Ishq Geeriyan
عشق گیریاں
ناول۔۔۔۔۔۔عشق گیریاں
ازقلم۔۔۔۔۔۔ آنسہ چوہان ❤️
Season 2
Season 11 to 15
سکندر جب ائیرپورٹ پہنچا تو اسے دیر ہو چکی تھی
جہاز اپنی منزل پر اڑان بھر چکا تھا
سکندر گرنے کے انداز میں وہاں لگی کرسیوں پر بیٹھا
سائیں آپ ٹھیک ہیں ؟
جعفر نے اس کے پاس تھوڑا نزدیک ہوتے فکر مندی سے کہا
جب کہ سکندر نے جواب نہیں دیا بس آنکھیں موند دیں
میں ہمیشہ تمہاری خواہشات پوری کرتا تھا مجھے علم نہیں تھا زندگی کے کسی لمحے مجھے شرمندہ ہونا پڑے گا کہ میں تمہیں تمہاری محبت نہیں دلا سکا ۔۔۔۔
اس نے ہلکی بڑبڑاہٹ کی جس کی آواز جعفر کے کانوں تک بھی نا پہنچ سکی
اپنی بھیگی آنکھوں کے کنارے کو انگوٹھے کی مدد سے صاف کرتا وہ گہرا سانس لیتے کھڑا ہوا
اور ایک طائرانہ نظر ائیرپورٹ پر ڈالی
پھر اپنی کندھوں پر رکھی کالی چادر کو درست کیا
وہ اس وقت سفید رنگ کے قمیض شلوار کے ساتھ کالے رنگ کی چادر کندھوں پر اوڑھے اپنے خوبصورت بالوں کو جو جیل سے سیٹ کیے ہوے تھے اس وقت ماتھے پر کچھ بے ترتیبی سے بھکرے ہوے تھے ۔۔۔۔
لب سختی سے بھینچے ہوے تھے پاؤں میں مہنگی کالے رنگ کی کھیڑی پہنے وہ مضبوط قدم لیتا آگے چلنے لگا جب کہ جعفر نے اس کی تقلید میں قدم اسکے پیچھے بڑھائے
سکندر گاڑی کے پاس آیا تو جعفر نے جلدی سے آگے بڑھتے گاڑی کا دروازہ کھولا اور سکندر گاڑی میں بیٹھ گیا
سکندر کے بیٹھتے ہی جعفر گھوم کر گاڑی کی دوسری طرف آتا ڑراییور کے ساتھ آگے بیٹھا
گاڑی میں موت کا سناٹا تھا گہری خاموشی مگر عجیب کیفیت تھی کہ سکندر سیٹ کی پشت پر سر رکھے آنکھیں زورسے میچتے اپنے ہاتھوں کی مٹھی کو لبوں پر رکھے سخت تاثرات چٹانوں سی سختی لیے بیٹھا تھا
جعفر نے آج سے پہلے اسے اتنا سنجیدہ شاید ہی کبھی دیکھا تھا ۔۔۔۔
🍁🍁🍁
فریال جو مسلسل سکندر کو کال کر رہی تھی مگر اس کی طرف سے کال رسیو نا ہونے پر پریشان تھی کیونکہ گیٹ پر کھڑے چوکیدار سے اسے پتہ چل گیا تھا کہ سکندر کس قدر غصے سے حویلی سے نکلا ہے ۔۔۔۔
وہ پریشانی کے ساتھ غصہ بھی تھی کہ وہ اس کی کال کیوں نہیں اٹھا رہا ۔۔
وہ اس وقت گہرے نیلے رنگ کی خوبصورت کھڑاہی والی قمیض کے ساتھ نیلے رنگ کی کیپری پہنے ہم رنگ دپٹے کو سر پر اچھی طرح ٹکائے لاونج میں چکر کاٹ رہی تھی
گوری رنگت پر اس وقت ہلکی ہلکی سرخی بکھری تھی
وہ ابھی کچھ آہٹ محسوس کرتی پلٹی تھی کہ سامنے سے حویلی کے داخلی دروازے سے آتا ہوا نظر آیا
ابھی وہ اسکی طرف بڑھتی کے اس کے سخت تاثرات پر وہ وہیں رک گئ ۔۔۔
اس کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتے پریشان ہوی پھر اسے لاونج میں جا کر صوفے پر بیٹھتے دیکھ وہ کیچن کی طرف بڑھی
کچھ دیر کے بعد چائے کا کپ ٹرے میں رکھے وہ اسکی جانب صوفے کی طرف بڑھی ۔۔۔
وہ سر جھکائے کہنیاں گھٹنوں پر رکھے جھکا ہوا تھا ۔۔۔ نظریں غیر مرئی نقطے پر ٹکی ہوی تھیں ۔۔۔
فریال نے جھر جھری لی اس کے اس قدر سنجیدہ چہرے کو دیکھتے ۔۔۔
پھر وہاں اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے چائے ٹیبل پر رکھی
سکندر نے لال آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا جو اسے ہی خاموشی سے دیکھ رہی تھی
سکندر نے چند پل اسے دیکھا پھر دوبارہ وہ زمین کو دیکھنے لگا
سکندر آپ شایان کو لینے گئے تھے نا ۔۔۔۔
فریال نے نا چار ہوتے خود ہی بات کا آغاز کیا
یہ پہلی دفع تھا کہ وہ اس سے بات کرتے ہوے خوف کھا رہی تھی
ہمم ۔۔۔ پر وہ چلا گیا ۔۔۔۔
سکندر نے بھگتی آنکھوں کو زور سے میچتےکہا
فریال نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔
آپ اتنے پریشان کیوں ہیں وہ بچہ نہیں ہے ماشاءاللہ اپنا خیال رکھ سکتا ہے وہ ۔۔۔۔
اسے سمجھ نا آئ کیا بولے اس لیےبامشکل بولی
مگر اس کی سرخ آنکھوں کو خود کی طرف دیکھتے پا کر اسے لگا اس نے کچھ غلط کہہ دیا
ہاتھ فوراً پیچھے کھینچتے خود بھی پیچھے کو کھسکتے بولی
مجھے لگتا میں نے غلط کہہ دیا سوری ۔۔۔۔
وہ بولی تو سکندر نے جلتی آنکھوں کو بند کیا پھر گہرا سانس لیتے
اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس کھینچا
وہ کٹی پتنگ کی طرح اس کے پاس آی ۔۔۔
ڑرا سہما سا چہرہ ۔۔۔ ناک میں پہنی لونگ اور ڑر کی وجہ سے کپکپاتے لب ۔۔۔ سکندر نے بغور اس کاجائزہ لیا
پھر اس کو اپنے سینے سے لگایا
فریال نے اٹکی ہوی سانس بحال کی وہ جو غصہ تھی کہ کال کیوں نہیں اٹھا رہا اب اس سے ڑر رہی تھی یا پھر اس کے سنجیدہ تاثرات نے پل میں اسکی ہمت ہوا کی تھی
ڑر کیوں رہی ہو مجھ سے میری جنگلی بلی ؟
فریال کے سر پر بوسہ دیتے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں نرم گرفت میں لیتے کہا ۔۔۔۔
آنکھیں اس کے چہرے کو جیسے حفظ کر رہی تھیں ۔۔۔
آپ اتنے سنجیدہ کبھی نہیں ہوتے اور آپ اس طرح مجھے ڑرا رہے ہیں ۔۔۔۔
فریال نے ہلکی آواز میں کہا
سکندر ہلکا سا مسکرایا ۔۔۔
تو کیا تمہیں نہیں آتا کہ جب شوہر پریشان ہو تو اسے کیسے سنبھالتے ہیں ؟
سکندر کے سوال پر اس نے چونک کر اسکی جانب دیکھا پھر اس کے ہاتھوں پر اپنے مومی نرم ہاتھ رکھے
مطلب ؟
وہ سوالیہ ہوی
مطلب یہ کہ میں پریشان ہوں تو تمہیں نہیں لگتا تمہیں میری تکلیف کم کرنی چاہیے ۔۔۔
وہ بولا اور پھر سامنے رکھی چائے کو اٹھا کر اسے پینے لگا ۔۔۔
اسے اس وقت واقعی ہی چائے کی ضرورت تھی مگر وہ اسے بتانا نہیں چاہتا تھاکہ وہ پہلے ہی جو کر سکتی تھی کر چکی ہے ۔۔۔اس کو اپنی بات پر فریال کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کافی تجسس دلا رہے تھے
اب کیا سوچ رہی تھی اس کی جنگلی بلی ۔۔۔
چائے کے آخری گھونٹ پر اس نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا اور پیچھے کو ہوتا اس کی جانب دیکھنے لگا
جو اب اسے دیکھ رہی تھی
خود کی طرف دیکھتے پا کر سوالیہ آئ برو آچکائے
جب کہ فریال اب اس کے چہرے پر پہلی سی سختی نا پا کر کچھ ریلیکس ہو گئ
میں نے موئیز میں دیکھا تھا کہ بیویاں اپنے شوہر کی پریشانی دور کرنے کے لیے عموماً ان کو کس کرتی ہیں ۔۔۔۔
وہ بولی جب کہ اپنی بات پر شاید وہ خود نہیں جانتی تھی کہ کیا بول رہی ہے جب کہ اسکی بات پر سکندر کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ ابھری
تو پھر تم نے مجھے پیار کیوں نہیں کیا ؟
وہ تو جیسے پٹری سے ہی اتر آیا تھا ۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے کی سنجیدگی کی جگہ ایک خوبصورت مسکراہٹ نے لے لی تھی
استغفرُللہ آپ کو لگتا ہے یہ چھچھورا پن میں آپ کے ساتھ کروں گی ۔۔۔۔
اپنی بات کی سنجیدگی محسوس کرتے وہ بری طرح پہلو بدلتی بولی
ہاہاہا ۔۔۔ اس میں چھچھورا پن کیسا ۔۔۔شوہر کو پیار کرنا تو ثواب ہوتا ہے
وہ اس کے گلابی ہوتے گالوں کو دیکھتے مزید اسے تنگ کرتے بولا
سائیں آپ میرے ساتھ زیادہ فری مت ہوں میں یہ سب کرنے والی نہیں ہوں لہذا آپ مجھے بتائیں کہ میری کال کیوں نہیں اٹھائ
اب وہ صوفے سے اٹھتی دونوں ہاتھ کمر پر رکھتی اپنی ٹون میں آتے بولی
سکندر نے مسکراہٹ دانتوں تلے دبای
ہاں بس مجھے ضروری نہیں لگا کہ تمہاری کال اٹھاؤں ۔۔۔۔
وہ کہتے صوفےسے اٹھا اس کا ارادہ کمرے میں جانے کا تھا ۔۔۔۔
جب کہ اس کی طرف سے جواب سن کر فریال کو تو مرچی ہی لگ گئ ۔
نا تو کس ماں سے باتیں کرنا ضروری تھا کہ اپنی اکلوتی حسین خوبصورت نوجوان بیوی کی کال کو اگنور کیا ؟
فریال کے تو سر پر جیسے گرم کوئلے ہی رکھ دیے تھے
جبکہ اپنے سامنے اس کی زبان کے جوہر دیکھ کر سکندر نے حیرت سے اسے دیکھا
مگر کچھ کہا نہیں جانتا تھا یہ آگ بھی تو اسی کی لگائ ہوی ہے
نہیں وہ میں دراصل ائیرپورٹ ۔۔۔
اس نے جیسے اب صفائ دینی چاہی
مگر سامنے فریال کو اونچی آواز میں روتے اور ساتھ بین کرتے دیکھ وہ دہل گیا
ابھی وہ کچھ کہتا کہ فریال کی رونے کی آواز پر بی جان اور سائشہ بھی کمرے سے نکل آئ
جب کہ سائرہ بیگم اور سلمہ بیگم بھی حیرت سے فریال کو دیکھ رہی تھیں
جو روتے ہوے اپنے شوہر کو یہ کہہ رہی تھی
ہائے میں مر کیوں نہیں گئ ۔۔۔ ہائے یہ دن آگیا کہ میرا شوہر مجھے اب بوجھ سمجھتا ہے ۔۔۔
ارے بی جان دیکھیں نا ان کو اب مجھ میں کوی دلچسپی نہیں ہے
پتہ نہیں کس ماں کے ساتھ تھے میں نے کال کی تو اٹھائ نہیں اور جب باز پرس کی تو کہتے ہیں تمہیں جوابدہ نہیں ہوں
ہائے بی جان ۔۔۔
وہ تو محلے کی پھپھے کٹنی عورتوں سے جیسے ٹرینگ لے کر آئ تھی ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے جو حویلی میں سناٹا تھا اب فریال کی آواز سے گونج رہا تھا
سائشہ نے حیرت سے منہ کھولے سکندر کو دیکھا
جبکہ سائرہ بیگم اور سلمہ بیگم نے بھی حیرت سے کنگ کھڑے سکندر کی طرف دیکھا
یہ کیا سن رہی ہوں میں ؟
سلمہ بیگم اب میدان میں اچکی تھیں
فریال جس کو بی جان نے گلے لگایا ہوا تھا وہ سلمہ بیگم کی آواز پر خاموش ہوتی ان کو سننے لگی
وہ دراصل ۔۔۔ سکندر نے سلمہ بیگم کی باز پرس پر ایک نظر سلمہ بیگم کو اور پھر ایک نظر اس اپنی چلبلی سی بیوی کو بی جان سے لپٹے دیکھا
جو زرا سی بات پر اتنا واویلہ مچا چکی تھی
کیا وہ ہاں ؟
سلمہ بیگم سختی سے بولیں
دیکھو سکندر تم اس گھر کے بڑے بیٹے ہو ۔۔۔ ہم نے بے شک اس شادی کے لیے رضامندی نہیں دیکھائی تھی مگر اب چونکہ وہ تمہاری بیوی اور چھوٹی سردارنی کی حیثیت سے اس حویلی میں ہے تو تم کیسے کسی اور کے ساتھ تعلقات بنا سکتے ہو ۔۔۔۔
فریال نے زبان دانتوں تلے دی ۔۔۔
یعنی وہ جو صرف سکندر کو تنگ کرنے والی تھی بہت بڑی بے وقوفی کر گئ تھی ۔۔۔ اپنے شوہر کے کردار پر سوال اٹھا چکی تھی
جب کہ سلمہ بیگم کی بات پر سکندر کو دھچکا لگا
آپ کیا کہہ رہی ہیں ؟ آپ ہوش میں تو ہیں ؟ میرے کسی اور سے رواسم استغفرُللہ میں آپ کو ایسا لگتا ہوں ؟
اور میں اپنی بیوی کے ہوتے ہوے یہ گھٹیا حرکت کروں گا ؟
وہ تو لال بھبھوتا چہرہ لیے بولا
سامنے کھڑی سلمہ بیگم پھر بھی وہیں کھڑی رہیں ۔۔۔
دیکھو میں نہیں جانتی کہ بات کیا ہے مگر ہاں وہ اس گھر کی بڑی بہو ہے اس کے ساتھ نا انصافی نہیں کر سکتے تم ۔۔۔۔اور ویسے بھی ہمارے خاندان میں خاندانی بیوی کا مقام بس ایک ہی عورت کو ملتا ہے ۔۔۔
اب کی بار سائرہ بیگم بھی بولیں ۔۔۔
جب کہ بات کے اتنے بڑھ جانے پر فریال کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے ۔۔۔
پہلے تو وہ لوگ کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھتی تھیں اور آج اچانک اتنی محبت اومنڈ آی تھی
مگر دل کے کسی کونے میں خوشی ہوی کہ وہ لوگ اس کے لیے بول رہی ہیں ۔۔۔۔
مگر یہاں معاملہ اور خراب ہوتے دیکھ خوشی کو گولی مارتی وہ جلدی سے کوی ترکیب لگانے لگی
سکندر نے لب بھینچ لیے یعنی گھر کی ساری خواتین اس کے بارے میں یہ رائے رکھتی ہیں ؟
مگر اصل غصہ تو اس فتنہ گو اپنی بیوی پر آرہا تھا جو اب معصوم شکل بنائے کھڑی تھی
بی جان ! سکندر نے بی جان کو پکارا جو خاموش کھڑی تھیں ۔۔۔
سکندر میرے کمرے میں آؤ ۔۔۔ بی جان نے سنجیدگی سے کہا اور قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھا دئیے
جب کہ سکندر کا دل کیا ہر چیز کو آگ لگادے اور پھر جلتی پر تیل کا کام تو فریال کے اتنے معصوم چہرہ بنائے کھڑے رہنا کر رہا تھا
اس نے آگ سلگائی نظروں سے اسے دیکھا جو جلدی سے بھاگ کر کمرے میں چلی گئ
جاؤ سائشہ فریال کے پاس جاؤ ۔۔۔ سلمہ بیگم نے حسبِ معمول آج کچھ نرم لہجے میں اسے مخاطب کیا تو وہ سر ہلاتی اس کے پیچھے چلی گئ ۔۔۔۔
جب کہ سائرہ اور سلمہ بیگم بھی اچٹتی نظر سکندر پر ڈالتی کمروں میں چلی گئیں ۔۔۔۔
مجھے یقین نہیں آتا کہ مجھے ایسی فتنہ عورت سے پیار ہوا۔۔۔۔
میں یہاں دیدار کو مرے جا رہا ہوتا ہوں اور محترمہ مجھے مجرم بنا کر خود اپنے ہجرے شریف میں جا بیٹھیں۔ ۔۔۔۔
آج تو میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں ۔۔۔
دانت پیس کر اوپر فریال کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھتے بولا پھر گہرا سانس لیتے بی جان کی عدالت میں حاضر ہوا
🍁🍁🍁
یہ کیا حرکت سن رہی ہوں میں ؟ بی جان کے سوال پر اس نے آنکھیں کھولے انہیں دیکھا
کیا ہوا میرا میک اپ اچھا نہیں ہوا کیا ؟ بی جان سکندر کو آنکھیں پھاڑے خود کو دیکھتے پا کر بولیں
بی جان ۔۔۔ وہ چڑ کھاتے بولا تو بی جان نے ہستے ہوے دیکھا
ہاہاہا ۔۔۔ تمہیں یاد ہے تم بچپن میں بھی ایسے ہی باتوں سے چڑ جاتے تھے اور آج دیکھو تمہاری بیوی نے تمہاری بچپن کی عادت باہر لا کھڑی کی
وہ ہستے ہوے بولیں ۔۔۔ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ ان کے پوتے کی بیوی محترمہ کس قدر افلاطون دماغ کی مالک ہیں ۔۔۔۔
جب کہ سکندر منہ کے زاویے بناتا ان کے پاس بیڈ پر بیٹھا
بی جان میں اسے آج سیدھا کر دوں گا ۔۔۔
وہ جیسے انہیں اپنے ارادے سے آگاہ کر رہا تھا
دھیان سے وہ بھی فریال سکندر ہے اینٹ کا جواب وہ پتھر سے نہیں بلکہ پوری دیورا ہی بندے پر گرا کر دیتی ہے ۔۔۔۔
بی جان نے محفوظ ہوتے کہا
بی جان آپ میری بی جان ہیں یا اسکی آپ نے اسے ڈانٹا کیوں نہیں کہ اس نے اپنے شوہر پر ایسا الزام لگایا
وہ بی جان سے سوالیہ ہوا
ارے بیٹا۔۔۔۔ مجھ بوڑھی میں کہاں ہمت ہے تمہاری جنگلی بلی سے پنگے لیتی پھروں تم خود ہی اسکو سنبھالو
بی جان نے ہری جھنڈی دیکھائی تو وہ جلتے کڑھتے اٹھا
اور یہ چھوٹ بھی آپ نے ہی دے رکھی ہے کبھی آپ سخت ساس بنتی تو مجال تھی کہ وہ ایسے کرتی ۔۔۔۔
اسکی بات پر بی جان نے استہزائیہ آی برو آچکائ
ہاں بلکل تمہارا تو کافی رعب ہے اسپر ۔۔۔۔
بی جان نے کہتے ساتھ مسکراہٹ چھپائ
تو وہ بنا کچھ کہے سڑے ہوے سخت برے موڈ کے ساتھ کمرے سے نکل گیا
بی جان نے سر نفی میں ہلایا ۔۔
دونوں ہیں ٹکر کے ۔۔۔۔
وہ بولتے مسکرائیں ۔۔۔۔
🍁🍁🍁
شام کے پہر وہ لوگ مشن سے واپس لوٹے تھے اس وقت وہ اپنے کمرے میں اپنی ہمیشہ کی طرح کی مصروفیت میں بری طرح کنگ تھا جب اس کے نمبر پر کال آئ
اس نے کال اگنور کی اور اپنے کام میں مصروف رہا مگر شاید کال کرنے والا اعلی نسل کا ڈھیٹ تھا اس لیے کال بند ہوتے ہی دوبارہ کال آرہی تھی
اب اس نے سختی سے موبائل کو دیکھا جیسے سارا قصور موبائل کا ہے ۔۔۔
وہ برش ٹیبل پر رکھتا اپنے ہاتھوں پر لگے رنگوں کے ساتھ ہاتھ موبائل کی جانب ہاتھ بڑھا گیا جو مسلسل بج رہا تھا
کال کسی ان ناؤن نمبر سے ات دیکھ کر ماتھے پر کچھ بل پڑے پھر کال رسیو کرتے فون کان سے لگایا
کیسے ہو مسٹر شہریار ابراہیم ؟ سنا ہے خوفیہ مشن پر کسی مجرم کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہو ۔۔۔۔ پر افسوس مجرم کو گھر میں پناہی دے رکھی ہے تم نے ۔۔۔۔
ابھی وہ سلام دیتا کہ دوسری طرف سے بات سن کر اس کی موبائل پر پکڑ سخت ہوی
کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔۔۔کون ہو تم ؟
اس نے کہا اور ساتھ ہی لیپ ٹاپ کی جانب بڑھتے جلدی سے اس نے نمبر کو ٹریس کرنے لگا
میں تمہارا مددگار ۔۔۔
تم جانتے ہو تم بہت معصوم بھولے بھالے ہو ۔۔۔۔
بہت جلدی کسی پر بھی یقین کر لیتے ہو مگر افسوس تمہاری اس معصوم عادت نے تم سے بہت بڑا کیس تباہ کروا دیا ۔۔۔۔
اگلے بندے کی بکواس پر غور کیے بنا وہ بس نمبر ٹریس کرنے کی کوشش کر رہا تھا
مسلسل لپٹ ٹاپ کی سکرین پر نظر دوڑاتے اس نے فون کی دوسری جانب سے آتی آواز پر چونک کر موبائل کو دیکھا
تم میری دشمنی پر اترے کو مگر تم جانتے نہیں ہو جن لڑکیوں کو تم بچانے کی کوشش کر رہے ہو وہ بہت جلد سمگل ہو جائیں گی
اگر ہمت ہے تو پھر روک کر دیکھاؤ ۔۔۔۔
کہتے ہی دوسرے آدمی نے کال کاٹ دی ۔۔۔
جب کہ شہریار نے اسکی لوکیشن اس وقت لاہور کے ایک چھوٹے سے علاقے میں پائ تھی تو جو قریبا آدھے گھنٹے کی مسافت پر دور تھا ۔۔۔۔
اس نے موبائل ٹیبل پر رکھا اور جلدی سے کپڑے لیتے واشروم میں بند ہوا اسے اب جلدی سے ٹیم کو اکھٹا کرکے اٹیک کرنا تھا ۔۔۔ چونکہ دشمن کو ان کے ارادے پتہ چل چکے تھے اب وہ زیادہ دیر نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔
🍁🍁🍁
وہ جو تپے ہوئے انداز میں کمرے تک پہنچا دروازے کے لاک پر ہاتھ رکھا تو دروازہ اندر سے لاکڈ تھا
ماتھے پر تیوریاں مزید بڑھی ۔۔۔
پھر واپس ہوتے کچھ دیر میں وہ ڈبلیکیٹ کیز لے کر دروازے تک آیا ۔۔۔ دروازے کھولتے وہ اندر آیا تو
سامنے وہ کالے رنگ کی ساڑھی پہنے شیشے کے آگے کھڑی تھی ۔۔۔
اس کی دودھیا رنگت پر ساڑھی کافی ججچ رہی تھی
وہ مسمرائز ہوتا اسے دیکھنے لگا مگر وہ اگلے ہی لمحے سحر کو خود سے جھٹکتے اسکی طرف بڑھا
اس کے پاس آنے پر فریال نے پلٹ کر اسکی جانب دیکھا
کالی آنکھوں کا زبردست تصادم کنجی آنکھوں سے ہوا
لال رنگ کی لپسٹک لگائے ۔۔۔ بال کھولے ۔۔۔
وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی
یہ سب کیا ہے ؟ سکندر نے اس کا ہاتھ پکڑتے کہا
وہ میں نے دیکھا تھا ایک فلم میں لڑکی لڑکے کے غصہ ہونے پر جا کر تیار ہوتی ہے تو اس کا غصہ جھٹ میں اتر جاتا ہے ۔۔۔
وہ بولی تو سکندر نے چند پل اس کے جھکے ہوے چہرے کو دیکھا
وہ حیرت انگیز منظر تھا کبھی وہ اس کی سمجھدار بیوی بن جاتی تھی کبھی اتنی ہی احمق کبھی اتنی نازک کبھی اتنی سخت ۔۔۔ وہ تو اس کے بدلتے تاثرات سے حیران تھا
تم کوی ناگن تو نہیں ہو ؟ وہ کچھ لمحے اسے دیکھنے کے بعد بولا
جب کہ فریال نے اس کا ہاتھ جھٹکا
کیا مطلب ہے اپکا کیا میں اچھی نہیں لگ رہی؟
وہ واپس شیشے میں خود کو دیکھتے بولی
اس کے مطابق تو وہ آج بے تحاشہ خوبصورت لگ رہی تھی اور اسکا شوہر کنجی آنکھوں والا باگڑبلا اسے ناگن بول رہا تھا
سکندر نے مسکراہٹ چھپائی ۔۔۔
اور اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔ تھوڑی اسکے کندھے پر رکھی اور گہری سانس اس کے کھلے بالوں میں لی
ارے نہیں وہ تم اتنے روپ بدلتی ہو تو مجھے کچھ ایسا ہی لگا ۔۔۔
وہ مسکراتے ہوے بولا
جب کہ فریال نے سانس روک کر اسکی بات سنی ۔۔۔
ویسے محترمہ یہ کیا حرکت تھی ؟
وہ اچانک یاد آنے پر الگ ہوتے بولا
تو فریال نے رکی سانس بحال کی
وہ آپ نے کہا نا ضروری نہیں سمجھا کہ میری کال اٹھاتے تو مجھے غصہ آگیا ۔۔۔
مجھے عادت ہو گئ ہے آپ کی اٹیشن کی اس لیے غصے میں پتہ نہیں کیا کہہ دیا میں نے ۔۔۔
سوری ۔۔۔
وہ اسکی جانب رخ کرتے اس کے سینے پر سر رکھتے بولی اور ساتھ اسکے کرتے کے بٹن پر انگلی چلانے لگی
یہ سوری مانگنے کا کیا طریقہ ہے ۔۔۔چپک کیوں رہی ہو؟
سکندر نے سنجیدگی سے کہا
تو فریال نے غصے سے الگ ہوتے اسے دیکھا ۔۔۔
کیونکہ آپ میرے شوہر ہیں آپ نے مجھ سے شادی کی ہے اور آپ نے اپنا آپ میرے نام کیا ہے
۔۔میری اکلوتی پراپرٹی ہیں آپ ! سمجھے آپ !
وہ اب دوبارہ ٹون میں آتے بولی تو سکندر نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھےاسے اپنے ساتھ لگایا
تم جانتی ہو تم نے نیچے کیا حرکت کی تھی ؟ وہ اس کے چہرے پر نظریں جمائے بولا
تو فریال نے اسکی آنکھوں میں دیکھا
سزا دو گے ؟
وہ سوالیہ ہوی آنکھیں اس کی ہری کانچ سی آنکھوں میں ڈالے وہ کانفیڈینس سے بولی تھی
سکندر نے جھک کر اس کے گال پر لب رکھے ۔۔۔
چاہتا تھا کہ آج تمہیں بہت بری طرح دانٹوں پر کیا کروں
پر کیا کروں تمہیں دیکھتے ہر شکایت ہجرت کر جاتی ہے ۔۔۔
وہ آنکھوں میں محبت لیے بولا تو فریال مسکرای
یہ تو پھر میرا ہیڈن ٹیلنٹ ہوا نا ؟
وہ بولی تو اس کی بات پر سکندر نے اسے گھورا
ویسے تمہیں واقعی ہی شرم نہیں آئ یہ سب کرکے ؟
وہ اب اسے شرمندہ کرنے کے لئے بولا
جب کہ کمر پر ہاتھ ابھی بھی موجود تھا ۔۔۔
وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہی تھی
ہاں تھوڑی سی ہوی تھی ۔۔۔ وہ دو انگلیوں کو تھوڑا سا فاصلہ دیتے بولی
تو سکندر نے اسکے ہاتھ کے اشارے پر گھورا ۔۔۔ یعنی اسکی بیوی کو واقعی ہی شرم نہیں آی ایسی حرکت پر ۔۔۔۔
کیا گھور کیا رہے ہیں ؟ آپ کو نہیں پتہ بیویاں ایسی ہی ہوتی ہیں ۔۔۔
وہ ایسے بولی تو سکندر نے گہرا سانس لیا
آج کے بعد تم ایسا کچھ نہیں کرو گی تم جانتی ہو نا مجھے میری عزت بہت عزیز ہے ۔۔ وہ جھک کر اس کے دوسرے گال پر لب رکھتے بولا
تو فریال نے سر اچھے بچوں کی طرح اثبات میں ہلایا
تو سکندر مسکرایا۔۔۔
🍁🍁🍁
سکندر ۔۔۔
وہ صبح تیار ہو رہا تھا جب فریال کی آواز پر اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
سوری سوری سائیں ۔۔ وہ زبان دانتوں تلے دباتی بولی ۔۔۔
ہمم بولو۔۔۔
وہ دوبارہ شیشے میں دیکھتے خود پر پرفیوم چھڑکنے لگا
وہ آپ نے اس پیاری سی ندی کا کیا سوچا ۔۔۔اپ نے وعدہ کیا تھا وہ ہمارے گاؤں کا حصہ بن جائے گی
اس نے اسے یاد دلایا تو سکندر نے اسکی جانب دیکھا
اوکے میری جان آج یہ کام ہو جائے گا ۔۔۔
اب اگر آپ کی اجازت ہو تو مجھے پنچایت کے لیے جانا ہے میں جاؤں؟
وہ بولا تو فریال نے سر اثبات میں ہلایا اور اسکے ساتھ باہر قدم بڑھائے
🍁🍁🍁
مقدس ۔۔۔ سکینہ بی نے اسے کیچن سے آواز لگائ جو پودوں کو پانی دے رہی تھی ۔۔۔ اماں کی آواز پر وہ جلدی سے پانی کیپ رکھتی وہاں سے قدم کیچن کی جانب بڑھا گئ
کیچن میں دروازے کے پاس کھڑے ہوتے اس نے سکینہ بی کو سوالیہ دیکھا
مجھ ضروری بات کرنی تھی اس لیے تم ناشتہ کر لو پھر ہم بات کرتے ہیں ۔۔۔ انہوں نے حسبِ معمول سنجیدگی سے کہا تو مقدس بھی سر ہلاتی ناشتہ کرنے لگی
ناشتہ کرنے کے بعد وہ سکینہ بی کے کمرے میں آئ ۔۔۔
اماں آپ نے کیا بات کرنی تھی ؟
اس نے سوال کیا تو سکینہ بی نے کپڑے تہہ کرکے الماری میں رکھے اور اسے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
مقدس کو عجیب سی کیفیت محسوس ہوی پھر وہ اب بھی سوالیہ نظریں لیے ان کو دیکھ رہی تھی تو کافی سنجیدہ تھیں
مقدس میں اب تمہاری شادی کر دینا چاہتی ہوں !
انہوں نے سخت سنجیدہ لہجے میں دو ٹوک کہا
پر اماں ۔۔۔ابھی مقدس کچھ احتجاج کرتی مگر سامنے سے ان کی سخت گھورتی نظروں پر خاموش ہوی
میں نے تمہارے بھائ سے بات کی ہے وہ بھی یہی چاہتا ہے اور جہاں تک بات اسد کی ہے تو اس نے بھی رضامندی دی ہے اس لیے میں نے تمہاری شادی اسی مہینے تہہ کی ہے ۔۔۔
تم خود کو دماغی طور پر تیار کر لو ۔۔۔
وہ بولیں تو مقدس کا وجود تو زلزلوں کی ضد میں آگیا ۔۔۔
ابھی تو اظہارِ محبت کیا تھا اس شخص نے ابھی تو اس نے اسکا دل بری طرح کچلا تھا
ابھی تو وہ خود کو تکلیف دے رہی تھی کہ اس نے اپنے لفظوں سے اسے تکلیف پہنچائ تھی
پھر اچانک شادی ۔۔ وہ کیسے کسی شخص کے ساتھ شادی کرتی جب کہ دل اور روح چیخ چیخ کر اس شخص کی شرارتوں پر مر مٹنے
کا اظہار کر رہے تھے مگر لب تھے کہ سختی سے بھینچے وہ خود کو کچھ بھی کہنے سے بعض رکھا
اماں آپ کو جو بہتر لگتا ہے مجھے کوی مسلہ نہیں ۔۔۔
آنکھوں کے بھیگنے پر وہ جلدی سے کہتے اٹھی اور بنا کچھ مزید کہے سنے وہ کمرے سے نکلتی چلی گئ
جب کہ سکینہ بی نے اس کی پشت کو دیکھا اور گہرا سانس لیا
🍁🍁
کیا کہہ رہی ہیں آپ پھپھو آپ نے میری دوست کی شادی تہہ کر دی اور مجھے اب پتہ چل رہا ہے
فریال کی حیران آواز صحن میں گونجی جب کہ پاس بیٹھی مقدس سر جھکائے بیٹھی تھی بنا کچھ کہے وہ خاموش تھی یا شاید دل کے شور کو سن رہی تھی
سکینہ بی نے سر نفی میں ہلایا ۔۔۔
نہیں بیٹا ۔۔ وہ اسے کچھ کہتی جب وہ بھیگی آنکھوں سے چارپائی سے اٹھی ۔۔
بس کر دیں پھپھو ۔۔ آپ نے مجھے اتنا پرایا کر دیا آپ کو میری یاد بھی نہیں آئ کہ ایک دفع آپ مجھے بتا تو دیتی ۔۔۔
وہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی جب کہ مقدس نے نظریں اٹھا کر اسکی بھیگتی آنکھوں کو دیکھا
مگر اس میں کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی تبھی خاموشی اختیار کیے رہی
سکینہ بی نے تڑپ کر فریال کی طرف قدم بڑھائے ۔۔۔
نہیں میری بچی یہ سب آج ہی ہوا میں تمہیں بتانے ہی والی تھی ۔۔۔
وہ اسے سمجھانے کے لیے آگے بڑھی تھیں
فریال نے ان کے اپنی طرف بڑھتے قدموں پر دو قدم پیچھے لیے
نہیں پھپھو آپ آج بھی نہیں بتاتی اگر اس سے ملنے کے لیے میرا دل بے چین نا ہوتا تو شاید اس کی رخصتی کی خبر بھی مجھے نہیں ملتی ۔۔۔
وہ اب اپنے آنسو کو بے دردی سے رگڑتے ہوے بولی تھی
مقدس تم اسے سمجھاؤ وہ غلط سمجھ رہی ہے ۔۔سکینہ بی نے خاموش بیٹھی مقدس کو بولنے کے لیے کہا مگر اس نے نظریں جھکا لیں
اہہہ پھپھو رہنے دیں بھلا وہ کیا کہے گی اس نے تو خود مجھے اس قابل نہیں سمجھا کہ اپنے دل کی بات مجھے بتاتی ۔۔۔ انفیکٹ اپنی شادی کی خبر تک نہیں ہونے دی ۔۔۔
بیٹیاں شادی کے بعد پرائ کر دی جاتی ہیں اور ایسا ہی ہے مجھے پرایا کر دیا گیا ۔۔۔
آج کے بعد میں آپ لوگوں سے ملنے نہیں اؤں گی ۔۔۔ کبھی نہیں ۔۔ وہ روتے ہوے اپنی چادر درست کرتی بولی اور پھر بنا رکے وہ ان کی دہلیز پار کرتی نکل گئ ۔۔۔
سکینہ بی اس کے پیچھے بھاگی مگر وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جا چکی تھی
Epi 12 season 2
سکینہ بی نے افسوس سے اس کی جاتی گاڑی کو دیکھا اور پھر دکھی دل سے واپس قدم لیے ۔۔۔
جب کہ وہ مقدس کے پاس آئیں
تم نے اسے کچھ کہا کیوں نہیں؟ انہوں نےاس سے سوال کیا ۔۔۔
پتہ نہیں ! وہ گہری سانس لیتے بولی ایک نظر اوپر آسمان پر ڈالی پھر اٹھتی ہوی وہ اندر چلی گئ ۔۔۔
ہائے میری بچی مجھ سے اس قدر ناراض ہو گئ ہے ۔۔۔ اس قدر دکھی ہو کر گئ ہے
سکینہ بی نے اپنی بھیگی آنکھوں کو صاف کرتے اپنی چوکھٹ کو دیکھا جہاں سے روتے ہوے ان کی جان سے پیاری بھتیجی نکلی تھی
🍁🍁🍁
Epi 12 s2
سکندر اس وقت پنچائیت میں اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھا ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے نیوی بلو کلر کی قمیض شلوار کے ساتھ ہلکی براؤن کلر کی چادر کو کندھوں پر ڈالے وہ اپنی سنجیدہ ہری آنکھوں سے سب کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس کے پاس کھڑا جعفر معدب انداز میں کھڑا تھا
بزرگ اپنی چارپائیوں پر بیٹھے تھے جب کہ تمام گاؤں کے لوگ چٹائ پر بیٹھے تھے ۔۔۔
وہاں بلکل خاموشی تھی سب اپنے اپنے مسائل پیش کر رہے تھے جب کہ وہاں کسی کی رونے کی آواز پر سب نے چونک کر آگے پیچھے دیکھا ۔۔۔۔ وہ سسکیاں نسوانی تھیں اس لیے وہ حیرت سے آگے پیچھے دیکھ رہے تھے پنچائیت کے قانون میں شامل تھا کہ وہاں صرف مرد حضرات ہی ہوتے تھے مگر اب وہ لوگ اس سسکیوں پر حیرت زدہ ڈھونڈ رہے تھے
سکندر نے ایک وجود کو آخری لائن میں بیٹھے دیکھا تو اس نے اپنی بھاری آواز میں کہا
“جو مسلہ ہے وہ بتائیں آپ کے رونے سے مسائل آپ پر کبھی ترس کھا کر واپس نہیں چلے جاتے” ۔۔۔
اسکی بات پر وہ وجود جو چادر میں چھپا بیٹھا تھا وہ اٹھا وہاں لوگوں نے چہہ مگوئیاں شروع کی تو وہاں پر سختی سے خاموش ہونے کا کہنے پر ایک دم سکوت چھا گیا
وہ عورت جس کی عمر لگھ بھگ تیس سال تھی ہلکی بھوری آنکھوں میں آنسو تھے
وہ اٹھی اور سکندر کے سامنے کھڑی ہو گئ ۔۔۔
سکندر نے سوالیہ اسے دیکھا
سردار جی مجھے انصاف چاہیے ۔۔ وہ روتے ہوے بولی ۔۔
سکندر اسکی بات پر اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے سر پر اپنا بھاری ہاتھ رکھا
ہم وعدہ کرتے ہیں آپ کو انصاف ملے گا ۔۔۔۔آپ مسلہ پیش کریں ۔۔۔۔
اسکی بات پر عورت نے آنکھیں میچ لیں ۔۔۔
سردار جی میرے شوہر کو اس کے جرم کی سزا دیں ۔۔۔
اس نے روتے ہوے کہا ۔۔۔ سکندر نے قہر بھری نظر وہاں بیٹھے اس لڑکی کے شوہر پر ڈالی جو اب پریشان سا بیٹھا تھا ۔۔۔ شاید اسے انداز نہیں تھا کہ اس کی بیوی ایسا کوئ قدم اٹھانے والی ہے ۔۔۔
تم بولو اس نے کیا کیا ہے ؟
سکندر نے قہر بھری نظر اس پر ڈالتے واپس اس لڑکی کی جانب دیکھا جو مسلسل رو رہی تھی
سردار جی آپ کو جب پتہ چلے کے آپ باپ بننے والے ہیں تو آپ کو خوشی ہو گی نا ؟
وہ جیسے پہلیاں بھجوا رہی تھی ۔۔۔
سوال پر سکندر نے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
تو عورت نے زخمی مسکراہٹ سے سکندر کو دیکھا
“پر میری قسمت ایسی نہیں تھی جب میں نے اپنے شوہر کو یہ خبر سنائی تو اس نے اس بچے کو ختم کرنے کے لیے کہا ۔۔۔
کیونکہ وہ بچہ نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
میں نے بڑی مشکل سے رو دھو کر اسے منایا مگر وہ منافق تھا اس نے میری گود اجاڑ دی ۔۔۔
ابھی میں نے اپنے بچے کے رونے کی آواز ہی سنی تھی کہ اس کی آواز ہمیشہ کے لیے دبا دی گئ ۔۔۔
سردار سائیں خدا کے واسطے مجھے انصاف چاہیے ۔۔۔
یہ کیسے مرد ہوتے ہیں اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں سے مار دیتے ہیں کہ وہ پال نہیں سکتے ۔۔۔
مجھے انصاف چاہیے کہ آخر وہ یہ کیوں نہیں محسوس کرتے کہ ایک ماں نے اپنی جان کو گروی رکھ کر بچے کو پیدا کیا ہوتا ہے ۔۔۔
وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ایک ماں کو کتنی تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے اور جب وہ سب تکلیفیں جھیلنے کے بعد اس کے ہاتھ میں اس کا بچہ آتا ہے تو اس کہ ساری تکلیفیں ختم ہو جاتی ہیں ۔۔۔
پر اس ظالم شخص نے میری اولاد مجھ سے چھین لی سردار جی میرا بچہ مار دیا اس ظالم نے ۔۔۔”
وہ روتے ہوے اب زمین پر بیٹھ گئ تھی تڑپ اس کے پورے جسم میں مچل رہی تھی جب کہ ساری بات سن کر سکندر نے سرخ آشام آنکھوں سے اس لڑکے کو دیکھا
جو اب شاید بھاگنے کی کوشش میں تھا ۔۔۔
جعفر (سکندر کاخاص آدمی )۔۔۔ سکندر نے سرد لہجے میں اسے پکارا
جی سائیں ۔۔۔
اس نے تعبیداری سے آگے بڑھتے کہا
ڈاکٹر فرقان کو بلاؤ ۔۔۔۔
اس کے سرد ٹھنڈے ٹھار لہجے پر سب وہاں پریشان ہوے
🍁🍁🍁
اہہہہہہ اہہہہہہ ۔۔۔ اہہہہہہ چھوڑو مجھے ۔۔۔اہہہہہہہہ
وہ شخص اس وقت چیخ و پکار کر رہا تھا درد اس قدر سخت تھا کہ اس کی جان نکل رہی تھی آنکھوں سے آنسو نکل کر اسکی دھاڑی میں جا رہے تھے
اس کی چیخ و پکار پر گاؤں کے سب آدمی ایسے دیکھ رہے تھے جیسے سانپ سونگھ گیا ہوا
وہ آدمی اس وقت سٹریچر پر پڑا قہرااا رہا تھا اس کے پیٹ پر ڈاکٹر فرقان نے تھیپکییلم لگایا تھا جس سے اتنی درد ہوتی تھی جتنی ایک ماں بچے کی پیدائش پر برداشت کرتی ہے ۔۔۔
ڈاکٹر فرقان ںے اس کے پیٹ پرتھیپکییلم لگایا تھا وہ رو رہا تھا بلکہ رہا تھا مگر سکندر نے اس تکلیف کو مزید بڑھانے کا کہا
ڈاکٹر فرقان نے سر ہلاتے ۔۔ ہاتھ میں پکڑے پمپ کو مزید دھبایا ۔۔۔
تو اس شخص کی چیخیں پورے گاؤں میں گونج رہی تھیں
سکندر نے سفاک نظروں سے اس شخص کو دیکھا اور پھر پلٹ کر سب گاؤں والوں کو دیکھا ۔۔۔ جن میں اب عورتیں بھی شامل تھیں ۔۔۔ چیخوں کی آواز پر سب عورتیں بھی وہاں جمع ہو گئ تھیں
آئندہ اگر کسی ماں سے اسکے ماں بننے کا حق چھینا تو اس سزا کو یاد رکھنا
اس نے وہاں کھڑے سب مردوں پر نظر ڈالی
ایک عورت اپنے جسم کی 224 ہڈیوں کے ٹوٹںے جتنا درد محسوس کرتی ہے جب وہ ایک بچہ پیدا کرتی ہے اور تم لوگ اس سے اسکی اولاد کو چھین لیتے ہو ۔۔۔
وہ سخت برہم ہوتے بولا تھا جب کہ وہ بھوری آنکھوں والی لڑکی مسکرای اور اس کے پاس آی
وہ میرا شوہر ہے سائیں میں نے اسے سر تاج بنا کر رکھا ہے آج تک اونچی آواز میں بات نہیں کی مگر یہ ظلم اگر میں خاموشی سے سہہ لیتی تو شاید اور بھی بہت سی لڑکیاں اپنی اولادیں کھو دیتیں ۔۔۔
مجھے آپ کا شکریہ ادا کرنے کا جب موقع ملا تو اپنی جان دے کر بھی میں یہ احسان چکاوں گی
اس لڑکی کی بات پر سکندر نے اس کی جانب دیکھا ۔۔۔
ہمارا کام انصاف دلانا ہے سو ہم نے کیا ۔۔۔ تم نے آواز اٹھائی بہت اچھا کیا اب سے اس گاؤں میں ہر عورت کو یہ حق ہے کہ وہ خود کے ساتھ ہونے والے ظلم پر آواز اٹھائے گی ۔۔۔ تاکہ مجرم کو اس کے گناہ کی سزا دی جائے ۔۔۔
وہ کہتے پلٹا ۔۔۔ وہ آدمی اب تکلیف سے آزمودہ ہوا پڑا تھا ۔۔۔ چہرہ تکلیف سے خون چھلکتا سرخ ہو چکا تھا
اس کو شہر میں پولیس کے حوالے کرو ۔۔۔ اس نے قتل کیا ہے ۔۔۔
سکندر نے کہتے قدم آگے بڑھائے تو جعفر سر ہلاتا اس آدمی کو آزاد کرتا اسے چند لوگوں کی مدد سے اسے لیے گاڑی کی جانب بڑھا
جب کہ سکندر کی پشت کو دیکھتے بہت سی نسوانی آنکھوں میں آنسو جگمگائے ۔۔۔
رب سائیں ہمارے سردار کو ہمیشہ خوش رکھے ۔۔۔
رب سائیں ہمارے سردار کو ہمیشہ انصاف دلانے کی طاقت بخشے
(رب سائیں ہمیں بھی ایسا حاکم دے جو ظلم کے خلاف کھڑا ہو اور ظالم کو اس کے گناہ کی عبرت ناک سزا دے ۔۔۔)
🍁🍁
سکندر پنچائیت کے بعد ڈیرے پر زمینوں کے کچھ کام سلجھاتا رہا پھر وہ اپنے کسی کام کا کہہ کر گاڑی کچھ گاڑز کے ساتھ لے کے گاؤں سے چلا گیا
🍁🍁
اس وقت وہ کروفر سا صوفے پر بیٹھا تھا اس کے تین گاڑز اس کے پاس کھڑے تھے جب کہ وہ جہاں بیٹھا تھا وہاں کی ہر چیز وہاں کے مالک جے زوق کا منہ بولتا ثبوت تھی ۔۔۔
سکندر نے ایک نظر ڑرایینگ روم کے دروازے کی جانب اٹھائ اور پھر اپنی گھڑی کی جانب دیکھا
اسے یہاں آئے ہو آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا مگر اب اسے اس شخص پر غصہ آرہا تھا جس سے ملنے وہ یہاں آیا تھا
کمینے کی انتطار کروانے کی گھٹیا عادت اب تک نہیں گئ ۔۔ وہ بڑبڑایا ۔۔۔
پھر اسے کچھ آہٹ محسوس ہوی سامنے نظریں اٹھا کر دیکھا تو سامنے ایک نوجوان چھ فٹ سے نکلتا قدم لمبا چوڑا جسم ۔۔۔ کسرتی جسم بادامی رنگت والا وہ شخص جس کی عمر سکندر کی عمر کے لگھ بھگ ہی لگتی تھی
اس کی گہری کالی آنکھوں میں پر اثرار تاثرات تھے
اس شخص نے سفید رنگ کے کرتا شلوار کے ساتھ بھوری رنگ کی چادر اپنے دونوں کندھوں پر ڈال رکھی تھی ۔۔۔ ہونٹوں کو او کی شکل دیے وہ ابرو اچکا کر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ رہا تھا
سکندر اس شخص کو دیکھ کر نظریں پھیر گیا
جس کی حرکت پر اس شخص کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری ۔۔۔نگر اگلے ہی پل سنجیدگی کا لبادہ اوڑھا اور جا کر سکندر کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا
اسلام و علیکم! بیٹھنے کے ساتھ اس نے سلام دیا جس کا جواب سکندر نے دل میں دیا مگر لب ہلا کر اس شخص پر سلامتی تک نا بھیجی
یہاں کیسے آنا ہوا؟ وہ اسے آپ ی حویلی میں دیکھ کر بولا ۔۔
اکثر انسان ہو اپنے دشمن سے کام پڑ جاتا ہے اور دشمنی کے ناطے انسان کو اس کے در پر آنا پڑتا ہے ۔۔۔سکندر صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے بولا
ہمارے ہاں دشمن ہو یا دوست ان کے لیے حویلی کے دروازے کھلے ہیں ۔۔۔
سامنے بیٹھے شخص نے سکندرپر نظریں ٹکائے کہا
پھر اس نے ہاتھ کے اشارے سے ملازم کا چائے لانے کا کہا ۔۔۔
سکندر نے سلگاتی نظروں سے زکریہ شاہ کو دیکھا جو خوشحال پر گاؤں کا سردار تھا
جب کہ بلکل ٹھیک ویسے ہی لال آنکھوں سے زکریہ شاہ نے سکندر کو دیکھا
دونوں کی آنکھوں میں غیض و غضب کی نفرت تھی مگر لبوں پر پر اسرار مسکراہٹ ۔۔۔
مجھے تم سے تمہارے گاؤں کی ندی کا حصہ چاہیے ۔۔۔
سکندر نے دو ٹوک لہجے میں کہتے ساتھ ہی اپنے گاڑ کو اشارہ کیا جس نے ٹیبل پر زمین کے کاغذات رکھے
زکریہ نے چونک کر اس کی جانب دیکھا
مگر کیوں ؟ وہ سوال کر گیا
سکندر نے اس کی جانب دیکھا
تم اس کے بدلے جو مانگو گے میں تمہیں دینے کے لیے تیار ہوں !
سکندر کی بات پر زکریہ کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔۔
وہ حیران ہوا بھلا وہ اس ندی کے حصے کے لیے کچھ بھی دینے کو کیوں تیار ہو گیا ۔۔۔ ہاں وہ ندی خوبصورت تھی مگر اتنا کیا خاص تھا کہ جناب سب کچھ دینے جو تیار تھے ۔۔۔۔
زکریہ نے پرسوچ نظروں سے سکندر کو دیکھا
میرا ایکسرے کرنا بند کرو ۔۔ وہ چڑ کر بولا
ہاں تو تم احمقانہ بکواس بند کرو ۔۔ وہ جوابی کارروائی کرتا بولا
میں نے تم سے کہا تم اس کے بدلے کچھ بھی لے سکتے ہو ۔۔۔
سکندر نے بات دھرائ ۔۔۔
زکریہ کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ ابھری ۔۔۔
تو ٹھیک ہے تم مجھے اپنے بابا سائیں کی پسندیدہ وہ جگہ میرے نام کرو گے جس پر تم کسی کی آہٹ بھی برداشت نہیں کرتے ۔۔۔۔۔
سکندر کو نظروں کے گھیرے میں لیے زکریہ نے وار کیا ھوا واقعی سیدھا جا کر لگا تھا
سکندر نے آگ سلگائی نظروں سے اسے دیکھا اور کھڑا ہوا
زکریہ شاہ اپنی حد میں رہو ۔۔۔۔ وہ اشتعال پر بامشکل قابو پاتے بولا تھا
آہستہ بولو تمہاری بھابھی معصوم ہے ڑر جاتی ہے ۔۔۔ زکریہ نے شیطانی مسکراہٹ اچھالتے کہا
سکندر نے اپنے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ مکہ کی شکل میں بنا کر رکھا گہرا سانس لیا
ایسا کیا ہے اس زمین کے ٹکڑے پر کہ تم اسے لینے کے لیے اتنے اتاولے ہو رہو ۔۔۔ زکریہ نے جانتی نظروں سے اسے دیکھا تو سکندر نے اسے دیکھا جیسے سالم نگل جائے گا پھر صوفے پر بیٹھتے اس نے پانی بھر لی
جب کہ زکریہ شاہ کو اب مزید دھچکہ لگا تھا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے جو اپنے باپ کی وہ زمین دے رہا ہے جہاں شاید اس کے علاؤہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔
کچھ کاروائی کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے کے نام زمین لگا چکے تھے ۔۔۔ ملازم نے چائے ٹیبل پر رکھی تو سکندر نے غصے بھری نگاہ اس پر ڈالی ۔۔۔
انہہہہ ۔۔ تمہارے حساب کی لڑک چائے بنوای ہے پی کر جانا۔۔۔ مجھے رزق ضائع کرنا پسند نہیں ۔۔۔۔
زکریہ نے کہا تو سکندر خاموش ہو گیا ۔۔۔
🍁🍁🍁
زکریہ نے کاغذات کو اپنے ہاتھ میں لیا پھر اپنے خاص آدمی کو سامنے کھڑے دیکھا ۔۔۔
کیا خبر ہے ؟
سوال کیا تو سامنے کھڑا خرم نامی شخص کسی طوطے کی طرح بولنے لگا
سردار جی ۔۔۔ سردار سکندر نے یہ زمین اپنی محبوب بیوی کی خواہش پر آپ سے خریدی ہے ۔۔۔ ان کی بیوی ان کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیز ہے ۔۔۔ بیت محبت کرتے ہیں ان سے اس لیے انہوں نے اپنے باپ کی زمین تک آپ کو دے دی ۔۔۔
خرم کی بات پر زکریہ نے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔۔
ہمم۔ ٹھیک ہے تم جاؤ ۔۔۔ اس کے کہنے پر خرم وہاں سے غائب ہوا
تو سردار سکندر اپنی بیوی سے اتنی محبت کرتے ہیں پھر تو ہمیں بھی ان سے ملاقات کرنی چاہیے ۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا
🍁🍁🍁
سکندر حویلی داخل ہوا تو اسے بی جان نے بتایا کہ فریال جب سے سکینہ بی کی طرف سے آی ہے خود کو کمرے میں بند کیا ہوا ہے ۔۔۔ اس نے دو پہر سے کچھ نہیں کھایا تھا
سکندر نے بڑے بڑے قدم کمرے کی جانب لیے اوپر آتے ہی دروازے پر زور ڈالا تو دروازے لاکڈ تھا ۔۔۔
اس نے جیب سے ڈبلیکیٹ چابی نکالی اور اندر داخل ہوا ۔۔۔
کمرے میں گہری خاموشی کے ساتھ عجیب سی کیفیت تھی ۔۔۔ کمرہ پورا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔سکندر کو پہلی دفع گھبراہٹ ہوی تھی اس نے ہاتھ بڑھا کر لائیٹ ان کی تو ۔۔۔ نظریں دشمنِ جاں پر پڑی جو صوفے پر بیٹھی سر گھٹنوں میں دیے ہاتھ گھٹنوں کے گرد باندھے بیٹھی تھی
سکندر نے قدم اسکی جانب بڑھائے ۔۔۔
اس کے پاس آتے اس نے ٹیبل پر کاغذات رکھے اور پھر اس کے پاس صوفے پر بیٹھا
کیا ہوا میری جند جان کو ۔۔۔۔ آج اپنے ہجرے میں کیوں قید ہو ؟
وہ نرمی سے بولا جب کہ فریال کے جسم میں کسی حرکت نہیں ہوی ۔۔
خادم سے کوی غلطی ہو گئ سرکار ؟ گستاخی معاف کیجیے سرکار اپنا چاند سا چہرہ ہمیں دیکھائیں ۔۔۔
وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا اور اس کے چہرہ بامشکل اپنے ہاتھوں میں تھاما مگر اس کی حالت دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا
رونے کی وجہ سے آنکھیں موٹی موٹی سوجی ہوی تھیں ۔۔۔ لب اب بھی رونے کے باعث سرخ تھے ۔۔۔ پتلی ناک بھی اس وقت شدت سے سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔
سکندر نے بے ساختہ اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔
فریال اس کے سینے سے لگتے پھر سے رونے لگی ۔۔۔
ششش! بتاؤ نا میرے چاند اپنے سائیں کو کیا ہوا ہے ؟ کسی نے کچھ کہا ہے ؟
بتاؤ نا میری بلی تو روتی نہیں ہے پھر یہ کیا حالت بنا لی ہے اپنی ۔۔۔
اب وہ خود بھی پریشان ہوتے بولا تھا ۔۔۔
س سس سائیں ۔۔۔ وہ روتے ہوے بامشکل بولی ۔۔
جی جان سائیں یوں رو کر مجھ پر ظلم مت کرو ۔۔ وہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامے اس کے بھیگے چہرے کو انگوٹھے کی مدد سے صاف کرتا اس کے گال پر لب رکھتا بولا
کک کوی مجھ سے پیار نہیں کرتا ۔۔ وہ بولی تو سکندر نے اسے گھورا۔۔۔
تو میں کیا فلرٹ کر رہا ہوں ؟ اسے سچ میں برا لگا تھا فریال کی بات پر ۔۔۔
فریال نے سر نفی میں ہلایا ۔۔۔
آپ کو پتہ ہے پھپھو نے مقدس کی شادی تہہ کر دی اور مجھے بتایا تک نہیں ۔۔۔
وہ روتے ہوے اپنے دکھ سنا رہی تھی جب کہ سکندر نے پل میں اپنی سانسیں روک لیں ۔۔۔
مگر اگلی ہی پل گہری سانس لے کر اس نے فریال کی بھیگی آنکھیں صاف کی
بس اتنی سی بات پر تم رونے بیٹھ گئ ۔۔۔ اپنے سائیں کو تکلیف دے کر خوشی ملتی ہی ؟ وہ اب ناراض ہوتے بولا تو فریال نے سر نفی میں ہلایا اور آنکھیں صاف کی ۔۔
تم نے کھانا بھی نہیں کھایا ؟ اب ایک اور شکوہ کرتے سکندر نے اسکی جانب دیکھا تو وہ مجرم سی سر جھکا گی ۔۔۔
پھپھو سے بھی ہم سوال جواب کر لیں گے پر اس کے لیے ہمیں ہمت چاہیے ہو گی اور میری جنگلی بلی بنا کھائے پیے کیسے حملہ کرے گی ؟
وہ بولا تو فری نے اسے معصوم نظروں سے دیکھا ۔۔۔
چلو شاباش اٹھو اور منہ دھو کر آؤ ۔۔۔
اس نے صوفے سے اٹھتے کہا مگر اسے وہیں بیٹھے دیکھ کر گہرا سانس لیا
ٹھیک ہے مت جاؤ پر تم نے جو سارا میک اپ کیا ہوا تھا نا وہ پھیل گیا ہے اور تم وقت کالی ماتا کا رول پلے کر رہی ہو ۔۔۔۔
فری اسکی بات پر اچھل پڑی اور جا کر شیشے کو خود کو دیکھا تو محض وہ سرخ تھی مگر ایسا کچھ نہیں تھا جو اس کے خاوند جناب ارشاد کر رہے تھے
اس نے بیڈ سے کشن اٹھا کر سکندر کی طرف پھینکے تو سکندر مسکرایا ۔۔۔
پھر وہ واشروم میں بند ہوتی کچھ دیر بعد فریش ہو کر نکلی ۔۔۔
سکندر اسے لیے کیچن میں آیا ۔۔۔ سب کھانا کھا کر اپنے کمروں میں جا چکے تھے اس لیے وہ اسے لیے کیچن کی جانب بڑھا ۔۔۔
اسے کرسی پر بٹھا کر وہ اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا ۔۔۔
تو بتائیں بیگم آپ کیا کھانا چاہتی ہیں ؟
سکندر نے سوال کیا تو فری نے رونے کی وجہ سے لال ہوتی آنکھوں سے سکندر کو دیکھا پھر مسکرای ۔۔۔
پاستہ ۔۔۔
وہ بولی تو سکندر اوکے میم کہتا مسکراتا ہوا اٹھا اور پھر وہ پاستا بنانے لگ پڑا ۔۔۔
جب کہ فریال مسکرا کر اسے تیزی سے ہاتھ چلاتے دیکھ رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر میں پاستہ تیار ہواتو وہ اسکے سامنے رکھتے اس کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔
فری نے پاستہ ٹیسٹ کیا تو بہت مزے کا بنا تھا تو فریال مسکرای
واہ میرے میاں جی تو بڑے سگڑ بچے ہیں ۔۔۔۔ آپ ایسے ہی اچھے اچھے کھانے بنا کر میرے پیٹ سے ہوے دل میں داخل ہو سکتے ہیں ۔۔۔
وہ ہستے ہوے بولی تو سکندر نے بھی قہقہہ لگایا
آپ کے دل پر حکومت ہماری ہے محترمہ پہلے دن سے لے کر آخری سانس تک ۔۔۔وہ جیسے مثبت بھری نظروں سے اسے دیکھتے بولا
فریال گڑبڑا کر کھانا کھانے لگی ۔۔۔
سکندر بھی اس کے ساتھ کھانا کھانے لگا ۔۔۔
🍁🍁🍁
کیا سچ میں سائیں ۔۔۔۔ ؟ وہ خوشی سے چیختے ہوے بولی تو سکندر نے اپنا کان کجھایا
یار میں بہرا نہیں ہوں پر تم مجھے ایک کان سے زور فارغ کر دو گی ۔۔۔
اور شکر ہے کہ کمرہ ساؤنڈ پروف ہے ورنہ اب تک ساری حویلی ہمارے دروازے کے باہر کھڑی ہوتی ۔۔
وہ بولا اور جا کر بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔
جب کہ وہ اسکی بات کو اگنور کیے اس کے پاس جا بیٹھی ۔۔۔
سکندر مجھے یقین نہیں آرہا آپ نے سچ میں وہ ندی خرید لی ۔۔۔۔اب میں روز وہاں جاؤں گی ۔۔۔
وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی جب سکندر کے نمبر پر کال آی ۔۔
اس نے کال اٹھائ ۔۔۔
کیا ہوا اس وقت کال کیوں کی ؟ اس نے جعفر سر کہا
سردار جی مجھے خبر ملی ہے کہ سردار زکریہ شاہ کا خاص آدمی خرم آپ کے بارے میں معلومات لے رہا تھا ۔۔۔ مجھے گڑبڑ لگی تو سوچا آپ کو بتا دوں ۔۔۔
ہممم
سکندر نے سر اثبات میں ہلایا
ٹھیک ہے ہم اسپر صبح بات کرتے ہیں ۔۔۔اس نے کال کاٹی مگر سوچ کے دھاگے وہیں اڑ گئے تھے
سکندر کیا ہوا آپ پریشان کیوں ہو گئے ؟
فریال نے اسکے پرسوچ چہرے پر نظریں ڈالے کہا
نہیں کچھ نہیں ۔۔۔ تم بتاؤ تم گئ تو تمہیں پتہ چلا کہ مقدس کی شادی ہو رہی ہے ؟
وہ اسکا دھیان بھٹکانے بولا تو وہ بھی اس سے دوسری باتوں میں الجھ گئ ۔۔۔
🍁🍁🍁
Epi 13 s2
مقدس آج اسد کے ساتھ شادی کی شاپنگ پر آئ تھی ۔۔۔ وہ آنا نہیں چاہتی تھی ماں کے کہنے پر وہ چکی آئ ۔۔۔ یہاں وہ نواب صاحب اپنی ہی پسند سے ساری شاپنگ کر رہے تھے ۔۔۔ اگر اپنی ہی پسند اس پر مسلت کرنی تھی تو پھر لانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔
وہ ناچار سی اس کے ساتھ چل رہی تھی جب اسے خود پر نظروں کی تپش محسوس ہوی ۔۔۔۔
اس نے چوںک کر پلٹ کر دیکھا مگر وہاں کوی نہیں تھا ۔۔۔ وہ حیران ہوی مگر پھر اسد کی بات پر اسکی طرف متوجہ ہوی ۔۔۔
اب وہ کیفٹ ائریہ کی طرف بڑھی ۔۔۔
کہاں جا رہی ہو ؟ اسد نے سوال کیا
مجھے بھوک لگی ہے وہ سخت بور ہو رہی تھی تو اسے بھوک محسوس ہونے لگی تھی
اپنی بھوک پر قابو پانے کی کوشش کیا کرو۔۔۔ پر وقت کھانے کی پڑی رہتی ہے اسد جلتا کڑھتا اسے لیے لیفٹ ائریہ میں بڑھا ۔۔۔
مقدس نے نظریں جھکا لیں ۔۔
مگر خود پر نظریں محسوس کر اسے عجیب لگا
اب آ بھی جاؤ ۔۔۔ اسد کی آواز پر وہ اسکی طرف بڑھی ۔۔۔
تم بیٹھو میں آڑر دے کر آتا ہوں ۔۔وہ کہتے ہی اسے کرسی پر بٹھاتے خود وہاں سے نکلا
جب کہ مقدس کو اب بھی کوی اپنی طرف دیکھتا محسوس ہوا ۔۔۔
اس نے گہری سانس لے کر دوسری جانب ٹیبل پر دیکھا تو وہاں ایک وجود گہری کالی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ چہرہ ماسک کی وجہ سے چھپا ہوا تھا اور سر پر ہڈی تھی ۔۔
مقدس نے جلدی سے جھر جھری لی ۔۔۔
کیا دنیا میں بس شایان کی ہنی آنکھیں ہی سب سے زیادہ خوبصورت ہیں ۔۔ وہ دل میں بولی پھر اسد کو آتے دیکھ وہ سیدھی ہوی
🍁🍁🍁
اسد میں کافی تھک گئ ہوں مجھے اب گھر جانا ہے ۔۔۔ وہ اس کے ساتھ ایک دفع پھر بورنگ سی شاپنگ میں دل پر بوجھ رکھے بس چل رہی تھی اب مزید بے زار ہوتی بولی
تم آج کچھ زیادہ ہی نہیں نکھرے دیکھا رہی ؟
اور تمہیں کیا لگتا ہے مجھے تم میں بہت انٹرسٹ ہے کہ تمہاری چیزوں کے لیے خوار ہو رہا ہوں ؟
وہ اسے دیکھتے غصے سے بولا
مقدس ابھی کچھ کہتی جب وہ پھر سے بولا
تم جیسی گوار کے ساتھ بابا تو میری منگنی کرکے مجھے تو ساری زندگی کے لیے ایک نمونہ ساتھ لے کر چلنے پر مجبور کر ہی گئے ہیں مزید تمہاری پینڈو سی پسند پر میں کم از کم تمہیں اپنے ساتھ لے کر نہیں چل سکتا ۔۔۔
وہ تو جیسے کوئلے ہی چبا بیٹھا تھا منہ سے آگ نکالتا گیا جب کہ اتنی تذلیل پر مقدس نے بھیگی آنکھیں جھکا لیں
وہ چاہتی تو اس کن کجھورے کو بہت کچھ سنا سکتی تھی پر وہ مجبور تھی اس کی ماں کی عزت اور باپ کے مرتے ہوئے آخری فیصلے کی لاج رکھنی تھی
وہ اسکی ساری باتوں پر خاموشی سے سر جھکا گئ ۔۔۔
جب کہ اسد نے اس کے جھکے سر کو دیکھ کر شیطانی مسکراہٹ اچھالی ۔۔۔
ساری زندگی اسی طرح رہنا آئندہ اگر جواب دیا تو یاد رکھنا ۔۔۔ وہ کہتے پلٹا اور کچھ مزید چیزیں لینے کے لیے آگے بڑھا مقدس ابھی بھی وہیں کھڑی تھی جب ایک لڑکی اس کے پاس آی ۔۔۔
اس بد تمیز سے لڑکے سے کیوں شادی کر رہو پیاری لڑکی ؟
کیا تم نہیں سمجھ پا رہی اسے تم میں کوی انٹرسٹ نہیں ہے ۔۔۔
تم کیوں خود ایک بوجھ بنا رہی ہو؟
اس لڑکی کی بات پر مقدس نے روی روی آنکھوں سے اسے دیکھا
بعض دفعہ ہم خود تذلیل کو اپنے مقدر کا ستارہ بنا لیتے ہیں !
وہ بولی تو آواز میں نمی سی گھل گئ ۔۔۔
خود کی بے بسی پر دل چاہا چیخ چیخ کر روئے اور بتائے وہ کتنی مجبور تھی کتنی بے بس تھی وہ ۔۔۔
اپنی محبت تک کو چھوڑا مگر جواب میں کونسا محبت کی جگہ عزت بھی دی جا رہی تھی ۔۔۔
دیکھو لڑکی ہمیشہ اس کو چنو جو آپ سے محبت کرتا ہے ۔۔۔ وہ آپ سے پھر صرف محبت نہیں کرتا بلکہ آپ کا احترام بھی کرتا ہے ۔۔۔
وہ لڑکی بولی تو مقدس کی آنکھوں کے سامنے شایان کی روی آنکھیں آئیں جب اس نے یہ کہا تھا کہ وہ اسد سے محبت کرتی ہے تو کتنی تکلیف تھی شایان کی آنکھوں میں ۔۔۔
وہ گہرا سانس لیتی خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
اور بنا جواب دیے وہ اسد کو خود کی طرف گھورتے پا کر اس کی جانب بڑھی ۔۔۔
جب کہ دو سیاہ آنکھوں نے منظر کو کافی غور سے دیکھا تھا ۔۔۔۔
🍁🍁🍁
شادی کی تیاریاں اب پوری طرح سے شروع ہو چکی تھیں ۔۔۔ دل مردہ وہ بم آنکھوں سے جائے نماز پر بیٹھی دعا کی شکل میں ہاتھ اٹھائے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
فریال اس سے اب بھی ناراض تھی آج وہ اسے منانے جانے کا ارادہ بھی رکھتی تھی مگر وہ خود میں جھوٹ بولنے کی ہمت پیدا نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔ وہ جانتی تھی اسکی بجھی آنکھوں کو فریال دیکھ کر اسکی رضامندی کا سوال کرے گی جس کا جواب وہ کبھی نہیں دینا چاہتی تھی ۔۔۔۔
یا اللہ ۔۔۔ آنسو بہہ کر اس کے گورے گلابی موٹے موٹے گالوں پر گرا ۔۔۔
میں بہت بے بس ہوں ۔۔۔ مجھے تھام لے ۔۔۔ میں نے گناہ کیا کسی کا دل توڑ کر ۔۔۔ تبھی تو اس دل کو اب ایک پل کو بھی قرار نہیں مل رہا ۔۔۔
نا جانے وہ کتنی تکلیف سے گزرا ہو گا پر مجھے اس کے بدلے ڈبل تکلیف مل رہی ہے ۔۔۔
میں نہیں جانتی کے نصیب میں کیا لکھا ہے پر میں اتنا ضرور جانتی ہوں نصیب لکھنے والا مجھ سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔۔۔
یا اللہ مجھے معاف کردے تیرے بندے کے دل کو زخمی کیا ہے میں نے ۔۔۔
پلیز اللہ جی مجھے اس بے مقصد سی زندگی سے اکتاہٹ ہونے لگی ہے ۔۔۔
وہ روتے ہوے بولی تو ہچکی ابھری ۔۔
میں میں جانتی ہوں کہ موت نہیں مانگ سکتی یہ زندگی تیری دی ہوی نعمت ہے پر میں تجھ سے تیرا رحم مانگتی ہوں ۔۔۔۔
تیری غفار اور قہار کی صفات سے بڑ کر تیری رحم اور کرم کی صفات زیادہ ہیں میں تجھ سے تیرا رحم مانگتی ہوں
میرے حال پر رحم فرما۔۔۔
وہ روتے ہوے سجدے میں جھک گئ ۔۔۔
وہ شایان کو نہیں مانگ سکتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی جلد ہی اسکو کسی اور کے نام لگا دیا جائے گا ۔۔۔وہ خود میں گھٹ رہی تھی اس لیے اب حالِ دل اسکو سنایا جو سن کر کبھی رد نہیں کرتا
بے شک وہ سب جاننے والا ہے
🍁🍁
سکینہ بی دو دفع فریال سے ملنے آی مگر وہ ان کے آنے پر خود کو کمرے میں بند کر لیتی تو سکینہ بی نا چار سی واپس چلی جاتیں ۔۔۔
گاؤں کی عورتوں سے پتہ چلا تھا فریال کو کہ مقدس کی شادی کی تاریخ تہہ ہو گئ ہے ۔۔۔۔
وہ دل کی بے چینی پر ادھر ادھر چکر کاٹ رہی تھی ۔۔۔
پھر اٹھ کر حویلی کے اندر گئ ۔۔۔
وہ شایان کو بھی بہت مس کر رہی تھی اور پھر اس سے مسلسل کوی رابطہ نا ہونے پر اسے عجیب حالت ہوتی محسوس ہو رہی تھی
وہ اس حویلی کی رونق تھا اس کے بغیر حویلی اداس ہو گئ تھی ۔۔۔
اس کے ہوتے ہوے کتںا اچھا لگتا تھا ۔۔۔ پر اب اسے گئے اتنا وقت ہو گیا اور پلٹ کر حال تک نہیں پوچھا ۔۔۔
وہ بڑبڑای ۔۔۔ پھر نظر اٹھا کر سائشہ کے بند دروازے کو دیکھا
ایک اس کے شوہر جناب ہیں جن کو ہوش ہی نہیں ہے کہ ایک عدد بیوی ہے جو ان کے انتظار میں خود کو کمرے میں بند کیے ہوے ہے ۔۔۔
وہ پھر سے بڑبڑائ ۔۔۔
پھر بی جان کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا
اور گہرا سانس لیا ۔۔۔
ان کو بھی آج ہی اپنی بہن کی طرف جانا تھا ۔۔۔ میرا دل بری طرح بجھ رہا ہے ۔۔
وہ کہتے اوپر کی جانب بڑھی پھر کمرے میں آتے اس نے قدم الماری کی جانب بڑھائے اور اس نے ایک سوٹ نکالا جو مہرون رنگ کی شرٹ کے ساتھ مہرون رنگ کی کیپری تھی ۔۔۔
شرٹ پر کافی خوبصورتی سے مہرون رنگ میں ہی کھڑای کی گئ تھی ۔۔۔
وہ اسے نکالتی کپڑے لیے واشروم میں بند ہو گئی
پھر کچھ دیر بعد گیلے بالوں کے ساتھ وہ کپڑے پہنے باہر آئ ۔۔۔
ڑراییور سے بالوں کو اچھی طرح سخا کر وہ ان ڑریسنگ کے سامنے ٹول پر بیٹھ گئ ۔۔۔
اب وہ فرصت سے ہلکا پھلکا میک اپ کرنے لگی ۔۔۔
اسے سکندر نے ایک نئ نوزپن گفٹ کی تھی تو اس نے وہ پہنی جس میں سرخ رنگ کا ایک خوبصورت مگر چھوٹا سا نگ لگا ہوا تھا
آنکھوں میں کاجل لگائے اپنی گھنی پلکوں پر ہلکا سا مسکارا لگائے وہ اٹھی اور ساری چیزوں کو واپس ان کی جگہ پر رکھتی ۔۔۔ ہلکا سا لپگلوز لگاتے وہ پلٹی اور پھر تھوڑی دیر بعد وہ ہم رنگ مہرون رنگ کا جوتا پہنے ڑریسنگ روم سے باہر نکلی ۔۔۔
اب وہ خود کو شیشے میں دیکھتی مسکرای
کبھی کبھی انسان کو خود کے لیے بھی سجنا چاہیے اچھا لگتا ہے ۔۔ وہ شیشے میں دیکھتے بولی ۔۔۔
پھر کمرے سے نکلی ۔۔۔اس نے سائشہ کے کمرے میں قدم بڑھائے جو پینٹنگ کر رہی تھی
ماشاءاللہ وہ بے ساختہ بولی
ارے واہ آج یہ شعلہ بن کر کہاں گرنے کا ارادہ ہے ؟ سائشہ نے اس کے خوبصورت ترین روپ کو دیکھتے کہا
اپنے شوہر کے ۔۔ فریال نے مسکرا کر کہا تو سائشہ مسکرای ۔۔۔۔
وہ تو پہلے ہی آپ کے آگے پیچھے گھومتے ہیں اب ان کو مجنو بنانے کا ارادہ ہے ؟ وہ ہستے ہوے بولی ۔۔
جو خود اس وقترف سے حلیے میں بیٹھی پینٹنگ کر رہی تھی ۔۔۔
ہاں یہی سمجھ لو ۔۔۔ وہ کہتے مسکراتے ہوے کمرے سے نکلنے لگی پھر رکی
سنو میں کچھ دیر باہر جا رہی ہوں سکندر نے پوچھا تو بتا دینا
۔ وہ بولی تو سائشہ نے مسکراتی آنکھوں سے سر ہلایا
سائشہ نے اس کے جانے کے بعد بند دروازے کو دیکھا ۔۔۔
پتہ نہیں کیوں اسے شہریار کی یاد پھر سے ستانے لگی ۔۔۔
کتنا اچھا لگتا تھا اسے اس کے لیے سجنا سنورنا ۔۔۔ اور وہ شخص نا جانے کونسی بات کی سزا دے رہا تھا ۔۔۔
وہ گہرا سانس لے کر آنکھوں سے نکلنے کو بے تاب آنسو کو پینے لگی
🍁🍁🍁
ڈاکٹر اگر میرے دوست کو کچھ ہوا تو میں تمہاری جان لے لوں گا!
سعد نے بری طرح ڈاکٹر کا گریبان پکڑتے اسے جھنجھوڑ کر کہا
ان کا مشن کامیاب ہوا تھا مگر اس دوران دشمن نے ان پر گولیاں چلای تھیں ۔۔۔ جس میں ایک ایک گولی سعد کے بازو پر لگی تھی جب کہ شہریار کو گولی سینے کے بلکل قریب لگی تھی ۔۔۔
فاطمہ نے سعد کی حالت دیکھتے اسے کے ہاتھ سے ڈاکٹر کا گریبان چھڑوایا
سوری ڈاکٹر بس آپ شہریار کو بچانے کی کوشش کریں ۔۔ وہ سوری کرتے بولی جس پر ڈاکٹر نے غصے بھری نگاہ سعد پر ڈالی پھر پلٹ کر وہ واپس آپریشن روم میں چلا گیا ۔۔۔
سعد خود کو سنبھالیں ۔۔۔ فاطمہ نے اس کے ہاتھ تھامتے کہا
میرا دماغ پھٹ رہا ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا فاطمہ میں کیا جواب دوں گا سکندر بھائ کو ۔۔۔
اور اور سائشہ بھابھی وہ جو اس کے انتظار میں بیٹھی ہیں وہ کیسے سن پائیں گے یہ خبر ۔۔۔
وہ روی روی آنکھوں سے بولا ۔۔۔
سعد آپ یہاں بیٹھیں ۔۔۔ فاطمہ نے اسے ایک کرسی پر بٹھایا پھر اسکے ساتھ بیٹھی ۔۔
سعد ۔۔ یہ خبر ان کو ملنی ضروری ہے ۔۔ اگر خدا نا خواستہ ان کو کچھ ہو گیا تو ۔۔۔فاطمہ نے بھیگی آنکھوں سے کہتے پھر ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھا وہ کچھ الٹا نہیں کہنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
تبھی مزید کچھ کہنے سے خود کو بعض رکھا ۔۔۔
سعد نے اسے اپنے سینےسے لگایا ۔۔۔
بس تم مت رو ۔۔۔ پلیز مت رو ۔۔۔وہ خود تو رو رہا تھا مگر اپنی جان سے پیاری بیوی کی بھیگی آنکھوں کو نہیں دیکھ پا رہا تھا ۔۔۔
آپ بھی مت روئیں نا ۔۔ وہ الگ ہوتی اسکے چہرے پر آنسوؤں کی لکیروں پر اپنی مومی انگلیاں چلاتے بولی ۔۔۔۔
تو سعد مسکرایا ۔۔۔ ہاں نہیں رو رہا ۔۔ اب ہاسپٹل کا خیال کرو ۔۔۔
وہ اب اسے الگ کرتا بولا تو فاطمہ نے اسے گھورا ۔۔۔سیںے سے خود لگایا تھا اور اب ہاسپٹل کا خیال بھی اسے ہی کروا رہا تھا ۔۔۔
پھر سعد نے گہرا سانس لیتے سکندر کے نمبر پر کال کی ۔
جو دوسری ہی بیل پر اٹھا لیا گیا ۔۔۔
سکندر کے کال اٹھاتے ہی اسکی بھاری آواز کال پر گونجی
اسلام علیکم! ۔۔۔
سعد نے فاطمہ کو دیکھتے ایک دفع پھر جنت ہارتے سر نفی میں ہلایا مگر اس کے اپنے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر دبانے پر وہ گہرا سانس لیتا بولنے کی کوشش کرنے لگا
وو وعلیکم السلام سکندر بھائ کیسے ہیں آپ ؟
سکندر جو اس وقت زمینوں کے حساب میں مصروف تھا ان ناؤن نمبر سے اتنی کال کو رسیو کیا ۔۔۔نا جانے عجیب سا احساس پیدا ہوا تھا
دوسری جانب سے لڑکھڑاتی آواز پر وہ چونکا ۔۔۔
میں ٹھیک ہوں آپ کون ہیں ؟
وہ سیدھا ہوتا بولا
سکندر بھائ میں شہریار کا دوست ہوں ۔۔۔وہ اس وقت ہاسپٹل میں ہے آپ پلیز یہاں آجائیں ۔۔۔
سعد نے آنکھیں میچتے جلدی سے کہا ۔۔۔
جب کہ سکندر جیسے ایک جگہ شل ہو گیا ۔۔۔
کک کہاں ہو اس وقت ۔۔۔۔با مشکل گلے پر زور ڈالتے کہا ۔۔۔ ٹانگوں میں جان نکلنے لگی تھی ۔۔۔
آنکھیں بھیگنے لگی ۔۔۔
کتنے دنوں سے وہ خود کو اکیلا محسوس کر رہا تھا ۔۔۔ شایان اسے چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔
شہریار کی کچھ خبر نہیں ۔۔۔اور اب خبر ملی بھی تو ۔۔۔
جی اس وقت سٹیج ہاسپٹل میں ہیں ۔۔۔ سعد کو بولتے نا دیکھ فاطمہ نے موبائل تھامتے جواب دیا ۔۔۔
تو سکندر گہرے گہرے سانس لینے لگا جیسے اس کی اپنی سانس اکھڑنے لگی تھی ۔۔۔
وہ خود کی ٹانگوں پر وزن ڈالتا اٹھا اور کال بند کرتے اونچی گرجدار آواز میں جعفر کو آواز دی
جعفر گاڑی نکالو۔۔۔ وہ کہتے اپنی چیزیں لیتا وہاں سے بھاگتا ہوا نکلا
کچھ دیر میں گاڑی شہر کی جانب دوڑ رہی تھی ۔۔۔
🍁🍁
فریال گاؤں میں گھومتی پھرتی ندی کے پاس آگئ تھی ۔۔۔ ابھی وہ کچھ دیر ہی ہوی تھی کہ اسے پتوں پر کسی کے چلنے کی آواز آی ۔۔۔ ندی چونکہ درختوں کے سائے میں چھپی تھی درختوں سے گرتے پڑتے سوخے ہوے نیچے پڑے تھے ۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا مگر وہاں کوی نہیں تھا وہ پھر سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئ جب پھر سے آواز پر اس نے پلٹ کر دیکھا اسے درخت کی اوٹ میں کوی شخص نظر آیا
وہ جلدی سے وہاں سے اٹھی اور اس کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔
مگر اچانک اس شخص کے سامنے آنے پر اس کے ہاتھ میں خنجر دیکھ کر فریال حواس باختہ ہوتی چیخ اٹھی ۔۔۔۔
جب کہ اچانک آس پاس بہت سے آدمی چہرہ چھپائے باقی درختوں کی اوٹ سے نکل آئے ۔۔۔
جلدی سے اس لڑکی کو گاڑی میں ڈالو جانتے ہو نا مالک انتظار نہیں کرتے ۔۔۔
اپنی پشت سے ابھرتی آواز پر اسکی جان ہوا ہوی ۔۔۔
کچھ سوچتے ہوے وہ زمین پر بیٹھی اور پھر وہاں سے مٹھی بھر کر مٹی اٹھائ اور ایک شخص کی آنکھوں میں پھینکتے وہ اندھا دھند بھاگ نکل
پکڑ اسے ۔۔ وہ آدمی چلایا تو سب فریال کے پیچھے بھاگے
جو بھاگنے کے دوران اب سانس بھی پھلا چکی تھی ۔۔۔
پریشانی سے بھاگتی اسے کچھ سمجھ نہیں آئ کہ وہ کہاں جا رہی ہے ۔۔۔
ندی کے اس حصے سے ملتا خوشحال پر گاؤں کی طرف جاتی سڑک پر وہ بھاگ رہی تھی جب اچانک سامنے سے آتی گاڑی سے بری طرح ٹکرائی اورپھر اس کا سر گاڑی کی بونٹ سے لگا تو وہیں بے ہوش ہو گئ ۔۔۔
وہ سب آدمی جو اس کے پیچھے بھاگ رہے تھے اسے گرتے دیکھ مسکرائے ۔۔۔
🍁🍁🍁
سٹی ہاسپٹل پہنچتے ہی وہ پاگلوں کی سی حالت میں ہاسپٹل کے اندر کی جانب دوڑا تھا ۔۔۔دل کسی انہونی سے خوفزدہ بچے کی طرح گھبرا رہا تھا
آی سی یو کے سامنے بیٹھے دو انجان چہروں کو نظر انداز کرتا وہ آج سی یو کے دروازے کی جانب بڑھا اور وہاں چھوٹے سے دیورا گیر شیشے سے اندر کا منظر دیکھا جہاں شہریار کو ہاسپٹل کے بیڈ پر ڈالتے ڈاکٹر اس کو اوپریٹ کر رہے تھے ۔۔۔
سکندر نے بھگتی آنکھوں کے کنارے صاف کیے ۔۔۔ جعفربھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا جب کہ اس کے پیچھے گاڑز کی لمبی فوج تھی ۔۔۔
سعد نے گھبرا کر سکندر کی اس قدر سنجیدہ شخصیت کو دیکھا ۔۔۔اس نے شہریار سے سن رکھا تھا کہ اس کا بڑا بھائ اس قدر پر اسرار شخصیت کا مالک ہے مگر اس کو روبرو دیکھ کر وہ ایسے سہم سا گیا تھا
سکندر نے پلٹ کر ان دونوں کی جانب دیکھا ۔۔۔ فاطمہ کو اگنور کرتے سکندر نے سعد کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔
سعد کو لگا ابھی وہ اس کا گریبان پکڑ کر سوال کرے گا مگر اسے خود کے دوسری جانب رکھی کرسی پر خاموشی سے بیٹھتے دیکھ وہ کرسی سے اٹھنے لگا جب سکندر نے اس کا ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیتے اسے اٹھنے سے بعض رکھا
دیکھیں بھائ میری کوی غلطی نہیں ہے مشن کے دوران اسے گولی لگ گئی تھی ۔۔ وہ جیسے صفائ پیش کر رہا تھا ۔۔۔
جب کہ سکندر نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
کیا وہ بچیاں اب محفوظ جگہ پر ہیں ؟
اس کے سوال پر سعد نے چونک کر اسے دیکھا پھر حیرت ہر قابو پاتے اس نے سر اثبات میں ہلایا تو سکندر مسکرایا ۔۔۔
فاطمہ نے حیرت سے اسکی اتنی خوبصورت مسکراہٹ کو دیکھا ۔۔۔
بھلا وہ اتنی سنجیدہ صورتِ حال میں کیوں مسکرا رہا تھا
اسے کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔ وہ ایک ژندہ دل انسان ہے اگر وہ اپنی محبوب بیوی کو اکیلے چھوڑ کر ان بچیوں کو بچانے آیا تھا تو اب مقصد پورا کرکے اپنی بیوی کو بھی منانا چاہے گا ۔۔۔
سکندر نے کہتے کرسی کی پشت پر سر ڈھلکایا تو اسکی بات پر فاطمہ اور سعد نے تو آنکھوں میں حیرت لیے اسے دیکھا مگر جعفرضرور مسکرایا تھا
کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آیا ۔۔۔۔تو ڈاکٹر نے اپنا ماسک اتارا ۔۔۔
خود کو گھورتی نظروں سے سعد کو دیکھتے وہ بری طرح منہ بچوڑ کر فاطمہ کی جانب بڑھا ۔۔۔
سعد کو آگ لگ گئ اس کے اتنے لمبے سسپینس ڈالنے پر ۔۔۔
اب منہ سے کچھ پھوٹو گے یا یوں ہی سین بنانے لگے ہو ۔۔۔
کیسا ہے میرا یار ؟ وہ بے تاب ہوتے بولا
انسان کو اتنا بھی جزباتی نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ ڈاکٹر نے کوفت سے اسے دیکھتے کہا اور پھر فاطمہ کی جانب دیکھا ۔۔۔
آپ کے پیشنٹ کو ہوش آنے میں کچھ دیر لگے گی مگر آپریشن کامیاب تھا اس لیے وہ اب خطرے سے باہر ہیں ۔۔۔
وہ بولے تو سب کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوی
ڈاکٹر جانے لگا پھر پلٹ کر سعد کو دیکھا ۔۔۔
غیر ضروری انسان تب تک اندر نہیں جا سکتے جب تک پیشنٹ کو ہوش نہیں آجاتا ۔۔۔ فضول لوگ جزباتی ہو جاتے ہیں ڈاکٹر پھر سعد کو آگ لگاتے وہاں سے نکلا
سالے کو آگ لگا دوں گا ۔۔ مجھے میرے کی یار سے دور رہنے کا کہنے والا ہوتا کون ہے یہ ۔۔۔ سعد کہہ کر اندر جانے لگا جب سکندر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
ابھی اسے شفٹ ہونے دو ۔۔ وہ سنجیدگی سے بولا تو سعد نے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔۔
پھر اس کے شفٹ ہونے کے بعد بھی وہ سکندر کی موجودگی میں دوبارہ ملنے کی بات نہیں کر پایا ۔۔۔ سکندر خود بھی کسی کو کال کرنے میں مصروف تھا مگر آگے سے کال نا اٹھانے پر اسے غصہ آرہا تھا ۔۔۔ پھر سائشہ کو خود کال کرکے ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو اسے پریشان ہوتے سن کر اسے نے ڑراییور کو اسے اپنے ساتھ لانے کا کہا جب کہ فریال کی کال نا اٹھانے پر اسے پریشانی بھی ہوی ۔۔۔
شہریار کو ہوش آیا ؟ روی روی آنکھوں سے وہ سوالیہ ہوی تو سکندر نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔
بچے وہ ابھی ٹھیک نہیں ہوا اس لیے اس سے ناراضگی بعد میں دیکھا لینا ۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں آنسوں کے ساتھ شکوہ دیکھ چکا تھا اس لیے بولا
جس پر سکندر کے نرم لہجے پر سائشہ پھر سے رونے لگی ۔۔۔
سائشہ کمرے میں آئ جہاں اس کا دشمن جاں ڑرپ لگے ہاتھ کو ایک طرف رکھے چت لیٹا آنکھیں موندے ہوے تھا ۔۔۔
سائشہ نے آنکھوں کو بری طرح رگڑا ۔۔۔ اور اسکے پاس آی ۔۔۔
شہریار ۔۔ اپنی سریلی آواز میں اس کے نام کو مٹھاس بھرے لہجے میں پکارا تو وہ آنکھیں کھول گیا ۔۔۔اچانک آنکھیں کھلنے پر وہ ڑر کر دو قدم پیچھے ہوی ۔۔۔۔۔
جانتا تھا آپ ملنے آئیں گی اسی لیے اتنی دیر سے ہوش میں آنے کے باوجود میں نے کسی محسوس نہیں ہونے دیا ۔۔۔
وہ لیٹے لیٹے بولا تو سائشہ نے بھیگی آنکھوں سے اس کی جانب جلدی سے قدم بڑھائے اور اسکے سینے پر سر رکھے رونے لگی ۔۔۔
سائشہ آپ رو کیوں رہی ہیں میں مر تو نہیں گیا نا ۔۔۔۔
وہ اس کے سر پر بوسہ دیتے بولا ۔۔
مجھے فخر ہے کہ میں آپ کی بیوی ہوں
اسے گلہ نا کرتے بلکہ یہ کہتے سن کر اس نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔
مجھے پتہ چل گیا کہ آپ نے اپنی جان پر کھیل کر بہت سی لڑکیوں کی جان اور عزت محفوظ کی ہے ۔۔۔
سائشہ نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی مسکرایا ۔۔۔
🍁🍁🍁
یار تجھے کیا ضرورت تھی جان باز سپاہی بن کر بیچ میں کودنے کی ؟
سعد اسے دیکھتے گھورتے ہوے بولا ۔۔۔
تو کیا کرتا ۔۔۔ تمہیں گولی لگ جاتی ؟
شہریار نے سعد کو دیکھتے کہا
ہاں دیکھ تجھے تو لگی نہیں نا ۔۔ وہ منہ بسورتے بولا
تو شہریار مسکرایا ۔۔۔
آپ کو پتہ ہے شہریار بھائ آپ کے دوست نے رونے میں آج بچوں کے ریکارڈ توڑے دیے ہیں ۔۔۔ فاطمہ نے مسکرا کر کہا تو سائشہ نے حجاب کے ہالے میں اس کے خوبصورت چہرے کو تجسس سے دیکھا ۔۔۔
شہریار مسکرا کر سائشہ کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔
تو سائشہ فاطمہ کی بات پر چونکی
آپ کی بیوی سے مل کر مجھے بہت اچھا لگا ۔۔۔ سائشہ آپ کو پتہ ہے میں آپ کی بن دیکھے فین تھی
مم میری ؟ وہ حیرت سے بولی ۔۔۔
پھر شہریار کو خود کی طرف مسکراتے دیکھ کر سوالیہ دیکھا ۔۔۔جس پر اس نے کندھے آچکا دیے ۔۔
ہاں جی بلکل بھئ ہمارا اتنا خوبصورت خوبرو نوجوان جس کے عشق میں مبتلا ہوا ہے اس سے ملنے کا جنون تو بنتا ہے نا ۔۔۔
سائرہ فاطمہ کی بات پر سر جھکا گئ ۔۔۔
ویسے آپ بہت لکی ہیں ۔۔۔ فاطمہ نے کہا تو وہ مسکرائی ۔۔۔
واقعی میں بہت لکی ہوں ۔۔۔ وہ مسکرا کر شہریار کو دیکھنے لگی
ہاں جی ان کی لک کو تو زنگ لگ گیا نا ۔۔۔ ہر وقت ناشکری کرتی ہے یہ عورت ۔۔
سعد کو پھر سے جیلسی جو دوری پڑا تو سب کا قہقہہ گونجا۔۔۔
🍁🍁🍁
Epi 14 s2
سائشہ سکندر کہاں ہے؟
شہریار نے سوال کیا تو سائشہ نے اسکی جانب دیکھا ہے ۔۔۔
وہ آپ سے ناراض ہیں اس لیے بنا ملے ہی چلے گئے ۔۔۔ اور پھر فریال بھابھی حویلی سے دوپہر سے گئ تھیں اب ان کا نمبر بھی بند جا رہا تھا اس لیے وہ پریشانی سے واپس چلے گئے ۔۔۔۔
اور آپ کے لیے سختی سے کہا ہے کہ جب تک ڈاکٹر نا کہے ڈسچارج کا سوچنا بھی مت ۔۔۔
سائشہ نے ساری بات بتائ تو
شہریار نے اثبات میں ہلایا
آپ نے مجھے مس کیا تھا ؟ وہ بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا جو اب اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا رہی تھی اس کی بات پر شکوہ آنکھوں میں آیا
آپ مجھ سے شکایت کر سکتی ہیں ۔۔۔اس نے جیسے اجازت دی تھی
آپ کو میری ایک دفع بھی یاد نہیں آی ۔۔۔وہ آنسو ضبط کرتی اس کی جانب نوالہ بڑھا گئ ۔۔۔
تو شہریار نے نوالہ منہ میں ڈالتے مسکرا دیکھا
آپ کو لگتا ہے کہ عاشق کو معشوق کی یاد نے ستایا نہیں ہونا ۔۔۔
کبھی کبھی تو اتنی یاد ستاتی تھی کہ مجھے لگتا تھا کہ آپ کہیں حویلی میں بیٹھ کر مجھ پر تعویذ تو نہیں کروا رہیں ۔۔۔
وہ بولا تو دونوں کا قہقہہ گونجا ۔۔۔
🍁🍁
اگر یہ حرکت زکریہ شاہ تمہاری ہوی تو میں بھول جاؤں گا کہ تم کبھی میرے جگری یار ہوا کرتے تھے ۔۔۔ وہ گاڑی کی سپیڈ تیز کرتے بولا ۔۔۔
وہ ندی کے پاس پہنچا تھا مگر وہاں اسے نا پا کر اس کے دل کو بے چینی ہوی پھر راستے میں اس نے مہرون رنگ کا دپٹہ گرے دیکھا تو اس کو بت ساختہ اٹھا کر آنکھوں سے لگایا ۔۔۔۔
دل نے دہای دی کہیں وہ دیر تو نہیں کر بیٹھا دل میں عجیب سے وسوسے پیدا ہوے اچانک اس کے دماغ میں جعفر کی بات گونجی
سردار زکریہ آپ کے بارے میں معلومات حاصل کروا رہا ہے ۔۔۔۔
اب وہ ماتھے کی ابھری نسوں کے ساتھ سخت تیور لیے گاڑی چلا رہا تھا ۔۔۔ سیٹرنگ پر جمے ہاتھوں کی نسیں بھی اس وقت ابھری ہوئی تھیں جو اس کے اشتعال کا پتہ دیتی تھیں
🍁🍁🍁
فریال کو ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک نرم گداس بیڈ پر پایا کچھ لمحے تو وہ سمجھ نا پای کہ اس کے سر میں درد کیوں ہو رہا ہے اچانک ہاتھ بڑھا کر ماتھے پر رکھا تو پٹی لگی ہوی تھی اس کے زخم پر ۔۔۔
اس نے جلدی سے چونک کر بیٹھتے اس پاس دیکھا ۔۔۔ وہ آنکھیں کھولے سب چیزوں کو دیکھ رہی تھی وہ خود کو کسی عالی شان محل کے کمرے میں پا کر حیران تھی ۔۔۔
گلابی رنگ کا خوبصورت بیڈ تھا جس کمرے کی ہر چیز ہی گلابی رنگ کی تھی ۔۔۔
اس نے سکندر کے کمرے کے علاوہ یہ واحد کمرہ اتنا عالی شان دیکھا تھا ۔۔۔ پھر خود کو کسی انجان جگہ پا کر کچھ گھبراہٹ ہوی ۔۔۔
ابھی وہ کچھ کہتی کہ دروازہ کھلا اور ایک عورت اندر آی ۔۔۔ اس نے اسے بیڈ پر بیٹھے دیکھا تو اس کی طرف بڑھی ۔۔۔
میم آپ ٹھیک ہیں ؟
اس کے سوال پر فریال نے اسے گھورا ۔۔۔
پرائے گھروں میں کون خوشی سے بھنگڑے ڈالتا ہے ؟ فریال کے الٹے جواب پر وہ عورت خاموشی سے کمرے سے نکل گئ
حد ہے بندہ پانی کا ہی پوچھ لیتا ہے ۔۔ فریال گھٹنے سمٹ کر سینے سے لگاتے بازو اپنے گھٹنوں کے گرد پھیلاتے بولی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سردار جی میڈم کو ہوش آگیا ہے ۔۔ اس عورت نے آکر کرسی پر کسی کتاب کو پڑتے زکریہ شاہ کو بتایا تو اس نے سر اثبات میں ہلایا پھر کتاب بند کر کے رکھتا وہ اس کمرے سے نکلتا فریال کے کمرے کی جانب بڑھا
🍁🍁🍁
فریال جو یہاں سے نکلنے کا پلین بنا رہی تھی اسے یاد آیا کہ کسی نے اسے کڈنیپ کروایا ہے اس لیے وہ جلد از جلد یہاں سے بھاگنے کی تیاری کرنے لگی ۔۔۔
جب کہ دروازے پر کسی کی موجودگی محسوس کرتے اس نے جلدی ٹیبل پر پڑا واز اٹھایا ۔۔۔
سامنے دروازے کھلتے ہی کھڑے شخص جو حیرت سے دیکھا
چھ فٹ سے نکلتا قدم کسرتی جسم بادامی رنگت گھنی مونچھوں کے نیچے عنابی لب کالی سیاہ آنکھیں
وہ ایک پل کو ساکت ہوی ۔۔۔
زکریہ شاہ نے اس وقت کالے رنگ کے قمیض شلوار کے ساتھ بدامنی رنگ کی چادر کندھوں پر ڈالی ہوی تھی ۔۔ ہاتھ میں مہنگی گھڑی اور پاؤں میں بھاری مہنگے چمکتے جوتے ۔۔ وہ کسی ریاست کا بادشاہ معلوم ہوتا تھا
فریال نے نظریں پھیریں۔۔۔۔ دو لوگ ایک جیسے کیسے ہو سکتے ہیں ؟وہ خود سے سوالیہ ہوی ۔۔ سوائے آنکھوں کی رنگت کے وہ دونوں ایک جیسے لگتے تھے ۔۔۔حلیہ سختی پرسنیلٹی ہر لحاظ سے ایک جیسے ۔۔۔۔
تم ٹھیک ہو لڑکی ؟
زکریہ نے دروازے کھولے کچھ قدم اندر بڑھاتے دوری پر کھڑے ہوتے اس کے ہاتھ میں واز دیکھتے سوال کیا تو فریال ہوش میں آی ۔۔۔
تمہیں کیا لگا تھا مر گئ ہوں ؟ ارے نہیں مسٹر میں بس بے ہوش ہوی تھی پر اب میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی تمہاری ہمت کیسے ہوی مجھے کیڈنیپ کرنے کی ۔۔۔
وہ جلدی سے اپنی ٹون میں آتے بولی ۔۔۔ جب کہ خود کے گرد چادر اس نے اب تک محسوس نہیں کی تھی ۔۔۔
زکریہ نے آنکھیں گھمائ ۔۔ دونوں سر پھرے ہیں ۔۔۔
پھر اس کو خود کی طرف دیکھتے پا کر گہرا سانس لیا
تم سائیں سے تعاوان کتنا لو گے ۔۔۔۔؟ اچانک فریال کے سوال پر وہ چونکا
تمہیں کیا میں شکل سے لوگوں کو کیڈنیپ کرنے والا لگتا ہوں اور تمہارے سائیں سے تعاوان لوں گا ۔۔۔ وہ ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے بھینچ کر سختی سے بولا
جب کہ فریال کو اب مزید اسکی حرکتیں سکندر سے ملتی جلتی لگیں ۔۔
تو تم نے کیا میرا دیدار کرنے کے لیے مجھے اپنے دو ٹکے کے گھنڈوں سے اگواہ کروایا ہے ؟
وہ پھر سوالیہ ہوی ۔۔۔
اتنا فضول بولتی ہو تم اور ایک وہ ہے سالہ کسی کی ایک نہیں سنتا تھا۔۔۔ ویسے ایک طرف سے اچھا ہے اس کو ایسی بیوی ملی ہے جو کسی نہیں سنتی ۔۔۔
وہ بولا تو فریال نے واز اسکی طرف پھینکا
اگر زکریہ شاہ کی نظریں فریال پر نا ہوتی تو اس وقت وہ اس کا سر کھول چکی ہوتی ۔۔۔
تمہارا دماغ خراب ہے لڑکی تم مجھ پر ۔۔ ابھی وہ کچھ کہتی کہ ایک زور دار مکہ اس کے خوبصورت نقوش والے چہرے پر لگا تو وہ گھومتے سر کے ساتھ پیچھے کو گرا ۔۔۔۔
سامنے چھ فٹ سے نکلتے قد کے ساتھ سفید رنگت میں سرخی بکھیرے ہری کانچ سے آنکھوں میں غیض و غضب لیے خود پر جھکے سکندر کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑے۔ ۔۔۔
تیری ہمت کیسے ہوی ہماری لڑای میں عورتوں کو گھسیٹنے کی ۔۔۔وہ زکریہ کا گریبان پکڑتے کھڑا کرتے بولا
جب کہ زکریہ نے اس کو قہر بھری نظروں سے دیکھا تو مقابل نے بھی آگ لیے آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔
جبکہ فریال خاموشی سے بیڈ پر جا کر بیٹھی ان دونوں کو ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوتے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
خرم بھاگتا ہوا کمرے میں آیا جلدی سے سکندر کو زکریہ شاہ سے الگ کیا
سردار سکندر آپ کو غلط فہمی ہوی آپ کی بیوی کو سائیں نے نہیں اگواہ کیا بلکہ ان کی جان بچائ ہے سائیں نے ۔۔۔۔
خرم کی بات پر سکندر نے گھور کر اسے دیکھا اور جیسے تمہاری بکواس پر یقین کر لوں گا ۔۔۔
سکندر کی بات پر زکریہ نے مٹھیاں بھینچ لیں
تو اپنی بیوی کی حفاظت کرنا سیکھو نا کہ شریف لوگوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالو ۔۔۔
زکریہ شاہ نے دانت پیس کر کہا تو سکندر نے اسے سخت سرد نظروں سے دیکھا
سائیں میں سچ کہہ رہا ہوں آپ غلط فہمی کا شکار ہیں ۔۔۔
میں سائیں کو شہر لے کر جا رہا تھا جب اچانک ہماری گاڑی ۔۔۔
( ۔۔۔سائیں آپ شہر کے کام کے بعد کہیں جانا چاہتے ہیں ؟ خرم کے سوال پر زکریہ نے نظریں اٹھا کر ڑراییور کرتے خرم کو دیکھا ۔۔۔ نہیں مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو ؟
اس کے سوال پر خرم نے سر جھکا کر آہستہ آواز میں کہا ۔۔۔ وہ میری بیوی کو مجھ سے بہت شکوہ ہے کہ میں سارا دن آپ کے ساتھ رہتا ہوں اور اسے وقت نہیں دیتا اگر آپ کہیں تو آج زرا جلدی گھر چلا جاؤں گا ۔۔۔
خرم کی بات پر وہ قہقہ لگا کر ہسنے لگا ۔۔
ہماری زوجہ کو بھی یہی شکوہ رہتا ہے ہم تمہارے ساتھ ہوتے ہیں ۔۔ خرم کو جواب دیا تو وہ بھی مسکرایا ۔۔۔
اچانک کسی کی چیخ کی آواز پر وہ حیران ہوے ۔۔
خرم نے گاڑی روکی اور باہر نکلا مگر کسی کو نا پا کر واپس آیا ۔۔۔
شاید میرا وہم تھا ۔۔۔۔۔ وہ کہتے گاڑی سٹارٹ کر گیا ۔۔۔
انہہہہ ۔۔۔ایک ساتھ دو لوگوں کو وہم نہیں ہو سکتا ضرور کسی کی چیخ تھی
زکریہ شاہ نے کہا تو خرم نے نظریں آگے پیچھے دورانی شروع کی کہ اچانک ان کی گاڑی کے سامنے کوی وجود آیا اور ٹکرا کر نیچے گے گیا
اووو اللہ خیر ۔۔۔ خرم جلدی سے کہتا گاڑی سے نکلا ۔۔۔ باہر کسی لڑکی کو دیکھ کر وہ پریشانی سے پلٹا جب کہ زکریہ شاہ بھی وہاں ہی آرہا تھا ۔۔۔
اس نے لڑکی کو بنا دپٹے کے زمین پر گرے دیکھا ابھی وہ کچھ کرتا کہ پیچھے آتے گھنڈوں کو دیکھ کر ان کی طرف متوجہ ہوے ۔۔۔
ان گھنڈوں کو بری طرح پیٹ کر اب وہ واپس آیا اپنی چادر کندھوں سے اتار کر اس لڑکی کے اوپر پھیلائی پھر اسے اٹھا کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھا اور خود خرم کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھا
حویلی پہنچ کر اس نے ملازموں عورتوں کو فریال کو اٹھا کر اندر لانے کا کہا ۔۔۔ کیونکہ وہاں مجبوری میں وہ اسے اٹھا چکا تھا مگر اب ایسی کوی مجبوری نہیں تھی اسلیے ان سے کہا
ڈاکٹر نے چیک کیا ۔۔ اور اس کے سر پر پٹی باندھ دی ۔۔۔
ایک ملازمہ نے زکریہ شاہ کی طرف دیکھا ۔۔۔
آپ جانتے ہیں یہ لڑکی کون ہے ؟
زکریہ شاہ نے سوال پر سر نفی میں ہلایا ۔۔۔
مجھے سڑک پر یہ لڑکی بے ہوش ملی ۔۔۔۔۔۔ خرم تم جلدی سے اس لڑکی کے گھر والوں سے رابطہ کرو ۔۔۔
زکریہ شاہ کی بات کو اس عورت نے بیچ میں ٹوک دیا ۔۔
وہ خود ہی پہنچنے والے ہوں گے ۔۔
کیا مطلب ؟ خرم نے سوال کیا ۔۔
یہ نور پر گاؤں کے سردار سکندر کی بیوی ہے ۔۔۔۔اس گاؤں کی چھوٹی سردارنی ۔۔۔۔
اسکی بات زکریہ چونکا پھر پلٹ کر بیڈ پر آنکھیں موندے اس لڑکی کو دیکھا جو دیکھنے میں نے تحاشہ حسسین تھی
گورا رنگ لمبی اونچی ناک ۔۔۔ ناک میں پہنی خوبصورت لونگ پتلے پتلے عنابی لب جس پر لپ گلوز مدھم ہو چکا تھا ۔۔۔ گھنی پلکوں کی باڑ میں چھپی آنکھیں ۔۔۔۔
زکریہ نے چند پل دیکھ کر نظریں پھیریں ۔۔۔۔
اس کا خیال رکھو اور جب ہوش آیا تو مجھے بتانا ۔۔۔
اس نے ایک ملازمہ کو کہا اور پھر خود نکل گیا جس کے بعد سب وہاں سے نکل گئے ۔۔۔)
ساری بات سن کر سکندر نے شکریہ کو دیکھا جو اپنے انگوٹھے کی پشت سے ہونٹوں سے نکتے خون کو صاف کر رہا تھا
سکندر نے معافی مانگنے کی زحمت کیے بنا قدم بیڈ پر بیٹھی فریال کی جانب بڑھائے پھر اس کے کندھے سے زکریہ شاہ کی چادر اتار کر اپنی چادر اس کے کندھوں پر پھیلای تو فریال کو ہوش آیا کہ وہ اپنے دوپٹے میں نہیں تھی ۔۔۔
سکندر نے زکریہ کی چادر ہاتھ میں تھامی اور اسکی جانب بڑھا جو آگ سلگاتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
زندگی نے اگر موقع دیا تو میری عزت کو بچانے کا احسان چکا دوں گا ۔۔۔ وہ کہتے اس کے پاس پڑے صوفے پر اسکی چادر رکھتے اس کے سامنے آتے بولا
کس کس احسان جو چکاو گے تم اپنے ان کندھوں پر اتنا بوجھ مت ڈالو ۔۔۔
زکریہ شاہ نے چہرے پر سرد مسکراہٹ لیے کہا
سکندر سر جھکا کر مسکرایا ۔۔۔۔
تو زکریہ شاہ نے آگے بڑھتے اس کو اپنے سینے سے لگایا
یہ اتنا غیر یقینی تھا کہ جہاں سکندر حیران تھا وہاں زکریہ شاہ خود بھی حیران ہوا ۔۔۔
اس سے الگ ہوا تو اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے وہ بنا سکندر کی جانب دیکھے کمرے سے نکل گیا
سکندر چند لمحے ساکت سا اس جگہ کو دیکھتا رہا جہاں سے زکریہ شاہ گیا تھا ۔۔۔
سائیں ۔۔۔۔ فریال کی آواز پر ہوش میں لوٹا ۔۔
تم ٹھیک ہو نا سائیں کی جان ؟
وہ جلدی سے اس کے ہاتھ تھامتے بولا ۔۔
ہمم ۔۔۔وہ جلدی سے سر اثبات میں ہلا گئ ۔۔۔
سکندر اسے لیے حویلی سے نکلا اور پھر اپنی گاڑی زن سے بھگا کر لے گیا
زکریہ شاہ نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے جاتی گاڑی کی پشت کو دور تک دیکھا ۔۔۔
رہا نہیں جاتا سائیں تو کیوں خود کی اور ان کی دوری کو ختم نہیں کرتے ؟
پیچھے سے اپنی بیوی جویریہ شاہ کی آواز پر وہ اسکی جانب پلٹا ۔۔۔۔
ہمم رہا تو تم سے دور بھی نہیں جاتا اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
وہ بات کو گول کرتے بولا ۔۔ اور جویریہ شاہ کی کمر پر ہاتھ رکھتے انہیں خود سے لگایا ۔۔۔
بس کر دیں آپ مجھے بہت کام ہیں
وہ جلدی سے بولی
وہ لڑکی چھوٹے قد کی مگر بہت خوبصورت لڑکی تھی گوری رنگت اتنی کہ ہاتھ لگانے سے میلی ہو جانے کا خدشہ ہوتا ۔۔۔ ستواں ناک میں اپنے شوہر کی خواہش پر لونگ پہنے گلابی گول سے لب اور نیلی نشیلی آنکھوں والی وہ ننھی سی گڑیا تھی ۔۔۔۔
وہ شہزادی زکریہ شاہ کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتی تھی اس کے جان عزیز بیوی
وہ جلدی سے اس کی گرفت سے نکلتی کمرے سے نکل گئ ۔۔۔ شکریہ شاہ مسکرایا اسکی سپیڈ دیکھ کر
🍁🍁🍁
سکندر نے گاڑی حویلی کے گیراج میں جا کر کھڑی کی اور دوسری جانب خاموش بیٹھی فریال کو دیکھا جو ناجانے کیا سوچ رہی تھی پورے راستے اس نے سکندر سے کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔
سکندر بھی اس کے سوالوں سے بچتا رہا پر اب اس کی خاموشی پریشان کر گئ ۔۔۔
جانِ سائیں تم ٹھیک ہو نا ۔۔۔ اس کا ہاتھ نرمی سے تھامتے اپنے لبوں سے چھوتے کہا تو فریال ایک دم چونکی
جج جی ٹھیک ہوں ۔۔۔ وہ کہتے اپنا ہاتھ جلدی سے اسکی گرفت سے کھینچتی بنا اس پر نظر ڈالے گاڑی کا دروازہ کھولتی باہر نکل گئ جب کہ سکندر ابھی تک اپنے خالی ہاتھ کو دیکھ رہا تھا جس میں کچھ لمحے پہلے وہ محبت سے اسکا ہاتھ تھامے بیٹھا تھا
ایک دم چہرے پر سختی ابھر آئ ۔۔۔ لب بھینچے اس نے سٹیرنگ کو پکڑا اور آنکھوں کے سامنے زکریہ شاہ کا چہرہ لہرایہ ۔۔۔۔۔
زلیل انسان اب وہ اسکے بارے میں سوال کرے گی جس کا زکر بھی کرنا میں پسند نہیں کرتا
وہ بڑبڑایا پھر گاڑی کا دروازہ کھولے باہر نکلا ۔۔۔
فریال حویلی کے اندر جا چکی تھی وہ بھی مضبوط بڑے بڑے قدم لیتا حویلی کے اندر کی جانب بڑھا ۔۔۔
Epi 15 s2
گاڑز جو کہ حویلی کے داخلی دروازے پر کھڑے تھے انہوں نے سلام کیا تو وہ سر ہلاتا جواب دیتا اندر بڑھ گیا
🍁🍁🍁
کیا یہ اب کیسے ہوا ؟ اور آپ شہریار آپ اتنے وقت سے کہاں غائب تھے ۔۔۔
فریال جیسے ہی اندر آئ سامنے سائشہ کا چمکتا چہرہ دیکھتی وہ جلدی سے اس کی جانب بڑھی ۔۔۔
جس پر وہ بنا کچھ کہے اسے لیے اپنے کمرے کیطرف بڑھی۔۔۔
شہریار کو بیڈ پر بیںڈیج لگے دیکھ کر بولی ۔۔۔
بھابھی ۔۔۔ دراصل میں ایک سیکرٹ ایجنٹ ہوں اور میں وہاں کچھ لڑکیوں کو یرغمال بنانے والے مجرموں کو پکڑنے گیا تھا ۔۔۔
بس وہیں ۔۔۔ لڑائ ہوی اور گولی لگ گئ پر اب میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔
اس نے کہا تو فریال نے گہرا سانس لیا۔۔۔
کتنے چھپے رستم ہیں آپ شہریار بھائ ۔۔۔۔اتنے بڑے کام کرتے ہیں بنا کوی شہرت کی خواہش کے ۔۔۔۔
موت کے منہ سے نکل کر آئے ہیں مگر بھنک تک نا ہونے دی ۔۔۔۔
فریال کی بات پر وہ ہلکی سی مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگا
ہاں مگر آپ کے شوہر نے میری پوری ٹیم کو بہت بری طرح سے ٹریٹ کیا ہے ۔۔۔۔
وہ بولا تو فریال ہسنے لگی ۔۔۔
ہاں اب ان کے بھائ کو تکلیف پہنچی اور پھر ان کو اطلاع تک نہیں ملی تو وہ پھولوں کے ہار تو نہیں پہنائیں گے ۔۔۔
وہ ہستے ہوے بولی ۔۔۔۔
ویسے آپ کہاں تھیں ؟ اب کی بار سائشہ نے سوال کیا تو فریال نے ساری بات انہیں بتائ
(میں بیٹھی ندی کے کنارے کے کچھ سرسراہٹ سی ہوی
میں نے جوں ہی پلٹ کر دیکھا کچھ آہٹ سی ہوی
میں اٹھ کھڑی ہوی اور دیکھا دائیں بائیں
لمحے کا توکفت کوی سامنے سے آیا
میں چونک سی گئ اور جیسے ہی قدم لیے پیچھے
دو تین آدمی اور نکلے جو چھپےتھے درخت کے پیچھے
میں سہم سی گئ پھر کی ہمت بھر
دوڑی وہاں سے پاؤں رکھے سر پر
بن دیکھے پلٹے دوڑی مگر آواز تھی پیچھے
اچانک ہوا کچھ عجیب کہ ٹکرائ اک شے سے ۔۔۔
جب ہوش مجھے آیا خود کو پایا ایک محل میں
اوسان توخطا ہوے مگر دل میں ایک سکون تھا
ایک شخص میرے سامنے کھڑا تھا
وہ سائیں سے ملتا ہو بہو تھا ۔۔۔۔
اس نے مجھے بڑے غور سے دیکھا
پھر اک نظر بھی مجھ پر نا ڈالی وہ واقعی ہی عجیب تھا۔۔۔۔
پھر آئے سائیں اور ہوی اک جنگ
لمحے میں وہ ختم ہوی اور آی آگئ میں ان کے سنگ ۔۔۔ )
( پر کچھ سوال تو ہیں اب بھی میرے سنگ)
کہانی کو مثنوی صنف میں بیان کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
جس پر شہریار سوچ میں پڑ گیا ۔۔۔۔
شہریار بھائ آپ سے ایک بات پوچھوں ؟
فریال کی آواز پر وہ چونک کر متوجہ ہوا۔۔۔
جج جی بھابھی پوچھیں ۔۔۔وہ اب کچھ سیدھے ہوتے بولا
فریال صوفے پر بیٹھی کچھ سوچتے ہوے بولی ۔۔۔
کیا خوشحال پر کے سردار سے سائیں کی کوی ذاتی دشمنی ہے ؟
اس کی بات پر شہریار خاموش ہی رہا ۔۔۔۔
بھابھی آپ یہ سوال اپنے سائیں سے ہی پوچھئیے گا۔۔۔
دراصل میں ابھی ابھی موت کے منہ سے نکلا ہوں دوبارہ جانے کی خواہش نہیں ہے ۔۔۔۔
شہریار کی بات پر فریال مسکرای اور اب وہ واقعی ہی سائیں سے پوچھنے کا عہد کر چکی تھی ۔۔۔
🍁🍁🍁
مقدس بیٹا دیکھو یہ تمہاری شادی کا جوڑا میں نے خریدا ہے تم تو شہر گئ بھی تھی مگر کچھ خریدا ہی نہیں ۔۔۔۔
سکینہ بی کی آواز پر وہ جو دعا کی صورت میں اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی جلدی سے آنسو صاف کرتی جائے نماز تہہ کرکے رکھتی اٹھی ۔۔۔
سکینہ بی نے اسکی بھیگی پلکوں کو دیکھا جب وہ ان کے پاس آی ۔۔۔
جی وہ دراصل مجھے کچھ پسند نہیں آیا اسلیے میں نے لیا نہیں ویسے بھی اسد نے اپنی پسند کی شاپنگ کی تو ہے مجھے نہیں لگتا اتنی چیزیں مجھے چاہیے ۔۔۔
وہ ان کے ہاتھ سے لال رنگ کا جاندار دپٹہ پکڑتے اسے دیکھتے بولی ۔۔۔
تم جانتی ہو جب لڑکیوں کی شادی ہوتی ہے تو ان کے نئے کپڑے نئے جوتے زیورات ان سب کی کتنی خواہش ہوتی ہے اور ایک تم ہو کہ اتنی بے دلی سے شادی کی تیاری کر رہی ہو ۔۔۔
سکینہ بی نے ناراض ہوتے کہا
مقدس نے مسکرا کر ان کو دیکھا پھر ان کے ساتھ بیٹھتی ان کے گرد ہاتھ پھیلاتے ان کے ساتھ لپٹتے وہ کچھ دیر خاموشی سے ان کو محسوس کر رہی تھی
اماں مجھے آپ کو چھوڑ کے جانے کا وقت جتنی تیزی سے بڑھتا نظر آرہا ہے میں خوش نہیں ہو پا رہی ۔۔۔۔
وہ بولی تو آواز میں اپنے آپ نمی سی گھل گئ ۔۔۔
ارے میری شہزادی بیٹیوں نے تو ایک دن اپنے گھر جانا ہی ہوتا ہے بھلا اس دنیا میں کوی اپنی بیٹی کو ہمیشہ کے لیے پاس رکھ سکا ہے ۔۔۔
بی بی فاطمہ کو بھی تو ہمارے نبی نے ان کے ہمسفر کے ساتھ روانہ کیا تھا
بھلا جب وہ اتنی پاک ہستی بھی اپنی بیٹی کو ہمیشہ کے لیے نہیں رکھ سکے تو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔
سکینہ بی نے محبت سے اس کے ماتھے پر لب رکھتے کہا ۔۔۔اوربغور اسکا چہرہ دیکھا ۔۔۔۔
کیا تم مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہو؟ انہوں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوے سوال کیا تو وہ فوراً سے الگ ہوی ۔۔۔ جیسے چوری پکڑی جانے کا ڑر لاحق ہوا ہو ۔۔۔
نن نہیں اماں ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ وہ کہتے اپنے ہاتھ دوسرے ہاتھ سے مسلنے لگی ۔۔۔
ہممم اگر کچھ ہوا تو ماں سے کہنا ۔۔۔ وہ کہتے وہاں سے سامان اٹھائے آخری نظر اس پرڈالے کمرے سے نکل گئیں
مقدس نےرکا سانس بحال کیا ۔۔۔
کیا مائیں آنکھوں میں چھپی تکلیف بھی جھٹ میں جان جاتی ہیں ؟
وہ بڑبڑای ۔۔۔
پر اماں میں آپ کو کبھی سر جھکانے پر مجبور نہیں کروں گی ۔۔۔
میں نے اونچے خواب دیکھ لیے تھے پر میں جانتی ہوں ان کی تعبیر نہیں ہو سکتی اس لیے قدم پیچھے لیے ہیں ۔۔۔ اور ہمیشہ آپ کو خوش دیکھنے کے لیے مجھے میری ہی محبت سے دستبردار ہونا پڑے تو مجھے غم نہیں۔ ۔۔۔ وہ آنکھوں کے کنارے پر اٹکے آنسو کو صاف کرتی تکلیف دہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے بولی ۔۔۔
( اماں آپ کو نہیں لگتا کہ زندگی اچھی گزارنے کے لیے دولت ضروری ہوتی ہے ؟
وہ کچھ سوچتے ہوے بولی تو سکینہ بی نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
نہیں مجھے لگتا ہے کہ ہمیں زندگی گزارنے کے لیے اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ ہی رہنا چاہیے ۔۔۔۔
امیروں کے گھر کی نوکرانی بننے سے بہتر ہے اپنے گھر کی مہربانی بنا جائے ۔۔۔۔
ان کی بات پر مقدس نے اپنے موٹے پھولے پھولے گالوں پر ہاتھ رکھے اور ان کو غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔
یعنی آپ کو اس غریبی میں ابا نے مہرانی بنا کر رکھا تھا وہ ہستے ہوے بولی ۔۔۔ پھولی پھولی گالیں پل میں سرخ ہوگئ تھیں
ہاں بلکل مجھے کسی سے غریب ہونے کا طعنہ نہیں سننا پڑا کبھی جو ضرورت پڑتی تو وہ اسے رات دن محنت کرکے کے پوری کرتے تھے ۔۔۔ سکینہ بی نے آنکھوں میں بے تحاشہ محبت اور احترام لیے اپنے مرحوم کی بات کی ۔۔۔
اماں آپ تو ابا کے پیار میں یہ کر گئ ۔۔۔ ورنہ اصل میں تو پیسہ زیادہ اہم ہے ۔۔۔ ہماری خواہیشیں بھی تو پیسے کے بغیر ںامکمل ہیں تو پھر ان کا کیا کیا جائے ؟ وہ بولی اور آخر میں سوالیہ ہوی
تو اپنی خواہشات اپنے سرمائے کے مطابق محدود کر لو ۔۔۔ وہ جھٹ سے بولیں ۔۔ تو مقدس نے منہ بنایا ۔۔۔ یعنی آپ چاہتی ہیں کہ خواب بھی انسان اوقات کے مطابق دیکھے ۔۔۔ یعنی ہم آزاد ہونے کے بعد بھی اپنی سوچ میں آزاد نہیں ہو سکے ؟
مقدس کی بات پرسکینہ بی مسکرائیں ۔۔۔۔
میرا منانا ہے کہ خواب وہ دیکھو جن کو پورا ہونے کا کوی امکان بھی ہو ورنہ پہلے وہ خواب ہوتے ہیں پھر خواہش اور پھر حسرت ۔۔۔)
اہہہ اماں آپ ٹھیک کہتی تھیں خواہشیں حسرت بن جاتی ہیں اور پھر دل میں ناسور بن کر رہ جاتی ہیں ۔۔۔
وہ گہرا سانس لیتی اپنی اور اپنی اماں کی گئی سالوں پہلے باتوں کویاد کرتے بڑبڑائ
🍁🍁
فریال کمرے میں آی مگر سکندر حویلی سے ہو کر واپس باہر جا چکا تھا ۔۔۔۔ وقت بھی کافی ہو گیا تھا وہ حیران ہوی بھلا شام ڈھلے وہ کہاں چلا گیا مگر پھر ندار کپڑے بدلتی وہ وہ کچھ دیر وہ فریش ہوتی باہر آی ۔۔۔
وہ اس وقت کافی بوریت محسوس ہ کر رہی تھی ۔۔۔ ناجانے بی جان ابھی تک کیوں نہیں آی تھیں ۔۔۔ اور سائشہ کو وہ ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
اس نے کچھ سوچتے ہوے کال ملائ ۔۔۔
حیران تو وہ تب ہوی جب اس نے جس شخص کو کال ملائ تھی کال اٹھا لی گئ تھی ۔۔۔۔۔
اسلام علیکم! اس نے کال رسیو ہونے پر کہا ۔۔۔
وعلیکم السلام! تم نے مجھے کال کیوں کی ؟
دوسری طرف سے درشتگی پر وہ حیران ہوی ۔۔۔۔
کیا مطلب ہے برہان بھائ آپ مجھ سے ایسے کیوں بات کر رہے ہیں ؟
وہ سوالیہ ہوی تو آفس کی کرسی پر جھولتا برہان بند آنکھوں کو کھولے سیدھا ہو کر بیٹھا ۔۔۔۔
تم جانتی تو تمہارے اس جاہل شوہر نے میرے ساتھ کیا کیا تھا ؟ وہ اپنے ایک ہاتھ جس پر کالے رنگ اک گلوز چڑھا ہوا تھا اسے دیکھتے آنکھوں میں سردپن لیے بولا
جو آپ نے کیا تھا اس کے لیے شاید یہ کم تھا ۔۔۔ فریال نے دوبدو جواب دیا تو وہ فون پر گرفت سخت کر گیا ۔۔۔
کچھ غلط نہیں کیا تھا میں نے وہ بس تمہیں اپنی طاقت کے بلبوتے پر حاصل کرنا چاہتا تھا سو اس نے کر لیا ۔۔۔ میرا کوی عمل غلط نہیں تھا ۔۔۔۔
وہ جیسے بولا فریال تنزیہ مسکرائ ۔۔۔
آپ نے جو کیا غلط نہیں تھا ؟ کیا واقعی ؟وہ بولی لفظوں میں طنز تھا یا لہجے میں برہان نے جبڑے بھینچ لیے ۔۔۔
اگر اس دن مجھے خبر نا ہوتی کہ آپ سائیں کے ملازموں کے ہاتھوں روز اپنے جرم کی سزا کاٹتے ہیں تو یقیناً آپ اس وقت وہاں نا ہوتے جہاں آپ اب ہیں ۔۔۔۔
اسکی بات پربرہان کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
تو احسان جتا رہی ہو؟ اس کا لہجہ پل میں آگ بگولہ ہوا تھا ۔۔۔
فریال نے سر جھٹکا ۔۔۔ اتنے اتنے احسان پر مجھے جتانا پسند نہیں اب دیکھیں نا میں سردار سکندر کی بیوی ہوں مجھے شیوہ نہیں دیتا معمولی سے احسان جتانا ۔۔۔
اس کے لفظوں نے پل میں برہان کو خاموش کروا دیا تھا
آنکھوں کے سامنے وہ منظر گھوم سا گیا ۔۔۔۔
وہ گھر سے نکلا تھا کہ وہ شہر واپس جا رہا ہے چونکہ سکندر کا ولیمہ بھی ہو چکا تھا اس لیے اب وہ شایان اس سے پہلے سب کو اسکی کیڈنیپ کرنے والی حرکت کی اطلاع کرتا وہ وہاں سے غائب ہونا چاہتا تھا ۔۔۔۔
ابھی وہ راستے میں ہی تھا کہ اس کی بائیک اچانک جھٹکا کھا کر رک گئ ۔۔۔۔اس نے پلٹ کر نیچے کی جانب دیکھا تو راستے میں پڑے کیل سے اسکے بائیک کے پیچھے کے ٹائیر کی ہوا نکل گئ تھی وہ گہرا سانس لے کر رہ گیا ۔۔۔
وہ اپنی بائیک سے اترا اور پھر اسے گھسیٹ کر اسے لیے چلنے لگا ۔۔۔
ابھی کچھ قدم ہی لیے تھے کہ اسے اپنی ٹانگ میں اچانک دردسی محسوس ہوی ۔۔۔
درد اتنی تکلیف دہ تھی کہ اس کہ آنکھوں سے بے ساختہ آنسو نکلے ۔۔۔
نظریں ٹانگ پر گئ تو مزیدپھیل گئ کہ اسکی ٹانگ سے خون ابل ابل کر نکل رہا تھا ۔۔۔ اس نے تکلیف سے آنکھیں میچی
کہ اچانک اس کی ناک پرکسی نے بے ہوش کرنے والی دوا لگا رومال رکھا ۔۔۔
برہان نے خودکو بچانے کے لیے تگو دو کی مگر نا کام کچھ دیر وہ اس آدمی کے ہاتھ میں جھول گیا ۔۔۔۔
سائیں کام ہو گیا ۔۔۔ اس نے کان میں لگے ائیر پوڈ سے کسی کو انفارم کیا
پھر جلدی سے اس کے بے ہوش وجود کو لے کر گاڑی میں ڈالا اور گاڑی بھگاکر لے گیا ۔۔۔ جب کہ دو لوگوں نے اسکی بائیک کو منظر سے غائب کیا
آج اسے پندرہ دن ہو چکے تھے کالی اندھیری جگہ پر وہ دن راتقید تھا ۔۔۔
دن ہے یا رات اسے کچھ علم نہیں تھا ۔۔۔
اسے لگا کہ وہ اندھا ہو گیا ہے اس قدر اندھیرا اسےروز قحشتزدی کر دیتا ۔۔۔ پھر اوپر سے گولی لگی ٹانگ پر سے گولی تو نکال دیتی تھی مگرروزاس پر تکلیف دی جاتی تھی۔۔۔۔
جب کہ ہاتھ کی تکلیف پر اسکی آنکھیں برسنے لگتی ۔۔۔
اسکا ہاتھ بری طرح گرم کھولتے ہوے پانی میں ڈالا گیا تھا اور اسے اس قدر۔ ری طرح جلایا گیا تھا کہ اسکے ہاتھ کی مٹی اتر سی گئ تھی
وہ اب بھی اندھیرے میں آنکھیں کھولے بیٹھا تھا ۔۔۔
جب اچانک دروازہ کھلا اور سکندر پہلی دفع اس عرصے میں اس سے ملنے آیا تھا ۔۔۔۔
کیسے ہو سالے صاحب ؟
سکندر کی بھاری آواز پر وہ ڑر کر پیچھے کو کھسکا ۔۔۔
دروازہ کھلنے سے اندر کچھ روشنی آی تو اس نے آنکھوں پر روشنی پڑنے پر ہاتھ آگے کیے ۔۔ اتنے دن سےوہ اندھیرے میں تھا کہ اسے اب روشنی سے خوف آنے لگا تھا ۔۔۔۔
لگتا ہے میرے آدمیوں نے اچھی خبر لی تمہاری
۔۔ سکندر کے پیچھے ایک آدمی کرسی لے کر آیا تو سکندر اس پر کروفر سا بیٹھا اور اس کے پاؤں کے اس برہان بیٹھا تھا ۔۔۔۔
برہان نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
تو سکندر مسکرایا ۔۔۔
تم نے سردار سکندر کی عزت پر داغ لگانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ سکندر نے کہتے مٹھیاں اشتعال سے بھینچ لئیں
اس نے اسکی کال سسٹم ہیک کروایا تھا جس سے پتہ چلا تھا کہ وہ اس آدمی سے مدد لے کر شادی کے دن فریال کو غائب کرنے کا ارادہ تو رکھتا ہی تھا ساتھ ہی اسکی عزت کو ملیا میٹ کرنے کے لیے اس نے پلین بنا رکھا تھا ۔۔۔۔
سکندر کی بات پر برہان نے سر نفی میں ہلایا ۔۔۔ گلا سوخنے کی وجہ سے وہ کچھ کہنا چا رہا تھا مگر آواز نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔۔
سکندر کے اشارے پر اسکی جانب پانی کا گلا بڑھایا گیا ۔۔۔
اس نے جلدی سے پانی پیا ۔۔۔
دیکھو میں معافی مانگتا ہوں تم سے مجھے چھوڑ دو ۔۔۔ مجھے معاف کر دو ۔۔۔ میں آئیندہ اس گاؤں میں تمہیں نظر نہیں آؤں گا ۔۔۔
اسکی بات پر سکندر نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا۔۔۔
یہ میرا راز تھا کہ میں مجرم کے ساتھ کیسے پیش آتا ہوں مگر تم نے مجھے خود پر عیاں کرنے کے لیے مجبور کیا
آئیندہ اگر میری بیوی کی طرف گندی نگاہ سے دیکھا تو آنکھوں کو نوچ پھینکوں گا ۔۔۔۔
اپنی یہ تکلیف تمہیں ہمیشہ یاد رہے گی ۔۔۔۔
وہ بولا تو برہان سر نفی میں ہلاتا رہ گیا ۔۔۔ اور آہستہ سے منظر اسکی آنکھوں سے غائب ہوا
برہان نے کال بند نہیں کی تھی گہرا سانس لیتے اس نے پانی پیا ۔۔۔
برہان بھائ مجھ پر آج حملہ آپ نے کروایا ہے نا ۔۔۔۔ فریال کی بات پر اس نے سر نفی میں ہلایا چہرے پر پسینہ صاف کرتے وہ ڑرا سہما کچھ بول بھی نا پایا
برہان بھائ آپ نے پھر سےخود کو جہنم میں دھکیل دیا ہے ۔۔۔ پر آپ نہیں جانتے وہ بھوکا شیر جب تک شکار کو شکنجے میں نہیں لے لیتا تب تک اسے سکون نہیں اے گا ۔۔۔۔
میں ان کو نہیں بتاؤں گی مگر ہاں وہ آپ کو جہنم ضرور پہنچائے گا ۔۔۔
فریال نے کہتے کال کاٹ دی ۔۔۔۔
جب کہ برہان جس کو بس بدلہ لینا تھا اپنی تکلیف کا اب پھرسے سب کچھ برداشت کرنے کی ہمت کھوتا وہ جلدی سے باہر بھاگا اسے جلد ازجلد سکندر کے ہاتھوں سے بچنے کے لیے کچھ کرنا تھا
🍁🍁🍁
کیا کہہ رہے ہو دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا بہن کی شادی تیار ہے اور تم ہو کہ اچانک باہر جا رہے ہو ۔۔۔
سکینہ بی کی پریشان اور غصے بھری آواز پر مقدس باہر آی ۔۔۔
جب کہ سکینہ بی نے کال کی دوسری جانب برہان کو ڈپٹہ
کچھ دیر کی بحث کے بعد وہ کال بند کر گیا تو سکینہ بی سر پکڑ کر بیٹھ گئیں ۔۔۔
کیا ہوا اماں ؟ وہ ان کے پاس آی ۔۔۔
مجھے تو سمجھ نہیں آتا یہ لڑکا کیا کرتا پھر رہا ہے ۔۔۔ یہاں شادی کی تیاری ہو رہی ہو اور وہ ہے کہ باہر جا رہا ہے ناجانے کتنے عرصے کے لیے ۔۔۔۔
کیا ؟ مگر کیوں ؟ مقدس نے بھی چونک کر کہا مگر ان کو بھی کچھ پتہ ہوتا تو ہی جواب دیتی نا ۔۔۔