عشق گیریاں
Season 1 Part 2
ناول ۔۔۔۔۔۔۔۔عشق ِگیِریاں
ازقلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنسہ چوہان
Season 1 Part 2
وہ لوگ اس وقت کیچن میں کھڑے ہستے مسکراتے کھانا بنا رہے تھے شہریار اور شایان نے کچھ سبزیاں کاٹی تھیں جب کہ ماسٹر شیف سکندر تھا
اس نے کچھ دیر کے بعد کھانا تیار کر دیا اب سرف کرتے ہوے وہ اپنی کرسی پر براجمان ہوا۔۔۔وہ حویلی کے باہر اور اندر الگ مزاج رکھتا تھا اس کا مزاج اپنے بھائیوں کے لیے الگ رہتا تھا اب بھی وہ لوگ کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے شایان کی باتوں پر ہنس رہے تھے
کھانا کھانے کے بعد انہوں نے شایان سے برتن دھلوائے ۔۔۔ بڈی یہ غلط بات ہے میں کتنی دور سے آیا ہوں اور آپ لوگ بجاے اس کہ شایان تم جا کر سو جاو تھک گئے ہو گے کہنے کے الٹا مجھ سے برتن دھلو رہے ہو ۔۔۔۔
تم کیا پلین کو کندھوں پر رکھ کر لاے ہو ۔۔۔؟ شہریار نے آی برو آچکا کر کہا
بس اب اور نہیں بہت ہو گیا اب میں چھوٹا نہیں رہوں گا ۔۔۔ آپ دونوں نے مجھے چھوٹا سمجھ کر آگے لگایا ہوا ہے
ہاں جیسے بندہ گدھے کو آگے لگاتا ہے ۔۔۔ اسکی ایکٹنگ دیکھ کر شہریار نے پھر سے کہا
جب کہ سکندر مسکرا کر شیلف سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا
بڈی آپ کچھ کہتے کیوں نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ اب مسکین شکل بناتے سکندر سے بولا۔۔۔ جس پر اس نے ہاتھ کھڑے کر دیے تم خود بڑے بننے والے ہو ہم کیا کر سکتے ہیں اس نے اپنی جان ازاری کرواتے کہا
جس پر شایان برتن دھونے لگا ۔۔۔ شہریار نے اسکی ویڈیو بنای ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں؟۔۔ اس نے شہریار سے کہا کچھ نہیں بس اب جب مجھے وہ لڑکی ملی جس نے تمہیں چھوہارے کے منہ والا کہا ہے اس کو یہ ویڈیو دیکھا کر کہوں گا
احمق لڑکی کہاں سے چھوہارے کے منہ والا ہے
اس کی شکل تو کاجو سے ملتی ہے
اس کی بات کے آخر پر سکندر اور شہریار نے تالی مارتے قہقہ لگایا
جبکہ شایان اب زور زور سے برتن دھودھو کر شیلف پر پٹخ رہا تھا
ارے میری چھںو ۔۔۔ یوں تو نا ظلم کرو شہریار شایان کے کندھے پر ہاتھ رکھتا بولا
جب اس نے اس کا ہاتھ کندھے سے ہٹایا
آج سے آپ کی میری دوستی ختم نا میں آپ کو بلاؤں گا نا آپ مجھے
اس نے ناراضگی سے کہتے ہاتھ صاف کیے
اور قدم کیچن سے باہر کی طرف لیے
میں تو بلاؤں گا ۔۔۔ اپنی چھنو کو شہریار اس کے پیچھے باہر نکلتے بولا
خبردار جو مجھ سے فری ہونے کی کوشش کی تو ۔۔۔ وہ اپنے کمرے کی طرف جاتے بولا
اوو مولے نو مولا نا روکے تے مولا نہیں رکدا اوے ۔۔۔ شہریار نے ایکٹنگ کرتے کہا
جس پر سکندر کیچن کی لائٹ بند کرتا باہر آتے مسکرایا
چپ کر تھرڈ کاپی سلطان راہی ۔۔ وہ کہتے شایان کی طرف بڑھا اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے حصار میں لیا
دنیا ادھر سے ادھر ہو جاے گی پر ہماری دوستی پر کوی گریہن نہیں لگے گا
سکندر نے کہا جس پر شایان بھی مسکرایا تو شہریار بھی اسکے پاس گیا اور ان دونوں کے گرد اپنے ہاتھ پھیلا دیے ۔۔۔۔
انشاللہ ۔۔۔ یک آواز وہ تینوں بولے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح وہ لوگ گھر کے کام ختم کرنے کے بعد اب بیٹھی تھیں جب ان کو پتہ چلا کہ گاؤں میں میلا لگنے والا ہے ۔۔۔ اس بات پر فریال خوش ہوی اور پھر وہ دونوں اپنی دوستوں کے گھر گئیں
واپسی پر وہ لوگ جب واپس آرہے تھے تو ان کے پاس سے تین گاڑیاں گزریں ۔۔۔ جن کے گزرنے پر وہاں دھول اڑی
اففف جاہل انسان پیدل چلنے والے کیا اس دھول کو کھانے کے لیے رہ گئے ہیں
فریال نے اونچی آواز میں کہا
یہ ضرور سلمہ بیگم ہو گئیں حویلی کی درمیانی بہو ۔۔۔
مقدس نے دور جاتی گاڑیوں کو دیکھتے کہا
وہ کون ہیں؟ فریال نے منہ پر پڑی گرد کو صاف کرتے کہا
دیکھو یار ہر گھر میں ایسے لوگ ضرور ہوتے ہیں ۔۔ ہر امیر شاید ایسا نہیں ہوتا جیسے حویلی والوں کی بہوئیں ہیں
مقدس چلتے چلتے بولی
اس حویلی میں دنیا کی ساری آسائشیں ہیں مگر حویلی میں خوشیاں تو بس ان کے تین پوتوں سے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس کے کہنے پر فریال اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
کیا تم نے ان سب کو دیکھا ہوا ہے؟
نہیں بس سردار سکندر کو ہی دیکھا ہوا ہے
اچھا وہ کنجی آنکھوں والا ۔۔۔۔۔۔فری سکندر کو یاد کرتی بولی
آہستہ بولو کوی سن لے گا مقدس نےموٹی موٹی آنکھوں کو اور کھولتے کہا ۔۔۔ لو تو اس میں کیا بات ہے میں نے تو اسے منہ پر بھی کہا تھا ۔۔۔ فری نے کہا جس پر مقدس نے ماتھے پر ہاتھ مارا
اور تمہیں سردار جی نے کچھ نہیں کہا ؟
نہیں ۔۔۔ فریال کہتی آگے پیچھے دیکھنے لگی جب کہ مقدس نے حیرانی سے دیکھا
اچھا تم بتاؤ حویلی میں کون کون رہتا ہے ۔۔۔۔۔
فریال اس کے خاموش ہونے پر پھر سے بولی
ایک بڑی سردارنی صاحبہ جو کہ اس روز لائبہ کی شادی پر ملیں تھیں۔۔۔۔ پچھلہ حوالہ دیتے کہا
ہممم۔۔۔۔ اچھا اور ؟
پھر ان کے تین بیٹے ۔۔۔ بڑے بیٹے سلیمان صاحب تھے ۔۔ ان کا اور ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا
اور ان ہی کے بیٹے ہیں سردار سائیں ۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔ فریال نے سر اثبات میں ہلایا
پھر ابراہیم شاہ اور ان کی بیوی سلمہ بیگم جو ابھی یہاں سے گاڑی میں گزریں ہیں ۔۔ ان کا بیٹا دیکھا تو نہیں ہے میں نے ہاں پر اماں بتاتی ہیں وہ ایک بہت بڑا آرٹسٹ ہے اسکا نام بھی مجھے اچھے سے نہیں پتا ۔۔۔
اور پھر ہیں احمد شاہ جو شہر میں رہتے ہیں اور ان کی بیوی بھی وہ کافی نکھرے والی ہیں ۔۔۔
ان کا بھی ایک ہی بیٹا ہے پر اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتی
مقدس بول کر چپ ہوی تو فریال نے اسے دیکھا
کیا ہم حویلی دیکھنے جا سکتے ہیں ؟
کیا فائدہ باہر سے جتنی خوبصورت حویلی ہے اسے اندر سے دیکھنے کا دل للچاے گا اور یہ تو ممکن ہی نہیں ہے
اس کی بات پر فریال نے سر اثبات میں ہلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج گاؤں میں میلہ تھا ۔۔۔ ہر طرف چہل پہل تھی
فریال اور مقدس دونوں ساتھ تھیں ۔۔۔ فریال نے مہرون رنگ کا سادہ سوٹ پہن رکھا تھا جو اسکی گوری رنگت پر کھل رہا تھا اس نے کالی چادر سر پر ڈالی ہوی تھی جب کہ مقدس نے نیلے رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا جس میں وہ چاند کی طرح چمک رہی تھی
وہ لوگ میلے میں گھوم رہیں تھیں جب ان کی نظر سردارنی صاحبہ پر پڑی
فریال اور مقدس ان کو سلام کرنے گئیں جس پر بی جان نے فریال کو بڑی گہری نگاہوں سے دیکھا جب اچانک شایان ان کے پاس آیا اور ساتھ ہی شہریار بھی تھا
وہ لوگ یہاں آنے والے نہیں تھے مگر شایان کی ضد پر وہ لوگ وہاں اے
تم؟ جیسے ہی شایان کی نظر مقدس پر پڑی تو وہ اچانک بولا جب کہ وہ جو فریال سے بات کر رہی تھی اس کو دیکھتے وہ بھی حیرت سے بولی
تم؟ تم ہمارے گاؤں میں کیا کر رہے ہو؟
مقدس کی بات پر شہریار اور بی جان نے مقدس کو دیکھا
شہریار مقدس کی صحت دیکھتا پہچان گیا کہ یہ وہی لڑکی ہے
ہاں میں اور بھلا میں کیوں نہیں آؤں گا ؟ میرا بھی گاؤں ہے اس نے اس کو دیکھتے جواب دیا
سردارنی جی یہ لڑکا انتہای بد تمیز ہے اس نے مجھے پانی کا ٹینکر بولا تھا
وہ اب معصوم شکل بناتی بی جان کو دیکھتے بولی
اوووو یہ اتنی معصوم شکل بنانے کی ضرورت نہیں مس فتنہ ۔۔۔
شایان بھی لحاظ بلاے طاق رکھتا پھر سے بولا
جب کہ شہریار اور فریال خاموشی سے انجواے کر رہے تھے
تم نے بھی مجھے چھوہارے کے منہ والا بولا تھا
شایان نے اسے یاد کروایا جس پر فریال کا قہقہ گونجا
ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔ واہ میری شیرنی وہ اس کے کندھے پر ہاتھ پھیلاتے بولی
ارے آپ ہس رہی ہیں ۔۔۔ بجاے اسے یہ کہنے کہ مجھ سے تمیز سے بات کرے
ارے دیکھیں مسٹر آپ نے بھی تو اسے غلط الفاظ بولے تھے اگر اس نے کہہ دیا تو اس میں کون سی بڑی بات ہے
فریال شایان کو دیکھتے بولی
اسکی بات پر شہریار نے بھی سر اثبات میں ہلایا
جب کہ اسی طرف آتے سکندر نے اسکی بات سنی
لیکن انسان کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ سامنے کھڑا کون ہے
وہ ان کے پاس آتا بولا
جس کی بات سن کر فریال پلٹی
دیکھیں آپ بے شک اس گاؤں کے سردار ہیں مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ راہ پر چلنے والوں کو آپ نے خرید لیا ہے ۔۔۔
اس کی بات پر سکندر نے اسکی جانب جھکتے کہا
میں خرید سکتا ہوں ۔۔۔۔ فریال بنا ڑرے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ۔۔۔ بکنے والی چیزیں خرید سکتے ہیں آپ مگر ہم بکاؤ نہیں ہیں۔۔۔۔۔
ان کی بحث پر اب کی بار بی جان درمیان میں آئیں ارے تم دونوں کیوں لڑ رہے ہو ۔۔۔۔ ایک دوسرے کے مخالف کھڑے ہو گئے ہو
ارے بی جان مخالف کھڑے ہونے کے لیے سردار سکندر برابری دیکھتا ہے
میں دشمنی اور دوستی برابر کے لوگوں سے کرتا ہوں اس نے فریال کو دیکھتے ہوے کہا
بی جان معزرت مگر آپ کے بڑے پوتے کے پاس دیکھںے کی صلاحیت زرا کم ہے کیونکہ انسان کو اسکی زات پات سے نہیں پہچانا جاتا
وہ بی سکندر کی آنکھوں میں دیکھتے بولی
بس! ابھی مزید سکندر کچھ کہتا جب بی جان بولیں ۔۔۔
ایک اور لفظ نہیں ۔۔ بیٹا فریال تم اپنے گھر جاو۔۔ اور سکندر تم ۔۔۔ تم بھی میرے ساتھ حویلی چلو۔۔۔
وہاں کی سیریس سچوائیشن پر شایان اور مقدس آپنی لڑای بھولتے ان کو دیکھنے لگے
پھر انہوں نے پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھا
شہریار نے سکندر کے ہاتھوں کی رگوں کو باہر آتے دیکھ جلدی سے اسے لے جاکر گاڑی میں بیٹھایا
جب کہ فریال اور مقدس بھی واپسی کے لیے پلٹی گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں تو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ تم کب سے اس طرح بات کر نے لگے لوگوں کو نیچا دیکھانے لگے ہاں؟ کیسے تم میرے سمجھدار سکندر سے اس سکندر میں بدلے جو میں کبھی نہیں چاہتی تھی
بی جان حیرانی سے دیکھتے بولیں
جبکہ شایان اور شہریار بھی حیران تھے
پھر بی جان اس کو خاموش دیکھ کر ناراض ہوتی کمرے میں چلی گئیں
بڈی کیا بات ہے یہ واقعی سچ ہے کہ آپ پہلی دفع کسی سے اس طرح بات کر رہے تھے
بی جان کو وہ لڑکی کس اینگل سے میرے قابل لگی تھی ؟ وہ برہم ہوتے بولا
کیا تم اسکو سوچتے رہے ہو ؟ شہریار نے اسے دیکھتے کہا
کیا مطلب ؟ سکندر نے ماتھا مسلتے ہوئے کہا
مطلب بی جان تو پہلے بھی کئیں لڑکیوں کے بارے میں تم سے بات کر چکی ہیں تو تم نے اتنا شدید ریکشن کبھی نہیں دیا جس قدر اب دیا ہے
اس کی بات پر سکندر نے نظریں پھیریں اور اپںے ماتھے کو دو انگلیوں میں مسلا
دیکھو! یہ جب تم دو انگلیوں میں ماتھے کو مسلتے ہو تب مطلب صاف ہوتا ہے کہ تم بات بدلنے کی کوشش کرنے والے ہو اور بات تب بدلتے ہیں جب آپ واقعی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں مگر منہ سے بولتے نہیں ۔۔۔شہریار نے کہا جس پر شایان بھی متفق تھا وہ بچپن سے اسے جانتے تھے
دیکھو شہریار ایسا کچھ نہیں ہے تم غلط سمجھ رہے ہو
میں بس اس دن بابا کی زمین پر اس لڑکی کو دیکھ کر غصہ تھا
اس نے اسکی کھوجتی آنکھوں سے کوفت محسوس کرتے کہا
اچھا۔۔۔۔ تو کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتے ہوے اسے وہاں سے نکالا تھا؟شہریار نے سوال کیا جب کہ شایان بھی وہاں کھڑا تھا
سکندر نے سر نفی میں ہلایا
ہممم تو پھر اس قدر شدید ریکشن کی وجہ رشتہ تھا؟
ہاں ۔۔۔ وہ ان کے درمیان سے اٹھتا بولا
پھر بی جان کے کمرے کی طرف بڑھا
یہ لڑکا اگر محبت کر بھی لے گا تو کبھی اظہار نہیں کر گا گیرنٹی کے ساتھ کہہ رہا ہوں
شہریار نے شایان سے کہا
مجھے بھی لگتا ہے بڈی کو وہ لڑکی پسند آگئ ہے اور اب اس بات پر چڑ رہے ہیں اور اسے خود سے دور کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کو کسی کو خود کے قریب کرنا پسند نہیں ہے
ہاں ۔۔۔ شایان کی بات پر شہریار نے بھی ہامی بھرلی
ماں سائیں۔۔۔۔ بابا سائیں آگئے تو یہ خاموشی کیسی ؟
شہریار نے شایان سے کہا
نہیں صرف بڑی ماں سائیں آئ ہیں اور پھر آتے ہی سو گئی تھیں
اس نے جواب دیا
میرا پوچھا تھا ؟ شہریار نے پوچھا نہیں ۔۔۔ شایان کے جواب پر وہ سرد مسکراہٹ کے ساتھ مسکرایا
تم گئے نہیں چچا سائیں سے ملنے شہر ۔۔۔۔ شہریار نے پوچھا ہاں کل جانے کا ارادہ ہے
اس نے جواب دیا اور نظریں بی جان کے بند دروازے پر تھیں جہاں سکندر گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کی گود میں زبردستی سر رکھے وہ ان سے معافی مانگ رہا تھا
نہیں بیٹا دکھ اس بات کا نہیں ہے کہ تم نے اس لڑکی سے کہا ارے دکھ اس بات کا ہے کہ تم بھی ان لوگوں جیسے بن گئے جو اپنے سے کم تر لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں
نہیں بی جان آپ خفا مت ہوں میں نے جو کہا بس غصے میں کہا۔۔۔۔ وہ سچ میں شرمندہ ہوتے بولا
تم نے اسے خریدنے کی بات کی تھی
انہوں نے گویا اسے یاد کروایا
میں ایسا کچھ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بی جان بس مجھے کچھ غصہ تھا اور کہہ دیا
تو ٹھیک ہے پھر اس لڑکی سے شادی کرو۔۔۔
بی جان کیسی باتیں کر رہی ہیں ۔۔ میں یہ نہیں کروں گا وہ ان کی گود سے سر اٹھاتا بولا
ہمم تو ہماری طرف سے معافی کی کوی گنجائش نہیں تم جا سکتے ہو
بی جان نے بھی سخت لہجے میں کہا
جس پر سکندر اٹھ کر کمرے سے نکل گیا اور بنا شہریار اور شایان کی بات سنےاپنے کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریال جب سے گھر آی تھی اس نے ایک ہی رٹ لگای تھی کہ اسے واپس لاہور جانا ہے
جس پر وہ صبح واپس جانے کا ارادہ رکھتی تھی
سکینہ اور مقدس بہت پریشان تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڈی کمرے میں چلے گئے کیا ہمیں جانا چاہیے ۔۔۔؟ شایان نے سکندر کو کمرے میں جاتے دیکھ شہریار سے کہا
نہیں اسے تھوڑی دیر آرام کرنے دو ۔۔۔
چلو جاؤ تم بھی ریسٹ کرو۔۔۔
اس کے کہنے پر وہ بھی کمرے کی طرف کی طرف چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صبح اٹھا اور نیچے آیا جہاں بی جان ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی تھیں سامنے سلمہ بیگم بیٹھی تھیں اور ساتھ شایان بیٹھا تھا
اسلام وعلیکم! اس نے مشترکہ سلام کیا مگر اس کو بی جان نے سلام کا جواب نا دیا
جب کہ شایان نے بی جان اور سکندر کو دیکھا جو دونوں شدید سنجیدہ تھے
بی جان آج میں شہر جا رہا ہوں آپ میرے ساتھ چلیں گی؟ شایان نے بات بدلنی چاہی
نہیں مجھے اس بچی سے معافی مانگنے جانا ہے اس لیے میں نہیں جاؤں گی
بی جان نے ناشتہ کرتے ہاتھ روک کر کہا جس پر سلمہ بیگم نے حیرت سے بی جان کو دیکھا
کس سے معافی اور کس بات کی ؟ وہ سوالیہ ہوئیں
بی جان آپ کہیں نہیں جائیں گی ۔۔ سکندر نے دانت پیس کر کہا بی جان نے اسکے غصے سے تنے چہرے کو دیکھا میں جاؤں گی اور کوی مجھے روک نہیں سکتا
بی جان آپ کہیں نہیں جائیں گی کسی سے معافی نہیں مانگیں گی ۔۔۔ میں اس سے خود معزرت کر لوں گا وہ دانت کچکچاے انداز میں بولا
جس پر بی جان نے کوی جواب نا دیا
وہ حویلی سے باہر جانے لگا
ارے بڈی ناشتہ؟ شایان نے پیچھے سے پکارا
نہیں میرا دل نہیں چاہ رہا وہ کہتے غصے کی زیاتی سے لال ہوتا حویلی سے نکل گیا
آج پہلی دفع تھا کہ بی جان اس سے اس قدر خفا تھیں جو اسے اندر ہی اندر تکلیف دے رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو بچے جو بات ہوی ہے میں مانتی ہوں کہ بات غلط تھی مگر اس کا حل یہ تو نہیں ہے کہ تم گھر چھوڑ کر چلی جاو۔۔۔
سکینہ نے فریال کو دیکھتے کہا جب کہ مقدس بھی نہیں چاہتی تھی کہ اس کی کزن دوست اتنی جلدی واپس چلی جاے
ہاں بلکل اور ویسے بھی تم تو ہر مشکل سے ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہو پھر اس طرح بھاگنے کی کیا ضرورت ہے
مقدس نے اپنی ماں کی بات پر اتفاق کرتے کہا
ارے پھپھو ۔۔۔ بھاگنا بزدلوں کا کام ہے اور آپ جانتی ہیں میں بزدل نہیں ہوں پر میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ دونوں کی زندگی مشکل ہو
اس نے سکینہ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے کہا
ارے چپ کر جھلی تو مجھے بلکل مقدس کی طرح عزیز ہے اور جو کچھ ہوا اسے مل کر دیکھ لیں گے سمجھی ۔۔۔۔ انہوں نے اس کو جھڑکا اور اپنے سیںےسے لگایا
جس پر فریال بھی مسکرای اور مقدس بھی خوش ہو گئ
کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوی سکینہ اٹھ کر دروازہ کھولنے گئ
سکینہ نے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھتے وہ حیران ہوی
آپ ۔۔۔۔
کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے ؟ سامنے کی شخصیت نے اجازت چاہی
جی جی بڑی سردارنی جی اجازت ہے آپ آئیے نا ۔۔۔ سکینہ نے بی جان کو اندر لاتے کہا
اور پھر ان کو اندر لاتے پلنگ پر بٹھایا
وہ بچی کہاں ہے جس سے کل سکندر کی بحث ہوی تھی انہوں نے پوچھا جس پر سکینہ نے فریال کو آواز دی
مقدس اور فریال باہر آئیں سامنے بی جان کو بیٹھے دیکھ کر حیرت ہوی
اسلام وعلیکم! اسنے ان کے پاس آتے سلام کیا
وعلیکم السلام! کیسی ہو بیٹا ؟ انہوں نے اسے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا
جس پر فریال نے سکینہ کو دیکھا پھر بی جان کے ساتھ بیٹھ گئ
دیکھو بیٹا میں یہاں کل والی بات کی معافی مانگنے آئ ہوں
جو کچھ کل ہوا وہ بہت غلط تھا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا میرا پوتا کبھی ایسی بات نہیں کرتا پر غصے میں اس نے جو کچھ کہا اس کے لیے میں شرمندہ ہوں
بی جان نے معزرت کرتے کہا
جس پر فریال نے ان کو دیکھا ۔۔دیکھیں انسان کی سوچ اس کی زبان سے بیان ہوتی ہے ۔۔۔۔ اسکی بات پر بی جان نے سر جھکا لیا وہ خود تم سے معافی مانگتا مگر اسے شہر ضروری کام تھا اس لیے وہ نہیں آ سکا پر میں تم سے شرمندہ ہوں
آپ شرمندہ مت ہوں آپ کی کوی غلطی نہیں ہے ویسے بھی آپ میری دادی کی عمر کی ہیں وہ ان کا جھکا سر دیکھ کر بولی جس پربی جان بھی مسکرائیں
شکریہ بچے وہ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتی بولیں
اچھا میں آپ کے لیے چائے لاتی ہوں سکینہ نے بڑی سردارنی سے کہا ہاں چائے تو پیوں گی پر اگر فری بیٹی بناے گی تو ۔۔۔ انہوں نے مسکرا کر کہا جس پر فریال مسکرای
آپ بیٹھے میں چائے لاتی ہوں وہ کہتی کیچن میں چلی گئ اور مقدس بھی اس کے پیچھے گئ
پھر وہ چائے ان کے سامنے رکھتی سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئ
بی جان نے چائے پی ۔۔۔ ہمم بہت اچھی چائے بنای ہے بیٹا بی جان شفقت بھرے لہجے میں بولیں
اب میں آئ ہوں اگلی دفع تم حویلی آنا بی جان اٹھتے ہوئے بولیں
میں ؟ فریال نے حیرت سے کہا جب کہ مقدس بھی پر جوش ہوی
ہاں تم۔۔۔۔۔ میں تمہارا انتظار کروں گی بی جان کہتے ساتھ باہر کی طرف بڑھیں
سکینہ ان کو دروازے تک چھوڑ کر آئیں جب کہ مقدس نے خوشی سے فریال کو گلے لگایا
افففف یار تمہیں پتہ ہے اس حویلی کو اندر سے دیکھنے کا مجھے کتنا اشتیاق تھا پر اب میں تمہاری بدولت حویلی دیکھ سکوں گی اس کی پر جوش آواز پر سکینہ پلنگ پر بیٹھیں اور کہا
“جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے “
جس پر فریال نے ان کو سوالیہ دیکھا
دیکھو بیٹا انسان کے پاس جو نہیں ہوتا اسکی خواہش رہتی ہے اور جب خواہش پوری ہو جاتی ہے تو اسکی کوی قیمت نہیں رہتی اور پھر ہماری خواہشات کا گڑھا بھرتا چلا جاتا ہے
بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ پھپھو ۔۔۔ دولت سے انسان امیر نہیں ہوتا اپنے خلوص اور محبت سے وہ امیر ہوتا ہے اور دیکھیں یہ کتنی دھنی ہیں جن کے لہجے میں اتنی چاشنگی ہے وہ بی جان کی طرف خیالی اشارہ کرتی بولی
بلکل ۔۔۔۔ سکینہ کے ساتھ مقدس بھی کہتے مسکرایں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار اپنے کمرے میں پینٹنگ بنا رہا تھا جب اسکی ماں کمرے میں آئیں کیا تم جانتے ہو تمہارے باپ نے وہاں کیا حرکت کی ہے ؟ سلمہ بیگم نےکمرے میں آتے ہی کہا
جس پر شہریار کے مہارت سے کام کرتے ہاتھ رکے
اور اس نے پینٹنگ بوڈ سے نظریں اٹھا کر اپنی ماں کو دیکھا
پھر کسی بات پر آپ دونوں کا اختلاف ہو گیا ہو گا
اس نے ان کو دیکھتے کہا ۔۔۔ ارے تمہارے باپ جیسے مرد کے ساتھ زندگی گزارنی بہت مشکل ہے وہاں شادی پر اس نے ابھی وہ کچھ کہتیں جب شہریار نے ان کے آگے ہاتھ جوڑے
معاف کیجئے گا ماں سائیں پر میرا اتنا سٹیمنہ نہیں ہے کہ اب آپ دونوں کی لڑائیوں کو سن سکوں ارے آپ دونوں تو اس بات پر بھی لڑ پڑیں ہوں گے شادی پر جانے کے لیے کس گاڑی میں جانا ہے ۔۔ پلیز مجھ میں ہمت نہیں ہے خدا کے لیے مجھے جینے دیں
اس نے اونچی مگر زیادہ اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی
جس پر اس کے کمرے میں آتے سکندر نے اس کی خراب ہوتی طبعیت پر اس کی طرف بڑے بڑے قدم لیے
چچی سائیں پلیز اس وقت اس کی طبعیت خراب ہو رہی آپ یہاں سے چلی جائیں
اس نے سلمہ بیگم کو کہا جس پر وہ کھڑی ہوئیں ارے میں نے ایسا کیا کہہ دیا کہ یہ ہال ہو رہا ہے اس کا ۔۔۔۔
جب سکندر نے شہریار کی بند ہوتی سانس کو دیکھتے سلمہ بیگم کو دیکھا
آپ کی روز روز کی لڑائیوں کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوتی ہے ابھی آپ پوچھ رہی ہیں کہ آپ نے کیا کیا ہے؟
اس نے غصے سے کہا اور شہریار کو بیڈ پر بیٹھایا
ارے سکندر تم بھی اب یہ کہو گے جس نے کوی ایسی ویسی حرکت کردی ہے جس پر بی جان کو گاؤں کے معمولی سے گھر میں جا کر معافی تلافی کرنی پڑی ۔۔۔۔۔
وہ سلمہ بیگم تھیں جن کا کام ہر کسی کو تعںے مارنا تھا اس عورت کو اپنے بیٹے کی بند ہوتی سانسوں کی بھی فکر نہیں تھی
جبکہ سکندر نے جب بات سنی کہ بی جان اس سے معافی مانگنے گئیں تھیں تو اس کا دل چاہا ہر چیز تیہس نہسں کر دے
اس نے لال انگارہ آنکھوں سے سلمہ بیگم کو دیکھا جس پر اب وہ سہم گئیں
ابھی اور اسی وقت یہاں سے جائیں۔۔۔۔۔ اسنے دانت پیس کر کہا
اس کا چہرہ لال ہو گیا تھا اس کی حالت دیکھ کر سلمہ بیگم کمرے سے نکل گئیں
اس نے ان کے جانے پر پانی کا گلاس اٹھا کر شہریار کے منہ سے لگایا
تھوڑا سا تھوڑا سا پانی پی لو میری جان اس نے اس کے منہ سے پانی کا گلاس لگاتے کہا جبکہ چہرے سے اس کے لیے پریشانی واضح نظر آرہی تھی
جب شہریار نے پانی کا گھونٹ حلق میں اتارا ۔۔۔
سکندر نے اس کے کندھے دباے ۔۔۔ چند منٹوں کے بعد شہریار نے اس کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے مزید کرنے سے روکا
سکندر اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا
کیا اب بھی تم ان باتوں کو دل سے لگاتے ہو ۔۔۔۔۔سکندر نے زمین پر نظریں گاڑھتے کہا
ارے یار تم جانتے ہو یہ معمول کی بات ہے پر دو دن ایسا کچھ نہیں ہوا نا اس لیے طبیعیت خراب ہو گئ
وہ اس کے کندھے پر ہاتھ پھیلا کر بولا
جس پر سکندر نے سر اثبات میں ہلایا
وہ کچھ باتوں کے بعد اسے مزید پینٹنگ کرنے سر منع کرتا اسے آرام کرنے کا کہتا کمرے سے نکل گیا
جبکہ اب رخ بی جان کے کمرے کی طرف تھا
اس نے دروازے پر دستک دی ۔۔۔۔اندر بیٹھی بی جان اس کی دی ہوی دستک سے بھی پہچان جانتی گئ تھیں اس لیے جواب نا دیا
جبکہ سکندر سمجھ گیا تھا کہ وہ اس سے خفا ہیں اس لیے وہ دروازہ کھولتے اندر قدم رکھا
اور جا کر سامنے بیٹھی بی جان جو صوفے پر بیٹھی تھیں وہ کوی کتاب پڑ رہی تھیں ان کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا
بی جان نے ایسے محسوس کروایا کہ جیسے اس کے وجود کا ان کو پتہ ہی نہیں ہے
بی جان ! اسنے پکارا ۔۔۔۔
پر کوی جواب نہیں ۔۔۔
بی جان ناراض تو مجھے ہونا چاہیے میرے منع کرنے کے باوجود آپ نے اس لڑکی سے جا کر معافی مانگی
ہاں کیوں کہ میں جانتی تھی کہ تم نے محض مجھے روکنے کے لیے کہا ہے کہ تم اس سے معافی مانگو گے ورنہ تمہارا ایسا کوی ارادہ نہیں ہے اس لیے میں نے جا کر معافی مانگی انہوں نے کتاب پر نظریں جمائے جواب دیا
پر بی جان زبان درازی اس نے بھی کی تھی وہ دانت کچکچاے انداز میں بولا
اور فضول باتیں تم نے ۔۔۔ انہوں نے کتاب سامنے ٹیبل پر رکھتے کہا
یعنی آپ کے لیے میری کہی بات کوی اہمیت نہیں رکھتی اس نے سرد لہجے میں کہا
میرے لیے تمہارے منہ سے نکلا ہر جملہ اہمیت رکھتا ہے اسی لیے تو تمہاری کہی غلط بات بھی مجھے چبتی رہی ہے
بی جان نے اس کو دیکھتے کہا
پھر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔
پتر کبھی کبھی انسان کو اپنی آنا کا پرچم لہرانے کے بجاے اتفاق کی رسی کو پکڑ لینا چاہیے
بی جان مجھے یہ بات اندر ہی اندر ختم کر رہی ہے کہ آپ نے اس لڑکی سے معافی مانگی ہے
اس نے مانگنے کہاں دی ۔۔۔۔ بی جان نے اسے دیکھتے کہا
کیا مطلب ؟ سکندر نے سوالیہ نظروں سے بی جان کو دیکھا وہ ایک نیک تربیت یافتہ لڑکی ہے بیٹا اس نے مجھے کہا کہ آپ مجھ سے معافی مت مانگیں کیونکہ آپ کی عمر میری دادی جتنی ہے ۔۔۔
وہ ایسی لڑکی ہے جو بڑوں کی عزت کرنا جانتی ہے بی جان نے اس کو گال پر ہاتھ رکھتے کہا
جب کہ اس نے نظریں جھکا لیں
بہرحال آپ آئیندہ ایسا کچھ نہیں کریں گی اس عمر میں آپ ہماری وجہ سے کہیں شرمندہ ہوں تو لعنت ہے ہماری جوانی پر
اس نے بی جان کا ہاتھ تھامتے کہا
جس پر بی جان نے اس کے ہاتھوں پر زور دیتے سر اثبات میں ہلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی فراٹے سے بھگا کر لے جاتا شہر کی جانب جا رہا تھا جب سامنے کالا بیل کھڑا دیکھا
اففف مجھے لگا تھا وہ سفید ہتھنی ہو گی پر یہ تو کالا بیل نکلا وہ بڑبڑایا
پر وہ بیل راستے سے ہٹ نہیں رہا تھا جب وہ نیچے اترا
اےےےے پلیز زرا راستہ دینا مجھے ضروری کام سے جانا ہے وہ گاڑی سے باہر نکلتا سامنے کھڑے بیل سے بولا
جس پر اس نے اس کی طرف دیکھ کر منہ دوسری جانب کر لیا
ناول ۔۔۔۔۔۔۔عشق گیریاں
ازقلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنسہ چوہان
❤️❤️❤️❤️❤️❤️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️
3
لو جی یہ ادائیں کیوں دیکھا رہی ہو؟ شایان نے بیل کو دیکھ کر کہا
اسے تم میں اپنے پتی دیو نظر آرہے ہیں ۔۔۔ اور وہ پہلی رات کی دلہن والی ادائیں دیکھا رہی ہے
شایان کو اپنے پیچھےسے آواز آی
جس پر اس نے پلٹ کر دیکھا
سامنے مقدس کھڑی تھی بس تمہاری ہی کمی تھی ہتھنی ۔۔۔ وہ اسے دیکھتے بولا
اوووو چھوہارے کہ منہ والے اس دن تمہاری وجہ سے اتنی لڑائ ہوی اور تمہارے چہرے سے شرمندگی کا ایک قطرہ نہیں ٹپکا
وہ اسکو گھورتے ہوے بولی
دیکھو میرا اس وقت لڑنے کا موڈ نہیں ہے میں لیٹ ہو رہا ہوں اوپر سے یہ بیل ہٹ نہیں رہا
اس کی بات پر مقدس نے بیل کو دیکھا
تم جا کہاں رہے ہو؟ مقدس نے کچھ سوچ کر پوچھا
شہر جا رہا ہوں ۔۔۔۔اس نے بیل کو دیکھتے جواب دیا
ہمممم ۔۔۔ اچھا ہٹو میں دیکھتی ہوں اس نے اسے پیچھے ہونے کا کہا اور پھر وہ بیل کی طرف بڑھی
ارے پاگل ہو آگر اس نے ٹکر ماردی تو ۔۔۔؟
شایان نے کہا جس پر اس نے پلٹ کر اسے دیکھا نہیں وہ شہری مرغوں کو مارتی ہے ہمیں نہیں
اس نے ایک اور لقب دیا جس پر شایان نے اس کی پشت کو گھورا
مقدس نے جا کر بیل کو آہستہ سے ہاتھ لگاتے اسے راستے سے ہٹایا
پھر پلٹ پر اس کے پاس آئ ۔۔ دیکھا چلی گئ
ہاں دیکھا !
وہ دراصل میری زبان کہاں سمجھ آنی تھی
تھی جو تمہاری بلادری کی وہ بھی اپنا بدلہ پورا کرتا گاڑی میں بیٹھا
بدتمیز شکریہ بھی نہیں کہا ۔۔ مقدس بڑبڑای اور پھر اپنے گھر کی طرف بڑھ گئ
جب کہ شایان نے اس کی پشت کو دیکھا
سفید کیوٹ ہتھنی ۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتا وہاں سے گاڑی بھگا لے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شہر پہنچا اس نے گاڑی پورچ میں پارک کی اور گاڑی سے نکلتا لمبے لمبے ڈاگ بھرتا گھر کے اندر گیا
گھر کافی شاندار تھا شیشے سے بنی دیواریں کافی خوبصورت طرز پر بنا گھر جس میں خاموشی کا راج تھا
وہ اندر آیا جہاں ایک طرف ڑرائینگ روم تھا جب کہ دوسری طرف لاونج تھا
سامنے ہر چیز بہت قیمتی پڑی تھی
وہ چلتا ہوا لاونج میں آیا
جہاں اوپن کیچن میں ایک میڈ کام کرتی نظر آئ
اسلام وعلیکم ! ماں سائیں کہاں ہیں ؟ اس نے پیچھے اونچی آواز میں سلام کرتے پوچھا
جب وہ عورت پلٹی
جی وہ سو رہی ہیں ۔۔۔۔
اس عورت کے جواب پر اس نے کمرے کا پوچھا اور پھر اپنی ماں کے کمرے کی طرف بڑھا
دستک دی ۔۔۔
جب اندر سے آواز آی ۔۔۔ وہ اندر گیا
جہاں ایک عورت بہت خوبصورت تھی یا پھر یوں سمجھ لیں کہ پیسے کی خوبصورت تھی
وہ سامنے بیڈ پر کمفرٹر میں لیٹی تھیں
شایان کو اندر آتے دیکھ کر وہ حیران ہوئیں اور خوش ہوئیں ۔۔۔ ارے میرا بیٹا ۔۔۔ وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھتے ہوے اس تک پہنچی
اسکا سر ماتھا چوما ۔۔۔ میرا شہزادہ بیٹا
تم کب اے ۔۔۔؟ شایان بھی مسکرایا پھر ان کو لے کر صوفے پر بیٹھا تو وہ اس کے ساتھ بیٹھتی بولیں
کچھ دن ہو گئے ہیں۔۔۔ اس نے صاف بات کی
یعنی پہلے ماں کے پاس نہیں آئے
ارے ماں سائیں بی جان کے پاس گیا تھا اور اسکے بعد آپ کے پاس ہی تو آیا ہوں
بس بس کوی ماں سے پیار ویار نہیں ہے تمہیں ۔۔۔ اگر پیار ہوتا تو سیدھا میرے پاس آتے وہ ناراضگی سے بولیں
اچھا نا ماں سائیں بس کریں ناراضگی اتنے سالوں بعد بھی آپ یوں خفا رہیں گی
ارے نہیں میرا شہزادہ بیٹا آیا ہے بھلا میں کیوں ہونے لگی ناراض
وہ مسکرا کر بولیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے مائرہ تم ؟
وہ جب ماں کے ساتھ کمرے سے نکلا تو سامنے کمرے سے نکلتی اپنے مامو کی بیٹی دیکھ کر بولا
جو بے تحاشہ فیشن ایبل تھی اونچے قد کی لڑکی اور گوری رنگت اس نے جینز اور شرٹ پہن رکھا تھا بال کھلے تھے اور لبوں پر لال لپسٹک
بلا شبہ وہ بہت حسین لڑکی تھی وہ شایان کو دیکھ کر مسکرائی اوو مای گاڈ تم کب آئے ۔۔۔؟وہ اس کے گلے لگنے والی تھی جب شایان نے ہاتھ آگے بڑھایا
بس ابھی ہی آیا تھا ۔۔۔ وہ مسکرا کر بولا اور شیک ہینڈ کیا
جس پر مائرہ نے شایان کو دیکھا پھر بامشکل مسکرا کر وہ ہاتھ ملاتی اس کےساتھ باتیں کرنے لگی
تم لوگ باتیں کرو میں بس کھانے کا انتظام کروا لوں
شایان کی ماں بولی اور پھر وہاں سے چلی گئ
جب وہ لوگ باتیں کرتے لاونج میں جا کر بیٹھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات اپنے باپ کے ساتھ مل کر باتیں کرتا رہا اس کا باپ اسے دیکھ کر بہت خوش تھا
پر پھر اس نے کہا
بابا سائیں کل میں واپس گاؤں جاؤں گا ۔۔۔
لیکن کیوں ؟ اس کی ماں اور مائرہ بھی منہ بنانے لگیں
بس کچھ ضروری کام ہے بس پھر کچھ دن تک چکر لگاؤں گا
ویسے بھی ویکینڈ پر آپ لوگ آئیں گے تو۔۔۔۔
اس نے کہا جس پر وہ لوگ سر اثبات میں ہلانے لگے
اچھا تم مائرہ کو ساتھ لے جانا کہہ رہی تھی کہ اسے گاؤں جانے کا بہت شوق ہے
اس کی ماں نے کہا جس پر مائرہ نے چونک کر اپنی پھپھو کو دیکھا
میں ؟ وہ حیران ہوی ۔۔
ہاں بھی کہا تو تھا تم نے اب جب شایان ہو گا تو وہ تمہیں اچھی کمپنی بھی دے گا
وہ کہتی مسکرانے لگیں اوکے تم صبح تیار ہو جانا شایان اس کو لے کر جانا تو نہیں چاہتا تھا پھر ماں کی خاطر مان گیا
جب کہ مائرہ نے بھی جھوٹی مسکراہٹ سجائئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
او کمان پھپھو میں نے کب کہا تھا کہ مجھے ساتھ جانا ہے ۔۔۔؟ وہ بھی وہاں گاؤں میں
وہ منہ بناتی بولی ۔۔۔ تو تمہیں شایان سے شادی نہیں کرنی ؟ اسکی ماں نے مائرہ کو دیکھتے کہا
افکورس کرنی ہے ۔۔۔ مائرہ نے پھپھو کو کہا
تو پھر اس کے ساتھ رہو گی اس کے ساتھ وقت گزارو گی تو ہی پاسیبل ہے ویسے بھی مجھے خود وہ گاؤں کی لائیف پسند نہیں ہے پر اب بس اپنے بیٹے کی جان بھی اس۔گاؤں سے چھڑوانی ہے
تم سے شادی کے بعد وہ بھی شہر شفٹ ہو جاے گا
اسکی ماں نے ساری بات کھول کر بتای
اووو اچھا پھپھو اب شایان کو پانا ہے تو اتنی تو قربانی تو میں دے ہی لوں گی
وہ کہتی مسکرای جب کہ شایان کی ماں بھی مسکرای
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام وعلیکم بی جان وہ صبح ناشتے کی ٹیبل پر آتا بولا وعلیکم السلام! بیٹا آج شہریار ناشتے پر نہیں آیا ؟ خیریت ؟ بی جان نے پوچھا جس پر اس کو یاد آیا کل کے واقع کے بعد اسکی طبعیت خراب تھی
جی میں دیکھتا ہوں وہ کہتا شہریار کے کمرے کی طرف بڑھا
اور جا کر دروازے پر دستک دی مگر پھر جواب نا ملنے پر اندر گیا جہاں وہ کمفرٹر میں لیٹا تھا
ارے شیری ۔۔۔ تم آج ابھی تک سو رہے ہو وہ کہتا اس کے پاس بیڈ پر بیٹھا
اس کے جواب نا دینے پراس نے اس کے لال چہرے کو دیکھا
یا اللہ اس نے جیسے ہی ہاتھ اسکے چہرے پر رکھا اس کو لگا ہاتھ کوئلے کی دھات پر رکھ دیا ہے
وہ بخار میں تپ رہا تھا
ایک تو اس لڑکے کو کوی پرواہ نہیں ہے اپنی سکندر بڑبڑایا اور جلدی سے اٹھا ۔۔۔ شہریار اٹھو۔۔۔ وہ اسے اٹھانے لگا
جس پر اس نے مندی مندی آنکھیں کھولیں
اٹھو یار تمہاری طبیعت اتنی خراب ہےاور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں ۔۔۔۔
سکندر اس کے بخار میں تپتے چہرے کو دیکھتے بولا
یار کچھ نہیں بس تھوڑی دیر میں خود ہی اتر جاے گا تم پریشان مت ہو
وہ اٹھ کر بیٹھتا بولا
شٹ اپ ۔۔ وہ اسے جھڑکتا اس کے جوتے اس کے پاؤں میں پہنانے لگا
ارے یار کیوں بیویوں کی طرح ٹریٹ کر رہا ہے ۔۔۔ شہریار نے مستی میں کہا
شہریار مزاق نہیں اس وقت تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے چلو میں تمہیں ہاسپٹل لے چلوں
وہ اسے سہارا دے کر کھڑا کرتے بولا
ارے یار تمہیں پنچایت کے لیے جانا ہے تم جاؤ میں ٹھیک ہوں
اس نے پھر سے انکار کیا
پنچایت پھر لگ جاے گی ۔۔ پراس وقت تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے اب چلو وہ اسے کہتا اسے سہارا دیتے ہوے باہر لے کر آیا
جب کہ شہریار نے اس کو دیکھا جو دیکھنے میں کٹھور دل لگتا تھا مگر تھا اس کے اندر ایک ڑرا ہوا سمہا ہوا بچہ جو اپنے سے کسی جڑے رشتے کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا
اس کو وہ نیچے لے کر آیا جہاں بی جان ناشتے پر ان کا انتظار کر رہیں تھیں
ارے کیا ہوا میرے بچے کو ؟ بی جان پریشانی سے اٹھ کر ان کے پاس آئیں بی جان کچھ نہیں ہوا پلیز آپ پریشان مت ہوں اس کو بخار ہے میں اسے ہاسپٹل لے کر جا رہا ہوں
اس نے کہا جس پر بی جان کو پریشانی ہوی ۔۔۔ ارے بچے تم رکو میں بھی ساتھ آتی ہوں
ارے بی جان میں لے جاتا ہوں اسے اور پلیز آپ کی اپنی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی آپ گھر پر رہیں
وہ کہتے اسے لے کر حویلی سے باہر نکلا اسے گاڑی میں بٹھاتے وہ گاڑی خود ڑرائیو کرتا اسے لے کر شہر کی طرف چلاگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریال اور مقدس آج حویلی جانے کے لیے تیار ہوئیں
فریال نے بلیو کلر کی شرٹ کے ساتھ کیپری پہنی تھی
سر پر مہرون چادر تھی جبکہ مقدس نے کالے رنگ کی قمیض شلوار کے ساتھ مہرون چادر پہن رکھی تھی
وہ لوگ حویلی کے باہر کھڑی تھیں
ماشاءاللہ کتنی خوبصورت حویلی ہے فریال نے حویلی کو باہر سے دیکھتے کہا
ہاں یار اندر سے اس سے بھی زیادہ ہو گی مقدس کی بات پر وہ مسکرای پھر اندر جانے لگیں
جب گاڑ نے روکا
کون ہیں آپ لوگ اور اندر کیسے جا رہی ہیں ؟
جی ہم لوگ انسان ہیں اور ٹانگوں کی گاڑی چلا کر اندر جا رہے ہیں فریال نے کہا جس پر مقدس نے اسے چپت لگائ
جی آپ اندر سردارنی جی سے کہیں کہ فریال اور مقدس ائ ہیں
اس کے کہنے پر گاڈ سر ہلاتا وہاں سے کال ملانے ساتھ بنے چھوٹے سے کال ائیریا کی طرف بڑھا
اس نے کال کی جب ملازمہ نے کال اٹھای
بڑی سردارنی جی سے کہو کہ ان سے ملنے مقدس اور فریال نام کی دو لڑکیاں آئ ہیں ۔۔۔
ملازمہ نے جا کر لاونج میں بیٹھی پریشان بی جان کو دیکھتے بتایا
جس پر وہ مسکرائی ان کو اندر آنے دیا جاے
ان کے کہنے پر ملازمہ نے کال پر گاڈ سے کہا کہ بڑی سردارنی نے اجازت دی ہے
گاڈ فریال اور مقدس کے پاس آیا ۔۔۔۔جی آپ لوگ اب جا سکتے ہیں
ہاں تو پہلے ہی ہم نے کہا تھا کہ جانے دو ۔۔۔ توبہ ہے تفتیش ایسے کر رہے تھے جیسے ہم نے اندر جا کر بم دھماکے کرنے ہیں فریال گاڈ کو سناتی حویلی کے اندر داخل ہوی
جب کہ مقدس بھی مسکراتی اندر آئ
وہ لوگ حویلی کے گارڈن کواشتیاق سے دیکھ رہی تھیں ماشاءاللہ یار کتنا خوبصورت گارڈن ہے مقدس بڑبڑای
فریال نے اسے کھینچا اچھا بس کرو چلو اندر وہ اسے لے کر حویلی کے داخلی دروازے کی جانب جاتی سیڑھیوں پر چڑھی اور پھر حویلی کا بڑا سا داخلی دروازہ پار کرتی اندر ائیں
ہر چیز اتنی قیمتی دیکھ کر وہ دونوں خوش ہوئیں
پھر لاونج میں بیٹھی بی جان کو دیکھ کر فریال اور مقدس ان کی طرف بڑھیں
اسلام وعلیکم! بڑی سردارنی جی
اب دونوں نے سلام کیا
وعلیکم السلام! تم دونوں نے آنے میں دیر لگا دی
ان کے شکوے پر وہ لوگ مسکرائیں
ارے نہیں بڑی سردارنی جی ہمیں لگا کہ اگلے ہی دن جانا بلکل عجیب لگے گا
ارے بھلا عجیب کیوں اچھا تم دونوں کھڑی کیوں ہو بیٹھو ۔۔ بی جان نے ان کو کھڑے دیکھ کر کہا
وہ لوگ وہاں رکھے صوفے پر بیٹھ گئ
آپ پریشان لگ رہی ہیں ۔۔۔؟ فریال نے بی جان کو دیکھتے کہا
ہاں دراصل میرے پوتے کی طبعیت خراب ہے اس لیے ۔۔۔
انہوں نے کہا تو ایک ملازمہ موبائل بی جان کے پاس لای ۔۔۔ سردار جی کی کال ہے
اس نے کال کی تھی کہ وہ بی جان کو تسلی دے ورنہ وہ جانتا تھا وہ بیمار ہو جائیں گی سوچ سوچ کر
اچھا وہ کنجی آنکھوں والا بیمار ہے ؟ فریال نے کہا جس کی آواز فون کے پار سردار سکندر کا کانوں میں پڑی
جس نے اسکی آواز سنتے ہی دانت پیسے
ہاں سکندر بیٹا کیسی طبعیت ہے شہریار کی ؟ بی جان نے فون پکڑتے کہا
جی وہ ٹھیک ہے ڈرپ لگی ہے بس کچھ دیر میں ہم حویلی واپس آتے ہیں
اس نے بی جان کو جواب دیا اور کال بند کی
جب کہ اس لڑکی کی آواز سن کر اسے غصہ آگیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے نہیں بیٹا اس سے چھوٹے پوتے شہریار کی ۔۔۔
بی جان نے موبائل ملازمہ کو پکڑاتے کہااور اسے ان کے لیے کچھ لانے کا کہا
اوو اچھا۔۔۔ فریال نے سر اثبات میں ہلایا
پھر بی جان سے باتیں کرتی رہیں جب حویلی کے داخلی دروازے سے شایان اندر داخل ہوا اس کے پیچھے عجیب قسم کے کپڑے پہنے مائرہ بھی داخل ہوی
شایان سیدھا بی جان کے پاس آیا
سامنے مقدس کو دیکھ کر حیران ہوا پھر سمائل اچھالی
کیسی ہو ہتھنی ۔۔۔؟اس نے مسکراکر کہا جب بی جان نے اس کو چپت لگای شرم کرو ۔۔۔ وہ اسے ڈانٹنے کے انداز سےبولی
مائرہ کو وہ بھول ہی گیا تھا جب وہ لاونج میں آی ۔۔۔ اوو بی جان یہ میرے ساتھ مائرہ آئ ہے ۔۔اس نے مائرہ کو دیکھتے بی جان کا دھیان اس پر لگوایا
اور جیسے ہی نظر مقدس پر پڑی تو اس نے زبان چڑھائ ۔۔۔ اس کو جو بی جان سے چپت لگی تھی اس پر
جب کہ شایان اس کی شرارت پر مسکرایا
مقدس نے اسکے مسکرانے پر نظریں پھیر لیں ۔۔۔ جبکہ شایان کی نظریں اسکی کی جھکی نظروں پر تھیں
ہاے ۔۔ مائرہ نے بی جان کو دیکھتے کہا
بیٹا سلام کرتے ہیں ۔۔۔۔ انہوں نے ٹوکا
جی ۔۔۔ مائرہ ان کے ٹوکنےپر منہ بناتی بولی پھر صوفے پر بیٹھ گئ بڈی اور بھای کہاں ہیں ؟ شایان نے پوچھا
شہریار کی طبعیت خراب تھی سکندر اسے لے کر ہاسپٹل گیا ہے
بی جان کے بتانے پر شایان پریشان ہوا
کیا ہوا بھای کو؟ بخار تھا اب تو شاید وہ لوگ پہنچنے والے ہوں گے
اس کو بتایا ہی تھا کہ شہریار اور سکندر واپس حویلی پہنچے
اندر آتے ہی اسے لاونج میں لایا
مائرہ نے ان دونوں کو دیکھا اور کافی امپریس ہوی ان دونوں کی پرسنیلٹی کو دیکھ کر
سکندر کی نظر جیسے ہی فریال پر پڑی تو آنکھوں میں آگ نکلنے لگی
بس نہیں چل رہا تھا اس لڑکی کو اڑا دے جو اس کی بی جان کے سامنے بیٹھی مسکرا رہی تھی
اب کیسی طبعیت ہے آپ کی؟ فریال نے شہریار سے پوچھا
جی الحمدللہ اب کافی بہتر ۔۔ اس نے مسکرا کر کہا
اچھا سردارنی جی اب ہم چلتے ہیں ۔۔ وہ لوگ اٹھتے ہوے بولیں
ہممم پر کل ضرور آنا ۔۔ بی جان ان کو وعدہ یار کرواتی بولیں
جی ضرور ۔۔۔ فریال مسکرای پھر
اس کی نظر خود کی طرف گھورتے سکندر پر پڑی
تو اس نے اسکی طرف قدم لیے
اسلام وعلیکم! سردار جی مقدس نے سکندر کو دیکھتے سلام کیا
جس پر اس نے جواب دیا
تمہاری مسکراہٹ نوچ لینے کا دل چاہتا ہے وہ اسے ہلکی آواز میں بولا جس پر فریال نے بی جان کو دیکھا جو شایان کی کسی بات پر مسکرا رہی تھیں
آپ یہاں ! ہممم معافی مانگنی ہو گی ؟ فریال نے اس کے سامنے کھڑے ہوتے آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے کہا
جب سکندر اس کی طرف جھکا اور دھیمی آواز میں بولا
معافی مانگتی ہے میری جوتی ۔۔۔
جس پر فریال نے اسکو دیکھا
سردارنی جی ۔۔۔ اس نے اس کو دیکھتے پکارا
کیا ہوا بیٹا ؟ سردارنی جی نے فریال کی پکار پر ان کو دیکھا
فریال نے چہرہ موڑا
آپ نے کہا تھا یہ شرمندہ ہیں ۔۔ پر یہ تو کہہ رہے ہیں کہ آئیندہ میں اس حویلی میں نظر نا آؤں
اس نے معصومیت سے کہا سکندر نے حیرانی سے اسے دیکھا
ارے بیٹا کیوں بھئ تم ضرور آنا ۔۔
اور سکندر سوری بولو اسے ۔۔۔
سکندر نے بی جان کو حیرانی سے دیکھا
پر پھر سب کی موجودگی میں بی جان کے حکم کو ٹال نہیں سکتا تھا
سوری۔۔۔ دانت پیس کر اس نے آگ برساتی نظروں سے فریال کو دیکھا
آے بڑے سوری بولتی ہے آپ کی جوتی چچچ ۔۔۔۔ سوری تو آپ نے خود بولا ہے نا
تمہیں میں چھوڑو گا نہیں وہ جل کر بولا
ارے مقدس سیمل آرہی ہے نا۔۔۔۔ اوو ہو کسی کی ایگو جل رہی ہے ۔۔ اس نے سکندر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
جب کہ ان کو اتنے پاس دیکھ کر بی جان مسکرائیں ۔۔ جو یہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ لوگ باتیں کیا کر رہے ہیں
ہاں پلیز کل ضرور آنا ۔۔۔ شایان کا برتھ ڈے ہے تم لوگ سپیشل گیسٹ ہو
سکندر نے مسکرا کر اونچی آواز میں کہا جس پر شایان کے ساتھ شہریار بھی حیران ہوا کہ وہ ان کو اپنی پارٹی پر بلا رہا ہے ۔۔۔
اس کی مسکراہٹ میں کچھ تو تھا جو فریال کو کھٹکا
پھر اگنور کرتی مسکرای
جی ضرور ۔۔ وہ کہتے وہاں سے نکل گئیں
جب کہ سکندر نے رخ اپنے کمرےکا کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت بی جان کے کمرے میں شہریار ،بی جان اور شایان تھے
بی جان بیڈ پر بیٹھی تھیں جن کی ٹانگیں شہریار دبا رہا تھا جب کہ شایان جلے پیر کی بلی کی طرح مسلسل چل رہا تھا
یار شایان بیٹھ جا کیوں چل چل کر خود کو تھکانا ہے شہریار نے اسے مسلسل چلنے پر ٹوکا
میں سوچ رہا ہوں۔۔۔ اس نے جواب دیا جس پر بی جان مسکرائیں اور بولیں
ارے شہریار بیٹا چلنے دو اسے ۔۔ اسکی عقل گھٹنوں میں ہے جب تک وہ چلے گا نہیں اس کی عقل کو سگنل کیسے پہنچیں گے کہ شایان کو عقل کی ضرورت ہے
بی جان کی بات پر شہریار ہسنے لگا جب کہ شایان منہ بناتا ان کے پاس آکر بیڈ پر بیٹھا
یار مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ آخر بڈی نے کیا سوچ کر فریال کو اور مقدس کو برتھڈے پر انوائیٹ کیا ہے ؟
کچھ تو چل رہا ہے اس کے دماغ میں اب جب وہ کرے گا تو ہی پتہ چلے گا
شہریار نے کہا
ہاں مگر اس بار اگر اسنے اس بچی کو تنگ کیا تو پھر میری بات ماننے پر وہ مجبور ہو جاے گا
بی جان نے ان دونوں کی بات کے آخر پر کہا جس پر وہ دونوں سر اثبات میں ہلانے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بی جان کے کمرے سے نکلتا اپنے کمرے میں جانے لگا مگر سامنے لاونج میں مائرہ کو دیکھ کر رکا
ارے مائرہ تم یہاں کیوں بیٹھی ہو؟
تم جانتے ہو نا میں تمہارے لیے آئ ہوں آئ مین تمہارے ساتھ آی ہوں پھر تم مجھے اگنور کر کے اپنی فیملی کے ساتھ لگے ہو
مائرہ نے شایان سے کہا
دیکھو مائرہ یہاں فیملی رہتی ہے سب مل جل کر رہتے ہیں تو تمہیں سب سے خود باتیں کرنی ہیں تبھی کمپنی دیں گےوہ سب اس نے اسے سمجھانے کے انداز میں کہا
او کمان۔۔۔۔ تم مجھے اور میری نیچر کو جانتے ہو مجھے یوں بزرگوں کے ساتھ باتیں کرنا پسند نہیں ہے ان کی باتیں مجھے سمجھ نہیں آتی ویسے بھی میں یہاں اس لیے آی تھی کہ تم مجھے گاؤں دیکھاؤ گے شایان کو اسکی باتوں پر غصہ بہت آیا پر پھر برداشت کرتا بولا
ٹھیک ہے کل لے چلوں گا
وہ کہتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا جب کہ مائرہ بھی کمرے کی طرف گئ جو اسے وہاں رہنے کے لیے دیا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے وقت وہ صوفے پر بیٹھا ٹانگیں سامنے پڑی ٹیبل پر رکھی تھیں جب کہ سیگریٹ پر سیگریٹ پی رہا تھا اور ایش ٹرے بھرا ہوا تھا جو بتا رہا تھا کہ سیگریٹ پیتے اسے زیادہ وقت ہو چکا ہے
چہرہ سخت لال تھا جیسے وہ اب بھی اس کے لفظوں کو کانوں میں گونجتا محسوس کر رہا ہے اور ہاتھوں کی رگیں ابھریں ہوئیں اس کے تیش میں ہونے کا پتہ دے رہی تھیں خاموشی گہری تھی
آنکھوں میں آگ ہلکورے لے رہی
“مس فریال خدا بخش اب تم دیکھو کہ تم نے سردار سکندر سے زبان درازی کی ہے جس کی اجازت کسی کو نہیں ہے میں تمہیں گڑگڑانے پر مجبور کر دوں گا”
وہ بڑبڑایا ۔۔۔۔ دانت پر دانت رگڑتے وہ تیش کے عالم میں بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریال کو اسکی وہ سرد مسکراہٹ کسی انہونی کا پیش خیمہ لگ رہی تھی
وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوی تو اب بھی وہ باہر صحن میں سیڑھیوں پر بیٹھی سوچ میں پڑی تھی
سکینہ نماز پڑھ کر باہر آئیں جبکہ مقدس ابھی نماز پڑھ رہی تھی
وہ اسکے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھیں
کیا سوچ رہی ہے میری بیٹی ؟ وہ اس کا چہرہ چاند کی روشنی میں چمکتے دیکھ کر بولیں
کچھ نہیں پھپھو بس دل اداس تھا تو یہاں بیٹھ گئ ۔۔۔
ارے دل کیوں اداس؟
پھپھو انسان آنا کی دلدل میں کتںا دھنستا چلا جا رہا ہے ۔۔۔۔اپنے رشتے اپنے سے جڑے ہر شخص کو وہ اپنی آنا کے ہاتھوں زخمی کیے جا رہا ہے
ہاں بیٹا ۔۔۔ انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے کہے کی معافی شاید مل جاے پراس کے لفظوں سے اگلے کا دل کس طرح زخمی ہوتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا
“الفاظ سانس بند کردینے کی طاقت رکھتے ہیں”
اس کی پھپھو نے اسے دیکھتے اسکی بات کا جواب دیا
اگر کوی بنا کسی بات کے آپ کے ساتھ دشمنی کر لے تو کیا کرنا چاہیے ؟
کوشش کرو کہ اس کی وجہ جان جاو۔۔۔
اگر نا جان سکو تو پھر دشمنی کا مقابلہ ہمت سے کرو
ان کی بات پر اس کے زہن میں اسکا عکس لہرایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناول۔۔۔۔۔۔۔عشق گیریاں
ازقلم ۔۔۔۔۔۔۔آنسہ چوہان
😍😍❤️😍😍😍😍❤️😍😍✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️
4
شہریار ناشتے کی ٹیبل پر آیا ۔۔۔ جہاں بی جان سر براہی کرسی پر بیٹھی تھیں اور ان کےساتھ دائیں جانب سکندر بیٹھا تھا جب کہ بائیں جانب شایان بیٹھا تھا
اس کے ساتھ والی کرسی پر سلمہ بیگم بیٹھی تھیں
شہریار سب کو سلام کرتا سکندر کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا
کیا مصروفیت ہے تمہاری آج کی ۔۔؟
ناشتے سے فارغ ہوتے سکندر نے شہریار سے کہا
ہمم کچھ خاص نہیں بس اپنی پینٹگ کمپلیٹ کرنی ہے
اس کے جواب پر اس نے سر اثبات میں ہلایا
اچھا میں تمہیں ایک ایڈریس سینڈ کرتا ہوں آج وہاں جانا۔۔۔ وہ آدمی تمہاری کافی مدد کر سکتا ہے پینٹنگ کے حوالے سے
ہمم ٹھیک ہے تم بتا دو میں چلا جاؤں گا
شہریار نے اسکی بات کے جواب میں کہا
جب شایان نے اپنی طرف آتی ملازمہ کو آواز دی
آپ پلیز جا کر مائرہ کو جگا دیں اس کو آج گاؤں گھومانے کے کر جانا ہے اس نے منہ کے ان گنت زاویے بناتے کہا
جی چھوٹے سائیں ملازمہ کہتی وہاں سے چلی گئ
جس پر شہریار اور سکندر نے مسکراہٹ چھپای
سلمہ اگر تمہاری مصروفیت نہیں ہے تو آج حویلی کا کام اپنی نگرانی میں کروا لینا
بی جان نے کہا جس پر وہ ٹیبل سے اٹھ گئیں
نہیں مجھے بہت ضروری کام ہے ان سب کاموں کے لیے آپ ہیں نا
میرا مطلب آپ اچھے سے کام کروا سکتی ہیں وہ کہتے وہاں سے چلی گئیں
جب کہ شہریار نے گہرا سانس لیا
ارے بیٹا تم مت گھبراؤ ۔۔۔ اس کی اور ابراہیم کی لڑائ چل رہی ہے اور اس لڑای کے دوران اس کا موڈ یوں ہی رہتا ہے کوی بات نہیں
بی جان نے شہریار سے کہا
ہممم ۔۔۔
ارے یار یہ لڑکی سارا دن سوتے میں گزار کر کیا دن دھوپ کے وقت گھومنے جاے گی
شایان نے پھر سے اپنا رونا رویا
جس پر شہریار اور سکندر پھر مسکراے
ارے بیٹا یہ ساری زندگی کا روگ ہے تمہارا
شہریار نے مسکرا کہا
وہ کس لیے؟ شایان نے آی برو نچوڑ کر کہا
وہ اس۔ لیے کہ یہ چچی سائیں کی بہو بنے گی
بلکل نہیں۔۔۔ شایان کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا
اچھا پھر کوی اور ہے کیا ؟ بی جان نے مسکرا کر کہا
نن نہیں تو میں تو بس ایسے ہی کہہ رہا تھا ملطلب میں مائرہ کو نہیں سنبھال سکتا اس نے جلدی سے بات سنبھالی
بی جان مسکرائیں
اچھا بی جان آج پنچایت ہے اب مین چلتا ہوں وہ کرسی سے اٹھتا ان کا ماتھا چومتا ہوا بولا
خیر سے جاؤ بچے اللہ تمہیں ایک بہترین انصاف کرنے والا بناے
وہ مسکراتا ہوا اپنی چیزیں اٹھاتا باہر نکلا اس کے آتے ہی سب گاڑز گاڑیوں میں سوار ہوے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلیں بی جان میں بھی چلتا ہوں مجھے بھی سکندر کے بتاے اس آدمی سے ملنا ہے
اور تم شایان اپنی ہونے والی بیوی کا انتظار کرو
شہریار بی جان سے کہتا شایان سے بولا
استغفر اللہ وہ جل کر بولا
شہریار مسکراتا بی جان کا ماتھا چومتا باہر نکلا
جب کہ وہ نکلا تو گڑز کی گاڑی سامنے کھڑی دیکھ کر وہ روکا
آپ سب یہاں کیوں ٹھہرے ہیں ؟ وہ ان کو دیکھتا بولا
جی سردار جی نے ہمیں آپ کے ساتھ جانے کا کہا ہے
گاڑز کی بات سن کر اس نے منہ کے زاویے بناے اففف یار یہ لڑکا نہیں سدھرے گا
شہریار کو گاڑز کے ساتھ جانا پسند نہیں تھا مگر سکندر دشمنوں کی وجہ سے کسی بھی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتا تھا
اس لیے وہ اب ان کے ساتھ ہی گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائرہ تیار ہو کر باہر آی جہاں بی جان باہر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں
ملازم سب کام پر لگے تھے
ایکسکیوز می ۔۔۔ وہ بی جان کے پاس آی
جب بی جان نے ریموڈ سے ٹی وی کی آواز بند کی
جی بیٹا؟
ناشتہ؟ اس نے کہا بیٹا آپ بیٹھو آسیہ ناشتہ لگاؤ ۔۔۔ انہوں نے ملازمہ کو آواز دی
اچھا وہ شایان کہاں ہے؟ اس نے آگے پیچھے دیکھتے کہا
وہ باہر گیا ہے ۔۔۔
تم ناشتہ کرو وہ آجاے گا ۔۔۔ وہ اسے جواب دیتیں ٹی وی کی آواز کھولتی مصروف ہو گئیں
اففف بڑھیا اتنا ایٹیٹوڈ کیوں دیکھا رہی ہے
وہ بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے ناشتے کی ٹیبل پر گئ
یک میں یہ ناشتہ نہیں کرتی ۔۔۔ اس نے ناشتہ لگاتی آسیہ پر چلا کر کہا
حویلی کے داخلی دروازے سے آتے شایان نے اسکی بدتمیزی پر دانت پیسے
آسیہ آپ پلیز بدڈ جیم اور جوس لے کر آئیں
شایان نے لمبے لمبے ڈاگ بھرت ٹیبل کی پاس آتے
عزت سے بات کرتے کہا
جی ۔۔۔ آسیہ کہتے کیچن میں چلی گئ
دیکھو ۔۔۔ یہ میرا گھر ہے ۔۔ یہاں اس قسم کی بدتمیزی برداشت نہیں کروں گا وہ پہلی بار اس قدر سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا اور بنا اسکی بات سنے وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
جب کہ مائرہ نے ٹیبل پر مکہ مارا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکینہ کسی کام سے شہر گئیں تھیں اور مقدس اپنی دوست کے گھر اس کی عیادت کو گئ تھی
فریال گھر پر تھی کیونکہ اسے بخار تھا
دروازے پر دستک ہوی ۔۔۔ اس نے بامشکل درد سے چکراتے سر کو ہاتھوں میں تھاما
افف اس قدر سخت درد پہلے کبھی نہیں ہوی وہ بڑبڑای پھر دروازے پر دوسری دستک پر وہ اٹھی اور کمرے سے باہر نکلی
صحن میں اسے ایک دفع پھر چکر آیا
پر پھر لڑکھڑاتی وہ دروازے تک پہنچی
کون ؟ اس نے بند دروازے سے پارکھڑے آنے والے شخص سے کہا
دروازہ کھولو۔۔۔۔۔۔
اس نے دروازہ کھولا۔۔۔ اور جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے سکندر کو دیکھ کر چونکی
جس کے پیچھے گاڑز کھڑے تھے
اہہہ آپ یہاں کیوں اے ہیں ؟ وہ آنکھوں کے آگے آتے اندھیرے پر آنکھیں جھپکا کر بولی
سکندر نے اس کو دیکھا تمہیں تمہاری اوقات دیکھانے آیا ہوں ۔۔۔ وہ قدم گھر کے اندر لیتے بولا
کیا مطلب ؟ وہ اس کے انداز سے حیران ہوی
تم نے مجھ سے بدتمیزی کی تھی نا اب میں تم سے گڑگڑا کر معافی منگواؤں گا
یہ آدمی تمہارے گھر کو آگ لگا دیں گے
وہ گھر پر نظریں ڈالتے بولا
آپ کیا کریں گے ۔۔۔ جو چھوٹے بچوں کی طرح اپنی حفاظت کے لیے دوسروں کو اپنے ساتھ لے کر گھومتا ہے۔۔ وہ اس کے ساتھ گاڑز کی فوج پر ٹونٹ کرتی بولی
جب اس نے پلٹ کر اسے دیکھا
تم خود کے لیے سزا بڑھاتی جا رہی ہو ۔۔۔
کسی کی بکواس دھمکیوں سے فریال خدا بخش نہیں ڑرتی
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی
سکندر نے اس کے اتنے مضبوط جواب پر اس کی جانب جھک کر دیکھا
تم نے مجھ سے یعنی سکندر سے معافی منگوای ہے اسکی سزا تمہیں ضرور ملے گی
دیکھیں میں نے آپ کو اپنی طرف جھکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔۔۔ وہ اسکے جھکے وجود پر نظر دوڑاتے بولی
اتنا غرور ہے خود پر ؟ وہ اس کے انداز پر حیران ہوتا بولا
اندھا اعتماد ہے خود پر ۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی
پچھتاؤ گی ۔۔ معافی مانگو اپنے گزشتہ سارے رویے کی ورنہ میری دشمنی تمہیں مہنگی پڑے گی وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتے بولا
اہہہ۔۔۔ کسی نے کہا تھا کہ وہ دشمنی برابر کے لوگوں سے کرتا ہے اب میں تو پہلے والی جگہ پر ہی کھڑی ہوں تو مطلب مسٹر سکندر خود کو نیچے لا رہے ہیں ؟
اسکی بات سن کر سکندر نے آگ برساتی نظروں سے اسے دیکھا
تم اپنے لفظوں پر پچتاو گی
میں نے کبھی کسی عورت سے دشمنی نہیں کی مگر تم پہلی عورت ہو جو مجھ سے الجھ رہی ہو
وہ سرد لہجے میں بولا
ہاں ٹھیک ہے اس کا آواڈ تو پھر مجھے ملنا چاہیے نا ۔۔۔۔وہ آی برو نچاتے بولی
ویسے ۔۔۔ ایسا کچھ مت کرنا کہ بعد میں بڑی سرکار کو آپ کی غلطیوں پر معافی مانگنی پڑے
اےےےے ۔۔ وہ اسکی بات سن کر چلایا
انہہہہ چلاؤ مت حقیقت ہے تسلیم کرو ۔۔۔
مجھے ان کو جھکا سر پسند نہیں ہے آئندہ کوی ایسی حرکت مت کیجئے گا
وہ اسے ٹھنڈے لہجے میں کہتی پیچھے ہوی
جب اس نے اسے بازو سے پکڑتے دیوار سے پن کیا
کس چیز کی اکڑ ہے تم میں؟
وہ اس پر غراتے ہوئے بولا
آپ یہ بتائیں کس چیز کا بیر ہے مجھ سے جو ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئے ہیں؟
اس نے دیوار سے لگے جھٹکے سے جسم میں اٹھتی درد کو دانت لبوں پر جاما کر برادشت کیا
اسکی نظر اسکے لبوں پر پڑی تو وہ گلابی لب دانتوں کی شدت پر سفید پڑنے لگے
سکندر نے انگوٹھے کی مدد سے اسکے لبوں کو دانتوں سے آزاد کیا
جس کی حرکت پر فریال ساکن ہو گئ
مجھ سے شادی کرو گی ؟
جب کہ اسکی اگلی بات سن کر وہ آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی
کل بی جان رشتہ کے کر آئیں گی ہاں کہہ دینا۔۔۔ وہ اسکے گال تھپتھپا کر بولا
اور پیچھے ہوتا جانے لگا جب وہ جلدی سے اسکے سامنے آئ
یہ کیا کہا آپ نے؟ ابھی آپ مجھ سے دشمنی نبھا رہے تھے اور اب اچانک ۔۔۔۔۔
نظر پہلے ان لبوں پر نہیں پڑی تھی
وہ اسکے ہونٹوں کے نیچلے تل پر نظریں جما کر بولا
میں نے سنا تھا کہ یہاں کا سردار بہت حیا دار ہے
ہاں تو کیا سردار شادی کے لیے کسی کو نہیں کہہ سکتا؟
دماغ خراب ہو گیا ہے اپکا اور آپ کو لگتا ہے میں ہاں بولوں گی
ان لبوں کی گستاخی پر تمہارے پچھلے سارے رویے معاف
وہ کھوے ہوے لہجے میں بولا
کیا آپ نے پی رکھی ہے ؟
انہہہ قسم لے لو اب آج تک شراب نہیں پی ۔۔۔۔۔۔
اس کی بدلتی ٹون پر فریال کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا
ابھی اور اسی وقت نکلو یہاں سے ۔۔۔۔
فریال راستے سے ہٹتے بولی
جس پر وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتا سمائل اچھالتا باہر نکلا
جب کہ فریال کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا مگر پھر سر چکرایا ابھی وہ گرتی جب اس کو آنے والے شخص نے گرنے سے بچایا اور اسکی کمر پر ہاتھ رکھا
جب کہ فریال اب بے ہوش ہو چکی تھی
ارے فری ۔۔۔ فری ۔۔۔
برہان سکینہ کا بیٹا گھر سب کو سرپرائز دینے آیا تھا وہ اندر داخل ہوا ہی تھا کہ اسے فریال گرتے ہوے نظر آی
جبکہ سکندر جو کہ اس سے پھر کچھ کہنے آیا تھا
اسکو کسی کی باہوں میں دیکھ کر اس کی آنکھوں میں۔ اب جل اٹھی
بنا لحاظ کے وہ اندر جاتے ساتھ فریال کے بے ہوش وجود کو اسے سے چھینتا اپنی طرف کرتا اس لڑکے کو گھورنے لگا
سردار جی ؟ برہان نے حیرت سے سکندر کو دیکھا
جب وہ بنا اسے کوی جواب دیے فریال کو گود میں اٹھاتا باہر نکلا اور اسے گاڑی میں ڈالا
اور اسے لے کر ہاسپٹل چلا گیا جبکہ برہان کو سکندر کے آدمی زبردستی اپنے ساتھ لے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑز کے ساتھ سکندر کی بتای ہوی جگہ پر آیا
اس جگہ پر شہر کے کافی غریب طبقے کے لوگ رہتے تھے
وہ گاڑی سے اترا ۔۔۔ کیونکہ گھر گلی کے اندر تھا جب کہ گلی چھوٹی تھی اس کی لینڈ کلوزر اندر نہیں جا سکتی تھی
وہ اترا اور اس کے پیچھے گاڑز بھی اترے
میں کوی چھوٹا سا بچہ جو گائینی بن کر مجھے پروٹیکٹ کر رہے ہو
وہ گاڑز کو گھورتے بولا
سوری چھوٹے سائیں پر سردار جی نے حکم دیا تھا آپ کو کہیں بھی اکیلے نہیں جانے دے سکتے
انہوں نے معدب لہجے میں کہا
جس پر شہریار بھی جانتا تھا کہ وہ سب بھی سردار سکندر کے حکم کے محتاج ہیں
ٹھیک ہے چلو ۔۔ وہ کہتا گلی کے اندر گیا
وہ چلتا ہوا اس گلی میں گھر ڈھونڈنے لگا
گلی میں کافی سارے بچے کھیل رہے تھے جو رک کر اس کو دیکھنے لگے
وہ اس وقت بلیک شرٹ کے ساتھ وائٹ پینٹ پہنے ہوے تھا
آنکھوں پر گلاسسز لگاے ہوے تھے
بل آخر اسے گھر ملا جس گھر کے سامنے بوڈ لگا تھا ۔۔۔
جاوید پینٹر ۔۔۔۔۔۔۔
اب تم سب یہاں باہر رکو ۔۔۔ تم سب کو دیکھ کر وہ سمجھے میں اسے دھمکانے جا رہا ہوں وہ ان کے ہاتھ میں اصلحہ دیکھ کر بولا
وہ کہتے دستک دیتا اندر گیا جس کا دروازہ کھلا ہی تھی
گاڑز باہر کھڑے ہو کر اس کا انتظار کرنے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے لیے باہر نکلا اب اسے گھومانے کے لیے وہ اسے گاؤں میں کھیتوں میں لے آیا
جب کہ مائرہ کو کوی مزہ نہیں آرہا تھا
شایان اس کی مرجھائی شکل دیکھ کر اسے پیدل چلنے کا کہنے لگا
یار دیکھو گاڑی میں تمہیں کیسے مز اسے گا پیدل چلنے سے ٹھنڈی ہوا کا مزا آے گا
اس کے کہنے پر اب وہ لوگ پیدل چلنے لگے
جب کہ شایان انجانے میں ہی مگر وہ اپنی سفید کیوٹ ہتھنی کو ڈھونڈنے لگا
جب کہ مائرہ کو اس کے دوست کی کال آی جس پر وہ اپنے فون پر مصروف ہو گئ
ابھی کچھ ہی دیر چلے تھے کہ اسے دور سے کالی چادر میں وہ آتی نظر آی
جس کو دیکھتے ہی شایان کے چہرے پر مسکراہٹ بھکر گی
جس کا ساتھ سکینہ بھی تو وہ دونوں پریشان لگ رہی تھیں
شایان نے پلٹ کر مائرہ کو دیکھا
مائرہ تم گاڑی میں جا کر بیٹھو میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں
اس نے مائرہ سے کہا جس پر وہ جو پہلے ہی دوست سے باتوں میں مگن تھی بنا وجہ پوچھے سر ہلاتی گاڑی کی طرف چلی گئ
جب کہ شایان نے مقدس کی طرف قدم لیے
جب موبائل سے کوی تصویر دیکھا کر کسی عورت سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھی
اےے ہتھنی کیا ہوا تمہیں ۔۔۔ یہ چہرہ کیوں لٹکایا ہوا ہے ؟
وہ اس کے پاس آتا بولا
جب مقدس نے اسکی طرف دیکھا آنکھوں میں آنسو تھے جو بس پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر آنے کو تھے
اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر
مقدس کیا ہوا؟ وہ اب سنجیدہ ہوتا بولا
وہ ۔۔۔۔ مقدس نے بس اتنا کہا اور آنسو لڑھک کر گالوں پر پھسلے
جس کو دیکھتے شایان کو عجیب سی کیفیت خود پر تاری ہوتی محسوس ہوی
مجھے بتاؤ کیوں رو رہی ہو؟وہ اسکے پاس جھکتے ہوے اسے پچکارتے ہوے بولا
جب مقدس نے آنسو صاف کیے ۔۔ اس نے رگڑ کر آنسو صاف کیے تھے کہ پل میں اسکی گل سرخ ہوگئیں
جن پر شایان کی نظر پڑی جو پل میں گلال سی ہویں
میجک ۔۔۔۔ وہ ہلکا سا بڑبڑایا
پھر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
میں گھر پر نہیں تھی فری کی طبعیت خراب تھی ۔۔۔ میں جب گھر گئ تو فری گھر پر نہیں تھی ۔۔ اب میں نے پورا گاؤں ڈھونڈ لیا ہے
مگر وہ نہیں مل رہی ۔۔۔
اس کی بات سن کر شایان سیدھا ہوا
اسے یاد آیا کہ اسکی لڑای سکندر سے چل رہی تھی اس کو پل میں سمجھ آی کہ ضرور وہ سکندر کے ساتھ ہو گی
پھر کچھ سوچ کر اس کی طرف جھکا
اچھا تم رو نہیں میں اسے ڈھونڈنے جاتا ہوں تم یوں رو مت اور ہاں اپنی ماں سائیں کا خیال رکھو
اس کے کہنے پر مقدس نے سر اثبات میں ہلایا
جس پر شایان مسکرایا
شاباش جاؤ گھر ۔۔۔ میں کے کر آتا ہوں تمہاری فری کو
اس نے کہا جس پر اس نے قدم واپسی کے لے لیے
اور شایان نے موبائل نکال کر بی جان کے نمبر پر کال ملائ
جی بی جان وہی ہوا جس کا ڑر تھا
اس نے کال ریسیو ہوتے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے ہاسپٹل لے کر پہنچا ۔۔۔۔۔ نا جانے اسے اچانک کیا ہوا تھا وہ اس طرح کیوں حرکتیں کر رہا تھا وہ خود انجان تھا
مگر اسے بے ہوش دیکھ کر اسے پریشانی بہت تھی
اب اسے سٹریچر پر ڈالتے وہ پیچھے ہوا جب وہ اس کا ہاتھ تھام گئ
جس پر سکندر نے اس کے بے ہوش وجود کو دیکھا پھر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا اور اسکا ہاتھ سٹریچر پر رکھا
ڈاکٹر اسے کے کر چیک اپ کے لیے لے گئے
جب کہ گاڑز بھی اس کے پیچھے پیچھے وہاں پہنچے
کچھ ہی دیر گزری تھی جب ڈاکٹر باہر آیا
پریشان ہونے والی بات نہیں ہے سکندر صاحب بس ان کو بخار تھا اور کمزوری کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئ تھیں
میں نے ان کو انجیکشن لگا دیا ہے میں کچھ پرسکریپشنز لکھ کر دیتا ہوں آپ اپنی وائف کا خیال رکھیے گا
ڈاکٹر کی ساری بات سن کر اس نے سر اثبات میں ہلایا
جب وہ لفظ وائف ہر اٹکا ۔۔۔۔ پھر سر جھٹک دیا
وہ تو بس اسے پریشان کرنا چاہتا تھا اس لیے وہ سب کہا تھا اس ایسا کچھ کرنےکا۔ ارادہ نہیں تھا وہ اسکے مغرور پر بات بدلتے بولا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی گھر کے اندر قدم رکھا سامنے ایک عورت ایک لڑکی کو بری طرح جھڑک رہی تھی
اور پھر اسے دھکا دے کر باہر نکالا جو سیدھا شہریار کے پاؤں میں اجر گری تھی
شہریار نے کسی کو اپنے قدموں میں گرے دیکھا تو وہ جھکتا نیچے بیٹھا
آپ ٹھیک ہیں ؟ اس نے اس لڑکی سے کہا جو ایک چادر میں لپٹی تھی
جب اس لڑکی نے اس کے پاس سے آتی آواز کے تعاقب میں دیکھا
جہاں ایک خوبصورت لڑکا دو زانوں ہو کر بیٹھا تھا
شہریار نے اسے کہا جب اس لڑکی نے پلٹ کر اسے دیکھا
شہریار کی نظر اسے کی بھوری آنکھوں پر پڑی جن میں آنسو ٹھہرے ہوے تھے وہ ایک سانولی رنگت کی لڑکی تھی
آنکھوں سے نظر پھسلی تو اس کی کھڑی اونچی ناک میں پہنے لونگ پر نظر اٹکی
شہریار نے اس سانولی رنگت کی لڑکی جو دیکھا جس کے نقوش بہت پرکشش تھے
جب اسکے کان میں آواز پڑی
بے شرم لڑکی ارے ناجانے کتنے مردوں کو پھسا کر رکھا ہے
اس کالی کلوٹی نے وہ عورت اپنی زبان سے گند نکالتی باہر آی
جہاں اس لڑکی کے ساتھ ایک خوبصورت مرد بیٹھا تھا
جس کو دیکھ کر وہ عورت حیران ہوی
کو بھلا اب اس کو بھی پھسا لیا ارے مجھے تو سمجھ میں آتی کہ سب جو تجھ میں دیکھتا کیا ہے ؟
پہلے وہ گلی کی نکڑ والا ظفر اور پھر میرا بھائی جمیل اور اب یہ نیا پھسا لیا
اس عورت نے پھر سے اونچی آواز میں چلاتے ہوے کہا
نن نہیں چچی آپ غلط سمجھ رہی ہیں ۔۔۔ قسم لے لیں میرا کوی چکر نہیں چل رہا ۔۔۔ وہ ظفر بھای روز میرا پیچھا کرتے ہیں میں نے اپکو بتایا بھی تھا پر آپ نے میری بات نہیں سنی اور جمیل بھای مجھے نہیں پتہ انہوں نے آپ سے یہ بات جب کی
پر خدا کی قسم میرا کوی قصور نہیں ہے
اس عورت کے بولنے پر وہ لڑکی اس کے پاوں پڑتی اپنی صفائی دیتے بولی
جب اس عورت نے اسے ٹھوکر ماری
وہ پیچھے کو گری
جب شہریار اٹھا۔۔۔ وہ عورت اسے لڑکی کو پھر سے مارنے لگی
خبردار!
اگر ایک بھی قدم تم نے اس کی طرف لیا تو میں تمہیں ایسی جگہ پہنچاؤں گا جہاں تمہیں یہ غذا صبح و شام ملے گی
وہ سرد برفیلے لہجے میں بولا
جب وہ لڑکی اسکی آواز پر کھڑی ہوی اور عورت وہیں تھم گئ
کک کون ہو تم ؟
اس عورت نے اس کے لہجے سے سہم کر کہا
میں جو بھی ہوں پر تمہیں تمہاری زات بھلا دینے کی حد تک پاگل کر سکتا ہوں
اس کی بات سن کر وہ لڑکی درمیان میں آی
تم کون ہوتے ہو ہمارے معاملے میں بولنے والے اور چچی کو دھمکانے والے
شہریار نے اس لڑکی کو آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھا
ششش! اس نے اسے دیکھتے اپنے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا
اور پھر اس عورت کو دیکھا
تم جیسی عورتیں ہی ہوتی ہیں معصوم اور بے قصور لڑکیوں کے کردار پر گندے الزام لگاتی ہو
اگر آئیندہ اس پر ہاتھ اٹھایا تو ہاتھ کاٹ دوں گا
اور تم ۔۔۔ چپ چاپ مار کھا رہی ہو اور الٹا اس عورت کو اپنے کردار کی صفائیاں دے دہی ہو جو تمہارے کردار پر کیچڑ اچھال رہی ہے
وہ پہلی بات عورت سے کرتا پھر لڑکی کی طرف دیکھتے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا؟ بی جان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ جس بات پر پریشان تھیں وہی ہوا یعنی سکندر اسے کہیں لے گیا ہے
ہو سکتا ہے بچی کو ٹارچر کر رہا ہو۔۔۔ انہون نے فون پر دوسری جانب شایان سے کہا
پتہ نہیں بی جان پر میں کال کرتا ہوں کہ وہ کہاں ہے ۔۔۔
نہیں اٹھاے گا فون ۔۔۔ تم اس کے گاڑز میں سے کسی کو کال کرو اور اسکا موجودہ پتہ لو باقی کام میرا ہے بی جان سخت لہجے رکھتے ہوے بولیں
جی بی جان ۔۔۔۔ شایان نے کال بند کی اور سکندر کے گاڑز کو کال کی
سردار سکندر اس وقت کہاں ہیں ۔۔؟
جی چھوٹے سائیں وہ اس وقت ہاسپٹل میں ہیں
کیا؟ اس نے گاڑ کی بات پر چونک کر کہا
وہ ٹھیک تو ہیں نا؟ وہ پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔۔۔ جی جی وہ ٹھیک ہیں دراصل ان کے ساتھ فریال تھی اسکی طبعیت خراب تھی اسے لے کر ہاسپٹل آے ہیں
گاڑ نے بات بتائی جب کہ فریال کا سکندر کے ساتھ ہونے پر شایان نے بنا کوی جواب دیے کال کاٹ دی
اور بھاگتا ہوا گاڑی تک پہنچا اور گاڑی میں بیٹھتا گاڑی بھگا دی
جبکہ مائرہ جو موبائل پر اب بھی مصروف تھی اسے دیکھ کر پریشان ہوی
کیا ہوا تمہیں ۔۔۔؟
شایان نے کوی جواب نا دیا اور گاڑی حویلی کے راستے پر ڈالی
پیںدہ منٹ کی فاسٹ ڑرائیونگ پر وہ حویلی پہنچا ۔۔۔ اور بنا مائرہ کو دیکھے وہ گاڑی سے نکلتا حویلی کے اندر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی جان وہ اس وقت فریال کے ساتھ ہاسپٹل میں ہیں ۔۔۔ اس نے بی جان کو بتایا
جس پر وہ کھڑی ہوئیں ۔۔۔۔۔۔۔ شایان ابھی اور اسی وقت نکاح خواہ کا انتظام کرو ۔۔۔
پر بی جان ہو سکتا ہے ۔۔۔ شایان نے کچھ کہنا چاہا پر بی جان کا سخت روپ دیکھ کر چپ ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہاسپٹل کے بیڈ پر پڑی تھی وہ حیران ہوی جب اسے ہوش آیا تو وہ خود کو ہسپتال کے کمرے میں دیکھ کر آگے پیچھے دیکھںےلگی
اسے یاد تھا کہ وہ تو اس کے سامنے چلا گیا تھا پھر اسے یہاں کون لایا
ابھی وہ سوچ میں پڑی تھی جب اسے سکندر روم میں آتا نظر آیا
چلو بس کمزوری تھی اسی وجہ سے بے ہوش ہو گئ تھی
اس کے سامنے آتے وہ بولا
کیا مجھے یہاں آپ لائے ہیں؟
نہیں میرے فرشتے ۔۔۔ اور کیا صرف زبان چلانی آتی ہے اپنا خیال نہیں رکھ سکتی تم ۔۔۔؟
سکندر کی بات پر وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی
جواسکی نظروں کو نظر انداز کرتا پھر سے بولا
اب چلو گی یا اٹھا کر لے جاؤں ؟ اس کی کہنے پر وہ جلدی سے اتری اور جوتے پہنے
اس کے کھڑے ہوتے ہی وہ لمبے لمبے ڈاگ بھرتا کمرے سے نکلا جس کی تقلید میں وہ بھی نکلی
پھر وہ لوگ گاڑی میں بیٹھے۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ بیٹھنے پر انکار کرنے والی تھی مگر اس کی گھوری پر خاموشی سے بیٹھ گی ویسے بھی ابھی نقاہت محسوس ہو رہی تھی اسی لیے بیٹھ گئ
کچھ دیر کی مصافت تہہ ہوی جب سکندر کا فون بجنے لگا وہ جو گاڑی کے باہر کا منظر شیشے سے پار دیکھ رہا تھا اس نے موبائل پر بی جان کی کال دیکھ کر کال اٹھای
اسلام وعلیکم! بی جان
وعلیکم السلام! بی جان نے جواب دیا
کیا تم اس وقت فریال کے ساتھ ہو؟ انہوں نے بنا کوی لگی لپٹی کے سوال کیا
اس سوال پر اس نے اپنے ساتھ بیٹھی فریال کو دیکھا جو دروازے سے چپک کر بیٹھی تھی
جی!
یک لفظی جواب
ابھی اور اسی وقت اس کے ساتھ حویلی پہنچو۔۔۔ بی جان نے حکم جاری کیا
پر ۔۔۔ اس نے کچھ کہنا چاہا جب کال کاٹ دی گئ تھی دوسری جانب سے
جس پر سکندر نے اپنے ساتھ بیٹھی فریال کو دیکھا
جس نے انجانے میں اسے دیکھا
مگر اسے اپنی طرف دیکھتے پا کر اس نے اپنی نظریں پھیر لیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا کروں ہاں ؟ کدھر جاؤں ؟ کیا اس گھر سے نکلنے کے بعد میری عزت محفوظ رہے گی ؟
وہ لڑکی شہریار کے سامنے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے بولی
خود کو محفوظ کرو۔۔۔۔ میرے ساتھ چلو۔۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں عزت اور تم دونوں محفوظ رہو گی
وہ باری باری اسکے اٹھاے سوالوں پر جواب دیتا بولا
ہاں ہاں لے جاؤ اسے اب ہم سے یہ بوجھ نہیں سنبھالا جاتا وہ عورت پھر سے بولی
ٹھیک ہے۔۔۔۔ شہریار نے پرسکون جواب دیا
جب کہ لڑکی نے حیرت سے اسے دیکھا
آپ پاگل واگل تو نہیں ہیں ؟
نہیں پریشان مت ہو میں بلکل نارمل انسان ہوں شہریار مسکرا کر بولا
ابھی وہ کچھ کہتی جب وہ بولا
یہاں سے چلو ۔۔۔۔
میں تمہیں اپنے گاؤں نور ُپر لے جاؤں گا وہاں تم اور تمہاری عزت محفوظ رہیں گی
جب کہ وہ لڑی نورپُر گاؤں کا نام سن کر خوش ہوی
کیا آپ سچ میں مجھے نورُپر لے جائیں گے وہ شہریار سے بولی
ہاں بلکل ۔۔۔۔ جب اچانک ان کو دروازہ بند ہونے کی آواز آی۔۔۔۔ وہ عورت دروازے کو بند کرتی اندر جا چکی تھی
گھر کا داخلی دروازے اور تھا اور مین دروازے وہ تھا جہاں سے شہریار اندر داخل ہوا تھا
ہاں بلکل ۔۔۔ شہریار کی بات پر وہ پریشان ہوی
پر میں نہیں جا سکتی ۔۔۔
لیکن کیوں ؟ اسے اچانک گاؤں کے نام پر خوش ہوتے دیکھ کر شہریار نے اسے دیکھا پر اب پریشان ہوتے دیکھ کر سوال کیا
کیونکہ ۔۔۔
کیونکہ کیا؟
میری ماں کی دوست وہاں رہتی ہیں مگر میں ان سے بچپن میں ملی تھی پھر امی کی وفات کے بعد ان سے نہیں ملی ناجانے وہ وہاں رہتی بھی ہوں گی یا نہیں
اچھا۔۔۔۔ وہ کون تھیں۔۔۔ ؟
سکینہ نام تھا ان کا۔۔۔۔ اس نے کہا
جب شہریارکو مقدس اور فریال کے حوالے سے سکینہ یاد آئیں
ہاں وہ وہیں رہتی ہیں ۔۔۔ان کی بیٹی مقدس ہے نا؟
ہاں وہی ہیں ۔۔۔ آپ مجھے وہاں لے چلیں گے پلیز ۔۔۔۔
وہ جلدی سے بولی
ہاں ٹھیک ہے چلو۔۔۔
وہ کہتا آگے بڑھا جب وہ بولی
پر آپ کون ہو ؟میں وہاں کے سردار کا بھای ہوں
نام کیا ہے؟ شہریار ابراہیم شاہ
اور اپکا؟ شہریار نے پوچھا ۔۔۔ میرا نام سائشہ ہے
اس نے کہا پھر بند دروازے کو دیکھا اور پھر آیت الکرسی پڑھتی قدم شہریارکے ساتھ باہر کو لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عشق ِگیِریاں
ازقلم رمی چودھری
5
وہ اس وقت بی جان کی عدالت میں مجرموں کی طرح سر جھکا کر کھڑا تھا
جب کہ یہ منظر فریال کے لیے کافی پر لطف ہوتا پر اس وقت وہ بھی اس کے ساتھ کھڑی تھی
کہاں تھے تم لوگ؟ بی جان کرسی پر بیٹھی تھیں ۔۔۔ جب کہ وہ دونوں سامنے کھڑے تھے
شایان بی جان کی کرسی کے پیچھے کھڑا تھا
ہاسپٹل! سکندر نے یہ لفظی جواب دیا
وہاں کیا کرنے گئے تھے؟ نیا سوال
۔۔۔۔۔
دراصل میں اپکو بتاتی ہوں کہ ہوا کیا تھا
فریال نے منہ کھولا جس پر سکندر نے اسے گھورا۔۔۔ وہ جانتا تھا وہ لڑکی ایک ایک بات بتاے گی پر اسکی گھوری کا سامنے کھڑی فریال پر کچھ اثر نا ہوا
دیکھیں بی جان ۔۔۔ یہ میرے گھرآے تھے انہوں نے مجھے دھمکیاں دیں اور اس بات پر میری طبعیت خراب ہو گئ اور یہ مجھے لےکر ہاسپٹل چلے گئے
اس نے شدید مسکین شکل بنا کر دھمکیوں کا لفظ استعمال کرتے سارا ملبہ سکندر پر ڈالا
جس کا حیرت سے منہ کھل گیا
نہیں بی جان ۔۔۔ میں تو جا چکا تھا لیکن جب میں آیا تو بے ہوش پڑی تھی اس نے بی جان کی قہر بھری نظروں پر اپنی صفای پیش کی
جب کہ اس کی صفائ پیش کرنے پر فریال ہلکا سا مسکرای
تم جب ایک دفع دھمکیاں دے کر جا چکے تھے تو پھر دوبارہ کیوں گئے تھے؟
بی جان آج سہی جلالی موڈ میں تھیں
جب کہ یہ سوال شایان کو بھی کھٹکا
ہاں بڈی ایک دفع جانے کے بعد کیا لینے گئے تھے
یہ چائے کی پتی لینے آئے تھے ۔۔ فریال نے سکندر کو دیکھتے ٹھنڈی جگت ماری
اب میرا فیصلہ تم دونوں سنو گے ۔۔۔ فریال بیٹا مجھے تمہارے بابا کا نمبر چاہیے ۔۔۔ اگر وہ یہاں ہوتے تو میں خود جا کر بات کرتی پر اب بہتر کے موبائل پر بات کر لی جاے
بی جان کی بات پر تینوں نے حیرانی سے دیکھا۔۔۔۔۔۔
کیا بات کرنی ہے آپ نے بابا سے ؟
فریال نے سوال کیا
تمہارے اور سکندر کے رشتے کے لیے
جس پر شایان ،سکندر اور فریال کا منہ کھلا رہ گیا
بلکل نہیں ۔۔۔۔! فریال اور سکندر یک زبان بولے
پھر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔۔۔ دیکھ کم گھور زیادہ رہے تھے
کیوں نہیں؟
بی جان نے آی برو آچکا کر کہا
دیکھیں بی جان یہ بلکل بھی ویسی نہیں ہے جیسی لڑکی سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں
سکندر نے آگے بڑھتے بی جان سے کہا
ہااااا۔۔۔۔۔ کتنے کوی جھوٹے ہیں آپ فریال نے سکندر سے کہا
جس پر وہ اسے گھور کر رہ گیا
بی جان انہوں نے مجھے پروپوز کیا تھا اور اب دیکھیں کہہ رہے میرے ٹائیپ کی نہیں ہے
فریال کا حیرت کی زیاتی سے منہ ہی کھل گیا تھا
جب کہ شایان نے آنکھیں پھاڑ کر سکندر کو دیکھا
جو شدت سے مٹھیاں بھینچ گیا اور بی جان بھی حیرت زدہ تھیں
پر بی جان شادی تو میں بھی ان سے نہیں کر سکتی ارے مجھے سڑے ہوے کریلے کی طرح مزاج والا انسان بلکل نہیں پسند اور ویسے بھی یہ جو ان کی کنجی آنکھیں ہیں ان سے یہ مجھے ایسے دیکھتے ہیں جیسے مجھے کچا کھا جائیں گے
فریال نے سکندر کےسامنے اس کے بارے میں خوبصورت الفاظ سے اس کی تعریف میں چار چاند لگا دیے
جس پر شایان کا قہقہ گونجا پر سکندر کی گھوری پر وہ ہنسی روک گیا
بی جان آپ کو یہ لڑکی کس اینگل سے میرے لیے پسند آئ تھی ؟ وہ اب بی جان سے سوالیہ ہوا
تم نے خود اسے پرپوز کیا ہے بی جان نے اپنی جان چھڑواتے کہا
دیکھیں بی جان وہ سب الگ معاملہ ہے پر میں اس لڑکی سے شادی نہیں کروں گا
اس نے فریال کو آگ برساتی نظروں کے زیر اثر رکھتے کہا
ہاں تو میں کونسا مرے جا رہی ہوں ارے آپ جیسے سو کنجی آنکھوں والے قربان ۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی بی جان میں ان کو بلکل پسند نہیں کرتی
فریال نے بھی اب کی بار بی جان سے کہا
جبکہ اس کی آخری بات پر سکندر نے پلٹ کر اسے دیکھا
تو پھر کس کو پسند کرتی ہو؟ اس کے سوال پر بی جان نے مسکراتی نظروں سے اپنے کھڑوس پوتے کو دیکھا جس کو احساس تک نہیں تھا کہ وہ جیلس ہو رہا ہے
جب کہ شایان نے بی جان کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور جھک کر بولا
معاملہ گرم ہے بوس کیا خیال ہے ۔۔ ایک ُپھل جھڑی چھوڑ دوں ؟
ارے نہیں چپ کرو تم ۔۔۔ بی جان نے اسکو جواب دیا
میں جس مرضی کو پسند کروں آپ کون ہوتے ہیں مجھ سے سوال کرنے والے ۔۔۔۔
فریال نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
جس پر سکندر کو اس لڑکی کی اکڑ پر غصہ آیا
بی جان آپ اس کے بابا سے بات کریں ۔۔۔ میں نکاح کروں گا اور اب میں صرف اور صرف اسی سے نکاح کروں گا
وہ اب اپنی ضد بنا چکا تھا اسے
اسکی بات پر شایان چونکا جب کہ فریال بھی حیرت سے اس سر ِپھرے انسان کو دیکھنے لگی
اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ کھڑا تھا جب فریال نے اسے پیچھے کو دھکا دیا
میں اس انسان سے نکاح نہیں کروں گی ۔۔۔ پھر چاہے مجھے سولی پر ہی کیوں نا چڑھا دیں
وہ جھٹکا کھا کر زرا سا پیچھے ہوا تھا پر اس کی بات سن کر حیرانی سے اسے دیکھنے لگا
نکاح تو تمہیں مجھ سے کرنا پڑے گا ورنہ۔۔۔۔۔
وہ شخص جو پہلے اس سے نکاح نا کرنے کا شور مچا رہا تھا اب سے نکاح کرنے کی ضد پر ڈٹ گیا تھا
ورنہ کیا؟ فریال نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے کہا
میں تمہیں یتیم نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ وہ ہولے سے بولا
جب کہ اسکی بات سمجھ کر فریال نے حیرت کی زیاتی سے اسے دیکھا
بی جان میں تیار ہوں ۔۔۔۔ وہ اسے کہتا پیچھے ہوا اور بی جان سے بولا
جب کہ فریال بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھ رہی تھی
بی جان بھی اب اس معاملے کو ختم کرنا چاہتی تھیں
جب کہ شایان بھی پریشانی سے سکندر کو دیکھنے لگا
جس کا چہرہ سخت تنا ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے لیے گاڑی کی طرف بڑھا جو گلی سے باہر کھڑی تھی وہ خالی ہاتھ بنا کچھ لیے اس کے پیچھے چل رہی تھی پھر رک گئ ۔۔۔
اب کیا ہوا؟ شہریار نے رکنے پر سوال کیا
میں آپ پر کیسے یقین کرلوں ۔۔؟
جب کہ اسکی بات پر شہریار اس کی معصومیت پر مسکرایا
اچھا تو کیا کروں میں کہ آپ کو مجھ پر یقین آجاے ؟
وہ مسکرا کر بولا
کک کچھ نہیں ۔۔۔۔ وہ اس۔ خوبصورت مرد کو دیکھتے نظریں جھکا گئ
پھر وہ لوگ گاڑی کے پاس پہنچے ۔۔۔ جب شہریار نے کہا
کیا میری زندگی کی بہار بننا پسند کرو گی ۔۔۔؟ مجھے اپنے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ کی مستقل وجہ بنانا چاہوں گی ؟
اس کی بات پر سائشہ کے چلتے قدم تھم گئے
اس نے حیرت سے اس کو دیکھا
آپ مجھے پروپوز کر رہے ہیں ؟
اس کی بات پر شہریار مسکرایا ۔۔۔۔
دیکھیں آپ کافی سمجھدار ہیں اور ویسے بھی آپ کو سکیورٹی کے لیے کسی وعدے قسم سے زیادہ نکاح محفوظ کر سکتا ہے
پر آپ میں اور مجھ میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔۔۔
اس نے اس کی خوبصورت شکل کو دیکھتے کہا ۔۔۔ جبکہ وہ خود سانولی لڑکی تھی
ہو گا فرق ۔۔۔۔ پر دیکھیں نا زمین اور آسمان کا ہونا بھی کتںا لازم و ملزم ہے
شہریار کی بات پر اس نے سر جھکا لیا
میں سانولی لڑکی ۔۔۔۔ جس کے کردار پر انگلی اٹھانے والے اس کے اپنے ہیں ۔۔۔ بھلا میرا آپ کا کیا جوڑ
میں ایک پینٹر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ ہر رنگ ایک الگ اہمیت رکھتا ہے
عشق گِیرِیاں
آنسہ چوہان ❤️
6
پر پتہ ہے جب ہم پینٹنگ کرتے ہیں نا تو دو بعض اوقات ہم دو رنگوں کو آپس میں مکس کرتے ہیں اور جب وہ رنگ ملتے ہیں نا تو ایک نیا منفرد اور نایاب رنگ بن کر ابھرتے ہیں
اس لیے رنگوں میں ہر رنگ کی الگ اہمیت ہوتی ہے۔۔۔۔اس لیے احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے
اس کی بات سن کر وہ مسکرای
کافی اچھی باتیں کرنا جانتے ہیں آپ ۔۔۔ پر دیکھیں نا جب کالا رنگ سفید رنگ سے ملتا ہے تو سفید رنگ اپنا آپ کھو دیتا ہے
سائشہ کی بات پر شہریار نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
میں آپ میں خود کو کھو دوں تو مجھے کوی ملال نہیں
ہممم کہنے کی باتیں ہیں ورنہ اجکل امیر غریب اور گورے کالے کا بڑا امتیاز ہے
سائشہ نے نظریں جھکا کر کہا
شہریار نے بھی نظریں جھکا لیں ۔۔۔۔
وہ سب جاہلوں کے کام ہیں ۔۔۔ اور جاہل وہ ہیں جو زندگی کی خوبصورتی کو محض آنکھوں کو خیراں کر دینے والی چیزوں میں تلاشتے ہیں
وہ کہتے ہی گاڑی کا دروازہ کھولتا اسے بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا
جس پر وہ گاڑی کے دروازے کو دیکھنے لگی پھر اسے دیکھا
مسجد پاس میں ہے ۔۔۔ کیا وہاں نکاح کریں گے؟
اسکی بات پر شہریار مسکرایا اور سر اثبات میں ہلا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ اس وقت مسجد کے اندر داخل ہوے ۔۔۔ وہاں پر بیٹھے مولوی صاحب نے اس مرد کے ساتھ سائشہ کو دیکھا
پھر شہریار کی ساری بات سنی
تم بہت خوش نصیب ہو کہ تمہیں محفوظ ہاتھوں نے تھام لیا ہے بیٹا
۔۔ یہاں تمہاری روز کی ہوتی زلت پر مجھے ترس آتا تھا پر میں بنا کسی رشتے کے تمہاری حمایت کرکے ایک اور داغ تمہارے کردار پر نہیں لگوانا چاہتا تھا
مولوی صاحب عمر میں کافی بڑے تھے انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے کہا
جس پر سائشہ نے اپنے ساتھ خوبرو نوجوان کو دیکھا جس کے چہرے پر ہلکی دھیمی سی مسکراہٹ تھی
آپ نکاح کا انتظام کریں مجھے ایک کال کرنی ہے شہریار ان سے کہتا سائشہ کو ایک طرف بیٹھنے کا اشارہ کرتا بولا
پھر اس نے سکندر کے نمبر پر کال کی ۔۔۔
جو کہ اس وقت بی جان کے سامنے ہی کھڑا تھا ۔۔۔ شہریار کی کال دیکھ کر رسیو کی ۔۔۔۔
اسلام وعلیکم!
اس نے سلام کیا ۔۔۔ جب کہ سلام کے جواب کے بعد ملنے والی اطلاع پر وہ حیران ہوا۔۔۔۔
تم پاگل ہو گئے ہو کسی سے بھی نکاح کر لو گے؟
بنا اسے جانے ؟
وہ حیران سا بولا جب کہ شایان اور بی جان نے حیرانی سے اسے کسی سے بات کرتے دیکھا
اچھا ٹھیک ہے میں پہنچتا ہوں ۔۔۔
اس نے کہتے کال کاٹی ۔۔۔
کیا ہوا بیٹا ؟ بی جان کھڑے ہوتے بولیں
بی جان شہریار نکاح کر رہا ہے نا جانے کون ہے وہ لڑکی کیسی ہے اس کا خاندان کچھ بھی نہیں پتہ اسے
بس اب وہ وہاں مسجد میں بیٹھا مجھے آنے کے لیے کہہ رہا ہے
جب فریال نے اسکی بات سنی
ہاں آپ لڑکی کا حسب نسب دیکھ کر تڑیان لگا رہے ہیں نا
اس نےاپنی بات کہ تھی جس پر وہ اسے دیکھنے لگا ۔۔۔ اس وقت میں جلدی میں ہوں
وہ کہتا جانے لگاپھر شایان کو دیکھا
تم نہیں چلو گے ؟
یار میں تو حیران ہوں یہ آپ سب کو ہو کیا گیا ہے
پہلے آپ نے نکاح کے لیے ہاں کردی اور اب بھای وہ بھی وہاں نکاح کر رہے ہیں
شایان نے حیرت سے دیکھتے کہا
اچھا بچے وہ کوی چھوٹا بچہ نہیں ہے وہ اپنا اچھا برا جانتا ہے اور ویسے بھی اس کی ماں یا باپ کو اس سے جڑے کسی بھی مسلے میں بات کرنے کا وقت ہی کب ملنا ہے ان کی اپنی لڑائیاں ختم نہیں ہوتیں
بی جان کی بات پر سکندر سر ہلاتا باہر کی طرف بڑھا پھر شایان بھی پیچھے پیچھے بھاگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
40 منٹ کی فاسٹ ڑرائیونگ کے بعد وہ لوگ شہر کی اس مسجد میں پہنچیں جو کسی چھوٹے سے علاقے میں بنی تھی
وہ لوگ جوتے باہر اتارتے اندر داخل ہوے سامنے شہریار کھڑا تھا
اس کو دیکھ کر سکندر نے کوی سوال نہیں کیا
کیونکہ کہیں نا کہیں بی جان کی بات درست تھی وہ اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار رکھتا تھا
شہریار نے سکندر اور شایان کو آتے دیکھ کر مولوی کو گواہان میں ان دونوں کا نام بتایا
پھر مسجد میں کچھ لوگ گواہ کے طور پر بلاے گئے اور نکاح شروع ہوا
سائشہ بنت عبداللہ آپ کا نکاح شہریار ولد ابراہیم شاہ کے ساتھ سکہ رائج الوقت بمہ پانچ لاکھ حق مہر کے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟
وہ جو ڑری سہمی تھی کہ نا جانے کیا ہونے والا ہے ۔۔۔ پھر شہریار کے بتانے پر کہ اس کے دونوں بھای اچکے ہیں تو اسے تسلی ہوی کہ وہ شخص واقع ہی اسے سب کے سامنے قبول کر رہا ہے
جس پر وہ اب کچھ حد تک ریلیکس تھی
جی قبول ہے ۔۔۔ اس کے تین بار قبول کہنے کے بعد قبول و عجائب کا سلسلہ شہریار سے کہا گیا جس پر اس نے بھی قبول کہہ کر سائشہ کو اپنے نکاح میں قبول کر لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شایان نے سائشہ کو دیکھا جو سانولی رنگت کی مگر پرکشش لڑکی تھی
اسے دیکھ کر آج پھر اپنے بھائی پر فخر محسوس ہوا جو رنگوں میں جیتا تھا ۔۔۔ جس کی دن اور رات رنگوں میں گزرتی تھی اس نے اپنی زندگی میں اس سانولی سی لڑکی کو قبول کیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڑرائیور کے ساتھ اپنی پھپھو کے گھر واپس آگئ تھی اس وقت وہ اندر بیڈ پر لیٹی تھی جب مقدس اس کے پاس آی
تم نے تو جان ہی نکال دی تھی میری وہ اس کے پاس سوپ کا پیالہ لاتے بولی پھر بیڈ پر اس کے ساتھ بیٹھی
جان تو اب نکلے گی جب میں تمہیں ایک بات بتاؤں گی ۔۔۔ اس کی بات پر مقدس نے اسے سوالیہ دیکھا
اس سردار کے بچے نے مجھے شادی کے لیے کہا ہے
فریال نے دانت پیس کر کہا جب کہ مقدس کا قہقہ گونجا
یار تمہیں وہم ہوا ہے بس تم سوپ پیو اور آرام کرو وہ ہنسی روکتے بولی
یار مقدس تمہیں سچ میں مزاق لگ رہا ہے وہ اٹھ کر سیدھی بیٹھتی بولی تو اس بات کو سیریس لے گا کون؟
ہمارے گاؤں کے سردار نے تم سے شادی کا کہا ہے۔۔۔ وہ کہتے پھر ہسنے لگی
موٹی ۔۔۔ فریال نے منہ بنایا جب مقدس موٹی لفظ سن کر سیریس ہوی
اچھا اب تم ساری بات ڈیٹیل سے بتاؤ کہ آخر ہوا کیا
مقدس نے کہا جس پر فریال سارا معاملہ اس کے گوش گزار کرنے لگی
جب کہ بات سنتے سنتے مقدس واقعی کافی حد تک سنجیدہ ہو گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر کے نمبر پر کال آی ۔۔ جب کہ وہ لوگ واپسی کے لیے نکل چکے تھے
وہ اور شایان ایک گاڑی میں تھے جب کہ شہریار اور سائشہ ایک ساتھ تھے
اس نے کال اٹھای ۔۔۔
جب دوسری طرف سے آواز آی
سردار سائیں اب اس لڑکے کا کیا کرنا ہے اس وقت تو ہم نے اسے بے ہوش کردیا تھا پر اب یہ ہوش میں آچکا ہے اور کافی شور کر رہا ہے
پیچھے اس آدمی کے کسی کی گھوں گھوں کی آواز آ رہی تھی یعنی اس کے منہ پر پٹی باندھی گئ تھی جس کی وجہ سے وہ بولنے کی کوشش کر رہا تھا پر منہ پر پٹی کی وجہ سے بول نہیں پا رہا تھا
زیادہ کچھ نہیں پر اس کے دائیں ہاتھ پر اتنی چھڑیاں لگاؤ کہ اس سے خون نکل پڑے
اس نے اتنا کہہ کرکال کاٹ دی
اب یہ ظلم کس پر کر رہے ہیں آپ ؟
ساتھ بیٹھا شایان اس کی بات سن کر بولا
کچھ نہیں بس ایک انسان ہے جس نے انجانے میں ہی سہی مگر میری چیز پر ہاتھ رکھا ہے
وہ اس لمحے کو یاد کرتا دانت پیس کر بولا جب اس نے برہان کا دائیاں ہاتھ فریال کی کمر پر لپٹا دیکھا تھا
اچھا ۔۔۔۔ خیر مجھے اب آپ کچھ بتائیں گے کہ آخر آپ فریال سے نکاح کے لیے کیسے مان گئے؟
شایان نے اسکے چہرے کی جانب دیکھتے کہا
جب سکندر نے اسکی طرف دیکھا
محبت ہو گئ ہے اس سے ۔۔۔۔
اس کی بات پر شایان نے یقین نا آنے والی نظروں سے دیکھا
ناممکن!
شایان نے کہا
جس پر سکندر نے آی برو اچکای
؟؟؟
بڈی میں اپکو جانتا ہوں آپ کو محبت نہیں بس ضد ہوی ہے کہ اس لڑکی نے آپ کے لیے انکار آپ کے منہ پر کردیا ہے وہ بھی اس کا بھائ تھا اس کے بارے میں جانتا تھا
ہاں مگر پھر بھی میں اسے کسی اور کے لیے نہیں چھوڑنا چاہتا
اور ویسے بھی دشمن اگر آپ کے سامنے ہو تو لڑائ لڑنے میں مزہ آتا ہے
اس نے اسکی بات پر اتفاق کرتے کہا
دشمن؟ آر یو سیریس بڈی ؟ آپ تو دشمن بھی برابری دیکھ کر بناتے ہو
شایان کی بات پر اسے فریال کا سراپہ نظر آیا
ہاں تو انسان کو اسکی زبان اور کردار سے جانچا جاتا ہے نا کہ بیک گراؤنڈ سے
اسی لحاظ سے وہ میری ٹکر کی ہے ۔۔۔ اور وہ ٹوٹنے والی چیز نہیں ہے
اس نے شایان کو جواب دیا
اور آپ اسکو توڑنا چاہتے ہیں کیونکہ آپ کو نا ٹوٹنے والی چیز توڑنے میں مزہ آتا ہے
شایان نے پہلی دفع اسے دکھ سے دیکھتے کہا
ہاں!
اس نے جواب دیتے گاڑی کے باہر نظر آتے منظر پر نظریں جما لیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ISQ geeriyaan
07
سائشہ!
اس نے اسکو پکارتے پانی کی بوتل اس کے سامنے کی جو مسلسل رو رہی تھی
اس نے اپنے آگے بڑھے ہوے ہاتھ میں پانی کی بوتل دیکھ کر اس شخص کو دیکھا جس کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ تھی
اس نے پانی کی بوتل پکڑی اور پانی پیا
پھر اسے واپس شہریار کو تھما دیا
کچھ دیر بعد سائشہ جو رونا بند کر چکی تھی تو اس نے اپنے ساتھ بیٹھے شہریار کو دیکھا
اس کے لمبے بڑھے ہوے بال اس پر کافی ججچتے تھے
ٹی شرٹ سے اسکی کسرتی بازو نظر آرہے تھے
شہریار نے اسکی نظروں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کرکے اس کی طرف دیکھا
تو پھر ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر آی
آپ اتنا مسکراتے کیوں ہیں؟
عائشہ اسکی دھیمی مسکراہٹ کو اسکے چہرے پر سجی کافی خوبصورت لگ رہی تھی دیکھ کر بولی
انہہہ ۔۔۔ پہلے نہیں مسکراتا تھا اب مسکراتا ہوں
اس نے اسے دیکھتے کہا
اب کیوں ؟ وہ لوگ گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے اور دھیمی آواز میں بات کر رہے تھے
اب اس لیے کیونکہ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کردیا
اور بے شک میرا رب اپنے وعدے کا پکا ہے
اسکی بات پر سائشہ نے حیرانی سے اسے دیکھا
بے شک ایسا ہی ہے پر آپ کی بات کا مطلب ؟
وہ اس کی بات پر سر اثبات میں ہلاتی بولی
شہریارنے سیٹ سے ٹیک لگائی
جب انسان تکلیف میں ہوتا ہے اور اپنے رب سے فریاد کرتا ہے کہ اللہ اسے کسی ایسے شخص کا ساتھ دے جو اسے سنبھال سکے اسکو سمجھ سکے
تو اللہ وعدہ کرتا ہے کہ انقریب تم تک تمہاری من پسند چیز پہنچا دی جاے گی اور تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا
آپ بلکل ویسی ہیں جیسی لائیف پاٹنر میں اپنے لیے سوچتا تھا
دھیمہ لہجہ سکون بھری باتیں کرنے والی
اس کی بات سن کر سائشہ کی آنکھوں میں آنسو آگے
اس طرح تو مجھے شکر گزار ہونا چاہیے اپنے رب کا جو کہتا ہے
کہ بے شک ہر مشکل کے بعد آساںی ہے
میں نے اتنی مشکلیں دیکھیں اور اب آپ کی شکل میں مجھے اجر مل گیا
سائشہ کی بات پر وہ مسکرایا
ہاں تو کر لیجیے گا شکر اپنے رب کا
سائشہ اسکی مسکراہٹ پر مسکرای
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا سچ میں سردارنی جی نے یہ بات کی ؟مقدس کی بے یقینی سی آواز پر فریال نے سر نے سر اثبات میں ہلایا
ہاں تو سچ میں ۔۔۔
اس کا مطلب سردار سائیں ہمارے گھر کے داماد بن جائیں گے
وہ خوش ہوتی بولی
بکو مت ۔۔۔۔ فریال نے اس کی موٹی بازو پر تھپڑ مارتے کہا
ارے اتنے ہینڈصم ہیں کوی بھی لڑکی خوشی خوشی ان کی دوسری بیوی بننے کو تیار ہو جاے
مقدس مسکراتے بولی
منہ نا توڑ دوں میں
فریال نے جلدی سے کہا پر پھر خود کی زبان دانتوں تلے دبا گئ
مم میرا مطلب ہے کہ آ جایں پھر دوسری تیسری کرنے والی میں تو بلکل نہیں کر رہی ان سے شادی اور اوپر سے اس شخص نے مجھے دھمکی دی ہے بابا کی دھمکی
اب تو میں اس شخص کا قتل بھی کر دوں تو کوی ملال نہیں
فریال نے جلدی سے بات سنبھالی پر آخر میں دانت ایسے رگڑے جیسے دانتوں کے نیچے سکندر کی گردن ہو
جب کہ مقدس اس کو دیکھ کر مسکرای
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائشہ میں اپکو ابھی آپ کی آنٹی کے گھر لے جاتا ہوں
آپ حویلی کی بہو ہیں میں آپ کو یوں چھپ کر لے جا کر آپ پر کسی بھی قسم کی انگلی نہیں اٹھنے دوں گا اس لیے میں دھوم دھام سے آپ کو لینے آوں گا ساری دنیا کے سامنے ۔۔۔۔
اس نے سائشہ کو دیکھتے کہا جس پر وہ مسکرای
ٹھیک ہے پر آپ مجھ سے ملنے آئیں گے نا؟
وہ اسے دیکھتے بولی
آپ چاہیں گی تو ضرور آووں گا
وہ اسے دیکھتے بولا
یعنی آپ خود نہیں چاہیں گے ؟ وہ اس سے نا جانے کیا سننا چاہ رہی تھی
میں دن میں آؤں گا تو کوی دیکھ لے گا
اور رات میں آؤں گا تو آپ کے کردار پر انگلی اٹھے گی اس لیے میں چاہوں گا تو بھی نہیں اووں گا
ہاں مگر آپ کہیں گی تو آ جاؤں گا
اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا
جس پر وہ مسکرای ٹھیک ہے ۔۔۔
کچھ دیر میں وہ اسے لے کر سکینہ کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا
آپ چلے جائیں ۔۔۔۔ ورنہ کوی اپکو میرے ساتھ دیکھ لے گا
اس نے اپنی چادر ٹھیک کرتے کہا
آپ میری زمہ داری ہیں اور زمہ داریوں کو پورا کیا جاتا ہے دنیا والوں کے ڑر سے بھاگتے نہیں ہیں
اس کے کہنے پر سائشہ اس شخص کو بس دیکھ کر رہ گئ
پھر دروازہ کھولے سامنے مقدس کھڑی تھی
جی آپ کون ؟ اس نے لڑکی کو دیکھا
پیچھے شہریار کو دیکھا تو حیران ہوی
آپ اندر آئیں پلیز ۔۔ وہ ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر بولی
پھر اندر لے کر آی ۔۔۔ کیا سکینہ آنٹی گھر پر ہیں؟ سائشہ نے کہا جس پر مقدس نے اسکے چہرے کو پہچاننا چاہا پر پھر ان کو بیٹھا کر اندرسے سکینہ کو بلوانے گئ
سکینہ کی نظر جیسے ہی سائشہ پر پڑی تو وہ مسکرائیں
ارے سائشہ بیٹا تم ۔۔۔۔۔ وہ کہتے جلدی سے اس تک پہنچیں اور اس کو گلے لگایا
تھوڑی دیر تو وہ اس کا رونا دھونا دیکھتا رہا اب مزید دیکھا نہیں گیا تو سکینہ سے پانی لانے کا کہا
جس پر وہ پانی لینے گئ تو شہریار نے اس کا رخ اپنی طرف کیا اور اس کے آنسو اپنے انگوٹھے کے پوروں سے صاف کیے
بس! اتنا کیوں رو رہی ہیں آپ ؟
سائشہ نے اس کے پوچھنے پر سر نفی میں ہلایا
اگر آپ ایسے روتی رہیں گی تو میں اپکو اپنے ساتھ ہی لے کر جاؤں گا
اس کی بات پر اس نے اسکے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے
بس دل بھر آیا تھا تو رو پڑی ۔۔۔ اب نہیں روتی
ہممم گڈ ۔۔۔ پھر سکینہ آی تو وہ لوگ سیدھے ہو کر بیٹھے تھے
سکینہ آنٹی میں نے اس سے نکاح کر لیا ہے ۔۔۔
شہریار کی بات سن کر چائے لاتی مقدس نے حیرانگی سے ان دونوں کو دیکھا
جب کہ سکینہ بھی حیران ہویں
پر بیٹا آپ کا اور ہمارا کوی جوڑ نہیں تھا
جوڑے تو اللہ بناتا ہے نا ۔۔۔ اور یہ میری بیوی ہیں آپ کے پاس امانت میری امانت کا خیال آپ کو رکھنا ہے
اس نے سائشہ کو دیکھتے سکینہ سے کہا
واہ ماشاءاللہ ۔۔۔۔ کتنی لکی ہیں آپ اتنا پیارا لڑکا ملا آپ کو ۔۔۔۔
مقدس چائے رکھتی بولی جس پر شہریار بھی مسکرایا
پھر چائے پینے کے بعد وہ آخری دفع اسے روںے سے منع کرتا وہاں سے حویلی کی طرف چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا وہ تم ہو جس سے شہریار نے نکاح کیا ہے ۔۔۔۔
آپ کیسے جانتی ہیں ؟
فریال نے کہا جس پر سائشہ نے اس سے سوال کیا
جب کہ اندر آتی مقدس مسکرای
یار یہ اپکی ہونے والی جیٹھانی جی ہیں
اس نے مسکرا کر کہا تھا جس پر عائشہ نے حیرانی اور خوشی سے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھا
کیا واقعی؟
ہاں ۔۔۔۔مقدس اس کے ساتھ بیٹھتی بولی
جب فریال نے جوتا اٹھا کر مقدس کی طرف پھینکا
بکواس کر رہی ہے ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔فریال نے سائشہ سے کہا
لو بھلا یار آپ بتائیں ۔۔۔ جب لڑکا اور اسکی دادی رشتے کے بارے میں لڑکی سے خود کہہ چکے ہیں اور ایک دو دن تک رشتہ لانے والے ہیں تو یہ آپ کی ہونے والی جیٹھانی تو ہوی نا
مقدس نے جوتا جو اسے بازو پر لگا تھا اس کو مسلتے سائشہ سے کہا
جس پر سائشہ کو گول مٹول سی کیوٹ سی لڑکی بہت پسند آئ تھی
ہمم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اس کے گول مٹول گالوں پر ہاتھ رکھا جو بلکل روح جیسے معلوم ہوتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار جیسے ہی حویلی آیا بی جان نے اس سے لڑکی کا پوچھا جس پر اس نے ساری بات بتائی اور یہ بھی بتایا کہ وہ اس وقت اپنی آنٹی کے گھر پر ہے
اچھا یہ تو نیک کام کیا تم نے بیٹا۔۔۔ بی جان کو اپنے پوتے پر فخر ہوا
شایان اپنے کمرے سے نکلا جب اسے مائرہ اپنی طرف آتی نظر آئ ۔۔۔
یہ تم مجھے چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے ؟
سوری یار ایک ایمرجنسی تھی کل پکا لے چلوؤں گا اس نے معزرت کی کیونکہ وہ سارا دن میں اس کو بلکل بھول ہی گیا تھا
اچھا چلو ٹھیک ہے میں نے آج رات تمہارے لیے سرپرائز پلین کیا ہے آج رات برتھ ڈے ہے تمہاری
اس نے محبت سے کہا۔۔۔ اووو تھینک یو۔۔۔ ماں سائیں۔ اور بابا سائیں آئیں گے؟
ہاں بس آتے ہی ہوں گے ۔۔۔ مائرہ کے جواب پر وہ مسکرایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارا دن کی مصروفیت کی وجہ سے وہ شایان کی برتھ ڈے تو بھول ہی گیا تھا رات اسکی برتھ ڈے تھی اور ابھی تک کوی تیاری نہیں کی تھی جس پر وہ اب کسی کو کال کرکے آنے کا کہہ رہا تھا
جب شہریار اس کے پاس آیا ۔۔۔۔۔
یہ میں کیا سن رہا ہوں ؟شہریار نے سکندر کو دیکھتے کہا
تمہارے کان ہیں تمہیں پتہ ہو گا کہ کیا سن رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔سکندر نے الٹا جواب۔ دیا
اس کے جواب پر شہریار مسکرایا
ہونے والی بھابھی کا اتنا اثر ہونے لگا ہے محترم پر ۔۔۔۔
وہ فریال جیسے جواب دینے پر اس سے بولا
یعنی بی جان نے بتا دیا تمہیں ۔۔۔؟ اس نے اسکی طرف رخ کرتے کہا
ہاں ۔۔۔ شہریار نے اسے دیکھتے کہا حیرانگی نہیں ہوی تمہیں ۔۔۔۔؟ نہیں ۔۔۔۔ اس نے سکندر کی بات کا جواب دیا ۔۔۔۔کیوں؟ سکندر سوالیہ ہوا
کیونکہ میں جانتا تھا یہی ہونا ہے ۔۔۔ اس نے سکون سے جواب دیا
مطلب ؟ سکندر نے آئ برو اچکای
تم جیسے مجھے جانتے ہو اسی طرح میں تمہیں جانتا ہوں ۔
۔۔ اس نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا
اچھا ایسا کیا۔۔۔
سکندر نے فخریہ آئ برو اچکای
ہاں میں جانتا ہوں ۔۔۔۔۔فریال تمہیں اسی دن پسند آگئ تھی جس دن تمہیں وہ امرود توڑتی ملی تھی
اسکے بعد بی جان کی بات پر تمہیں اس لڑکی کا سراپہ نظر آیا تھا
پھر ان کی ناراضگی پر تمہیں اس لڑکی میں کمی بیشیاں نظر نہیں آئ تھی بلکہ
تم اپنی اس بات سے پلٹنا نہیں چاہتے تھے کہ آج تک کوی تمہارے دل کو نہیں لگی
اپنی ایگو میں تم اسے خود سے دور کرنا چاہتے تھے اور تم نے اس دن میلے پر جو کچھ اس سے کہا وہ بھی محظ اس لیے کیونکہ تمہیں وہ دل و دماغ پر سوار ہوتی محسوس ہوی تھی
اس کے بعد اس کے ساتھ ہونے والی ساری ملاقاتوں پر تجھے غصہ نہیں آتا تھا ورنہ آج تم اس کے گھر خود کبھی نہیں جاتے
تم نے اسے روز کے بعد دیکھا نہیں تھا اس لیے تم وہاں گئے تھے اور
اس سے بات کرنے کا بہانہ یہ جھوٹی لڑائ ہے جو کہ کبھی تم کسی عورت سے لڑائ نہیں کرتے محظ اس لیے کہ وہ تم سے تمہاری الٹی باتوں کے جواب میں تمہاری آنکھوں میں دیکھتی ہے
تمہاری اس سے کوی دشمنی نہیں ہے بس تم اسے تنگ کرکے انجوائے کرتے ہو ۔۔۔۔۔
شہریار نے اپنے سارے اندازے اس کے سامنے پیش کیے
جس پر اس نے دو پل اسے دیکھا
تم واقعی میرے بھائ ہو ۔۔۔ میرا کھڑے کھڑے ایم آی آر ہی کر لیا
وہ مسکرا کر بولا
جب دو بھائ دوست ہوتے ہیں نا تو وہ ایک دوسرے کی نظروں میں دیکھتے عکس کو بھی پہچان لیتے ہیں
شہریار نے مسکرا کر کہا
ہاں ایسا ہی ہے ۔۔۔۔ پر وہ مجھے پسند نہیں کرتی اور ہر بار میری زات کی نفی کرتی ہے اس لیے مجھے اسے دھمکیاں دینی پڑتی ہیں
اس بار بھی کام دھمکی سے چلایا ہے وہ کہتے شہریار کے کندھے پر ہاتھ پھیلاے اسے دیکھنے لگا
تم محبت کا اظہار کیوں نہیں کرتے؟
وہ آفت کی پرکالہ سنتی کب ہے ۔۔۔ جب بولنا شروع کرتی ہے تو نان سٹاپ بولتی جاتی ہے
سکندر مسکرا کر بولا
اففف کمینے کتںے روپ ہیں تمہارے وہ ہنستے ہوے بولا
ویسے تمہیں وہ اچھی کب لگی تھی؟
اچھی تو وہ پہلے دن سے لگی تھی پر پھر ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں آج کا منظر گزرا جب اس نے آنکھیں زور سے میچ کرکے دانت لبوں پر جماے تھے
پھر کیا؟
شہریار نے اسے کسی سوچ میں ڈوبے دیکھ کر پوچھا
پھر مجھے اس سے محبت محسوس کوی تھی جب اس نے بی جان سے معافی نہیں منگوای
وہ مسکرا کر بولا
سب تمہیں کٹھور دل سمجھتے ہیں اور تم ایک لڑکی پر بری طرح دل ہار چکے ہو لیکن اظہار کا ایک لفظ تک نہیں کہا
شہریار نے کہا
کروں گا اظہارِ محبت مگر زرا الگ طریقے سے
وہ سامنے حویلی کے داخلی دروازے کو دیکھتے بولا
جہاں سے کچھ لوگ سامان اٹھا کر لا رہے تھے
چلو میں شایان کی برتھ ڈے کا انتظام کر لوں ۔۔۔۔۔
ہمممم چلو میں بھی مدد کرتا ہوں شہریار بھی اس کے ساتھ بڑھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اس وقت وہ لوگ نماز پڑھ کر فارغ ہوی تھیں اور بیٹھی باتیں کر رہی تھیں
جب فریال نے سائشہ کو دیکھا
کیا میں تم سے ایک سوال کروں؟
اس کی بات پر سائشہ نے ہلکا سا سر ہلایا
جب تم اتنی پریشان تھی اپنی اس چچی سے تو پھر تم نے خود کے لیے قدم کیوں نہیں اٹھایا؟
ہمت ہی نہیں ہوی کبھی ۔۔۔ پتہ ہے جب کبھی سوچا بھی تو اندھیرے میں جگنو بھی چمکتا نظر نہیں آیا
سائشہ نے جواب دیا
پھر تم نے شہریار سے کیسے نکاح کر لیا ۔۔۔ ڑر نہیں لگا کہ وہ شخص کیسا ہو گا؟
فریال نے اس معصوم سی لڑکی سے پوچھا
*✍︎…”جب تمہیں کوئی راستہ دکھائی نہ دے، تو اللّٰه پر توکل کرو، وہ تمہیں صحیح راستہ دکھائے گا۔”
اس نے اسے دیکھتے کہا تو وہ مسکرای
جب انہوں نے مجھے تھامنے کا کہا تھا نا فریال تو مجھے لگا کہ شاید وہ مجھے دنیا کے سامنے نا تھامے
مگر پھر مجھے بہت خوشی ہوی جب وہ مجھے سب کے سامنے قبول کر چکے ہیں
اور مجھے یقین ہے وہ مجھے عزت سے اپنے گھر رخصت کر کے لے جائیں گے
اس نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ
کہا
انشاءاللہ۔۔۔ ضرور ایک دن وہ تمہیں تھامے گا
تم بہت خوش قسمت ہو سائشہ کے تمہاری زندگی میں شہریار جیسا شخص آیا ہے جس نے تمہیں اس قدر محبت سے تھام لیا ہے
ہاں مجھے لگا تھا شاید وہ مجھ پر ترس کھا رہے ہیں پر نہیں وہ الگ ہیں سب سے الگ
سائشہ کہتے دھیمہ سا مسکرائ
جب کے فریال نے رشک سے اس سانولی لڑکی کو دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت اپنے کمرے میں لیٹا موبائل پر سکرالنگ کر رہا تھا جب وہ دونوں اس کے کمرے میں آئے ۔۔۔
اسے لیٹ سونے کی عادت تھی اس لیے وہ جاگ رہا تھا پر ان کو اپنے کمرے میں دیکھ کر اٹھ بیٹھا
کیا ہوا بھای بڈی آپ دونوں یہاں ؟
شایان بیڈ پہ سیدھا ہو کر بیٹھتا بولا
شہریار اور سکندر نے اسے دیکھا
ہاں یہ تم کیا کرتے پھر رہے ہو؟
شہریار نے سخت لہجے میں کہا
کیا مطلب؟ شایان نے پریشانی سے کہا
مطلب آج تم دن میں کس سے ملے تھے ۔۔۔۔؟
سکندر نے بھی سوال کیا
جس پر شایان کی آنکھوں میں مقدس کا عکس نظروں میں لہرایا
بڈی کسی سے نہیں ۔۔ وہ پریشانی سے بولا
جھوٹ بول رہے ہو کچھ چھپا رہے ہو ؟۔۔۔ شہریار نے اس کے بیڈ کی طرف قدم لیتے کہا
بس آج میں تو مقدس سے ملا تھا وہ اس نے ہی فریال کے گم ہونے کی خبر دی تھی
اس نے جلدی سی کہا گویا اس بات پر ان دونوں سے جوتے نا پڑ جائیں
جس پر شہریار مسکرایا۔۔۔
گدھے ہم تو ایسے ہی بول رہے تھے تم تو سچ میں کچھ چھپا رہے ہو ہم سے ۔۔ وہ اس کے ساتھ بیٹھتا بولا
نہیں بھائی کیا چھپانا اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھرتے کہا
ہممممم۔۔۔ اچھا چلو باہر ۔۔۔۔
کیوں خیریت ہے ؟ شایان نے شہریار کو دیکھتے کہا
ہاں باہر ایک گدھا راستہ بھٹک گیا ہے مجھ سے کہنے لگا میری بلادری کا کوی ہے تو اسے بولا دو زرا پرسنل بات کرنی ہے
شہریار نے کہا جس پر سکندر مسکرایا
اور پھر ہم تمہیں لینے آگئے ۔۔۔ اب تم ہی اس کی آخری امید ہو ۔۔۔۔
سکندر بھی نوٹنکی کرتے بولا
حد ہے بھئ کبھی میری عزت بھی کر لیا کریں اب کیا میری شادی کے بعد بھی آپ لوگ اس طرح بات کیا کریں گے؟
وہ اٹھتے ہوے بولا
ہاں تمہاری کزن ۔۔۔ مائرہ کے سامنے بھی ۔۔۔ جو کہ تمہاری ہونے والی۔۔۔ ابھی مزید شہریار اپنی بات پوری کرتا شایان اس پر گر ا۔۔اور پھر اس کو گدگدی کرنے لگا
کتنی دفع کہا ہے وہ بس میری کزن ہے ۔۔۔ توبہ میری بیوی نہیں بنے گی
وہ اس کو گدگدی کرتے بولا
اہہہ ۔۔کمیںے چھوڑ ۔۔۔ شہریار کا گدگدی پر ہنس ہنس کے برا حال ہو گیا
اوکے بوائز ۔۔۔۔ چلو باہر ۔۔۔۔اب سکندر ان کو کہتا خود بھی باہر نکلا
پھر شہریار اور شایان بھی اس کے ساتھ باہر چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نیچے آیا جہاں مائرہ لال رنگ کی ساڑھی پہنے کھڑی تھی ۔۔۔ مکمل نیک اپ اور کھلے بال وہ بہت حسین لگ رہی تھی
مگر چلتی پھرتی دعوت نامہ بھی ۔۔۔ بی جان جو ابھی کمرے سے نکلیں تھیں اسے دیکھ کر انہوں نے نفی میں سر ہلایا پھر اسے اپنے پاس بلایا
جی دادی ۔۔۔۔ وہ ان کے پاس آئ ۔۔۔تو انہوں نے ساتھ بیٹھنے کا کہا
وہ ان کے ساتھ بیٹھی سوالیہ ہوی
بیٹا میں جانتی ہوں یہ تمہاری اپنی زندگی ہے اور تم اپنے اختیار خود رکھتی ہو
مگر بڑی ہونے کے ناطے میں تمہیں سنبھل جانے کا کہوں گی بیٹا
دیکھو ۔۔۔ تم جو اتنی حسین ہو تو خود کو مزید خوبصورت کیوں نہیں بناتی ؟
ان کی بات پر اسے لگا شاید وہ پیاری نہیں لگ رہی
کیا میں خوبصورت نہیں لگ رہی ؟
ارے نہیں بیٹا بہت حسین لگ رہی ہو مگر کیا ہے نا عورت کے حسن پر صرف اس کے مرد کا حق ہوتا ہے
اس کی خوبصورتی کو سراہنا صرف اس کے محرم کا حق ہے
تم بہت اچھی لگ رہی ہو ۔۔۔ مگر کیا ہی اچھا ہوتا اگر تم خود کو قیمتی سمجھ کر خود کو ڈھانپ کر رکھو
دیکھو نا قرآن پاک کتنا قیمتی ہوتا ہے کہ اسے غلاف میں سنبھال کر رکھا جاتا ہے
اسی طرح عورت بہت قیمتی ہے اور اسے چاہیے کہ وہ خود کو بے مول نا کرے یوں بے پردا ہو کر
تم تیار ہو سکتی ہو ۔۔۔ آج سنور سکتی ہو پر صرف اپنے محرم کے نام کا اور صرف اسکے سامنے اس کے لیے
بیٹا میں جانتی ہو تمہیں میں پرانے خیالات کی لگوں گی پر دیکھو عورت تو عورت ہوتی ہے اس کی عزت بھی ہر دور میں اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی پرانے وقتوں میں
اگر ہو سکے تو میری ایک بات پکے باندھ لو کہ اپنے حسن کو سنبھال کر رکھو اور اپنے مرد سے کبھی حق تلفی نا کرو ۔۔ اور یوں سب کےسامنے اس طرح رہنا دراصل اس کے حق تلفی ہے
باقی تم سمجھدار ہو ۔۔ وہ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے نرم لہجے میں گویا ہوئیں
تو مائرہ کو ان کی باتوں پر اپنی غلط کا احساس ہوا
پر میں شایان کے لیے تیار ہوی تھی ۔۔۔ میں اس سے محبت کرتی ہوں
اس نے دھیمے لہجے میں کہا
جس کی بات سن کر بی جان کو حیرت ہوی
تم اس کو پسند کرتی ہو ؟
جی ۔۔۔ کیا آپ میری شادی اپنے پوتے سے کروائیں گی ؟
اس کیا بات سن کر بی جان مسکرائیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائرہ کمرے میں آئ تو خود کو شیشے میں دیکھا پھر اپنی اور اپنی پھپھو کی بات جو آج ہی کال پر ہوی تھی یاد کیا
پھپھو وہ سارا دن اپنی بی جان کے ساتھ ہی لگا رہتا ہے میں کیا کروں کیسے وقت گزاروں اس کے ساتھ
مائرہ کی چلملاتی آواز پر اس کی پھپھو نے گہرا سانس لیا
دیکھو مائرہ ۔۔ وہ مجھ سے زیادہ اپنی بی جان سے اٹیچ ہے ۔۔ اگر تم چاہتی ہو کہ وہ تم سے شادی کر لے تو بس تمہیں اس۔ کی بی جان کو خود سے امپریس کرنا ہوگا
ورنہ ہم ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں وہ کبھی نہیں مانے گا
تو آپ چاہتی ہیں کہ میں اس بڑھیا سے باتیں کروں نہیں پھپھو مجھ سے نہیں ہو گا
ارے تم سے کس نے کہا ان سے دوستیاں کرو ۔۔۔ بس ان کی روک ٹوک پر منہ مت بنانا اور ان کو ایسے محسوس کرواؤ کہ تم خود کو بدل رہی ہو ورنہ بہت چالاک ہیں شایان کے کان تمہارے خلاف بھارتی رہیں گی
شایان کی ماں کی آواز پر مائرہ سوچ میں پڑ گئ
ٹھیک ہے پھپھو میں ان کو خود میں تبدیلیاں لاتے محسوس کرواؤں گی
آپ بس دیکھیں ایک بار شایان کی مجھ سے شادی ہو جاے اس بڑھیا کو بھوت شایان کے سر سے میں بہت جلد اتار دوں گی
وہ کہتے مسکرای
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے آج دن کی ساری بات یاد آی تو اس نے اپنا آتشی روپ شیشے میں دیکھا
اس بڑھیا کی وجہ سے مجھے اپنی ساری محنت ضائع کرنی پڑے گی
پر مجھے یقین ہے بڑھیا خود میری شادی شایان سے کرواے گی
مائرہ بڑبڑای
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شہریار سے باتیں کرتا نیچے آیا تھا سامنے مائرہ کا حلیہ دیکھ کر اسے غصہ آیا تھا مگر پھر شہریار کی بات پر وہ اس کی طرف متوجہ ہوا
اب وہ لوگ بی جان کے پاس آیے اور ان کے ساتھ باہر لاونج۔ میں گئے جہاں پوری تیاری کی گئ تھی
درختوں پر لائیٹس لگای گئ تھیں جو رات کے اس پہر بہت خوبصورت منظر پیش کر رہی تھیں جب کہ گاڑن میں ایک ٹیبل لگایا گیا تھا جس پر لال رنگ کا کپڑا ڈالا گیا تھا اور اس پر کیک رکھا گیا تھا
جب کہ وہاں پر ایک طرف میٹرس لگایا گیا تھا سفید چادر بچھائی گئی تھی جس کے چاروں طرف گاؤ تکیے لگاے گئے تھے جو لال رنگ کے تھے
اسکے اردگرد بھی لائٹس لاگی گئ تھیں
واؤ ۔۔۔ بڈی بی جان اور بھائ تھینک یو
وہ باہر کا سارا انتظام دیکھ کر مسکرایا
وہ تینوں بی جان کے ساتھ باہر آے
جب کہ سلمہ بیگم کے ساتھ مائرہ بھی آئ تھی
ماں سائیں اور بابا سائیں نہیں اے ۔۔۔؟
مائرہ جو اب قمیض کیپری پہن کر سر پر دپٹہ لیے اس طرف آی تھی شایان نے حیرت سے اس کا یہ حلیہ دیکھا پھر سوال کیا
نہیں انکل کی میٹنگ تھی اس لیے وہ لوگ نہیں اسکے ۔۔ پر کل آجائیں گے
شایان نے مائرہ کی بات پر جھوٹی مسکراہٹ کے ساتھ سر اثبات میں ہلایا
شہریار نے شایان کے کندھے تھپتھپائے
وہ جانتا تھا شایان گھر کا چھوٹا بیٹا تھا اور اسے اپنی برتھ ڈے پر ماں باپ کا ساتھ چاہیے تھا
یار سارا سال وہ لوگ کام کرتے ہیں اور ایک دن میرے لیے وہ لوگ نہیں نکال سکتے
شایان نے شہریار کو دیکھتے کہا
اچھا نا یار ہم ہیں نا تیری برتھ سپیشل کے لیے پریشان مت ہو۔۔۔ چل آجا کیک کاٹ
اس نے تسلی دی اور پھر اس کا دھیان کیک کی طرف دلوایا
جہاں کیک پر بڑے الفاظ میں لکھا گیا تھا
ہیپ برتھ ڈے گدھے ۔۔۔۔۔
جس کو دیکھتے شایان نے سکندر کو دیکھا ۔۔۔۔
جس نے انگلی سے شہریار کی طرف اشارہ کیا یعنی وہ اسے بتا رہا تھا کہ یہ کارستانی کس کی ہے ؟
جب کہ شہریار نے ہاتھ کا اشارہ سکںدر کی طرف کیا
جس پر شایان مسکرایا
آپ لوگ کبھی نہیں بدلیں گے ۔۔ وہ ہر دفع اس کی برتھ ڈے کیک پر گدھا ضرور لکھواتے تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ جب تم پیدا ہوے تو روے نہیں تھے بلکہ تم گدھے کی طرف ہانک لگاتے اس دنیا میں آے تھے
اس نے کیک کاٹا۔۔۔ اور پہلی بایٹ بی جان کو دی اس کے بعد سکںدرا ور پھر شہریار کو
جب کہ مائرہ کو ان تینوں کی اتنی محبت پر چڑ سی ہوی
پھر وہ لوگ کیک کٹنگ کے بعد اب اس میٹرس کی طرف بڑھے ۔۔۔
جب کہ مائرہ اور سلمہ بیگم نے سونے کا کہہ کر راستے اپنے کمروں کی طرف لیا
وہ لوگ میٹرس پر آے پھر وہاںپر بیٹھے وہ لوگ شایان کی بچپن کی حرکتوں کو یاد کرتے باتیں کرتے مسکراتے رہے
بی جان کی گود میں سر رکھے وہ تینوں لیٹے تھے جب کہ بی جان ان تینوں کے بچپن کے زبردست قصے ان کو سناتی جس پر وہ ایک دوسرے کو چڑھارہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقدس صبح فجر کی نماز کے بعد سکینہ کے ساتھ کیچن میں ناشتہ بنوانے لگی
جب دروازے پر دستک ہوی ۔۔۔۔
سکینہ نے اتنی صبح کسی کے آنے پر خود جا کر دروازہ کھولا
سامنے برہان کھڑا تھا جس کے ہاتھ پر پٹی لگی تھی
اسلام وعلیکم اماں!
وہ اندر داخل ہوتے سلام کرتا بولا
جب کہ سکینہ نے تین چار ماہ کے بعد اپنے بیٹے کو دیکھا تو اس کا منہ سر چومنے لگی
اتنی صبح صبح اے ہو ۔۔ وہ اس کے سینےسے لگے کھڑی تھیں پھر الگ ہوتی بولیں
جب کہ وہ سوچ میں پڑا اب بھلا ان کو کیا بتایا کہ وہ تو کل آیا تھا مگر اسے آج یہاں آنے کی اجازت ملی تھی
جی بس مجھے یاد آرہی تھی آپ کی تو آگیا ۔۔۔ وہ مسکرا کر بولا ماں کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے بات گول کر گیا
اماں کون آیا ہے۔ مقدس باہر آتی بولی
سامنے اپنے بھای کو دیکھ کر وہ بھاگتی اس کی طرف آی ۔۔۔
ارے میری بہنا اس طرح مت بھاگو۔۔۔ فضول کی سانس چڑھ جائے گی
برہان نے اس کو تنگ کرنے کے موڈ میں کہا
وہ اس کے سینے سے لگی پھر اس سے الگ ہوی
اماں دیکھیں بھای بھی اب مجھے اس طرح تنگ کریں گے ۔۔۔وہ منہ بناتی بولی
ارے نہیں میرا بچہ میں تو مزاق کر رہا تھا
وہ اس کے سر کو چومتا بولا
پھر وہ بہن بھای باتیں کرتے صحن میں بیٹھے جب کہ سکینہ ناشتہ بنانے کیچن میں چلی گئ
فریال باہر آی سامنے برہان کو بیٹھے دیکھ کر مسکرائی
برہان بھای کیسے ہیں آپ ؟
وہ ان کے پاس آتی بولی جس نے اس کو دیکھا
ہمم ٹھیک ہوں تم کسی ہو اور طبیعت کیسی ہے اب تمہاری
اس نے اس دن اس کا بے ہوش وجود تھاما تھا اس لیے پوچھا
جب کہ فریال نے اسے دیکھا
آپ کو کیسے پتہ کہ میں بیمار تھی ؟
وہ مقدس نے بتایا ہے ۔۔ برہان نے جلدی سے بات بنای
میں نے کب بتایا ؟مقدس نے برہان سے کہا
ارے موٹی تمہیں کب یاد رہتا ہے کہ کیا کب اور کس سے کہا ہے
وہ اس کو تنگ کرتے بولا جس پر مقدس نے منہ بنا لیا
فریال بھی اس کی بات پر مسکرای
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائشہ اٹھ جاؤ ناشتہ کرلو۔۔۔ مقدس اس کے لیے کمرے میں ناشتہ کے کر آتے بولی
عائشہ مقدس کے پھٹے سپیکر کی طرح اس کی اونچی آواز پر آٹھ بیٹھی
ارے واہ تم تو بہت جلدی اٹھ گی ۔۔ وہ جو پھر سے آواز دینے والی تھی اسے اٹھ کر بیٹھے دیکھ کر بولی
فریال کمرے میں آئ ۔۔ اس کی بات پر بولی
ہاں تو تمہاری اتنی اونچی آواز پر مردے قبرسے باہر آجائیں وہ تو بچاری بس سو رہی تھی
اس کی بات پر سائشہ ہسنے لگی ۔۔۔اسے یہ دونوں بہت پسند آئ تھیں ایک دوسرے کو تنگ کرتی رہتی تھیں
ہاں مگر اسی حلق سے آواز نکال کر میں تمہیں بھی اٹھاتی ہوں مگر تم تو مردوں سے شرطیں لگا کر سوتی ہو نا ۔۔۔۔مجال ہے کہ ایک دو دفع کی آواز پر اٹھ جاو
مقدس اس کو دیکھتے ہاتھوں کے سارے کرتے بولی
فریال کی بہت بری عادت تھی وہ سو جاتی تھی تو بہت مشکل سے اٹھتی تھی
وہ تو آج نماز کے وقت مقدس نے بامشکل اٹھایا تھا جس کی بعد وہ سوی نہیں تھی ورنہ اس وقت مقدس اسے اٹھاتی ہوی گہرے سانس بھر رہی ہوتی تھی
اچھا بس ۔۔۔ زیادہ مت بولو۔۔۔ فریال نے اپنے بڑھے ہونےکا رعب دیکھایا
سائشہ انکی چھوٹی موٹی لڑائ انجواے کرتی واشروم چلی گئ اور پھر آکر اس نے ناشتہ بھی کر لیا مگر وہ لوگ مسلسل ایک دوسرے کو ٹونٹیں مار رہی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برہان کی موجودگی کی وجہ سے عائشہ کمرے سے نہیں نکلی تھی
اس وقت وہ کمرے میں بیٹھی کسی کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی گھر میں کچھ کرنے کو تھا نہیں تو اس نے اپنی تنہای کی ساتھی کتابیں بنی تھیں جو ہر اکیلے شخص کو اپنا کندھا دیتی ہیں جن کےساتھ انسان کو تنہای کا احساس نہیں ہوتا
وہ اس وقت کسی ناول کے کردار میں بری طرح ڈوبی ہوی تھی
ہر کسی کی موجودگی سے انجان جب اپنے پاس سے اسے اہم اہم کی آواز آئ
اس نے جھٹ سے نظریں کتاب سے ہٹا کر اپنے سامنے کھڑے شخص جو دیکھا
سانس جیسے تھم گئ تھی اسے نہیں لگتا تھا کہ وہ اس سے ملنے آئ گا
شہریار دھیمی پرسکون مسکراہٹ کےساتھ اس کو مشغول دیکھتا رہا پھر اپنے موجودگی کا احساس اس نے اہممم اہمم کر کے کروایا
آپ ؟ آپ یہاں کیسے آئے ۔۔؟
وہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔۔ شہریار اس کے سیدھے ہو کر بیٹھنے پر اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا
جی میں آپ کا شہریار ۔۔۔۔ اور یہاں اپنی گاڑی پہ آیا ہوں۔۔۔۔
وہ اسکے سوالوں کے جواب دیتے اس کے چہرے کے نقوش جیسے حفظ کر رہا تھا
کیا میں آپ سے ملنے نہیں آسکتا ؟ اب کی بار اس نے سوال کیا
نہیں میں تو بس حیران ہوی تھی ۔۔۔ آپ میرے بے تکے سوالوں کے بھی جواب دیتے ہیں ۔۔۔
وہ اسے دیکھتے ہوی بولی مگر پھر نظریں جھکا لیں کیونکہ مسلسل اسکی نظریں خود پر جمی دیکھ کر اسے شرم سی آئ
جی ۔۔۔ آپ میری بیوی ہیں۔۔۔ اور میں آپ کے ہر سوال کا جواب دوں گا چاہے میں تھوڑا کم گو ہوں پر آپ کے کہے ہر لفظ کی اہمیت ہے میرے نزدیک کوی بے تکا نہیں
آپ یہاں۔ مجھ سے ملنے کیوں آئے ؟ ابھی کل ہی تو چھوڑ کر گئے تھے یہاں ۔۔۔۔۔
وہ اسکے جواب پر پل بھر خاموش کو گئ ۔۔۔ اس نے کہاں سوچا تھا کہ کوی شخص اس جیسی معمولی لڑکی کو اس قدر عزت اور اہمیت دے گا
اس کے کہے ہر لفظ پر اسے خود میں سکون اترتا محسوس ہوا ۔۔۔
پھر اس نے کچھ لمحوں کے بعد یک نیا سوال کیا ۔۔۔۔
وہ جو اس کے چہرے پر آتے سکون کو دیکھ کر مسکرایا تھا اس کے سوال پر لبوں پر دانت رکھے ۔۔۔ جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔۔
دیکھیں میں اپکو یہاں سے لینے آیا ہوں۔۔۔ ابھی حویلی تو نہیں لے جا رہا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ ابھی آپ اس نئے رشتے کے بارے میں سوچیں مجھے سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔
اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ میرا بڑا بھای سکندر پہلے اس کی دلہن حویلی آئے اس کے بعد میں اپکو سارے حقوق دے کر لے جاؤں
اس نے آہستہ پرسکون آواز میں کہا ۔۔۔جس پر سائشہ نے پریشانی سے اسے دیکھا
پر شہریار میں وہاں اکیلے کیسے رہوں گی ؟
جب کہ اس نے پہلی دفع اس کے منہ سے اپنا نام سن کر اپنی مسکراہٹ دانتوں تلے لب دے کر روکی
وہاں ملازمہ آپ کے ساتھ ہو گی ۔۔ یہاں پہلے خواتین رہتی تھیں اس لیے پریشانی نہیں تھی اور میں نے باہر پہرے پر لوگ بھی کھڑے کر رکھے تھے مگر برہان اس گھر کا بیٹا ہے وہ آپ کی وجہ سے یا آپ اس کی وجہ سے پریشان نا ہوں اس لیے بس میں نے الگ گھر کا انتظام کیا ہے
اس نے ساری بات بتائی جس پر اسے کہیں نا کہیں شہریار کی بات مناسب لگی
ٹھیک ہے جیسے آپ کو بہتر لگے ۔۔۔ وہ نظریں جھکا کر بولی
چلیں اب؟
وہ اٹھ کر کھڑا ہوتا بولا
جی میں بس چادر لے کر آتی ہوں
۔۔ وہ اس کے اٹھنے پر اٹھی اور پھر چادر لینے گئ
کچھ منٹوں کے بعد وہ کالے رنگ کی چادر سر پر ڈالے اس کے پاس آئ ۔۔۔
سانولے رنگ مگر پرکشش نقوش والی لڑکی وہ خود اس احساس کمتری سے نکل نہیں پا رہی تھی کہ وہ اس کی اس طرح شہزادیوں کی طرح عزت کیوں کرتا ہے
اس کے آنے پر اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے آگے چلنے کا کہا
جس پر وہ گہرا سانس لیتی آگے چلنے لگی ۔۔۔اس نے نقاب بھی پہن لیا تھا
وہ اسے لیے باہر آیا ۔۔۔ وہ پہلے ہی سکینہ سے بات کر چکا تھا جو اس کو اجازت نہیں دے رہیں تھیں مگر پھر یہ سوچ کر کہ وہ اسکا شوہر ہے اس لیے سکینہ نے زیادہ اسرار نہیں کیا
وہ مقدس اور فریال سے ملی پھر سکینہ سے ملی
آپ مجھ سے ملنے آئیں گی نا؟
اس نے رندھے ہوے لہجے میں کہا
جس پر سکینہ نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے سر اثبات میں ہلایا
وہ اسے لیے گھر سے باہر نکلا جہاں ایک بڑی گاڑی جو اس روز اس محلے میں گئ تھی وہ سامنے کھڑی تھی
وہ اس کے لیے دروازہ کھول کر کھڑا تھا ۔۔۔ اس نے رشک سے اس شخص کو دیکھا جو اس کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا
وہ گاڑی میں بیٹھی تو وہ بھی اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا
تھوڑی دیر کی ڑرائیو کے بعد گاڑی ایک خوبصورت گھر مگر چھوٹے سے گھر کے سامنے رکی ۔۔ اس نے گاڑی سے اتر کر اس کے لیے دروازہ کھولا ۔۔ وہ اپنی چادر درست کرتی گاڑی سے اتری ۔۔۔
وہ اسے لیے گھر کے اندر کی طرف بڑھا ۔۔۔ گھر کا دروازہ کالے رنگ کا بڑا سا گیٹ تھا ۔۔۔ وہ لوگ اس کو پار کرتے اندر آئے ۔۔۔
اندر ایک چھوٹا سا باغیچہ بنایا گیا تھا ۔۔۔ جو کافی خوبصورت تھا ۔۔ آگے ایک جھولا بھی لگایا گیا تھا جب کہ اندر کی طرف قدم لیے تو ایک دروازہ پار کرتے اندر کالے رنگ کا ماربل لگا ہوا تھا ۔۔۔ دو کمرے اور ایک ڑرائینگ روم تھا جب کہ ایک اوپن کیچن اور اس چھوٹے سے مگر خوبصورت گھر کو اچھے سے ڈیکور کیا گیا تھا گھر کا سارا سامان اس میں موجود تھا
سائشہ گھر دیکھتی ہوی آگے بڑھتی جارہی تھی ۔۔ پھر لاونج میں آکر وہ رکی ۔۔ پلٹ کر دیکھا تو وہ دروازے کے پاس کھڑا اسے دیکھ رہا تھا
سوری مجھے آپ کا دھیان نہیں رہا ۔۔وہ معزرت کرتی اسکی طرف بڑھی
جس پر شہریار بھی اسکی طرف بڑھا ۔۔۔
انہہہ سوری مت بولیں یہ بتائیں کہ آپ کو ہمارا گھر کیسا لگا؟
اس نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوے کہا
بہت خوبصورت ہے ۔۔ وہ اس کے قریب کھڑی گھر پر نظریں دوڑاتے بولی
آپ کی ضرورت کی ہر چیز موجود ہے ۔۔۔۔ آپ کے کپڑے جوتے ۔۔۔ جیولری سب کچھ ۔۔۔
وہ اس کو دیکھتے بولا
آپ میرے ساتھ نہیں رہیں گے؟ وہ اسکو دیکھتے بولی
آپ چاہتی ہیں میں یہاں رہوں؟
وہ الٹا سوالیہ ہوا۔۔ جس پر وہ اسکو جواب دیے بنا نظریں جھکا گئ
ٹھیک ہے میں آپ کے پاس رک جاؤں گا۔۔۔۔
وہ اس کے جھکی نظریں دیکھ کر بولا
چلیں اب دوپہر ہو گئ ہے کچھ کھاتے ہیں ۔۔۔
وہ کہتے کال ملانے لگا جب وہ بولی
میں کھانا بناتی ہوں پلیز ۔۔۔
وہ اس کو کہیں سے کھانا منگواتے دیکھ کر بولی
اچھا چلیں مل کر بناتے ہیں ۔۔ وہ کہتے مسکراتا اس کا ہاتھ تھام کر اسے کیچن میں لایا
پھر اس نے نیپکن پہن لیا اور اس کی طرف بڑھایا پھر کچھ سوچ کر اس کی چادر کی طرف اشارہ کیا
جس پر سائشہ نے چادر اتار کر اپنا دپٹہ سر پر رکھا ۔۔۔
جو کہ اس نے گلے میں پہن رکھا تھا
اس نے نیپکن اس کے گلے میں ڈالا پھر اس کو پلٹنے کا اشارہ کیا
سائشہ اس کے کہنے پر پلٹ کر اس کی جانب پشت کیے کھڑی ہوی شہریار نے اسکی پتلی کمر پر نیپکن کی گرہیں لگائیں ۔۔۔ پھر اسکے کان کے پاس جھکا ۔۔۔ کیا کھانا چاہیں گی مسسز۔۔۔؟
وہ اس کی اتنے پاس سے آتی آواز پر سانس روک گئ
جج جی جو مرضی ہے آپ کی ۔۔۔۔وہ لڑکھڑاتے لہجے میں بولی
اوکے چلیں آپ یہاں بیٹھیں ۔۔۔ میں آپ کو آج اپنے ہاتھ کا کھانا بنا کر کھلاتا ہوں ۔۔ ڈونٹ وری ایک پینٹر ہونے کےساتھ ساتھ میں ایک اچھا شیف بھی ہوں
وہ پیچھے ہوتے بولا۔۔ پھر اسے ایک چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
نہیں میں مدد کرتی ہوں ۔۔۔ وہ اس کو دیکھتے بولی
ہممم اوکے یہاں آئیں پھر ۔۔۔ وہ اسکو اپنےسامنے شیلف کے آگے کھڑے ہونے کا اشارہ کر رہا تھا
وہ اس کے اشارے پر اس کے سامنے کھڑی ہوی اب پھر اس کی پشت شہریار کے سامنے تھی ۔۔۔۔۔
آپ یہ ٹماٹر کاٹیں ۔۔۔ وہ اس کو پیچھے سے اپنے حصار میں لیتا اس کے سامنے ٹماٹر رکھتا بولا
ایسے کیسے کاٹیں گے ؟
وہ اس کی سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتی گھبرا کر بولی
اسکی بات کر شہریار مسکرایا۔۔ اس نے اسکو حصار میں لیے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اور ٹماٹر اور چھری ہاتھ میں پکڑی اور پھر اسے سامنے رکھے کٹنگ بورڈ پر رکھے کاٹنے لگا
سائشہ کی سانسیں اس کے حصار میں جیسے رک سی گئی تھیں
آپ سانس کیوں نہیں لے رہیں ؟
اس نے اسکے ساکن وجود پر سوال کیا
وہ وہ میں۔۔۔
سائشہ نے کچھ کہنا چاہا پر پھر رک گئ
کیا میں آپ کے قریب نہیں آسکتا ؟
اس نے جیسے اجازت چاہی تھی
نہیں وہ میں بس۔۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔وہ پھر سے کچھ کہتے کہتے رکی تھی
جب کہ اسکی ہکلاہٹ پر شہریار پیچھے ہو گیا ۔۔
اوکے آپ یہ کاٹیں میں باقی چیزیں دیکھتا ہوں۔۔۔۔
وہ کہتے بنا اسے محسوس کرواے کیچن کے کیبنٹ کھول کر دیکھنے لگا
گھر گاؤں میں تھا مگر وہ کافی خوبصورت طرز پر بنایا گیا تھا ۔شہریار کے اس طرح رویے پر بنا اس کو محسوس کروانے پر سائشہ نے پریشانی سے اس کی پشت کو دیکھا
وہ شوہر ہیں میرے مجھے اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا
وہ خود کو کوسںے لگی
خود کو مت کوسیں۔۔۔۔ںئ نئ شادی ہے تو آپ کو ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگے گا
کوی مسلہ نہیں ہے ۔۔اب اس بات پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے
وہ کیبنٹ سے کچھ نکالتا ہوا مصروف سا بولا
آپ کے پاس کوی جن ہے کیا؟
سائشہ نے حیرانی سے کہا
جس پر شہریار کا قہقہہ گونجا
اپنی بیوی کے دل کی بات جاننے کے لیے کیا مجھے جنات کی ضرورت پڑے گی؟
اس نے ہنسی روکتے اسے کو دیکھتے کہا
ہمیں ملے بس ایک دن ہوا ہے اور آپ میرے دل کی بات بھی سمجھنے لگے
اسی لیے حیرانی ہو رہی ہے بس ۔۔۔
وہ اپنی بات کا مطلب سمجھاتے بولی ساتھ ٹماٹر کاٹنے لگی
ہمم ایکچلی مجھے ایک دن ایک بابا ملے تھے جب میں ان کو پیسے دیے تو انہوں نے کہا تھا کہ میری دعا ہے کہ تم اس دھن کے ساتھ ساتھ نصیب کے بھی دھنی ہو گے اور تم جس کو چاہتے ہو گے اس کے دل کی بات کو بنا بولے سمجھ جاؤ گے
اس نے برتن چولہے پر رکھتے اس میں ایئل ڈالتے کہا
جس پر سائشہ نے اسے دیکھا
کیا سچ میں آپ میرے دل کے بارے میں سب جانتے ہیں ؟
ہاں ۔۔شہریار مسکرایا
اچھا پھر آپ کو اپنے گھر والوں کے بارے میں بھی سب پتہ ہو گا
؟
عائشہ تجسس سے اسے دیکھتے بولی
ہاں میں جس سے محبت کرتا ہوں اس کے دل کی بات سمجھنے لگتا ہوں
وہ مصروف سا بولا
سائشہ اسکے پاس آئ ۔۔۔
اچھا اب بتائیں میرے دل میں کیا چل رہا ہے؟
وہ اس کے ساتھ کھڑی ہوتی بولی
شہریارنے نظریں اس پر گاڑھی
آپ کو مجھ سے محبت ہونے لگی ہے۔۔۔۔۔ آپ کو میری باتوں سے سکون پہنچتا ہے
وہ جو واقعی ہی اسکو لے کر الگ جزبات رکھنے لگی تھی اس کے منہ سے سن کر نظریں آگے پیچھے دوڑانے لگی
میں چاول صاف کر دیتی ہوں وہ بات بدلتے بولی جس پر شہریار نے سر اثبات میں ہلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریال سخت بور ہورہی تھی اب اس نے مقدس کو کھانے کے بعد باہر چلنے کا کہا
تھوڑی دیر بعد موسم بھی کافی خوشگوار تھا اور وہ لوگ پیدل نکل گئ
اس وقت وہ لوگ کھیتوں میں گھوم رہی تھیں ۔۔۔ یار میں سوچ رہی تھی کیوں نا کوی جاب شروع کردوں ویسے بھی سارا دن فارغ رہنا بھی تو صحیح نہیں ہے
فریال نے چلتے چلتے مقدس سے کہا
جو کچھ کھانے میں مصروف تھی ۔۔۔
ہاں یہاں کے اسکول میں ٹیچر لگ جاؤ ۔۔۔۔۔ اس نے مشورہ دیا جس پر فریال کو مشورہ قابلِ غور لگا
کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو۔۔۔
کہاں ہے یہ اسکول؟
وہ وہاں گاؤں کے شروع ہوتے ہی ایک بہت بڑا اسکول ہے
پتہ ہے یہاں پر اسکول نام کی کوی چیز نہیں تھی مجھے خود دوسرے گاؤں میں جا کر پڑھنا پڑتا تھا
مگر جب سے سردار سکندر نے گدی سنبھالی ہے تب سے ہمارے گاؤں میں ساری سہولیات موجود ہیں ۔۔ ہاں بس ایک ہاسپٹل نہیں ہے مگر اس کی بھی عمارت بن رہی ہے
مقدس کی بات پر فریال نے اسے دیکھا
تو یہاں کے پہلے سردار کون تھے؟
سردار سکندر کے والد تھے ۔۔۔سلمان صاحب
اچھا ۔۔۔مقدس کے جواب پر اسے اچھالگا کہ وہ شخص اپنے باپ کی نسبت ایک اچھا سردار ہے
چلو ہم اسکول دیکھنے چلتے ہیں ۔۔۔ فریال اسے لیتی اس طرف چل پڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت پنچایت سے فارغ ہوا تھا جب اس کے نمبر پر کال آئ
سائیں ہمارے دشمن گاؤں سے کچھ لوگ اس وقت ہمارے گاؤں نے سکول پر حملہ کرنے کے لیے نکلے ہیں
ہمیں جلد از جلد ان لوگوں کو اپنے گاؤں کے سکول تک پہنچنے سے پہلے روکنا ہو گا
کیونکہ ابھی وہاں بچے موجود ہیں ۔۔۔
سکندر نے موبائل کے دوسرے پار سے آتی جعفر کی آواز پر فون پر گرفت سخت کی
چہرہ پل مین تن گیا تھا
آج نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ وہ کہتے ہی وہاں سے اٹھا سب گاڑ جلدی سے اسکی تقلید میں اٹھے اور اس کے بتانے پر جلدی سے گاڑیاں نکالی
وہ گاڑی میں بیٹھا اور اسکول کی طرف روانہ ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم اس طرح اندر نہیں جا سکتے ہمیں بھیس بدل کر جانا پڑے گا
ایک آدمی جو گاڑی سے اتر کر نور پر گاؤں کے باہر کھڑا ۔۔۔۔اس نے نور پر گاؤں کے بوڈ پر نظریں جما کر کہا
مطلب ؟ دوسرا آدمی گاڑی سے نکلا
مطلب عورت کا بھیس بدل کر ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریال تو کافی جلدی جلدی چل رہی تھی مگر مقدس کا تو چلنے کی وجہ سے سانس پھول گیا تھا اس لیے اس نے کچھ دیر بیٹھنے کا کہا
پر فریال نے اسے بیٹھے دیکھ کر اکیلے ہی اسکول کی طرف قدم لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ عورتوں جیسے کپڑے پہن کر اور چند لوگ عبایا پہن کر گاؤں کے اندر آئے
فریال جو آگے پیچھے دیکھتی مزے سے ٹھنڈی ہوا انجوائے کر رہی تھی
اس کی نظر جیسے ہی ان لوگوں پر پڑی تو اس کی ہنسی نکلی کیونکہ ان لوگوں نے جوتے مردانے پہن رکھے تھے
کیسی عورتیں ہیں اپنے خاوند کے جوتے بھی نہیں چھوڑے وہ دانت نکالتی بولی
جب پیچھے گاڑی کے ہارن پر پلٹی ۔۔۔
گاڑی سے سردار سکندر باہر ںکلا۔۔۔جس کے پیچھے سارے گاڑز بھی نکلے
حد ہے میری خوشبو سونگتے ہوے آپ یہاں بھی پہنچ گئے ۔۔۔وہ اس نے سامنے آتی بولی
سکندر نے اس پاس نظر دوڑائی ۔۔۔ مگر وہاں کوی نظر نا آیا
اےے ۔۔۔ فریال نے اس کے نظر انداز کرنے پر اسے خود کی طرف متوجہ کیا
سکندر نے اسکی طرف دیکھا
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟
وہ میں اسکول دیکھنے آئ تھی ۔۔۔
اس نے پیچھے اسکول کی عمارت پر نظر ڈالتے کہا
فری اس وقت جگہ سیف نہیں ہے تم گھر جاو۔۔۔۔
سکندر نے کافی نرم لہجے میں کہا
کیوں سں خیریت ہے؟
فریال نے سوال کیا
میں نے کہا تم جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔اس کے ڈھیٹ بننے پر سکندر نے درشت لہجے میں کہا
آپ کے ساتھ مسلہ کیا ہے۔۔۔ کیوں جاؤں میں یہاں سے میں نہیں جارہی جو کرنا ہے کر لیں
وہ اس کے لہجے پر بنا ڑرے بولی
اس وقت گاؤں کے بچے خطرے میں ہیں ۔۔۔ پاس کے گاؤں سے کچھ لوگ بچوں پر حملہ کرنےآے ہیں ۔۔۔۔
اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ تم یہاں سے جاؤ ۔۔۔۔
وہ گاڑز کو ہر طرف پھیلے دیکھ کر بولا
ایک منٹ ! آپ نے کہاں کوی حملہ کرنا چاہتا ہے اس کا مطلب وہ جو کوی بھی ہے وہ ضرور یہاں براہ راست حملہ نہیں کرے گا ۔۔۔۔
فریال نے اسکو جاتے دیکھ اس کے بازو کا کف پکڑتے اس کے سامنے آتے کہا
ہاں۔۔۔۔ سکندر نے اسکی بات پر سر ہلایا پھر اپنے ہاتھ کو دیکھا جہاں اسکی قمیض کے کف کو فریال نے دو انگلیوں میں تھام رکھا تھا
اس کا مطلب وہ وہی لوگ تھے وہ پریشانی سے بولی
کون لوگ؟ سکندر کو اسکی بات کھٹکی
وہ وہاں کچھ لوگ تھے جو تھیں تو عورتیں مگر وہ جوتے مردوں والے پہنے ہوے تھیں
اس کا مطلب وہ لوگ عورتیں نہیں مرد ہی تھے
فریال نے سکندر سے کہا
کہاں دیکھا تم نے ان کو ۔۔۔سکندر نے جلدی سے پوچھا
وہ اس طرف۔۔۔ وہ اسے اس جانب اشارہ کرتی بولی جو اسکول کے پیچھلے طرف کا راستہ تھا
سکندر جلدی سے بھاگا اور اس کے پیچھے فریال بھی بھاگی ۔۔۔
گاڑز اور فریال سکندر کے ساتھ وہاں پہنچے جہاں وہ لوگ اسکول کی پچھلی دیوار پر لگے اوپر چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے
گاڑز نے فائرنگ شروع کردی
اچانک گولیوں کی آواز پر فریال ڑر گئ ۔۔۔
سکندر نے اسکے چہرے پر پھیلتی سفیدی پر اس کا ہاتھ تھام لیا
اور ابھی وہ اس پر دھیان دے رہا تھا جب ایک گولی جو مخالف پارٹی کے آدمی نے سکندر پر چلائ تھی وہ سیدھا سکندر کے سینے پر آکر لگی
سکندررررررر۔۔۔۔ اس کو گولی لگی تو فریال چلا اٹھی ۔۔۔ اور اس کے سینے پر لگتی گولی سے خون کی چھینٹیں فریال کے چہرے پر پڑی
سکںدرررر۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس کے زمین پر گرتے وجود کو دیکھتے پھر سے چلائ
اس کی آنکھوں میں کب آنسو بہہ کر اس کی گال بگھو گئے اسے پتہ بھی نہیں چلا تھا ۔۔۔
اس نے اس جانب دیکھا جس طرف سے گولی چلائی گئ تھی اس نے اس شخص کو دیکھا اور پھر اٹھ کر گاڑ سے گن چھین کر اس شخص پر گولی چلائی ۔۔۔جو سیدھا اس کے سینے پر لگی تھی
فریال کے ہاتھ کانپ رہے تھے اس نے پلٹ کر اس کو زمین پر گرے دیکھ کر اس کے پاس بیٹھتے اس کا سر اپنی گود میں رکھا
سکندر ۔۔۔۔۔ سکندر اٹھیں ۔۔ آنکھیں کھولیں پلیز
وہ اس کے چہرے کو تھپتھپاتے ہوے بولی
کچھ ہی دیر میں سب گاڑز کے ساتھ وہ اسے کو لیے ہاسپٹل کی طرف چلی گئ ۔۔۔۔
اس کا سر اپنی گود میں رکھے مسلسل اسے پکار رہی تھی
جب سکندر نے مندی مندی آنکھیں کھولیں ۔۔۔اور اپنے چہرے پر رکھے اس نے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
رو مت کک کچھ نہیں ہو گا مم مجھے
وہ بامشکل سانس لیتے بولا
سس سکندر آپ پلیز آنکھیں مت بند کرنا ۔۔۔۔بس کچھ دیر میں ہاسپٹل پہنچتے ہی آپ کی گولی نکال دیں گے آپ کو کچھ نہیں ہوگا
وہ اسکی آنکھیں کھولنے پر جلدی سے بولی
سکندر نے بنا کچھ کہے
با مشکل بند ہوتی آنکھوں کو کھول کر رکھا۔۔۔کیونکہ وہ پھر سے اسکی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھنا چاہتا تھا
جو سکندر کی آنکھیں کھولتے ہی تھم گئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقدس کو جیسے ہی گاؤں میں چلنے والی گولیوں کی آوازیں آئ تو وہ جلدی سے اٹھ کر فریال کو ڈھونڈنے لگی
جب کہ فریال اسے کہیں نہیں ملی وہاں پہنچنے پر خون دیکھ کر اس کی سانس بند ہونے لگی آنکھوں سے آنسو بہہ کر اسکے گورے موٹے موٹے گالوں کو بھیگونے لگے
بڈی ۔۔۔۔۔۔ شایان بھی اس جگہ پہنچا ۔۔۔۔وہاں پر چلانے لگا
اس کی حالت بہت بری ہو رہی تھی تھی جیسے تکلیف اس کو خود میں اترتی محسوس ہوی ہے ۔۔۔۔
جب اس نے وہاں مقدس کو روتے دیکھا تو اس کے پاس آیا
شایان میری فریال۔۔۔ وہ اسے روتے ہوے دیکھ کر بولی
وہ ٹھیک ہیں ۔۔ بڈی کو گولی لگی ہے ۔۔۔ میں ان کے پاس جا رہا ہوں ۔۔
وہ کہتے اس وقت خود ازیت میں تھا اس کو آنسو دیکھ کر مزید تکلیف ہوی
کیا سردار جی کو؟
تم پلیز مجھے بھی ساتھ لے جاؤ گے وہ اس کے پیچھے آتے بولی
تم کیوں جانا چاہتی ہو؟
وہ اسے دیکھتا آنسو صاف کرتا بولا
تم رومت پلیز ۔۔۔ اس دن تم نے میری مدد کی تھی نا آج میں تمہاری کر دوں گی تم اکیلے ہو اس وقت ۔۔۔۔
وہ جو واقعی ہی کسی کا ساتھ چاہتا تھا اس کی بات سن کر مسکرایا ۔۔۔
اوکے چلو
وہ اس کو لیتا گاڑی میں بیٹھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کھانا کھا کر بیٹھے تھے سائشہ اس کے لیے چائے بنا رہی تھی
سائشہ مجھے پانی دینا پلیز ۔۔۔۔ اچانک گھبراہٹ ہونے کے شہریار نے اسے پکارا
سائشہ جلدی سے پانی کے کر اس کے پاس آئ ۔۔۔
کیا ہوا اپکو ؟
شہریار نے پانی کے چند قطرے حلق میں اتارے مگر گھبراہٹ ویسے ہی تھی
اس کے چہرے پر عجیب سا بجھا پن چھانے لگا تو سائشہ نے کہا
پتہ نہیں ۔۔۔ عجیب گھبراہٹ ہو رہی ہے
میرا فون ۔۔؟ وہ اپنا موبائل تلاشنے لگا
یہ رہا ۔۔۔ سائشہ نے اس کے پاس پڑا فون اٹھا کر اس کو دیا
جب اس نے شایان کی بہت ساری کالز دیکھی
یا اللہ خیر ۔۔ وہ بڑبڑایا
پھر کال ملائ ۔۔۔۔ اگے سے ملنے والی خبر پر وہ ساکن ہو گیا
شہریار ۔۔۔ شہریار ۔۔۔
سائشہ اس کی خاموشی پر اسے پکارنے لگی
سکندر ۔۔۔۔ سکندر کو گولی لگی ہے مجھے اس کے پاس جانا ہو گا
وہ کہتا جلدی سے اٹھا
کیا؟ سائشہ پریشان ہوی
اچھا ایک منٹ میں چادرلے لوں مجھے بھی ساتھ جانا ہے ۔۔۔
پر آپ وہاں ؟
پلیز شہریار ۔۔ وہ منت کرتے لہجے میں بولی
ٹھیک ہے چلیں ۔۔۔وہ جلدی سے اٹھا اور باہر کی طرف بڑھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میل سٹاف جلدی سے سکندر کو سٹریچر پر ڈالے ہاسپٹل کے اندر بڑھا جب کہ فریال بھی ساتھ ساتھ تھی
اس نے ای سی یو میں جاتے سکندر کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر اس کے پاس جاتے کہا
اس بار اللہ سے زندگی کی بھیک مانگ کر میرے لیے واپس آ جانا۔۔۔
اس نے رندھے لہجے میں کہا وہ اس وقت اپنے حواس میں نہیں تھی
سکندر نے غنودگی میں اترتے اس کے آخری الفاظ واضح سنے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چہرے پر حجاب کی صورت میں دپٹہ ڈالے
مسلسل دعا گو تھی جب کہ نظریں اس کی سامنے آی سی یو کے بند دروازے پر تھی
مقدس اور شایان بھی اس کے پاس آئے
فری کیا ہوا سردار جی کو ۔۔؟ مقدس نے رندھے لہجے میں کہا
گگ گولی لگی ہے ان کو ۔۔۔ وہ آی یو کے دروازے پر نظریں جمائے بولی
شایان کی آنکھیں خشک نہیں ہو رہی تھیں
پلیز شایان تم خود کو سنبھالو۔۔۔مقدس اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو پر دکھ سے بولی
میری جان بستی ہے بڈی میں ۔۔۔ میں نے ماں لفظ کی جگہ سب سے پہلا لفظ بھائ بولا تھا ۔۔۔۔
انہیں کچھ ہو گیا تو میری سانسیں بھی رک جائیں گی
وہ آنسو صاف کرتا بولا
کچھ نہیں ہو گا سکندر کو تم پریشان مت ہو شہریار نے آتے ہوے بولا
جس کو دیکھ کر شایان جلدی سے اس کے گلے لگا۔۔۔
بھائ بڈی ۔۔۔ وہ جو خود پر ضبط کیے کھڑا تھا اس کے رونے پر اس کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں
جب کہ سائشہ نے اس کے کندھےپر ہاتھ رکھا
کچھ نہیں ہو گا ان کو۔۔ آپ لوگ پریشان مت ہوں بس دو کریں
وہ شہریار کو کہتی فری کے پاس ج کر بیٹھی
بی جان! ۔۔۔۔ شایان نے اس سے الگ ہوتے شہریار سے پوچھا
نہیں ان کو کوی خبر نہیں ہے ۔۔۔ اور میں نے کال کر کے ملازموں کو ان کو کوی بات بتانے سے روکا ہے ورنہ وہ خود کی طبعیت خراب کر لیتیں
وہ اسے بتاتے ڈاکٹر کی طرف بڑھا جو آئ سی یو سے نکلا تھا
دیکھیں پیشنٹ کی حالت کافی کریٹیکل تھی مگر الحمد اللہ وہ اب ٹھیک ہیں گولی لگی تھی اور بچنہ بہت مشکل تھا مگر اب وہ اللہ کی رحمت سے محفوظ ہیں
ڈاکٹر نے ان سب کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر محبت سے بتایا
جس پر سب کی اٹکی سانسوں میں روانگی آئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر کو آی سی یو سے دوسرے کمرے میں شفٹ کیا گیا تھا۔۔۔ شایان اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھا اس کا ہاتھ تھامے رو رہا تھا
جب کہ شہریار اس کو صحت یاب دیکھ کر مسکرایا۔۔۔ سائشہ نےاس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
آپ سچ کہتے تھے آپ کو اپنوں کی تکلیف محسوس ہونے لگتی ہے دل کے حالات جو سمجھتےہیں آپ
۔۔سائشہ کی بات پر شہریار مسکرایا
مقدس کمرے میں آئ ۔۔۔ سردار جی کیسی طبعیت ہے آپکی ؟
اس نے شایان کو روتے دیکھ کر سکندر سے کہا
میں ٹھیک ہوں شکریہ بہت بہت ۔۔
وہ اسے دیکھتے شفقت سے بولا
جب شایان نے مقدس کو دیکھا جس نے ناراضگی سے منہ پھیرا
اس کے منہ پھیرنے پر شایان نے اپنے آنسو صاف کیے
شہریار نے اس کی حرکت کو بغور دیکھا
ہم تو کب سے کہہ رہے تھے کہ بس کرو مت رو ۔۔ تو تم ایسے رو رہے تھے جیسے تمہاری رخصتی ہو رہی ہے اور اب کیسے اچانک ا کھیں خشک ہو گئیں؟
اس نے شرارت سے کہا جس پر سکندر بھی اس کی بات سمجھتا مسکرایا
جب کہ شایان نے سر نفی میں ہلایا
نہیں وہ میں تو بس رو رو کر تھک گیا تھا
اس نے بہانہ بنایا
جس پر شہریار مسکرایا
سکندر نے روم کے دروازے پر نظریں جمائے ہوی تھیں۔۔۔ وہ مسلسل اس کا انتظار کر رہا تھا جو کہ کمرے میں آنے کا نام نہیں کر رہی تھی
آخر کار شہریار نے اس کی نظروں کی طلب پر اپنی مسکراہٹ ضبط کی
مقدس ۔۔۔ فریال کہاں ہے؟
اس نے جان کر انجان بنتے سوال کیا
سکندر نے فوراً جواب کی طلب میں مقدس کو دیکھا
جب کہ شایان اور شہریار نے اس کی حرکت پر مسکراہٹ ضبط کی
وہ جا چکی ہے اسکی طبعیت ٹھیک نہیں تھی
مقدس کی بات پر سکندر نے کب بھینچ لیے
ہاں وہ سکںدر کو دیکھے بنا ہی چلی گئ ۔۔۔
شہریار نے جلتی پر تیل کا کال کیا
جب کہ سکندر نے چہرہ سخت تر کر لیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن کے بعد وہ گاؤں واپس آرہے تھے ۔۔۔ اس دوران اس نے سوتے میں بھی اس کا انتظار کیا تھا مگر وہ تھی کہ آی ہی نہیں
اب وہ لوگ واپسی کے لیے گاڑی میں بیٹھے تھے جب سکندر الگ گاڑی میں بیٹھا
ارے تم الگ کیوں ؟ شہریارنے سوال کیا
مجھے ایک ضروری کام ہے تم لوگ چلو میں کچھ دیر میں پہنچتا ہوں حویلی
وہ کہتے بنا ان کی بات سنے چلا گیا
سیدھا فریال کے پاس جاے گا ۔۔ شہریار نے شایان سے کہا
ہاہاہا پر وہ وہاں ہو گی تب نا ۔۔۔ شایان نے تالی مارتے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاؤں پہنچتے سیدھا سکینہ کے گھر کے سامنے گاڑی روکے کھڑا ہوا
میں کیا کہوں گا ؟ وہ سوچ میں پڑ گیا
ہاں تو وہ میرے ساتھ تھی میری صحت یابی پر مجھے دیکھنے تک نہیں آی ۔۔۔۔
وہ کہتے ایک قدم آگے بڑھاتا اندر جانے لگا پھر رک گیا
نہیں ۔۔۔ مطلب ۔۔۔ میں گاؤں کا سردار ہوں اس کے نا پوچھنے پر کیا فرق پڑتا ہوگا ۔۔۔
وہ پھر سوچ میں پڑ گیا
ہاں تو وہ اس وقت میرے لیے رو رہی تھی اتنا بھی نہیں کیا کہ مجھے دیکھنے آجائے
وہ پھر سے بڑبڑایا
پر ۔۔۔۔
پھر اپنی سوچ پر خود ہی دوبارہ سوچ میں پڑ گیا
سردار ہوں تو کیا ہوا اب کیا گاؤں کے کسی آدمی کے نا پوچھنے پر مجھے فرق پڑے گا
وہ پھر سے رکا
اففف بھاڑ میں جائے سب کچھ اس وقت اس کا دماغ درست کرنا ضروری ہے
ابھی وہ دستک دیتا کہ دروازہ کھلا اور سکندر کا اٹھا ہاتھ وہی تھم گیا
برہان
تم ۔۔۔۔ سکندر نے اسے دیکھتے کہا
جی سردار جی میں برہان کو اس دن والا واقع یاد آیا
آپ یہاں کیسے ؟ اب کی بار وہ سوالیہ ہوا
وہ میں دراصل ۔۔۔۔ سکینہ سے ملنے آیا تھا مجھے کچھ کام تھا
ہممم میں جانتا ہوں کہ آپ کس سے ملنے آئے ہیں۔۔۔۔۔مگر آپ جس سے ملنے آئے ہیں وہ یہاں نہیں ہے ۔۔۔ ہاں مگر ایک بات یاد رکھیے سردار سائیں ۔۔۔۔ آپ لوگ بڑے لوگ ہیں آپ لوگوں کے لیے یہ سب عام ہوگا پر میرے لیے میرے مامو کی بیٹی بہت اہم اور خاص ہے
اگر آپ یوں اس سے ملنے آتے رہیں گے تو بات غلط ہے ۔۔
آپ اس سے نکاح کریں ورنہ اس سر دور رہیں ۔۔۔میں اس کی عزت پر حرف نہیں آنے دے سکتا مامو کی دی ہوی زمہ داری ہے وہ
اس نے بنا نام لیے اس سے ساری بات کی
جس پر سکندر نے اپنی ہری آنکھوں سے اسے دیکھا
پریشان مت ہو جلد ہی ہمارا رشتہ سالہ بہنوی میں بدلے گا اس لیے میں نہیں چاہتا کہ ہمارے تعلقات خراب ہوں۔۔۔۔ ہممم وہ اس کے کندھے پر اندر دیکھی دھول اڑاتے بولا
پھر واپس اپنی گاڑی میں بیٹھا
اور حویلی کی طرف چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی سے اتر کر اندر داخل ہورہا تھا جب کہ سوچیں اس سے جڑی ہوی تھی
آخر وہ گئ کہاں ہے ۔۔ وہ اندر آتے بڑبڑایا ۔۔۔
ارے بی جان آپ پریشان مت ہوں اس کنجی آنکھوں والے انسان کو کچھ نہیں ہونے والا ۔۔۔ایسا ڈھیٹ انسان ہے کہ موت کو بھی دوتین دفع واپس بھیجے گا
وہ بی جان کے پاس بیٹھی بولی
جب کہ اندر داخل ہوتے سکندر نے اسکی آواز سن کے سامنے اسے بی جان کے پاس بیٹھے دیکھا
اس نے جامن رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے جب کہ وہ بی جان سے باتیں کر رہی تھی
شہریار اور شایان اس کی بات پر قہقہ لگا رہے تھے مقدس بھی ان کے ساتھ ہس رہی تھی
ارے میرا پتر ۔۔۔ بی جان نے سکندر کو دیکھا تو اس کی طرف بڑھیں
اس سے مل کر اس کا منہ سر چومنے لگیں
پھر اس کے ساتھ وہاں ہی بڑھیں
اس کو دیکھتے ہی فریال نے نظریں جھکا لیں اور پھر ایسے محسوس کروایا جیسے اس کی موجودگی سے انجان ہو۔۔۔
جب کہ سکندر کی مستقل نظر اس پر جمی تھی
بھای آپ کہا گئے تھے ؟ شایان نے شرارت سے کہا
ہاں یار کیا کوی زیادہ خاص تھا جس کے لیے تم ہسپتال سے سیدھا اس کے گھر گئے ؟
شہریار نے بھی مکینکی آنکھوں سے دیکھتے کہا
سکندر نے ماتھے کو دو انگلیوں میں مسلا
بی جان آپ بتائیں آپ ٹھیک ہیں نا؟
وہ بنا ان کو جواب دیے بی جان سے پوچھنے لگا
ہاں شاید کہ تو مر ہی جاتی اگر فری بیٹی میرا خیال نا رکھتی تو
اسی دن سے یہ میرے پاس ہے ہر وقت میرا خیال رکھتی رہی ہے ورنہ تمہاری شکل دیکھے بنا کہاں ان بوڑھی آنکھوں کو سکون آنا تھا
بی جان نے محبت سے کہا جس پر سکندر کی نظر اسپر پھر سے پڑی
جو مسلسل اسے اگنور کر رہی تھی
سائشہ کہاں ہے؟ اس نے شہریار سے پوچھا
میرے الگ گھر میں ۔۔۔ شہریارنے کہا
کون سائشہ؟
سلمہ بیگم نے لاونج میں داخل ہوتے کہا
جب کہ سب نے ابھی تک کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا اس لیے پریشان ہوے
میری دوست ہے دراصل وہ یتیم ہے نا تو اس پاس گھر نہیں تھا اس لیے شہریار بھای کے گھر میں رنیٹ پر رہتی ہے ۔۔۔۔
فری نے بات بنای
اچھا ۔۔۔اچھا۔۔۔۔
سلمہ بیگم نے کہا پھر وہ سکندر سے اسکی طبعیت کا پوچھنے لگی
اچھا بی جان میں نے ایک لڑکی دیکھی ہے بہت ہی حسین ہے اتنی کہ اس کو ہاتھ لگائیں تو میلی نا ہو جاے اس قدر حسین ہے ۔۔۔ بے تحاشہ خوبصورت ہونے کے ساتھ امیر ترین ہے میری دوست کی بھتیجی ہے اور سب سے بڑی بات اکلوتی ہے میں نے وہاں شہریار کے لیے بات چلائ ہے ۔۔۔ کچھ دنوں میں وہ لوگ یہاں چکر لگائے گے
اس نے میری تو کوی بات نہیں ماننی آپ ہی اس سے کہہ دیجیے گا کہ ان کے سامنے زرا احتیاط کرکے بولے اور اپنا فلسفہ وہاں مت پیش کرے ۔۔۔
سلمہ بیگم بار کرتی وہاں سے اٹھ گئیں
جب کہ بی جان نے شہریار کے لال ہوتی چہرے کو پریشانی سے دیکھا
سکندر ۔۔۔ جلد از جلد تم شادی کرو تاکہ میں سائشہ کو اسکی اصل پہچان کے ساتھ یہاں لا سکوں
وہ کہتے بنا رکے حویلی کی باہر نکل گیا
جب کہ سکندر نے پریشانی سے اسکی پشت کو دیکھا
بی جان آپ میرے رشتے کی بات چلائیں ۔۔ وہ اب بی جان سے بولا جس پر وہ حیران ہوئیں ۔۔
لڑکی کہاں سے لاؤں ؟
بی جان نے کہا
آپ کے سامنے تو بیٹھی ہے ۔۔ اس نے اتنے آرام سے کہا جب کہ اس کا اشارہ فریال کی طرف دیکھ کر فریال کا منہ کھلا رہ گیا
میں آپ سے شادی سے انکار کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
وہ اسے یاد دلاتےصوفے سے اٹھ کر بولی
اس کے کھڑے ہونے پر سکندر بھی کھڑا ہوا اور اس کے پاس گیا اور پھر اس کی جانب زرا سا جھکا
ہاسپٹل میں اپنے کہے لفظ یاد ہیں نا میرا تو واپس آنے کا کوی ارادہ نہیں تھا تم نے کہا تھا میرے لیے آئیے گا اب آگیا ہوں تو مکر رہی ہو
وہ اسے دیکھتے بولا مگر آواز مدھم تھی شایان جو ہر ممکن کوشش کر چکا تھا کہ بات سن سکے مقدس نے ٹانگ اڑا کر اسے سکندر پر گرا دیا
سوری بڈی یہ اس موٹی نے ٹانگ اڑا دی تھی
اس نے مقدس کو دیکھتے کہا
اوے سوکھے چھوہارے خبردار مجھے موٹی کہا تو
ہاں تو ہر وقت کھاتی رہتی ہو ۔۔ وہ اسکے ہاتھ میں کیک دیکھ کر بولا
ہاں بچ کر رہنا کسی دن تمہیں بھی کھا جاؤں گی
وہ منہ بنا کر بولی
جب کہ شایان نے اسکی بات پر اپنی مسکراہٹ روکی ۔۔۔ افف جتنا کھاتی ہو نا تم سارا ان گالوں میں جار ہے
وہ اسکی موٹی سرخ وسفید عارضوں کی طرف اشارہ کرتا بولا
جس پر اس نے اس کے پاؤں پر اپنا پاؤں مارا
بلکل نہیں سارے جسم میں طاقت ہے سمجھے ۔۔ وہ منہ بناتی وہاں سے آگے بڑھی
جب کہ فریال جس بات کی وجہ سے اس سے چھپتی پھر رہی تھی
یوں اس کے منہ سے سن کر شرم سے دھری ہوی
دد دیکھیں ۔۔۔ اس نے کچھ کہنا چاہا
نہیں اب شادی کے بعد جی بھر کر دیکھوں گا وہ کہتا ایک آنکھ دباتا پیچھے ہوا
بی جان آپ سکینہ آنٹی سے میرے اور فریال کے رشتے کے بارے میں بات کریں
اس نے کہا جب کہ فریال کا اب وہاں کھڑا ہونا محال ہو گیا تھا
اچھا بی جان ہم چلتے ہیں ۔۔۔ ان دو دنوں میں بی جان نے اسے خود کو سردارنی جی سے بی جان بولنے کا کہا تھا
جی ہونے والی بھابھی میں اپکو چھوڑ کر آتا ہوں ۔۔۔۔
شایان کہتا باہر کی طرف بڑھا پھر مقدس کی گلابی گالوں کو نظروں میں رکھے وہ باہر چلا گیا
بد تمیز ٹھرکی ۔۔۔ وہ پیچھے بڑبڑای
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت عجیب بے چینی میں بیٹھی تھی جب برہان اس کے پاس آیا
کیا بات ہے کزن تم پریشان لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔ جی برہان بھای پھپھو نے اپکو بتایا تو ہوگا کہ حویلی والے میرا رشتہ لے کر آنا چاہتے ہیں
اس نے اسکو دیکھ کر پریشانی سے کہا
ہاں بتایا ہے اور مجھے اچھا لگا کم از کم تمہیں یوں فضول استعمال کے لیے وہ یہاں کے چکر نہیں لگا رہا بلکہ نکاح کرے گا اور عزت سے اپناے گا
اس کی بات پر فریال نے اسے دیکھا
کیا مطلب ہے آپکا ؟فری نے آئ برو آچکا کر کہا
دیکھو فری ۔۔۔ اس دن جب تم بے ہوش ہوی تھی دراصل میں اسی وقت گھر آیا تھا دروازہ کھلا تو اندر آیا مگر تم بے ہوش ہوتے گرنے والی تھی تو میں نے تمہیں بچایا گرنے سے پر وہاں سکندر آگیا اس نے آکر تمہیں مجھ سے اس حق سے چھینا تھا کہ مجھے لگا شاید میں ہی غلط تھا پھر اس کے آدمیوں نے مجھے اس دن سے لے کر اگلی صبح تک یرغمال بنایا اور میرے (اپنے ہاتھ پر آی چوٹ ۔۔۔ وہ اسکے سامنے پٹی والا ہاتھ دیکھاتا بولا)
اس ہاتھ پر سو چھڑیاں لگائ تھی کیونکہ میں نے تمہیں گرنے سے بچانے کے لیے تھاما تھا
دیکھو تم بھی میری زمہ داری ہو کل جب وہ یہاں آیا تھا تو میں نے ہی دوٹوک بات کی تھی ۔۔۔ تم پریشان مت ہو تم بوجھ نہیں ہو۔۔۔ اگر تم سکندر سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو تم پر کوی زبردستی نہیں ہے
برہان نے اسے دیکھ کر کہا
جب کہ فری کو حیرانی نے گھیر لیا
یعںی وہ شخص بنا کسی رشتے کے مجھ پر اپنا دھونس جما رہا ہے شادی کے بعد تو اس کی منمانیاں چلتی رہیں گی
وہ سوچ ہی سکی ۔۔۔
برہان نے چند لمحے اسے دیکھا پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت سلمہ بیگم نے حویلی میں شور مچا رکھا تھا
جب کہ شایان نے کانوں میں انگلیاں دے رکھی تھیں ۔۔۔ شہریار شور کی آوازیں سن کر کمرے سے نکلا
ارے بی جان ۔۔۔ ہر بار ہر بات میں آپ کی من مانی چلی ہے پر کچھ حویلی کی عزت کا خیال کر لیں
اب ہم ان کمی کمین لوگوں سے ان کی بیٹیوں کا رشتہ مانگیں گے اور وہ بھی اپنے حویلی کے سنگھار کے لیے
ان کو جب سے پتہ چلا تھا کہ آج بی جان سکینہ کی بھانجی کا رشتہ لینے جارہی ہیں تب سے مرچیں لگی تھیں اور اپنے غصے کا اظہار وہ نا جانے کب سے کر رہی تھیں مگر کوی سن نہیں رہا تھا
سلمہ کیا شور مچا رکھا ہے تم نے ؟ابراہیم شاہ کمرے سے نکلتے بولے
ارے آئیے آپ کو بھی ایک تازہ ترین خبر سنا دیتی ہوں ہماری بی جان سکندر کا رشتہ اس فٹیچر گھرانے میں کرنے جا رہی ہیں جو ہمارے گاؤں میں ہمارے ہی ٹکڑوں پر پلتے ہیں
ابراہیم شاہ نے اپنی بیوی کو افسوس سے دیکھا ۔۔۔ سلمہ ماں سائیں نے اگر ایسا فیصلہ کیا ہے تو اس کی کوی وجے ہو گی تم بلا وجہ کیوں ماحول خراب کر رہی ہو
ارے ماحول تو خراب ہو گا نا ۔۔۔ سائیں جی ۔۔۔۔
ماحول تو خراب ہو گا
وہ سلمہ بیگم تھیں جن پر کسی کی بات کا اثر نہیں ہوتا تھا
ارے آج سکندر کی شادی ایسے گھیسے پیٹے خاندان میں ہوگی تو کتنی بدنامی ہو گی اور پھر سوچیں ہمار بیٹا کل کو وہ کوی فرمائش کر دے کہ جاؤ جا کر فقیروں سے میرے لیے رشتہ مانگ لاؤ تو کیا آپ چل پڑیں گے؟
اوکے سٹاپ!
آپ کو کس نے کہا ہے کہ آپ میری ہونے والی بیوی کے لیے یا اس کے خاندان کے لیے اپنی خوبصورت رائے پیش کریں؟
کوی ضرورت نہیں ہے آپ کو کسی کو کچھ کہنے کی اگر آپ سے کوی سوال کرتا ہے کہ میں نے سردار سکندر نے کس سے اور کیوں شادی کی تو آپ اس کو مجھ تک پہنچا دیجیے گا
اور رہی بات شہریار کی ۔۔۔ تو آپ لوگوں نے اتنی محبت اور پیار سے اسے پالا ہے کہ اگر اسے کبھی اس کی ضرورت پڑی نا تو بھی وہ آپ لوگوں سے کچھ نہیں کہے گا
سکندر کی دو ٹوک آواز پر سب نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا
جو سفید شلوار قمیض پر بھوری چادر کیے جازب مرد کھڑا تھا
ارے میں تو بس ۔۔۔ سلمہ بیگم نے کچھ کہنا چاہا جس پر اس نے ہاتھ کے اشارے سے خاموش کروایا
یہ آپ کی زاتی زندگی ہے میں اس میں کبھی مداخلت نہیں کرتا پر بات یہاں میرے بھای کی ہوی ہے جس پر میں خاموش نہیں رہوں گا
آج تک اس کے ساتھ آپ لوگوں نے زیاتی کی اس کو وقت دینے کے بجاے آپ لوگ ہمیشہ لڑای کو فوقیت دیتے رہے اب اگر اس کی زندگی کا کوی فیصلہ کرے گا تو وہ خود کرے گا
چلیں بی جان ! اس نے بی جان کو دیکھا جنہوں نے فخر سے اپنے پوتے کو دیکھا
جو اپنی بیوی کے لیے لڑنا جانتا تھا
چلیں بڈی ۔۔۔ شایان نے سکندر کو بولے دیکھ کر انگلیاں کان سے نکالیں پھر اس کے کہنے پر وہ اٹھ گیا
اور پھر سکندر نے خاموش کھڑے شہریار کو دیکھا تو اس کے پاس گیا
تم نہیں چلو گے؟
کیوں نہیں میرے بھای کی زندگی کا اتنا بڑا دن ہے بھلا ایک بھای اپنی مصروفیات کو ترجیح دے گا یا اپنے بھای کی خوشی کو
وہ کہتے اس کے ساتھ ہولیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دستک ہوی ۔۔۔ تو سکینہ نے جا کر دروازہ کھولا
سامنے بی جان کھڑی تھیں ان کو دیکھ کر سکینہ مسکرائی اور ان کو اندر آنے کے لیے راستہ دیا
اس کے بعد ملازم ہاتھوں میں پھلوں اور مٹھائیوں کی ٹوکریاں لیے اندر اے ۔۔۔
جب کہ شہریار اور اس کے بعد سکندر اندر آئے
برہان نے مسکرا کر ان سب کو خوشامدید کہا ۔۔۔
آپ لوگوں کے آنے کی خبر میں نے بھائ صاحب کو دی تھی وہ بھی بس آتے ہی ہوں گے ۔۔۔۔سکینہ نے بی جان سے کہا
یہ بہت خوب کیا تم نے ۔۔۔ بی جان مسکرائیں
مقدس جوس لے کر ان کے پاس آئ ۔۔۔اور سب کو جوس دیا جب کہ اس نے شایان کو نا پا کر دروازے کی جانب دیکھا
جہاں وہ سر پر گھڑا رکھا ہوا تھا اور اندر داخل ہوا
اس کی حالت دیکھ کر شہریار سکندر اور مقدس کا قہقہہ گونجا
اس کی مدد برہان نے کی
شکریہ
وہ گھڑا رکھ کر گہرا سانس بھرتا بولا
یہ کیا ہے ؟ مقدس نے پوچھا ۔۔۔ جس پر شایان نے اسے دیکھا جس نے سرخ رنگ کی قمیض کے ساتھ سرخ رنگ کی شلوار پہن رکھی تھی جب کہ دپٹہ سلیقے سے سر پر رکھے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
یہ مٹکا ہے ۔۔۔ وہ اسے دیکھتے ہوے بولا
نظر آرہا ہے ۔۔۔ وہ اس کی نظروں پر جل کر بولی
ہاہاہا ۔۔۔ تم بھی تو اس کی طرح گول مٹول سی ہو۔۔۔۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا مقدس نے اسکی طرف دیکھا
آنکھوں میں آنسو پل بھر میں آئے تھے وہ جلدی سے اندر چلی گئ
اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر پہلی دفع شایان کو اپنے مزاق کرنے کی عادت سے چڑ ہوی بنا کسی کی نظر میں آئے وہ اس کے پیچھے اندر گیا
وہ سیڑھیوں پر بیٹھی سر گھٹنوں میں دے کر رو رہی تھی
ایم سوری ۔۔۔ شایان نےاس کے سامنے کھڑے ہوتے کہا
مقدس نے سر نہیں اٹھایا
یار ایم سوری قسم سے میں تو بس مزاق کر رہا تھا
کیا لگتے ہو تم میرے جو مجھ سے مزاق کرتے ہو ؟؟
کس حق سے مزاق کرتے ہو ؟؟
اس نے چہرہ گھٹنوں سے نکال کر اسے بھیگی سرخ آنکھوں سے دیکھتے کہا
جب کہ شایان کو چپ لگ گئ وہ کچھ کہہ ہی نہیں سکا کہ اس کے پاس کچھ کہنے کے لیے نہیں تھا
وہ چند لمحے اس کی روتی شکل دیکھتا رہا پھر نظریں جھکائ اور واپس باہر چلا گیا
وہ باہر آیا جہاں سکندر اور شہریار نے اسے دیکھا جس کا شدت سے چہرہ لال تھا
اس لیے نہیں کہ اسے بے عزت کیا تھا اس لیے کہ اسکی حرکت کی وجہ سے وہ اتنا رو رہی تھی
بھائ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے میں جا رہا ہوں
اس کی بات سن کر شہریار نے اس کو گردن سے پکڑا
چپ ۔۔۔ یہاں بیٹھو اور ایک اور لفظ نہیں ۔۔ وہ اسے اپنے ساتھ بیٹھاتا بولا
کچھ دیر میں خدا بخش بھی وہاں پہنچ گئے تھے
وہ ان کے سامنے بیٹھے تھے جب بی جان نے بات شروع کی
دیکھیں ہم آپ سے آپ کی بیٹی کا رشتہ مانگنے آئیں ہیں ہم اسے اپنی حویلی کی رونق بنانا چاہتے ہیں آپ کے آنگن میں کھلتا گلاب ہم اپنے آنگن میں خوشبو پھیلانے کے لیے لے جانا چاہتے ہیں
بی جان نے تمہید باندھے بنا کہا کیونکہ بات خدا بخش تک پہنچ چکی تھی
مگر میری اتنی حیثیت نہیں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ماں باپ کو اپنی حیثیت کے مطابق ہی بچیوں کی شادی کرنی چاہیے تاکہ وہ سسرال میں سر جھکا کر نا رہیں کہ ان کو کسی بات کا طعنہ یا طنز نا سننا پڑے
فریال اور مقدس پردے کے پیچھے کھڑی باتیں سن رہی تھیں
اپنے باپ کی بات پر فریال نے بھی سر اثبات میں ہلایا
بلکل بخش صاحب آپ کی بات درست ہے مگر جب کوی آپ کے در پر سوالی بن کے آئے اور آپ سے بھیک مانگے تو ان کو حیثیت دیکھ کر انکار نہیں کر دینا چاہیے
بی جان نے کہا
سکندر کی نظر پردے کے پیچھے کھڑے وجود پر پڑی تو وہ مسکرایا
آپ بے فکر ہو جائیں میں وعدہ کرتا ہوں کوی حویلی میں میری بیوی کو طعنہ تشنہ نہیں دے گا
سردار سکندر کی بات سن کر سکینہ اور بخش صاحب مسکرائے
اگر آپ وعدہ کرتے ہیں تو ہم اس پر یقین کرکے کے اپنے جگر کا ٹکڑا آپ کو دیتے ہیں مگر خیال رہے کہ اسے کوی تکلیف نا پہنچے
میں نے اسے ہمیشہ ماں باپ دونوں بن کر پالا ہے اس لیے اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا
بخش صاحب نے سکندر سے کہا
آپ پریشان مت ہوں آپ کے جگر کا ٹکڑا ہے تو میرا پورا دل ہے ۔۔۔
اسکی بات پر سب مسکرائے ۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے اب ہماری امانت آپ کے پاس چند دنوں کےلیے رہ گئ ہے بس کچھ دنوں۔ میں اس کا حق دار اسے لے جاے گا
بی جان کی بات پر بخش صاحب نے سر اثبات میں ہلایا اور اپنی آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرنے لگے
بابا۔۔۔
فریال باپ کی آنکھوں میں آئے آنسو دیکھ کر بھاگتی ہوی باپ کے سینے سے لگ گئ
بخش نے اس کو اپنے سینے میں بھینچ لیا
کچھ دیر رونے کے بعد وہ جب الگ ہوی تو نظریں سامنے بیٹھے سکندر سے ٹکرائیں ۔۔۔ وہ شرمانے کے بجاے اسے منہ بنانے لگی
افف یہ لڑکی نہیں سدھرے گی ۔۔۔ سکندر بڑبڑایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے وقت سلمہ بیگم نے ایک بار پھر تماشہ لگایا پھر رہی سہی کثر مائرہ نے نکالی
کیا واقعی ہی اتنی تھرڈ کلاس فیملی سے بہو لائیں گی آپ ؟
وہ بی جان سے بولی
بیٹا کوی تھرڈ کلاس نہیں ہوتا انسان اپنی گھٹیا سوچ اور ناپ تول جیسی گھٹیا عادت کی وجہ سے دوسروں کو خود سے کمتر سمجھتا ہے ۔۔۔
ورنہ اگر اللہ چاہے تو وہ پل میں فقیر کو بادشاہ اور بادشاہ کو فقیر بنا سکتا ہے
وہ کہتے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔۔
جب کہ شایان بھی مائرہ کے منہ نہیں لگنا چاہتا تھا اس لیے وہ اداس سا اپنے کمرے میں چلا گیا
سکندر جیسے ہی حویلی کے پورچ میں گاڑی پارک کرکے اندر آیا
سامنے مائرہ کھڑی تھی ۔۔۔ ایکس کیوز می۔۔۔۔اس نے سکندر کو پکارا
یس ؟ سکندر نے آی برو اچکای
کیا آپ کو لڑکیوں کی کمی تھی جو اس لڑکی کے لیے آپ نے ہاں کی؟
کیا آپ کو لڑکوں کی کمی تھی کہ آپ شایان کے پیچھے یہاں تک پہنچ گئیں ؟اس نے اس کے انداز میں سوال کیا
یہ میرا پرسنل میٹر ہے ۔۔ مائرہ جل کر بولی
تو آپ کو نہیں لگتا یہ میرا پرسنل میٹر ہے آپ کو بھی اپنی فضول اٹینشن میرے معاملے میں نہیں دینی چاہیے
اس نے کہا جب مائرہ نے اسکو دیکھا
میرا اور آپ کی ہونے والی وائف کا کوی مقابلہ نہیں ہے ۔۔۔
اس کا نام میرے نام سے جڑ چکا ہے ائندہ اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھنے سے پہلے اپنا لیول چیک کر لینا کہ وہ میرے پیچھے نہیں آئ میں گیا ہوں
اور شایان آپ کے پیچھے نہیں آپ اس کے پیچھے آئ ہیں
اس لیے فریال کااور آپ کا کوی مقابلہ نہیں
شی از ون این اونلی ۔۔۔۔۔
وہ اسے جواب دیتا کمرے کی طرف چلا گیا
اہہہہہہہ مجنو۔۔۔ وہ منہ بناتی جلتی کڑھتی کمرے میں چلی گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ISQ geeriyaan
10
اس وقت موسم کافی خراب تھا ۔۔ بارش کے آثار کافی زیادہ تھے سائشہ اس وقت ڑری سہمی صوفے پر بیٹھی گھٹنے سیںے سے لگاے ہوے تھی
بادل گرجنے لگے جب کہ بادل کی آواز پر اس نے آنکھیں بند کر لیں
وہ مسلسل آیت الکرسی پڑھ رہی تھی
جب کلک کی آواز سے مین ڈور کھلا سائشہ نے آنکھیں کھولیں اور پلٹ کر دیکھا
جہاں سے شہریار اندر آیا تھا
سائشہ دانت پیستی سارا ڑر خوف ایک طرف رکھتی صوفے سے اٹھی اور اس تک پہنچی
اب کیوں آئے ہیں ؟
شہریار نے اس کی جانب دیکھا جو تھانے دارنیوں والے سٹائل میں اس کے سامنے کھڑی تھی
مطلب؟ شہریار نے اسے دیکھ کر سوال کیا
مطلب یہ کہ یہاں کون رہتا ہے آپ کا؟ کیا ضرورت ہے یہاں آنے کی ؟
شہریار نے اس کے سوال پر سر جھکا لیا
یہاں میری ایک عدد بیوی رہتی ہے اور اسی سے ملنے آیا ہوں
شہریار نے سادگی سے جواب دیا
ہاں اس بیوی کی بات کر رہے ہیں نا جس کو یہاں لا کر پھر پلٹ کر دیکھا بھی نہیں
سائشہ اس وقت کافی غصے میں تھی
شہریار نے نظریں اٹھا کر اس کا غصیلہ چہرہ دیکھا
میں مانتا ہوں میری غلطی ہے ۔۔۔ آپ کا ناراض ہونا بنتا ہے پر میں آپ کو ساری بات بتاتا ہوں آپ بیٹھے تو صحیح ۔۔۔۔
وہ اسے نارمل کرنے کے لیے بولا
ہممم ۔۔۔ مطلب یہ پتہ ہے کہ میں ناراض ہوں پر اس بات کا بھی کوی فرق نہیں پڑتا اپکو ۔۔ وہ اب کی بار بولی تو لہجہ رندھا سا تھا ۔۔ آنکھوں میں آنسو آگئے تھے
اےےےے۔۔۔۔ شہریار نے آگے بڑھ کر اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما
اور اپنے انگوٹھے سے اس کے چہرے پر بہتے آنسو صاف کیے
فرق پڑتا ہے اسی لیے تو آیا ہوں
اس نے محبت سے پچکارتے کہا
سائشہ بنا کچھ کہے اس کے سینے سے لگ گئ ۔۔۔ آپ کو پتہ ہے میں نے ہر لمحہ آپ کا انتظار کیا ہے مجھے لگا تھا کہ آپ مجھ سے ملنے آئیں گے ۔۔۔
ہاسپٹل سے واپس چھوڑنے کے بعد آپ نے پلٹ کر دیکھا بھی نہیں کہ میں زندہ ہوں یا مر گئ
وہ کچھ دیر سینے سے لگی پھر پیچھے ہوتی اس کو دیکھتے بولی
ایم سوری ۔۔۔۔
شہریار نے شرمندگی سے کہا
آئیندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا ۔۔۔ وہ اسے صوفے کی طرف کے جاتے بولا
پھر اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھا
دراصل میں پریشان تھا آپ کو بھی پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے نہیں آیا
پر میں نے ہر منٹ کی خبر رکھی ہوی تھی ۔۔۔
وہ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے بولا
پریشان کیوں ؟ وہ سوالیہ ہوی
کچھ نہیں چھوڑیں آپ ۔۔۔
پلیز بتائیں نا ۔۔۔ سائشہ نے اثرار
کیا
ایکچولی میری ماں سائیں نے میرے لیے کوی لڑکی پسند کی ہے اس کے بارے میں وہ کافی خوش تھیں اس لیے میرا اس رات آپ کے پاس آنا مجھے صحیح نہیں لگا میرا خراب موڈ آپ کو بھی پریشان کرتا
اور پھر سکندر ہاسپٹل میں تھا تو میرا سارا وقت اسی کے ساتھ گزرا تھا
اس لیے میں آپ سے ملنے نہیں آیا
آپ کی ماں ہیں وہ ان کا حق ہے کہ آپ کے لیے وہ اپنی پسندیدگی کا اظہار کریں
سائشہ نے نظریں جھکا کر کہا
اچھا اور میری پسند کا کیا؟
وہ اس کے جھکے سر کو دیکھتا بولا جس پر سائشہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
میرے سکون کا کیا؟
وہ پھر سے بولا ۔۔۔۔
آپ جب مجھے لے کر جائیں گے تو آپ سے سب سوال کریں گے کہ آپ نے اتنے ہینڈصم ہونے کے باوجود مجھ جیسی سانولی رنگت کی لڑکی کو کیوں چنا ۔۔۔ جس کا نا کوی ولی وارث ہے ۔۔۔جس کے کردار پر انگلی اٹھانے والے بھی اس کے نام نہاد اپنے ہیں
وہ اس کی گال پر ہاتھ رکھتے بولی
شہریار مسکرایا
ہمممم ۔۔ اس نے اسکا ہاتھ جو اس کے چہرے پر رکھا تھا اس پر ہاتھ رکھا
میں کہوں گا کہ مجھے آپ سے عشق ہو گیا تھا اور جب عشق ہو جاے تو پھر شکل و صورت نہیں دیکھی جاتی
اس کی بات پر سائشہ کے چہرے پر رونق آئ
عشق؟
ہاں میں آپ سے عشق کرتا ہوں ۔۔۔
آپ کو دیکھ کر مجھے کچھ دیر کے لیے اپنے اندر کا خالی پن بھرتا محسوس ہوتا ہے اس لیے میں بہت جلد آپ کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا
شہریار نے کہا جس پر سائشہ مسکرای
مجھے یقین ہے آپ پر ۔۔۔۔ ابھی وہ بولی ہی تھی کہ بادل پھر سے گرجنے لگا
اس نے اس کے ہاتھوں پر شدت سے ہاتھ رکھے اور آنکھیں میچ لی
آپ کو بادل کی گرج سے خوف آتا ہے ؟
شہریار اس کی بند آنکھوں کو دیکھ کر بولا
سائشہ نے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
جس پر شہریار نے اس کے گرد اپنا حصار قائم کیا
ڑریں مت میں آپ کےساتھ ہوں
نا ۔۔۔
اسکی بات پر اس نے اسکے کندھے پر سر رکھ لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شایان باہر برستی بارش کو کھڑکی سے دیکھ رہا تھا
میں تم پر حق نہیں رکھتا تو تمہیں بھی کوی حق نہیں ہے ہر وقت میرے سامنے آکر مجھے اس قدر کیوٹ لگنا
اب تمہارے گال ہی اتنے موٹے موٹے کیوٹ کیوٹ ہیں اس میں میرا کیا قصور ہے
شایان منہ بناتا بڑبڑایا
پر وہ آج اتنا روی تھی افف اس کی آنکھیں بلکل ریڈ ہو گئ تھیں ۔۔۔ میں بھی پاگل ہوں وقت دیکھا نہیں اور بس مزاق شروع کر دیتا ہوں
کل سے وقت حالات دیکھ کر ہی اس سے مزاق کروں گا
وہ پھر سے اپنی سوچ پر بڑبڑایا
پر وہ محترمہ تو کہہ رہی تھی کہ کوی حق نہیں ہے
مجھے وہ اتنی پیاری کیوں لگتی ہے ۔۔۔ وہ اوپر آسمان پر دیکھتا بولا
جب کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
وہ ہے ہی اتنی کیوٹ تو تمہیں بھی تو لگے گی
سکندر کی آواز پر وہ جلدی سے پلٹا
بڈی میں مقدس کی بات نہیں کر رہا تھا ۔۔۔ وہ جلدی سے بولا
میں نے کب کہا مقدس کی بات کر رہے تھے ارے مجھے لگا تم اپنی بلی کی بات کر رہے ہو جو تم نے کل ہی لی تھی
سکندر نے اس کے چہرے کے اڑے رنگ دیکھ کر کہا
ہاں تو میں بھی تو اسی کی بات کر رہا تھا
پر وہ ہے کہاں ؟
میرے روم میں تھی اسےہی دینے آیا تھا تمہیں ۔۔۔ پر تم شاید کسی کو بری طرح یاد کر رہے تھے
اس نے مسکراہٹ چھپای
نہیں وہ میں تو بس ایسے ہی ۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ سے بلی لیتے بولا
بلی سفید رنگ کی تھی کافی خوبصورت بلی تھی نیلی آنکھیں چمک رہی تھی
جسے دیکھتے اسے پھر سے اپنی کیوٹ ہتھنی یاد آی
جس پر وہ مسکرایا
سکندر نے اسکی مسکراہٹ دیکھتی تو بنا کچھ کہے وہ بھی مسکراتا ہوا کمرے سے نکل گیا
افف کیوٹ ہتھنی تم جیسی یہ کیوٹ بلی ۔۔۔۔
وہ بلی کو اپنی باہوں میں لیتے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقدس رات کے پہر پکوڑے بنا کر کمرے میں لای
لو جی میڈم گرما گرم پکوڑے آپ کے خدمت میں حاضر ہیں ۔۔ اس نے پلٹ سامنے ٹیبل پر رکھتے کہا
جب کہ فریال مسکرائ
شکریہ ۔۔۔ وہ کہتے باہر برستی بارش کو دیکھنے لگی
مقدس ۔۔۔ مجھے بہت ڑر لگ رہا ہے ۔۔۔
وہ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد پھر بولی
وہ کس لیے مقدس پکوڑے انجواے کرتی بولی
حویلی کے لوگوں سے ۔۔۔
تمہیں ڑرنا نہیں ہاں بس کبھی ہار نہیں ماننی
دیکھو ۔۔۔ میں جانتی ہوں بی جان اور سکندر اور شہریار شایان تمہیں کوی تکلیف نہیں پہنچائیں گے
مگر وہاں سلمہ بیگم اور فائزہ بیگم بھی ہیں جو تمہیں چین سے جینے نہیں دیں گی
پر ہاں ایک بات ہے میں نے نوٹ کیا کہ بی جان نے بڑی مشکل سے اس گھرانے کو جوڑ کر رکھا ہے اور ان کے بعد ان کے پوتوں نے
تو تم کوشش کرنا کہ اس گھر کو کبھی ٹوٹنے مت دینا
ہمیشہ ایک اچھی بہو بن کر رہنا جو گھر کے افراد کو جوڑ کر رکھے
تمہاری اور دلہا بھای کی جو بھی لڑائ ہو اس کا گھر کے باقی افراد پر اثر نا پڑنے دینا
مقدس کی بات پر فریال نے مسکرا کر اسے دیکھا
اور تم نے یہ ساری باتیں کہاں سے پڑی ہیں
یار ایک ناول پڑھا ہے اس میں رشتوں کی اہمیت بتائ گئ ہے ۔۔ ان کو کیسے کوی ایک بہو جوڑ بھی سکتی ہے اور توڑ بھی سکتی ہے
تمہیں پتہ ایک اچھا رائیٹر ہمیشہ کچھ ایسا لکھتا ہے جس کا اس کی تحریر پڑھنے والے پر اچھا اثر پڑے انہیں ایک اخلاقی سبق ملے اور اس ناول کی خاص بات یہ کہ رائیٹر رشتوں سے محبت کے بارے میں بتاے گا
اور ان لڑکیوں کے لیے جو بس شادی کے بعد لڑکوں کو لے کر الگ ہو جاتی ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں اس لیے ہمیں بھی مل جل کر پیار محبت سے سب کو ساتھ لے کر اکھٹا رکھنا چاہیے
واہ مقدس بات تو تمہاری ٹھیک ہے بی جان کس قدر اکیلی ہو جاتی ہیں حلانکہ ان کی بہوؤں کو ان کے ساتھ رہنا چاہیے ۔۔۔ جب ماں آپنے بچوں کو نہیں چھوڑتی تو بچے کیوں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں
فریال نے بھی اداسی سے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار صبح حویلی آیا تو سلمہ بیگم نے اسے دیکھا جو کہ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی تھیں ۔۔۔
یہ تم صبح صبح کہاں گئے ہوے تھے ؟
شہریار نے ان کے سوال پر بی جان کو دیکھا کیونکہ وہ اپنی بیوی کے پاس ان کو بتا کر گیا تھا وہ سائشہ کی عزت کے معاملے میں کمپرومائز نہیں کر سکتا تھا
ضروری کام سے گیا تھا۔۔۔
وہ نظریں جھکا کر بولتا جانے لگا
اچھا رکو آج میری دوست کی فیملی حویلی آرہی ہے تو تیار رہنا میں چاہتی ہوں اس فٹیچر گھر سے بہو لانے سے پہلے میں اپنی بہو لے آؤں
سلمہ بیگم نے کہا جس پر سکندر جو کہ ٹیبل کی طرف ہی آرہا تھا دانت پیس کر ان کو دیکھنے لگا
آپ کو میرے لیے اتنی محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں بچہ نہیں ہوں
ویسے بھی جب آپ کی اٹینشن کی ضرورت تھی تو آپ نے بچہ سمجھ کر بھی وقت نہیں دیا اب تو میں بڑا ہو گیا ہوں شہریار نے دوٹوک لہجے میں کہا
وہ کہتے بنا رکے وہاں سے اپنے کمرے میں چلا گیا
جب کہ سلمہ بیگم نے شہریار کی پشت کو گھورا ۔۔۔
یہ لڑکا کبھی میری نہیں سنے گا۔۔۔
ہاں تو کیسے سنے گا جب وقت پر ماں باپ اپنی مصروفیات کو ترجیح دیتے ہیں تو پھر ماں باپ کو بدلے میں وہی ملتا ہے جو بویا ہوتا ہے
کاش کہ تم نے کچھ وقت ہی بویا ہوتا کہ بدلے میں تمہیں اپنی اولاد کا وقت مل جاتا
بی جان کی بات پر سلمہ بیگم نے ان کو دیکھا
یہ سب آپ ہی کا کیا دھرا ہے آپ نے اس کے زہن میں ماں کے خلاف زہر بھرا ہے
سلمہ بیگم نے بی جان سے کہا
خود کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ ہے چچی سائیں ۔۔۔۔۔
بی جان نے تو اس بکھرے وجود کو سنبھالا ہے
سکندر ٹیبل پر آتا بولا ۔۔۔ اور بی جان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر مسکرایا
ارے تم تو یتیم مسکین تھے تمہیں تو بدتمیز بنا دیا میری اولاد کو بھی میرے خلاف کر دیا
وہ بی جان کے لیے زہر اگلتی وہاں سے اٹھ گئ
جب سکندر نے مٹھیاں بھینچ لیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شایان کو بہت سخت بخار تھا اس لیے وہ صبح سے کمرے سے نہیں نکلا تھا
سکندر گاؤں کے کسی مسلے کی وجہ سے اس پر دھیان نہیں دے پایا تھا
اب مقدس اور سکینہ شادی کے کچھ معاملات کے لیے حویلی آئے تھے
ارے آسیہ جا کر شایان کو اٹھاؤ بی جان نے ملازمہ کو کہا
کچھ دیر میں ملازمہ نیچے آئ
بڑی سردارنی جی چھوٹے سائیں کو بہت تیز بخار ہے
اس نے آکر کہا جس پر مقدس بھی پریشان ہوی
یا خدا ۔۔ اب میں کیسے اوپر جاؤں بی جان بڑبڑائیں
آپ بیٹھیں میں دیکھتی ہوں ۔۔ مقدس اٹھی اور ناشتے کا ٹرے لے کر ملازمہ سے پوچھ کر اس کے کمرے میں گئ
دستک دی مگر جواب نہیں ملا
وہ خود اس سے کل والی بات پر ناراض تھی مگر پھر یہ سوچ کر کے بھلا وہ اس سے کیوں خفا ہے اس بات پر ناراضگی ایک طرف رکھتی کمرے میں آئ
دستک کا جواب نا ملنے پر وہ خود ہی کمرے میں آئ
جہاں کمرے میں ہر طرف اندھیرا تھا ۔۔۔ پردے ساری کھڑکیوں پر ڈالے گئے تھے جس کی وجہ سے باہر کی روشنی کمرے میں نہیں آرہی تھی
اس نے ٹیبل پر ناشتہ رکھا پھر اس کے سوے ہوے وجود کو دیکھا
دور ہی کھڑے ہو کر اسے آواز دی
شایان تمہارا ناشتہ ۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آواز پر وہ جو گدھے بیچ کر سویا تھا ٹس سے مس نا ہوا
اوے سوکھے چھوہارے ۔۔۔ وہ پھر سے بولی ۔۔۔
مگر پھر اسے ویسے ہی سوے دیکھ کر اس نے قدم اس کی طرف لیے اور پھر اس کو کمفرٹر میں دبکے دیکھ کر وہ۔آس پاس دیکھنے لگی
پھر ٹیبل پر پانی کا جگ پڑا دیکھ کر اس کو مستی سوجی ۔۔ اور پانی کے چند قطرے ہاتھوں پر ڈال کر اس پر پھینکے ۔۔ مگر وہ منہ کمفرٹر کے اندر دے گیا
ارے ۔۔۔ یہ کیا اس کو تو پتہ بھی نہیں چلا مقدس بڑبڑای
پھر اس نے پانی کا جگ اس پر پھینک دیا
اہہہہ وہ چیختا ہوا اٹھ کر بیٹھ گیا
اففف پانی تھا تیزاب نہیں جو اس طرح چلا رہے ہو
وہ اس کے چلانے پر ڑر گئ تھی پھر اس کو گھورتے ہوے بولی
تم ۔۔۔۔
تم میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو؟
وہ بیڈ سے اٹھتا بولا
وہ تمہاری تیمارداری کے لیے آئ تھی
مقدس نے آنکھیں پٹپٹاتے بولا
تو تمہارے ہاں اس طرح تیمارداری کرتے ہیں ۔۔۔۔ ؟
وہ جل کر بولا ۔۔۔ساری شرٹ گیلی ہو گئ تھی اس نے الجھن کے مارے اتارںی چاہیے
اہہہہ بدتمیز میرے سامنے شرٹ اتارو گے۔۔۔ مقدس اسکی حرکت پر آنکھوں پر ہاتھ رکھتے بولی
اووو سوری ۔۔۔ پر تم یہاں کیسے آئ ہو؟
وہ معزرت کرتے بولا
اس نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹاے
وہ تمہیں بخار تھا تو میں حویلی آئ تھی اس لیے سوچا ناشتہ کروانے کے بعد میڈیسن دے دوں۔۔۔۔
اووو اچھا پر میں تمہارا کیا لگتا ہوں ؟؟
وہ آی برو آچکا کر بولا
کک کچھ نہیں ۔۔۔ وہ اب کی بار نظریں جھکا گئ
پر اگر میں تمہارا سب کچھ بننا چاہوں تو؟
شایان نے اس کو نظروں میں رکھتے کہا
جس پر مقدس نے کوی جواب نہیں دیا سر نفی میں ہلایا اور پھر کمرے سے نکل گئ
جب کہ شایان نے گہرا سانس لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر اس وقت سلمہ کی باتوں کی وجہ سے کافی پریشان تھا اس نے سب گاڑز کو کچھ دیر تنہای کا کہا تھا کہ کوی اسے تنگ نا کرے اسوقت خاموشی سے بیٹھا وہ ندی کے کنارے وہ پڑے پتھروں سے پتھر اٹھا کر ندی میں راوں پانی میں پھینک رہا تھا
وہ اس وقت کسی بھی قسم کے سخت پن سے ایک الگ انسان لگ رہا تھا
فریال جو برہان کے ساتھ باہر گھوم رہی تھی اس کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی تو حیرت سے منہ کھل گیا
اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ شخص بھی کیا ایسے پریشان نظر آسکتا ہے جس کا چہرہ ہر وقت پتھروں جیسا سخت تنا ہوا ہوتا تھااس نے ساتھ چلتے برہان سے کہا کہ
برہان بھای آپ جائیں میں سوچ رہی تھی کہ ردا کے گھر چلی جاتی ہوں ۔۔۔ وہ وہاں پر تھوڑا دور ہی وہ ایک گھر کی طرف اشارہ کرتے بولی
اچھا چلو میں وہاں چھوڑ دیتا ہوں اس نے کہا
نہیں نہیں آپ جائیں میں چلی جاؤں گی ۔وہ کہتے خود اس گھر کی طرف چل پڑی ۔۔۔ جس پر برہان بھی سر اثبات میں ہلاتا گھر کی طرف چلا گیا
اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
فریال جلدی سے واپسی کے قدم لیتی ندی کے پاس بیٹھے سکندر کے پاس بھاگتی ہوی آئ
جب کہ اچانک وہاں کسی کی آہٹ محسوس کر کے اس نے نظریں اٹھا کر اوپر دیکھا
فریال کو دیکھ کر وہ مسکرایا پر پھر مسکراہٹ چھپای
تم ۔۔۔۔ یہ ایسے کیسے آئ ہو تم ۔۔ وہ اس کے بھاگ کر آنے پر سوال کرتا بولا
فریال اس کے سامنے پڑے پتھر پر بیٹھ گئ
نہیں تو میں کیا کوی فلم ہوں کہ پہلے ٹریلر آے گا پھر میں آووں گی ؟
وہ اسے دیکھتے بولی ۔۔۔۔
تم نہیں سدھر سکتی وہ دوبارہ سر جھکا کر بیٹھ گیا
ویسے مسٹر اکڑو ۔۔۔ یہ آج تمہیں کیا ہوا ہے ؟
بجھا چہرہ جھکا سر ۔۔۔ خیریت ؟
تمہیں کیا فرق پڑتا ہے تم تو خوش ہو گی کہ میں جھکے سر کے ساتھ بیٹھا ہوں
اس نے آج کسی اور ہی انداز میں بات کی جس پر فریال ٹھٹھکی
تم ٹھیک تو ہو نا؟
یہ ایسے کیوں بات کر رہے ہو؟
اچھا جب ٹھیک نہیں تھا تو تم ملنے تک نہیں آئ ۔۔۔
سکندر نے دھیمے لہجے میں کہا
حیرانگی ہو رہی ہے مجھے تمہارے اس انداز پر تم اس طرح تو بات نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔
جن سے محبت کرتا ہوں ان کے لیے انداز بدل لیتا ہوں
وہ نظریں سامنے ندی پر جمائے بولا
فریال اسکی بات پر اسے دیکھے گئ
ہممم۔۔۔۔کیا کچھ ہوا ہے جس پر اداس ہو ؟
ماں سائیں اور بابا سائیں کی یاد آرہی ہے ۔۔ وہ دکھی لہجے میں بولا
فریال نے بات سن کر سر اثبات میں ہلایا
چند پل کی خاموشی کے بعد سکندر نے اسے دیکھا
کچھ کہو گی نہیں ؟
ماں باپ ایسی ہستیاں ہیں کہ کوی اگر ان کے بچھڑنے پر تسلی دے تو بھی وہ زخم نہیں بھر سکتے
بس اللہ ہمیں صبر دے دیتا ہے ورنہ اپنے پیاروں کو کھونا بہت مشکل ہے
وہ بھی دکھی لہجے میں بولی
تم اس طرح اداس اچھی نہیں لگتی
۔۔۔۔۔۔۔
تم بھی نہیں لگتے۔۔۔۔ وہ اسے دیکھتے بولی
ہممم۔۔۔۔۔ایکچعلی ہم دونوں بس لڑتے ہوئے اچھے لگتے ہیں سکندر مسکرا کر بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقدس بیٹا ۔۔۔ سکینہ نے اسے آواز دی جو کمرے میں جانے کیا کر رہی تھی
جی اماں ؟وہ باہر آتے بولی
ارے تم نے اسد کو کال کی ہے ؟
وہ کس لیے مقدس نے منہ بناتے کہا
ارے بھئی وہ میرے گھر کا داماد ہے ۔۔۔ اس کو کل نکاح کے لیے بلانے کا سوچا ہے میں نے
پر اماں مجھے اس سے شادی نہیں کرنی ۔۔۔ مقدس نے روتی شکل بنا کر کہا
کیا بول رہی ہو تم ۔۔۔؟ سکینہ نے پریشانی سے کہا
اماں وہ کل جو مجھے میرے موٹے ہونے کے طعنے دے گا مجھے نہیں کرنی اس سے شادی
پچھلی دفع بھی وہ مجھ کہہ کر گیا تھا کہ میں خود کو بدلوں اس طرح اس کی بے عزتی ہو گی
وہ ان کے پاس بیٹھتی بولی
ارے میری بچی ۔۔۔ وہ کچھ نہیں کہے گا میں سمجھاؤں گی
مقدس نے اپنی ماں کو کوی جواب نا دیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج شایان کو کیا ہوا ہے؟
شہر یار کافی دیر کی خاموشی کو نوٹ کرتا اب بی جان سے بولا تھا ۔ اس کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
کیا ہوا ُاسے؟ شہر یار نے پریشانی سے کہا ۔
پتہ نہیں جب سے ہم فریال کے گھر سے لوٹے تھے تب سےعجیب بجھا بجھا سا ہے جیسے کچھ تو ہے جو ہم سے چھپا رہا ہے۔
اگر ایسی بات ہے تو آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بنایا شہریار پریشان ہو گیا تھا ۔ بھلا پہلے کب انہوں نے شایان کو اسطرح چپ دیکھا تھا۔۔۔۔
بیٹا تم اپنی زندگی کے مسائل سے اس طرح پریشان تھے اس لیے نہیں بتایا
آپ کی بات ٹھیک ہے بی جان پر آپ مجھ سے کچھ مت چھپایا کریں اپنے دل کا بوجھ میرے ساتھ ہلکا کر لیا کریں
وہ ان کے گرد حصار قائم کرتا بولا
جس پر بی جان مسکرائیں
اچھا چلیں میں شایان شیطان کو دیکھوں زرا۔۔۔وہ کہتے اٹھا اور پھر رخ شایان کے کمرے کی طرف لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر اس وقت اپنے کمرے میں آرام کررہا تھا اسے کافی تھکان محسوس رہی تھی ۔۔۔
وہ آنکھیں موند کر بیٹھا تھا۔۔۔ آنکھوں میں فریال کا عکس لہرایا
وہ مسکرایا ۔۔۔۔۔
جنگلی بلی ۔۔۔۔ وہ اس کے ساتھ اپنی ساری ملاقاتوں میں اس کا جلالی روپ دیکھ یاد کرتا بولا
پھر کچھ دیر کے بعد اس نے موبائل اٹھایا
اس نے اپنے گاڑ کو کچھ میسج کیا
کچھ ہی دیر میں گاڑ کے نمبر سے ایک نمبر اس کو سینڈ کیا گیا
سکندر نے اس نمبر پر کال کی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریال اس وقت گہری نیند میں تھی ۔۔۔ جب اسکے تکیے کے نیچے پڑا موبائل رنگ ہوا
فریال کو اپنی نیند سے بڑا پیار تھا اس لیے اس نے تکیے کے نیچے سے موبائل نکال کر بنا دیکھے کال کاٹ دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر جو اس کی آواز سننا چاہتا تھا اس کی اس حرکت پر اس نے موبائل کان سے ہٹا کر موبائل کو اپنی ہری کانچ سی آنکھوں سے ایسے دیکھا
جیسے سارا قصور اس موبائل کا ہے
فری تم میرے ہاتھ لگ جاؤ ۔۔۔۔ میری کال کاٹنے کی سزا تو میں تمہیں بہت بری دوں گا
وہ موبائل بیڈ پر پٹختے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تم مجھ سے آخر کیا چھپا رہے ہو؟
وہ دروازے پر دستک دیے بنا اس کے کمرے میں داخل ہوتا بولا
شایان جو موبائل کان سے لگاے کسی سے بات کر رہا تھا اس نے کال کاٹ دی
کیا ہوا بھای ۔۔۔؟ وہ سوالیہ ہوا
شہریار اس کے پاس بیڈ پر جا کر بیٹھا
تم وہاں سے واپس کیوں آنا چاہتے تھے؟ کیا تم بھی ماں سائیں کی طرح غریب طبقے ۔۔۔۔
ابھی وہ بات پوری کرتا جب شایان نے اسے ٹوکا
بلکل نہیں بھائ آپ جانتے ہیں میرے نزدیک یہ پیسہ نہیں انسان اہمیت رکھتے ہیں
ہاں ہو سکتا ہے کہ میں اگر اپنے والدین کے ساتھ رہتا تو ایسا بن جاتا مگر میری پرورش میں بی جان نے محبت لگن کے ساتھ دوسروں کی عزت اور ان کا احترام کرنا بھی ڈالا ہے
شایان نے شہریار کو جواب دیا ۔۔۔شہریار نے اسے دیکھا
پھر تمہارے اچانک اس اترے ہوے چہرے کی وجہ ؟
مقدس ۔۔۔۔
شایان نے یک لفظی جواب دیا
کیا مطلب ؟ شہریار چونکا
مطلب میں نے مزاق کیا تھا جو اسے برا لگ گیا اور وہ میری وجہ سے رو رہی تھی
اسی لیے میرا موڈ بھی خراب ہو گیا تھا
اس کی بات سن کر شہریار نے اسکے گرد اپنے بازو پھیلائے
تم تو لڑکیوں کی طرح نازک دل کے ہو۔۔۔۔ میری چھنو۔۔۔۔
اس نے مزاقیہ کہا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ شایان واقعی میں بہت نازک دل ہے وہ سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ان دونوں کا لاڑلہ تھا
افف بھائ چھنو مت کہا کریں ۔۔۔ میں نہیں ہوں آپ کی چھںو۔۔۔ وہ چڑتے ہوے بولا
بھئ میری تو تم چھنو ہو۔۔۔ مجھے نہیں پتہ شہریار ہستے ہوے بولا
ارے ہاں چھنو سے یاد آیا۔۔۔۔ میری بھابھی کیسی ہیں؟
شایان نے شہریار سے کہا
جس پر شہریار مسکرایا
ہممم ٹھیک ہیں۔۔۔۔
اچھا تو مجھے ان سے ملائیں گے کب ۔۔۔ بس ایک دفع نکاح پر دیکھا
بات بھی نہیں کی ۔۔۔ وہ منہ بناتے بولا
اچھا کل تیار ہو جانا لے جاؤں گا۔۔۔ شہریار کہتا مسکراتا اٹھا
دیکھو شایان تم ہم سے چھوٹے ہو ۔۔۔اگر کبھی کوی بات ہوی تو ہم سے کرنا ۔۔۔ بات دل میں رکھنے سے تکلیف دیتی ہے۔ ۔۔۔
وہ اس کا بڑا بھای تھا جانتا تھا کہ اس نے بات بدل دی تھی اس لیے کہتا اس کے کندھے پر تھپکی دیتا کمرے سے باہر چلا گیا
جب کہ شایان افسردگی سے مسکرایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل ان کا نکاح تھا فریال کافی پریشان تھی کیونکہ پہلے بات صرف نکاح کی گئی تھی مگر بی جان نے خدا بخش کو کال کر کےنکاح کے ساتھ رخصتی کا کہا تھا جس پر فریال پریشان تھی
مقدس اسکے پاس آئی کیا بات ہے؟ تم اتنی پریشان کیوں ہو ؟۔۔۔۔۔۔
فریال کودیکھتے کہا
میرا دل نہیں مان رہا کہ ابھی رخصتی ہوتی ۔ فریال نے مقدس کو
کہا
کیوں ؟ دیکھو شادی ایک ہفتے بعد ہونی تھی اب ساتھ ہی ہو رہی ہے تو کیا مسئلہ ہے ہونی تو تھی ہی نا
مقدس نے اس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ رکھ کر اسے تسلی سے بات سمجھائی
ہاں لیکن دل عجیب سی ترز پر بے چین ہے ۔۔۔ میں تم سب کے بغیر کیسے رہوں گی
وہ اس کے کندھے پر سر رکھتی بولی
ارے یار تم اتنی اداس مت ہو ۔۔۔ میں تم سے ملنے آتی رہوں گی ۔۔۔ فکر مت کرو
ویسے بھی یہ سب تو ہر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے نا
ہر لڑکی کو اپنا گھر چھوڑ کر جانا ہوتا ہے اور ایک نئے رشتے کے ساتھ جڑنا ہوتا ہے
مقدس کی بات پر فریال کے چہرے پر گھبراہٹ واضح تھی
یار یہ بات بھی الگ ہے دیکھو زرا ہم لڑکیاں نازک ہوتی ہیں ۔۔ اور لڑکے بہادر
پھر گھر چھوڑنا اپنو کو چھوڑنا لڑکی کے حصے میں کیوں آتا ہے
وہ کافی اداس تھی اپنو سے دور جانے کا سوچ کر ہی دل پسیج رہا تھا
سکینہ بی کمرے میں آئیں تو اس کی بات سن کر مسکرائی پھر ان کی طرف بڑھیں
یہ تو دنیا کا دستور کے بیٹا ۔۔۔۔۔۔ اور کس نے کہا لڑکیاں صرف نازک ہوتی ہیں
کبھی تم نے دیکھا ہے سب سے زیادہ ہارٹ اٹیک مردوں کو آتے ہیں وہ ٹینشن برداشت نہیں کر پاتے جب کہ ان کی نسبت عورت ہمت والی ہوتی ہے
اتنی تکلیفیں پریشانیاں برداشت کرتی ہے
اور مشکل وقت میں اپنے مرد کا ساتھ بھی دیتی ہے
دیکھو بچے میں تمہاری ماں کی جگہ ہوں
میری ایک نصحیت اپنے دماغ میں سما لو
جب ایک لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو بیٹا اس کا رشتہ اس گھر سے جڑتا ہے نا کہ اس مرد سے ہی
آپ جب نکاح میں جاتے ہیں تو وہ مرد بے شک آپ سے نسبت کرتے اور آپ اس سے مگر گھر والوں سے بھی آپ کا رشتہ بن جاتا ہے
اور پھر لڑکے کے جتنے رشتے ہوتے ہیں انہیں اتنی ہی ایمانداری کے ساتھ عورت کوبھی نبھانا ہوتا ہے
سکینہ بی کی بات پر فریال سیدھی ہو کر بیٹھی ان کے سامنے ان کی باتوں کو غور سے سن رہی تھی
اور ہاں جب مرد کہے نا کہ اسے کسی شخص سے آپ کے بڑھتے روابط پسند نہیں تو اس کام سے رک جاؤ
کیونکہ وہ مزاجی خد ہوتا ہے ۔۔۔ اس لیے کبھی بھی کوی بھی ایسا کام مت کرنا جس سے اس شخص کے دل میں تمہیں لے کر کوی بال آئے ۔۔۔۔ وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتی سمجھا رہی تھیں ۔۔ وہ جانتی تھیں اس وقت اس کے دل کی کیفیت کیا ہو گی اسی لیے وہ اسے ایک اچھی ماں کی طرح اسے گھر جوڑنا سیکھا رہی تھیں نا کہ توڑنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مطلب بی جان ؟ وہ ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹا تھا ۔۔۔ جب کہ وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلارہی تھیں
مطلب یہ کہ لڑکی آپ کے لیے جب اپنا گھر اپنے رشتے چھوڑ کر آتی ہے تو آپ کو چاہیے کہ پھر پوری ایمانداری سے اس کے ساتھ اپنے مکمل خلوص کے ساتھ رہو
اور اگر لڑکی گھر بسانا نا چاہتی ہو؟ وہ نا جانے یہ سوال کیوں کر رہا تھا
بی جان اس کے سوال پر مسکرائیں
پتر لڑکیاں محبت کی بھوکی ہوتی ہیں
اگر وہ اس سوچ سے اے بھی کہ وہ آپ کے ساتھ گھر بسانا نہیں چاہتی تو آپ کو چاہیے کہ اسے اتنی محبت دو کہ وہ مجبور ہو جاے آپ کی محبت کے آگے ہار مان جاے
محبت سے کہی ایک بات بھی عورت مان جاتی ہے
بیٹا کبھی بھی عورت کو توڑ کر اسے سیدھا کرنے کی کوشش مت کرنا
کیونکہ عورت ٹیڑی ہڈی سے بنی ہے جب تم اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو وہ ٹوٹ جاے گی مگر ویسی نہیں ہو پائے گی جیسے تم چاہتے ہو گے
اچھا بی جان اگر لڑکا اسے اپنے حساب سے ڈھالنا چاہے تو؟
وہ اب سیدھا ہو کر بیٹھا
محبت یہ نہیں ہے کہ تم نے اسے پا لینے کے بعد پھر اسے بدلنا چاہا
اگر محبت ہوتی ہے تو پھر انسان کو اس شخص کی ہر اچھی بری عادت کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے
ہاں مگر بعض اوقات کچھ بدلاؤ ضروری ہو تو اس کے لیے بھی محبت ہی حل ہے
بی جان کی بات پر اس نے گہرا سانس لیا
یعنی مرد کا کوی رعب نہیں ہوتا اپنی عورت پر؟
ارے جھلے محبت ہو جاتی ہے تو عورت اپنے مرد کی آرام دہ لہجے میں کہی بات کو پھتر پر لیکر کی طرح سمجھتی ہے
عورت اپنے مرد کا کبھی جھکا سر نہیں دیکھ سکتی یہ اس کی محبت کی توہین ہوتی ہے
بی جان پر وہ مسکرایا ۔۔۔۔
جب شایان ہانپتا کانپتا کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔ ان کی آخری بات وہ بھی سن چکا تھا
بی جان ایک تو آپ نے اچانک شادی تیار کر دی ۔۔۔ باہر رات کے فنکشن کے لیے تیاری کروانی ہے
اور آپ دونوں یہاں رازونیاز کر رہے ہیں ۔۔۔۔
وہ ان کے پاس آتے بولا
ہاں بس ہم لوگ آہی رہے تھے رات کی ساری تیاری شام تک ہو جانی چاہیے ہمارے سارے مہمان پہنچنے سے پہلے حویلی میں شادی کی ساری تیاری ہو جانی چاہیے
بی جان بھی جلدی سے اٹھتی سکندر کے ساتھ باہر کی طرف بڑھیں اور ساتھ ان لوگوں کو کام کی نصحیت بھی کر رہی تھیں
ارے بی جان آپ بس یہاں بیٹھ جائیں ۔۔۔ سکندر نے انہیں لاونج میں آکر صوفے پر بیٹھایا
آپ سب ملازموں کو بیٹھ کر سارے کام بتائیں
میں ساری لائٹس اور ڈیکوریشن کرواتا ہوں ۔۔۔۔۔
شہریار کو میں نے کھانے کی ساری تیاری کا کہا
اور شایان تم ملازموں سے کام کرواؤ اپنی نگرانی میں
سکندر نے بی جان جو بیٹھا کر کہا
اوکے بڈی ۔۔۔۔میں نے آپ کے اور بھائ کے کپڑے بھی اڑر کر دیے ہیں
شاباش یہ تو تم نے ٹھیک کیا ۔۔۔ بی جان نے اسے شاباشی دی
پھر کچھ دیر میں ملازموں کی دوڑ ادھر سے ادھر لگنے لگی ۔۔۔ بی جان بیٹھ کر سب ملازموں کو رات مہندی کے فنکشن سے پہلے حویلی کی ساری صفائ اوربقیا کام کروا رہی تھیں
جب کہ سکندر باہر لائیٹس کا کام کروا رہا تھا
حویلی میں اتنی بھگڈر پر مائرہ اپنے کمرے سے نکلی تو حیران ہوی
پھر بی جان کے پاس آئ ۔۔۔
بی جان یہ سب کیا ہو رہا ہے؟
بیٹا آج رات سکندر کی مہندی ہے ۔۔ اور تم بھی اپنی تیاری کر لو۔۔۔۔
اووہہ۔۔۔ تو آپ نے پھپھو کو انفارم کیا
ہاں بیٹا میں نے اج صبح ہی کال کر کے اسے آنے کا کہا تھا ہو سکتا ہے پہنچنے والے ہوں
انہوں نے کہا جس پر وہ سر ہلاتے وہیں بیٹھ کر اپنے لیے کسی ڈیزائنر کے کپڑے سیلیکٹ کرنے لگی
سلمہ بیٹا تم کیچن میں زرا ایک دفع دیکھ لو کہ کوی سامان کم نا ہو ۔۔۔ اگر وکی کمی ہے تو بتا دو منگوا لیں
بی جان نے کہا جب کہ سلمہ بیگم کو تو اس غریب گھرانے میں شادی ہونے پر غصہ تھا
جی بی جان میں دیکھتی ہوں ۔۔۔ مگر جو بھی تھا حویلی میں پہلا فنکشن تھا اس لیے وہ بھی کیچن میں جاکر کام کرواںے لگیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ISQ geeriyaan
11
ارے برہان تم ابھی تک یہاں بیٹھے ہو ۔۔۔ تمہیں کہا بھی تھا کہ گھر کی ڈیکوریشن کے لیے لوگ بلاؤ
سکینہ نے اسے کمرے میں بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر کہا
اماں میں نے کال کر دی ہے بس وہ وہ لوگ آتے ہی ہوں گے ۔۔۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے باقی بچیوں کے کپڑے اور وہ سب کچھ ۔۔۔
میں نے مقدس کو پیسے دے دیے تھے وہ لوگ اپنی تیاری اون لائن کر لیں گی
اچھا چلو بیٹا وقت کم ہے تم بھی جلدی سے کام کرواؤ
سکینہ کہتے کمرے سے نکل گئیں
واقعی اماں وقت کم ہے مجھے جو کرنا ہے وہ جلد ہی کرنا ہو گا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ς๏๓๓เภﻮ ร๏๏ภ
سکینہ نے مقدس کو صفے پر لکھی تحریر پڑھنے کا کہا
جس کو جیسے جیسے مقدس پڑھ رہی تھی سکینہ کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے
یہ لڑکی کہاں چلی گئ باہر بارات آگئ ہے اور دلہن ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فائزہ بیگم حویلی پہنچی کچھ دیر کی تھکاوٹ کے بائث وہ آرام کر رہی تھیں ب
اب وہ بی جان سے بولیں
سکندر کا رشتہ کیا کہاں ہے؟ وہ کافی خوش تھیں سکندر کی شادی کو لے کر
وہ ۔۔۔۔ بی جان نے کچھ کہنا چاہا
جب سلمہ بیگم نے ان کی بات ٹوک دی
ارے فائزہ ۔۔۔ ہمارے گاؤں کے ایک فٹیچر گھرانے کی معمولی حیثیت کی لڑکی سے بی جان نے سکندر کا رشتہ کر دیا ہے
جب کہ فائزہ بیگم بھی حیران ہوئیں
کیا مطلب ہے ؟ وہ ہماری حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتے؟
وہ سلمہ بیگم سے سوالیہ ہوئیں
بلکل نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ پر میں تو کچھ نہیں۔ کہتی بی جان کے ساتھ ساتھ یہ سکندر کا اپنا فیصلہ ہے ۔۔۔
کیا ؟ سکندر اس گاؤں کا سردار ہو کر اتنے چھوٹے گھرانے سے لڑکی کا رہا ہے
فائزہ بیگم نے شدر ہو کر کہا
بس کردو تم دونوں ۔۔۔۔ خبردار اگر تم دونوں نے اس بچی کو کسی بھی قسم سے تنگ کیا تو۔۔۔۔۔
وہ سکندر کی بیوی کی حیثیت سے یہاں اے گی
اس لیے کسی بھی قسم کی بدمزگی نہیں ہونی چاہیے
بی جان نے دوٹوک لہجے میں کہا جس کے سلمہ بیگم وہاں سے اٹھ گئیں جب کہ فائزہ بیگم نے مائرہ کو دیکھا پھر ہلکا سا مسکرائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے میں تو کہتی ہو ٹھیک ہی ہوا ہے کہ چھوٹے گھراںے سے لا رہی ہیں ۔۔۔۔
وہ اس وقت رات کے فنکشن کے لیے تیار ہو رہی تھیں ۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔۔ ؟ احمد شاہ نے کوٹ پہنتے اپنی بیوی کو دیکھا جو ڑریسنگ کے سامنے بیٹھی میک اپ کر رہی تھیں
ارے دیکھیں اگر لڑکی کم حیثیت کی ہے تو اچھا ہے نا جب ہماری مائرہ ہماری بہو بن کر یہاں اے گی تو اس کو جیٹھانی سے دب کر رہنا نہیں پڑے گا
احمد شاہ نے افسوس سے اپنی بیوی کو دیکھا
وہ بھلے ہی گاؤں کی زندگی پسند نہیں کرتے تھے اور وہ شہر میں بزنس کرتے تھے مگر ایسا نہیں تھا کہ وہ دوسروں کو کم تر سمجھتے تھے
ان کی پرورش بی جان نے کی تھی ان کے اندر کسی کو نیچا دیکھانے کا عنصر نہی تھا
اچھا بس کرو ۔۔۔ ابھی تہہ نہیں ہوا کہ شایان کی شادی مائرہ سے ہی ہو گی ۔۔۔۔ میرے لیے میرے بیٹے کی پسند اہم ہے
احمد شاہ نے اپنی بیوی کو دوٹوک کہا
کیا مطلب ہے آپکا ۔۔۔۔
ارے وہ بھی تو سکندر کی طرح گاؤں سے محبت کرتا ہے ۔۔۔ بی جان کے ساتھ رہنا پسند ہے ۔۔۔
کل وہ ہمیں کسی اسی طرح غربت اور مفلسی کے مارے گھر میں جانے کا کہہ دے کہ مجھے اس گھر میں شادی کرنی ہے تو آپ کیا اس کی محبت میں مان جائیں گے ۔۔۔
فائزہ بیگم ۔۔۔۔۔ بیٹے کو ہم نے پہلے ہی خود سے الگ کر رکھا ہے میں مزید کسی لالچ میں اس سے اسکی خوشیاں نہیں چھین سکتا
اگر وہ کہے گا تو اس کا باپ اس کے ساتھ کھڑا ہوگا
انہوں نے خود ہر پرفیوم چھڑکااور پھر وہ کمرے سے باہر چلے گئے
اہہہ ان کو تو حویلی آتے ہی پھر سے محبت جاگ اٹھی ہے ۔۔۔۔ پر میں بھی فائزہ ہوں
اگر بی جان کے چنگل سے ان کو بڑھکا کر الگ ہو سکتی ہوں تو میں اپنے بیٹے کو بھی اپنی بات ماننے پر مجبور کر دوں گی
وہ دروازے کو دیکھتی پورے عزم سے بولیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے مہمان اچکے تھے ۔۔۔۔ شایان نے یلو کلر کا کرتا اور وائیٹ پجامہ پہنا تھا ۔۔۔ اس نے گلے میں سبز رنگ کا جالی دار دپٹہ مفلر کی صورت میں ڈال رکھا تھا
وہ کافی خوبصورت لگ تھا ۔۔۔ اس کے فٹ کپڑے تھے جس کی وجہ سے اس کا چوڑا سینہ واضح دیکھای دے رہا تھا
بالوں کو جیل کی مدد سے پیچھے کو سیٹ کیے ہوے وہ بہت جازب دیکھای دے رہا تھا
افف یہ اڑر پر کپڑے بھی کبھی ٹھیک نہیں ہوتے اب اتنے فٹ کپڑے ہیں ۔۔۔۔ لڑکیوں کی طرح دپٹے پھیلانے سے تو رہا ۔۔۔۔۔
وہ بڑبڑایا
جب شہریار اس کے کمرے میں آیا
ایک کام جو تم نے ڈھنگ کا کیا ہو ۔۔ میرا اور اپنا سائز تم نے ایک ہی بتا دیا ۔۔۔۔
اب میں یہ کیسے پہنوں گا؟ وہ اس کے سامنے اس جیسا ہی یلو کلر کا کرتا سامنے کرتا بولا
جو دیکھنے میں ہی چھوٹا لگ رہا تھا
سوری بھائی ۔۔۔۔ مجھے لگا تھا ٹھیک ناپ دیا ہے ۔۔۔ اب دونوں کے چھوٹے ہیں ۔۔۔ مجھے تو پھر کچھ بہتر لگ رہے آپ کیا کریں گے؟
ابے کمینے ۔۔۔۔ اتنا کھلا کرتا کون پہنتا ہے ۔۔؟
سکندر بھی اس کے کمرے کے کھلے دروازے پر دھڑام سے اندر آتا بولا
جب کہ شہریار نے اس کے ہاتھ میں کپڑے دیکھ کر کہا
بی جان نے فضول شاباشی دی تھی ۔۔۔ تمہیں ۔۔سکندر نے کہا جس کر شایان نے ہونٹ بچوں کی طرح باہر نکالتے رونے والا منہ بنایا
اچھا تمہارے کرتے کا تو علاج ہو جاے گا ۔۔۔۔ تم روم میں جاؤ میں پندرہ منٹ میں کرتا لے کر آتا ہوں
شہریار نے اس کے ہاتھ سے کرتا لے کر کہا
کیونکہ جس کی شادی تھی اس کے کپڑے تو ٹھیک ہونا لازمی تھے
ٹھیک ہے ۔۔۔ اور تم ۔۔۔ خبردار جو کل کل کی شیروانی کا اڑر دینے
کا سوچا بھی تو سکندر نے شایان سے کہا
پھر اس کے لڑکے ہوے ہونٹ دیکھ کر اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ پھیلاے
تم نے کیا ناپ دیا تھا میرا؟
وہ بڈی میں نے کہا تھا کہ بڈی کافی موٹے تازے ہیں تو ان کے حساب کا کرتا رکھنا
مجھے لگتا ہے ٹیلر بھی تمہاری طرح کا کھسکا ہوا تھا جس نے اس طرح کے ناپ پر یہ کُرتا بنایا ہے ۔۔
اس نے مسکرا کر کہا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کرتا لے کر عائشہ کے پاس آیا تھا ۔۔۔۔
اسلام وعلیکم! وہ ڑریسنگ کے سامنے کھڑی کاجل لگاتے پلٹی تھی
وعلیکم السلام! ماشاءاللہ کافی خوبصورت لگ رہی ہیں آپ ۔۔۔۔ وہ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا
آپ تو اس اجڑی ہوی حالت میں بھی بہت پیارے لگ رہے ہیں ۔۔ وہ اس کے لمبے بالوں کے بکھرنے پر چوٹ کرتی بولی
ہاہاہا ۔۔۔۔ اچھا مجھے اپکی مدد چاہیے ۔۔۔۔ شہریار نے اسے دیکھتے کہا
جس نے ہلکے پینک کلر کی قمیض کے ساتھ شرارا پہنا تھا ۔۔۔۔ جو کہ پہلےسے ہی اس کی شاپنگ میں موجود تھا
جی بولیں ۔۔۔۔۔
کیا آپ اس کرتا ہو فٹ کرکے دے سکتی ہیں ؟
شہریار نے ساری بات بتانے کے بعد مدد مانگی
اچھا میں کر دیتی ہوں پر بھائ کا ناپ ؟
ہاں وہ اس بیگ میں ہے ۔۔۔وہ اسے سفید رنگ کا شاپنگ بیگ دیتے بولا
جس کر کسی برینڈ کا نام لکھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحن میں لڑکیوں کے قہقے گونج رہے تھے ۔۔۔۔ سب اس وقت زمین پر گدیاں لگا کر چوکی کی صورت میں بیٹھی ۔۔۔ گانے گا رہی تھیں
جس میں مقدس سب سے آگے تھی اس نے اورنج کلر کا کرتا اور ساتھ شرارا پہنا تھا جب کہ دپٹہ سٹائلش طریقے سے سیٹ کیے وہ بالوں کی بریڈ بنائے ہوے تھی
چہرے پر ہلکا میک اپ ۔۔۔اس کی دھودھیہ رنگت اس وقت چاند کی مانند چمک رہی تھی وہ گول مٹول سی لڑکی سب لڑکیوں میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔۔
وہ تالیاں بجاتی کسی گانے کے بول گا رہی تھی جب سکینہ نے اسے پکارا
وہ سب سے معزرت کرتی وہاں سے اٹھی اور ماں کی طرف بڑھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریال اس وقت پھولوں سے سجے کھولے میں بیٹھی تھی جو پیلے رنگ کے پھولوں کے ساتھ گیندے کے پھولوں سے سجایا گیا تھا ۔۔۔
وہ اس کے بیچ و بیچ ۔۔۔ یلو کلر کی کرتی کے ساتھ یلو لہنگے میں۔ تھی جس پر شیشے کے ساتھ اور بھی رنگ موجود تھے بالوں کی مانگ نکال کر دونوں طرف سے بالوں کی لٹیں چہرے پر گر رہی تھیں اور بال نیچے سے کرل کر کے آگے کی طرف سیٹ کیے گئے تھے
ہلکے گلابی رنگ کی لپسٹک میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
پارلر والی نے اس کے نقوش کو چمکا دیا تھا
وہ جھولے پر بیٹھی اپنے سامنے لڑکیوں کو گانے بجاتے دیکھ کر مسکرا رہی تھی
جب کہ دو کالی آنکھوں میں عجیب تاثرات تھے جو مسلسل فریال کو دیکھ رہی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کرتا ٹھیک کر کے لائ۔۔۔۔۔
اچھا چلیں اب آپ بھی ساتھ چلیں
۔۔ شہریار نے سائشہ سے بیگ لیتے کہا
شہریار مجھے ڑر لگ رہا ہے ۔۔۔۔
وہ ہلکی سی آواز میں منمنائ
کس بات کا ڑر خوف؟
وہاں سب مجھ سے میرے بارے میں پوچھیں گے تو میں کیا کہوں گی ؟
میرے ہوتے ہوے آپ کو کسی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے
اور جہاں تک رہی پہچان کی بات تو کچھ دنوں میں آپ کو سب میرے نام سے پہچانیں گے
میں نے بی جان سے کہا تھا کہ مجھے شادی پر نہیں جانا پر انہوں نے اتنے پیار اور مان سے کہا کہ مجھ سے پھر انکار نہیں ہو پایا اور سکندر بھای نے بھی مجھے آنے کا کہا تھا
وہ اسے دیکھتے بولی ۔۔۔۔۔
آپ میرے ساتھ چلیں ۔۔۔ کوی کچھ نہیں پوچھے گا اور اگر پوچھیں تو آپ کہہ دینا کہ میں شہریارکی بیوی ہوں ۔۔۔وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھتا بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمہ بیگم مہمانوں کے ساتھ باتیں کر رہی تھیں جب داخلی دروازے سے انہیں شہریار کے ساتھ سائشہ آتی نظر آئ
انہوں نے اس سانولی مگر پرکشش نقوش والی لڑکی کو اچھنبے سے دیکھا
جس سے بات کرتے شہریار مسکرایا
سلمہ بیگم کے دماغ کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر مہمانوں کے ساتھ رکنے پر وہ اس لڑکی کو ڈھونڈنے لگیں ۔۔۔۔ مگر وہ ناجانے کہاں چلی گئ تھی ۔۔۔۔۔
مجھے آج ہی رشتے کی بات آگے بڑھانی چاہیے اس سے پہلے کہ کچھ غلط ہو۔۔۔ وہ بڑبڑائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے کرتے کو پہنے کے قابل دیکھ کر سائشہ کا شکریہ ادا کیا
چلیں بیگم اب آپ کے شوہر نے بھی تیار ہونا ہے ۔۔۔ آپ میری مدد کر دیں ۔۔۔۔
شہریار نے اس کی جانب جھک کر کہا
میں کیسے ؟
سائشہ نے اسے سوالیہ دیکھا
آپ میرے ساتھ آئیں اور مجھے بتائیں کہ میں کیا پہنووں ۔۔۔۔وہ اسے اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے جاتے بولا
اسے اپنے کمرے میں لایا اور دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔۔
چلیں آئیں اور بتائیں کہ میں کیا پہنووں ؟
وہ اسے کبڈ کے سامنے کھڑا کرتے بولا
سائشہ مسکرای پھر اس کے لیے کپڑے دیکھنے لگی
کچھ دیر کی کھنگال کے بعد اس نے سفید شلوار قمیض نکالی اور اس کے سامنے کی ۔۔۔۔
اوکے بوس آپ یہاں ویٹ کریں میں چینج کر کے آتا ہوں ۔۔۔
وہ کہتے کپڑے لیتا چینجنگ روم میں چلا گیا
۔۔۔۔
سائشہ کمرے کو دیکھنے لگی جو کافی بڑا اور خوبصورت تھا۔۔۔۔ایج خوبصورت بیڈ اس کے میچنگ کلر کے صوفے تھے ۔۔۔ گہرے گرے رنگ کے پردے تھے ۔۔۔۔۔
کالین مہرون رنگ کی بچھائی گئی تھی جو آدھے کمرے میں تھی
ایک طرف ڑریسنگ تھا ۔۔۔۔ جب کہ ایک طرف پینٹنگ سیٹنگ کی گئ تھی
وہ ابھی کمرہ دیکھ رہی تھی جب وہ اسے اس طرح بے فکر کمرے میں۔ دیکھ کر مسکرایا۔۔۔۔ اور جا کر ڑریسنگ کے سامنے ہو کر بالوں کو سیٹ کرنے لگا
سائشہ ۔۔۔!
اس نے اسے پکارا جو اس کی موجودگی سے انجان پینٹنگ کے سامان کو چھو رہی تھی
جی !
وہ پلٹی ۔۔۔ شہریار نے اسے اپنے پاس آنے کا کہا تو وہ اسکی طرف بڑھی
شہریار نے بنا اسے سمجھنے کا موقع دیے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا۔۔۔ جس سے وہ سیدھا اس کے کشادہ سینے سے ٹکرائ
سائشہ نے شہریار کی جانب دیکھا
شہریار نے اگلے ہی لمحے اسے گھما کر رخ شیشے کی جانب کیا اور اس کی پشت اب شہریار کے سینے سے لگی تھی
وہ کچھ جھک کر اس کے کان کے پاس آکر بولا
دیکھیں ہم کتنے پیارے لگتے ہیں ساتھ میں ۔۔۔۔وہ شیشے میں اسکا اور اپنا عکس دیکھتے بولا
جس پر سائشہ نے بھی شیشے میں دیکھا
اور پھر وہ مسکرائی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فنکشن میں سب نے باری باری سکندر کے ساتھ بیٹھ کر پیکچرز بنوائی اور ساتھ اس کے ہاتھ پر رکھے پتے پر مہندی لگای اور اسے مٹھائ کھلائ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار نے سائشہ کو نیچے لا کر پھر کوی بات نہیں۔ کی تھی نا ہی اس کے ساتھ رہا تھا
عائشہ صوفے پر اکیلی بیٹھی تھی ۔۔ جب اس کی نظر شہریار پر پڑی جس کے پاس ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی ادائیں دیکھاتی ناجانے کیا باتیں کر رہی تھی
سائشہ نے اگنور کیا مگر پھر نظریں بار بار اس طرف خود بخود اٹھ رہی تھیں کہ وہ خود پر قابو نہیں رکھ پائ
جب اس لڑکی نے غیر محسوس انداز میں شہریار کے سینے پر ہاتھ رکھا
اب سائشہ کی ہمت جواب دے گئ تھی وہ صوفے سے اٹھی بنا کسی کی پروا کیے وہ ان کی طرف بڑھی
شہریار ۔۔۔۔اس نے اس کے پاس جاتے کہا۔۔۔ جو اس لڑکی کی بات پر مسکرا رہا تھا
لڑکی نے تعجب سے سائشہ کو دیکھا جس کا انداز کافی رعب دار تھا
شہریار نے سائشہ کو دیکھا ۔۔۔ پھر اس اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو
جی ! اس نے تعبیداری سے کہا جس پر وہ لڑکی بھی حیران ہوی
مجھے آپ سے بات کرنی ہے
۔۔۔سائشہ نے بنا ڑرے کہا
چلیں کہیں ۔۔۔۔
شہریار نے مسکراہٹ چھپای
یہاں نہیں الگ سے ۔۔۔۔سائشہ نے اپنی بات پر زور دیتے کہا
اوکے علیزہ میں پھر بات کرتا ہوں تم سے ۔۔۔وہ سائشہ کی بات سن کر سامنے کھڑی لڑکی سے مسکرا کر معزرت کرتا ایک طرف بڑھا
تو سائشہ بھی اس کے ساتھ بڑھی ۔۔۔
کیا ہوا سائشہ آپ کی طبعیت ٹھیک ہے؟
شہریار نے اسے اپنے ساتھ ایک الگ جگہ میں بلایا جہاں مہمان نہیں تھے
سائشہ !
اس نے پھر سے اسے پکارا جو سر جھکا کر کھڑی تھی
سائشہ کیا ہوا؟ شہریار اب کی بار پریشانی سے اسے پکارتا ہے
آپ کو کیا فرق پڑتا ہے جائیں ان کے ساتھ ہی باتیں کریں اور ان کو خود کو چھونے بھی دیں
وہ نظریں اٹھا کر اسے دیکھتے رندھے ہوے لہجے میں بولی
جب کہ شہریار نے اسکی بھیگی آنکھوں کو دیکھا تو وہ ساکت ہوا
آپ رو رہی ہیں ؟ وہ حیران سا بولا
اور کر بھی کیا سکتی ہوں۔۔۔۔
وہ باقاعدہ آنسو بہاتے بولی
آپ کو مجھ پر پورا حق ہے آپ کچھ بھی کر سکتی ہیں ۔۔ چاہیں تو ڈانٹ بھی سکتی ہیں ۔۔۔۔
پر روئیں مت پلیز ۔۔۔ وہ بنا کسی کی پروا کیے ۔۔ اس کے چہرے کو ہاتھوں میں تھام کر اس کے آنسو صاف کرتا بولا
شہریار کوی دیکھ لے گا۔۔۔۔ وہ اس کے اس طرح پاس آنے پر بولی
مجھے فرق نہیں پڑتا پر آپ رو رہی ہیں ۔یرے ہوتے ہوے آپ کی آنکھ میں آنسو ۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتے بولا
مجھے گھر جانا ہے پلیز ۔۔۔۔
فنکشن ختم ہونے والا تھا ۔۔۔۔شہریار نے سر اثبات میں۔ ہلایا اور اس کا تھا تھام کر پچھلے دروازے سے باہر نکلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے گھر لایا۔۔۔۔ اب وہ باقاعدہ رونے لگی تھی
سائشہ کیا ہو گیا ہے اپکو ۔۔۔؟ وہ پریشانی سے بولا
مجھ سے نہیں ہوا برداشت آپ کا یوں اس لڑکی سے ہس کر بات کرنا ۔۔۔
اور اس لڑکی کا آپ کو چھونا ۔۔۔۔
وہ روتے ہوے بولی ۔۔ وہ اس وقت صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی جبکہ وہ دو زانوں ہو کر اس کے پاس نیچے زمین پر بیٹھا تھا
اچھا ٹھیک ہے سین سوری آئیندہ نہیں کروں گا بات اور رہی بات چھونے کی تو مجھے بلکل علم نہیں کہ اس نے مجھے ٹچ کیا پر اگر آپ کہہ رہی ہیں تو ایسا ہوا ہو گا اس کے لیے بھی سوری میں ابھی نہا کر آتا ہوں ۔۔۔وہ کہتے اٹھ کر کبڈ سے کپڑے نکالتا واشروم میں چلا گیا
کچھ دیر بعد وہ باہر آیا۔۔۔اس کے پاس صوفے پر بیٹھا
اب دیکھیں تو میری طرف ۔۔۔ میں نہا کر آیا ہوں۔۔۔۔ اب تو آپ مت ناراض ہوں ۔۔۔۔
وہ اس کے ناراض چہرے کو دیکھتے بولا
سائشہ بنا کچھ کہے اس کے سینے سے لگی
اسے یقین نہیں تھا وہ شخص اس کی ناراضگی پر اس قدر پریشان ہو جائے گا
آپ ناراض تو نہیں ہیں ںا؟ شہریار نے اس کے سینے لگنے پر اس کے گرد حصار قائم کرتا کہا
نہیں ۔۔۔۔ پر پتہ نہیں مجھے بس رونا آگیا تھا آپ کو اس سے اس طرح مسکرا کر بات کرتے دیکھ کر ۔۔۔۔۔
سائشہ اس کے سینے سے سر نکالتی اسے دیکھتے بولی
شہریار نے اس کے چہرے پر اس کی گال پر انگوٹھا رگڑا
آئندہ میں اپکو اس طرح روتے نا دیکھوں مجھے آپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے
وہ ہارے ہوے لہجے میں بولا تھا سائشہ چند پل اس شخص کو دیکھتی رہی پھر مسکرا کر اس کے سینے پر سر رکھا
نہیں روؤں گی ۔۔۔۔۔
اچھا ویسے آپ کو برا کیوں لگا تھا کہ میں کسی سے بات کر رہا تھا ۔۔۔؟
اب کی بار وہ شرارت سے بولا
آپ کی دھیمی سی مسکراہٹ جب مجھ سے بات کرتے ہوے آپ کے چہرے پر ہوتی ہے تو مجھے اچھا لگتا ہے ۔۔۔۔ پر کسی اور سے مسکرا کر بات کرنے سے مجھے اس لڑکی پر غصہ آگیا تھا
وہ اس کے سینے سے لگی اپنی جلن کا بتا رہی تھی
جب کہ شہریار اپنے لیے اس کے ایسے جزبات پر سرشار ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لو جی بڈی اب تو میری بھی بس ہو گئ ہے ۔۔۔۔۔اب میں سونے جا رہا ہوں
وہ کافی تھک گیا تھا سب مہمانوں کے جانے کے بعد وہ سونے کے لیے جا رہا تھا
رکو شہریار کہاں ہے؟ سکندر نے اسے روک کر سوال کیا
وہ بھابھی کو چھوڑنے گئے ہیں ۔۔۔ شایان نے کہا جب کہ سلمہ بیگم جو پانی لینے نیچے آرہی تھیں سن کر وہیں ساکت ہوئیں
بھابھی ۔۔۔؟؟
وہ بڑبڑائیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ISQ geeriyaan
12
آج بارات تھی ۔۔۔۔ برہان مرے دل سے سارے کام نپٹا رہا تھا ۔۔۔۔ جب اسے وہاں شایان آتا نظر آیا
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
برہان نے سوال کیا
جب کہ شایان کو اس کا لہجہ کافی عجیب جلھسا ہوا لگا
وہ میں بی جان کی طرف سے بھابھی کے لیے کپڑے اور زیورات لایا تھا
وہ اسے اپنے ہاتھ میں پکڑا بیگ دیکھاتے بولا
اچھا ۔۔۔۔ برہان روکھے لہجے میں کہتا وہاں سے ہٹ گیا
یہاں اس کو کیا ہوا ہے ؟ شایان نے برہان کی پشت کو دیکھ کر کہا
پھر وہ گھر کے اندر چلا گیا اور سکینہ بی جو مل کر ان کو سامان تھما دیا
مقدس باہر آئ جہاں برہان کام میں مصروف تھا ۔۔۔۔ بار بار کسی وہ کال کر رہا تھا مگر اگلا بندہ کال ریسیو نہیں کر رہا تھا جس پر اسے چڑہوںے لگی تھی
کل سے آج تک وہ شادی نہیں روک پایا تھا
برہان بھای۔۔۔
مقدس نے اسے پکارا ۔۔۔۔
وہ مقدس کی آواز پر پلٹا۔۔۔۔۔
ہمم کہو۔۔۔۔ وہ اس کے پاس آتے بولا
بھائ ۔۔۔۔اج کے فنکشن کے لیے فری کے لیے گجرے منگوانے ہیں ۔۔ آپ کسی کو شہر بھیج کر گجرے منگوا دیں
اس کی بات سن کر برہان کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ ابھری
ٹھیک ہے میں شہر جارہا ہوں آتے وقت کے اووں گا
وہ کہتے وہاں سے اپنی بائیک کی طرف بڑھا
جب کہ شایان جو کہ مقدس کو دیکھنے کے لیے رکا تھا ۔۔ ان کی بات سن کر برہان کہ مسکراہٹ پر اسے کچھ غلط ہونے کا شبہ ہوا
مقدس جائے ہی گھر کے اندر کی طرف بڑھی ۔۔۔ پیچھے شایان کو دیکھ کر اسے گھورنے لگی
یہ تم کیا کر رہے ہو؟؟
وہ اس سے سوالیہ ہوی ۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔بس جا ہی رہا تھا ۔۔ وہ ابھی بھی برہان کے بارے میں سوچ رہا تھا
مقدس کو جواب دیتا وہ بھی باہر نکلتا گاڑی میں جا کر بیٹھا اور گاڑی زن سے بھگا لے گیا
یہ سب کو کیا ہو گیا ہے ایسے منہ کیوں بناے ہوے ہیں ۔۔۔ مقدس برہان کا اور اب شایان کا سنجیدہ لہجا دیکھ کر بڑبڑای
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شایان نے برہان کا پیچھا کیا ۔۔۔ اسے واقعی کچھ غلط ہونے کا شبہ ہوا تھا
وہ کافی دیر فضول مین پیچھا کرتے کرتے تھک گیا ۔۔۔۔
مگر کوی بات سمجھ نہیں آئ ۔۔۔ اس لیے واپس لوٹ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برہان نے ایک پھولوں کی دکان پر بائیک روکی
مجھے گجرے چاہیے تازہ گلاب کے ۔۔۔ اس نے دکاندار سے کہا
کچھ دیر میں گجرے اسے ملے
وہ اسے لیتا ۔۔۔ گاؤں کی طرف چل پڑا
گاؤں نے داخلی دروازے پر پہنچ کر اس نے اپنے بیگ سے ایک سپرے نکال کر ان پھولوں کے گجروں پر چھڑک دیا
پھر کسی کو میسج کرکے وہ گجرے لیے گھر کی طرف بڑھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت گہری مہرون رنگ کی شیروانی کے ساتھ سفید رنگ کا پجامہ پہنے ۔۔۔ کندھے پر مہرون شال اوڑھی ۔۔۔ ہری کانچ سی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں بالوں کو جیل سے سیٹ کیے آئینے کے سامنے کھڑا تھا
وہ بہت جازب لگ رہا تھا
میں بہت خوش ہوں آفت کی پرکالہ تمہیں اپنی زندگی میں لاکر ۔۔ وہ بڑبڑایا
شہریار اس کے کمرے میں آیا ۔۔۔۔
چلو سکندر بارات تیار ہو گئ ہے ۔۔۔
وہ اسے لینے آیا تھا مگر اسے اتنا ہینڈصم لگتے دیکھ کر وہ مسکراتا اس کے پاس آیا ۔۔۔
جس نے کالے رنگ کے کپڑے پہنے تھے جبکہ کندھے پر مہرون شال ڈالے وہ قمیض شلوار میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا
اس کے بڑھے ہوے بال اس کی گردن جو ڈھانپے ہوے تھے
ماشاءاللہ ۔۔۔۔ تمہیں تو بہت روپ آیا ہے ۔۔۔ وہ اسے دیکھتے اس کے کندھے پر ہاتھ پھیلاتا بولا
جب کہ سکںدر اس کی بات پر مسکرایا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ بارات لے کر سکینہ کے گھر پہنچے ۔۔۔۔۔ جس نے گھر کے باہر کی سارا انتظام کیا تھا جہاں مہمان بیٹھ سکتے
مگر بی جان شہریار اور سکندر اس وقت گھر کے صحن میں چند اور مہمانوں کے ساتھ بیٹھے تھے
شہریار کی نظریں چاروں طرف اپنی سائشہ کو تلاش کر رہی تھیں جو آج لڑکی والوں کی طرف سے تھی
مقدس نے دودھ پلائ کی رسم پر کافی پیسے بٹورے تھے
وہ اس وقت نیلے رنگ کی میکسی میں کھلے بالوں میں بے تحاشہ حسین لگ رہی تھی
اب مزید آنکھوں کو گھماتے ۔۔۔ شہریار اٹھ کر مقدس کے پاس آیا
مقدس بیٹا ۔۔۔ عائشہ کہاں ہیں؟وہ اسے بچوں کی طرح ٹریٹ کرتے بولا
شہریار بھای وہ اس وقت اماں کے کمرے میں ہیں ۔۔۔ وہ اسے کمرے کی طرف اشارہ کرتے بولی
ٹھیک ہے شکریہ ۔۔۔ وہ کہتا قدم اس کمرے کی طرف بڑھا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریال کو بیوٹیشن تیار کر کر گئ تھی اب وہ اس وقت کمرے میں اکیلی تھی کیوں کہ سب لڑکیاں بارات کے آنے پر باہر چلی گئ تھیں ۔۔۔۔
جب کہ اس نے خود کا آتشی روپ دیکھا تو مسکرائ ۔۔۔۔۔
مسٹر کنجی آنکھوں والے سکندر اعظم
آج تو آپ کی آنکھیں مجھ پر سے ہٹیں گی ہی نہیں ۔۔وہ کہتے مسکرای
پھر اس نے گجرے نکال کر پہنے ۔۔ وہ ان کی خوشبو محسوس کرنے کے لیے جیسے ہی ناک کے پاس لای
عجیب سی خوشبو نے اسے کے اعصاب کو جٹک لیا
یہ جیسی خوشبو ہے ۔۔ وہ پھر اسے سونگنے لگی ۔۔۔ اس بار وہ خوشبو اس کے اعصاب بھاری کرنے لگی
اس نے جلدی سے اپنے چکراتے سر کو تھاما۔۔۔۔
وہ وہاں رکھی کرسی پر بیٹھی ۔۔۔ مگر کچھ دیر کے چکر کے ساتھ اب اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا اور جسم سے جان نکلتی ہوی
اور پھر اچانک وہ زمین پر دھڑام سے گر گئ آہستہ آہستہ غنودگی اس پر طاری ہوی اور وہ ہوش سے بیگانہ ہو گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک لڑکا کافی دیر سے سکینہ کے گھر کے پچھلے حصے کی دیوار کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہاں سنسان جگہ تھی ۔۔۔۔ مگر پھر کچھ ہی دیر میں وہ اس دیوار کو ٹاپ کر اندر کی طرف کودا۔۔۔۔
بڑی پھرتی سے وہ اس گھر کے اندر کی طرف بڑھا ۔۔۔
بارات کی وجہ سے سب اس طرف متوجہ تھے ۔۔۔
وہ لڑکا جلدی سے فریال کے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔۔
جیسے ہی اندر آیا ۔۔۔۔ سامنے فریال زمیں پر بے ہوش پڑی تھی۔ ۔۔۔
اس لڑکے نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا
وہ آگے بڑھا ۔۔۔۔ چند منٹوں میں اسے اٹھتا وہاں سے لیتا واپس پچھلی جانب آیا ۔۔۔۔
اب کی بار اس نے گھر کے پچھلے دروازے کے تالے کو توڑا اور اسے لیتا وہاں سے گاڑی میں پچھلے سیٹ پر ڈالتا ۔۔۔ پلٹ کر اس گھر کو دیکھا ۔۔۔ پھر جلدی سے گاڑی کے سیٹرنگ کو سنبھالتا وہ وہاں س گاڑی فراٹے سے بھگا کر لے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح کر دیتے ہیں اس کے بعد مہمانوں کو کھانا کھلا کر رخصتی کریں گے ۔۔۔
خدا بخش نے سکینہ سے کہا
ہاں ٹھیک کہہ رہے ہیں بھائ صاحب ۔۔۔
آپ مولوی صاحب کو کے آئیں ۔۔۔
وہ کہتے وہاں سے مقدس کو بلانے لگیں
مقدس بیٹا جاو۔۔۔ جا کر چند لڑکیوں کے ساتھ فریال کو باہر کر لے آوو ۔۔۔۔۔
مقدس سر ہلاتی اندر کی طرف بڑھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔ وہ جو سکینہ کے کمرے میں تھی شہریار کو اندر آتا دیکھ کر بولی
یہی سوال آپ سے ہے میرا کہ۔ آپ یہاں کر رہی ہیں ؟
وہاں سے دیکھتے بولا ۔۔۔ جس نے
نارنجی رنگ کی میکسی پہن رکھی تھی ۔۔۔ اور میک اپ کیے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
وہ میں تو بس ۔۔۔۔۔
سائشہ کو سمجھ نا آئی کہ کیا جواب دے
ہمم۔ مجھ سے چھپ رہیں تھیں ؟
وہ اس کے پاس ہوتے بولا
نن نہیں تو۔۔۔ وہ واقعی اس سے چھپ رہی تھی ۔۔۔۔ اس لیے اپنی بات پکڑی جانے پر لڑکھڑاتے لہجے میں بولی
ہاہاہا ۔۔۔ آپ جانتی ہیں نا آپ کی ساری فیلنگز مجھ میں فیل ہو جاتی ہیں۔۔۔ وہ کہتے اس کے اور پاس آیا ۔۔۔
یہ آپ اتنے پاس کیوں آرہے ہیں ۔۔۔ عائشہ گھبرا کر پیچھے ہوتے بولی
کیونکہ آپ نےا یک جھمکا پہنا اور ایک نہیں ۔۔۔ وہ اس کے پاس آتا ڑریسنگ پر پڑا جھمکا اٹھا کر اس کے کان میں ڈالتا بولا
سائشہ نے گھبراہٹ میں ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائ
جھوٹی مسکراہٹ ۔۔۔۔ وہ اس کی مسکراہٹ ہر چوٹ کرتے بولا
سائشہ نے شہریار کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
شہریار مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے وہ اسے دیکھتے سر جھکا کر بولی
شہریار نے اسے کندھے سے پکڑا
وجہ ؟ اور اسکی تھوڑی کو انگلی سے اوپر کرتے کہا
پتہ نہیں ۔۔۔۔
سائشہ اس کی پرفیوم کی خوشبو محسوس کرتے بولی
گھبرائیں مت ۔۔۔ آپ کو بھی اسے طرح دھوم دھام سے لے کرجانا چاہتا ہوں
اگر میں کہوں کہ سکندر کے ولیمے کے ساتھ ہمارا بھی ولیمہ ہو جاے تو کیسا رہے گا؟
وہ اسے دیکھتے بولا
جس نے جلدی سے نفی میں ہلایا
ارے کیوں ؟ کیا آپ مجھ سے محبت نہیں کرتیں ؟
وہ اسے تھام کر بولا
کرتی ہوں ۔۔۔۔ پر ابھی آپ آرام سے اپنے گھر پر بات کریں اس کے بعد ہی ۔۔۔۔
وہ اس سے نظریں جھکا کر بولیں
اچھا چلیں جیسے آپ کو بہتر لگے ۔۔۔
چلیں باہر چلتے ہیں ۔ وہ اسے کہتے اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقدس نے جیسے ہی اندر کمرے میں قدم رکھا اسے فریال کہیں دیکھای نہیں دی ۔۔۔۔۔
اس نے فریال کو آواز دی ۔۔ پھر واشروم کے دروازے پر دستک دی ۔۔ فری کیا تم یہاں ہو؟
مگر آگے سے جواب نا ملنے پر وہ دروازہ کھول کر اندر آئ ۔۔۔
وہ اسے وہاں بھی نہیں ملی تھی ۔۔۔ پورے کمرے میں فریال کو کہیں نا دیکھ کر مقدس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونے لگے
یا اللہ یہ کہاں چلی گئ ہے ۔۔۔
مقدس کو کافی دیر ہو جانے پر سکینہ بی کمرے میں۔ آئیں ساتھ سائشہ بھی تھی
لڑکیوں تم دونوں کی باتیں ختم نہیں ہو رہی باہر مولوی صاحب بیٹھے ہوے ہیں ۔۔
سکینہ اندر آتے بولیں
مگر پھر مقدس کی اڑای رنگت دیکھ کر پریشان ہوی ۔۔۔۔
کیا ہوا مقدس؟ فری کہاں ہے ؟
مقدس سے سکینہ اور سائشہ نےسوال کیا
پتہ نہیں اماں یہاں تو کوی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔
سکینہ بی ڑر گئیں ۔۔۔۔
سائشہ کی نظر ڑریسنگ پر پڑے ایک پیج پر پڑی
اس نے آگے بڑھ کر پیج اٹھایا
کسی ہے اس صفے پر ؟ سکینہ نے سائشہ کو صفے پر لکھی تحریر پڑھنے پر بلکل سن دیکھ کر کہا
مقدس نے جواب نا ملنے پر صفہ اس سے لے کر پڑھا ۔۔۔
اب مجھے بھی بتاؤ کیا لکھا ہےاس پر ؟
سکینہ بی کو پریشانی ہونے لگی
جی ۔۔۔ مقدس نے شاکڈ سے نکلنے پر سکینہ سے کہا
سکینہ نے مقدس کو صفے پر لکھی تحریر پڑھنے کا کہا
جس کو جیسے جیسے مقدس پڑھ رہی تھی سکینہ کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے
یہ لڑکی کہاں چلی گئ باہر بارات آگئ ہے اور دلہن ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکینہ بی پریشان سی باہر آئیں ۔۔۔ اس کے پیچھے ہی مقدس اور سائشہ بھی تھیں
ان کی آڑی رنگت دیکھ کر سکندر کو کچھ غلط ہونے کا خدشہ ہوا۔۔۔۔
وہ دراصل ۔۔۔۔ سکینہ کچھ کہتیں ۔۔۔ جب خدا بخش بولے
ارے بھی فریال کو لے کر آوو ۔۔۔ نکاح کا وقت ہو گیا مولوی صاحب جب سے انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔
سکینہ بی خاموش ہو گئیں ۔۔۔
برہان کی آنکھوں میں چمک ابھری ۔۔۔
سکندر اٹھ کر ان کے پاس آیا
کیا ہوا۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے ۔۔ وہ منہ پر بنا ہوی تیوری چڑھاے پوچھ رہا تھا مگر دل اندر سے کسی انہونی سے ڑرا تھا
وہ سب گاؤں والوں کے سامنے کسی بھی قیمت پر فریال کے کردار پر انگلی اٹھنے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔
فریال گھر پر نہیں ہے ۔۔۔۔ سکینہ نے آنکھیں میچ کر کہا ۔۔۔۔
کیا؟سکندر نے پلٹ کر گاؤں کے لوگوں کو دیکھا
آنکھیں پل میں لال ہو گئ تھیں۔۔۔۔ اس نے مٹھیاں بھینچ لیں
برہان نے شیطانی مسکراہٹ سے اس کی حالت دیکھی
کہاں ہے وہ ؟؟؟
اس نے سنجیدگی سے سوال کیا
یہاں ہیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو سکینہ سے سوال کر رہا تھا اپنے پیچھے سے آتی آواز پر وہ پلٹا ۔۔۔۔ جہاں شایان کھڑا تھا ۔۔۔ جس کے ساتھ ہی فریال دلہن کے روپ میں سر پر گھونگھٹ کیے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
سکندر نے سوالیہ دیکھا ۔۔۔۔۔
بھابھی ۔۔۔۔ آپ پلیز بھابھی کو آرام سے وہاں کے جائیں ۔۔۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔
اور بڈی سارے سوالوں کے جواب بعد میں دوں گا اس وقت سب گاؤں والوں کی نظر بھابھی پر ہے ۔۔۔
جائیں جا کر نکاح کریں ۔۔۔۔۔
وہ کافی سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔۔
سکندر نے اس کو دیکھا اور پھر نڈھال صورت میں عائشہ کے ساتھ جاتی فریال کو
وہ ٹھیک تو ہے ؟ وہ فریال کی پشت کو دیکھتا شایان سے بولا
جی بڈی ۔۔۔۔ ابھی دوائیوں کے زرمیر اثر ہیں ۔۔۔ مگر کچھ دیر میں ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔۔ ان کو سنبھال لیں ۔۔۔۔
شایان کے جواب پر وہ سر اثبات میں ہلاتا ۔۔۔۔
فریال کے ساتھ جا کر بیٹھا
فریال خدا بخش آپ کا نکاح سکندر سلیمان شاہ سے سکہ رائج الوقت بمہ پانچ لاکھ حق مہر کے ہوتا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟
کانوں میں پڑنے والے جملے پر فریال نے اپنی بند ہوتی آنکھیں بامشکل کھولیں اور اپنے ساتھ بیٹھے سکندر کو دیکھا جس کی آنکھوں میں اس کے لیے فکر واضح تھی ۔۔۔۔
قق قبول ہے ۔۔ وہ لڑکھڑاتے لہجے میں اسے قبول کر چکی تھی ۔۔۔۔
پھر ںکاح کے تمام عجائب و قبول کے بعد وہ دونوں ایک پاکیزہ رشتے میں بندھ چکے تھے ۔۔۔۔
پیارے ریڑرز ضرور آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شایان کہاں سے ٹپکا۔۔۔۔
تو آئیے فلیش بیک دیکھاتی ہوں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شایان نے اسکا پیچھا کیا تھا مگر اسے کسی پھولوں کی دکان پر سے گجرے لیتے دیکھ کر اسے لگا کہ شاید وہ اس پر ویسے ہی شک کر رہا تھا
وہ واپس گاؤں آچکا تھا۔۔۔ مگر گاڑی گاؤں کے مین دروازے پر رک گئ تھی
افف اسے کیا ہو گیا۔۔۔۔
وہ کافی دیر اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔۔۔۔۔۔ پھر وہ چلتا ہوا کسی کی مدد کے لیے دیکھنے لگا ۔۔
جب اسے برہان نظر آیا ۔۔۔۔ جو چھپتا چھپاتا ۔۔۔ ایک سنسان جگہ پر رکا
شایان نے قدم اس کی طرف بڑھاے پھر ایک درخت کے پیچھے کھڑا ہو کر اس کی ساری کروائی دیکھی
گجروں پر سپرے۔۔۔۔۔۔ وہ بڑبڑایا۔۔۔ پھر اسے اچانک یاد آیا کہ مقدس نے فریال کے لیے گجرے لینے کا کہا تھا
اسے اب سمجھ آئ تھی کہ واقع جو بات اسے کھٹک رہی تھی وہ واقعی کوی عام بات نہیں تھی ۔۔۔۔
اوو نووو مجھے کچھ کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔
وہ کہتے وہاں سے کال کر کے کسی ڑرائیور کو گاڑی لانے کا کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی گھر کے پیچھے لا کر کھڑی کرتا اب اندر جانے کی ترکیب سوچ رہا تھا اس نے اپنے ساتھ گاڑز کو وہاں رکنے کا کہا ۔۔۔اس نے جمپ لگا کر دیوار کو پکڑا پھر اس پر چڑھتا دوسری جانب کودا
واہ شایان ایک اچھا ڈاکو بن سکتا ہے تو۔۔۔ وہ خود کو کہتے وہاں سے اندر کی طرف بڑھا۔۔۔
کمرے میں آتے ہی سامنے فریال کو زمین پر گرے دیکھ کر اسے برہان پر غصہ آیا۔۔۔۔۔
اس نے پانی کی بوندیں فریال کے چہرے پر پھینکیں ۔۔۔۔ مگر فریال کی حالت میں کوہ فرق نا آیا ۔۔۔۔
ہاسپٹل ۔۔۔ وہ بڑبڑایا ۔۔اس نے کسی نمبر پر کال کی
فرقان پندرہ منٹ میں گاؤں کی ہاسپٹل کی عمارت میں پہنچو۔۔۔۔۔
بنا کوی جواب سنے وہ ایک پیج پر کچھ لکھنے لگا
دیکھیں پھپھو مجھے عادت نہیں ہے اتنے بھاری کپڑے پہننے کی اس لیے میں یہاں سے باہر ٹھنڈی ہوا کھانے جا رہی ہوں۔۔۔۔ کچھ دیر میں واپس آجاؤں گی ۔۔۔
شایان نے خطر لکھ کر وہاں رکھا ور اسے اٹھا کر وہاں سے لے کر باہر نکلا
گاڑز نے ایک آدمی کو پکڑ کر رکھا تھا
یہ کون ہے وہ فریال کو گاڑی میں ڈالتے بولا
یہ وہ جس کو برہان نے فریال بی بی کو اٹھا کر لے جانے کا کہا تھا
اچھا ۔۔۔۔ شایان کو برہان پر شدید غصہ آیا تھا مگر وہ پھر گاڑی میں بیٹھتا وہاں سے فریال کو کے کر ہاسپٹل کی طرف بڑھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے گاڑی سے نکال کر گاؤں کے بنے ہاسپٹل میں پہنچا اور فرقان وہاں پہنچ چکا تھا
فرقان ہمارے پاس بس پندرہ منٹ ہیں ۔۔۔۔ کچھ بھی کرو بھابھی کو ہوش میں لاؤ
میں نہیں چاہتا ہے کہ بھابھی کی بد نامی ہو یا پھر بڈی کو شرمندگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرقان نے چیک اپ کیا ۔۔۔ پھر اس نے اس سپرے کا اینٹی سپرے استعمال کیا ۔۔۔۔۔
اور کچھ دیر کی مزید محنت سے ۔۔۔فریال کو ہوش آنے لگا تھا
بھابھی ۔۔۔ شایان نے اسے ہوش میں آتے دیکھ کر پکارا
شایان ۔۔۔ مم میں کہاں ہوں؟
وہ سر پر ہاتھ رکھتی درد برداشت کرتی بولی
گرنے کی وجہ سے اس کا سر ڑریسنگ سے لگا تھا جس کی وجہ سے درد ہو رہا تھا
بھابھی ۔۔۔ آپ میرے ساتھ چلیں ۔۔۔ میں سب بتاتا ہوں۔۔۔۔ اس نے اسے مزید دیر کیے بنا سہارا دیتے اٹھایا ۔۔۔
بھابھی پلیز جلدی کریں بڈی آپ کو وہاں نا پاکر خود بھی آپے سے باہر ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔
وہ اسے کیے گاڑی میں بٹھاتا۔۔۔ جلدی سے گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا گاڑی فراٹے سے بھگا کر وہاں سے نکلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی ایسی حالت دیکھتا پریشان ہوا۔۔۔۔ فری تم ٹھیک تو ہو نا۔۔۔
اس نے پریشانی سے کہا ۔۔۔ جب فریال نے اسے دیکھا ۔۔۔۔ کوی اور ہوتا تو اس کے کردار پر شک کرتا شاید اس کی ااس حالت پر کچھ غلط مطلب لیتا مگر وہ پریشانی سے بول رہا تھا
سکندر مجھے چکر آرہے ہیں ۔۔ اینٹی سپرے کافی ہائ پاور تھا اس لیے اس کی طبعیت اب بھی سنبھل نہیں پا رہی تھی
سکندر نے اس کی بات سن کر بنا کسی کی پرواہ کیے اسے گود میں اٹھایا اور اسے لے کر اندر کمرے میں لایا
اور بیڈ پر اسے لٹایا ۔۔۔ اور دوسری طرف اس کے پاس بیٹھ کر اس کا سر دبانے لگا ۔۔۔۔
وہ کوی سوال نہیں کر رہا تھا چہرے پر اس کی حالت دیکھ کر بس پریشانی تھی
بڈی ۔۔۔۔ شایان دستک دے کر روم میں داخل ہوا۔۔۔۔
فریال کچھ ہی دیر میں سو چکی تھی ۔۔
سکندر اٹھ کر شایان کے پاس آیا ۔۔۔
سارا ماجرہ جان کر اس کی آنکھوں میں غیض غضب ابھرا۔۔۔۔
تم اس بات کو راز رہنے دو ۔۔۔۔
اس نے بس یہ کہا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریال کو جب ہوش آیا تو اب اسے سر پر ہلکا درد تھا مگر وہ بہتر محسوس کر رہی تھی
اس نے اپںےساتھ سائشہ کو بیٹھے دیکھا
شکر ہے آپ کو ہوش آگیا ۔۔۔۔ بھای کی حالت آپ کو ایسے دیکھ کر خراب ہو گئ تھی
سائشہ اسے دیکھتے بولی
پتہ نہیں ۔۔۔ اچانک کیا ہو گیا تھا مجھے۔۔۔۔
سکندر کہاں ہیں؟
فریال اٹھ کر بیٹھتے بولی
وہ بس آپ کے ہوش میں آنے کے انتظار میں تھے تبھی رخصتی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔
وہ کہتے باہر گئ تاکہ سکینہ کو بتا سکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے باپ کے گلے لگ کر رو رہی تھی ۔۔۔ اپنی بیٹی کو ہمیشہ کے لیے پرایا کرتے وقت خدا بخش بھی روتے ہوے اپنی بیٹی کو سینے میں بھینچ کر رکھے تھے
کچھ دیر کے بعد وہ الگ ہوے ۔۔۔ اپنا بہت خیال رکھنا۔۔۔ اور اگر کوی پریشانی ہوی تو اپنے باپ کو بتانا۔۔۔
سکینہ بھی سے ملنے کے بعد وہ مقدس کے گلے کرروئ ۔۔۔۔
جب کہ مقدس بھی باقاعدہ تو رہی تھی
افف یہ موٹی روتے ہوے کتنی کیوٹ لگتی ہے ۔۔۔۔
شایان نے مقدس کو روتے دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
پھر فریال نے برہان کے آگے سر پر ہاتھ رکھوانے کے لیے سر آگے کیا ۔۔۔
سکندر نے چڑھاتی نظروں سے برہان کو دیکھا
جو کب سے آگ میں جھلس رہا تھا اسے شایان پر غصہ آرہا تھا جس نے اسکے منصوبے پر پانی کی ٹینکی کی گر دی تھی
وہ فریال کے سر پر ہاتھ رکھے بنا جانے لگا ۔۔۔
ارے برہان بھای آپ نے بھابھی کے سر پر ہاتھ نہیں رکھا ان کے بڑے بھائیوں کی طرح ہیں آپ ۔۔۔
شایان نے برہان کو کہا
جس پر وہ دانت پیس کر سر پر ہاتھ رکھتا اس کے پاس آیا
تمہاری بیوی کے ساتھ تو میں موی بی دیکھوں گا اور گلے بھی لگاؤں گا۔۔۔ وہ اسے ہائپر کرنا چاہتا تھا
جب کہ شایان اس کی بات پر مسکرایا
ہاں کیوں نہیں
گلے بھی لگا لینا اور موی بھی دیکھ لینا کیوں کہ میں تمہاری ہی بہن سے شادی کروں گا ۔۔۔ وہ مسکراتی آنکھوں سے بولا
اےےےے۔۔۔ برہان آپے سے باہر ہوا
انہہہہ۔۔۔ ارے ہونے والے سالے صاحب اتنا مت بڑھکو ۔۔۔ ابھی تو تمہارا راز فاش کرنا باقی ہے وہ کہتے ہی گھرسے نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ حویلی پہنچے تو سکندر گاڑی سے اترا جو ڑرائیور کے ساتھ آگے بیٹھا تھا جب کہ بی جان اور فریال پیچھے کی سیٹ پر بیٹھی تھیں
وہ اتر کر بی جان کی طرف کا دروازا کھولے کھڑا ہوا۔۔۔ بی جان کو گاڑی سے اترنے میں مدد کی پھر انہیں شایان نے سہارا دیا
وہ ہاتھ پھیلا کر فریال کے آگے کھڑا ہوا
فریال نے اسے گھونگھٹ کی آڑ سے دیکھا
پھر اپنا مہندی والا ہاتھ اس نے اسکی چوڑی ہتھیلی پر رکھا
جس کو بڑے مان سے سکندر نے تھام لیا تھا
وہ اسے سہارا دیتا باہر نکلتا کھڑا ہوا ہاتھ ہنوز اس کے ہاتھ میں تھا
فریال نے گاڑی سے نیچے قدم رکھا پھر سیدھی کھڑے ہوتے ہی اس نے اپنے ہاتھ کو اس کی ہتھیلی میں مضبوطی سے پکڑے دیکھ کر وہ مسکرائی ۔۔۔۔
بڈی رک جائیں ۔۔۔۔ وہ اسے لیے حویلی کے اندر داخل ہونے لگا جب اسے اوپر سے جھانکتے شایان کی آواز آئ ۔۔۔جو کہ ٹیرس پر کھڑا تھا
سکندر نے آواز کے تعاقب میں اوپر دیکھا جہاں شایان کے ساتھ چند لڑکیاں ہاتھ میں پھولوں کی پلٹیں سجا کر کھڑی تھیں ۔۔۔۔
چلو لڑکیوں تیار ہو؟ وہ ان سے ایسے پوچھ رہا تھا جیسے منگولوں کے قبیلے پر حملہ کرنا ہو
جس کر سب لڑکیاں کھلکھلائیں
اوکے اٹیک۔۔۔ وہ کہتے خود بھی ہسنے لگا
سکندر نے مسکرا شایان کو دیکھا پھر فریال کو لے کر آگے بڑھا جب پھولوں کی بارش ان پر برسی
فریال کو ایک خوبصورت احساس خود میں اترتا محسوس ہوا ۔۔۔اس کا محافظ اسکا شوہر اس کا محرم اسکے ساتھ تھا اور وہ اس احساس کو محسوس کر کے سرشار ہوی
وہ اسے لیے اندر آیا۔۔۔ حویلی کے داخلی دروازے کو پار کیا
بی جان نے انہیں لاونج میں آنے کا کہا
فریال اپنا لہنگا سنھبالتی اس کے ساتھ چل رہی تھی
اسے صوفے پر بیٹھا۔۔۔۔کر وہ بھی ساتھ براجمان ہوا۔۔۔۔
چلو اب کچھ رسمیں کر لیتے ہیں بی جان نے مسکرا کر کہا
فائزہ بیگم نے بارات پر ساتھ جانے سے منع کر دیا تھا اس لیے وہ اب دلہن دیکھنے باہر آئیں تھیں
سامنے سکندر کے ساتھ حسین سی لڑکی کو دیکھ کر مسکرائیں ۔۔۔ کن حیثیت مگر حسن میں بہت مالامال ہے
وہ بڑبڑائیں ۔۔۔ پھر یہ سوچ کرکہ انہیں بی جان کو مائرہ کے لیے منانا ہے تبھی شایان نے بھی ہاں کرنی تھی اس لیے چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ ان کی طرف بڑھیں
ہاں بلکل بی جان آپ بیٹھیں ساری رسمیں ادا کریں گے ہم آخر ہماری حویلی کی بڑی بہو ہے ۔۔
فائزہ بیگم نے مسکرا کر کہا
اور پھر ملازمہ کو ٹرے ٹیبل پر رکھنے کا کہا
جس میں دودھ تھا اور گلاب کی پتیاں
چلیں بڈی آپ کا اور بھابھی کا کمپٹیشن ہے دیکھتے ہیں کون جیتتا ہے ۔۔۔ جو جیتا اس کی حکمرانی ہو گی ساری زندگی دوسرے پر ۔۔۔
شایان نے چلبلے سے انداز میں کہا جس پر سب مسکرائے ۔۔۔۔
دونوں نے ہاتھ اس میں ڈالے ۔۔۔۔۔ اس کے اندر ایک انگوٹھی تھی ۔۔۔ وہ انگوٹھی دونوں کے ہاتھ میں اکھٹی آئ تھی ۔۔۔
دونوں مسکرائے اور پھر ہاتھ باہر نکال کر سب کے سامنے لائے۔۔ انگوٹھی دونوں کے ہاتھ میں تھی
ہاہاہا ۔۔۔ یہاں تو برابری چلے گی ۔۔ شایان نے مسکرا کر کہا
پھر چند اور رسموں کے بعد اس کو چند لڑکیوں کے ساتھ کمرے میں بھیج دیا گیا
ISQ geeriyaan
13
************
وہ اسے لے کر اپنے گھر آیا تھا۔۔۔ وہ اسے بیٹھنے کا کہہ کر خود کیچن میں چائے بنانے لگی
جب وہ لاونج میں بیٹھا تھا جب اس کی نظر سامنے پڑی پینٹنگ ٹرے پر پڑی ۔۔۔
وہ حیرانی سے دیکھتا اٹھ کر اس جگہ پر گیا
جہاں ایک پینٹنگ بوڈ بھی پڑا ہوا تھا جس پر شاید کوی پینٹنگ بنائ گئ تھی
جس پر ایک سفید رنگ کا کپڑا ڈالا گیا تھا
سائشہ۔۔۔۔۔ اس نے اسے آواز دی جو چائے لے کر لاونج میں آئ تھی
جی!
وہ چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے اس کی طرف بڑھی
یہ پینٹنگ ؟ وہ سامان کی طرف اشارہ کرتا سوالیہ ہوا
جی وہ میں پینٹنگ بنا رہی تھی تو کچھ سامان میں نے گاڑز سے کہہ کر منگوایا تھا
وہ اسے بتا رہی تھی جب کہ وہ حیران ہوا
آپ کو پینٹنگ کا شوق ہے ؟ وہ سر اثبات میں ہلاتے بولا
سائشہ نے اسے دیکھا ۔۔۔۔
کیا آپ کو نہیں پتا؟
وہ سوالیہ ہوی ۔۔۔ جب کہ شہریار نے اسے ایسے دیکھا جیسے واقعی وہ نہیں جانتا تھا
ہاں مجھے نہیں پتہ کیونکہ ہمارے درمیان ایسی کوی بات نہیں ہوی نا ۔۔وہ اسے دیکھتے بولا
ہممم ہماری پہلی ملاقات کی وجہ یاد ہے ؟ وہ اسے دیکھتے دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوی ۔۔۔
ہاں میں جاوید پینٹر سے ملنے آیا تھا اس نے نا سمجھی سے اسے دیکھتے ہوے کہا
ہاہاہا ۔۔۔۔۔ اسکی بات سن کر سائشہ ہسنے لگی
شہریار اس کی کھلکھلاہٹ کو دیکھتے مسکرایا۔۔۔۔
دراصل وہ جاوید پینٹر میں ہی ہوں وہ اسے خود کہ طرف دیکھتے پا کر خود ہی سنبھل کر بولی
کیا مطلب ؟
شہریار سوالیہ ہوا
چلیں چائے پیئں بتاتی ہوں ۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے صوفے کی طرف لاتی بولی
پھر وہ لوگ صوفے پر بیٹھے ۔۔۔
مجھے بچپن سے پینٹنگ کا شوق تھا جس کا فائدہ میری چچی نے میرے ہنر کو بیچ کر لیا
میں جو بھی پینٹنگ بناتی تھی چچی اسے سستے داموں بیچ دیتی تھیں۔۔۔
اور مجھے اپنے نام سے انٹروڈیوس کرانے کی اجازت نہیں تھی اس لیے میں نے اپنے نام کہی جگہ جاوید پینٹر لکھنا شروع کر دیا
وہ اسے بتا رہی تھی جب کہ شہریار حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا
وہ چند پل خاموش رہا
اپکو پتہ بھی ہے آپ کی پینٹنگ کتنی مشہور ہیں ؟
اس نے خاموشی کےلمبے وقفے کے بعد موبائل سے اسے اس کی پینٹنگ کی تصویروں کے ریٹنگ چیک کروائ
یہ تو میری پینٹنگ ہے ۔۔ ساحشہ مسکرا کر موبائل میں اپنی پینٹگ دیکھ کر بولی
جی ۔۔۔ ہاں اور اپکو اس کی قیمت پتہ ہے؟
شہریار نے اسے پوچھا۔۔۔
اڑھائی سو روپے ۔۔۔ سائشہ نے وہی قیمت بتائ جو خریدنے والا اس کی چچی کو دیتا تھا
کیا ؟ شہریار نے اچھنبے سے اسے دیکھا
ساحشہ یہ پانچ لاکھ کی پینٹنگ ہے ۔۔۔ اس نے اسے بتایا جس کر عائشہ نے ناممکن تاثرات سے دیکھا
یہ پھر کسی اور پینٹنگ ہو گی ۔۔۔
وہ یقین نا کرنے والے لہجے میں بولی
ارے آپ یہ دیکھیں ۔۔۔ یہ سب آپ کی پینٹنگز ہیں ۔۔
مجھے پینٹنگ ایگزیبیشن کے لیے اس پینٹر کی ہیلپ چاہیے تھی اس لیے میں اس دن وہاں گیا تھا
وہ اسے بتا رہا تھا
یہ سب آپ کی پینٹنگز ہیں ۔۔۔ وہ اسے ساری پیکچرز دیکھاتا بولا
ہاے اللہ وہ آدمی تو بس اڑھائی سو کی خریدتا تھا ۔۔۔سائشہ کو صدمہ سا لگ گیا
جی ہاں اور پانچ لاکھ کی بیچتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ شہریار نے مزید انفارمیشن دیتے کہا
شہریار کیا سچ میں میری پینٹنگز اتنی پاپولر ہیں ؟وہ اس کے ہاتھ پکڑ کر کہتی ہے
جی ہاں ۔۔۔ میں تو خود حیران ہوں آپ نے اپنا ٹیلنٹ کسی کے نام سے مشہور کیا
دیکھیں ہر انسان کے اندر کوی نا کوی ٹیلنٹ ضرور ہوتا ہے کسی کو بولنا بہت اچھا آتا ہے کسی کو لکھنا بہت اچھا آتا ہے تو ہمیں اپنے ٹیلنٹ کو اپںے نام سے شائع کرنا چاہیے یہی اپنے ٹیلنٹ سے محبت ہوتی ہے ۔۔۔
ورنہ تو بات یہ ہوی کہ ہم خود اپنے ٹیلنٹ کی قدر نہیں کرتے اور اسے اپنے نام سے شائع نہیں کرتے
وہ اسے سمجھاتے ہوے بولا
اب کی بار میں اپنی پینٹنگ کو ساحشہ شہریار کے نام سے شائع کروں گی
وہ مسکرا کر بولی جب کہ دل میں بہت خوشی تھی کہ اس کی بنائ پینٹنگزاتںی مشہور ہیں جس کا اسے اپنے لاشعور میں بھی شعور نہیں تھا
******************
بڈی آپ کہیں نہیں جا سکتے ۔۔۔۔ وہ جو کمرے میں جا رہا تھا سامنے شایان کو آ دھمکتے دیکھ کر اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
کیا مطلب ہے ؟ وہ اس کی بات پر اسے گھورنے لگا جو کب سے بہن والے نیگ لے رہا تھا
مطلب اندر جاتے وقت بھی پیسے دینے ہیں ۔۔۔ وہ اس کے سامنے ہاتھ کرتا بولا
اپنے کمرے میں جانے کے کون پیسے دیتا ہے ؟
سکندر نے اسے دیکھتے ہوے کہا
جس کے کمرے میں نئ نویلی دلہن آئے وہ کمرے میں جاتے ہوے پیسے دیتا ہے
ویسے بھی بعد میں آپ کے سارے پیسوں پر تو بھابھی کا حق ہونا ہے اس لیے ںکلایں میرا نیگ
شایان ایک ہی دھن میں کہتا آخر میں ہاتھ آگے کرتا بولا
اب یہ کونسا نیگ ؟
سکندر نے اسکی ٹر ٹر پر اسے گھورتے ہوے کہا
ارے دلہا بہن کو نیگ دیتا ہے اب بہن تو ہے نہیں تو میں ہی سارے خانوں میں پورا اترتا ہوں
شایان نے سمجھداری سے بات سمجھائی
یہ تم نے اتنی ریسرچ کب کی ہے ؟ کب سے لوٹ رہے ہو مجھے ۔۔۔۔
وہ اسے گھورتے ہوے بولا جس پر اس نے دانت نکالے
ارے بڈی آپ جانتے نہیں ہیں ۔۔ میں نے بہت محنت کی آخر کو آپ کی بہن بھائ بھی تو میں ہی ہوں نا ۔۔۔
اچھا بس یہ لو اور اس سے زیادہ کی امید مت رکھنا ۔۔۔۔
وہ اسے ایک ہزار تھما کر جانے لگا
بھابھی کی مسکراہٹ پر آپ نے مجھے ایک ہزار پکڑا دیا ۔۔۔ وہ جان بوجھ کر بولا
جب وہ جاتے جاتے رکا ۔۔۔۔
پھر اس نے وائیلٹ اسے تھما دیا ۔۔۔ اس کی ایک مسکراہٹ پر سردار سکندر خود کو اس پر وار دے ۔۔۔ وہ محض سوچ میں بڑبڑایا
وہ وائلٹ اسے دیتے کمرے کے اندر چلا گیا
جب کہ شایان مسکرایا ۔۔۔ ماشاءاللہ اللہ آپ دونوں کو محبت بھرے رشتے میں ہمیشہ جوڑے رکھے
******************
وہ جیسے ہی اندر آیا ایک خوبصورت گلاب کے پھولوں کی خوشبو کا جھونکا اس کی نتھوں سے ٹکرایا
سکندر نے پل بھر محسوس کرنے کے بعد پلٹ کر دروازے کو لاک کیا
اور بیڈ کی جانب دیکھا
جہاں وہ بیڈ پر بیچ و بیچ سوی پڑی تھی
کیا یہ مزاق ہے ؟ میرا انتظار بھی نہیں کیا !
سکندر کو صدمہ لاحق ہوا
وہ محترمہ اتنی دیر میں سو چکی تھی
سکندر گہرا سانس لیتا بیڈ کی طرف بڑھا
وہ ایک ہاتھ تکیے پر رکھے اس ہتھیلی پر سر رکھا جب کہ دوسرا ہاتھ بیڈ پر رکھے وہ سکون سے سو رہی تھی
سکندر نے کچھ پل فریال کے خوبصورت چہرے کو دیکھا پھر اس کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر جلتے لیمپ کو بند کیا
اور وہاں سے پلٹا الماری سے اپنے لیے آرام دہ سوٹ نکال کر وہ واشروم میں بند ہو گیا
اہہہہہ ۔۔۔۔ فریال واشروم کے دروازے کے بند ہونے کی آواز پر گہرا سانس لیتی اٹھ بیٹھی
اففف ۔۔۔ کتنا مشکل ہے اس جلاد کے ساتھ رہنا
ویسے مجھے لگا تھا ہاتھ پکڑ کر اٹھائے گا پر اس نے نیںد خراب نہیں کی
تھوڑا سا اچھا بھی ہے
فریال بڑبڑای
اففف اب میں اس ڑریس میں کسیے سوؤں گی ! وہ لہنگا کرتی میں بے آرام محسوس کرتی بڑبڑائ
جب سکندر آرام دہ سوٹ میں واشروم سے باہر نکلا
سامنے وہ بیڈ پر پریشان چہرہ لیے بیٹھی نظر آی
تو وہ اس کی طرف بڑھا
بال گیلے تھے جو بتاتے تھے کہ وہ فریش ہو کر آیا تھا
کیا ہوا تمہاری طبعیت ٹھیک ہے ؟
سکندر نے اس کی طبعیت خرابی کی وجہ سے پوچھا
ہاں میں ٹھیک ہوں وہ بس دل گھبرا رہا تھا۔۔۔۔ فریال اس کہ آواز پر چونکلی پھر خود کو سنبھالتی بولی
سکندر نےاس کا چونکنا محسوس کیا تھا مگر پھر سر ہلاتے سائیڈ ٹیبل کا لیمپ ان کیا
اس پر پڑے جگ سے پانی گلاس میں ڈال اور اس کی طرف بڑھایا
کیا تمہیں بھوک لگی ہے ؟
وہ اسے پانی دیتے اور اسکے چہرے کو دیکھتے بولا
فریال نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا جیسے یقین نا آیا ہو کہ وہ اتنی کیئر کر رہا ہے
ہاں مجھے بھوک تو لگی ہے ۔۔۔ فریال نے مسکین شکل بناتے کہا
اچھا تو میں کچھ کھانے کو منگوتا ہوں تم چینج کر لو ۔۔۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ سوئی ہوی نہیں تھی مگر پھر بھی اس کی بات کا بھرم رکھتے خاموش ہی رہا
ٹھیک ہے فریال خوش ہوتے بولی ہنی کا گلاس پی کر وہ بیڈ سے اتری اور ڑریسنگ کے سامنے کھڑی ہو کر اپنی جیولری اتارنے لگی
سکندر بھی موبائل پر مصروف ہوا
وہ جیولری اتار کر ڑریسنگ روم میں گئ
سکندر کافی دیر گزرنے پر اسکی غیر موجودگی محسوس کرتے ڑریسنگ کے بند دروازے کو دیکھنے لگا
اسکی طبعیت اچانک کیسے خراب ہوی تھی ؟ اور شایان کے ساتھ کیسے ؟
اسے اچانک دن میں ہوا واقع یاد آیا
تبھی وہ ڑریسنگ روم سے باہر نکلی
نیلے رنگ کی شارٹ شرٹ ٹراؤزر پہنے وہ باہر آئ بال کھلے ہوے تھے جو لمبے تھے جو اسکی کمر سے نیچے تک جاتے تھے
وہ اپنے ہی دھیان میں چل رہی تھی چلتے ہوے ڑریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی اپنے بالوں کو ڈھیلے ڈھالے جوڑے میں باندھتی وہ اسے کیچر لگاتی پلٹی
سکندر کی نظریں تو اس کے لمبے بالوں کا ایک دم سے پھولوں کے گلدستے میں بدلنے پر تھیں
یہ تم نے کیسے کیا؟ فریال اسکی نظریں خود پر محسوس کرتی جھجھک گئ
جب کہ سکںدر نے اس پر نظریں رکے سوال کیا
کیا ؟ فریال بیڈ کی جانب بڑھتی بولی
یہ تم نے بالوں کو ایسے توڑ موڑ کر پھول کیسے بنا لیا
سکندر کی بات پر اسی طرف آتی فریال کا قہقہ کسی جلنگتر کی طرح گونجا
ہاہاہا ۔۔۔۔ارے پھول نہیں بنایا بس جوڑا بنایا ہے
وہ بیڈ پر آکر بیٹھتے بولی
سکندر اسکی کھلکھلاہٹ پر نظریں جھکا گیا
فریال نے اسکی جھکی نظروں پر اپنی مسکراہٹ ضبط کی
مجھے بھوک لگی ہے ۔۔۔ وہ بات بدلتے بولی
ہاں کھانا آتا ہی ہو گا ۔۔۔ وہ کہتے موبائل چیک کرنے لگا
پھر دروازے پر ہوتی دستک پر سکندر اٹھا اور ملازمہ سے کھانا لے کر اس کے پاس آیا
یہ لو کھانا کھا لو ۔۔۔ وہ اس کے سامنے کھانا رکھتا بولا
ایک بات پوچھوں ؟ سکندر اسے کھانا کھاتے دیکھ کر بولا
یہی نا کہ میں اتنا کھاتی ہوں تو مجھے لگتا کیوں نہیں ہے ؟
فریال نے جواب دیا جس پر سکندر اس کے جواب پر اسے دیکھ کر رہ گیا
وہ دراصل میری نا ہڈی ہی ایسی ہے جتنا بھی کھا لو پتہ ہی نہیں چلتا
فریال مسکرا کر بولی
سکندر اسکی بات پر سر جھکا مر مسکرایا
نہیں میں نے یہ پوچھنا تھا کہ تم بیمار کیسے ہوی تھی ؟ اور شایان تمہارے پاس کیسے ؟
فریال نے اس کے سوال پر اسے دیکھا پھر کھانا کھانے لگی
سکندر اس کے جواب نا دینے پر خاموش ہو گیا
فریال کھانا ختم کرنے کے بعد برتن ٹیبل پر رکھتی اس کے پاس آی
مجھے نہیں پتہ کہ کیسے ہوی کیا ہوا تھا
پر اتنا پتہ ہے کہ میں نے بس گلاب کے گجرے پہنے تھے
ان کو محسوس کر رہی تھی کہ پتہ نہیں کیسے میرا سر بھاری ہونے لگا
اس کے بعد مجھے کیا ہوا کیسے ہوا کچھ نہیں پتہ
فریال کی بات سن کر سکندر نے چونک کر اسے دیکھا
گجرے ۔۔۔۔ گجرے کون لایا تھا ؟ وہ سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوے بولا
میرے پاس تو مقدس ۔۔۔ فریال نےاس کے سوال پر جواب دیا
مقدس کو کس نے لا کر دیے ؟ سکندر نے پھر سوال کیا
برہان بھای ۔۔۔۔ شاید برہان بھای ہی
فریال نے جواب دیا
پھر اس کے بعد کیا ہوا ؟ سکندر نے پھر سوال کیا
فریال نے گہرا سانس لیا
میری جب آنکھ کھلی تو میں گاؤں کہ ہاسپٹل میں تھی اور کوی ڈاکٹر میرا معائنہ کر رہا تھا
سکندر آپ کو پتہ ہے میں تو ڑر گئ تھی مگر پھر شایان وہاں میرے پاس تھا تو مجھے سکون ملا
سکندر اس کے منہ سے اپنا نام سن کر مسکرایا
ہمارے ہاں شوہر کا نام نہیں لیا جاتا
سکندر اسے بات بدلتے بولا
کیا ؟ تو پھر کیا کہتے ہیں ؟
سر تاج ؟
اجی سنتے ہیں ؟
یہ سب کہنا ہے ؟ فریال تو صدمے میں آتے بولی
نہیں تم مجھے سردار جی بولو گی یا جو تم چاہو ۔۔۔۔۔
سکندر مسکرا کر بولا پھر اس کے چہرے سے نظریں ہٹائیں
اس نے گہرا سانس لے کر بیڈ کی سیج کو دیکھا
انوکھا کپل ہیں ہم کہ شادی کی رات بھی ایسے گزر رہی ہے ۔۔۔ وہ سوچ کر رہ گیا
سائیں ۔۔۔ میں آپ کو سائیں کہوں گی ! ٹھیک ہے ؟
فریال بیڈ پر سیدھی ہو کر بیٹھتی اس کی طرف ہوتے بولی
سکندر نے اس کی بات پر اس کی جانب دیکھا
ہممم ٹھیک ہے جیسے تم چاہو!
وہ کہتے مسکرایا
سنو ۔۔۔۔ وہ اسے دیکھتے بولا اور کپنی بیڈ پر رکھے اسکی طرف ہوتے بولا
جی ؟ فریال نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوے بولی
ہماری کی شادی کی رات ہے نا یہ ؟
وہ اسے دیکھتے بولا
ہاں سچ رات ہے اور مجھے نیند آرہی ہے چلیں گڈ نائیٹ وہ جلدی سے بیڈ پر لیٹتے بولی
ارے۔۔۔ سکندر تو منہ کھولے بس دیکھتا رہ گیا
چلیں سو جائیں آپ بھی وہ دوسری طرف رخ کرتی سونے لگی
سکندر دانت پیس کر رہ گیا
اب رات کا زکر سن کر نیںد محترمہ ان دھمکی ہیں
وہ بھی بیڈ پر لیٹتے کمفرٹر میں آتے بڑبڑایا اور رخ دوسری جانب کر لیا
$$$$$
چلیں سائشہ اب سو جائیں۔۔۔ وہ اسے پھر سے کام کرتے دیکھ کر بولا
نہیں بس یہ تھوڑا سا کام رہ گیا بس پھر سو جاؤں گی آپ جا کر سو جائیں
وہ شہریار کو مصروف انداز میں بولی
جی نہیں آپ میرے ساتھ چل رہی ہیں بھئ میں نے بتا کیا دیا ہے آپ کو کہ آپ کی بنائ پینٹنگزفیمس ہیں آپ تو بس شوہر کو چھوڑ کر رنگوں کے پیچھے دوڑ پڑیں
شہریار نے ناراضگی سے کہا
شہریار ۔۔۔۔ سائشہ جلدی سے اسکی ناراضگی بھری آواز پر اسکی طرف پلٹی
میں تو بس چاہتی ہوں کہ آپ میرے کام پر فخر محسوس کریں ۔۔ وہ اس کے سامنے آتی رنگوں سے بھرا چہرہ لیے آئ
مجھے آپ پر فخر ہے کہ آپ میری بیوی ہیں ۔۔ شہریار مسکرا کر اسکے چہرے کو ہاتھوں میں لیتے بولا
آپ کو ساری ساری رات تھکن محسوس ہونے کے باجود مجھے امپریس کرنے کی ضرورت نہیں ہےیہ بندہ پہلے ہی آپ کو چاہتا ہے ۔۔۔
شہریار کی بات پر سائشہ شرمائے سی مسکرائ
اہہہہ بس اب چلیں آکر سو جائیں ۔۔۔
شہریار آپ نے نے بی جان کو بتایا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہنے والے ہیں ؟
سائشہ نے سوال کیا
ہاں جی بتا دیا تھا آپ کیوں پوچھ رہی ہیں ؟
وہ اس لیے کہ رخصتی ۔۔۔ سائشہ کچھ کہتے ہوے رکی
وہ بھی بہت جلد ہو جائے گی بس میں بی جان سے بات کرکے ماں سائیں کو بتا دوں گا
وہ کہتے اس کا ہاتگ پکڑ کے اسے کمرے میں لے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے اسد کو کال نہیں کی تھی ؟ میں نے تم سے کہا بھی تھا
سکینہ بی نے پریشانی سے کہا
اماں بس کر دیں آپ کو کیا لگتا ہے میں کہتی تو وہ دوڑتا چلا آتا ارے اس کے سو بہانے ہوتے
اور پھر اس کی بدتمیزی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی
مقدس نے اکتائے ہوے لہجے میں کہا
منگیتر ہے وہ تمہارا ۔۔۔ سکینہ بی نے بات پر زور دیتے کہا
اماں میں نہیں کرنا چاہتی اس سے شادی مجھ میں اور اس میں بہت فرق ہے
اسے اس کی طرح پیاری سی لڑکی چاہیے
وہ مجبورا اپنے مرحوم باپ کی وجہ سے مجھے قبول کرے گا اور کچھ نہیں
وہ کہتے رخ پلٹ کر بیٹھتی آنکھوں سے اپنی توہین پر بھیگی آنکھوں کو صاف کیا
مقدس ۔۔۔ سکینہ کچھ کہتی جب وہ پھر سے بولی
اماں مجھے نیند آرہی ہے پلیز مجھے سونا ہے آپ بھی سو جائیں
وہ کہتے کمفرٹر کے اندر منہ دیے رونے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر کی صبح آنکھ کھلی تو وہ اس کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی
سکندر کو صبح صبح اس خوبصورت منظر کو دیکھ کر خوشی ہوی
جنگلی بلی شیر کی کچھار میں ۔۔ وہ کہتے اس کے چہرے سے بال ہٹانے لگا
فریال کی آنکھ کھلی تو وہ خود کو اس کے سینے پر سر رکھ کر سوتے دیکھ کر لال ہوی
اففف وہ جلدی سے اٹھ کر سیدھی ہوی
افف فری تمہاری یہ سارے بیڈ پر چکر لگانے کی عادت نہیں ختم ہونی
شکر ہے یہ سو رہے ہیں ورنہ کیا سوچتے میں کیا کر رہی تھی
وہ جلدی سے اس سے دور ہوتے بولی
یہ جاگ تو نہیں رہے ؟ وہ کہتے جاسوسوں کی طرح واپس اس کے پاس بیٹھی
سائیں! وہ اس کے اوپر آتی اس کے دائیں جانب اور بائیں جانب اہتگ رکھ کر اس کے چہرے پر نظریں رکھے بولی
وہ جو اسے جاگتے دیکھ کر سوتا بنا تھا اس کی اتنی پیار بھری آواز سےجی جان سے جی کہنے کا دل چاہا پر وہ اس کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہ اس کے اوپر سوی تھی
فریال نے جواب نا پا کر اس کے چہرے کو غور سے دیکھا
واہ فری شوہر تو بڑا پیارا ہے ۔۔۔۔ ؟ وہ خود کو شاباشی دیتے بولی
سکندر نے بامشکل اپنی مسکراہٹ چھپای
ہاں ہوتا کیوں نہیں بھئ میرا شوہر ہے ایسا ویسا تھوڑی ہوتا میرا شوہر برینڈڈ ہے برینڈڈ وہ ہنوز اس پر جھکے بولی
ہاے سائیں کی داڑھی کتنی سوٹ کرتی ہے اکٹرو سائیں پر
سوتے ہوے کتںے کیوٹ لگتے ہو اور جاگتے ہوے ہٹلر ۔۔ وہ پھر سے بڑبڑای
سکندر نے خود کو مسکرانے سے روکنے کی کوشش کرتے کروٹ بدلی
جس پر فریال جلدی سے پیچھے ہوی
اہہہ فری کیا ٹھرک پن ہے سوئے ہوی بندے کے اوپر چڑھ گئ تم ۔۔ وہ پھر سے ٹوکتے ہوے بیڈ سے اتری
اور جلدی سے الماری سے کپڑے لیتی واشروم میں بند ہو گئ
جب کہ اس کے جاتے ہی سکندر اٹھ کر بیٹھا
اففف میری جنگلی بلی
وہ کہتے مسکرایا
$$$$$
شہریار حویلی میں داخل ہوا سب ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھانے میں مصروف تھے
جب شہریار بی جان کی کرسی کی جانب بڑھتا ان سے پیار لیتا شایان کے ساتھ بیٹھا
تم کہاں تھے ساری رات ؟ سلمہ بیگم نے کٹیلے لہجے میں کہا
شہریار نے شایان کی کسی بات کا جواب دیتے ان کے سوال پر بی جان کی طرف دیکھا
سکندر اور فریال بھی سمجھ گئے تھے اس لیے سکندر نے فریال کی جانب دیکھا
آپ نے میرا کام کر دیا ؟
فریال نے جلدی سے کہا
جس پر شہریار نے سوالیہ دیکھا مگر پھر اسکی آنکھوں میں لکھی تحریر پڑھ کر سمجھتے ہوے سر اثبات میں ہلایا
دیکھو لڑکی تم اس گھر میں سکندر کی وجہ سے ہو اس لیے اپنے کام بھی شوہر کو کہا کرو میرا بچہ تمہارے کام کیوں کرے ؟
سلمہ بیگم کی توپوں کا رخ فریال کی جانب ہوا
جی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں مگر میں اسکی بھابھی تو ہوں اور بھابھی دیور کی بھی تو دستی بہن بھائیوں جیسی ہوتی ہے
فریال نے کہا جس پر بی جان مسکرائیں ۔۔۔ ساتھ بیٹھے سکندر نے مسکرا کر اسے دیکھا
ہاں ٹھیک ہے دیور ہے اب میرا بھی تو دیور ہے میں نے تو کوی کام نہیں کہا کہ میرے کام کرو ۔۔
سلمہ بیگم نے پھر سے بات بنائ
معزرت مگر آپ کو اپنے حقوق خود سمجھنے چاہیے تھے
فریال نے چمچ پلیٹ میں رکھتے کہا
سکندر نے اسے چپ نہیں کروایا تھا
کیا مطلب ہے تمہارا تم اس غریب گھرانے کی لڑکی اب مجھے سیکھاو گی کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں ؟
سلمہ بیگم تو فریال کی جوابی کارروائی پر جل کر بولیں
سائرہ بیگم کے ساتھ مائرہ نے بھی فریال کے جواب پر اسے دیکھا
نہیں آپ بڑی ہیں مجھے آپ سے سیکھنا ہے سب ۔۔۔۔
فریال کہہ کر چپ ہوی
چچی سائیں ! آپ گھر کے مسائل میں میری بیوی کی توہین نہیں کر سکتیں یہ میں برداشت نہیں کروں گا
یہ میری بیوی ہے مجھ سے جڑی ہے یہ اس کی توہین میری توہین ہے اور یہ میں بلکل بھی برداشت نہیں کروں گا
لہذا آپ سے درخواست ہے کہ آئندہ فری کو اس کے گھرانے کا ترجمہ مت دیجئے گا یہی اس حویلی کے لیے بہتر ہو گا
سکندر نے سخت انداز میں کہا
وہ کہتے ہی کرسی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا
اہہہہ بی جان بہت تنگ تھیں نا میرے اور ابراہم کے لڑائ جھگڑے سے ارے اس فسادن کو بیاہ کر لے آئ ہیں آتے ہی ہمارے بچوں کو انگلیوں پر نچانے لگی ہے یہ ۔۔۔ سلمہ بیگم بی جان سے بولیں
ٹھیک کہہ کر گیا ہے سکندر فریال اس گھر کی بڑی بہو ہے اسلیے آئندہ اسکے لیے الفاظ مناسب استعمال کرنا ورنہ ہماری طرف سے نرمی کی امید تم بھی مت رکھنا
بی جان کی بات پر سلمہ بیگم ناشتہ چھوڑ کر کمرے میں چلی گئیں
فریال نے گہرا سانس لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ISQ geeriyaan
14
سائیں ۔۔ وہ اندر آی تو اسے پکارا
جی ؟ وہ جو آنکھیں بند کیے صوفے پر بیٹھا تو آنکھیں کھولتا بولا
اپ چائے پی لیں میں نے خود بنائ ہے ۔۔۔ فریال کو اسکے الفاظ نے سر شار کیا تھا کہ اس نے اس کے لیے سٹینڈ لیا تھا
ہمم شکریہ ۔۔۔ سکندر نے اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر ٹیبل پر رکھتے کہا
تم پہلے جیسی نہیں رہی ؟
فریال سکندر کی بات پر مسکرائی
زندگی بھی تو پہلے جیسی نہیں رہی ۔۔۔۔ اب تو میں شادی شدہ ہوں اور مجھے اس گھر کو جوڑ کر رکھنا ہے
وہ است کہتی ڑریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی بالوں کو کھولے اس میں کنگھی چلانے لگی
پھر تو تمہیں اپنے شوہر سے محبت بھی کر لینی چاہیے ! سکندر نے اسکا پورا جائزہ لیتے کہا
وہ تو مجھے کبھی نہیں ہوگی سردار سکندر اعظم! وہ کہتے ہسنے لگی
سکندر اعظم ؟ سکندر نے اپنے نام کے بگاڑنے پر اسے گھورا
کیا سائیں اب میں بدل گئ ہوں نو اعظم ۔۔۔ اونلی سائیں ۔۔۔ وہ کہتے پھر سے شیشے میں دیکھنے لگی
سکندر گہرا سانس لے کہ رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار اپنے کمرے میں پینٹنگ کر رہا تھا جب اس کا فون بجنے لگا
شہریار نے برش رکھا اور فون رسیو کیا
ہاں بولو کبیر ؟
چھوٹے سائیں آپ جلدی سے گاؤں والے گھر آجائیں
شہریار دوسری جانب سے آواز پر چونکا
کیا مطلب ہے ؟ سب ٹھیک تو ہے نا ۔۔۔۔ وہ پریشانی سے بولا
چھوٹے سائیں اب خود آکر دیکھ لیں بس تھوڑا جلدی آئیں
کبیر کی آواز پر شہریار جلدی سے باہر بھاگا
اور نیچے ایا۔۔۔۔ حویلی کے لاونج میں بیٹھی بی جان اور سائرہ بیگم نے اسے بھاگتے ہوے جاتے دیکھا
یا اللہ خیر کیا ہو گیا شہریار کو اس طرح کیوں بھاگا ہے
بی جان پریشانی سے بولیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی کی فل سپیڈ لگائے گھر کے سامنے بریک لگاتا گاڑی سے جلدی سے اترا
کیاہوا کبیر ؟
گھر کے سامنے کھڑے کبیر کو دیکھ کر شہریار نے پوچھا
چھوٹے سائیں ۔۔۔۔ سلمہ بیگم صاحبہ کو ناجانے کیسے پتہ چل گیا کہ آپ کے گھر پر سائشہ بی بی رہتی ہیں
وہ آج آئیں اور ہمارے لاکھ روکنے پر بھی وہ نہیں رکیں
اندر جا کر بی بی جی کو بہت برا بھلا کہا
اور پھر گھر سے نکال دیا
کیا؟ تو تم لوگ یہاں کیا کر رہے تھے ؟ تم لوگوں کو سائشہ کی حفاظت کے لیے رکھا تھا میں نے ۔۔۔۔۔
آج پہلی دفع شہریار اپنے ملازمین پر بڑھکا تھا
جس پر کبیر سر جھکا گیا
چھوٹے سائیں ہم کیا کرتے جب سلمہ بیگم خود آئین تھیں
بس مجھے اتنا بتاؤ اس وقت سائشہ کہاں ہے ؟
شہریار کے اعصاب سخت تنے ہوے تھے اسے سائشہ کی فکر ہو رہی تھی
جی وہ سکینہ بی کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں
کبیر کی بات سنتے ہی شہریار گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی اس راستے پر ڈال دی
کچھ ہی دیر میں گاڑی ان کے گھر کے سامنے روکتے وہ دروازے پر دستک دیتا ہے
سکینہ بی نے دروازہ کھولا
بی کیا سائشہ آپ کے گھر آئ ہیں ؟
وہ پریشانی سے بولا
ہاں بیٹا آجاؤ اندر ہی ہے ۔۔۔ سکینہ بھی کافی پریشان تھیں وہ بھی بولیں
جس پر شہریار اندر بڑھا
مقدس اسوقت سائشہ کے ساتھ کمرے میں تھی شہریار کو آتے دیکھ کر وہ خاموشی سے کمرے سے نکل گئ
شہریار نے کمرے میں داخل ہوتے ہی مقدس نے نکلنے پر دروازے کو بند کیا
سائشہ بیڈ پر سر گھٹنوں میں دیے رو رہی تھی
سائشہ ! شہریار اس کے پاس بیٹھا
وہ شہریار کی آواز سن کر چونکی
اور سر اٹھا کر اس کو دیکھا جو اس کے پاس بیٹھا تھا
شہریار آپ ۔۔۔ وہ کہتے ہی آگے ہوتے اس کے سینے سے لگ گئ
بس کر دیں سائشہ نے روئیں ۔۔۔ مجے بے تحاشہ تکلیف ہو رہی کہ میں آپ کی حفاظت نہیں کر پایا میرے ہی گھر سے آپ کو نکالا گیا
شہریار اس کے گرد حصار بناتے بولا
نہیں شہریار آپ کی کوی غلطی نہیں ہے ۔۔۔۔سائشہ
آپ خود کو قصور وار مت سمجھیں
جو کچھ ہوا اس میں آپ کی غلطی نہیں تھی
بس میری جگہ آپ کی زندگی میں نہیں تھی اور جو سب ہوا وہ سب غلط تھا
شہریار نے سائشہ کی بات پر اس کی جانب دیکھا
تو ٹھیک ہے آپ کو لگتا ہے میری زندگی میں آپ کی جگہ نہیں ہے تو پھر میری زندگی کا کوی فائدہ نہیں
کیوں ناختم کر لو میں خود کو ؟
شہریار کی بات پر سائشہ نے اس کی جانب دیکھا
شہریار ۔۔۔ پتھرائی آنکھوں سے اسکو دیکھا
اتنی ہی تکلیف مجھے ہوی ہے جس کو میں اپنا کہتا ہوں اسے لگتا ہے اس کی جگہ ہی نہیں ہے جہاں پر وہ ہے !
سائشہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں آپ کو کیوں سمجھ نہیں آتی ؟
شہریار کی بتا پر سائشہ کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔۔
مگر آپ کی اماں سائیں ۔۔۔۔ سائشہ ہلکا سا منمنائ
چلو میرے ساتھ آج اس بات کا فیصلہ بھی کر لیتے ہیں
بہت شکریہ ۔۔۔۔
وہ سائشہ کو کے کر حویلی چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔