Ishq Geeriyan
عشق گیریاں
ناول۔۔۔۔۔۔عشق گیریاں
ازقلم۔۔۔۔۔۔ آنسہ چوہان ❤️
Season 2
Season 16 to 20
*کبھی اللہ کی کمی محسوس کی؟*
جیسے والدین کی کمی محسوس کرتے ہو🫠
کبھی اللہ کو کھو دینے کا خوف محسوس کیا؟ جیسے کبھی والدین کے بغیر جینے کا سوچو تو روح کانپ جاتی ہے🥺🫀
اللہ کو اللہ سے کبھی مانگتے ہو دعا میں کبھی اللہ کے بغیر اداس ہو کر آنسو آیا؟؟؟
نہیں ناں !
اللہ سے ہر چیز مانگتے ہو لیکن کبھی اللہ سے اللہ کو نہیں مانگا کیونکہ تم اپنے لیے صرف دنیا کی منتیں ہی کافی سمجھتے ہو تم نے کبھی محسوس ہی نہیں کیا کہ مجھے کیا چاہئے
*لیکن یقین مانو تمہیں اللہ چاہئیے ہاں ہاں تمہیں اللہ چاہئیے*🥺🤍🦋✨
سائشہ جائے نماز تہہ کرکے رکھتی بیڈ پر بیٹھے شہریار کے پاس آی اور اس کے خوبصورت چہرے پر پھونک ماری تو وہ مسکرایا
پہلے ہی سب کہتے ہیں کہ آپ نے مجھ پر جادو کر دیا ہےاب یہ سب سچ کرنے کا ارادہ ہے ؟
وہ اسکا ہاتھ تھام کر بیڈ پر خود کے پاس بٹھاتا بولا تو سائشہ مسکرای
میری مرضی میں اپنے شوہر پر جادو کروں یا نا کروں آپ کون ہوتے ہیں کچھ کہنے والے ؟
وہ اسکے کرتے کے بٹن کے ساتھ کھیلتی بولی تو شہریار مسکرایا
میں تو آپ کا غلام ۔۔۔۔ وہ مسکرا کر اسےسینے سے لگا گیا
جب اچانک کسی کی چیخوں کی آوازیں سن کر وہ جلدی سے سیدھا ہوا ۔۔۔
یہ یہ کون ہے ؟ سائشہ ڑرتے ہوے بولی جب کہ چیخوں کے ساتھ بچاؤ کی آواز سن کر شہریار سمجھ گیا کہ کون ہو گا
🍁🍁🍁
وہ بھاگتا ہوا نیچے آیا جہاں سکندر بری طرح کسی کو مار رہا تھا ۔۔۔
سکندر چھوڑو اسے کیوں مار رہے ہو ؟
شہریار نے آگے بڑھتے اس بلیک کلر کی شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ پہنے بلیک ہڈی پہنے بلیک ماڈل لگائے وجود کو خود کی طرف کھینچا ۔۔۔
جو کب سے چیخ رہا تھا ۔۔۔
سکندر نے آی برو آچکا کر شہریار کو دیکھا ۔۔
سعد یہ کیا حرکت ہے ؟
شہریار نے سکندر سے نظریں ہٹا کر سعد کو دیکھا جو بلکل خود کو چھپائے کھڑا تھا
یار تم سے ملنے آیا تھا ۔۔۔ سعد نے منہ سے ماسک اتارتے کہا ۔۔۔
جب کہ سکندر بھی چونک گیا ۔۔
فریال اور سائشہ بھی اچکی تھیں تو وہ منظر دیکھ کر حیران ہوئیں ۔۔۔
تو اسکو چوروں کی طرح آنے کی کیا ضرورت تھی ؟ سکندر اسوقت صوفے پر بیٹھا سعد کو گھورتے ہوے بولا جو اب شہریار سے چپکا بیٹھا تھا ۔۔۔۔ جب کہ سائشہ چائے کی ٹرے رکھتی فاطمہ کی جانب بڑھی
میں تو بس آپ سے خوفزدہ تھا کہ پتہ نہیں ملنے دیں گے یا نہیں بس اسی لیے پچھلے دروازے سے کودا اور اوپر جاتے پائپ کے ساتھ لٹک گیا مگر آپ نے دور سے میری کمر پر جو ڈنڈہ مارا ہے وہ بہت برا تھا ۔۔۔ سعد درد محسوس کرتے بولا
فاطمہ مسکرای ۔۔۔
دراصل میں نے تو ان کو سیدھے راستے سے جانے کا کہا تھا مگر ان کو سکندر بھائ کے غصے سےڑر لگ رہا تھا اس لیے انہوں نے یہ راستہ چنا مگر جب انہوں نےسعد کو پکڑا تو میں نے جلدی سے ماسک اتارا اوران کے سامنے کھڑی ہو گی ۔۔۔۔
فاطمہ کی بات پر سعد نےسکندر کو دیکھا جو اب مسکراہٹ چھپانے کے لیے لبوں کو بری طرح دانتوں میں دبانے لگا
یعنی آپ جان گئے تھے کہ کوی چور نہیں بلکہ سعد ہوں پھر بھی آپ نے میری دھلائی کی ۔۔۔۔
سعد نے شکوہ بھری نگاہ سے سکندر کے خوبصورت وجیہہ نقوش کو دیکھتے کہا
سکندر نے شہریار کو دیکھا جو اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔
وہ ہمارے مہمان ہیں اس طرح کون مہمانوں کا استقبال کرتا ہے ؟
شہریار نے سر نفی میں ہلاتے کہا
مہمان ہوتا تو بندے کے بچوں کی طرح سیدھا راستہ لیتا نا ہوں بندروں کی طرح لٹکنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔
سکندر نے سخت لہجے میں کہا اور اٹھ کر بنا دوسری نگاہ کسی پر ڈالے وہ کمرے میں چلا گیا ۔۔۔
جب کہ سکندر کے غصے پر شہریار مسکرایا ۔۔۔ وہ جانتا تھا وہ اس سےخفا تھا ۔۔۔ اسکی ہاسپٹل میں ہونے کی خبر سےکس قدر اسے دھچکا لگا تھا اب وہ اس پر غصہ کرکے ساری فرسٹریشن نکال رہا تھا
اچھا یار تم بتاؤ تمہیں حویلی کا راستہ کیسے پتہ چلا ۔۔۔؟ شہریار نے ماحول میں خنگی کم کرتے کہا ۔۔۔۔
بھابھی آپ اس چنگیز خان کے ساتھ کیسے رہتی ہیں ؟
سعد نے فریال کو سکندر کے غصے بھرے چہرے کو یاد کرتے جھرجھری لیتے کہا
وہ چنگیز خان باقی سب کے لیے ہے ورنہ میرے سائیں تو پرفیکٹ ہیں وہ بولی اور مسکرای تو سب مسکرانے لگے ۔۔۔
🍁🍁
سائیں ۔۔۔ سائیں ۔۔۔
وہ کب سے اسے بلا رہی تھی جو کروٹ دوسری جانب کیے مسلسل اسے اگنور کر رہا تھا ۔۔۔
سائیں ۔۔۔ فریال اٹھ کر بیٹھی اور آخری بار اسے پکارا ۔۔۔ مگر ندار اب وہ گہرا سانس لیتی اسے بازو سے پکڑتے سیدھا لٹا کر اس کے اوپر آئ ۔۔
اور اس چہرے کو ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔۔
بات کیوں نہیں کر رہے مجھ سے ؟ وہ سوالیہ ہوی تو سکندر نے اسکو خود پر جھکے دیکھ اسکی کمر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
تم نے میرے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا ۔۔ وہ اسے گاڑی والی بات یاد کرواتا بولا
صدقے جاؤں میں آپ کی یاد داشت پر ۔۔۔ یہ یاد ہے کہ میں نے چھڑایا تھا اور یہ یاد نہیں ہے کہ میں پریشان تھی ۔۔۔
کیڈنیپ ہوی تھی میں ۔۔۔ وہ لفظ کیڈنیپ پر زور دیتے بولی
میری جنگلی بلی میں تمہیں اچھے سے جانتا ہوں کہ ڑرنے والوں میں سے تم نہیں ہو ۔۔۔ اور پھر تمہارے ہاتھ میں واز اٹھائے جب تم اس پر حملہ بھی کر چکی تھی تو منظر میری نظروں میں تھا ۔۔۔ اس لیے ڑرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
وہ اسے اسکی حرکت یاد کرواتے بولا تو فریال زبان دانتوں تلے دبای ۔۔۔
وہ تو اچانک کا ردعمل تھا ورنہ میں تو اپنے سائیں کی چھوی موئ سی گڑیا ہوں ۔۔۔ جسے میرا سائیں ہمیشہ سینے سے لگا کر رکھتا ہے ۔۔ وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے بولی
تمہارے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے مجھے ۔۔۔ سکندر مصنوعی تاثرات کے ساتھ بولا تو فریال کھلکھلائ
بلکل آج میرا دل چا رہا ہے آپ کو اپنا بنا لوں ۔۔ وہ مسکرا کر بولی گال خدو با خود تپنے لگے
جب کہ سکندر نے آی برو اچکای
پھر اچانک دونوں کا قہقہہ گونجا ۔۔۔
وہ ٹھیک کہہ رہی تھی وہ چنگیز خان بس دوسروں کے لیے ہی تھا ۔۔۔۔
🍁🍁🍁
سکندر کو رات گئے پیاس محسوس ہوی اس نے اٹھ کر بیٹھتے ساتھ سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کو ان کیا
ایک نظر دوسرے تکیے پر اپنی شرارتی بیوی کو دیکھا جو اس وقت سوی ہوی اتنی معصوم لگ رہی تھی چہرے پر چند آوارہ لٹیں گشت کر رہی تھیں
لمبی پلکوں کی باڑ جھک کر سجدہ ریز تھی گلابی پتلے پتلے لب اس وقت نرمی سے بند تھے ۔۔۔ جب وہ لب کھلتے تھے تو اس کے جوہر دیکھ کر سکںدر کے چاروں طبق روشن ہو جاتے تھے ۔۔۔۔
وہ اس کے بے خبر سوئے وجود کو دیکھتے ہلکا سا مسکرایا ۔۔۔ پتہ نہیں کیا تھا اس لڑکی کی سنگت میں جب سے وہ لڑکی اس کی زندگی میں آی تھی وہ سنجیدہ رہنے والا شخص بے وجہ مسکرانے لگا تھا
وہ جب بھی اس کا چہرہ دیکھتا تھا تو ہر شکایت ہجرت کر جاتی تھی ہر تکلیف پر مرہم لگانے لگتا تھا
وہ اس کے اوپر کمفرٹر ٹھیک سے کرواتے جھکتے ہوے اس کے ماتھے پر لب رکھتا پیچھے ہوا جو کمفرٹر خود پر محسوس کرتی جلدی سے منہ کمفرٹر میں چھپا گئ تھی
وہ مسکرایا پھر پلٹ کر خالی جگ کو دیکھا ۔۔۔ وہ کمفرٹر خود سے ہٹاتا پاؤں زمین پر رکھتا زمین کی ٹھنڈک محسوس کرکے اس نے پشاوری چپل اپنے پیروں میں اڑیسی ۔۔۔
اٹھ کر کھڑے ہوتے اس نے جگ اٹھایا اور کمرے سے باہر کی جانب قدم لیے
وہ نیچے کیچن میں جا کر پانی لینے کی خاطر سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا
ساری حویلی میں روشنیاں رات کے وقت بجھا دی جاتی تھیں مگر باہر کا منظر الگ ہوتا تھا وہ منظر یہ ہوتا کہ حویلی کے باہر اتنی روشنی ہوتی تھی کہ جیسے وہ صبح کا وقت ہو ۔۔۔۔
حویلی کے اندر کی جانب کوی بھی لائیٹ نہیں جلائی گئ تھی باہر سے آنے والی روشنی ہی کافی تھی ۔۔۔
ملگیجہ سا اندھیرا تھا ۔۔۔ وہ نیچے آیا اس نے قدم کیچن کی جانب بڑھائے ۔۔۔
کیچن میں آیا تو وہاں پہلے سے کسی کی موجودگی پر وہ چونکا
اس نے کیچن کے اندر قدم رکھے تو سامنے ہی شہریار برتنوں کی کھٹ پٹ کر رہا تھا ۔۔۔
سکندر نے اس کو دیکھ کر ان دیکھا کرتے قدم فریج کی جانب بڑھائے ۔۔۔۔
پانی کی بوتل نکال کر اس نے وہاں پر برتنوں کی جانب قدم بڑھائے اور گلاس لیا پھر کیچن کے بیچ و بیچ جو ٹیبل چیئر لگے تھے وہاں پر بیٹھ کر اس نے پانی گلاس میں ڈالا اور پانی پینے لگا
اس سب کے دوران وہ خود کو شہریار کی موجودگی سے لاتعلق محسوس کروا رہا تھا
شہریار نے اس کی جانب دیکھا جس نے اپنا دیدار تک نہیں کروایا تھا ۔۔۔ اسے ہاسپٹل میں چھوڑنے کے بعد وہ اس کے سامنے نہیں آیا تھا ۔۔۔ آیا تو وہ ہاسپٹل میں بھی اس کے سامنے نہیں تھا مگر اس کی موجودگی کا احساس تو شہریار کو تھا
مگر اب وہ جب سے حویلی آیا تھا سکندر نے جیسے اسے خود سے دور ہی رکھا تھا
دو دن سے وہ حویلی میں بستر پر تھا کیونکہ گولی لگنے کی وجہ سے بی جان اور سائشہ چوبیس گھنٹے اس کی نگرانی کرتی تھیں ۔۔۔
شہریار کی نظریں خود پر محسوس کرتے ہوے بھی اس نے اسکی جانب دیکھا تک نہیں ۔۔۔
شہریار جانتا تھا کہ وہ اسے جان بوجھ کر اگنور کر رہا ہے ۔۔۔۔
سکندر مجھے بھوک لگ رہی ہے پلیز مجھے کچھ بنا دو ۔۔۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد سکندر کو جانے کے لیے اٹھتے دیکھ کر بولا تھا
جا کر اسے کہو کہ وہ تمہارے لیے رات گئے کھانے بنائے جس کے لیے تم اس دن تڑپ اٹھے تھے ۔۔۔۔
وہ سکندر نے بنا اس دیکھے مگر سخت ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا
جس پر شہریار کو فورا سعد یاد جب وہ حویلی میں چھپ کر شہریار کی خیریت پوچھنے آیا تھا مگر خور راستے سے ۔۔۔۔
یار تم اسے بری طرح مار رہے تھے جبکہ وہ مجرم بھی نہیں تھا ۔۔ شہریار چھری شیلف پر رکھتے اس کی جانب بڑھا
ہاں ایسا ہی ہوں میں مجھے فرق نہیں پڑتا کسی سے ۔۔۔۔ سکندر نے اس کی جانب لال آنکھوں سے دیکھا
شہریار اس کے غصے کی پروا کیے بنا اس کے گلے سے لگ گیا ۔۔۔
معاف کر دے یار ۔۔۔ میں جانتا ہوں تم مجھ سے اس دن سے خفا ہو جب تم نے مجھے واپس حویلی بلوایا تھا مگر میں کیا کرتا میری مجبوری وہ معصوم لڑکیاں تھیں جن کی حفاظت کرنی تھی مجھے ۔۔۔
شہریار اس کے گلے لگے بولا جب کہ سکندر بنا کوی حرکت کیے پتھر بنے کھڑا تھا
میں یہ بھی جانتا ہوں مجھے گولی لگی ہے یہ خبر سن کر تمہیں کتنی تکلیف ہوی ہو گی مگر میں اپنی جان سے بڑھ کر ان معصوم بچیوں کی عزت بچانا چاہتا تھا
وہ ایک دفع پھر بولا مگر سکندر نے جواب میں کچھ بھی نا کہا ۔۔۔
شہریار ہنوز اس کے گلے لگے بول رہا تھا
مجھے ہاسپٹل میں چھوڑ کر آگئے تم مجھ سے ملے تک نہیں ۔۔۔
اب کی بار شہریار کی طرف سے شکوہ کیا گیا تھا جب کہ سکندر کی آنکھیں اب مزید سرخ ہو رہی تھیں ۔۔۔
مجھے حویلی آئے ہوے دو دن ہو گیے مگر تم نے پلٹ کر میری خبر تک نہیں لی ۔۔۔۔
وہ پھر سے شکورہ کرتے بولا اور اب کی بار وہ اس سے الگ ہوا ۔۔۔۔
جب کہ سکندر پتھر بنا کھڑا تھا کوی حرکت نہیں کی ۔۔۔۔
سکندر میں تم سے بات کر رہا ہوں تم جانتے ہو نا مجھے تمہاری کتنی ضرورت تھی مگر تم مجھ سے ناراض ہو کر مجھے چھوڑ کر آگئے ۔۔۔۔
شہریار اب کی بار بولا تو اس نو جوان شخص کی آواز میں خود با خود نمی گھل گئ ۔۔۔۔
جب کہ سکندر اب بھی خاموش کھڑا تھا آنکھوں ایسے لال تھیں جیسے لاوہ ابھی پھٹ جائے گا
سکندر تم جانتے ہو نا مجھے تمہاری ضرورت ہے ۔۔۔ وہ اب کی بار پھر دکھ سے بولا
جب کہ سکندر نے آنکھیں میچ لیں ۔۔۔
سکندر ۔۔۔ شہریار نے اس کو کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا تو اس نے اپنی لال آگ اگلتی آنکھوں کو کھول کر شہریار کو دیکھا ۔۔۔
شہریار نے بے یقین نگاہوں سے اسے دیکھا
سکندر کی ہری کانچ سی آنکھوں میں اس وقت لال لکیریں اتنی وحشت ناک لگ رہی تھی جب کہ سختی سے بھینچے ہوے لب اس وقت مزید سختی سے بھینچے ہوے تھے
تم کچھ بول کیوں نہیں رہے ۔۔۔ شہریار نے اس کو دیکھتے کہا
کیا سننا چاہتے تم ؟ اب کی بار اس نے اپنی خاموشی توڑی اور بولا
یہی کہ یہ جانتے ہوے کہ مجھے تمہاری ضرورت ہے مجھے کیوں اکیلے چھوڑ دیا ۔۔۔ تمہیں لگتا ہے کہ میں دواؤں سے ٹھیک ہونے والا ہوں ۔۔۔ مجھے جب بھی کبھی بخار بھی ہوتا تھا نا تو تم ہوتے تھے میرے ساتھ اوربخار جھٹ سے دور ہو جاتا تھا کیونکہ مجھے تم ٹھیک کر سکتے ہو میری دوا تم ہو ۔۔۔
وہ بولا تو وہ اس وقت نرم مزاج انسان اپنی آنکھوں کو بھیگنے سے روک نہیں پایا تھا
اور میرا کیا ہاں ؟ میں پتھر کا بنا ہوں ؟ مجھ میں جذبات نہیں ہیں ؟ مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے ؟ مجھے تکلیف نہیں ہوتی ؟ مجھے کسی کا ساتھ نہیں چاہیے ہوتا ؟
تم لوگ میرا کیوں نہیں سوچتے ؟
اب کی بار سکندر بولا نہیں در سے اس کے ہر جملے نے شہریار کو خاموش کروا دیا ۔۔۔۔
اس کے ہر جملے کی ادائیگی پر جس قدر تکلیف وہ محسوس کر رہا تھا سامنے کھڑا شخص تو اپنے چاہنے والوں کے دل کے حال سمجھ جاتا تھا یہ تو پھر اسکا بھای تھا بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ یہ نا سمجھ نا پاتا کہ اس کی پر بات کے پیچھے اس نے تکلیف محسوس کی ہے ۔۔۔۔
شہریار نے اس کو دیکھا جس کی لال آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ کرکے بہتے اس کے گال بھگو رہے تھے ۔۔۔۔
سکندر یار ۔۔۔ وہ کچھ کہنا جب سکندر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کروایا ۔۔۔
تم نے کہا کہ تمہاری مجبوری تھی مگر اس دن سکندر سلمان شاہ کا مان ٹوٹا تھا ۔۔۔ اس دن میرا دل ٹوٹا تھا کہ میرا بھای میری بات کو ایسے رد کر چکا ہے ۔۔۔۔
تمہیں گولی لگی ہے یہ خبر سن کر سکندر سلمان کتنی بار بے موت مرا تھا تمہیں انداز بھی ہے ؟
سکندر سلمان جو ہمیشہ سخت فیصلے لیتا تھا بنا ماتھے پر شکن ڈالے وہ مرتے مرتے ہاسپٹل پہنچا تھا ۔۔۔۔
تم نے کہا تمہیں میری ضرورت تھی تم نے سوچا کہ میں کتنی تکلیف میں ہوں ؟
شایان میری زندگی کی مسکراہٹ کی وجہ میری خوشی میرا چھوٹا سا بیٹا جسے بھای کم بیٹا زیادہ سمجھا وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا
اسے اپنے بھائ سے یہ گلہ تھا کہ میں اسے اس کی من پسند عورت نہیں دلا سکا
اس کے لیے وہ لڑکی زیادہ اہم تھی میری سالوں کی محبت اس کی نظر میں کچھ نہیں تھی ۔۔۔وہ یہ جانتا تھا کہ میں تم دونوں سے کس حد تک پیار کرتا ہوں اس کے باوجود وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔
تم جانتے ہو نا جب وہ امریکہ پڑھنے کے لیے گیا تھا میں نے کتنی مشکل سے خود کو سنبھالا تھا
وہ کمینہ مجھے اتنی آسانی سے چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔۔اسے ایک بار بھی خیال نہیں آیا کہ اس کا بھای اس کا بڈی اس کے بغیر کیسے رہے گا ۔۔۔۔۔
اور ظلم کی انتہا دیکھو اس نے پلٹ کر میرا حال تک نہیں پوچھا یہ تک نہیں پوچھا کہ میں زندہ بھی ہوں یا مر گیا ۔۔۔۔
اور تم کہتے ہو کہ میں نے تمہیں وقت نہیں دیا ۔۔۔۔
تم مجھے اس قابل نہیں سمجھتے تھے کہ تم مجھ سے یہ بات شیئر کرتے ۔۔۔۔ تمہیں لگتا تھا میں اتنا نا مرد ہوں کہ تمہیں اپنے ملک اور اس قوم کی لڑکیوں کی حفاظت کرنے پر روکوں گا ؟
تم نے ایک دفع بھی مجھ اپنے راز تک کو عیاں نہیں کیا اور میں ایک ایسی کھلی کتاب بن چکا تھا کہ جو آتا مجھے پڑھتا اور چلا جاتا ۔۔۔
میں نے ماں باپ کی محبت کھوی تھی ان کی جدائ برداشت کی تھی اپنا جگری یار ہمیشہ کے لیے دشمن بنتا دیکھا
اپنی زندگی میں بس تم دونوں اور بی جان ہی تو تھے پھر تم دونوں نے بھی آہستہ سے ہاتھ چھڑا لیا ۔۔۔
کیا سردار سکندر سلمان شاہ اتنا برا بھائ تھا ؟
وہ بولا تو شہریار کو لگا کہ زبان تالو سے چپک گئ ہے الفاظ دم توڑ گئے ہیں سامنے کھڑا شخص ٹھیک کہہ رہا تھا وہ بھی انسان تھا اسے بھی محبت چاہیے تھی وقت چاہیے تھا ۔۔۔
سکندر کے بولنے کے دوران کئیں آنسو بہتے اس کے گال بھگو گئے اور اسکی داڑھی میں چھپ گئے ۔۔۔۔
شہریار نے بنا کچھ کہے اسے اپنے گلے لگایا اس بار سکندر نے بھی اس کو زور سے بھینچ لیا
اسے اس وقت اپنے بھائ کی ضرورت تھی وہ باہر سے سخت کھٹور دکھنے والا شخص اپنے بھائیوں کی زرا سی جدائ پر کیسے بھر آیا تھا
کیچن کے دروازے کے پاس کھڑی فریال نے اپنے آنسوؤں سے بھیگے چہرے کو صاف کیا
آج وہ ایک نئے سکندر سے ملی تھی جو کرنا نازک تھا کتنا نرم دل تھا محبت کرنے والا چاہنے والا روٹھںے والا اور منانے والا
وہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ لبوں سے مسکرائ ۔۔۔۔
اس کی زندگی میں آنے والا شخص ہر رنگ آہستہ آہستہ اس پر عیاں کرتا جا رہا تھا اور خود سے محبت کرنے پر مجبور کر رہا تھا
🍁🍁🍁
مقدس شادی سپیشل !
آج مقدس کی شادی تھی یعنی آج اس کی مائیوں تھی ۔۔۔ سکینہ بی نے حویلی جا کر فریال کو منالیا تھا اور اس سے اپنی لاپرواہی پر معافی مانگ کر شادی کے لیے منا لیا تھا
برہان ملک سے باہر تھا اسلیے شہریار اور سکندر ہی سکینہ بی کے بیٹوں کی طرح ہر کام کو کر رہے تھے کھانے سے لے کر مہمانوں کی خدمت تک میں وہ دونوں پیش پیش تھے ۔۔۔۔
آج وہ اس گاؤں کا سردار نہیں بلکہ سکینہ بی کا داماد بن کر کام کر رہا تھا جب کہ شہریار کے لیے سکینہ بی فریال کی طرف سے بھی عزیز تھیں مگر سائشہ کی وجہ سے بھی وہ ان کی بہت عزت کرتا تھا
اسوقت وہ لوگ ان کے گھر میں لائیٹوں کو پورے گھر پر لگوا رہے تھے ۔۔۔۔
انہوں نے سکینہ بی سے حویلی میں شادی کرنے کا بہت کہا تھا مگر وہ نہیں مانی تھیں ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنی بیٹی کو اپنے گھر سے رخصت کریں سو وہ وہی کر رہی تھیں
فریال ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی لگوا کر اب اسے سخاںے کے چکر میں ادھر ادھر گھوم رہی تھی جب کہ سائشہ ابھی مہندی والی سے مہندی لگوا رہی تھیں ۔۔۔۔اس نے لاکھ انکار کیا مگر شہریار کی خواہش پر وہ مہندی لگوا رہی تھی
شہریار کھانے کے انتظامات کو دیکھ رہا تھا
بی جان ابھی حویلی ہی تھیں مگر کچھ دیر میں آنے ہی والی تھیں ۔۔۔
خدا بخش صاحب بھی اپنی بھانجی کی شادی میں شرکت کرنے آئے تھے سکندر اور شہریار نے انہیں کسی کام میں ہاتھ ڈالنے سے روک لیا تھا
چلو بچوں اب تم لوگ باقی کام بعد میں کرنا پہلے کھانا کھا لو ورنہ کام کی تھکاوٹ اور بڑھ جائے گی
سکینہ بی نے صحن میں آتے کہا ۔۔۔ پھپھو آپ لوگ کھانا کھائیں بس تھوڑا سا کام رہ گیا ہے ہم پھر کھا لیں گے ۔۔۔۔
سکندر نے محبت سے جواب دیا ۔۔۔۔
سکندر نے سکینہ بی کو اب فریال کی نسبت سے پھپھو کہنہ شروع کر دیا تھا کیونکہ اس کے لیے امیر غریب کا کوی موازنہ نہیں تھا وہ اسکی بیوی کی پھپھو تھیں تو وہ اس کے لیے قابلِ احترام تھیں
بلکل نہیں بیٹا کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا چلو پہلت کھانا کھا کو کام تو ہوتا رہے گا ۔۔۔۔ چلو شاباش آجاؤ کھانا کھاؤ پھر مہمانوں نے آنے لگ جانا ہے تو کھانا نہیں کھا پاؤ گے ۔۔۔۔
سکینہ بی نے بھی محبت سے کہا
تو سکںڈرانکار نہیں کر پایا ۔۔۔۔
اس وقت شہریار سائشہ فریال سکندر کمرے میں بیٹھے تھے ان کے سامنے کھانا لگا ہوا تھا جب کہ وہ لوگ اپنی بیویوں کے ہاتھوں پر لگی مہندی کو بڑی فرصت سے دیکھ رہے تھے
سکندر مجھے بھوک لگی ہے ۔۔۔ فریال نے اسکی نظروں سے پریشان ہوتے کہا ۔۔۔
تو ؟ سکندر نے جان بوجھ کر آی برو آچکا کر سوال کیا
تو یہ کہ مجھے کھانا کھلائیں بہت بھوک لگ رہی ہے ۔۔۔ فریال کے کہنے پر وہ مسکرا کر چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر اس کو کھلانے لگا ایسے ہی شہریار صاحب تو ہمارے صدا کے سائشہ کے غلام تھے وہ بھی اپنا فرض باخوبی نبھا رہے تھے
کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں پھر سے کام میں مصروف ہو گئے جب کہ فریال اب مقدس کے کمرے کی جانب بڑھی ۔۔۔۔
کمرے میں قدم رکھا تو اسنے مقدس کو سامنے کسی کتاب میں غرق پایا
حد کرتی ہو تم لڑکی آج تو تمہاری شادی ہے مگر تم ہو کہ تم ان ناولوں کی جان چھوڑنے کو تیار نہیں ۔۔۔ وہ اس کے گورے پیارے پیارے ہاتھوں میں ناول دیکھ کر بولی
ہاں کچھ لمحے انسان کو اپنی مرضی کے جینے کو مل جاتے ہیں تو اس میں برا کیا ہے ؟
وہ ناول بند کرکے رکھتی فری کی جانب متوجہ ہوتے بولی
تو کیا اب تم میری مرضی کے مطابق جی رہی ہو ۔۔۔ فری نے مزاق اڑاتے کہا
انہہہہ۔۔۔۔ ناول کی دنیا بہت الگ ہے وہ ایسی زندگی ہے جہاں ہمیں ہر چیز مل جاتی ہر خواہش پوری ہو جاتی محبت بھی مل جاتی ہے ہیپی اینڈنگ ہوتی ہے
مگر حقیقت بہت تلخ ہے ہم نازک مزاج لڑکیاں ناول کی دنیا میں رہنا چاہتی ہیں مگر افسوس کے یہ فرضی ہیں کبھی حقیقت نہیں بن سکتی ۔۔۔۔
مقدس نے بجھے لہجے سے کہا
ایسا کیوں ؟ اگر تم چاہو تو ان محبتوں اور رونقوں کو تم اپنی حقیقی زندگی میں بھی شامل کر سکتی ہو مگر مدعہ یہ ہے اگر تم چا ہو تو ۔۔۔۔
وہ بولی تو مقدس نے اسکی جانب سوالیہ دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کہ کیسے ؟
تم چاہتی ہو کہ محبتیں ناول کی طرح حقیقت میں بھی ملیں تو محبتیں ایک دوسرے سے بانٹنا شروع کر دو ۔۔۔۔
اپنی محبت کے لیے بولنا سیکھو ۔۔۔سچی محبت کرو وقتی محبت جو انجان جدائ ہی ہوتا ہے ۔۔۔
فریال کی بات پر وہ تلخی سے مسکرائ ۔۔۔
بعض اوقات آپ کی سچی اور پاکیزہ محبت آپ کو نہیں مل پاتی مگر اسے وقتی محبت نہیں کہہ سکتے ۔۔۔۔۔
وہ کہتے بیڈ سے اٹھی اور الماری کی جانب بڑھی
کیا تمہیں محبت ہوی ہے ؟فریال نے جانتی نظروں سے اسکی پشت کو دیکھتے سوال کیا
جب کہ مقدس کے حرکت کرتے ہاتھ لمحے کو تھمے مگر پھر وہ کام کرنے لگی ۔۔۔
ہاں ہوی تھی ۔۔۔۔ مگر لفظ تھی پر زور دیتے اس نے جملہ ادا کیا
کوشش نہیں کی؟ فری پھر سوالیہ ہوی نا جانے وہ کیا سننا چاہتی تھی ۔۔۔
کبھی کبھی آپ اتنے بے بس ہوتے ہیں رشتوں کی زنجیر آپ کے پاؤں جکڑے ہوے ہوتی ہے نا آپ قدم بڑھا پاتے ہیں نا اس تکلیف کو سہل کر پاتے ہیں کیونکہ آپ مجبور ہوتے ہیں ۔۔۔
محبت بھی جب ہوتی ہے تو ضروری نہیں کہ آپ کو مل ہی جائے کچھ محبتیں ادھوری رہ جاتی ہیں ۔۔۔۔ایک نامکمل کہانی کی طرح ۔۔۔
وہ کہتے کپڑے لیے واشروم میں بند ہو گی ۔۔۔۔
جب کہ فریال نے چند لمحے بند دروازے کو دیکھا پھر گہرا سانس لیا
Epi 17 s2
❤️🍁❤️🥹
_سنو اے خوبصورت دل والی خاموش لڑکی!!_🫠
_اللہ تم سے محبت کرتا ہے!!☺️_
_اور بے پناہ کرتا ہے!!🥰_
_تمہارا یوں ھی کوئی بات پڑھ کر مسکرا دینا!!_☺️
_اور کسی تحریر پر آنکھیں نم ہو جانا_!! 🥹❤️🩹
_کسی بات پر دل کا دھڑکنا_
_اسی بات کی دلیل ہے_!!🩷🪄
_ک تم اپنے اندر بہت سے جذبات چھپائے بیٹھی ہو!!🥺_
_ہنس کر آگے بڑھو اور دکھ دینے والوں پر فاتحہ پڑھ ڈالو_!! ☹️
_تم شہزادی ہو اور شہزادیاں ہار نہیں مانتی!!🩷🙂_
_اور وہ تمہیں تمہاری خواہشات سے زیادہ دینے والا ہے!!🩷🪄_
_بس چلتی جاؤ اسکی راہ پر_
_کیونکہ منزل بہت خوبصورت ہے🫀😌!!_
🍁🍁🍁
مہندی والی لڑکی نے مقدس کے خوبصورت پھولے پھولے گالوں والے چہرے کو محبت سے دیکھا تھا اسے وہ لڑکی بہت کیوٹ لگی تھی کتنی نرم سی اس کی گداس سی گالیں نرم سفید چھوٹے اور موٹے موٹے ہاتھ جو بہت ہی کیوٹ لگتے تھے
وہ اس وقت کالے رنگ کی قمیض کے ساتھ کالے رنگ کی کیپری پہنے اس لڑکی کے پاس بیٹھی تھی ۔۔۔
بال گیلے ہونے کی وجہ سے اس نے کھلے چھوڑے تھے ورنہ وہ ہمیشہ بال باندھ کر رکھتی تھی ۔۔۔
اسکی اماں کہتی تھیں کہ لڑکی کو بناؤ سنگھار اپنے شوہر کے لیے کرنا چاہیے ۔۔۔۔
اس لیے وہ اس پر پوری طرح عمل کرتی تھی مگر وہ انجان تو نا تھی کہ کوی اس کی سادگی پر بھی مر مٹا تھا ۔۔۔۔
وہ لال لال آنکھوں کو اداسی سے لپیٹے ہوے بیٹھی تھی ۔۔۔
پاؤں پر پہلے مہندی لگائے گئ تھی اس لیے اب باری ہاتھوں کی مہندی کی تھی ۔۔۔
فریال کمرے میں داخل ہوی اس نے مقدس کے پاس جاتے اس کے پاس بیٹھ کر اسکے چہرے پر آتے بالوں کو نرمی سے پیچھے کیا
سہرش ۔۔۔ اس نے مہندی والی لڑکی کو مخاطب کیا
جی ؟ وہ سوالیہ اسے دیکھنے لگی
تمہیں کبھی محبت ہوی ہے ؟ وہ بے وجہ سوال کر رہی تھی جب کہ مقدس نے نظریں اٹھا کر فری کے چہرے پر دیکھا اس کے تاثرات سے وہ سمجھ نہیں پای کہ وہ سوال کیوں کر رہی ہے مگر پھر سر جھٹک دیا
ہاں ہوی تھی مگر پھر اللہ کی رضا کی خاطر چھوڑ دیا ۔۔۔ سہرش نے گہرا سانس لیتے کہا
فری نے سہرش کو دیکھا
کیا مطلب ؟ وہ سوالیہ ہوی
یار میں نے سوچا کہ بروز محشر اللہ جب پوچھے گا کہ تم نے میرے لیے اپنی کونسی چیز قربان کی جو تمہیں عزیز تھی تو میں کہہ سکوں گی کہ اپنی محبت
وہ لڑکی ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ بولی تو مقدس نے اپنی تلخ مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائ مگر کہا کچھ نہیں ۔۔۔۔
کسی کا دل توڑنے کی وضاحت نہیں ہوا کرتی !
اندر آتی سائشہ نے بات میں حصہ ڈالا
میں سمجھی نہیں ۔۔۔ سہرش نے ماتھے پر بل لیے سائشہ کو دیکھا
تو سائشہ مسکراتی ہوئی اس کے پاس آی وہاں رکھی کرسی پر بیٹھ گئ
محبت گناہ نہیں ہے ! اگر ایسا ہوتا تو اللہ کیوں کہتا کہ جس سے محبت ہے اسے نکاح میں لو ۔۔۔
سائشہ نے نرم لہجے میں کہا
ہاں مگر محبت ہوتی ہے تو ۔۔۔وہ لڑکی کچھ کہنے لگی مگر سائشہ اسے ٹوکتے ہوے بولی
محبت یا تو ہوتی ہے نا نہیں ہوتی درمیان کا کوی راستہ نہیں ہوتا ۔۔۔
وہ اسے سمجھاتے ہوے بولی ۔۔۔
مگر آپی کبھی کبھی ہم لڑکیاں مجبور ہو جاتی ہیں نا اپنی محبت سے دستبردار ہونے پر ۔۔۔۔
اس لڑکی نے اب کی بار کہا تو مقدس نے اپنی سانس روک لی
اسے بھی تو ہونا پڑا تھا ۔۔۔ کسی کا دل توڑنا پڑا تھا ۔۔۔
اگر مرد محبت کرتا ہے تو اسےںکاح تک پہنچاتا ہے اور اگر عورت محبت کرتی ہے تو وہ آخر میں یہ کیوں کہہ دیتی ہے کہ گھر والے نہیں مانیں گے ؟
سائشہ کے سوال پر فریال نے بھی سر اثبات میں ہلایا جیسے وہ اکتفا کر رہی تھی اس بات سے ۔۔۔۔
عورت کو حق نہیں محبت کرنے کا
اب کی بار مقدس نے تلخی سے کہا تھا ۔۔۔ تینوں نے اس کے سوال پر اسکی جانب دیکھا
کیوں نہیں ہے ؟ تم نہیں جانتی حضرت خدیجہ نے پہلے محبت کی تھی اور پھر انہوں نے شادی کا پیغام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بھیجا تھا ؟
سائشہ نے سوال کیا تو مقدس نے مسکرا کر اسے دیکھا
وہ دور تو بہت خوبصورت دور تھا نا اور وہ محبتیں بھی تو پاکیزہ تھیں اب اگر کوی ایسا کرے گا تو وہ بے حیا اور آوارہ ہے یہی کہنے لگیں گے لوگ ۔۔۔۔۔
لوگ کون ہوتے ہیں آپ پر آوازیں کسنے والے ؟ فری نے غصے سے کہا
مقدس نے سر جھٹک دیا ۔۔۔
جب محبت کرو تو اسے پورا کرو پھر چاہے اس راستے میں تمہیں کتنی بھی تکلیف کیوں نا سہنی پڑے ۔۔۔
محبت وہ جزبہ ہے جس کو اللہ خود آپ کے دل میں ڈالتا ہے ۔۔۔۔
تم چاہتی ہو میں سرکش ہو جاؤں ۔۔ وہ فری کی باتوں سے چڑ کھاتے سختی سے بولی
نہیں مگر کسی کا دل توڑنے کا حق تمہیں کسی نے نہیں دیا ۔۔ اب وہ بھی آمنے سامنے ہوتے بولی
تو مقدس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ فورا سر جھکا گئ
مقدس تم نے کیسے اس معصوم دل کو توڑا تھا ؟ جس نے اللہ نبی کے بعد محبت کا جزبہ تمہارے لیے محسوس کیا ؟
وہ سختی سے بولی
یعنی فریال جان گئ تھی کہ شایان مقدس سے محبت کرتا تھا ۔۔۔
اور اسکا اظہارِ محبت اور مقدس کا انکارِ محبت بھی اسے پتہ چل گیا تھا
وہ آنکھیں زور سے میچ گئ ۔۔۔
تم مہندی کیوں نہیں لگا رہی مجھے ؟مقدس نے چند لمحوں بعد سہرش ہر بھڑکتے کہا اسکی موٹی موٹی گالیں سرخ ہو گئ تھیں ۔۔۔
وہ منہ کے زاویے بگاڑتے اسے دیکھ رہی تھی جو جلدی سے اسے مہندی لگانے لگی
مقدس اب تم مجھ سے مدد مت مانگنا ۔۔۔ فری غصے سے اٹھتے بولتی بنا رکے وہاں سے نکل گئ ۔۔۔
سائشہ نے بھی جلدی سے فریال کے پیچھے قدم باہر لیے
مقدس نے اپنے ٹپ ٹپ بہتے آنسو کے ساتھ ہاتھ پر لگنے والی مہندی کو دیکھا
دل میں اک کسک سی اُٹھی ۔۔۔
کیا مجھے محبت کا واقعی ہی حق نہیں تھا ؟اس لیے میں اپنے ماں باپ کی عزت کی لاج رکھ رہی ہوں ؟
وہ خود سے سوالیہ ہوی تو دل نے فورا نفی کی ۔۔۔
وہ عزت کی لاج نہیں بلکہ خود کو اور ماں کو دھوکہ دے رہی ہے ۔۔۔
وہ جانتی ہے کہ اس کو کس سے محبت ہے پھر بھی اس نے اپنی محبت کو دھتکار دیا تھا یہ کہہ کرکے وہ مجبور ہے مگر کیا اس کا مرا ہوا باپ اس بات سے خوش ہوتا کہ اس شخص کی بدکرداری کے جاننے کے باوجود وہ خود کو اس کے حوالے کر رہی ہے ۔۔۔
وہ تو اپنے رب کی امانت ہے نا اسکی زندگی رب کی امانت ہے تو وہ کیوں جانتے بوجھتے اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ جزبات میں آکر لے رہی تھی
وہ سخت کشمکش میں مبتلا تھی اس کا دھیان اپنے ہاتھ پر اپنے دلہے کے لکھے نام پر بھی نا گیا تھا ۔۔۔
🍁🍁
مہندی کی رسم !
گاؤں کی سب خواتین نے دعاؤں کے ساتھ مقدس کو مہندی لگائ تھی
فریال نے پہلے رنگ کے شرارے کے ساتھ پیلے رنگ کی کرتی کے ساتھ سات رنگ کا خوبصورت دپٹہ پہنا ہوا تھا جو اسے بہت دلکش بنا رہا تھا بالوں کو آج بھی اس نے چٹیا میں باندھ رکھا تھا
مقدس کو ہرے رنگ کی کرتی کے ساتھ پرے رنگ کا لہنگا پہنایا گیا تھا جو اس کی رنگت کو اور بھی نکھار رہا تھا ۔۔۔۔
جب کہ اس نے سات رنگ کا دپٹہ پہنا ہوا تھا اس کے بالوں کو سٹائل سے بنایا گیا تھا جو اسے کافی خوبصورت بنا رہا تھا
مہندی کی رسم ان کے گھر کے چھوٹے سے باغیچے میں کی جا رہی تھی
سائشہ نے بھی فریال کی طرح ہی سیم کپڑے پہنے ہوے تھے اس کے دلکش نقوش کو میک اپ نے آج بہت واضح کر رکھا تھا ۔۔۔
جب کہ مرد حضرات میں سکندر اور شہریار نے سفید رنگ کے کاٹن کے کپڑے پہنے ہوتے تھے ۔۔۔ آج ان دونوں نے گلے میں شاہی طریقے سے چادریں اپنے گلے میں ڈال رکھی تھیں ۔۔۔
پاؤں میں مہنگے جوتے پہنے ہوے تھے ۔۔۔۔
چلو جاؤ سکندر جا کر مولوی صاحب بلا لاؤ ۔۔۔
بی جان کی بات پر پھولوں سے سجے ہوے جھولے پر بیٹھی مقدس کا دل منہ میں آگیا تھا ۔۔۔
آج تو بس مہندی تھی پھر کیوں ؟
جی بی جان وہ کہتے ہی کچھ دیر میں اپنے ساتھ مولوی کو لے آیا ۔۔۔
سکینہ تمہاری اجازت ہے ؟ بی جان نے کہا تو انہوں نے بھیگی آنکھوں سے اجازت دی ۔۔۔
مقدس نے حیرت سے بی جان کو دیکھا ۔۔۔
شایان بیٹا اندر آجاؤ ۔۔۔ سکینہ بی نے دروازے میں کھڑے شایان کو دیکھتے کہا ۔۔۔
جس نےہلکے پیلے رنگ کی قمیض کے ساتھ کھڑا چجامہ پہن رکھا تھا پاؤں میں پہلے رنگ کا مہنگا جوتا ڈالے اس نے پیلے رنگ کا ویسکوٹ پہن رکھا تھا ۔۔۔
گلے میں ہرے رنگ کا مفلر ڈالے بھکرے ہوے بال اور بھینچے ہوے لب ۔۔۔ ہنی آنکھوں والا شہزادہ سر ہلاتا اندر آیا ۔۔۔
پل میں منظر جیسے بدل گیا تھا ۔۔۔ مقدس نے اسے آتے دیکھا تو آنکھیں جیسے حیرت کی زیاتی سے باہر آنے کو تھیں ۔۔
مقدس نے اسے سامنے کرسی پر براجمان ہوتے دیکھا ۔۔۔
پورے گھر جو لائیٹس سے سجایا گیا تھا اس وجہ سے اندھیرا زیادہ نہیں تھا ۔۔۔۔ پورا گھر چاندی کی طرح چمک رہا تھا ۔۔۔۔
وہ دل پر ہاتھ رکھتے ہوے کھڑی ہوی اس نے اپنے تھوڑے پاس کھڑی فری کو دیکھا جس نے اسے غصے سے دیکھتے نظریں پھیر لیں ۔۔۔۔
اس نے دوسری جانب کھڑی سائشہ کو دیکھا جو نظریں جھکا گئ ۔۔۔
اب اس نے پھر سے سامنے بیٹھے شایان کو دیکھا جس نے آگ برساتی نظروں سے اس کو دیکھا اور بری طرح پہلو بدلا ۔۔۔
مقدس مزید حیران ہوی ۔۔۔ مگر پھر لب ہلاتے ماں کو پکارا
اماں یہ یہ ۔۔۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر لبوں سے کچھ کہنا محال تھا ۔۔۔۔
سکینہ بی اسکی حالت سمجھتے اس کے پاس آئیں ۔۔۔
مقدس بیٹا تم اپنی ماں سے محبت کرتی ہو نا ۔۔۔ پھر تم نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ میں بھی تو تم سے پیار کرتی ہوں !
وہ بھیگی آنکھوں سے بولیں تو مقدس نے انہیں حیران نظروں سے دیکھا
اماں یہ سب کیا ہے ؟ اب کی بار کوشش کرتے اسنے جملہ پورا کہا تھا
بی جان آپ پلیز جو بھی کرنا جلدی کریں شایان کی سخت اور بھاری آواز کانوں میں پڑی تو اس نے ماں سے نظریں ہٹا کر اس کو دیکھا جو آج پہلے کی طرح شوخ اور شرارتی لڑکا نہیں لگ رہا تھا وہ تو کوی اور تھا سخت مزاج سنجیدہ چہرہ بھاری آواز ۔۔۔ وہ اس کو دیکھتے ڑر گئ تھی
مزید اس کے سوالوں سے پہلے اس کو بٹھا کر اس کا نکاح شایان سے کروا دیا گیا تھا وہ تو اب بھی حیران تھی سب گاؤں کی عورتیں اس کو پیار دے رہی تھیں جب کہ وہ حیران بیٹھی تھی ۔۔۔۔
شایان نکاح کے فورا بعد وہاں سے چلا گیا بنا مقدس پر دوسری نظر بھی ڈالے ۔۔۔۔۔
🍁🍁
اماں مجھے بتائیں تو آخر یہ سب کیا تھا ؟وہ اب کمرے میں آی تو ماں سے سخت لہجے میں بولی ۔۔۔
سکینہ بی نے اسے دیکھا ۔۔۔
وہ اسد پہلے سے شادی شدہ تھا پھر بھی اس کے رواسم بہت خراب عورتوں سے تھے اس وجہ سے سکی طلاق ہو گی تھی اب بھی وہ ان حرکتوں سے باز نہیں آیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اس کا تعلق غیر قانونی کام کرنے والے لوگوں سے تھا ۔۔۔۔
اور مجھے یقین ہے کہ ان میں سے چند باتیں تم جانتی تھی ؟ انہوں نے سخت لہجے میں جواب دیتے کہا تو مقدس نے تھونک ںگلی
ہاں شادی کا پتہ تھا ۔۔ وہ پیچھے ہوتے بولی ۔۔۔۔
تم یہ جانتی تھی پھر مجھے کیوں نہیں بتایا تمہیں لگا کہ تم کوی گائے بھینس ہو جسے کسی کے ساتھ بھی باندھ کر میں جان چھڑوا لوں گی ۔۔۔۔
سکینہ بی ںے اب کی بار شکوہ کیا
اماں ۔۔۔ وہ ۔۔۔
ابھی وہ کچھ کہتی جب وہ پھر سے بولیں
اگر اس روز میں نے اس بچے کو تمہارے لیے روتے نا دیکھا ہوتا تو شاید میں یہ ظلم انجانے میں کر جاتی
ان کی بات پر مقدس نے ان کو دیکھا ۔۔۔
شایان گھٹنوں کے بل بیٹھے رو رہا تھا اس نے آخری کوشش کی تھی مگر اسکا دل اس نے توڑ دیا تھا یہ کہہ کر کہ وہ اسد سے محبت کرتی ہے ۔۔
سکینہ بی آواز پر جلدی سے کمرے سے نکلیں سامنے کا منظر دیکھ کر وہ شایان کے پاس گئیں
شایان بیٹا آپ ؟ وہ سوالیہ ہوئیں ۔۔۔
شایان نے نظریں اٹھا کر ان کو دیکھا ۔۔۔
اور اس نے چند لمحوں میں ان کو اسد کی ساری حقیقت کے ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے ۔۔۔
سکینہ بی پہلے اسد کی حقیقت ہر ڑر گئ اور پھر شایان کی محبت پر ۔۔
اگلے دن ۔۔۔ شایان نے امریکہ جانے کا ناٹک کیا اور وہ روپوش ہو گیا تھا ۔۔۔
کچھ دنوں کے بعد اس نے سکینہ بی کو اسد کے ساتھ شاپنگ پر جانے کا کہا تھا ۔۔۔۔
وہ اس روز اسد اور مقدس پر نظر رکھے ہوئے تھا
اسد کو پولیس کی حراست میں دینے کے لیے اسے وہ اپنی نظروں کے سامنے چاہیے تھا اس لیے اس نے یہ کیا تھا
ساتھ کے ساتھ اس ملکہ جزبات کو بھی ازیت سہتے دیکھنا تھا جس تکلیف کو اس محترمہ نے خود ان دونوں کے لیے چنا تھا
🍁🍁🍁
مقدس کو حیرت ہو رہی تھی وہ تو سمجھی تھی کہ وہ جا چکا ہے پھر ۔۔۔
مگر پھر فریال کمرے میں داخل ہوی ۔۔۔
مرد جب محبت کرتا ہے تو دیکھو وہ اسے اتنی آسانی سے نہیں چھوڑ دیتا پر شاید عورت کو محبت کرنے کا طریقہ نہیں معلوم ۔۔۔
فری اس پر طنز کرتے بولی مقدس نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا
جس پر فری نے نظریں پھیر لیں ۔۔۔۔
خدا کی قسم موٹو دل چاہ رہا ہے تمہیں الٹا لٹکا دوں تم نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا ۔۔۔
تمہیں مجھ پر یقین نہیں تھا کہ تم اپنے دل کی بات مجھے بتاتی ؟
مگر نہیں تم نے مجھے قابل نہیں سمجھا ۔۔۔۔
نہیں۔ نہیں تم غلط ۔۔۔ مقدس نے اسے سمجھانا چاہا ۔۔۔
مگر فریال نے اسے چپ کروا دیا ۔۔۔
مجھ سے اب کسی اچھے کی امید مت رکھنا اب سے میں تمہاری جیٹھانی ہوں !
وہ بولی تو مقدس نے اپنے پھولے
پھولے گالوں کو مزید سجایا ۔۔۔
بلکل نہیں یہ حرکتیں کر کے تم مجھے نہیں پتا سکتی ۔۔ فری نے جلدی سے اسے باز رہنے کو کہا ۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھیں ایسے کرنے پر وہ مجبور ہو کر اسکے گال کھینچ کر اسے پیار کرتی تھی ۔۔۔
🍁🍁
مقدس اس وقت دلہن کے روپ میں اس کے کمرے میں بیٹھی تھی جب کہ گھڑی پر نظر پڑی تو رات کے دو بج رہے تھے ۔۔۔
بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ گی تھی مگر وہ سمجھ گئ تھی کہ وہ اس سے خفا ہے اس لیے سو کر مزید اسے خفا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
اب بھی جمائیوں کو مشکل سے روکتے وہ بیڈ کراؤن سے سر ٹکائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
وہ آج بے تحاشہ حسین لگ رہی تھی ۔۔۔
ناب کی آواز پر وہ سیدھی ہو کر بیٹھی تو اندر وہ سنجیدہ چہرہ لیے کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔
کمرے کو لاک کرتے وہ بنا بیڈ پر نظر ڈالے الماری کی جانب بڑھا ۔۔۔
اور کپڑے نکال کر واشروم میں بند ہو گیا ۔۔۔
اففف حد ہے میں صبح سے ایسے تیار ہوی بیٹھی ہوں اور اسے ایک شیروانی بھی اتنی تنگ کر رہی تھی کہ محترم پہلے کپڑے بدلنے چلے گئے ۔۔۔
وہ غصے سے کہتی منہ پھلا کر بیڈ سے اتری اور الماری سے کپڑے نکالنے لگی ۔۔۔۔
مگر سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا پہنے ۔۔۔
اسے انداز نہیں ہوا کہ وہ اتنی دیر سے الماری کے پاس کھڑی سوچوں میں گم ہو چکی تھی
“الماری کے اندر کوئی شاہی لباس نہیں ہے محترمہ جو آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے کا اس لیے جو مل رہا ہے پہن لو ۔۔۔۔”
وہ شیشے کے سامنے بالوں کو ڑراییر کے ساتھ خشک کرتے بولا
جبکہ مقدس چونک کر پلٹی تھی یہ کب کمرے میں واپس آیا ؟ وہ بڑبڑای پھر جلدی سے کپڑے لیے واشروم میں جانے لگی جاتے ہوے اس نے خود کی زات سے بے نیاز کھڑے شایان کو دیکھا ۔۔۔
پھر وہ پلٹ کر اسکی طرف آئ ۔۔۔
شایان ۔۔ وہ اسے پکارتی اسکے چہرے کو بغور دیکھنے لگی جو اسے ایک نظر دیکھ کر منہ پھیر گیا ۔۔
شایان کے منہ پھیرنے پر مقدس کو برا لگا ۔۔۔
وہ میں ۔۔۔ وہ جو اسےکچھ کہنے لگی تھی اس سے پہلے ہی شایان نے ٹوک دیا ۔۔۔
کسی غلط فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے یہ شادی تو میں نے ضد میں کی ہے کہ آج تک شایان احمد کو کسی چیز کے لیے انکار نہیں کیا گیا ۔۔۔ تو تم مجھے کیسے انکار کر سکتی ہو ۔۔
وہ اسے دیکھتے آنکھوں میں نفرت لیے بولا ۔۔۔
شایان کی بات سن کر مقدس نے حیرت زدہ آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔
شش۔۔شایان۔۔۔
وہ اسے کچھ کہنے لگی ۔۔ پر لفظ لڑکھڑا گئے ۔۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
انہہہہ ۔۔ مقدس کی آنکھوں سے آنسو بہنے پر وہ اسکی جانب جھکا ۔۔
اور اسکے آنسو کو اپنے انگوٹھے کی مدد سے صاف کیا ۔۔۔
اس دوران اس کا ہاتھ مومی نرم گالوں پر ٹچ ہوا تھا ۔۔۔
رو مت ۔۔۔ یہ ازیت تو ساری زندگی کی ہے نا ۔۔۔
ہمارا ساتھ بھی اور یہ رد کردینے والی ازیت بھی ۔۔۔
وہ جو پھر اسے امید بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اسکی بات پر حلق تک کڑوا ہو گیا ۔۔۔
کک کیوں کہہ رہے ہو یہ ۔۔۔ تم مجھ سے نفرت ۔۔۔ وہ سر نفی میں ہلاتے اسکا ہاتھ اپنے موٹے موٹے ہاتھوں میں تھامتے بولی
ہاں میری جان ۔۔۔ شایان نے سفاک نظروں سے اسکو دیکھا ۔۔۔
میری محبت نفرت میں بدل گئ ہے ۔۔۔
وہ لہجے میں شدید نفرت سموئے بولا تھا ۔۔۔
وہ تو کوی اور شایان تھا ۔۔۔ وہ شایان تو کہیں چلا گیا تھا جو اسے دیکھ کر شرارتیں کرتا تھا جس کی آنکھوں میں اس کے لیے محبت ہوتی تھی جو اسے تنگ کرتا تھا محض اسے چڑھانے کے لیے ۔۔۔
اسکی شرارت بھری نظریں آج نفرت سے بھری دیکھ کر مقدس کو تکلیف ہوی ۔۔۔
وہ سر نفی میں ہلاتے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
تم تو محبت کے دعویدار تھے نا ؟
وہ بامشکل بولی
تو شایان کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ ابھری
اور تم نے دھتکار دیا مجھے یہ نہیں سوچا کہ اس دل نے کتنی چاہ کی تھی تمہاری ۔۔۔
خدا گواہ میں نے ابراڈ میں رہنے کے باوجود اپنے کردار کو ہر طرح سے محفوظ رکھا ۔۔
انفیکٹ اپنی کزن کو ریجیکٹ کیا اور پھر مجھے ہی دھتکار دیا گیا ۔۔
سننے میں فنی ہے نا ۔۔۔ آپ دھتکارو اور کوی آپ کو دھتکار دے ۔۔۔۔
وہ جھک کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے بولا
وہ جو ابھی فریش ہو کر آیا تھا اس کے جسم کی ٹھنڈک سامنے کھڑی لڑکی بخوبی محسوس کر رہی تھی ۔۔
بال ماتھے پر جھکنے کی وجہ سے آگے کی جانب گر رہے تھے ۔۔۔
تمہیں پتہ ہے ایک محبت کرنے والا جتنی شدت سے محبت کرتا ہے اسکی محبت جب نفرت بنتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے ۔۔۔
وہ اسے دیکھتے بولا ۔۔۔
جو آج پورے حق سے پور پور اسکے نام سے سجی ہوی تھی
مگر مقابل کو پروا کہاں تھی ۔۔۔
تت تم ایسے تت تو نہیں تھے ۔۔ وہ لڑکھڑاتے لہجے میں بولی ۔۔۔
ہاں ! تم نے ہی تو ایسا بنایا ہے ۔۔۔ کبھی ایسے شخص سے ملے ہو جو محبت میں رد ہوا ہو ۔۔۔ اس کی محبت کو ٹکھرایا گیا ہو ۔۔۔ اسے کہا گیا ہو کہ وہ اس کے دل میں نہیں رہتا بلکہ اسکی جگہ کسی اور نے لے رکھی ہے ؟
کبھی نہیں ملی نا ۔۔ وہ اسکا نرم چہرہ نرم گرفت میں لیتے بولا ۔۔۔
مقدس نے نظریں جھکا لیں ۔۔۔
مجھے دیکھ لو ۔۔۔۔۔ مجھے شایان احمد کو اسکی سچی محبت سمیتھ اپنے در سے جانے کا کہا تھا ۔۔۔۔
وہ دکھ سے بولا تھا وہ تکلیف ایک بار پھر محسوس ہوی مگر پھر آنکھیں بند کرتے خود کو کمپوز کیا وہ اس کے سامنے نرم نہیں پڑنا چاہتا تھا
وہ بھرپور۔ ناراضگی دکھانے کے بعد ماننے کا ارادہ رکھتا
جب کہ سامنے وہ موٹی موٹی گالوں پر بہنے والے آنسوؤں کو بری طرح سے اپنے چوبی ہاتھوں سے رگڑتی اسے گھورنے لگی
شایان احمد نفرت کرو یا محبت مگر تم ہو تو میرے شوہر ۔۔۔ میں بھی دیکھتی ہوں کتنی دیر تک یہ جھوٹی نفرت کر سکتے ہو تم مجھ سے ۔۔۔۔
مانتی ہوں کہ میں نے غلط کیا تھا مگر تمہیں تکلیف دینا میرا مقصد نہیں تھا ۔۔۔ جو تم بھی اچھے سے جانتے ہو ۔۔۔
وہ اس کو ایک گھائیل شیرنی کی طرح اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر بولتی بے تحاشہ خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
اسکی ہلکی بھوری آنکھیں چمکی تھی۔۔۔۔ ہلکی بھوری مونچھوں کے نیچے اسکے گلابی لب مسکرائے مگر دانتوں تلے دباتے اپنے آپ کو مسکرانے سے بعض رکھا ۔۔۔۔
اچھا میں بھی دیکھتا ہوں نفرت محبت میں کیسے بدلتی ہے ۔۔ وہ کہتے سنجیدہ سے پلٹا ۔۔ بالوں میں کومب کرنے لگا جب کہ شیشے میں اسکا معصوم گول مٹول سا چہرہ دیکھ کر دل چاہ اسے گلے لگائے اسکے مومی گالوں کو نرمی سے محسوس کرے جس کی ہلکی سی خواہش اسکی پہلی ملاقات پر بھی دل نے کی تھی ۔۔۔
آج تو وہ اسکی بیوی تھی اسکی تھی اس کے لیے اس کے کمرے میں تھی ۔۔۔
اور وہ سجی سنوری اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ بامشکل نظریں چرا رہا تھا ۔۔۔
جب کہ مقدس قدم صوفے پر رکھے کپڑوں کی طرف لیتی اپنے کپڑے اٹھاتی ڑریسنگ روم میں چلی گئ ۔۔۔
🍁🍁
آج کچھ لوگ اپنے شوہر کو بری طرح سے اگنور کرتے رہے ہیں وجہ جان سکتے ہیں ؟
وہ جب کمرے میں داخل ہوا سامنے وہ سارا دن کی رکھی ہاری اپنی تمام پر ہمت کھوتی ڑریسنگ کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھی تھی ۔۔۔
اس میں اتنی ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی کہ اٹھ کر چینج کر لے ۔۔۔
جب کہ سارا دن کی تھکاوٹ اور سائرہ بیگم کے ہنگامے نے آج ساری حویلی والوں کو تکھا دیا تھا
اہہہ سائیں ۔۔۔ وہ بچوں کی طرح ہونٹ باہر نکالتی پلٹ کر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
سردار سکندر سلمان کا دل بری طرح سے دھڑکا تھا ۔۔۔۔
وہ آج کالے رنگ کی میکسی پینے ہوے تھی ۔۔
خوبصورت لباس کے ساتھ آج اس نے شاہی انداز میں کندھوں پر مہرون چادر ڈال رکھی تھی ۔۔۔
کھلے بالوں کی چند لٹیں چہرے پر گر رہی تھیں ۔۔۔ جب کہ باقی بالوں کو خوبصورت ہیر سٹائل میں قید کیے ہوے تھے جو نیچے کے بالوں کو کرل کرکے کھلا چھوڑا گیا تھا ۔۔۔۔
سکندر نے بھاری قدم اسکی جانب لیے ۔۔۔ آج ان دونوں نے میچنگ کی تھی پورے گاؤں کی نظر آج اس خوبصورت جوڑے پر تھی جو ایک دوسرے کے ساتھ اتنے مکمل لگتے تھے کہ دل چاہتا تھا کہ کچھ وقت انسان اس جوڑے کو دیکھنے میں ہی گزار دے ۔۔۔۔
سکندر نے اسکے پاس آتے اس کے خوبصورت چہرے کو جھک کے اپنے ہاتھوں میں تھام لیا
وہ کالے رنگ کے قمیض شلوار کے ساتھ مہرون رنگ کی چادر پہنے پاؤں میں مہنگے جوتے اڑیسے وہ شہزادوں کی طرح دکھ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ بے تحاشہ حسین لگ رہا تھا وجہ اس کی ہری کانچ سی آنکھیں تھیں ۔۔۔
کیا ہوا میری بلی کو ؟ وہ اس کو محبت سے دیکھتے بولا
تھک گئ ہوں میں ۔۔۔ وہ اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے کھڑی ہوتی بولی ۔۔۔
اسے اپنی طرف مبہوت دیکھ کر فریال نے نظریں جھکا لیں ۔۔۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ؟ وہ نظریں جھکا کر بولی ۔۔۔
حسین ہونا ایک طرف اور میری بیوی محترمہ کا ہونا ایک طرف ۔۔ وہ اسے دیکھتے مسکرا کر بولا
مطلب ؟ وہ پلکوں کی باڑ اٹھا کر اسے دیکھتے بولی ۔۔۔
بے تحاشہ دل نے تم کو ہی چاہا ہے ۔۔۔ وہ مسکرا کر گنگنایا تو فریال کھلکھلائ ۔۔۔۔
سائیں آپ ٹی نیجرز کی طرح بیہو کیوں کر رہے ہیں ۔۔ وہ ہستے ہوے سرخ گالوں کے ساتھ بولی ۔۔۔
کیوں کسی کتاب میں لکھا ہے کہ بس ٹی نیجرز ہی محبت میں پڑ سکتے ہیں ۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا ۔۔ اور اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔۔۔
سائیں میں بہت تکھی ہوی ہوں وہ اسے بات گھماتے پھر سے اپنی تکھان بتانے لگی ۔۔۔
میری تو اتر گئ ۔۔۔ وہ اسے دیکھتے مسلسل مسکراتے ہوے بولا
وہ کیسے ؟ وہ اس کے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھتے بولی ۔۔۔
ان کے قد میں زیادہ فرق نہیں تھا فریال کا قد اچھا خاصا تھا اس لیے ۔۔وہ اس کو آسانی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
تمہیں دیکھ کر میری تھکاوٹ اتر گئ ۔۔۔ کیونکہ تم میری بیوی ہو میرا سکون ۔۔۔۔
وہ بولا تو فریال مسکرای ۔۔۔۔
میں نے سنا تھا مرد کا سکون اسکی عورت میں رکھا ہوتا ہے اور جب سے تم مجھے ملی ہو مجھے یقین ہو گیا ہے ۔۔۔
وہ بولا تو فریال مسکرای ۔۔۔
ہاں بلکل مرد چاہے جتنا اڑیل ہو عورت اسے خود سے محبت پر مجبور کر دیتی ہے ۔۔۔۔
وہ بولی تو سکندر نے سے گھورا
میں اڑیل ہوں ؟ وہ اسے مصنوعی گھوری سے نوازتے بولا
ہاں تو آپ کو یاد نہیں ہے آپ کی اور مپری ساری ملاقاتیں کس قدر خطرناک ہوتی تھیں ۔۔۔ وہ ہستے ہوے بولی تو سکندر نے سر جھٹکا ۔۔۔
میرے لیے ان سب ملاقاتوں کو یاد کرنا شرمندگی ہے ۔۔ وہ نظریں پھیرے بولا
فریال کا دل جیسے مٹھی میں قید ہو گیا ہو ۔۔ وہ چند پل کچھ بول نہیں پائ ۔۔۔
مجھے شرمندگی ہوتی ہے کہ میں انجانے میں اپنی ڈریک حیات کے ساتھ کس طرح سختی سے برتاؤ کرتا رہا
وہ اب بھی نظریں کسی غیر مری نقطے پر جمائے بولا
تو فریال نے آنکھیں میچی ۔۔۔ وہ تو دل کی کیفیت کو سمجھ نہیں پائ ۔۔
کیا وہ اس کے منہ سے کوی بھی سخت جملہ سنتی تو اگلی سانس لے پاتی ؟
اس نے جھرجھری لی ۔۔۔۔
سائیں ۔۔۔اس وقت میں نا محرم تھی آپ کے لیے آپ کا شاید مجھ سے سختی سے بات کرنا آپ کی حیا تھی ۔۔۔ آپ مجھ سے نرم لہجے میں بات کرتے تو مرد اور عورت کو تو اسلام بھی سخت لہجے میں بات کرنے کو کہتا ہے نا ۔۔۔۔
تو سکندر مسکرایا ۔۔۔
ہاں تبھی تو جب تم نے ایک دفعہ نرم لہجے میں بات کی تو میرا دل پھسل گیا تم پر ۔۔۔
وہ اب بات کو مزاحیہ رنگ دیتے بولا تو فریال نے اسے کے سینے میں چھپنا چاہا ۔۔۔ جس پر سکندر کا قہقہہ گونجا ۔۔۔
🍁🍁
وہ کمرے میں آچکا تھا جب کہ اسکی بیوی ناجانے کونسے کٹے باندھنے میں مصروف تھی کہ اسے کمرے میں آنے کی فرصت نہیں مل رہی تھی ۔۔۔
وہ چینج کرکے بیٹھ گیا ۔۔ مسلسل اس کے انتظار میں بیٹھے اب وہ اٹھا اور اپنے لمبے بالوں میں ہاتھ چلایا ۔۔ اس کے لمبے گھنے بال اس کے ماتھے سے کچھ پیچھے کی جانب سیٹ کیے ہوے تھے جو ہاتھ چلانے سے بکھر کر اسکے ماتھے پر گرے ۔۔۔
وہ چپل اڑیستے وہ کمرے سے نکل گیا ۔۔۔
Epi 18 s2
نیچے آیا ۔۔۔ شادی اتنی اچانک ہوی تھی کہ ان کو سرپرائز طریقے سے شادی پر چند مہمانوں کو ہی بلانے کا وقت ملا تھا ۔۔۔
جو اب نیچے کے کمروں اور کچھ گیسٹ رومز میں سو رہے تھے ۔۔۔
وہ کیچن میں گیا مگر وہ وہاں بھی نہیں تھی ۔۔ اب اسکی تلاش میں وہ مجنو نکل پڑا تھا ۔۔۔ بنا اسے لیے واپس کمرے میں جانے کا کوی ارادہ نہیں تھا ۔۔۔
بی جان کے کمرے میں جانے کا ارادہ کیا کہ اسے بی جان کے کمرے سے نکلتی سائشہ نظر آئ جس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا ۔۔۔
سائیں کیا ہوا ؟ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟ سائشہ نے بھاری کامدار شرارا ایک طرف سے اٹھاتے اس کی جانب قدم بڑھاتے کہا ۔۔۔
شہریار نے اسکے آج آتشی روپ پر اسے نظر بھر دیکھا پھر بنا کوی جواب دیے ۔۔ وہ آگے بڑھا اور اسکا شرارہ ایک طرف سے اٹھایا ۔۔۔
وہ بنا بولے بھی اسکی مدد کر رہا تھا ۔ سائشہ نے مسکرا کر اس کے ناراض چہرے کو دیکھا ۔۔۔۔
اسکی طبعیت ابھی اتنی ٹھیک تو نہیں ہوی تھی مگر وہ جناب کمرے میں ٹک بھی نہیں رہے تھے ۔۔۔
وہ گلاس ڈائینگ پر رکھتی ابھی پلٹی تھی جب شہریار نے لمحے میں اسے گود میں اٹھا لیا ۔۔۔
شہریار ۔۔۔ وہ دھیمے لہجے میں مگر دبے دبے الفاظ میں چلائ تھی ۔۔۔
حویلی میں اس وقت روشنی بس نام کی تھی باہر کی روشنی سے اندر کا منظر بس ہلکا ہلکا نظر آرہا تھا ۔۔۔
شہریار بنا جواب دئیے اسے اٹھا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔
شہریار کیا کر رہے ہیں کوی دیکھ لے گا ۔۔۔۔ وہ آگے پیچھے دیکھتی شرمندہ ہوتی بولی
کیوں کسی کی بیوی اٹھائ ہے میں نے ؟وہ ناراض ہوتے بولا
سائشہ نے اسکی بات پر سر نفی میں ہلایا ۔۔۔۔ مگر پھر آگے پیچھے دیکھنے لگی
جب وہ اسے اٹھائے سیڑھیاں چڑھتے اس کے وجود کو بڑے دھیان سے تھامے ہوے تھا ۔۔۔ جیسے اسکی زرا سی سخت گرفت پر وہ ٹوٹ جائے گی ۔۔۔۔
وہ اسے کیے کمرے میں داخل ہوا تو سائشہ کا رکا سانس بحال ہوا ۔۔۔
کمرے میں آکر اسنے اسے زمین پر کھڑا کیا ۔۔۔ تو وہ جلدی سےخودکو کمپوز کرتی اس کے سنجیدہ چہرے کو دیکھنے لگی ۔۔۔
کیا ہوا؟ وہ اسکی ناراضگی محسوس کرتے بولی
آپ میری بیوی ہیں ؟وہ ایسے پوچھ رہا تھا جیسے اسے پتہ نا ہو ۔۔۔
جی۔۔۔ سائشہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا ۔۔۔
بیویاں اپنے شوہروں کے لیے تیار ہوتی ہیں ؟
جی اسکے بے تکے سوالوں کے جواب دیتے سائشہ پریشان ہوی
تو آپ اس وقت بی جان سے تعریف کروانے گئ تھیں ؟ وہ اب کی بار بولا تو سائشہ کھکھلائ ۔۔۔
ہاہاہا ۔۔۔ شہریار وہ دراصل ان کے سر میں درد تھا ان کو دوا دی تو ان کو پھر بھی تھکاوٹ تھی اسلیے میں ان کاسر دبا رہی تھی ۔۔۔
یار آپ سارے گھر والوں کی خدمتیں کریں شوہر جائے بھاڑ میں ۔۔۔
وہ اب بھی ناراض ہوتا بولا
شہریار ۔۔ وہ اسکے ناراض ہونے پر اب نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
انہہہہ ۔۔ آپ جانتی ہیں نا یہ آنکھیں کتنی قیمتی ہیں ۔۔؟
مجھ عشق ہے ان آنکھوں سے ۔۔۔وہ اس کے رونے کی تیاری پکڑنے پر نرم پڑتا بولا
تو آپ ایسے بات کیوں کر رہے ہیں میں کیا نیچے ڈانس کر رہی تھی کہ آپ اس طرح ناراض ہو رہے ہیں ؟
وہ اب اسکی پناہ میں بولی ۔۔ آنکھیں مزید بھیگ گئیں ۔۔۔۔
شہریار نے اسکی بھیگی آنکھوں کو انگوٹھے سے صاف کیا
اچھا میں ایک شرط پر مانوں گا ۔۔ وہ اسے تھامتے بولا
بولیں کس شرط پر ۔۔۔ ؟ وہ جلدی سے بولی ۔۔۔
جیسے اسکی ناراضگی سہہ نا پا رہی ہو ۔۔۔
آپ میرے ساتھ ڈانس کریں گئیں ۔۔۔
وہ اسے دیکھتے شرارت سے بولا
شیری ۔۔ وہ منہ دوسری جانب کرتی غصےسے بولی ۔۔
جی شیری کی جان ۔۔
میں اب تبھی مانوں گا جب آپ میرے ساتھ ڈانس کریں گی ورنہ بھول جائیں کے آپ کا شوہر بھی تھا سمجھیں مر ۔۔۔۔
ابھی اسکی بات مکمل ہوتی کہ سائشہ کی رونے کی آواز پر وہ اسکا رخ اپنی طرف کرتا پریشان ہوا
اچھا ۔۔۔ ٹھیک ہے میں نہیں کہتا ڈانس کے لیے ۔۔
اسے لگا وہ اس بات پر رو رہی ہے ۔۔ وہ اسے پکڑتے نرمی سے بولا
سائشہ اسکے سینے سے لگی تو وہ حیران ہوا۔
آپ بہت اچھے ہیں شہریار ۔۔ میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں ۔۔۔ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔ کبھی نہیں ۔۔۔
خدا کے لیے مرنے کی بات مت کیا کریں ۔۔۔ آپ کو کھو دینے کا خوف پہلے ہی دل سے نہیں جاتا مزید آپ اس طرح سے باتیں کرکے مجھے ڑرا دیتے ہیں ۔۔۔
وہ روتے ہوے بولی
وہ اس وقت گلابی رنگ کے شرارے کرتی میں کھڑی تھی جس پر گولڈن کلر کا ہلکا کام ہوا تھا ہلکے گلابی رنگ کے کپڑوں کے ساتھ اس نے ہلکا پھلکا سا میک اپ کیا ہوا تھا اپنی للنبی ترچھی ہوی آنکھوں میں کاجل لگائے ۔۔۔ آی شیڈو گولڈن کلر کا لگائے ۔۔
اسکی سانولی رنگت اس وقت اس قدر دمک رہی تھی کہ اس کے آگے کوی گوری لڑکی بھی اتنی حسین نا لگتی ۔۔
وہ تھی ہی سحر برپا کر دینے والے نقوش والی لڑکی ۔۔۔ لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ آنکھوں میں ہلکی سی نمی ۔۔۔
جو بھی اسے دیکھتا تو اسے دیکھ کر مصور کی شان میں سبحان اللہ کہے بنا نا رہ پاتا
ضروری تو نہیں کہ گوری رنگت ہی انسان کو خوبصورت بنائے انہہہہ
میرا ماننا ہے سانولی رنگت کی جو کشش ہوتی ہے وہ فوری رنگت کو بھی مات دیتی ہے
وہ اسے دیکھتے مسکرایا ۔۔۔
لڑکیاں محبت کا اظہار بھی روتے ہوے کیوں کرتی ہیں ؟
وہ ماحول کو ہلکا پھلکا کرنے کے لیے بولا
کیونکہ آپ لوگ پھر زیادہ پھیل جاتے ہیں ۔۔۔ وہ ناک منہ چڑھا کر بولی
دیکھیں سائشہ یہ فریال بھابھی کے ساتھ ہر وقت مت رہا کریں ۔۔۔ بلکل مسسزسکںدر کی طرح بنتی جا رہی ہیں ۔۔ وہ ہلکا سا ہستے ہوے بولا
خبردار سائیں آپ نے بھابھی کے بارے میں کچھ کہا میں آپ سے بات نہیں کروں گی ۔۔۔ اور اگر سکندر بھائ نے سن لیا تو وہ اس بار خود آپ کو ہسپتال پہنچائیں گے ۔۔ وہ بولی تو وہ دونوں ہی ہسنے لگے
🍁🍁🍁
وہ کال سننے کے لیے باہر نکلا تھا امگر جب کمرے میں آیا تو لائیٹس بند کر دی گئ تھیں ۔۔۔ جب کہ بیڈ پر ایک طرف وہ سکون سے اس وقت گہرے نیلے رنگ کی قمیض کیپری پہنے کمفرٹر اوڑھے سو رہی تھی جب کہ اس کو سوتے دیکھ کر اس نے قدم اسکی جانب لیے ۔۔ وہ اس وقت ٹراؤزر شرٹ میں تھا
وہ اسکے پاس بیٹھا ۔۔ جو گہری نیند میں تھی ۔۔۔
شایان نے محبت سے اسے دیکھا ۔۔۔
اگر تم کسی اور کی ہو جاتی تو شاید میں مر جاتا ۔۔ وہ ہلکی آواز میں بولا ۔۔۔
سوئے ہوے وجود نے حرکت نہیں کی تھی ۔۔۔۔
کتنا مشکل تھا وہ ہر لمحہ جب تمہیں کسی اور کے نام پر آگے پیچھے گھومتے دیکھنا ۔۔۔
اسی لیے میں نے اسد کو اس کے بندے کرتوں پر پولیس کے حوالے کیا۔۔۔
اففف موٹو تمہارے لیے شایان احمد کتنا تڑپا ہے ۔۔ وہ دل کی خواہش پر آمین کہتے اسکے مومی نرم گالوں کو نرمی سے دو انگلیوں سے چھوتے بولا
اس کی نرماہٹ محسوس کرکے دل میں گدگدی سی ہوی ۔۔۔
وہ مسکرایا ۔۔۔
کیوٹی ۔۔ وہ مسکرا کر اسے دیکھتے دل کی تہہ گرائ سے خوشی محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
🍁🍁🍁
وہ جب صبح اٹھی تو کمرے میں اکیلی تھی ۔۔۔ دوسری جانب بیڈ پر سروٹیں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہ کمرے میں آیا تو تھا مگر اب نہیں ہے ۔۔۔
کھلے بالوں کو میسی جوڑے میں باندھتی وہ بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ ۔۔۔
کل کی تھکاوٹ ابھی تک نہیں اتری تھی ۔۔۔
پورے کمرے کو پر سکون طریقے سے دیکھتے وہ ہر چیز کو دیکھنے لگی ۔۔۔
اس نے پورے کمرے کا جائزہ لیتے محسوس کیا تھا کہ اس کے شوہر کے شوق کافی بچکانہ تھے جیسے گٹار بجانا ۔۔
کرکٹ کے لیے اسکے روم میں بیٹس پڑے تھے جب کہ فٹ بال دیکھ کر مقدس مسکرائ ۔۔۔
چلو ہم کچھ کچھ ہوتا ہے ہی طرح فٹ بال میچ کریں گے ۔۔ وہ ہستے ہوے بولی ۔۔۔
اپنے پاس کسی کی موجودگی پر اس نے چونک کر دوسری طرف دیکھا جہاں فریال کھڑی تھی
مقدس جلدی سے بیڈ سے اتری تو فریال نے منہ دوسری طرف کر لیا ۔۔۔
شایان نیچے آگیا ہے ۔۔ تم بھی فریش ہو کر ناشتے کے لیے اجاو۔۔
وہ کہہ کر جانے لگی جب مقدس نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے جانے سے روکا ۔۔۔
فریال نے انجانے تاثرات لیے اسے دیکھا ۔۔۔فری ایم سوری یار ۔۔۔
وہ پل مین بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتے بولی ۔۔
کس لیے معافی مانگ رہی ہو ؟
فریال نے کڑے تیورات سے اسے دیکھا اور اسکی بھیگی آنکھوں کو صاف کیا
جب کہ مقدس روتے میں مسکرای جس پر فریال نے گھورا ۔۔
دیکھو چھوٹی دیوارنی اس طرح صبح صبح رو کر تم ہمارے معصوم شریف بھولے بھالے سے شایان پر تشدد کا الزام نہیں لگا سکتی ۔۔۔
فریال کی بات پر مقدس مسکرای اسکی موٹی گالیں بے حد کیوٹ لگ رہی تھیں ۔۔۔ فریال کا دل چاہا اسے بھینچے مگر پھر نظریں پھیر لیں
ہاں جیٹھانی صاحبہ آپ کا دیور تو بے تحاشہ معصوم ہے آپ نے اس کو بتایا نہیں کہ بیوی کو منہ دیکھائی کا گفٹ بھی دیتے ہیں ؟
وہ اسے دیکھتے بولی تو
فریال نے اسکی جانب دیکھا
آئے ہاے یار اس معاملے میں یہ تینوں بھائ ہی بڑے کنجوس نکلے ۔۔ وہ اب کی بار دوستانہ بولی ۔۔
کیا مطلب ؟
مقدس سوالیہ ہوی ۔
سکندر نے مجھے بھی نہیں دیا تھا ۔۔
وہ بولی تو مقدس نے اسے چماٹ رسید کی ۔۔۔ جھوٹی ملا تھا تمہیں گفٹ ۔۔۔
بس عادت سے مجبور ہو جہاں کوی اپنا غم سنائے تم اپنا رونا رونے بیٹھ جاتی ہو ۔۔ وہ اسے دیکھتے بولی پھر جا کر بیڈ پر بیٹھ گئ
اہہہ ۔۔ تو بندہ بعد میں بھی تو گفٹس دیتا ہے نا پر نہیں بھئ ۔سوائے اس ندی کے جو میں نےخود مانگی تھی اس کے علاؤہ کچھ نہیں دیا تمہارے کنجوس سکندر بھائ نے ۔۔۔
وہ بھی اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتی بولی ۔۔۔
ہمم۔ مقدس نے سمجھنے کے انداز سے سر ہلایا ۔۔
ارے یار بندہ موقعہ بے موقعہ گفٹ دیتا رہتا ہے پر نہیں ان کنجوسوں کو تو اس معاملے میں خالی پایا ہے ۔۔
وہ بولی تو مقدس مسکرای ۔۔۔
مقدس کے مسکرانے پر فریال جلدی سے کمپوز کرتی اٹھی ۔۔
جب مقدس نے آگے بڑھتا سے گلے لگایا ۔۔۔
بس کر دو ۔۔ فری مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔ میں نے جو بھی کیا جس سے تم ہرٹ ہوی مجھے معاف کر دو ۔۔۔
وہ بولی تو فریال نے اسے الگ کیا ۔۔
اس لیے معاف کر دوں کہ تم نے مجھے اپنے آپ سے اتنا دور کر دیا ۔۔۔میں سمجھتی تھی کہ میں اور تم بہت قریب ہیں پر نہیں ۔۔ تم نے مجھے پرایہ محسوس کروایا ۔۔۔
وہ اسے دیکھتے بھیگے لہجے میں بولی ۔۔۔
کافی دیر کی منت سماجت سے ہماری پیاری سے جنگلی بلی مان چکی تھیں
اچھا چلو اب تم تیار ہو کر نیچے آجاؤ مجھے نیچے سائشہ کی مدد کرنی ہے ۔۔ وہ کہتے کمرے سے نکل گئ
🍁🍁
مقدس ہرے رنگ کے خوبصورت کامدار اور نفیس سا سوٹ کو زیب تن کیے ٹیبل کی جانب بڑھی جہاں سب بیٹھے تھے ۔۔۔ حویلی کے سب لوگ ۔۔۔۔
جب کہ ان مین سائرہ بیگم اور شایان نہیں تھے ۔۔۔
وہ جا کر بی جان کو سلام کرتی ان کے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔
شایان اس طرف آیا تو اسے بیٹھے دیکھا ۔۔۔
بھائ وہ جو ہمارا ولیمہ سوچ رکھا ہے آپ نے کینسل کر دیں مجھے کوی ولیمہ نہیں کروانا ۔۔
وہ مقدس کو تنگ کرنے کے لیے بولا ۔۔۔
سکندر اور شہریار نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
جب کہ شایان نے ان دونوں کو اتنے سستے میں مان جانے پر گھورا ۔۔۔
🍁🍁🍁
اسلام علیکم! شہریار نے کال رسیو کرتے کہا ۔۔۔ اس وقت اس نے وڈیو کال رسیو کی تھی ۔۔۔ سب گھر کے افراد اس وقت لاونج کے صوفوں کر بیٹھے چائے پی رہے تھے ۔۔۔
وعلیکم السلام جانی کیسے ہو ؟ سعد کی آواز گونجی
الحمدللہ ۔۔۔ تم نے تو زحمت نہیں کی کہ دوبارہ یہاں میرا پتہ کرنے آتے ۔۔ شہریار نے شرارت سے کہا
ہاں سوچنا بھی مت میں وہاں آؤں گا ارے تمہارے بھائ نے اتنا مارا تھا قسم لے لو اب بھی یاد کرکے درد محسوس ہوتا ہے ۔۔۔
سعد کی آواز پر سب ہسنے لگے ۔۔۔
بلکل ! اس کو یاد رکھنا تو آئندہ کسی گھر میں چوری چھپے نہیں آؤ گے ۔۔۔ سکندر نے مسکرا کر کہا
جس پر سعد نے اسکی آواز پر دل پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
ابے تو نے ہٹلر کو پاس بٹھایا ہوا ہے ۔۔ وہ منہ بناتے بولا
ارے سکندر بھائ یہ کسی کے گھر میں کیا ہی چوروں کی طرح جائیں گے یہ تو اب اپنے گھر میں بھی دس دفع بیل دے کر آتے ہیں وہ بولی تو لاونج میں قہقے گونجے ۔۔
شایان تمہاری ماں کب تک واپس آئے گی ؟
سائرہ بیگم ناراض ہو کر اپنے بھای کی طرف چلی گئ تھیں جب ان کو شایان کی شادی کی خبر ملی تھی اب بی جان ان کی واپسی کے بارے میں پاس بیٹھے شایان سے بولیں
پتہ نہیں بے جان ۔۔۔ میں جاؤں گا ان کو منانےباقی اللہ خیر کرے ۔۔۔
وہ تحمل سے بولا ۔۔ لفظوں کو تو وہ کہہ گیا مگر آنکھوں میں خالی پن تھا ۔۔۔
بی جان نے سر اثبات میں ہلایا
🍁🍁🍁
آج بی جان کے حکم پر وہ تینو جوڑے گھومنے پھرنے کے لیے نکلے تھے مگر ہر دفع کی طرح شایان نے پھل جھڑی چھوڑ دی تھی کہ وہ مری جائیں گے مگر وہ ان سے الگ راستے سے جائے گا ۔۔۔
جس پر سکندر نے اڈے گھورا مگر اب محترم شادی شدہ تھے تو بات پہلے بھی رد نہیں ہوتی تھی تو اب کیسے ہوتی ۔۔۔۔
بالآخر سب نے اسے اجازت دی کہ وہ الگ راستے سے آسکتا ہے ۔۔۔۔
✍️✍️
وہ اسے لیے گاڑی کی طرف بڑھا ۔مقدس نے خوبصورت منظر کو دیکھنے کے لیے ابھی سے آنکھیں بند کر لیں کہ وہ اب وہاں ہی آنکھیں کھولے گی ۔۔۔
جب کہ شایان نے منہ کے زاویے بنائے ۔۔۔ یعنی حد ہے میاں پاس بیٹھا ہے اور یہ میڈم نیند پوری کر رہی ہیں جیسے آراء رات گاؤں کی پہرے داری پر تھی ۔۔۔
ان کا ولیمہ سائرہ بیگم کی واپسی تک ملتوی کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔
محترمہ میں تمہارا ڑراییور نہیں ہوں ! آنکھیں کھولو ۔۔۔
وہ اب کی بار ِچڑ کھاتے بولا
شوہر تو ہیں نا وہ بھی آنکھیں کھولتی دو بدو جواب دیتی اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی کیوٹ سا فیس بنائے اسکے اگلے جواب کی منتظر تھی
جو اسے دیکھتا سر جھٹکا گاڑی ڈرائیو کرنے پر دھیان دیا ورنہ وہ گاڑی ضرور کہیں ٹھوک دیتا
جب کہ جواب نا پا کر وہ بری طرح بور ہوی ۔۔۔
ویسے شایان ایک بات تو بتائیں ۔۔۔۔
میں تمہیں آدھی بات کا جواب نا دوں آئ بڑی ایک بات کا جواب دیں ۔۔۔
وہ منہ بناتے ہنوز سامنے دیکھتے بولا
جب کہ وہ نہیں چاہتا تھا مزید اس کی کیوٹ بیوی اسے اپنے معصوم گلابی چہرے سے ہوش گنوانے پر مجبور کر دے ۔۔۔
مقدس نے منہ کے زاویے بگاڑتے چہرہ دوسری طرف کرتے باہر کے منظر پر نظر ڈالی ۔۔۔
پچھلی گاڑی میں سکندر اور فریال تھے جب کہ اس سے پیچھے گاڑی میں شہریار اور سائشہ
گاڑی روکو شایان مجھے فری کے پاس جانا ہے !
اب کی بار وہ اسکی جانب رخ کرتی سختی سے بولی
یہ حکم کس کو سنا رہی ہو؟ وہ ہنوز اپنی ناراضگی ظاہر کرتے تلخ لہجے میں بولا
اسے ہی جو مجھے سوتا سمجھ کر اپنے دل کی گہرائیوں سے مجھ سے اظہارِ محبت کر رہا تھا ۔۔
وہ اسے دیکھتے آی برو نچاتے بولی
تو شایان نے جھٹکے سے گاڑی روکی
تم تم ۔۔۔ تم سو نہیں رہی تھی ؟ وہ ہکلاتے ہوے بولا
نن ننہ نہیں ۔۔ وہ بھی اسکی نقل اتارتے بولی کیوٹ سی مسکراہٹ سجائے وہ اب اسے آگ لگا رہی تھی
تمہیں شرم نہیں آئ کسی کی باتیں سنتے ہوے ۔۔
نا تو کیا کان لپیٹ لیتی میں ؟ خودی پاس آکر بول رہے تھے سو رہی تھی مری تھوڑی تھی کہ میری آنکھ نا کھلتی ۔۔
وہ اسے دو بدو جواب دیتی بولی
ابھی ان کی مزید بحث ہوتی کہ شایان کی جانب والے دروازے کے شیشے پر ناک ہوا۔۔۔
شایان نے پلٹ کر دیکھا تو وہاں سکندر کڑوے تیورات سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
شایان نے پلٹ کر شیشہ نیچے کیا
نکلو باہر تم دونوں کو ایک ساتھ چھوڑنے کو پہلے ہی دل راضی نہیں ہے اوپر سے تم دونوں کتے بلیوں کی طرح جگھڑرہے ہو
ضرور کوی چن چڑھاؤ گے ۔۔۔ وہ سخت برہم ہوتے بولا
وہ پریشانی سے اپنی گاڑی سے نکلا تھا جب ان کی گاڑی رکی تھی ۔۔
مگر شیشے سے جھانک کر دیکھا تو وہ لوگ فرصت سے گاڑی روکے جھگڑنے میں مشغول تھے
نن نہیں بڈی آپ جائیں ہم اب بلکل بھی نہیں لڑیں گے ۔۔ وہ جلدی سے بولا
اور شیشہ اوپر کر لیا ۔۔۔ جب کہ سکندر دانت پیس کر دیکھںے لگا
شایان فراٹے سے گاڑی وہاں سے بھگا کر لے گیا
سکندر واپس اپنی گاڑی میں آیا ۔۔ اسی طرف ارے شہریار نے سوالیہ دیکھا اس نے بھی گاڑی روک لی تھی
کیا ہوا سکندر ان لوگوں نے گاڑی کیوں روکی ؟
جناب فرصت سے گھتم گھتا ہونا چاہتے تھے لہذا گاڑی روک کر 2025 کی جنگ عظیم ہو رہی تھی
وہ غصے سے بولا
توبہ ہے ان دونوں کی بچکانہ حرکتیں ابھی تک نہیں گئ ۔۔ وہ بھی بڑبڑاتا واپس گاڑی کی جانب بڑھا
سکندر گاڑی میں بیٹھا تو ساتھ والی سیٹ پر اسکی جنگلی بلی ٹیک لگائے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ شہریار کو بتاتے ہوے بات سن چکی تھی
اچھا چھوڑیں غصہ کیوں کر رہے ہیں ہم بھی تو لڑتے ہیں اب ان معصوم بچوں کو لڑنے بھی نہیں دیں گے ؟
وہ اب کے دفاع میں بولی
سکندر نے سرد سہہ بھری ۔۔۔
اسکی جنگلی بلی کو تو ویسے ہی لڑائ جھگڑے کی شوقین تھی محترمہ کو کچھ کہتا تو وہ یہاں ایک جہاز کھول لیتی اسی لیے خاموشی میں ہی آفیت جانی
🍁🍁🍁
وہ لوگ اس وقت جی ٹی روڈ پر تھے گاڑیاں پہ در پہ چلتی جا رہی تھیں گاڑی میں ہلکا سا میوزک بج رہا تھا جو کہ شایان نے ہی لگایا تھا تاکہ کچھ سفوکیشن ختم ہو
وہ اپنے آپ کو سلواتیں دے رہا تھا کہ وہ اس کو کتنا معصوم سمجھ رہا تھا مگر اس کی کیوٹی تو بڑی شیطان نکلی
سوتے بننے کی ایکٹںگ پر وہ اش اش کر اٹھا تھا
جب کہ دوسری جانب شیشے سے باہر دیکھتی مقدس شرمندہ تھی اس نے اپنی ایکٹنگ کے بارے میں پہلی ہی دفع اسے بتا دیا ۔۔۔ ابھی تو اسے یہ ایکٹنگ بڑے کام آنی تھی مگر اس نے اپنا بھانڈا پھوٹ دیا
شایان نے راستہ بدلتے ہوے جنگل کی طرف رخ کیا ۔۔ ۔۔۔
ابھی وہ بیچ و بیچ تھے جب ش
مقدس نے اسے پھر سے مخاطب کیا
شایان ایسا کب تک چلے گا ؟ وہ اسے دیکھتے بولی ۔۔
ظاہر ہے جب تک راستہ نہیں ختم ہوتا تب تک ۔۔ اس نے نا سمجھی سے اسے دیکھتے کہا
بدھو میں تمہاری ناراضگی کی بات کر رہی ہوں ۔۔۔ میں نے معافی مانگی ہے نا پلیز اب مجھ سے ناراض مت رہو۔ ۔۔
وہ بولی تو شایان نے کندھے آچکائے
جیسے تمہیں بڑا فرق پڑ رہا ہے۔
وہ جلے لہجے میں بولا
صدا کے ناشکرے انسان لڑکی ناملے تو چراغ اٹھا کر جنگلوں میں چلے جاتے ہو اور لڑکی کے نام پر پاگل ہو جاتے ہو
اور جیسے ہی لڑکی مل جائے پھر تو تیور نہیں ملتے
وہ منہ بنا کر بولی ۔۔۔
ایک دفع پھر ان دونوں کی بحث شروع ہو گی تھی۔ ۔۔۔
شایان دھیان سے ۔۔ وہ دونوں بحث میں اس قدر مصروف تھے کہ سامنے سے آتی گاڑی پر ان دونوں کا دھیان نہیں گیا
جب سامنے کی گاڑی جھٹکے سے رکی اور وہاں سےاگکے دو منٹ میں چار پانچ آدمی جنہوں نے چہرہ ڈھکا ہوا تھا وہ پسٹل ان کی گاڑی پر نشانہ دیتے شایان کو باہر بلا رہے تھے ۔۔۔
جی کیا کام ہے آپ کو ؟ وہ انہیں دیکھتے بولا
تیرا رشتہ کروانا ہے ۔۔۔ ایک آدمی اس کو دیکھتے سخت لہجے میں بولا
کیا وہ اتنا بھولا تھا کہ اسے ان کے حلیے سے سمجھ نہیں آیا کہ وہ لوگ ڈاکو ہیں
ارے نہیں بھائ اسکی ضرورت نہیں ہے میری کچھ دن پہلے ہی شادی ہوی ہے ۔۔۔
وہ مسکرا کر ان کو دیکھتے بولا
جب کہ دوسرے آدمی نے سمجھنے کا موقع دیے بنا ٹانگ شایان کو ماری جسے اتنی ہی پھرتی وہ وہ پکڑ کے اگلے ہی لمحے توڑ چکا تھا
نا کاکا نا ۔۔۔۔
میں شرارتی ہوں مگر بے وقوف نہیں ۔۔۔ وہ کہتے سن سب کو بری طرح پیٹ چکا تھا ۔۔۔
اب وہ لوگ گرتے پڑتے خود کا بچاؤ کر رہے تھے ۔۔۔
یہ لوگ فلحال اتنی ہی کیش ہے ۔۔ وہ اپنے وائیلٹ سے پیسے نکال کر ان کو دیتے بولا
انسان بن جاؤ ورنہ تم لوگوں کو کتے بھی دیکھ کہ نا ڑرئیں ہم انسان تو دور کی بات ۔۔۔
وہ واپس گاڑی میں آیا ۔۔۔
راستے میں کوی کھانے کی جگہ ڈھونڈو پلیز مجھے بھوک لگ رہی ہے ۔۔۔ وہ بولی تو وہ جنگل سے نکل چکے تھے اب روٹ پر گاڑی چلاتے شایان نے اسے دیکھا
اوکے بس تھوڑا سا ویٹ کرو آگے ایک اچھا سا ریسٹورنٹ کے وہاں کھانا کھلاتا ہوں ۔۔۔۔
وہ پیار سے بولا
Epi 13
وہ اسے لیے ایک خوبصورت مہنگے ریسٹورنٹ میں آیا ۔۔۔
اسے ایک خوبصورت ٹیبل کے پاس لے جاتے اس نے کرسی کھینچ کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا
مقدس مسکرا کر بیٹھ گئ جب کہ دوسری کرسی پر جا کر وہ خود بیٹھا
ویٹر ان کے پاس آیا ۔۔۔
انہوں نے آڑر دیا پھر وہ لوگ باتیں کرنے لگے
کچھ دیر میں کھانا ان کے ٹیبل پر لگ چکا تھا ۔۔۔
آرام سے کھانا کھانے کے بعد وہ کاؤنٹر پر جا کر بل ہے کرنے کے لیے کریڈیٹ کارڈ بڑھا گیا
مگر دو منٹ کی کوشش کے بعد بھی کیشئیر نے حیرت سے خوبرو نوجوان شایان کی طرف دیکھا
سر آپ کے پاس کوی اور کریڈٹ کارڈ ہے تو وہ دے دیں یہ تو بلاکڈ ہے ۔۔۔
کشئیر کی بات پر وہ جو پر سکوں کھڑا تھا ہل کر رہ گیا
ارے نہیں نہیں آپ پھر سے ٹرائے کریں ۔۔۔ وہ اب زرا چونک کر بولا
جی سر ہم نے تین دفع کوشش کی ہے مگر یہ بلاکڈ ہے ۔۔۔
افف او ماما بھی بری طرح بدلہ لے رہی ہیں وہ بڑبڑایا
اس نے وائلٹ کھولا تو اس میں کچھ پیسے تھے مگر زیادہ نہیں تھے کیونکہ وہ زیادہ تر کیش اپنے پاس نہیں رکھتا تھا
اس نے کچھ پیسے نکال کر ان کو دیئے ۔۔۔
🍁🍁
کہاں چلے گئے ہیں یہ ۔۔۔ مقدس اپنے موٹے موٹے ہاتھوں کو اپنے موٹے گالوں والے سرخ و سفید چہرے کے گرد رکھتے تھکے ہوے لہجے میں بولی ۔۔۔
کافی دیر ہو چکی تھی شایان کو گئے ہوے وہ اسے وہاں سے اٹھنے سے منع کرکے گیا تھا اب وہ کافی تھک چکی تھی اور بوریت بھی ہو رہی تھی
ایکسکیوزمی ۔۔۔ اس نے ایک ویٹر ہو دوسرے ٹیبل پر کچھ سرف کرتے دیکھ کر مخاطب کیا
جی میم ! وہ معدب انداز میں بولا
میرے شوہر اندر گئے تھے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کہاں گئے ہیں کافی دیر ہو چکی ہے ان کو گئے ہوے ۔۔۔
میم آپ ویٹ کریں ان کو مینیجر سے کچھ کام تھا اس لیے وہ مصروف ہیں وہ ویٹر بات کو ٹالتے ہوے جلدی سے کہتا وہاں سے غائب ہو گیا
حد ہے یہاں میں انتظار میں سوکھ رہی ہوں اور ان کو کام پڑ گئے ہیں وہ منہ میں بڑبڑاتی ہوی اب پریشان ہو رہی تھی
🍁🍁
Epi 19 s2
فریال اور سائشہ اس وقت ہوٹیل کے اندر داخل ہوئیں ۔۔۔
کیونکہ ان کو پہنچتے ہوے کافی دیر ہو چکی تھی اور وہ لوگ کافی تھک چکے تھے اسلیے آرام کرنے کے بعد ہی وہ لوگ گھومنے کا ارادہ رکھتے تھے
مقدس اور شایان کہاں رہ گئے ہیں ؟ سائشہ نے سوالیہ انداز سے فریال کو مخاطب کیا
ہو گئ ہو گی ان کی ایک دفع پھر سے جنگ ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ دونوں ہی عقل سے فارغ ہو چکے ہیں ۔۔۔
بیچ راستے میں گاڑی روکے وہ لوگ جھگڑا کر رہے تھے حد ہے
فریال آگے چلتے ہوے جھنجھلاتے ہوے بولی
سامنے سے آتی شخصیت کو دیکھ کر وہ پل میں وہیں تھم گئ ۔۔ سامنے زکریہ شاہ اور اسکے ساتھ ایک نازک سی لڑکی جو شاید ہاتھ لگانے سے بھی میلی ہو جاتی بے تحاشہ معصوم چہرہ لیے زکریہ شاہ کی کسی بات پر شرماتے ہوے اس کے ساتھ چل رہی تھی
فریال کو پل میں یاد آیا کہ یہ وہ ہی شخص ہے جس نے اسکو گھنڈوں سے بچایا تھا اور پھر بی جان سے اوہ ساری معلومات لے چکی تھی تو اب اس کو دیکھ کر ان کی طرف قدم بڑھائے
زکریہ شاہ اپنی وجاہت کے ساتھ چلتا جویریہ شاہ کو ناجانے کس بات پر شرمانے پرمجبورکرتا خودبھی دلکش انداز سے مسکرا رہ تھا
نظر سامنے سے آتی فریال پر پڑی تو وہ تھم گیا ۔۔۔
اسلام و علیکم! فریال نے نرم لہجے سے کہا تو جویریہ شاہ نے سوالیہ انداز میں زکریہ شاہ کو دیکھا
وعلیکم السلام!
اس نے نظریں نیچے رکھے جواب دیا
سکندر کی بیوی ہیں یہ چھوٹی سردارنی ۔۔۔ پھر اس نے جویریہ شاہ کو تعارف کروایا جس پر وہ بھرپور مسکرائ
اور اگلے ہی لمحے اس نے فریال کو گلے لگایا ۔۔۔
کیسی ہیں آپ مجھے آپ سے مل کر بہت اچھا لگا وہ نرم لہجے میں دھیمی آواز میں بولی وہ لڑکی جتنی نازک دکھتی تھی اتنی ہی نازاکت اسکے بول چال میں بھی جھلک رہی تھی
مجھے بھی ۔۔۔ فریال کو نرم سی نازک گڑیا بہت پسند آئ ۔۔۔
وہ بھی مسکرا کر بولی
چلیں ۔۔۔۔ زکریہ شاہ نے جویریہ شاہ کو دیکھتے کہا جس پر وہ سر ہلاتے جانے لگی ۔۔۔
آپ لوگ یہاں کس کمرے میں ٹھہرے ہیں ؟ جویریہ شاہ نے جاتے ہوے قدم روکتے کہا
112 فریال نے اپنے کمرے کا نمبر بتایا ۔۔۔
ہم ابھی باہر جا رہے ہیں ہم جب واپس آئیں گے تو آپ سے ملنے آئیں گے پھر باتیں بھی کریں گے ۔۔۔ ہمیں آپ سے ملنے کا بہت شوق تھا ۔۔ وہ مسکرا کر بولتی زکریہ شاہ کے ساتھ باہر کی جانب بڑھ گئ
جب کہ فریال نے مسکرا کر اسکی پشت کو دیکھا
فریال بھابھی یہ کون تھیں ؟ سائشہ نے اب اسکے پاس جاتے پوچھا
سائیں کے بہت اچھے دوست تھے کہ اور یہ ان کی بیوی تھی ۔۔۔
وہ کہتے مسکرا کر ناجانے کیا سوچ لیے وہاں سے آگے بڑھی
مگر اسکے دماغ میں کچھ چل رہا تھا ۔۔۔۔
🍁🍁🍁
وہ اس وقت دکھتی کمر کے ساتھ کیچن میں کھڑا برتن دھو رہا تھا ۔۔۔
جب کے ویٹر مزید برتن اس کے پاس لاتے اسے دھونے کا اشارہ کر رہے تھے ۔۔۔۔
وہ انجان تھے کہ انہوں نے کس کو برتن دھونے پر لگا دیا ہے جو اپنی حویلی کا سب سے شرارتی اور لاڈلہ ہوتا تھا ۔۔۔
وہ چاہتا تو سکندر سے پیسے منگوا سکتا تھا مگر وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک دفع پھر سکندر اس کے لیے پریشان ہو ۔۔۔
بس اسی لیے وہ برتن دھو کر اپنے کھانے کا جرمانہ بھر رہا تھا ۔۔۔
دو گھنٹے کی بات ہوی تھی مگر اب تو اڑھائ گھنٹے ہونے والے ہیں ۔۔۔۔ وہ ویٹر کو برتن مزید رکھتے دیکھ کر بولا
جی مگر آپکا بل بڑ گیا ہے۔ ۔۔۔ اس نے مسکرا کر کہا
وہ کیسے ؟وہ چونکتے ہوئے بولا
آپ کی بیوی نے پریشانی کی حالت میں مزید بہت سارا کھانا کھا لیا ہے جس کے جرمانے کی ادائیگی میں آپ برتن دھوتے رہیں گے ۔۔۔۔
اہہہہہہ ۔۔۔ وہ گہرا سانس خارج کرتا رہ گیا ۔۔۔ اللہ میاں یہ میری بیوی نارمل حالت میں بھی بس کھاتی ہے اور اب پریشانی کی حالت میں بھی کھا ہی رہی ہے ۔۔۔۔اگر ایسا ہی رہا تو میں یہاں پکا ملازم بن کر رہ جاؤں گا ۔۔۔ وہ دکھتی کمر پر ہاتھ رکھتے دہائیاں دیتے بولا
پھر مزید ہمت جواب دے گئ تھی تو اس نے کال ملائ۔۔۔۔
اسلام و علیکم! کیسے ہو شہزادے ۔۔۔۔؟
زکریہ شاہ کی مسکراتی آواز پر شایان کو شرم بھی آئ مگر پھر اپنی بات پیش کی
کیا تم بھی مری آنے والے تھے ۔۔ وہ اسے پیسےسینڈ کر چکا تھا اس لیے اب سوالیہ ہوا
جی ۔۔۔ آپ کو کیسے پتہ ؟
وہ اب کی بار کیچن سے نکل کر باہر جاتے سوال کرتا بولا
فریال بھابھی سے ملاقات ہوئی ہے ہماری ۔۔۔ زکریہ شاہ نے لفظوں میں احترام لیے بات کی تو شایان نے سر ہلایا
زکریہ شاہ اور سکندر بہت اچھے دوست ہوا کرتے تھے مگر ایک غلط فہمی سے ان کی دوستی میں بہت گہری داراڈ آگئ ناکہ دوستی ختم ہوی بلکہ دشمنی بن گئ ۔۔۔
مگر اس سب کے باوجود بھی شایان کے ساتھ زکریہ شاہ کی محبت الگ تھی ۔۔۔
وہ ان دونوں کا لاڈلہ تھا زکریہ شاہ نے سکندر سے نفرت کے باوجود بھی شایان سے رابطہ ختم نہیں کیا تھا
بلکہ وہ جب بھی امریکہ کسی کام سے جاتا تو شایان سے ضرور ملتا تھا ۔۔۔
🍁🍁
وہ لوگ بھی شام کے وقت مری پہنچے ۔۔۔ اب سب لوگ مری کی ٹھنڈی ٹھار ہوائیں محسوس کرتے انجوائے کر رہے تھے ۔۔۔۔
سکندر کافی دیر سے فریال کو خود کو دیکھتے محسوس کر چکا تھا اسکی نظروں کی تپش اس کو واضح محسوس ہو رہی تھی اب اس نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے دوسری طرف لے جاتے اسے سوالیہ دیکھا
کیا میں آج کچھ زیادہ ہینڈصم لگ رہا ہوں کہ میری بیوی کی نظریں مجھ سے ہٹ نہیں رہی ؟
وہ مسکرا کر بولا تو فریال مسکرا کر اسے دیکھنے لگی
آپ کو دیکھنے کا پورا پورا حق ہے میرے پاس ۔۔۔
وہ اسے دیکھتے محبت سے بولی
بلکل پورا حق ہے سردار سکندر پر اس کی روح پر اس کے دل پر اسکی چاہت اسکی محبت پر اس کے وقت پر صرف اور صرف فریال سکندر کا ہی تو حق ہے ۔۔۔ وہ لفظوں سے اسے سرشاری کرتا اپنی ہری آنکھوں میں محبت کا طوفان لیے بول رہا تھا
جب کہ فریال کی آنکھیں بھیگ گئ ۔۔۔ اچھا بس کریں ہر وقت تو لڑتے رہتے ہیں اب مجھ سے اتنی محبت جتا رہے ہیں ۔۔۔ وہ جلدی سے خود کو کمپوز کرتے بولی
تم ہر دفع میری محبت کے لمحے کو یوں لڑائ کی نظر نہیں کر سکتی ۔۔
وہ اسکی حرکت کو فوراً پہچان گیا تھا اس لیے اسے جتاتے ہوے بولا
فریال نے زبان دانتوں تلے دبای ۔۔۔
اچھا سائیں آپ سے کچھ مانگوں تو آپ منع نہیں کریں گے نا ؟
وہ اسے دیکھتے کچھ یاد آنے پر بولی
سکندر تو کبھی چاہ کر بھی فریال کو انکار نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اسکے بس کی بات ہی نہیں ہے۔۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ تھامتے اب چلتے ہوے بولا
فریال اس وقت بلو بیگی پینٹ کے ساتھ گرم جوتے پہنے گرم شرٹ پر لمبا سا کوٹ پہنے ہوے تھی ۔۔۔
سر پر ریڈ کلر کی گرم خوبصورت ٹوپی ڈالے آج بے حد کیوٹ لگ رہی تھی ۔۔۔۔
سکندر نے بھی آج توقع کے برعکس بلو جینز کے ساتھ وائٹ گرم شرٹ کے اوپر لمبا کوٹ پہن رکھا تھا گلے میں مفلر ڈالے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے چل رہا تھا
وقت آنے پر مانگوں گی ۔۔۔ وہ کہہ کر آگے پیچھے کے نظارے سے لطف اندوز ہونے لگی
پر سوچ نظروں سے اسے دیکھتا پھر گہرا سانس لے گیا۔ وہ سردار سکندر تھا جانتا تھا اسکی بیوی نارمل بات نہیں کر رہی ضرور کچھ الگ ہونے والا ہے ۔۔۔۔
🍁🍁
ایک تو اسکے موٹے موٹے گال سردی کی وجہ سے سرد ہوے پڑے تھے ۔۔۔۔ اور بار بار وہ جلتی آگ کے پاس بیٹھی اپنے گرم ہاتھو کو چہرے پر رکھتی تو اسکے گال ٹماٹر کی طرح دھک جاتے تھے
سامنے بیٹھا شایان فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
نظروں کی تپش پر مقدس نے اسکی جانب دیکھا
اس وقت وہ سب لوگ وہاں لکڑیاں جلائے فریال کی فرمائش پر باہر ہی بیٹھ کر کچھ کھانا چاہتے تھے۔ ۔۔۔
اگ درمیان میں جل رہی تھی جب کہ وہ لوگ آس پاس بیٹھے باتوں میں مصروف تھے ۔۔۔
مقدس نے اسکی مسلسل نظریں خود پر محسوس کرکے شرم سے نظریں جھکا لیں
اور یہ ادا سامنے بیٹھے شایان کے دل پر لگی تھی رہ دلکش انداز میں مسکرایا
ان سب کی زندگی ایک نارمل ٹریک پر اچکی تھی مگر کہتے ہیں کہ کچھ خوشیاں آپ کے پاس کچھ لمحوں کی حیاتی کے لیے ہوتی ہیں
🍁🍁
شایان سو رہا تھا جب اس کے نمبر پر کال آئ ۔۔۔۔
اس نے تکیے سے منہ نکالتے موبائل اٹھا کر دیکھا
حویلی میں ہر کوی اپنے کام میں مصروف تھا ملازم اپنے کام میں لگے تھے جب کہ فریال سائشہ اس وقت کیچن میں کھانے کی تیاری کر رہی تھیں
بی جان لاونج میں بیٹھے زکریہ شاہ اور جویریہ شاہ سے ہستے مسکراتے باتیں کر رہی تھیں ۔۔۔۔
بچوں کے کھیل کود کی آواز باہر لوں سے آرہی تھی ۔۔۔۔۔
شایان کی شادی کو کچھ وقت گزارںے کے ساتھ سائرہ بیگم نے قبول کر لیا تھا اور کچھ مقدس نے اپنے محبت بھرے لہجے سے ان کے دل میں جگہ بنا لی تھی ۔۔۔
جب کہ ان کی ناراضگی کی وجہ تو مائرہ سے شادی نا کرنا تھی مگر مائرہ کا باہر کے ملک چلے جانا سب مسلوں کا حل نکال گیا تھا
ہر کوی خوشی خوشی اپنی زندگی جی رہا تھا
مقدس اس وقت نعمان شاہ جو کہ شایان اور مقدس کی اکلوتی اولاد تھا جس کی عمر ابھی چار سال تھی اسے لیے سکینہ بی کی عیادت کو گئ تھی ۔۔۔۔
شایان نے فون کی سکرین پر جگمگاتے نمبر کو دیکھا
سامنے ماما لکھا دیکھ کر سیدھا ہوا اور فون کان سے لگایا
سائرہ بیگم اپنے بھای سے ملنے شہر گئ تھیں اس نے سلام دیا
وعلیکم السلام! دوسری طرف سے روی روی آواز پر وہ چونک گیا
ماما کیا ہوا ہے وہ رو کیوں رہی ہیں ؟
وہ جلدی سے بیڈ سے ٹانگیں نیچے لٹکائے بولا
بیٹا تمہارے ماموں کی طبعیت بہت خراب ہے وہ ہاسپٹل میں ہیں ۔۔۔
وہ دوسری طرف روتے ہوے بولیں اکلوتا بھائی تھا بھابھی تو پہلے ان کی مر چکی تھیں اب بھای کے لیے ان کو تکلیف محسوس ہو رہی تھی
اچھا ماما آپ پریشان مت ہوں میں آتا ہوں آپ کے پاس بس آپ اپنا خیال رکھیں کچھ نہیں ہوگا مامو کو ۔۔۔ وہ کہتے جلدی سے چپل اڑیستا الماری سے جلدی سے کپڑے لیے واشروم میں بند ہوا
کچھ دیر میں وہ نیچے تیز قدم لیتا آیا ۔۔۔
بی جان میں شہر جا رہا ہوں کچھ ضروری کام ہے ۔۔۔ وہ ان کو بتاتا زکریہ شاہ سے گلے ملتا بنا مزید سوال کے جواب دیے حویلی سے نکلتا چلا گیا
اللہ خیر کرے ۔۔۔ بی جان اسکی پشت کو دیکھتے بڑبڑائیں
بی جان دیکھیں نا صائم نے میرا ویڈیو گیم توڑ دیا ۔۔ دائم منہ کے زاویے بگاڑتا بی جان کے پاس آتا بولا
صائم بیٹا آپ نے کیوں توڑا بھای کا ویڈیو گیم ؟
بی جان نے باز پرس کی ۔۔۔
بچے نے بی جان کی جانب دیکھا
میں کتنی دیر سے اس سے بات کر رہا تھا اور یہ ویڈیو گیم کی وجہ سے مجھے اگنور کر رہا تھا اس لیے میں نے توڑ دیا ۔۔۔
وہ لبوں پر ہلکی سی شرارتی مسکان لیے بولا اور دائم نے منہ پھلایا
تو اسکا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ اس کی چیزیں توڑ دیں ۔۔۔
سائشہ نے لہجے میں زرا سختی لیے صائم سے کہا
اماں سائیں سوری آئندہ نہیں کروں گا ۔۔۔
صائم کے چہرے سے مسکان فورا دور ہوی ۔۔ وہ نازک حساس طبیعت کا بچہ تھا جتنا شرارتی تھا اتنا ہی سب کا لاڈلہ ہونے کی وجہ سے حساس ہو گیا تھا
اپنی ماں کی زرا سی ڈانٹ پر اسکا چہرہ اتر گیا تھا۔ ۔۔۔
وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں چلا گیا
اماں سائیں آپ کو اسے ڈانٹنے کی کیا ضرورت تھی اب وہ رو رہا ہو گا ۔۔۔
دائم نے سائشہ کو ناراضگی سے کہتے قدم صائم کے پیچھے لیے
جب کہ سائشہ کے لیے یہ کچھ نیا نہیں تھا ۔۔۔ ہمیشہ صائم کی شرارت کی وجہ پڑنے والی ڈانٹ پر دائم اس کو سنبھالنے خود جاتا تھا
یہ بچے بھی نا پہلے خود شکایت کرتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے لیے لڑنے بیٹھ جاتے ہیں ۔۔۔
بی جان نے مسکرا کر کہا تو سائشہ بھی مسکرا دی۔۔۔۔
حوریہ بیٹا پانی کا پائپ رکھ دو مالی بابا نے حوریہ کو تیسری دفع پائپ رکھنے کو کہا کیونکہ کہ وہ خود کو بھی پودوں کے ساتھ بھیگا رہی تھی ۔۔۔۔
لمبے بالوں کو دو پونیوں میں قید کیے وہ جھنجھلاتے ہوے سر نفی میں ہلا رہی تھی
مجھے اچھا لگتا ہے پانی کے ساتھ کھیلنا۔۔۔ وہ کہتے پھر سے اپنا کام کرنے لگی ۔۔۔۔
چھ سال کی نازک سی خوبصورت سی بچی اس وقت منمانی کرتی پانی کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔۔۔۔
حوریہ مالی بابا کی آواز نہیں آرہی تمہیں ؟
پیچھے سے آواز پر وہ ڑر کے پائپ پھینک کر آنکھیں بند کر گئ ۔۔۔
اسے ہمیشہ اس شخص سے ڈر لگتا تھا ۔۔۔ تھا بھی تو وہ اس قدر سنجیدہ کے دل نکل کر باہر اجائے اسکی پر اسرار سی شخصیت سے ہر بچہ اس سے دور رہتا تھا خاص طور پر حوریہ ۔۔۔۔
حیات سکندر ہری آنکھوں والا بچہ چلتا ہوا اس کے سر پر کھڑا ہوا ۔۔۔۔
اندر جاؤ ۔۔۔ ایک اور حکم صادر کیا ۔۔۔
حوریہ نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔۔ پھر اسکی ہری آنکھوں سے ہمیشہ خوف کھاتی وہ بھاگ کر اندر چلی گئ ۔۔۔۔
حیات سکندر نے اسکی پشت کو دیکھا ۔۔۔۔
فریال نے سکندر اور زکریہ شاہ کے درمیان ایک ملاقات تہہ کروائی جس میں ان دونوں نے اپنے درمیان پیدا ہونے والی خلش پر بحث کی ۔۔۔۔
دراصل ندیم نامی ایک لڑکا زکریہ اور سکندر کا دوست تھا ۔۔۔ مگر وہ کافی غریب تھا
ان دونوں نے ہمیشہ اسکی مدد کی اور اس کو اپنا دوست رکھا ۔۔۔
جوریہ ندیم کی چھوٹی بہن تھی
زکریہ شاہ کا چچا علیم یہ سب نہیں چاہتا تھا وہ سکندر کی دوستی بھی ختم کروانا چاہتا تھا کیونکہ اسے زکریہ شاہ ایک بے وقوف بچہ لگتا تھا جو سکندر کے بغیر کچھ بھی نہیں تھا
اس نے تیز دماغ سے ان تینوں دوستوں کو الگ کر دیا ۔۔۔ تینوں
کے درمیان اس بات پر پھوٹ ڈالی کہ وہ زکریہ شاہ کو نکما اور کاہل سمجھتے ہیں جب کہ ندیم کے دل میں بات ڈالی کہ وہ ان لوگوں سے غریب ہے ۔۔۔
سکندر نے سب معملے کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر وہاں س وقت بچہ تھا اس لیے بات اسے کے ہاتھ سے نکل گئ ۔۔۔۔
تینوں الگ الگ ہونے لگے ۔۔۔ ایک دن علیم نے جویریہ کا استعمال کیا اور اسے بڑی چالاکی سے ڈیرے پر بلایا ۔۔۔
معصوم بچی وہاں پہنچی۔ ۔۔ جب کہ دوسری طرف سے زکریہ بھی وہاں پہنچ گیا ۔۔۔
اس نے ایسی بے ہودہ چال چلی کہ بات پنچائیت تک پہنچی
تینوں کو پنچائیت میں بلایا گیا
ہاں زکریہ شاہ بتاؤ تم نے جویریہ کو ملنے وہاں کیوں بلایا تھا ؟
سوال پر زکریہ نے نفی کی کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔
جب کہ سکندر سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ جانتا ہے کہ زکریہ شاہ کی دلچسپی جوریہ میں تھی ۔۔۔
جس پر اس نے ہاں میں جواب دیا ۔۔۔
زکریہ شاہ پر الزام لگایا کہ اس نے جویریہ کو وہاں بری نیت سے بلایا تھا اگر وقت پر اسکا بھای ندیم نا آتا تو بات بگڑ جاتی ۔۔۔۔
زکریہ نے نفرت سے سکندر کو دیکھا ۔۔ ہاں وہ جویریہ کو پسند کرتا تھا مگر وہ اس کو غریب سمجھ کر ہر عض گندہ نیت نہیں رکھتا تھا ۔۔۔
مگر الزام پر اس نے اٹھارہ سال کی عمر میں نکاح کر لیا ۔۔۔۔
سکندر کی نفرت کی وجہ تھی کہ اس نے اپنے ہی دوست کی بہن کی عزت پامال کرنی چاہی
جب کہ زکریہ شاہ کی نظروں میں اپنے دوست کا مقام تب گر گیا جب اس نے اسے گھٹیا الزام کی تردید کرنے کے بجائے سب کی طرح گناہ گار سمجھ لیا
🍁🍁🍁
سکندر اور فریال کے بیٹے کا نام حیات سکندر تھا جس کی نیچر بلکل باپ پر گئ تھی اور آنکھیں بھی۔ ۔۔
جب کہ فریال کو تو رہ رہ کر غصہ آتا تھا حیات کی سنجیدہ طبعیت پر وہ اسے ہمیشہ ہستہ کھیلتا دیکھنا چاہتی تھی مگر اسکی اولاد کچھ زیادہ سنجیدہ تھی ۔۔۔۔
سائشہ اور شہریار کے جڑواں بیٹے تھے صائم اور دائم دونوں ہی ایک جیسے دکھتے تھے اور دونوں کی شخصیت الگ تھی مگر محبت بے تحاشہ تھی
ایک بہت شرارتی اور دوسرا سنجیدہ ۔۔۔ نرم اور شفاف رکھنے والے دونوں بیٹے اپنے ماں باپ کے دلارے تھے
شایان اور مقدس کا بیٹا نعمان تھا جو بہت ہی کیوٹ اور خوبصورت تھا مگر وہ بھی بہت خاموش طبعیت تھا ۔
یعنی ان سب نے بچوں کی نیچر اپنے ماں باپ سے بلکل الگ تھی۔ ۔۔۔
بچپن ہی سے اس قدر سنجیدہ کے اللہ کی پناہ ۔۔۔۔
زکریہ شاہ کی دو بیٹیاں تھیں ۔۔۔ حوریہ اور پریشے ۔۔۔۔
دونوں کی عمر میں دو سال کا فرق تھا۔ ۔۔
حوریہ چھ سال کی جب کہ پریشے چار سال کی تھی ۔۔۔۔۔
دونوں نے کھٹ اور شرارتی بچیاں تھیں ۔۔۔۔
سائشہ ایک دفع پھر امید سے تھی سب کی بہت خواہش تھی کہ اب کی بار ان کے ہاں لڑکی پیدا ہو کیونکہ نا تو بی جان کی کوی نند تھی نا ہی ان کی بیٹی تھی اور نا ان کی پوتی تھی اب ان کو پڑ پوتی کی بہت خواہش تھی ۔۔۔۔
جبکہ سعد اور فاطمہ بھی حویلی اکثر چکر لگاتے رہتے تھے ۔۔۔۔
🍁🍁🍁
کچھ سال بعد۔ ۔۔۔
🍁🍁🍁
ایک پر اسرار شخصیت کا مالک گاڑی سے نکلا اسکے چہرے کی سنجیدگی سے لوگ کافی خوفزدہ رہتے تھے سخت مزاج اور سنجیدہ سرد آنکھیں ہر کسی کو اس سے کوسوں دور رکھتی تھیں ۔۔۔۔
وہ چلتا ہوا آفس میں آیا ۔۔۔
اس کے آنے کی خبر سن کے کسی کے معصوم چہرے پر بے تحاشہ خوبصورت مسکراہٹ نے بسیرا کیا
صبغہ شاہ اس شہزادے کی سیکٹری تھی وہ جلدی سے اپنا حلیہ شیشے میں درست کرتی آفس کی جانب بڑھی
پینٹ کے ساتھ لانگ فراق پہنے بالوں کو پونی ٹیل میں باںدھے ہلکا سا میک اپ کیے دپٹہ گلے میں مفلر کی طرح ڈالے والے جلدی سے اس کو دیکھنے کی غرض سے اس کے آفس کے سامنے رکھ
آفس کے باہر اس کے نیم پلیٹ کو دیکھ کے مسکرائ
نعمان شاہ ۔۔۔۔۔
وہ اندر بڑھی سامنےوہ بلو فور پیس میں ملبوس سنجیدہ چہرہ لیے آفس کی کرسی پر بیٹھا سامنے لیپ ٹاپ پر نظریں ڈالے کچھ دیکھ رہا تھا
اسلام و علیکم!
صبغہ نے سلام دیا جس کا جواب شاید ہی اسے کبھی ملتا ۔۔۔
ہمیشہ کی طرح صبغہ نے دل مار کر اسے اس کے ساری دن کی مصروفیت سے آگاہ کیا
جو ایک نظر بھی اس کے خوبصورت چہرے پر ڈالے بغیر اسکی بات سن رہا تھا
سائیٹ پر لنچ کے بعد جانا ہے ۔۔۔۔ ؟ اس نے آی برو آچکا کر چہرہ اسکی جانب کرتے سوال کیا
وہ جتنے شرارتی ماں باپ کی اولاد تھا اسکی شخصیت میں سنجیدگی اتنی ہی کوٹ کوٹ کر بھری تھی
جی سر ! صبغہ نے سر ہلاتے جواب دیا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے آدھے گھنٹے بعد میٹنگ ارینج کرو مجھے پروجیکٹ کے بارے میں سٹاف سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔
اس نے واپس نظریں لیپ ٹاپ پر ڈالتے کہا
جی سر۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا وہ اسے کن نظروں سے دیکھتی ہے وہ کبھی اسے سیکٹری نا رکھتا مگر اسے سعد نے کہا تھا جس کی بات وہ ٹال نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔
کیا کوی بات کرنی ہے ؟ خلاف معمول اس نے اسکی جانب دیکھتے سوال کیا تو وہ گڑبڑا گئ ۔۔
نن نہیں سر میں میٹنگ ارینج کرتی ہوں ۔۔۔ وہ جلدی سے اپنے چہرے پر آئے بالوں کو کان کے پیچھے اڑیستی وہاں سے غائب ہوی
نعمان شاہ نے اسکی پشت کو پر سوچ نظروں سے چند لمحوں تک دیکھا پھر سر جھٹک کر واپس کام میں مصروف ہو گیا
🍁🍁
اس وقت ایک خوبرو نوجوان چہرے پر دنیا جہان کا پیار سجائے کسی کو دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں سے صاف واضح ہوتا تھا کہ سامنے والی چیز اسکی بہت خاص ہے
وہ اپنے گھوڑے کو پیار سے دیکھ رہا تھا اس نے پورا استبل بنا رکھا تھا اس کو گھر سواری کا شوق تھا اور اسکی علاؤہ ہر قسم کا گھوڑا اس کو اپنے استبل میں چاہیے تھا ۔۔۔
وہ گھوڑے کی پیٹھ سہلاتے اسے نرم نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
یہ نرم نگاہیں محض کچھ لوگوں اور چیزوں تک محدود تھیں ورنہ ہری آنکھوں سے وہ جس کو دیکھتا اگلے کا کلیجہ منہ کو اجاتا تھا
سائیں ۔۔۔
اسکو کسی نے پکارا اس نے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔ آنکھوں میں جو نرمی کچھ دیر پہلے تھی اب وہاں سرد مہری تھی ۔۔۔
جیسے یہ آنکھیں بنی ہی سختی سے دیکھنے کے لیے تھیں ۔۔۔۔
ہمم؟
اس نے سامنے معدب انداز میں عمر میں کافی بڑے مگر جسم کسرتی ہونے کی وجہ سے جعفر آج بھی بوڑھا نہیں لگتا تھا
جعفر سر جھکائے کھڑا تھا ۔۔ اس کے ہممم کرنے پر نظریں اس نے حیات سکندر کے چہرے پر ڈالیں ۔۔۔۔
وہ آج بھی یہ سوچتا تھا کہ کیا کوی اپنے باپ سے اتنی مشابہت بھی رکھ سکتا ہے ؟
وہی ناک نقشہ وہی سرد ہری آنکھیں
وہیں دبدبہ وہی لہجہ ۔۔۔ یا اس کے لہجے میں کچھ زیادہ ٹھہراؤ تھا ۔۔۔
وہ جب بولتا تو اسے خاموش ہو کر سننے کا دل چاہتا تھا ۔۔۔
اس نے لہجہ اپنے چچا شہریار جیسا پایا تھا
ٹھہراو ۔۔۔ مگر سخت تاثرات کی سختی باپ سے چرائ تھی
سائیں آپ نے کہا تھا آج آپ روشن پر جانا چاہتے ہیں میں نے بندوبست کر دیا ہے گاڑیاں تیار ہیں ۔۔۔
وہ اب صرف نور پر نہیں بلکہ اس کے ساتھ کے دس گاؤں کا سردار تھا ۔۔۔
ہممم ۔۔ وہ اسکی بات پر ہمم کرتا پلٹا ایک دفع پھر اپنے پیارے گھوڑے جیسم کو دیکھا پھر اسکی پیٹ سہلا کر اس نے لمبے لمبے ڈاگ استبل سے باہر کی جانب بڑھائے ۔۔۔
اسکی چال ڈھال سکندر کی طرح تھی ۔۔۔ سکندر کو اسے دیکھ کر اپنی جوانی کے دن چلتے پھرتے نظر آتے تھے ۔۔۔۔
بی جان کا کہنا تھا کہ سکندر نے اپنی کاربن کاپی لا کر فریال کی جان ہلکان کر دی ہے ۔۔۔۔
🍁🍁
ڈاکٹردائم ۔۔۔ کیسے ہیں آپ ؟
ڈاکٹر فرقان جو کہ اس کے باپ کا اور چچا کا کافی اچھا دوست تھا وہ گاؤں کے ہسپتال کو ہیڈ کرتا تھا کیونکہ اسکا ایکسپرینس کافی تھا اسلیے اسکی عزت بھی بہت تھی
جی الحمدللہ انکل آپ کیسے ہیں ؟ وہ احترام میں اپنی کرسی سے کھڑا ہوا اور فرقان نے مسکرا کر اسے واپس بیٹھنے کا اشارہ کیا
کیا بات ہے برخودار آج ہاسٹل میں کافی خاموشی ہے ؟
جی وہ دراصل ایک کیس تھا بس اسے سڈی کر رہا تھا اسلیے بچوں کی طرف چکر نہیں لگا ۔۔۔
فرقان کے سوال کا جواب دے کر اس نے فائل اپنے سامنے کی جس پر وہ کب سے محںت کر رہا تھا ۔۔۔
میں نے سنا تم نے روشن پر میں نیا ہاسپٹل بنانے کا سوچا ہے ؟
اب کی بار فرقان سوالیہ ہوا
جی آپ نے سہی سنا ہے ۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا
مگر تمہیں اکیلے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے تم ایک دفع بات کرتے ہم باہر سے فنڈز ۔۔
ابھی ان کی بات مکمل ہوتی ہے کہ دائم نے ان کو بیچ میں ٹوک دیا
مجھے اپنے لوگوں کی مدد اپنے بلبوتے پر کرنی ہے آنکل میں نہیں چاہتا کہ کوی ان پر ترس کھا کر ان کی مدد کرے ۔۔ ویسے بھی حیات شاہ سب کچھ سنبھال رہے ہیں تو یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے انڈر تمام گاؤں کو سہولتیں دیں
یہ احسان نہیں ان کا حق ہے جو ہم ادا کریں گے ۔۔۔
اس نے اپنے خوبصورت چہرے پر نرم سی مسکراہٹ سجائے کہا تو فرقان مسکرا کر رہ گیا
تم بہت اچھے ہو اللہ تمہیں تمہاری نیکی کے بدلے ضرور تمہاری بہت بڑی خواہش پوری کرے گا ۔۔۔۔
وہ کہتے مسکرا کر اٹھے ۔۔۔
اب اس کیس کو سٹڈی کرنے کے بعد بچوں کی طرف چکر لگاؤ
تمہارا چہرہ دیکھے بنا ان کو صبح کرنی پسند نہیں ہے ۔۔۔۔ اور ناہی وہ ناشتہ کریں گے ۔۔۔
وہ کہتے نکلے
دائم کا نرم مزاج سب کو اپنی طرف اٹریکٹ کرتا تھا بچے جو بیماری کی وجہ سے چڑچڑے ہو کر دوا کھانے میں ضد کرتے تھے دائم کے نرم مزاج میں کہے لفظوں پر وہ مسکرا کر دوا لے لیتے تھے ۔۔۔
🍁
Epi 20
جج صاحب آپ ہی بتائیں کسی کو کوی حق پہنچتا ہے کہ کوی میری زمین کو اپنی دسترس میں لے کر قبضہ کیے ہوے اس پر اناج اگائے اور اس سے اپنا کاروبار کرے ۔۔۔
اس وقت ایک شخص چہرے پر مصنوعی مسکینت طاری کیے ہوے اپنے ِدفع میں بول رہا تھا
جب کہ ایک شخص کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ تھی جیسے وہ جانتا تھا اسے کیسے اور کس طرح اسی شخص کے منہ سے سچ اگلوانے ہے ۔۔۔
جی جج صاحب میرے موکل کی بات کی سنوائ کی جائے کسی کی پراپرٹی پر اپنا حق جمانے کا کوی حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے ۔۔۔
ایک وکیل اپنا کوٹ درست کرتا اپنے شخص کی بات پر کھڑا ہوتا بولا
اوبجیجکشن !
ایک آواز نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔
وہ 27 سالہ خوبصورت نوجوان اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔
اپنا کوٹ درست کرتا وہ مخصوص جگہ پر جا کر کھڑا ہوا
جج صاحب آج کل تو بچے بھی یہ سب جانتے ہیں کہ کسی کی پراپرٹی پر جائز حقوق کے بنا کوی ردعمل انہیں پھسا سکتا ہے
تو کیا میرے موکل نے جو اناج اگائ اسے اس بات کی خبر نہیں تھی کہ زمین اس کے پاس جائیز طریقے سے موجود ہے یا نہیں ؟
اس کی بھاری آواز پر سب نے اسے دیکھا ۔۔ کر طرف خاموشی تھی جب کہ کڑھیرے میں کھڑے مصنوعی مسکینت طاری کیے ہوے شخص عبداللہ کی حالت خراب ہوی ۔۔۔
جی جج صاحب ۔۔۔ میرے موکل عادل صاحب نے پوری طرح سے ان سے یہ زمین کرائے پر لی تھی
یہ رہے اس زمین کے کانٹریک کے کاغذات اور باقی کا سب تو مسٹر عبداللہ ہی ہمیں بتائیں گے !
اس نے ٹھنڈے لہجے میں بات صاف بتائ ۔۔۔
یہ سب جھوٹ ہے !
عبداللہ چیخا ۔۔۔۔
آڑر اڑر
جناب آپ بتائیں کیا عادل صاحب نے آپسے تین ماہ پہلے یہ زمین کروائے پر نہیں لی تھی ؟
مگر اس سب کے بعد جب آپ کی نظر ان کی خوبصورت فصل پر پڑی تو آپ نے کیس کر دیا کہ وہ جگہ آپ کی ہے تاکہ فیصلہ آپ کے حق میں ہو گا اور وہ ساری فصل بھی آپ کی ؟
اس نے آگے بڑھتے کڑھیرے میں کھڑے شخص کے پاس جاتے کہا
نن نہیں جھوٹ ہے مجھ سے کسی نے کسی زمین نہیں کرائے پر لی ۔۔۔
عبداللہ صاف مکر رہا تھا ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے مگر آپ کے چہرے پر اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے ؟
وہ اسے گھورتی آنکھوں سے دیکھتے بولا
دیکھیں جج صاحب یہ وکیل جھوٹے الزامات لگا رہا ہے مجھ پر ۔۔۔
جی بلکل جج صاحب میں جھوٹ بول رہا ہوں یہ کاغذات بھی جھوٹ بول رہے ہیں اور میرا گواہ بھی یقیناً جھوٹ ہی بولے گا !
میں اپنے گواہ کو جھوٹ بولنے کے لیے کٹھہیرے میں بولانے کی اجازت چاہتا ہوں !
اس نے سنجیدگی سے کہا جس پر اجازت ملی جس پر ایک عورت کٹہھیرے میں آی تو سامنے عبداللہ کے ہوش اڑ گئے ۔۔۔
اس کو دیکھ کر صائم کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ ابھری
جی جج صاحب میں گواہ ہوں عادل صاحب نے میرے شوہر سے یہ زمین پٹے پر لی تھی کہ جب ان کی فصل کی کٹائی ہو جائے گی تو وہ ہماری زمین ہمیں لوٹا دیں گے
مگر انہوں نے یہ سب جانتے ہوے کہ کئیں عرصے سے ہماری اس زمین سے کاشت کاری اچھی نہیں ہو رہی تھی انہوں نے بھاری رقم وصول کی تھی
اور اب جب ان کی فصل اچھی ہو گئ تو ان کی نیت خراب ہو گئ ہے ۔۔۔
اس عورت نے کافی تیز لہجے میں ساری بات کی وضاحت کی
آپ اپنے شوہر کے خلاف گواہی دے رہی ہیں ؟
دوسرا وکیل بھڑک کر اٹھا تھا
وکیل صاحب حوصلہ رکھئیے آپ بھول رہے ہیں کہ شوہر سے پہلے خدا ہے ۔۔۔۔ خدا کو جھوٹی گواہی پسند نہیں اور کسی مظلوم پر بے جا ظلم ہوتے دیکھنا اور پھر خاموش رہنا تو ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے
وہ سخت لہجے میں اسے چند لفظوں میں بہت کچھ باور کرواتا خاموش ہونے پر مجبور کرتا جج صاحب کی جانب بڑھا
جھوٹ بول رہی ہے یہ عورت اس وقت جب ہمارے درمیان یہ سب ہوا میں ڑریرے پر تھا اور وہاں میرے خاص ملازم کے علاؤہ کوی بھی نہیں تھا ۔۔۔
عبداللہ طیش میں آتے بولا
جس پر صائم نے شاطرانہ مسکراہٹ اچھالی
جج صاحب مجرم نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے ۔۔۔
معزرت مجھے جھوٹی گواہی کا ڑرامہ کرنا پڑا کیونکہ گھی اگر سیدھی انگلی سے نا نکلے تو ایڈوکیٹ صائم شہریار کو اسے ٹیڑھی انگلی سے نکالنا آتا ہے ۔۔۔
پاسہ بری طرح سے پلٹا تھا ۔۔۔
عبداللہ اپنی ہی بات ہے سر پیٹ کر رہ گیا ۔۔۔ جان گیا تھا کہ سامنے کھڑا شخص چہرے سے جتنا معصوم شرارتی لگتا ہے اندر سے اتنا ہی بڑا چالاک اور خر دماغ تھا
عدالت کا فیصلہ سننے کے لیے ہم اپنا کیس آپ پر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ صائم نے سر کو ہلکی سے جنبش دیتے کہا
اور جتاتی نظریں دوسری طرف بیٹھے مٹھیاں بھینچ کر اپنی جانب دیکھتے وکیل کو دیکھا
جس کو اپنے موکل پر سخت غصہ تھا جس نے اپنے ہی منہ سے سب اگل دیا ۔۔۔۔
فیصلہ عادل صاحب کے حق میں ہوا تھا
کیونکہ کیس صائم شہریار کے ہاتھ میں تھا جس نے جب سے والے شروع کی تھی کوی کیسں وہ ہارا نہیں تھا ۔۔۔۔
🍁🍁
فریال بیٹا کیا بات ہے تم اس قدر غصے میں کیوں ہو؟
سلمی بیگم جو کہ بی جان کے پاس بیٹھی تھیں انہوں نے سیڑھیوں سے پیر پٹخ کر آتی فریال سے سوال کیا کیا کروں چچی سائیں ۔۔۔ یہ لڑکا پتہ نہیں کیا چاہتا ہے
وہ غصے سے حیات سکندر کے بارے میں بول رہی تھیں ۔۔۔
اب کیا کر دیا میرے شہزادے نے ؟ سکندر بھی حویلی میں داخل ہوتے سوالیہ ہوا
عمر تو بڑھی تھی مگر شخصیت کا رعب اب تک ویسا ہی تھا
آپ کے شہزادے نے سب لڑکیوں کی تصویریں کینچی سے کاٹ کر ڈسٹ بن میں پھینک دی ہیں اور ملازمہ سے کہہ کر گیا ہے کہ مجھے کہہ دے کہ آئندہ کسی لڑکی کی تصویر اس کے کمرے میں نا پہنچے ۔۔۔
وہ صوفے پر جا کر بیٹھتی بولی
ارے تو تم کیوں اسے پریشرائیز کر رہی ہو جب وہ ٹھیک سمجھے گا تو کرلے گا شادی ۔۔۔
سکندر نے اسکا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا ۔۔۔
جی نہیں طائ سائیں آپ اپنے کام پر لگی رہیں ۔۔۔ ارے اگر حویلی کے بڑے بیٹے کی شادی نہیں ہو گی تو ہمارا نمبر کب آئے گا ؟
صائم حویلی میں داخل ہوتے ہی اپنی دہائیاں ڈال چکا تھا
سائشہ سب کے لیے چائے لے کر لاونج میں داخل ہوی ۔۔۔ اس نے مسکرا کر اپنے شریر بچے کو دیکھا
کیا کروں میرا بچہ یہ لڑکا پتہ نہیں کب کرے گا شادی ۔۔۔
کب حویلی ایک دفع پھر شہنائیوں کی آواز سنے گی ۔۔۔
فریال کو پھر سے دکھ لے بیٹھا
ویسے آپ کی شادی پر ڈھول بجے تھے ؟
وہ مسکرا کر ساتھ بیٹھتے ان کا سر اپنے سینے سے لگا چکا تھا
ارے ۔۔۔ بس ڈھول ۔۔۔
فریال سیدھی ہوتی اپنی ٹون میں واپس اچکی تھی
ڈھول تاشے شہنائیاں باجے ارے کیا کیا نہیں تھا ۔۔۔ وہ خوش ہوتے ارے بتانے لگی جب کہ وہ دونوں ہمیشہ کی طرح اپنی دنیامیں نا چکے تھے جہاں جہان بھر کی باتیں شروع ہو چکی تھیں ۔۔۔
سائشہ کی لائ چائے کو سب آرام سے پینے لگے ۔۔۔ بی جان کی عمر کافی ہو چکی تھی مگر ان کے بچوں کی دعائیں اور ان کا خیال رکھنے کی وجہ سے وہ اب بھی بہت فریش دکھتی تھیں اپنی عمر کے حساب سے ۔۔۔۔
مگر زیادہ وقت وہ کمرے میں گزارتی تھیں ۔۔۔
یہ تو فریال اور سائشہ کی ہی ضد ہوتی تھی کہ وہ ان کو کچھ دیر کے لیے باہر لاتی تھیں تاکہ وہ بلکل ہی بیڈ سے نا لگ جائیں ۔۔۔۔۔
مائرہ اپنے کمرے سے نکلی اور باہرسب کو بیٹھے دیکھ مسکرا کر ان کی جانب بڑھی مائرہ کے والد کا انتقال ہو چکا تھا ۔۔۔
اور اس روز انہوں نے مرتے ہوئے شایان کے آگے ہاتھ جوڑے تھے کہ وہ ان کی بیٹی سے نکاح کرلے جو باہر کسی کے ہاتھوں اپنی عزت گنوا کر آی تھی اپنے باپ کی موت کی وجہ بھی وہی تھی ۔۔۔۔
اسکے صدمے میں شایان کے مامو مر گئے تھے۔ ۔
شایان نے نکاح کیا مگر اس کے بعد حویلی میں ایک قیامت آگئ تھی
ماضی۔۔۔۔
مقدس حویلی میں داخل ہوی اسکے آگے ہنستا کھیلتا بھاگتا ہوا گول مٹول بچہ داخل ہوا ۔۔۔ شایان کی کاربن کاپی ۔۔۔۔ وہیں شرارتیں وہی مسکراہٹ
مگر نہر لگ گئ اسکی مسکراہٹ کو ۔۔۔ اسکی شرارت کو ۔۔۔۔
جب حویلی کے اندر داخل ہوتی مقدس نے سب کو پریشان دیکھا
وہ ان کی جانب بڑھی ۔۔۔
دل نے کچھ غلط ہونے کے ڑر سے عجیب طرز پر دھڑکنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔
سب کے ساتھ شایان سرخ چہرہ لیے صوفے پر آگے کی جانب جھکا ہوا بیٹھا ۔۔۔ اسکے چہرے کے جھکے ہونے باوجود اسکے چہرے کی سختی نظر آرہی تھی ۔۔۔۔
بی جان بھی پریشان تھیں ۔۔۔
فریال کی آنکھیں روی ہوی تھی۔ ۔۔۔ وہ کیسے اپنی بہن پر سوتن برداشت کرتی ۔۔۔۔
سائشہ بھی تکلیف میں تھی ۔۔۔
سب بچے۔۔۔ اس وقت حویلی میں موجود نہیں تھے مگر نعمان شاہ
بھاگتا ہوا اپنے بابا کے پاس گیا
اسکے جھکے سر کو نرمی سے تھامتے ہوے اوپر کیا ۔۔۔
بابا سائیں کیا ہوا ہے ؟وہ اتنی نرم مسکراہٹ کے ساتھ بولا کہ شایان کی آنکھوں سےناجانے کب سے روکے ہوے آنسو بہہ نکلے ۔۔۔۔اس نے سختی سے اپنے بیٹے کو خود میں بھینچ لیا
مقدس نے دل پر بے ساختہ ہاتھ رکھا ۔۔۔
کک کیا ہوا ہے ؟ سب اتنے پریشان کیوں ہیں ؟
اس نے مائرہ کی موجودگی کو نظر انداز کرتے کہا
شایان نے روی روی آنکھوں سے سے دیکھا ۔۔ وہ جانتا تھا اس وقت حقیقت جب مقدس پر کھلے گی تو اسکی کیا حالت ہو گی ۔۔۔۔
بامشکل فریال نے ساری بات بتائ ۔۔۔
مقدس بلکل خاموش تھی نظریں خاموش تھیں۔۔۔۔ وہ مسلسل شایان کو دیکھ رہی تھی مگر کہا کچھ نہیں
شایان اپنی
جگہ سے اٹھا ۔۔۔
دد دیکھو مقدس میری بات سنو ۔۔۔ وہ اسے کی جانب بڑھنے لگا ۔۔۔
مقدس نے لاشعوری میں سر نفی میں ہلاتے قدم پیچھے لیے ۔۔۔۔
نن نہیں ۔۔۔۔
وہ کہتے پیچھے ہوے ۔۔۔۔
اسکی حالت ایسی تھی کہ وہ رونا چاہ رہی تھی مگر آنکھوں سے آنسو نکل نہیں رہے تھے۔ ۔۔
سب تکلیف سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔
شایان کی آنکھیں مسلسل بہہ رہی تھیں
۔۔ وہ کیسے بتاتا اسے کہ وہ تو اپنی کیوٹی سے کتنی محبت کرتا ہے یہ سب اس نے مجبوری میں کیا تھا ۔۔۔۔
اس سب کے بعد مقدس بری طرح سے ڈپریشن کا شکار ہو گئ تھی ۔۔۔ وہ اس وقت رو دیتی تو غم ہلکا ہو جاتا مگر ایسا نہیں ہوا اور اسکا غم اندر ہی اندر اسے ختم کرنے لگا ۔۔۔
وہ روتی تھی چیختی تھی تکلیف سے آزاد ہونا چاہتی تھی مگر ایسا ممکن نہیں تھا ۔۔۔ وہ تکلیف اور بڑھ جاتی تھی ۔۔۔۔
سب کے فیصلے کے بعد شایان اپنی مقدس اور نعمان شاہ کو لیے شہر شفٹ ہو گیا تھا ۔۔۔۔
مگر بہت زیادہ وقت کے بعد مقدس سنبھل گئ تھی ۔۔۔ اسے یقین آگیا کہ وہ اس نے مجبوری میں کیا
مگر ننھے سے نعمان شاہ کو مائرہ سے نفرت ہو گئ تھی جس کے آنے سے اسکی ماں کی حالت خراب ہو گئ تھی ۔۔۔
تے ہوتے ہوتا اسے یہ احساس کھا رہا تھا کہ اس نے مقدس یعنی مائرہ نے مقدس کی جگہ لینی چاہی تھی ۔۔۔
اور ان کو حویلی سے اپنے پیارے بھائیوں کو چھوڑ کر اسے شہر اکیلے رہنا پڑا تھا ۔۔۔۔۔
🍁🍁
مائرہ آج بھی شرمندہ تھی کہ اسکی وجہ سے یہ خاندان الگ ہو گیا مگر وہ اپنے گناہوں کی توبہ روز کرتی تھی اس نے امریکہ میں اپنے دوست کے ساتھ بنا کسی رشتے کے تعلقات اس قدر بڑھا دیے تھے کہ ایک دن اس نے اسکی عزت پر بری سے وار کیا تھا ۔۔۔
اور وہ اپنی عزت جو کھو چکی تھی ۔۔۔
مائرہ ان کے پاس آئ ۔۔۔ فریال اور صائم کی باتوں کو سنتے وہ مسکرائی ۔۔۔۔
اس کو دیکھ کر آج بھی سب کو تلخ وقت یاد آتا تھا جب ان کا شایان حویلی سے شہر چلا گیا تھا
او بیٹا بیٹھو ۔۔۔ بی جان مثلیحت پسند تھیں ان کو پتہ تھاکہ وہ ان کے گھر کی بربادی پر شرمندہ ہے ۔۔۔
مائرہ اب حویلی کے باقی لوگوں کی طرح اچھے کپڑے پہنتی تھی ۔۔۔۔
سب کی باتیں سنتی وہ مسکرا رہی تھی مگر آج بھی اسے کوی حق نہیں تھا کہ سب کے درمیان بولتی ۔۔۔
اسے نعمان شاہ بہت پسند تھا وہ اسے بہت پیار کرتی تھی مگر اس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھ کر وہ کبھی ماں کی طرح پیار نہیں دیتی تھی ۔۔۔۔
زندگی بدل کر کس قدر دردناک ہو گئ تھی یہ تو بس مائرہ ہی جانتی تھی ۔۔۔
🍁
حیات سکندر شام چھ بجے حویلی میں داخل ہوا ۔۔۔ سفید رنگ کے کڑک دار کپڑوں کے ساتھ بھوری چادر کندھوں پر ڈالے وہ کروفر سا چلتا ہوا اندر آیا جہاں سب بیٹھے اسکے آنے کا انتظار کر رہے تھے جس کے آنے کے بعد ہی سب نے رات کا کھانا کھانا تھا ۔۔۔۔
وہ سب کو سلام کرتا خاموشی سے بیٹھ گیا ۔۔۔ ماں کے پاس بیٹھا ۔۔ فریال وہاں سے ناراض سی اٹھنے لگی ۔۔۔جب حیات نے ہاتھ پکڑ کے واپس بٹھایا ۔۔۔ اپنی ماں کے چہرے کو دیکھ کر وہ مسکرایا۔۔ آنکھوں میں نرمی لیے وہ بہت حد تک خوش مزاج لگ رہا تھا ۔۔۔ مگر صرف لگ رہا تھا ۔۔۔۔
فریال اپنے بیٹے کو دیکھ کر مسکرا اٹھی ۔۔۔
میں تم سے ناراض ہوں ! وہ نظریں ہٹاتے بولی
وہ لاڈ اپنے بیٹے سے بھی اٹھاتی تھی ۔۔۔
میری جنت مجھ سے کیوں ناراض ہیں ؟
وہ بولا تو فریال جی اٹھی تھی اپنے بیٹے کی محبت پر ۔۔۔۔
تم جانتے ہو تم نے آج صبح کیا کیا تھا !
وہ اسے یاد دلاتے بولی ۔۔۔
سوری ۔۔۔ میں نے کیا کیا ؟ آپ نے ہی اتنی لڑکیوں کی تصویریں رکھی تھیں جیسے کوی گاڑی کا ماڈل ہو جو مجھے دیکھ کر پسند کرکء سیلکیکٹ کرنی تھی ۔۔۔
اماں سائیں وہ لڑکیاں تھیں ۔۔۔ ان کے بھی تو ارمان ہوں گے ؟
وہ اسے سمجھانے لگا ۔۔
ہاں تو تم کسی ایک کو پسند کرتے میں بات چلاتی تو کم سے کم یہ تو ہوتا کہ میری طرف سے بات شروع ہو جاتٹے مگر تم تو ۔۔۔ وہ کہہ کر اسے دیکھنے لگی
سب ان کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔
ٹھیک ہے اب میں جس لڑکی کو پسند کروں گا آپ کو وہاں جانا ہوگا اور رشتہ مانگنا ہو گا ۔۔۔
وہ کہتے وہاں سے اٹھا ۔۔۔
کون ہے وہ لڑکی ؟سکندر نے رعب دار لہجے میں پوچھا ۔۔۔
آپ جانتے ہیں اسے۔۔۔ وہ باپ کو سائیڈ مسکراہٹ اچھال کر بولا
سکندر نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا پھر اچانک آنکھیں چمک گئیں
تو پہلے کیوں نہیں بتایا کسی کو پسند کرتے ہو ؟ فریال کھڑی ہوتی بولی
وہ چھوٹی ہے ابھی اسے کچھ وقت دیں پھر شادی کی بات کر لیجئے گا ۔۔۔
حیات نے ماں کو جواب دیا پھر وہاں سے اٹھتا فریش ہونے چلا گیا
سائیں بتائیں کون ہے وہ لڑکی ؟اب وہ سکندر کو ہاتھوں ہاتھ لے چکی تھی ۔۔۔
ماں تم ہو ۔۔۔ تمہیں پتہ ہونا چاہیے ۔۔ وہ اسے دیکھتے تنگ کرتے بولا
جی جی ۔۔۔۔
بلکل ۔۔۔ پر یہ جو ایک جیسی آنکھوں کی وجہ آپ باپ بیٹے کے اندر انٹریکشن ہے نا یہ میری طرح کی دس مائیں بھی آجائیں تو نا سمجھ سکیں ۔۔۔۔
وہ بولی تو سب مسکرائے ۔۔۔۔
صائم اور دائم بھی فریش ہو کر ان کے پاس آتے ہوے ان کی باتیں سن رہے تھے ۔۔۔۔
وہ حوریہ کو پسند کرتا ہے ۔۔۔۔ اور ابھی وہ چھوٹی ہے اس لیے کچھ وقت صبر کرو ۔۔۔ سکندر کے جواب پر سب حیران رہ گئے ۔۔۔
یعنی اتنا چھپے رستم تھا حیات سکندر ۔۔۔ وہ زکریہ شاہ کی بیٹی سے محبت کرتا تھا !
لو جی گئ بھینس پانی میں ! صائم نے گہرا سانس لیتے کہا ۔۔۔
کیا مطلب ؟ فریال اسے کے پاس جا کر بیٹھتی بولی
ارے ڑارلنگ سائیں آپ جانتی ہیں ان حوریہ کتنی ڑرپورک ہے ۔۔ وہ تو حیات سکندر کی حویلی میں موجودگی پر کانپ اٹھتی ہے کہاں یہ فولادی جن خاموش بندہ کہاں وہ مچھلی جل کی رانی ۔۔۔۔
وہ بولا تو فریال بھی سوچ میں پڑ گئ ۔۔۔
بی جان بات تو ٹھیک کر رہا ہے صائم ۔۔۔
حیات کے غصے کو سب جانتے ہیں وہ معصوم سی لڑکی کیسے رہےگی اس کے ساتھ ۔۔۔ اور اوپر سے اسکی آنکھوں سے کتنا ڑرتی ہے وہ ۔۔
فریال کی بات پر سب نے سر اثبات میں ہلایا
دائم تمہارا ہاسپٹل کیسا جا رہے ؟ سکندر نے دائم کو دیکھتے کہا
جی بڑے بابا سائیں اچھا جا رہے ۔۔۔وہ دھیمے لہجے سے بولا ۔۔۔۔
ہمم ۔۔۔ اللہ تم لوگوں کو کامیاب کرے میرا بچہ ۔۔۔ بی جان نے ہلکی آواز میں دعا دی ۔۔۔۔
بڑوں کی دعائیں آپ کی زندگی سںوار دیتی ہیں ۔۔۔۔
🍁🍁
نعمان آفس سے جیسے ہی گھر میں داخل ہوا سامنے اپنی ماں کو دیکھ کر ان کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔۔
اسلام ماما ۔۔۔
وہ پیار سے بولا ۔۔ وہ اپنی ماں سے بہت نرمی سے بات کرتا تھا اس کی ماں نے جو دکھ دیکھے تھے اب وہ ان کو تکلیف نہیں دے سکتا تھا
وعلیکم السلام میرا بچہ ۔۔۔ مقدس نے مسکرا کر اس کو اپنے سینےسے لگایا
کیسا رہا آفس ؟ وہ مسکرا کر اس کے سارے دن کی مصروفیت کو دریافت کر رہی تھی ۔۔۔۔
وہ بھی ارام سے بیٹھا اسے سب بتا رہا تھا ۔۔۔
شایان فریش ہو کر کمرے سے نکلا جو کچھ دیر پہلے ہی اپنے آفس سے آیا تھا ۔۔۔۔
اسلام و علیکم ۔۔۔ شایان نے سلام دیا
نعمان شاہ نے اس کی موجودگی کو نظر انداز کیا
اسے آج بھی اپنے باپ سے اس بات کی ناراضگی تھی کہ اس کی وجہ سے اسکی ماں موت کے منہ سے واپس آئے تھی ۔۔۔
اگر وہ ایسا قدم نا اٹھاتا تو اس کی ماں کو ماضی میں اتنی تکلیف برداشت نا کرنی پڑتی ۔۔۔۔
نعمان بیٹا بابا نے سلام کیا ہے آپ کو! مقدس کا لاڈ پیار ایک طرف مگر وہ کبھی بھی شایان کے لیے نعمان کے دل میں بے ادبی برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔
کیونکہ مقابل شخص اسکا شوہر تھا جو اسکے دل پر حکومت کرتا تھا۔ اور جس کے دل کی اکلوتی ملکہ وہ خود تھی۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ اسکا شوہر اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لیے اسے گاؤں سے لے کر شہر شفٹ ہو گیا تھا۔ ۔۔
کبھی کبھی وہاں کر لگاتا تھا ۔۔۔۔اپںے بھائیوں کے بغیر رہنا شایان کے لیے بھی مشکل تھا
مقدس کبھی اسے اس کے بھائیوں سے الگ نہیں کرنا چاہتی تھی مگر وہ ایک مشرقی بیوی تھی ۔۔۔
خیر بیوی مشرقی ہو یا مغربی اپنے شوہر کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا تکلیف دہ پر صورت میں ہوتا ہے ۔۔۔
ایسا ہی مقدس کے ساتھ تھا جس کی وجہ سے اس نے شایان کے ساتھ شہر شفٹ ہونے کو بھلائ سمجھی
مگر اس دوران وہ خود بھی سائشہ بی جان اور اپنی جان سے پیاری بہنوں جیسی کزن فریال کو ہر لمحہ یاد کیا تھا ۔۔۔۔
اپنے رشتے کو بچانے کے لیے اس نے یہ کڑوا گھونٹ پیا تھا
مگر کبھی بھی شایان کے لیے اس کی محبت یا عزت کم نہیں ہوی۔ ۔۔ بلکہ مزید بڑھ گئ تھی ۔۔۔
ماما میں فریش ہو کر آتا ہوں ۔۔۔ وہ بات کو نظر انداز کرتا اپنی بات کہہ کر وہاں سے اٹھا بنا شایان کے چہرے پر نظر ڈالے اپنے کمرے میں چلا گیا
شایان نے اسکی پشت کو دیکھ کر گہرا سانس لیا پھر اپنی کیوٹی کے چہرے کو دیکھا جو پریشان ہو چکی تھی
انہہہہ ۔۔۔ میری کیوٹی کا چہرہ کیوں مرجھا گیا ہے ؟
وہ اسکے پاس بیٹھتے اس کی اس عمر میں بھی سرخ گلابی گالوں کو دیکھ کر انکوچھوتے ہوے بولا
سائیں مجھے نہیں پسںد وہ آپ کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھے ۔۔
وہ دن با دن بے ادب ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔
وہ پریشانی سے اسکو دیکھتے بولی
کس نے کہا میرا بیٹا بے ادب ہے ؟
وہ ناراض ہوتا بولا
ہاں بے ادب بھی ہے بے مروت بھی کھڑوس بھی اور اکڑو بھی
شایان کی بات پر مقدس نے منہ پھولاتے کہا
بلکل نہیں میرا بیٹا بلکل مجھ پر گیا ہے ۔۔۔
وہ میری طرح حساس ہے ۔۔۔۔۔ وہ تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا جیسے میں نہیں دیکھ سکتا
وہ بے مروت نہیں ہے ۔۔۔ جب میں ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھا تو وہ ہمیشہ میرے سونے کا انتظار کرتا تھا اور پھر جب تک میرے سونے کی خبر ملتی وہ فوراً کمرے میں آکر میرے پاس بیٹھ جاتا تھا۔ ۔۔
اسکی نظروں کی تپش مجھے چہرے پر محسوس ہوتی تھی ۔۔
اور ویسے بھی حسن میں بھی بلکل مجھ پر گیا ہے میرا شہزادہ ۔۔۔
شایان نے دل کھول پر اپنے بیٹے کی طرف داری کی ۔۔۔
مقدس نے اسے مسکرا کر دیکھا
بس حالات نے اسےاس قدر سخت بنا دیا ہے ۔۔۔۔اس نے اپنی ماں کو جس حالت میں دیکھا ہے اس کا مجھ سے ناراض ہونا بنتا ہے ۔۔۔ اور میں اسے لاڈ اٹھوانے کے ایسے ہزاروں موقعے دے سکتا ہوں کیونکہ مجھے اپنے شہزادے کے نکھرے دیکھ کر اپنا وجود مہکتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔۔۔
وہ بولا تو پہلے لفظوں میں اداسی تھی مگر پھر ایکدم چہک کر بولا
مقدس مسکرائ ۔۔۔
وہ جانتی تھی ہمیشہ کیطرح وہ اپنے بیٹے کے دِفع میں کھڑا ہو جائے گا ۔۔۔۔
شایان کو اپنے بیٹے سے بے تحاشہ محبت تھی۔ ۔۔
بدلے میں اس مغرور شہزادے سے چھپی ہوئی محبت کا چھوٹا سا نظارہ بھی اس کے لیے کافی تھا
🍁🍁
ماہی کب واپس آرہی ہے ؟ بھئ حویلی کی رونق کو ایک دن کی ہی اجازت دی تھی ہم نے ۔۔۔۔اب تک واپس نہیں آی وہ۔ ۔۔۔
صبح ناشتے کے وقت پر سکندر نے سوال کیا
جس پر سائشہ جو فریال سے بات کر رہی تھی خاموش ہوتی سکندر کی بات سن کر بولی
جی بھائ آج واپس اجائے گی ۔۔۔ میں نے تو منع کیا تھا مگر اس نے آپ کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں بہلا پھسلا کر اپنی بات منوا لی
سائشہ اب سب سے کھل کر بات کر لیتی تھی اور سکندر سے اس کا ڑر خوف بھی ختم ہو گیا تھا مگر وہ بہت عزت کرتی تھی ۔۔۔۔
حویلی کی شہزادی کی کوی بات ٹالی نہیں جا سکتی چچی سائیں آپ جانتی ہیں ۔۔۔
چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے اس کے چھوٹے چھوٹے آپ لیتے ان کے درمیان بیٹا حیات سکندر جو بہت کم گو تھا ۔۔۔۔
اس نے محبت بھرے لہجے میں کہا
یعنی وہ جو شہزادی تھی وہ اس شہزادے کے لیے باعث مسکراہٹ تھی ۔۔۔
اسکی آنکھوں میں اپنی ننھی سی بہن کے لیے بے تحاشہ محبت تھی ۔۔۔
ہاں بھی ایک ہم تھے جو مفت میں ہی مل گئے آپ لوگوں کو ۔۔۔کوی قدر ہی نہیں ہے ۔۔۔
صائم نے پھر سے رونا پیٹنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
ناشکرے ۔۔۔۔حیات سکندر نے اسے گھورا کر جواب دیا
ہاں جی جتنی عزت مجھے یہاں ملتی ہے میرے خیال سے کسی مزار پر جا کر دیگیں باںٹنی چاہئیے مجھے شکرانے کے طور پر۔۔۔۔
صائم نے اسکی گھوری پرکیا
ہاں بلکل کیونکہ تم یہ عزت بھی تم ڈیزرو نہیں کرتے ۔۔۔۔ خاموشی توڑتے آج دائم نے بھی حصہ ڈالا
ارے واہ میرا کوا مجھے میاؤں
صائم نے ہمیشہ کی طرح الٹےمحاورے بول کر سب کو قہقہ لگانے پر مجبور کر دیااور خاص طور پر اس کے چہرے کے زاویے وہ جس طرح سے بنا رہا تھا سب کو وہ وکیل کم عجوبہ زیادہ لگتا تھا
کبھی کبھی تو اسکے ماں باپ حیران ہو جاتے تھے کہ یہ نمونہ ان کا ہی بیٹا ہے
جب کہ حیات سکندر نے اسکو مسلسل پانچ منٹ سےٹکٹکی باندھے دیکھا تو وہ سوالیہ ہوا
کیا ہوا اتنا حسین ترین لڑکا دیکھ کرنیت خراب ہو رہی ہے ؟
وہ موقع محل دیکھے بنا بولا
سوچ رہا ہوں کہیں تم نے جج کو رشوت دے کر تو سارے کیس نہیں جیتے ؟
وہ بولا جب کہ سب کی ہنسی ایک دفع پھر گونج اٹھی ۔۔۔
وہ ہمیشہ اپنے چھوٹے کزن کی حرکتوں پر حیران ہو جاتا تھا مگر حیرت تو سب سے بڑھ کر تب ہوی جب حیات سکندر کو کسی کام کے سلسلے میں کوٹ جانا پڑا ۔۔۔
وہاں بس ایک دفع تعارف کروایا گیا تھا کہ وہ ایڈوکیٹ صائم شہریار کے بڑے بھائی ہیں ۔۔۔۔
سب نے جس قدر عزت دی ۔۔۔
اور صائم کےہںر کی داد سن کر اسے دھچکے لگے تھے
یہاں مغرور اور بیسٹ ایڈووکیٹ صائم شہریار کی دھوم مچی تھی جب کہ حویلی میں اس کے رونے دھونے پر وہ بلکل الگ شخصیت کا مالک تھا
ارے میں تو چڑیا کی طرح رنگ بدلتا ہوں ۔۔۔۔
وہ کندھے اچکاتا بولا
چڑیا نہیں ہوتی گرگٹ ہوتا ہے ۔۔۔ سائشہ نے پانچ سال کے بچے کی طرح اسکی درستگی کی
جی جی اماں سائیں وہی ۔۔۔
اچھا چلیں اب مجھے کیس کےہء دیر ہو رہی ہے ۔۔۔
میں نکلتا ہوں ۔۔۔ وہ جلدی سے اپنی کرسی سے اٹھتا اپنی ماں کے چہرے پر پیار کرتا جلدی سے وہاں سے نکلا
دائم بھی اپنی کرسی سے اٹھا اور جا کر اپنی ماں کو اسی انداز سے پیار کرتا بی جان سے پیار لینے آں کے کمرے میں گیا
حیات سکندر کو اٹھتے دیکھ فریال نے اپنی باہیں پھیلائیں ۔۔۔
یہ وہ لمحہ ہوتا جب حیات سکندر جو سنجیدگی میں سب کا باپ تھا
اس ق
وقت جھل کر مسکراتا تھا ۔۔۔
کیونکہ اس کے بعد اس کے باپ کا لال چہرہ دیکھنے والا ہوتا تھا
اور آج بھی وہ مسکرا کرماں کو سینے سے لگاتے ان کے سر پر پیار دیتے الگ ہوا اور چہرہ ترچھا کرکے باپ کو دیکھا
جہاں سکندر لال چہرے سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا
بس ایک یہی حرکت زہر لگتی ہے تمہاری ۔۔۔۔ وہ اپنے بیٹے کو گھورتے ہوے کسی کام کا کہہ کر حویلی سے نکلے ۔۔۔۔
فریال نے مسکرا کر بیٹے کو دیکھا اسکا ماتھا چوما ۔۔۔
حیات اپنے کمرے میں تیار ہونے چلا گیا جب کہ فریال سکندر کے پیچھے اسے دروازے تک چھوڑنے کی خاطر آئ
اتنی محبت سے کبھی تم نے مجھے پیار دیا ہوتا تو آج ہمارا حیات اکلوتا نا ہوتا ۔۔ وہ اسے پیچھے آتے محسوس کرکے اپنی سپیڈ سلورکے چلنے لگا تھا ۔۔۔ اس عمر بھی وہ کہاں اپنی بیوی کی نفی کرتا
اسکی زومعنی بات پر فریال بلش کرںے لگی
شرم کریں کیسے باتیں کر رہے ہیں بیٹا وہ ہمارا ۔۔۔۔
ہاں تو میں بھی یہی کہہ رہا ہوں اسکا بھی کوی بہن بھائ ہونا چاہیے تھا نا ۔۔۔۔
اسکو بلش کرتے دیکھ وہ مزید تنگ کرتے بولا
فریال نے خاموشی سادھ لی ایسےمعاملے میں وہ جوابی کاروائی نہیں کر پاتی تھی ۔۔۔۔
اگلا لنک لینے کے لیے آپ مجھ سےٹک ٹاک پر انباکس کریں یا آی میل کر سکتے ۔۔۔