔۔۔۔

 

وہ گہرا سانس لے کر رہ گیا ۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

چلو شکر ہے یہ ناگ  ہماری شادی کی لکیروں پر جو بیٹھے ہوے تھے اب خود شادی کر رہے ہیں ۔۔۔۔

 

صائم نے حیات کو دیکھتے کہا 

 

ناگ ؟ اس نے گھور کر اسے دیکھا ۔۔

ہاں بلکل ارے جب سے میں پیدا ہوا ہوں شدید قسم کے وٹامنز سنگل پائے جاتے ہیں مجھ میں۔۔۔  جب سے جوان ہوا ہوں ایک بھی شادی نہیں ہوی میری ۔۔۔ 

 

وہ پھر اپنی شادی کا رونا رونے لگا تھا

 

جب فری نے اسے بہت لگای تو تم نے کتنی شادیاں کرنی ہیں ؟ وہ اسے گھورتے ہوے بولی 

 

ارے طائ سائیں ۔۔۔ گھر والوں سے محبت ہی اتنی ہے ۔۔۔ ایک اماں سائیں کی پسند کی لڑکی اور ماہی کی پسند کی اور پھر اپنی پسند کی ۔۔۔ باقی آپ سب کا بھی مجھ پر پورا پورا حق ہے اپنی پسند سے بھی چاہے تو کروا سکتے ہیں ۔۔۔ اس نے شرارت سے چمکتی آنکھوں سے کہا

 

بے شرم انسان تم ایک کے ساتھ بھی رہ لو وہی کافی ہے ۔۔۔ ایک نے بھی بامشکل تم جیسی بلا کو جھیلنا ہے ۔۔۔ 

شہریار نے اسے گھورتے ہوے کہا جس پر سب کا قہقہ گونجا

 

جی بھائیو میری بھابھی بہت صابر اور شاکر ہوی تبھی آپ کے ساتھ رہ سکتی ہیں ورنہ کیا بعید آپ اسے بھی پکا کر رکھ دیں ۔۔۔۔ ماہی نے بھی اپنا حصہ ڈالا

 

چپ کرو چھپکلی ۔۔۔ تمہیں جھیلنے والا بھی کوی ہوگا بچارا غریب مسکین ۔۔۔ وہ بھی بنا اس کی عمر کا لحاظ کیے حساب بے باک کرنے لگا ۔۔جو اسے گھور کر رہ گئ ۔۔۔۔

 

سکندر نے ماہی کو دیکھا تو جھانگیر یاد آیا ۔۔۔۔ 

 

تمہارے  لیے میں لڑکی پسند کر چکی ہوں ۔۔۔۔ بی جان نے دھیمی آواز میں کہا جس پر وہ جو ان کی جانب رخ موڑے ہوے تھا سب ایسے مڑا تھا کہ باقاعدہ گرفن مڑنے کی آواز آی تھی 

 

کیا سچ میں بی جان ؟ وہ حیران سا بولا 

ہاں بلکل بس حیات کے نکاح کے بعد اس سے ملواؤں گی تمہیں ۔۔۔ ان دنوں زرا مصروفیت ہے ورنہ تمہاری خواہش بھی جلدی پوری کر دیتی ۔۔۔

 

اہہہہہہ یو آر دا گریٹ گرینڈ مدر آی لو یو میری گلابو ۔۔۔ وہ ان کے پاس جاتے ان کے گال کھینچتے ہوے بولا جس پر انہوں نے اسے دو تین سلواتیں دیں باقی سب اس نوٹنکی کو دیکھ پر ہس رہے تھے 

 

🍁🍁

 

مگر اماں سائیں ۔۔۔۔ جویریہ شاہ کی بات پر وہ پریشان سی ہوتی کچھ کہنے لگی جب زکریہ شاہ اندر آئے ۔۔۔ان کی آنکھیں اب بھی رونے کی وجہ سے سرخ تھیں ۔۔

 

حور کا دل کٹ کر رہ گیا تھا ان آنکھوں کو دیکھ کر ۔۔۔۔

 

کیا بات میرا بچہ پریشان ہے ؟ اسکے پاس بیٹھتے انہوں نے پیار سے اسے اپنے ساتھ لگایا 

 

نہیں بابا سائیں ۔۔۔۔ وہ کہہ کر سر جھکا گئ ۔۔۔۔

حیات کے رشتے کے لیے آپ کی رضامندی بہت ضروری ہے میری جان میں کوی بوجھ نہیں ڈال رہا بس آپ سے اتنا کہوں گا کہ یہ میری بھی خواہش ہے۔۔۔۔۔ مگر ضروری نہیں کہ میری خواہش پر اپنی خوشیاں قربان کریں ۔۔۔۔۔ جو آپ کہیں گی میں وہی کروں گا ۔۔۔ میری دونوں بیٹیاں میری پوری دنیا ہیں ۔۔۔۔

 

اور بیٹا؟ 

حور کا دل چاہا پوچھ لے مگر نہیں وہ اگر اسے بے خبر رکھنا چاہتے تھے تو وہ انہیں علم نہیں ہونے دے گی کہ وہ جان چکی ہے ۔۔۔۔ اور نا  ہی اپنے کو پھر سے روتے ہوے دیکھنا چاہتی تھی 

 

جیسے آپ کو ٹھیک لگے بابا جان پر ۔۔۔ میری پڑھائ ۔۔۔ وہ جزبر سی بولی 

سامنے بیٹھی پری مسکرای

 

وہ تم وہاں جا کر پوری کر لینا ویسے بھی اب تم پڑھائ میں مدد کے لیے بھی حیات بھائ کو نا آسانی کہہ پاؤ گی ۔۔۔۔

 

وہ اسے ہنسانے کے لیے بولی جس پر وہ شرم سے سرخ ہوی ۔۔۔۔

 

زکریہ شاہ نے پیار سے گلے لگایا

مجھے کیا کوڑے سے اٹھایا تھا ؟ پری نے ان کو پیار سے ملتے دیکھ منہ مچوڑ کر کہا 

جس پر انہوں نے اپنے باہیں واہ تووہ بھی جلدی سے ان سے جا لگی ۔۔۔۔۔

 

جویریہ شاہ کی آنکھیں ایک بار پھر سے بھر آئ اور دل بھاری ہونے لگا ۔۔ وہ جلدی سے کمرے سے نکل گئیں ۔۔۔۔۔

 

🍁🍁🍁

 

نکاح کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں ۔۔۔ دونوں حویلیوں میں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں ۔۔۔ مگر آج باقاعدہ فریال اپنے بیٹے کا رشتہ لینے آی تھی اس کا اکلوتا بیٹا تھا بھلا صرف سکندر کے کہنے پر تو وہ یہ بات جانے نہیں دے سکتی تھی 

 

حیات بے تحاشہ خوش تھا ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی ہری آنکھیں چمک سی گئ تھیں ۔۔۔ کچھ سوچتے اس نے کال ملائ ۔۔۔ 

دوسری بیل پر کال رسیو ہوی ۔۔۔۔۔

 

کیسے ہو سلطان ؟ اس نے سلام دعا کے بعد کہا جس پر اس نے سنجیدگی سے جواب دیا

 

ہاں آج بہت خوش ہوں ۔۔۔۔ وہ جیسے خوشی سے پاگل ہو رہا تھا بچپن کی محبت اسے محرم بن کر ملنے والی تھی اففف اسکا دل کیا ناچے جھومے گائے مگر نہیں اسے خوف پر کنٹرول کرنا تھا 

 

خیریت ؟ لہجہ بھی چہک رہا ہے ؟ اس نے اپنی گن کو صاف کرتے سوال کیا

 

ہاں میرا نکاح ہو رہا ہے ۔۔۔ 

اسکا جواب سن کر وہ تھما۔۔۔ 

کیا سچ میں مگر کس سے ؟

اسکے سوال پر جب اس نے حوریہ کا نام لیا تو وہ شل ہو گیا

 

میری حور بہت چھوٹی ہے ۔۔۔ اڈے فکر لاحق ہوی ۔۔۔

تجھے مس بھی کرتی ہے ۔۔ تیرے لیے روتی بھی ہے ۔۔۔۔

 

اس نے جیسے مزید انفارمیشن دی ۔۔۔

کیا ؟ کیا میں اسے یاد ہوں ؟ وہ چونکا تھا

 

چچا سائیں تمہیں یاد کرتے بہت روتے ہیں اس نے ان کو روتے ہوے سن لیا بہت روی تھی وہ۔ ۔۔ کیا تم اس سے ملنے اسکے ںکاح پر او گے ؟ 

 

حیات کے سوال پر وہ خاموش ہو گیا ۔۔  

یہ ناممکن ہے ۔۔۔ وہ کہہ کر کال کاٹ گیا 

 

حیات نے آسماں پر چمکتے چاند جو دیکھا 

 

حیات سکندر رشتوں میں بہت پورا تھا ایک اچھا دوست اچھا بھای اچھا بیٹا اور جگری یار تھا 

 

اس نے بہت کوشش کی مگر وہ اسے منا کر واپس لانے لیے ہار مان چکا تھا

 

کوی ایسا تمہاری زندگی میں آئے کہ تم اسکے آگے مجبور ہو جاؤ جھانگیر ۔۔۔۔ پلیزواپس آجاؤ تمہارے اپنوں کو تمہاری ضرورت ہے وہ چاند کو دیکھتے بولا 

 

🍁🍁

 

وہ آج معمول سے ہٹ کر سنجیدہ لگ رہا تھا ۔۔۔  رحیم نے گہرا سانس لیا 

 

آپ ٹھیک ہیں بوس ؟ 

اس نے سوال کیا ساتھ ہی پہلا کلمہ پڑھ لیا 

کیا پتہ یہ سوال ناگوار گزرے اور اسے وہ سیدھا اوپر پہنچا دے ۔۔۔۔ھممم

وہ بنا کچھ کہے بس ہمم کرتا آگے آگے۔ رہا تھا جب وہ اس کے پیچھے چلتا ہوا گاڑی تک آیا 

 

آج کہاں جا رہے ہیں ؟ 

رحیم نے سوال کیا 

یونیورسٹی ۔۔۔۔ وہ یک لفظی جواب دیتا گاڑی میں بیٹھا ڑراییور گاڑی وہاں سے بھگا لے گیا

 

🍁🍁

 

وہ حور کے ساتھ  کینٹین سے کچھ کھانے کے لیے آئ تھی مگر حور کو اچانک کسی کلاس فیلو نے نوٹس کے لیے بلایا تو وہ اسے آنے کا کہتی وہاں سے نکل گئ ۔۔۔ 

 

ماہی بھوک کی کافی کچی تھی اس نےاس اپنی معصوم آنکھوں کو پٹپٹاتے آگے پیچھے دیکھا ۔۔۔ کینٹین اس وقت بہت سارے سٹوڈینٹس سے بھری ہوی تھی 

 

اب وہ اپنی ایک ٹیبل تلاش کرتی وہاں جا کر بیٹھی جب اچانک اسے اپنے سامنے کسی کے بیٹھنے کا شبہ ہوا ۔۔۔ 

سامنے فاہد تھا جو اسکا سینئر تھا ۔۔۔ 

ہائے کیسی کو ماہی ؟ 

وہ اس سے خوش اخلاقی سے بولا 

 

اس وقت میرا موڈ نہیں آپ سے بحث کرنے کا اس لیے آپ یہاں سے جائیں ۔۔۔ 

وہ جاتی ضرور وہ پھر اس سے دوستی کرنے کے لیے اسکے دماغ کی دہی کرنے آیا تھا ۔۔۔۔

 

دو آنکھیں ان کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ 

 

ارے یار مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آخر مسلہ کیا ہے ؟ دوستی ہی تو کرنی ہے ۔۔۔۔

وہ جیسے سمجھانے کے لیے بولتے کرسی سے ٹیک ہٹاتے آگے ہو کر بیٹھا ۔۔۔۔

 

آپ خود خوش کریں یہ گال یا وہ گال ؟ 

وہ کرسی سے اٹھتی بولی ۔۔۔ 

اسکی بات پر وہ ناسمجھی والے تاثرات لیے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

 

کس پر آپ کو تھپڑ رسید کروں شاید پچھلی دفع والے کا اثر ختم ہو گیا ہے !

وہ سخت لہجے میں بولی 

 

اوہہہ یو پارسہ تمہاری اتنی ہمت کہ تم مجھے دھمکی دے رہی ہو ۔۔۔ سمجھتی کیا ہو خود کو ہاں ۔۔۔ میں تم سے اپنی پچھلی بے عزتی کا بدلہ تو لوں گا ہی ساتھ تمہیں کسی کو منع دکھانے کے قابل نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔ 

وہ سب سٹوڈینٹس کو اپنی طرف دیکھتے پا کر کرسی سے اٹھتا چلایا تھا ۔۔۔

 

ماہی نے بے ساختہ ڈر کر قدم پیچھے لیے ۔۔۔

وہ معصوم سی لڑکی بہت مشکل سے اس کو ہر بار انکار کرتی جان چھڑواتی تھی مگر اب اسکی دھمکی نے جان ہی نکال دی تھی ۔۔۔۔

 

وہ بنا کچھ کہے وہاں سے نکلنے لگی جب اس فاہد نے آگے بڑھ کر اسکی کلامی پکڑی اور اسکو کھینچ کر اپنے پاس کیا ۔۔۔ 

وہ نازک سی لڑکی اسکے پاس آتی آنکھیں میچ گئ ۔۔۔۔

 

تم کیوں میرے پیچھے پڑے ہو ۔۔۔ وہ غصے سے ملے جلے تاثرات کے ساتھ بولی ۔۔۔۔

 

کیونکہ مجھے تم سے اپنی حسرت پوری کرنی ہے جو اس دن رہ گئ تھی

وہ کمینگی کی آخری حد تک جا پہنچا تھا ۔۔۔تبھی ایک گولی اس کے اس ہاتھ کے آر پار ہوی جس سے اس نے ماہی کا ہاتھ تھام رکھا تھا ۔۔۔

 

اچانک گولی کی آواز پر سب سٹوڈینٹس میں بھگدڑ سی مچ گئی ہر کوی پریشان ہوتا اپنی جان بچاتے بھاگا ۔۔۔۔

وہ کراہ کر ماہی کا ہاتھ چھوڑتا اپنا ہاتھ میں اٹھتا درد سے بلبلایا 

 

ماہی نے خود زدہ ہوتے اسکے بازو سے ابل ابل کر خون گرتے دیکھ کے آنکھیں پھاڑے اسے بلکتے دیکھا ۔۔۔۔

اچانک دو تین گولیاں مزید ہوا میں چلا کر دھشت ڈالی گئ ۔۔۔ 

سب بھاگ رہے تھے مگر وہ روی روی آنکھوں سے فاہد کو گرتے اور تڑپتے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

 

سلطان نے اسے شل ہوتے دیکھا تو گہرا سانس لیتے آگے بڑھا اور اس کے سٹیچو بنے وجود کو تھاما مگر اگلے ہی لمحے وہ اسکے بازو میں جھول گئ ۔۔۔ وہ بے ہوش ہو گئ تھی 

 

سلطان کے مضبوط کسرتی بازوں نے اسے تھام رکھا تھا وہ مکمل اس کے سہارے پر کھڑی تھی ۔۔

 

اہہہ کوی اتنا معصوم کیسے ہو سکتا ہے اہہ جھانگیر سلطان تم تو گئے کام سے ۔۔۔۔۔ وہ بڑبڑایا ۔۔۔۔ وہ اسکی معصوم سی صورت دیکھے پہلی دفع اپنا دل سے ی زور سے دھڑکتے محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔

 

تبھی وہاں دور سے چیختی ہوی حور کی آواز کانوں میں گونجی ۔۔۔ وہ پلٹ کر اسے روتے دیکھ رہا تھا اس نے چہرے پر کالے رنگ کا ماڈل چڑھائے ہوے تھا

 

وہ بے ساختہ اسے باہوں میں بھرتے حوریہ کی جانب بڑھا جب وہ بنا اس کو دیکھے بس اپنی ماہی کو بے ہوش دیکھ رونے لگ پڑی تھی 

 

ماہی ماہی کک کیا ہوا تمہیں ۔۔۔ ماہی اٹھو نا یار۔۔۔۔ وہ روتے ہوے اور گھبراتے ہوے بول رہی تھی 

وہ نہیں دیکھ رہی تھی کہ ماہی اس وقت کسی کی بازوؤں میں موجود ہے وہ بس ماہی جو دیکھ تڑپ رہی تھی ۔۔۔۔

ماہی کے بے جان وجود میں کوی حرکت نہیں ہوی تھی ۔۔۔ 

 

سلطان اپنی بہن کو یوں روتے دیکھ اپنے بازوؤں میں جھولتی اس معصوم لڑکی کو دیکھنے لگا۔ ۔۔ 

بھلا اس کی بہن اس لڑکی کے لیے کیوں رو رہی تھی ؟ کیا لگتی تھی وہ اسکی ؟

 

وہ حیرت سے کبھی ماہی کو تو کبھی حوریہ کو روتے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

جب حوریہ کے الفاظ اپنے کانوں میں گونجے ۔۔۔۔

تم کون ہو ؟

اہہہہ وہ اسے دیکھ کر تہ گیا کہ وہ کون تھا ؟

ہاں وہ کون تھا اس کے لیے ؟

کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔۔

وہ پھترائ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ 

میری بہن کو وہاں لٹادو ۔۔۔ اور اسے ہاتھ مت لگاؤ وہ میرے بھائ کی امانت ہے ۔۔۔۔۔

 

اہہہہ یہ ہوا تھا دھمکا اسکے سماعتوں پر ۔۔۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ماسک سے جھلکتی آنکھوں میں حیرت ہی حیرت تھی ۔۔۔۔

 

کیا اسکی بہن اسکے بارے میں جانتی تھی ؟ کیا اسکے گھر والے اسکا ذکر کرتے تھے ؟ کیا اسے بتایا گیا تھا کہ اسکا ایک بھائ بھی ہے ۔۔۔۔۔

مگر کیا بتایا ہوگا کہ وہ کہانی میں ان کی حویلی میں کہیں بھی کوی مقام نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔

 

حوریہ نے اسکو یوں شل ہوتے دیکھ اسکو جھنجھوڑا ۔۔۔۔ 

 

چھوڑو میری بہن  کو کہاں لے جا رہے ہو؟ اسے لگا وہ ماہی کو کہیں لے جائے گا اسلیے روتے ہوے بولی ۔۔۔۔

 

نن نہیں کک کہیں نہیں لے جا رہا تمہاری بہن کو ۔۔۔ وہ اٹکتے ہوے بولتے اسے وہاں بنے سک روم میں لے آیا ۔۔۔ 

اور اسے وہاں بیڈ پر ڈالتے وہ پلٹا ۔۔۔ 

پیچھے کھڑی حوریہ کو دیکھ اسکا دل چاہا اپنی بہن کو اپنے گلے سے لگائے ۔۔۔۔ اور اسکے آنسو صاف کرے مگر ہات رے قسمت ۔۔۔۔

 

وہ لب بھینچ کر باہر جانے لگا ۔۔۔ 

جب حوریہ بولی ۔۔۔ 

تھینک یو بھیا ۔۔۔۔ اہہہہ اسکا دل کیا اب خود پر لگے ہر پہرے کو توڑ دے ۔۔۔ اپنی بہن کو سنھبال لے مگر نہیں ۔۔۔

وہ بس اس کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتا کمرے سے باہر نکلنے لگا ۔۔۔ حوریہ کو اسکا لمس بہت اپنا اپنا سا لگا ۔۔۔۔

سلطان نے پلٹ کر بیڈ پر لیٹی ماہی کو دیکھا تو حوریہ کو جملہ زہن میں گونجا ۔۔۔۔۔

 

وہ میرے بھائ کی امانت ہے ۔۔۔۔۔

وہ سر جھٹکتا وہاں سے نکل گیا

 

🍁🍁🍁

 

سب گھر والے اس وقت سکندر حویلی مین اکھٹے تھے ۔۔۔ شاہ حویلی کے لوگ بھی یہاں آئے تھے ۔۔۔ سب پر پریشانی ہی پریشانی کا عالم تھا ماہی کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا ۔۔۔ دائم خود اسکا چیک اپ اپنی کولیگ سے کروا رہا تھا 

 

حوریہ نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔۔۔ گولیوں کی آوازیں اب بھی اسکی ٹانگیں سن کیے ہوے تھیں ۔۔۔ 

وہ دونوں ہی بہت نازک مزاج تھیں ان کی وجہ سے ہی وہ لوگ ہمیشہ تحمل سے ہی اپنے مسلے حل کرتے ۔۔۔۔۔

 

بس میری جان رونا بند کرو ۔۔ اس طرح تم اپنی حالت خراب کر لو گی ۔۔۔۔پریشے اسے گلے لگاتی بولی جو رو رو کر آنکھیں ناک سرخ کر چکی تھی ۔۔۔۔

سکندر نے پتہ کروایا کہ یونیورسٹی پر حملہ کس نے کروایا جب اسے پتہ چلا کہ یہ کام ڈیمن کا ہے ۔۔۔ جو شہر میں حملے اور دھشت پھیلانے والے ایک مافیا کا حصہ تھے ۔۔۔۔

 

پریشے نے کمرے سے باہر نکلتے دائم کو دیکھا ۔۔۔ 

اسکو کافی شاکڈ لگا ہے گولی اسکے سامنے کسی کو لگی ہے اسلیے وہ خوفزدہ ہے اور ہوش میں نہیں ا پا رہی مگر آپ سب پریشان مت ہو وہ ٹھیک ہو جاے گی کچھ وقت لگے گا ۔۔۔ وہ سنجیدگی بھرے لہجے میں سب کو تسلی دینے لگا 

مگر کہاں ملتی تھی تسلی کسی کو حویلی کی سات پشتوں بعد آنے والی اس ننھی کلی کو کانٹا بھی چبتا تو سب پریشان ہو جاتے تھے اور یہاں وہ بے ہوش تھی پورا دن گزرنے کو تھا 

 

حیات نے فون ملایا ۔۔۔ جو دوسری کال پر رسیو ہوا۔۔۔ تم یونیورسٹی کیا کرنے گئے تھے ؟

حملہ کرنے ۔۔۔۔ اس نے سہولت سے جواب دیا ۔۔۔۔

کس کے کہنے پر وہ سوالیہ ہوا لہجہ سخت سرد تھا جو مقابل سکون سے بیٹھے آنکھیں موندے سر صوفے کی پشت پر گرائے سموکنگ کرتے ڈیمن یعنی جھانگیر سلطان نے محسوس کیا تھا ۔۔۔۔

 

تما جانتے ہو تمہاری وجہ سے ماہی بے ہوش ہے اور ابھی تک اسکو خوف سے ہوش نہیں آرہا ؟

 

وہ آگ برساتے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔

میری وجہ سے نہیں تم سب کی وجہ سے کیوں اسے اتنا نازک پھول بنا کر رکھا ہے کہ زندگی کی سرد اور گرم ہوا سے محفوظ اور چھپا کر رکھا ہے کہ گولی کی آواز پر ہی وہ دنیا سے کوچ کرنے کو ہے ۔۔۔ وہ بھی بھرا پڑا تھا ۔۔۔

 

دائم اور صائم بھی جانتے ہیں کہ حملہ تم نے کیا تھا ۔۔۔  حیات اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے دانت پیس کر بولا 

 

ہاں جانتا ہوں کال کر رہا میرا سالہ مجھے ۔۔۔ وہ ہستے ہوے بولا 

 تجھے شرم نہیں آرہی اپنی حرکت پر ؟ تو جانتا ہے نہ وہ معصوم سی لڑکی نازک سی ہے کیوں اسکی موجودگی میں اسکے سامنے کسی پر گولی چلائی ۔۔۔

 

تو کیا کرتا ہاں ؟ اسکے ہاتھ چومتا جو میری ماہی کا ہاتھ پکڑ کر اسے ڑرا رہا تھا ؟

وہ بھی اب تیش کے عالم میں آتے بولا 

 

کیا ؟ کون تھا وہ ۔۔۔ اب کی بار لہجہ کسی کو بھسم کر دینے تک آگ برساتا تھا 

 

اسکو اسکے انجام تک یہ دیمن پہنچا دے گا ۔۔۔ خیال رکھو اس نازک پھول کا ۔۔۔ وہ کہہ کر کال کاٹ گیا ۔۔۔۔

 

اہہہہ جھانگیر پٹو گے میرے ہاتھوں ۔۔۔  حیات موبائل پر گرفت سخت کرتے بولا ۔۔۔ن 

 

کافی دیر مزید گزرنے کے بعد ماہی کو آہستہ آہستہ ہوش آنے لگا تھا ۔۔۔۔ پاس ہی بیٹھی فریال اور سائشہ نے تڑپ کر اسے اپنی مامتا میں سنھبالتے پھر سے خوفزدہ ہونے سے بچایا۔۔۔۔۔

 

اماں سائیں وہ  ۔۔۔۔ خخ خون ۔۔مم میرے سس سامنے ۔۔۔ وہ پھر سے خوفزدہ ہوتے بولی ۔۔۔

کونسا خون ؟ صائم اندر آتے بولا 

 

بے وقوف لڑکی وہ خون نہیں تھا ریڈ انک تھی ۔۔۔تمہیں پتہ نہیں چلا وہاں شوٹنگ ہو رہی تھی ۔۔۔۔

ان کی یونیورسٹی کافی نیم فیم تھی اسلیے اکثر ویاں شوٹنگ ہوتی تھی ۔۔۔

نہیں بھئیو وہ خون تھا فاہد تڑپ رہا تھا ۔۔۔ وہ اپنی ماں کے سینے سے چہرے نکالتی بولی ۔۔۔۔۔خوف سے اسکی آواز بھی دھیمی ہو گئ تھی ۔۔۔۔

انہ۔۔۔۔ وہ تو میں رول پلے کر رہا تھا اس شوٹ میں ۔۔۔ 

تم ٹھیک ہو جاؤ میں اسے تمہارے سامنے لاؤں گا وہ تمہیں بتا دے گا کہ میں سچ کہہ رہا تھا ۔۔۔ 

سائشہ نے اٹھتے صائم کے لیے جگہ بنائی وہ بھی اس کے پاس جاتے ماہی کو سینے سے لگاتے اسکی بکھرے حالت پر لب بھینچ گیا ۔۔ اسکے بالوں کو انگلی سے پیچھے کرتے اسے یقین دلاتے انداز میں بولا 

 

بھئیو وہ خون تھا ۔۔۔ وہ ماننے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔

بس بھئیو کی جان ایسے خوفزدہ مت ہو ہم کوی دھشت گرد تھوڑی ہیں ۔۔۔۔کہ کوی حملے ہوں گے بس چپ کر جاؤ مجھے تم روتے ہوے نظر آئ تو میں بھی رو دوں گا ۔۔۔۔

 

وہ جتنا اسے تنگ کرتا تھا اتنا ہی وہ اس سے پیار کرتا تھا آخر کو اسکی چھوٹی پدی سی بہنا تھی جو سب کے سامنے بھیگی بلی اور اسکے سامنے لیڈی کلر بن جاتی تھی 

نن نہیں رو رہی آپ میرے پاس رہنا ۔۔ وہ کہتے اس کے سینے میں منہ دے آنکھیں موندے گئ ۔۔۔ بھائ کی پناہ میں سکون ہی سکون تھا ۔۔۔۔

 

وہ اسکی بالوں میں انگلیاں چلاتے اسے سلانے لگا تاکہ وہ پرسکون ہو جائے ۔۔۔۔

سب گھر والے دم سادھے انہیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

 

ماہی کو سلا کر وہ اب پرسکون سے باہر نکلے ۔۔۔رات ہو چکی تھی کھانے کی ٹیبل تیار تھی سب کھانے کی جانب بڑھے ۔۔  

حوریہ اب بھی خاموش سی بیٹھی ہوی تھی ۔۔۔ حیات نے اسے دیکھ اسکی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔ 

کیا ہوا حور ؟ وہ اسکے پاس صوفے کے پاس نیچے دو زانوں ہو کر بیٹھتے گھٹنے زمین پر لگائے اور اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھںے لگا

 

اگر ماہی کو کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔ وہ روی روی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتی بولی ۔۔۔

ہوا تو کچھ نہیں نا ۔۔۔۔ پھر کیوں رو رو کر اپنی حالت بگاڑ رہی ہو ۔۔۔ میری ہونے والی منکوحہ اگر اپنے نکاح پر بری دکھی تو یہ میرے ساتھ زیاتی ہو گی ۔۔۔۔۔

وہ اسکو دیکھتے بولا جب اسکی بات پر وہ بلش کر اٹھی۔ ۔۔۔

چہرہ مزید سرخیاں بھیکرتے وہ جزبر سی ادھر ادھر دیکھنے لگی 

 

جب کچھ یاد آنے پر وہ اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ 

سائیں ۔۔۔ وہ سمجھ نہیں سکی کہ کیسے مخاطب کرے تو سائیں کہہ کر پکارا 

 

حیات کے روم روم سماعت بن گئے ۔۔ 

حکم جان ِ سائیں ۔۔۔۔

 

کیا بھائ کو آپ کے آئیں گے نا ہمارے نکاح پر ۔۔۔۔ 

وہ التجا اور سوال ایک ساتھ کر رہی تھی ۔۔۔۔

 

حیات کچھ سوچ کر مسکرایا

 

حیات سکندر کی پوتی حیاتی میں تم صرف حکم کیا کرو جانِ سائیں ن۔۔ باقی کام میرا ۔۔۔

 

مطلب بھائ آئیں گے ؟ وہ بہک کر بولی ۔۔۔

ہاں سائیں کی جان ۔۔۔۔ وہ مسکرا بولا 

 

چلو اٹھو کھانا کھاؤ ۔۔۔ ورنہ مجھے اتنی کمزور ہڈیوں کا ڈھانچہ نہیں چاہیے وہ اسے تنگ کرتے بولا

 

جب اس نے اسکی ہری آنکھوں میں شرارت دیکھتے اسے گھورا

 

تو میں کسی اور سے ۔۔۔۔

جانِ سائیں میں اس عمل سے پہلے تمہاری جان نکال دوں گا ۔۔  

اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ اسے جواباً ٹوک گیا ۔۔۔ 

 

اٹھو کھانا کھاؤ ۔۔۔ ساری نرمی گئ بھاڑ میں ۔۔۔۔وہ آخر میں بڑبڑایا ۔۔۔۔

 

اہہہ آپ ہمیشہ مجھ پر غصہ کرتے ہیں مجھے اپنی آنکھوں سے خوفزدہ کرتے ہیں مجھے نہیں کرنی آپ سے شادی ۔۔۔ وہ بھی جلدی سے کہتے وہاں سے اٹھتی منظر سے غائب ہوی ۔۔۔۔

 

ہاں اور ایک میں ہوں جسے تم نے پھرکی کی طرح اپنے پیچھے لگایا ہوا ہے ۔۔۔ وہ اس کی پشت دیکھ بڑبڑایا 

 

🍁🍁🍁

Next Episode 

“اسے صرف ماہی واپس لا سکتی ہے”

تو اسکا کیا مطلب ہوا ؟

 

تم سب نے سمجھا کہ تم سب مجھے بیوقوف بنا سکتے ہو ؟

تم دائم جب بھی جھانگیر کو تکلیف پہنچتی تم اسکی ہیلتھ ایشو کو سنبھالتے تھے اور 

تم ایڈوکیٹ صائم تم  اس پر عدالت میں بننے والے ہر کیس کو اتنی صفائ سے ختم کرتے آئے ہو کہ وہ پولیس ریکارڈ بھی ختم کروا دیا

 

اور حیات سکندر تم اپنے باپ کو بیوقوف سمجھتے ہو ؟ تمہیں لگا تم اپنے باپ سے یہ بات چھپا سکتے ہو کہ تم سب بھائ جھانگیر سلطان سے ملتے بھی ہو اور اس کے بیسٹ فرینڈز بھی ہو ۔۔۔۔

 

تو تم لوگ میرے بیٹے کو کیوں نہیں لائے ؟

جویریہ شاہ کی روی ہوی آواز

 

وہ یہاں آنے کو تیار نہیں ہے ۔۔۔۔

وہ نہیں چاہتا واپس آئے ۔۔۔۔مگر ماہی اس کی امانت ہے ۔۔۔ اگر اسکی شادی کی خبر سنے گا تو ضرور آئے گا ۔۔۔۔

اہہہ یہ دھماکا اسے ہلا کر رکھ دے گا 




error: Content is protected !!